M. Hameed Shahid

افسانے

معزول نسل|محمد حمید شاہد

  جانے وہ کون سا لمحہ تھا جب اُس نے طے کر لیا تھا کہ وہ سب سے چُھپ کر گاﺅں میں داخل ہو گی‘ چپکے سے صحن میں قدم رکھے گی ¾ پنجوں کے بل چلتی ہوئی اَپنی ماں جائی صفو کے عقب میں جا کھڑی ہوگی اور ہولے …

» مزید پڑھئیے

موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہد

  وہ مر گیا۔ جب نخوت کا مارا‘ امریکا اپنے پالتو اِتحادیوں کے ساتھ ساری اِنسانیت پر چڑھ دوڑا اوراعلٰی ترین ٹیکنالوجی کے بوتے پر سب کوبدترین اِجتماعی موت کی باڑھ پر رَکھے ہوے تھا ‘ وہ اِسلام آباد کے ایک ہسپتال میں چپکے سے اکیلا ہی مر گیا ۔ …

» مزید پڑھئیے

موت کا بوسہ|محمد حمید شاہد

  جب اُس کا جنازہ اُٹھا تو شوروشیون نے دِل کو برچھی بن کر چھید ڈالا تھا۔ مرنے والے مر جاتے ہیں …. دنیا سے منھ پھیر تے ہی اس شورِقیامت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں ‘ جو اُن کے پیاروں کی چھاتیاں ٹوٹ کراِدھراُدھر ڈھیر کر دیتی ہیں۔ …

» مزید پڑھئیے

ماسٹر پیس|محمد حمید شاہد

  میں جانتا ہوں‘ میرے اَفسانوں نے ادبی دُنیا میں تہلکہ مجائے رکھا ہے۔ افسانوں نے مجھے جو مقام بخشا‘ تنقید اُس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رَکھتی۔ اب بھی اگر کسی ادبی مجلے‘ اخبارےا رسالے میں مجھ پر کوئی مضمون لکھا جاتا ہے ےا میرے متعلق کوئی خبر …

» مزید پڑھئیے

مَرگ زار|محمد حمید شاہد

  وہ دھند میں ڈوبی ہوئی ایک صبح تھی ۔ مری میں میری پوسٹنگ کو چند ہی روز گزرے تھے اور جتنی صبحیں میں نے اس وقت تک دیکھی تھیں سب ہی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں ۔ کلڈنہ روڈ پر ہمارا دفتر تھا ۔ ابھی مجھے گھر نہیں ملا …

» مزید پڑھئیے

مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہد

  زَریاب خان چلتے چلتے تھک گیا تھا۔ اَن گنت ستارے اُس کے ذِہن کے آکاش پر چمکے اور ٹوٹے تھے‘ ہمت بڑھی اور دم توڑ گئی تھی‘ قدم اُٹھے اور لڑکھڑائے تھے۔ اُس کے مقابل اُمیدوں کے لاشے صف دَر صف کفن پہنے لیٹے تھے۔ دفعتاً اُمید کی ایک …

» مزید پڑھئیے

منجھلی|محمد حمید شاہد

        اَب سوچتا ہوں کہ میں نے اِتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا تھا‘ تو حیرت ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اِتنا بڑا فیصلہ میں نے نہیں کیا تھا‘ خود بخود ہو گیا تھا۔ دراصل بھائی اور بھابی دونوں اِتنی محبت کرنے والے اور خیال …

» مزید پڑھئیے

مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہد

جب آوی کے پاس فرشتے اترے ماسٹر فضل جُو ٹھیک ٹھیک آنکنے میں ناکام رہے تھے کہ اُنہوں نے کِتنی دِیر تلاوت کی تھی ۔ رمضان کے عین آغاز میں ہی وہ تخمینہ لگا چکے تھے کہ روزانہ اِتنا پڑھیں گے تو ستائیسویں کو ختم القرآن کی مطلوبہ تعداد مکمل ہو …

» مزید پڑھئیے

ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہد

  وہ کہانیاں لکھتا رہتا ہے‘ نئی نئی کہانیاں۔ مگر میں اُس کی کہانیاں نہیں پڑھتی۔ اُسے گلہ ہے‘سب لوگ اس کی کہانیوں کو نیا تجربہ قراردیتے ہیں‘ اُس کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر میں ‘اُس کی بیوی ہوتے ہوے بھی اس کی کہانیاں نہیں پڑھتی۔ یہ درست نہیں …

» مزید پڑھئیے

لوتھ|محمد حمید شاہد

  اُس کی ٹانگیں کولہوں سے بالشت بھر نیچے سے کاٹ دِی گئی تھیں۔ ایک مُدّت سے اُس نے اپنے تلووں کے گھاﺅ اپنے ہی بیٹے پرکُھلنے نہ دئیے تھے . . . .ضبط کرتا رہا اور اُونچی نیچی راہوںپرچلتا رہا تھا ……مگر کچھ عرصے سے یہ زخم رِسنے لگے …

» مزید پڑھئیے