M. Hameed Shahid

افسانے

تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہد

  کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے: ”ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے- جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی- پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی …

» مزید پڑھئیے

تماش بین|محمد حمید شاہد

عورت اور خُوشبو ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں۔ شاید مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ عورت اور اس کی خُوشبو میری کمزوری رہے ہیں۔ یہ جو‘ اَب میں عورت کو بہ غور دیکھنے یا نظر سے نظر ملا کر بات کرنے سے کتراتا ہوں تو میں شروع سے ایسا …

» مزید پڑھئیے

وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی|محمد حمید شاہد

  اماں کہتی ہیں‘ میرے پیدا ہونے کے بعد وہ چھلّہ ہی دھو پائی تھی کہ میرے ابا نے اسے سامان باندھنے کا حکم سنا دیا۔ ڈھورڈنگر بیچ ڈالے گئے‘ زمین ٹھیکے پر چڑھا دی گئی اور ابا نے اماں اور مجھ ننھی جان کو ساتھ لے شہر آکر دم …

» مزید پڑھئیے

گانٹھ|محمد حمید شاہد

عَصبی رِیشوں کے وسط میں کچھ اِضافی گانٹھیں پڑ گئیں۔ یا پھر  پہلے سے پڑی گِرہیں ڈِھیلی ہو گئی تھیں کہ اِضمحلال اُس پر چڑھ دوڑا تھا۔ بدن ٹوٹنے اور دِل ڈوبنے کا مستقل اِحساس ایسا تھا کہ ٹلتا ہی نہ تھا۔ کوئی بھی معالج جب خود ایسی کیفیت سے …

» مزید پڑھئیے

کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہد

قلم ککلی ؟۔۔۔ یہ کیا عنوان ہوا؟؟ اُسے اِعتراض تھا۔ وہ میری تحریروں کی پہلی قاری تھی اور ناقد بھی۔ میں نے کہا:تمھارے نزدیک قابلِ اِعتراض لفظ “قلم” ہے یا “ککلی”؟ وہ اَپنی گہری بھوری آنکھیں میرے چہرے پر جماکر کہنے لگی:قلم بھی ۔۔۔اور۔۔۔ککلی بھی۔ دونوں؟۔۔۔ مگر کیوںںںںں؟میں نے سٹ …

» مزید پڑھئیے

اپنا سکّہ|محمد حمید شاہد

“یا حضرت ! بیان جاری ہوـ”:=: ”بیان؟ ارے نادانو! میں کیا‘ میرا بیان کیا۔ میں پہلے خود بہکا تھا۔ پھر اَپنی آل کو بہک جانے دیا۔ اور اب لوٹ جانے کو مٹی میں کودے پھرتا ہوں۔ سمجھو تو یہ دنیا بڑی اشتہا انگیز ہے۔ پانیوں میں غوطہ زن نچلی ذَات کی …

» مزید پڑھئیے

آٹھوں گانٹھ کمیت|محمد حمید شاہد

یوں نہیں ہے کہ میری بیوی میرا دِھیان نہیں رَکھتی بل کہ واقعہ تو یہ ہے کہ اس کم بخت کا دِھیان میری ہی طرف رہتا ہے ۔ اَجی یہ کم بخت جو میری جیبھ سے پھسل پڑاہے تواس سے یہ تخمینے مت لگا بیٹھنا کہ خدانخواستہ ہم دونوں میں محبت …

» مزید پڑھئیے

اللہ خیر کرے|محمد حمید شاہد

  اُسے دفتر پہنچے یہی کوئی پندرہ بیس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ محسن کو ایک عرصے کے بعدےاد آیا‘ دِل کی دھڑکن کبھی کبھی سینے سے باہر بھی اُبل پڑتی ہے…. دَھک ‘دَھک‘ دَھک…. ےوں‘ جیسے کوئی زور زور سے میز پر مکے …

» مزید پڑھئیے

آخری صفحہ کی تحریر|محمد حمید شاہد

جب پہلا خُون ہواتھا تو اُس نے لہو کا ذائقہ چکھا تھا؛ بہت کڑوا کسیلا تھا۔ سارا محلہ صحن میں اُمنڈ آیا تھا ۔ نعش کو کندھوں پر اٹھا کر سارے شہر میں پھرایا گیا تھا۔ جب نعش کی خوب نمائش ہو چکی تو چیرویں قبر کھودی گئی ۔ سفید …

» مزید پڑھئیے

آدمی کا بکھراﺅ|محمد حمید شاہد

سی سی یو میں کامران سرور کو کئی گھنٹے قبل لایا گیا تھا مگر اَبھی تک اُس کے دِل کی اُکھڑی ہوئی دھڑکنیں واپس اَپنے معمول پر بیٹھ نہ پائی تھیں۔ وہ اَپنے حواس میں نہیں تھا تاہم ڈاکٹر قدرے مطمئن ہو کر یا پھر اُکتا کر دوسرے مریضوں کی …

» مزید پڑھئیے