M. Hameed Shahid

افسانے

اپنا سکّہ|محمد حمید شاہد

“یا حضرت ! بیان جاری ہوـ”:=: ”بیان؟ ارے نادانو! میں کیا‘ میرا بیان کیا۔ میں پہلے خود بہکا تھا۔ پھر اَپنی آل کو بہک جانے دیا۔ اور اب لوٹ جانے کو مٹی میں کودے پھرتا ہوں۔ سمجھو تو یہ دنیا بڑی اشتہا انگیز ہے۔ پانیوں میں غوطہ زن نچلی ذَات کی …

» مزید پڑھئیے

آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہد

یوں نہیں ہے کہ میری بیوی میرا دِھیان نہیں رَکھتی بل کہ واقعہ تو یہ ہے کہ اس کم بخت کا دِھیان میری ہی طرف رہتا ہے ۔ اَجی یہ کم بخت جو میری جیبھ سے پھسل پڑاہے تواس سے یہ تخمینے مت لگا بیٹھنا کہ خدانخواستہ ہم دونوں میں محبت …

» مزید پڑھئیے

اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہد

  اُسے دفتر پہنچے یہی کوئی پندرہ بیس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ محسن کو ایک عرصے کے بعدےاد آیا‘ دِل کی دھڑکن کبھی کبھی سینے سے باہر بھی اُبل پڑتی ہے…. دَھک ‘دَھک‘ دَھک…. ےوں‘ جیسے کوئی زور زور سے میز پر مکے …

» مزید پڑھئیے

آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہد

جب پہلا خُون ہواتھا تو اُس نے لہو کا ذائقہ چکھا تھا؛ بہت کڑوا کسیلا تھا۔ سارا محلہ صحن میں اُمنڈ آیا تھا ۔ نعش کو کندھوں پر اٹھا کر سارے شہر میں پھرایا گیا تھا۔ جب نعش کی خوب نمائش ہو چکی تو چیرویں قبر کھودی گئی ۔ سفید …

» مزید پڑھئیے

آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہد

سی سی یو میں کامران سرور کو کئی گھنٹے قبل لایا گیا تھا مگر اَبھی تک اُس کے دِل کی اُکھڑی ہوئی دھڑکنیں واپس اَپنے معمول پر بیٹھ نہ پائی تھیں۔ وہ اَپنے حواس میں نہیں تھا تاہم ڈاکٹر قدرے مطمئن ہو کر یا پھر اُکتا کر دوسرے مریضوں کی …

» مزید پڑھئیے

ادارہ اور آدمی|محمد حمید شاہد

جب کوئی ادارہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ دو سو نوکریاں چھانٹ رہا ہے تو اس کے حصص کی قیمت جست لگا کر بڑھ جاتی ہے ۔ یہ دیوانگی ہے ……..گنتر گراث جب بھی مسٹر کے ایم رضوانی چھوٹی صنعتوں کے اِس بڑے اَدارے کو ماں کی مثل قرار …

» مزید پڑھئیے

سورگ میں سور|محمد حمید شاہد

جب سے تھوتھنیوں والے آئے ہیں‘ دکھ موت کی اَذِیّت سے بھی شدید اور سفاک ہو گئے ہیں۔ تاہم ایک زمانہ تھا …. اور وہ زمانہ بھی کیا خوب تھا کہ ہم دُکھ کے شدید تجربے سے زِندگی کی لذّت کشید کیا کرتے ۔ اس لذّت کا لپکا اور چسکا …

» مزید پڑھئیے