M. Hameed Shahid

افسانے

جنم جہنم-3|محمد حمید شاہد

اور وہ کہ جس کے چہرے پر تھوک کی ایک اور تہہ جم گئی تھی۔ اُس کی سماعتوں سے تھوک کر چلی جانے والی کے قہقہوں کی گونج اَبھی تک ٹکرا رہی تھی وہ اُٹھا۔ بڑ بڑایا۔ ’’جہنم۔ لعنت‘‘ پھر اَپنے وجود پر نظر ڈالی اور لڑکھڑا کر گر گیا۔ …

» مزید پڑھئیے

جنم جہنم-2|محمد حمید شاہد

وہ جو زِیست کی نئی شاہ راہ پر نکل کھڑی ہوئی تھی اُس کا دَامن گذر چکے لمحوں کے کانٹوں سے اُلجھا ہی رہا۔ اُس نے اَپنے تئیں دیکھے جانے کی خواہش کا کانٹا دِل سے نکال پھینکا تھا ‘مگر گزر چکے لمحے اُس کے دِل میں ترازو تھے۔ ’’یہ …

» مزید پڑھئیے

جنم جہنم-1|محمد حمید شاہد

’’یہ جو نظر ہے نا! منظر چاہتی ہے۔ اور یہ جو منظر ہے نا! اَپنے وجود کے اِعتبار کے لیے ناظر چاہتا ہے۔ دِیکھنے اور دِیکھے جانے کی یہ جو اشتہا ہے نا! یہ فاصلوں کو پاٹتی ہے۔ اور فاصلوں کا وجود جب معدوم ہو جاتا ہے نا! تو جہنم …

» مزید پڑھئیے

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر کے اندر قدم رکھا‘ اُدھر وہ مجھے پر برس بڑی۔ بچیاں جو مجھے دیکھ کرکھِل اُٹھی تھیں اور میری جانب لپکنا ہی چاہتی تھیں‘ اِس متوقع حملے میں عدم مداخلت کے خیال سے‘ جہاں تھیں …

» مزید پڑھئیے

وَاپسی|محمد حمید شاہد

محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا تھا۔ حالاں کہ اُس کے بارے میں اُس کے ماتحت کام کرنے والے اور اعلیٰ افسران دونوں رائے رَکھتے تھے کہ وہ لاتعلق ہو کر بیٹھنے والا یا مشکل سے مشکل حالات میں بھی حوصلہ ہارنے والا فرد نہیں‘ …

» مزید پڑھئیے

تکلے کا گھاﺅ|محمد حمید شاہد

  کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے: ”ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے- جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی- پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی …

» مزید پڑھئیے

سجدہ سہو|محمد حمید شاہد

  ایکا ایکی اُسے ایسے لگا جیسے کوئی تیز خنجر اُس کی کھوپڑی کی چھت میں جا دھنسا ہو۔ اس کاپورا بدن کانپ اُٹھا۔ جسم کے ایک ایک مسام سے پسینے کے قطرے لپک کر باہر آگئے۔ اُس نے سر پر دوہتڑ مار کر لَاحَول وَلا قُوة کہا۔ عین اُس …

» مزید پڑھئیے

رُکی ہوئی زندگی|محمد حمید شاہد

وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا – ندیدہ ہو کر۔ عاطف اُسے دِیکھ رہا تھا – ہک دَک ۔ کراہت کاگولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اُس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا – یوں کہ اُسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دِھیان اِدھر …

» مزید پڑھئیے

پارو|محمد حمید شاہد

جب وہ آنگن میں  چت کبَرے کو باندھ رہا تھا تو دھیرے دھیرے یہ بھی بڑبڑا رہا تھا: ”جب اساڑھ آئے گا اور بھڑولے بھر جائیں گے تو تجھ جیسا ایک اور ضرور لاﺅں گا“ کھونٹے سے بندھی رَسی کوا س نے کھنچ کر گرہ کی مضبوطی کااِ طمینان کیا …

» مزید پڑھئیے

پارِینہ لمحے کا نزول|محمد حمید شاہد

سولہ برس – سات ماہ – پانچ دِن – دو گھنٹے – اِکیس منٹ اور تیرہ سیکنڈ ہو چلے تھے – اَپنے لیے اُس کے ہونٹوں سے پہلی بار وہ جملہ سنے جو سماعتوں میں جلترنگ بجا گیا تھا مگر دِل کے عین بیچ یقین کا شائبہ تک نہ اُتار …

» مزید پڑھئیے