M. Hameed Shahid

TimeLine Layout

يوليو, 2018

  • 7 يوليو

    محمد حمید شاہد|جاوید انور کے افسانے

    کتاب :         برگد ۔۔۔۔۔۔۔افسانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسانہ نگار: جاوید انور جاوید انور کے افسانوں میں زندگی مختلف سطحوں پر کروٹیں لیتی محسوس ہوتی ہے۔یہ چھتنار برگد جیسی اُونچی اور گھنی زندگی بھی ہے ، جس کے گہرے سائے سے خوف اُمنڈتا ہے اور جسے کٹ کٹ کرآخر کار معدوم …

    » مزید پڑھئیے
  • 7 يوليو

    محمد حمید شاہد|غلام عباس کے افسانے.ایک مطالعہ 

    کتاب:غلام عباس | تنقیدی مطالعہ اور منتخب افسانے تنقیدی مطالعہ و انتخاب: محمد حمید شاہد ناشر: بک کارنر جہلم اُن تخلیقی توفیقات کا اندازہ کیے بغیر جو غلام عباس(1909-1982) کے افسانے کو ماجرا نویسوں کو محبوب ہو جانے والی حقیقت نگاری سے مختلف اور نمایاں کرتے چلے گئے ہیں، اس باکمال …

    » مزید پڑھئیے
  • 7 يوليو

    محمد حمید شاہد|مقدمہ،منٹو کے متنازع افسانے

    کتاب:منٹو کے متنازع افسانے انتخاب:ترتیب و تدوین: ندیم احمد ندیم مقدمہ:محمد حمید شاہد ناشر: بک کارنر جہلم ’’منٹو کے متنازع افسانے‘‘؛ کتاب کا نام پڑھتے ہی مجھے اشفاق احمدصاحب کی زندگی کے آخری برسوں کا واقعہ یاد آگیا ۔ مجھے ان سے مکالمہ کرنا تھا ۔ یہ وہی طویل انٹرویو …

    » مزید پڑھئیے
  • 7 يوليو

    محمد حمید شاہد|سچے آدمی کا فکشن

    افسانے:جھوٹے آدمی کے اعترافات افسانہ نگار:لیاقت علی ’’جھوٹے آدمی کے اعترافات‘‘ لیاقت علی کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ہے ۔ محض ایک اور کتاب نہیں بلکہ ایک ایسے تخلیق کار کا اگلا پڑاؤ جس کے لیے افسانے لکھنا زندگی اور موت کے مسئلے کا سا ہو گیا ہے ۔ عین …

    » مزید پڑھئیے
  • 7 يوليو

    محمد حمید شاہد|منظر جو رہ گیا

    ناول: منظر جو رہ گیا ناول نگار: طارق عالم ابڑو سندھی سے اردو ترجمہ : سدرۃ المنتہی جیلانی ترکی کے رواں منظرنامے میں خواتین لکھنے والیوں میں سب سے زیادہ شہرت إليف شافاق بٹور رہی ہیں جن  کے دس میں سے ایک ناول  کا نام ہے”محبت کے چالیس اصول” ۔اس …

    » مزید پڑھئیے
  • 4 يوليو

    محمدحمیدشاہد|محمدعمرمیمن کی یاد میں

    مجھے یاد ہے ، وہ ادبی جریدے ’’آج‘‘ کراچی کا دوسرا شمارہ تھا، جو چیک ادیب میلان کنڈیرا کی تحریروں کے انتخاب پر مشتمل تھا۔ اس میں ناول ’’خندہ اور فراموشی کی کتاب‘‘( The book of laughter and forgetting )کے ایک حصے کا ترجمہ ڈاکٹرآصف فرخی کا تھا، جبکہ محمد …

    » مزید پڑھئیے
  • 1 يوليو

    محمدحمیدشاہد|یوسف حسن:وہ گردگرداُٹھاتھااورمعتبربھی تھا

    پروفیسر یوسف حسن کی ایک ترقی پسند ادیب کی حیثیت سے نظریاتی وابستگی، ایسی قابل رشک مثال ہے کہ شاید ایسے نظریاتی استقلال والادوسرا آدمی ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گا ۔ میں پچیس چھبیس سال سے راولپنڈی اسلام آباد کے ادبی منظر نامے کا عینی گواہ ہوں ، اس …

    » مزید پڑھئیے

يونيو, 2018