M. Hameed Shahid

افسانے

منجھلی|محمد حمید شاہد

        اَب سوچتا ہوں کہ میں نے اِتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا تھا‘ تو حیرت ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اِتنا بڑا فیصلہ میں نے نہیں کیا تھا‘ خود بخود ہو گیا تھا۔ دراصل بھائی اور بھابی دونوں اِتنی محبت کرنے والے اور خیال …

» مزید پڑھئیے

مَلبا سانس لیتا ہے|محمد حمید شاہد

جب آوی کے پاس فرشتے اترے ماسٹر فضل جُو ٹھیک ٹھیک آنکنے میں ناکام رہے تھے کہ اُنہوں نے کِتنی دِیر تلاوت کی تھی ۔ رمضان کے عین آغاز میں ہی وہ تخمینہ لگا چکے تھے کہ روزانہ اِتنا پڑھیں گے تو ستائیسویں کو ختم القرآن کی مطلوبہ تعداد مکمل ہو …

» مزید پڑھئیے

ماخوذ تاثر کی کہانی|محمد حمید شاہد

  وہ کہانیاں لکھتا رہتا ہے‘ نئی نئی کہانیاں۔ مگر میں اُس کی کہانیاں نہیں پڑھتی۔ اُسے گلہ ہے‘سب لوگ اس کی کہانیوں کو نیا تجربہ قراردیتے ہیں‘ اُس کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر میں ‘اُس کی بیوی ہوتے ہوے بھی اس کی کہانیاں نہیں پڑھتی۔ یہ درست نہیں …

» مزید پڑھئیے

لوتھ|محمد حمید شاہد

  اُس کی ٹانگیں کولہوں سے بالشت بھر نیچے سے کاٹ دِی گئی تھیں۔ ایک مُدّت سے اُس نے اپنے تلووں کے گھاﺅ اپنے ہی بیٹے پرکُھلنے نہ دئیے تھے . . . .ضبط کرتا رہا اور اُونچی نیچی راہوںپرچلتا رہا تھا ……مگر کچھ عرصے سے یہ زخم رِسنے لگے …

» مزید پڑھئیے

کتابُ الاموات سے میزانِ عدل کاباب|محمد حمید شاہد

جس قدیم کتاب کو اُنہوں نے موت سے منسوب کر رکھا تھا اُس کے نیم تصویری باب میں ایک بہت بڑی ترازو تھی جس کے پلڑوں میں زنگار نے سوراخ کر دیے تھے۔ قدیم کتاب کے پاورقی حاشیے میں جو عبارت لکھی ہوئی ملی اس کو پڑھ لینے کا دعویٰ …

» مزید پڑھئیے

کہانی کیسے بنتی ہے|محمد حمید شاہد

وہ میری پاس آئی اور مجھے کُریدکُرید کر پوچھنے لگی: ”کہانی کیسے بنتی ہے؟“ مجھے کوئی جواب نہ سوجھ رہا تھاکہ میرا سیل میری مدد کو آیا ۔ دوسری جانب گاﺅں سے فون تھا: ”سیموں مر گئی۔“ ”کون سیموں؟“ میںنے اپنے وسوسے اوندھانے کے لیے خواہ مخواہ سوال جڑدیا۔ حالاں …

» مزید پڑھئیے

کہانی اور کرچیاں|محمد حمید شاہد

واصف تو بس مجھے اَپنی نئی کہانی سنانے آیا کرتا تھا۔ مگر اب کے ملا توےوں کہ اس کے ہاتھ میں کسی نئی کہانی کا مسودہ نہیں تھا۔ کہانی لکھ چکنے کے بعد‘ اُس کے چہرے پر جو آسُودگی ہوتی تھی‘ وہ بھی نہ تھی۔ وہ آیا اور چپ چاپ …

» مزید پڑھئیے

ہار،جیت|محمد حمید شاہد

جب اُن کا باپ مر گیا تھا تو ساری اُونچ نیچ کو بڑے نے سنبھال لیا۔چھوٹا پہلے بھی لاڈلا تھا اب بھی رہا۔ گویا بڑا بھائی نہ تھا‘ باپ تھا۔ مگر وہ ایسا باپ تھا کہ اُس کی اَپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ اور اماں روشاں کا خیال تھا بڑے …

» مزید پڑھئیے

گرفت|محمد حمید شاہد

ہم دو ہیں اور تیسرا کوئی نہیں۔ اگر ہے بھی تو ہم نے اُسے ذِہن کی سلیٹ سے رَگڑ رَگڑ کر مٹا ڈالا ہے۔ وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے اور مجھے یوں لگتا ہے میرابدن اُس موم کی طرح ہے جو شعلے کی آنچ سے اس قدر …

» مزید پڑھئیے

جنریشن گیپ|محمد حمید شاہد

٭ اُٹھ نی سوہنیے تیرا ویر ویاہیا == اَری چھوڑ‘ کھیل لینے دِے ان بچوں کو‘ تو ڈال پٹھے مشین میں۔ میں مشین گیڑ رہا ہوں اور تو بچوں میں گم ہے۔ بڈھی گھوڑی لال لگام۔ جی چاہتا ہو گا اُن میں گھمن گھیری ڈالو۔ اَری چھوڑ بھی۔ خالی مشین …

» مزید پڑھئیے