M. Hameed Shahid

افسانے

دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہد

ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوتے ہی نبیل کا دِل اُلٹنے لگا‘ زخموں پر لگائی جانے والی مخصوص دواﺅں کی تیزبُو نے سانسوں کی ساری اَمی جمی اُکھاڑ دی تھی۔ اُسے میڈیکل وارڈ نمبر تین جانا تھا مگر اس ہسپتال میں خرابی یہ تھی کہ اندر داخل ہوتے ہی پہلے ایمرجنسی …

» مزید پڑھئیے

دوسرا آدمی|محمد حمید شاہد

کم آمیزی میرے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔ سفر کے دوران تو میں اور بھی اپنے آپ میں سمٹ جاتا ہوں۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ میلوں سفر کر جاتا ہوں مگر ساتھ بیٹھے مسافر سے رسمی علیک سلیک بھی نہیں ہو پاتی۔ مگر وہ عجب باتونی شخص …

» مزید پڑھئیے

کفن کہانی|محمد حمید شاہد

ہاں میری معصوم بچی! میں اَپنے دَل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں کہ کہانی اس کا کفن نہ بن سکی ‘ تو تمہارا کفن ضرور بنے۔ اور اب جب کہ تم زِندگی کی سانسیں ہار چکی ہو تو میں تمہاری نعش کے سرہانے کا غذ تھامے اس کہانی کو لفظ …

» مزید پڑھئیے

کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہد

  سب ڈاکٹر ایک دوسرے سے کسی نہ کسی بحث میں جتے ہوے تھے سوائے ڈاکٹر نوشین کے‘ جس کے پورے بَد ن میں دوڑنے والی بے کلی اتنی شدت سے گونج رہی تھی کہ وہ بلانے والوں کو’ ہیلو ہائے‘ سے آگے کچھ نہ کَہ پاتی تھی۔ اس نے …

» مزید پڑھئیے

بھُرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی|محمد حمید شاہد

اِدھر ‘ یہاں میں ایک ایسے ریٹائرڈ شخص کے بارے میں گمان باندھنا چاہوں جسے اَپنے بیوی بچوں سے محبت ہو‘ جسے وہ بھی چاہتے ہوں مگر وہ اُن سے اِس خیال سے الگ ر ہے کہ یوں زیادہ سہولت سے رہا جاسکتا ہے اور خُوش بھی۔ یقین جانیے‘ مجھ …

» مزید پڑھئیے

بَرشَور|محمد حمید شاہد

اس نے اَپنی بیوی کے نام پر بیٹی کا نام رکھا ۔۔۔۔۔ اور بےٹی کے نام پر مسجد بناڈالی۔۔۔۔ چھی چھی چھی“ جب عبدالباری کاکڑ کی چھی چھی میرے کانوں میں پڑی ‘ میںفضل مراد رودینی کی طرف متوجہ تھا اوریہ جان ہی نہ پایا ‘وہ افسوس کر رہا تھا‘ …

» مزید پڑھئیے

بَند آنکھوں سے پَرے|محمد حمید شاہد

راحیل کو زِندگی میں پہلی مرتبہ اَپنی بے بسی پر ترس آیا۔ کل شام تک وہ اَپنی قسمت پر نازاں تھا۔ کون سی نعمت تھی‘ جو اس کا مقدّر نہ ٹھہری تھی۔ یہ جو تتلی جیسی بچی نایاب اور پھولوں جیسے دو بچے نبیل اور فرخ پھلواڑی میں کھیل رہے ہیں‘ …

» مزید پڑھئیے

آئنے سے جھانکتی لکیریں|محمد حمید شاہد

میں اَپنی نگہ میں سمٹ کر بھدی چھت سے پھسلتی دِیوار تک آپہنچی تھی۔ میں نیچے آ رہی تھی ےا دِیوار اُوپر اُٹھ رہی تھی؟ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو رہا تھا۔ اور جو کچھ ہو رہا تھا وہ میرے باطن کے کٹورے کو اطمینان کے شیریں پانیوں سے …

» مزید پڑھئیے

پارینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہد

سولہ برس – سات ماہ – پانچ دِن – دو گھنٹے – اِکیس منٹ اور تیرہ سیکنڈ ہو چلے تھے – اَپنے لیے اُس کے ہونٹوں سے پہلی بار وہ جملہ سنے جو سماعتوں میں جلترنگ بجا گیا تھا مگر دِل کے عین بیچ یقین کا شائبہ تک نہ اُتار …

» مزید پڑھئیے

شاخ اشتہا کی چٹک|محمد حمید شاہد

اِسے قریب نظری کا شاخسانہ کہیے یا کچھ اور کہ  بعض کَہانیاں لکھنے والے کے آس پاس کلبلا رہی ہوتی ہیں مگروہ اِن ہی جیسی کسی کَہانی کو پالینے کے لیے ماضی کی دُھول میں دَفن ہو جانے والے قِصّوں کو کھوجنے میں جُتا رہتا ہے۔ تو یُوں ہے کہ جِن …

» مزید پڑھئیے