M. Hameed Shahid

افسانے

کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہد

جس قدیم کتاب کو اُنہوں نے موت سے منسوب کر رکھا تھا اُس کے نیم تصویری باب میں ایک بہت بڑی ترازو تھی جس کے پلڑوں میں زنگار نے سوراخ کر دیے تھے۔ قدیم کتاب کے پاورقی حاشیے میں جو عبارت لکھی ہوئی ملی اس کو پڑھ لینے کا دعویٰ …

» مزید پڑھئیے

کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہد

وہ میری پاس آئی اور مجھے کُریدکُرید کر پوچھنے لگی: ”کہانی کیسے بنتی ہے؟“ مجھے کوئی جواب نہ سوجھ رہا تھاکہ میرا سیل میری مدد کو آیا ۔ دوسری جانب گاﺅں سے فون تھا: ”سیموں مر گئی۔“ ”کون سیموں؟“ میںنے اپنے وسوسے اوندھانے کے لیے خواہ مخواہ سوال جڑدیا۔ حالاں …

» مزید پڑھئیے

کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہد

واصف تو بس مجھے اَپنی نئی کہانی سنانے آیا کرتا تھا۔ مگر اب کے ملا توےوں کہ اس کے ہاتھ میں کسی نئی کہانی کا مسودہ نہیں تھا۔ کہانی لکھ چکنے کے بعد‘ اُس کے چہرے پر جو آسُودگی ہوتی تھی‘ وہ بھی نہ تھی۔ وہ آیا اور چپ چاپ …

» مزید پڑھئیے

ہار،جیت|محمد حمید شاہد

جب اُن کا باپ مر گیا تھا تو ساری اُونچ نیچ کو بڑے نے سنبھال لیا۔چھوٹا پہلے بھی لاڈلا تھا اب بھی رہا۔ گویا بڑا بھائی نہ تھا‘ باپ تھا۔ مگر وہ ایسا باپ تھا کہ اُس کی اَپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ اور اماں روشاں کا خیال تھا بڑے …

» مزید پڑھئیے

گرفت|محمد حمید شاہد

ہم دو ہیں اور تیسرا کوئی نہیں۔ اگر ہے بھی تو ہم نے اُسے ذِہن کی سلیٹ سے رَگڑ رَگڑ کر مٹا ڈالا ہے۔ وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے اور مجھے یوں لگتا ہے میرابدن اُس موم کی طرح ہے جو شعلے کی آنچ سے اس قدر …

» مزید پڑھئیے

جنریشن گیپ|محمد حمید شاہد

٭ اُٹھ نی سوہنیے تیرا ویر ویاہیا == اَری چھوڑ‘ کھیل لینے دِے ان بچوں کو‘ تو ڈال پٹھے مشین میں۔ میں مشین گیڑ رہا ہوں اور تو بچوں میں گم ہے۔ بڈھی گھوڑی لال لگام۔ جی چاہتا ہو گا اُن میں گھمن گھیری ڈالو۔ اَری چھوڑ بھی۔ خالی مشین …

» مزید پڑھئیے

دُکھ کیسے مرتا ہے|محمد حمید شاہد

ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوتے ہی نبیل کا دِل اُلٹنے لگا‘ زخموں پر لگائی جانے والی مخصوص دواﺅں کی تیزبُو نے سانسوں کی ساری اَمی جمی اُکھاڑ دی تھی۔ اُسے میڈیکل وارڈ نمبر تین جانا تھا مگر اس ہسپتال میں خرابی یہ تھی کہ اندر داخل ہوتے ہی پہلے ایمرجنسی …

» مزید پڑھئیے

دوسرا آدمی|محمد حمید شاہد

کم آمیزی میرے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔ سفر کے دوران تو میں اور بھی اپنے آپ میں سمٹ جاتا ہوں۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ میلوں سفر کر جاتا ہوں مگر ساتھ بیٹھے مسافر سے رسمی علیک سلیک بھی نہیں ہو پاتی۔ مگر وہ عجب باتونی شخص …

» مزید پڑھئیے

کفن کہانی|محمد حمید شاہد

ہاں میری معصوم بچی! میں اَپنے دَل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں کہ کہانی اس کا کفن نہ بن سکی ‘ تو تمہارا کفن ضرور بنے۔ اور اب جب کہ تم زِندگی کی سانسیں ہار چکی ہو تو میں تمہاری نعش کے سرہانے کا غذ تھامے اس کہانی کو لفظ …

» مزید پڑھئیے

کیس ہسٹری سے باہر قتل|محمد حمید شاہد

  سب ڈاکٹر ایک دوسرے سے کسی نہ کسی بحث میں جتے ہوے تھے سوائے ڈاکٹر نوشین کے‘ جس کے پورے بَد ن میں دوڑنے والی بے کلی اتنی شدت سے گونج رہی تھی کہ وہ بلانے والوں کو’ ہیلو ہائے‘ سے آگے کچھ نہ کَہ پاتی تھی۔ اس نے …

» مزید پڑھئیے