M. Hameed Shahid

افسانے

بَرشَور|محمد حمید شاہد

اس نے اَپنی بیوی کے نام پر بیٹی کا نام رکھا ۔۔۔۔۔ اور بےٹی کے نام پر مسجد بناڈالی۔۔۔۔ چھی چھی چھی“ جب عبدالباری کاکڑ کی چھی چھی میرے کانوں میں پڑی ‘ میںفضل مراد رودینی کی طرف متوجہ تھا اوریہ جان ہی نہ پایا ‘وہ افسوس کر رہا تھا‘ …

» مزید پڑھئیے

بَند آنکھوں سے پَرے|محمد حمید شاہد

راحیل کو زِندگی میں پہلی مرتبہ اَپنی بے بسی پر ترس آیا۔ کل شام تک وہ اَپنی قسمت پر نازاں تھا۔ کون سی نعمت تھی‘ جو اس کا مقدّر نہ ٹھہری تھی۔ یہ جو تتلی جیسی بچی نایاب اور پھولوں جیسے دو بچے نبیل اور فرخ پھلواڑی میں کھیل رہے ہیں‘ …

» مزید پڑھئیے

آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہد

میں اَپنی نگہ میں سمٹ کر بھدی چھت سے پھسلتی دِیوار تک آپہنچی تھی۔ میں نیچے آ رہی تھی ےا دِیوار اُوپر اُٹھ رہی تھی؟ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو رہا تھا۔ اور جو کچھ ہو رہا تھا وہ میرے باطن کے کٹورے کو اطمینان کے شیریں پانیوں سے …

» مزید پڑھئیے

پارینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہد

سولہ برس – سات ماہ – پانچ دِن – دو گھنٹے – اِکیس منٹ اور تیرہ سیکنڈ ہو چلے تھے – اَپنے لیے اُس کے ہونٹوں سے پہلی بار وہ جملہ سنے جو سماعتوں میں جلترنگ بجا گیا تھا مگر دِل کے عین بیچ یقین کا شائبہ تک نہ اُتار …

» مزید پڑھئیے

شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہد

اِسے قریب نظری کا شاخسانہ کہیے یا کچھ اور کہ  بعض کَہانیاں لکھنے والے کے آس پاس کلبلا رہی ہوتی ہیں مگروہ اِن ہی جیسی کسی کَہانی کو پالینے کے لیے ماضی کی دُھول میں دَفن ہو جانے والے قِصّوں کو کھوجنے میں جُتا رہتا ہے۔ تو یُوں ہے کہ جِن …

» مزید پڑھئیے

تکلے کا گھائو|محمد حمید شاہد

  کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے: ”ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے- جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی- پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی …

» مزید پڑھئیے

تماش بین|محمد حمید شاہد

عورت اور خُوشبو ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں۔ شاید مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ عورت اور اس کی خُوشبو میری کمزوری رہے ہیں۔ یہ جو‘ اَب میں عورت کو بہ غور دیکھنے یا نظر سے نظر ملا کر بات کرنے سے کتراتا ہوں تو میں شروع سے ایسا …

» مزید پڑھئیے

وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی|محمد حمید شاہد

  اماں کہتی ہیں‘ میرے پیدا ہونے کے بعد وہ چھلّہ ہی دھو پائی تھی کہ میرے ابا نے اسے سامان باندھنے کا حکم سنا دیا۔ ڈھورڈنگر بیچ ڈالے گئے‘ زمین ٹھیکے پر چڑھا دی گئی اور ابا نے اماں اور مجھ ننھی جان کو ساتھ لے شہر آکر دم …

» مزید پڑھئیے

گانٹھ|محمد حمید شاہد

عَصبی رِیشوں کے وسط میں کچھ اِضافی گانٹھیں پڑ گئیں۔ یا پھر  پہلے سے پڑی گِرہیں ڈِھیلی ہو گئی تھیں کہ اِضمحلال اُس پر چڑھ دوڑا تھا۔ بدن ٹوٹنے اور دِل ڈوبنے کا مستقل اِحساس ایسا تھا کہ ٹلتا ہی نہ تھا۔ کوئی بھی معالج جب خود ایسی کیفیت سے …

» مزید پڑھئیے

کِکلی کلیر دِی|محمد حمید شاہد

قلم ککلی ؟۔۔۔ یہ کیا عنوان ہوا؟؟ اُسے اِعتراض تھا۔ وہ میری تحریروں کی پہلی قاری تھی اور ناقد بھی۔ میں نے کہا:تمھارے نزدیک قابلِ اِعتراض لفظ “قلم” ہے یا “ککلی”؟ وہ اَپنی گہری بھوری آنکھیں میرے چہرے پر جماکر کہنے لگی:قلم بھی ۔۔۔اور۔۔۔ککلی بھی۔ دونوں؟۔۔۔ مگر کیوںںںںں؟میں نے سٹ …

» مزید پڑھئیے