M. Hameed Shahid

افسانے

وَاپسی|محمد حمید شاہد

محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا تھا۔ حالاں کہ اُس کے بارے میں اُس کے ماتحت کام کرنے والے اور اعلیٰ افسران دونوں رائے رَکھتے تھے کہ وہ لاتعلق ہو کر بیٹھنے والا یا مشکل سے مشکل حالات میں بھی حوصلہ ہارنے والا فرد نہیں‘ …

» مزید پڑھئیے

تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہد

  کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے: ”ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے- جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی- پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی …

» مزید پڑھئیے

سجدہ سہو|محمد حمید شاہد

  ایکا ایکی اُسے ایسے لگا جیسے کوئی تیز خنجر اُس کی کھوپڑی کی چھت میں جا دھنسا ہو۔ اس کاپورا بدن کانپ اُٹھا۔ جسم کے ایک ایک مسام سے پسینے کے قطرے لپک کر باہر آگئے۔ اُس نے سر پر دوہتڑ مار کر لَاحَول وَلا قُوة کہا۔ عین اُس …

» مزید پڑھئیے

رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہد

وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا – ندیدہ ہو کر۔ عاطف اُسے دِیکھ رہا تھا – ہک دَک ۔ کراہت کاگولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اُس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا – یوں کہ اُسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دِھیان اِدھر …

» مزید پڑھئیے

پارو|محمد حمید شاہد

جب وہ آنگن میں  چت کبَرے کو باندھ رہا تھا تو دھیرے دھیرے یہ بھی بڑبڑا رہا تھا: ”جب اساڑھ آئے گا اور بھڑولے بھر جائیں گے تو تجھ جیسا ایک اور ضرور لاﺅں گا“ کھونٹے سے بندھی رَسی کوا س نے کھنچ کر گرہ کی مضبوطی کااِ طمینان کیا …

» مزید پڑھئیے

پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہد

سولہ برس – سات ماہ – پانچ دِن – دو گھنٹے – اِکیس منٹ اور تیرہ سیکنڈ ہو چلے تھے – اَپنے لیے اُس کے ہونٹوں سے پہلی بار وہ جملہ سنے جو سماعتوں میں جلترنگ بجا گیا تھا مگر دِل کے عین بیچ یقین کا شائبہ تک نہ اُتار …

» مزید پڑھئیے

پارہ دوز|محمد حمید شاہد

(تین پارچے :ایک کَہانی) پہلا پارچہ اُس روز تو میری آنکھیں باہر کو اُبل رہی تھیں۔ بے خوابی کا عارضہ میرے لیے نیا نہ تھا تاہم پہلے میں مُسکّن ادویات سے اس پر قابو پا لیا کرتا تھا ‘یوںنہیں ہوتا تھا کہ ادل بدل کر دوائیں لینے سے بھی افاقہ …

» مزید پڑھئیے

نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہد

  اِدھر اُدھرجَل تھا۔ جَل ہی جَل۔ پَوِتر جَھرجَھرگِرتا۔ وہ جو مدَمتا تھی‘مدمَاتی‘مَدَن مَد۔ وہ ا ِسی جَل میں اَشنَان کرتی‘ چھینٹے اُڑاتی‘ دوڑتی پھرتی تھی۔ ا ِس جَل کے بیچوں بیچ وہ جتنا آگے جاتی اتنا ہی جَل اور بڑھ جاتا۔ وہ تھی۔ بس وہ۔ اورجَل۔ ایک بگھی اُس …

» مزید پڑھئیے

نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہد

  وہ کہتی ہے‘ وہ یوری پیڈیرز کی الیکڑا جیسی ہے۔ فر ق ہے تو اِتنا سا کہ پرانے والی الیکٹرا کو اُس کی بے وفا ماں اور اُس کے بَد طینت عاشق کی وجہ سے سب کچھ چھوڑنا پڑا‘ جب کہ اُسے یعنی نئی الیکٹرا کو‘ جن لوگوںکی وجہ …

» مزید پڑھئیے

ناہنجار|محمد حمید شاہد

  میں سارے بے مصرف اور اُکتا دینے والے کام کر سکتا ہوں مگر مجھے یہ عمل شدید اُکتا دینے والا لگتا ہے کہ جمعے کے جمعے تھیلا اُٹھاﺅں اور پشاور موڑ سے ادھر لگنے والے ہفتہ وار سستے بازار سے روپے دو روپے کے ٹینڈوں‘مرچوں‘توریوں‘بینگنوں اور شلجموں کے لیے …

» مزید پڑھئیے