M. Hameed Shahid

افسانے

پارہ دوز|محمد حمید شاہد

(تین پارچے :ایک کَہانی) پہلا پارچہ اُس روز تو میری آنکھیں باہر کو اُبل رہی تھیں۔ بے خوابی کا عارضہ میرے لیے نیا نہ تھا تاہم پہلے میں مُسکّن ادویات سے اس پر قابو پا لیا کرتا تھا ‘یوںنہیں ہوتا تھا کہ ادل بدل کر دوائیں لینے سے بھی افاقہ …

» مزید پڑھئیے

نِرمَل نِیر|محمد حمید شاہد

  اِدھر اُدھرجَل تھا۔ جَل ہی جَل۔ پَوِتر جَھرجَھرگِرتا۔ وہ جو مدَمتا تھی‘مدمَاتی‘مَدَن مَد۔ وہ ا ِسی جَل میں اَشنَان کرتی‘ چھینٹے اُڑاتی‘ دوڑتی پھرتی تھی۔ ا ِس جَل کے بیچوں بیچ وہ جتنا آگے جاتی اتنا ہی جَل اور بڑھ جاتا۔ وہ تھی۔ بس وہ۔ اورجَل۔ ایک بگھی اُس …

» مزید پڑھئیے

نئی الیکٹرا|محمد حمید شاہد

  وہ کہتی ہے‘ وہ یوری پیڈیرز کی الیکڑا جیسی ہے۔ فر ق ہے تو اِتنا سا کہ پرانے والی الیکٹرا کو اُس کی بے وفا ماں اور اُس کے بَد طینت عاشق کی وجہ سے سب کچھ چھوڑنا پڑا‘ جب کہ اُسے یعنی نئی الیکٹرا کو‘ جن لوگوںکی وجہ …

» مزید پڑھئیے

ناہنجار|محمد حمید شاہد

  میں سارے بے مصرف اور اُکتا دینے والے کام کر سکتا ہوں مگر مجھے یہ عمل شدید اُکتا دینے والا لگتا ہے کہ جمعے کے جمعے تھیلا اُٹھاﺅں اور پشاور موڑ سے ادھر لگنے والے ہفتہ وار سستے بازار سے روپے دو روپے کے ٹینڈوں‘مرچوں‘توریوں‘بینگنوں اور شلجموں کے لیے …

» مزید پڑھئیے

معزول نسل|محمد حمید شاہد

  جانے وہ کون سا لمحہ تھا جب اُس نے طے کر لیا تھا کہ وہ سب سے چُھپ کر گاﺅں میں داخل ہو گی‘ چپکے سے صحن میں قدم رکھے گی ¾ پنجوں کے بل چلتی ہوئی اَپنی ماں جائی صفو کے عقب میں جا کھڑی ہوگی اور ہولے …

» مزید پڑھئیے

موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ|محمد حمید شاہد

  وہ مر گیا۔ جب نخوت کا مارا‘ امریکا اپنے پالتو اِتحادیوں کے ساتھ ساری اِنسانیت پر چڑھ دوڑا اوراعلٰی ترین ٹیکنالوجی کے بوتے پر سب کوبدترین اِجتماعی موت کی باڑھ پر رَکھے ہوے تھا ‘ وہ اِسلام آباد کے ایک ہسپتال میں چپکے سے اکیلا ہی مر گیا ۔ …

» مزید پڑھئیے

موت کا بوسہ|محمد حمید شاہد

  جب اُس کا جنازہ اُٹھا تو شوروشیون نے دِل کو برچھی بن کر چھید ڈالا تھا۔ مرنے والے مر جاتے ہیں …. دنیا سے منھ پھیر تے ہی اس شورِقیامت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں ‘ جو اُن کے پیاروں کی چھاتیاں ٹوٹ کراِدھراُدھر ڈھیر کر دیتی ہیں۔ …

» مزید پڑھئیے

ماسٹر پیس|محمد حمید شاہد

  میں جانتا ہوں‘ میرے اَفسانوں نے ادبی دُنیا میں تہلکہ مجائے رکھا ہے۔ افسانوں نے مجھے جو مقام بخشا‘ تنقید اُس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رَکھتی۔ اب بھی اگر کسی ادبی مجلے‘ اخبارےا رسالے میں مجھ پر کوئی مضمون لکھا جاتا ہے ےا میرے متعلق کوئی خبر …

» مزید پڑھئیے

مَرگ زار|محمد حمید شاہد

  وہ دھند میں ڈوبی ہوئی ایک صبح تھی ۔ مری میں میری پوسٹنگ کو چند ہی روز گزرے تھے اور جتنی صبحیں میں نے اس وقت تک دیکھی تھیں سب ہی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں ۔ کلڈنہ روڈ پر ہمارا دفتر تھا ۔ ابھی مجھے گھر نہیں ملا …

» مزید پڑھئیے

مراجعت کا عذاب|محمد حمید شاہد

  زَریاب خان چلتے چلتے تھک گیا تھا۔ اَن گنت ستارے اُس کے ذِہن کے آکاش پر چمکے اور ٹوٹے تھے‘ ہمت بڑھی اور دم توڑ گئی تھی‘ قدم اُٹھے اور لڑکھڑائے تھے۔ اُس کے مقابل اُمیدوں کے لاشے صف دَر صف کفن پہنے لیٹے تھے۔ دفعتاً اُمید کی ایک …

» مزید پڑھئیے