M. Hameed Shahid
Home / بیرونی رابطے

بیرونی رابطے

میراجی کی نظم پر ایک آن لائن مباحثہ

meeraji
میراجی

میرا جی کا کہنا تھاکہ وہ اپنے زمانۂ طفلی میں جب چمپا رن کے نواح میں رہتے تھے ( وہی علاقہ جہاں ان سے پہلے کچھ عرصہ کے لیے مہارانی میرا بائی اپنے گیتوں کا جادو جگانے آتی تھیں )، وہاں سے کچھ میل پرے اپاوا گڑھ کا پہاڑتھاجس کی ایک چوٹی پر کالی کا مندر تھا۔ جس نیلے بھید کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا وہ میرا جی کے ہاں اسی اپاوا گڑھ کے پہاڑسے آیا تھا اور اسے یاد کرتے ہوئے وہ اپنا ایک مصرع سنا دیا کرتے تھے : “پربت کو اک نیلا بھید بنایا کس نے، دوری نے “۔ میرا جی کے ہاں جو بھی ذرا فاصلے پرہوتا ہے،نیلے بھید جیسا ہو جاتا اور جو برتنے میں آ جاتا ہے، کھلے مناظر جیسا۔ یہ کھلے مناظر والی بات بھی میں نے اپنے پاس سے نہیں کہی میرا جی سے لی ہے ۔ بچپن میں میرا جی کراچی سے کچھ دور دابے کے کھلے میدانی علاقے میں بھی رہے تھے ۔ وہاں کھیت کھلیان، شجر آسمان سب اس طرح دھرا تھا جیسے کہ بقول ممتاز مفتی،حلوائی کی دکان کے باہر تھالوں میں مٹھائیاں دھری ہوتی ہیں ۔ میرا جی کو یہ کھلا پن پسند نہ تھا، سو یہاں رہتے ہوئے اداس اور بے زار ہو جاتے ۔ یہ اداسی اور بے زاری اس نظم کے ان حصوں سے بھی چھلکنے لگی ہے جہاں منظر اور حوادث کھلے پڑے ہیں ۔ جی ہاں،یہ نظم کا وہی ٹکڑا ہے جو اگرچہ بہت گہرا نہیں ہے کہ اس میں سے نیلے بھیدکا آسمان سما جائے مگر اپنے پہلے حصہ سے آئے ہوئے بھید کی کچھ سیپیاں اور موتی سنبھالے ہوئے ہے ؛ ایک تسلسل کا شاخسانہ، یا پھر ایک بھید بھرے شاخسانے کا تسلسل۔ “فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے ” میرا جی کے ہاں اس نظم کی وساطت سے جس تسلسل کو ہم شناخت کرتے ہیں اس میں زمانہ خدا نہیں رہتا، ایک کڑی سے جڑی دوسری کڑی کا سا ہو جاتا ہے جسے اور کڑیوں سے جڑے چلے جانا ہے ۔ وقت یہاں ایک لکیر میں چل ہی نہیں پاتا،کہ ان کڑیوں سے وقت کی جو زنجیر بنتی ہے وہ جھولا بناتی جھول رہی ہے ۔ یہ جھولا ہمیشہ دو انتہاؤں کی طرف رواں رہتا ہے آغاز اور انجام یا بقا اور فنا،اور آدمی اپنے تئیں جن انتہاؤں میں الجھا ہوا ہے نیکی اور بدی والی، تو یوں ہے کہ یہ حال کی طرح بس ایک الجھاوا ہی ہے ورنہ آدمی میں کوئی برائی نہیں ہے، آدمی تو اپنے وجود میں فنا اور بقا کی دوانتہاوں کا مقام وصل ہے اور میرا جی کے مطابق:
“مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں “

حاشیہ کے اجلاس کی روداد مطبوعہ اثبات میں محمد حمید شاہد کی گفتگو سے مقتبس

03.25.13.001

 کالے سفید پروں والا پرندہ اور میری ایک شام ،اختر الایمان کی نظم پر ادھورا رہ جانے والا مکالمہ

اخترالایمان
اخترالایمان

بہت شکریہ تصنیف ! آپ کا اس نظم پربل کہ اختر الایمان کی نظم نگاری پر کامنٹ بہت شدید سوالات لے کر آیا ہے :     1۔ آپ نے کہا ” اختر الایمان آپ کو کچھ زیادہ پسند نہیں ہیں” گویا کسی کم ترسطح پر پسند ہیں، اگرایسا ہے تو اس کم ترسطح/ معیار کو نشان زد فرمائیں تاکہ وہاں سے نظم پر بات آغاز ہو سکے ؟     2۔ آپ نے فرمایا” اختر الایمان کی زیادہ تر شاعری انسان کی بے بسی اور ڈیسٹیٹیوٹنس کا بکھان ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہے “۔ اور یہ کہ ” فنی سطح پر کچھ مارکس تو دے سکتے ہیں”۔ گویا موضوع پر نہیں فنی خوبیوں پر بات ہو سکتی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو وہ فنی محاسن نشان زد ہونا چاہئیں     3۔ آپ اسے جدید نظم نہیں مانتے کیوں کہ اس میں” معنی کے ابعاد پیدا کرنے والے وہ نقطے نہیں جو “جدید نظم کی پیداوار” ہیں۔ کیا اس بنیاد پر ہم اختر الایمان کی ساری نظموں کو رد کر سکتے ہیں؟     4۔ آپ نے کہا اس نظم میں “لفظوں کا جال پھیلا” کر قاری کو اس کے ٹرانس میں لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ کیا شاعری کا ایک مقصد اپنے قاری کے جذبوں کو بیدار کرنا نہیں ہوتا۔ اور کیا نظم لفظوں کی مناسب ترین ترتیب کے سوا کچھ ہوتی ہے ؟     5۔ ۔ آپ نے فرمایا ” ابتدا سے لے کر آخر تک نظم موزوں گوئی اور لفظی تسلسل کی وجہ سے اس مقام سے بھٹکنے لگتی ہے جس کو اس نے ابتدا میں اپنا معنوی مقصود بنایا تھا” اور یہ کہ آپ نے شاعرانہ باریکی اور فکر ی جدو جہد کی بات کی۔ ان دونوں کے بیچ کچھ تناسب ہونا چاہیے کہ جہاں فکری جدوجہد شاعری رہے اور شاعرانہ باریکیاں فکر کے لیے رخنہ نہ بن جائیں۔ کیا فکری کج روی سے مملو شاعر اچھی نظم نہیں کہہ سکتا جب کہ اس کے پاس فن کی باریکیاں ہوں ؟ اور کیا نظم کو ہر صورت میں فکری طور پر مربوط ہو نا چاہئیے ؟     6۔ اٹھارہ سو ستاون اور انیس سو سینتالیس اس نظم میں اہم اشارہ ہے ، آپ نے کہا “تقسیم کا رونا” اور”انسانی جبلت کا گھناؤنا پن” اور یہ کہ “یہ خونخوار رنگ یا شیڈ مزید نزدیک سے دکھایا جا سکتا تھا” اگر اختر نزدیک سے حوالہ چن لیتے تو کیا نظم، اس مواد کے ساتھ اور اس قرینے سے پھر بھی بن پاتی۔     کئی اور سوالات بھی ہیں۔ ہم چاہ رہے ہیں کہ نظم کے متن اور اس کی جمالیات پر بات ہو مگر ہو یہ رہا ہے کہ سوالات کی تعداد بڑھ رہی ہے ؟ ان سوالات کے مقابل کون ہو گا،ہمیں اس مشکل سے کون نکالے گا؟

حاشیہ کے محمد حمید شاہد کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کی روداد سے مقتبس 

03.25.13.001

ضیا جالندھری کی نظم بڑا شہرپر حاشیہ میں مکالمہ 

محمد حمید شاہد، ضیا جالندھری، احسان اکبر ،منشایاد
محمد حمید شاہد، ضیا جالندھری، احسان اکبر ،منشایاد

زیر نظر نظم “بڑا شہر” کا موضوع بھی یہی ہے کہ ایک طرف اگر زندگی کرنے کی للک سے کٹ کر اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی جستجو میں بڑے شہر منتقل ہونے والا آدمی ایک اذیت کو محسوس کرتا ہے تو دوسری طرف جبر یہ ہے کہ وہ اس کی گرفت سے نکل ہی نہیں پا رہا۔ ضیا نے کراچی کو سامنے رکھا، وہ کراچی جس کا المیہ روپ بدل بدل کر ہمارے سامنے آتا رہتا ہے، اور اب تو ہم اسے ایک سفاک قاتل کے روپ میں دیکھ رہے ہیں ۔ کسی دیو قد کیکڑے کی طرح سمندر کے ساحل پہ پاؤں پسارے پڑا ہوا کراچی ضیا کا موضوع ہے۔ نظم نگار نے سمندر کے حوالے سے کیکڑے کی تشبیہ دی مگر فوراً بعد، اس کا دوسرا روپ بھی دکھا دیا، فولاد و آہن کے بدن والا، ریت سیمنٹ پتھر والا اور بسیوں ، ٹیکسیوں ، کاروں ، رکشاؤں والا۔ ایسا جسیم کیکڑا جس کی رگوں میں لہو کی بہ جائے ایک ہنگامہ رواں ہے۔ تو یوں ہے کہ اس طرح یہ کیکڑا دو رخوں پر نظر آتا سمندر کنارے پڑا ہوا بے سدھ جسم ہے اور آدمی کے سامنے ایک بے ہنگم زندگی کی مصروفیت۔  آگے چل کر نظم میں فرد اور شہر کے جسم کو ایک سا دکھایا گیا ہے۔ دونوں کے اندر مصروفیت کے باوجود زندگی کے معاملے میں تہی پن ہے۔ معاشی سرگرمی کی علامت ہو جانے والے اداروں کا شہر کے جسم پر جا بہ جا داغ ہونا اور اشتہا اور خوابوں کو فروغ دینے والی زندگی کا فرد کے لیے موت کا سا داغ ہو جانا، ایسی دلدل کہ انسان ان کے شکنجے سے نکلنا چاہے تو پھڑپھڑا کر رہ جائے اور نکل نہ پائے۔ یہ ایسا جبر ہے، جو آدمی کے اپنے کیے کا شاخسانہ ہے فرد کو اس انداز سے دیکھنے کو ضیا نے اپنی شاعری کا مستقل موضوع بنایا ہے۔ فرد کی جان کنی اور شہر کی بہ ظاہر عشوہ طرازی کی اس کہانی میں اگر شہر طوائف سا ہے تو فرد تماش بین اور انجام دونوں کے حق میں نہیں ہے کہ دونوں اصل اور خلوص والی زندگی سے کٹے ہوئے ہیں

حاشیہ میں ضیا جالندھری کی نظم پر محمد حمید شاہد کی گفتگو سے مقتبس

03.25.13.001

 ہزارے کا مہمان کیا بولتا: جاوید انورکی نظم پرایک مکالمہ

جاوید انور، محمد حمید شاہد، افتخار عارف
جاوید انور، محمد حمید شاہد، افتخار عارف

ہیئت اور اسلوب کے حوالے سے یوں ہے کہ اس نظم کوجو غور سے دیکھتے ہیں تو یہ محض تصویریا پورٹریٹ نہیں رہتی “کیری کیچر”ہو جاتی ہے۔  جی، اگر کیری کیچر لفظ کی کہانی سے ہم آگاہ ہیں تواس نظم کی ہیئت کا معاملہ جود بہ خود آئینہ ہو جائے گا۔  کیری کیچرکے بارے میں صاف صاف کہا جاتا ہے کہ یہ فرضی نہیں ہوتا ۔  گویا جس کا وجود ہی نہیں ہے اس کا کارٹون تو بنا یا جاسکتا ہے کیری کیچر نہیں۔  یہ اس کا ہی بنے گا جوہماری زندگی کا حصہ ہے ، زندہ /موجود ہے، جو سامنے آئے تو ہمارے لیے اجنبی نہیں ہوتا۔  ادھر ہماری نظر کیری کیچر پر پڑتی ہے ادھر ہم کہہ اٹھتے ہیں لو ہم نے پہچان لیاکہ یہ تو فلاں ہے ۔  مجھےاس نظم کو ایک تصویر کی بہ جائے کیری کیچرکہنے کی طرف جناب ظفر سیدکے تازہ نوٹ کے کئی جملوں نےراغب کیا ہے مثلاً ان کا یہ کہنا کہ۔۔  یہاں مواد اور ہیئت میں تنائو موجود ہے۔  ”۔ ۔ ۔ ۔  اور۔ ۔ ۔ ۔۔  نظم کا موادتو بڑے اہم ثقافتی، سماجی اور مذہبی سوال اٹھاتا ہے ۔ ۔ ۔  لیکن نظم کا اسلوب کھلندڑاہے۔ ۔ ۔ ۔  اوریہ بھی کہ۔ ۔ ۔ ۔۔  اس میں برتی جانے والی زبان غیر سنجیدہ اور شوخ ہے ۔  لگتا ہے نظم کا بیان کنندہ بازار میں کھڑا بے تکلف دوست سے گپ شپ لگا رہاہے۔صاحب، اب آئیے کیری کیچر کی طرف ۔  یہ تصویری یا ادبی پیش کش کا ایسا فن ہے،جس میں موضوع سے متعلق امور کو جان بوجھ کر یا تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے یا پھر اس میں سے بہت لازم حصے منہا کرکے مشابہت میں ایک عجب کو نمایاں کیا جاتا ہے۔  چہرے کا حاشیہ گول ہے اسے اوپر نیچے کھینچ کر لمبوترا کردیا ، آنکھیں بڑی بڑی ہیں انہیں کوڈا سا بنا لیا ۔  ناک ستواں ہے اسے ستون کی طرح اٹھا دیا ، سر چھوٹا ہو گیا جسم بڑا ۔  بدن گینڈا سا ، گردن غائب اورسرمکھی کا۔  اچھااس میں فن کاری یہ ہے کہ محبوب ترین یا مقبول صورت کی مضحک جہت خلق کر لی جاتی ہے، یوں کہ، اس میں کچھ غلط بیانی، کچھ شرارت، کچھ اضافہ اور بہت کچھ کا منہااور مسخ ہونااچھنبے کی بات نہیں رہتا ۔  تاہم یہ ہر حال میں اصل کی جھلک دے جاتا ہے۔  دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں ایک ایسی تصویرہے جومبالغے کی چنچل لکیروںسے انتہائی سہولت سے بنا لی جاتی ہے۔جاوید انور کی نظم بھی مبالغے کی چنچل لکیروں سے انتہائی سہولت سے بنائی ہو ئی لگتی ہے ، اپنی ہیئت میں کیری کیچر۔  کہانی ہماری اپنی زندگی کی ہے،مواد انتہائی اہم اور سنجیدہ ہے مگر اس سے جو صورت حال کا چہرہ بنتا ہے وہ اپنے حاشیے میں نہیں رہتا۔

 حاشیہ میں جاوید انورکی نظم پرمحمد حمید شاہد کی گفتگو سے مقتبس

03.25.13.001

ن م راشد کی نظم حسن کوزہ گر سے مکالمہ کرتی ستیہ پال آنند کی نظم اے حسن کوزہ گر پر حاشیہ میں گفتگو

محمد حمید شاہد، ستیہ پال آنند
محمد حمید شاہد، ستیہ پال آنند

کیا اس پوری نظم میں جنس کو اس سطح پر برتا گیا ہے جس سطح پر آنند جی کی نظم اسے زیر بحث لاتی ہے، شاید نہیں بلکہ یقیناً اس کا جواب ہو گا نہیں، بالکل نہیں۔ میں نہیں کہتا کہ راشد کا مسئلہ کبھی جنس نہیں رہا، ضرور رہا ہے اور شاید مریضانہ حد تک یہ رویہ اس کی نظموں میں بھی ظاہر ہوا ہے مگر بات اس نظم کی ہو رہی ہے ایک ایسی نظم جس کے تخلیقی وفور نے اس کے صنفی تعصب کو بھی پچھاڑ دیا ہے، وہاں ایک رات، صرف ایک رات والی جنس جو آخر تک عورت کے وجود سے محض ایک الجھن سے زیادہ شاعر کو کچھ نہیں دے پاتی، کیسے اس سارے مکالمے کا جواز ہو سکتی ہے جو “اے حسن کوزہ گر” میں انتہائی مشاقی سے آنند جی نے قائم کر دیا ہے کہ پڑھتے ہوئے مفہوم کا یوں اوندھایا جانا ہی اس تخلیق پارے کو الگ دھج کا فن پارہ بنا دیتا ہے۔

آنند جی راشد کے حسن کوزہ گر سے مکالمہ کرتے کرتے، اپنی تخلیق سے پھوٹنے والے اور اپنی نظر سے دیکھے ہوئے راشد کو کم کم جب کہ ساقی فاروقی اور دوسروں کی زبان سے سنے ہوئے راشد کو یہاں زیادہ برتا ہے۔ن م راشد کا حسن کوزہ گر اپنے “آپ” کی طرف پلٹتا ہے اس کے یوں پلٹنے کو بہ سہولت مثبت معنی بھی دے جا سکتے تھے مگر جس راشد سے آنند جی کا اس تیکنیک کے توسل سے معاملہ ہو رہا ہے، اس کے سطح پر سے اخذ کیے گئے معانی کو ہی متحرک کیا جا سکتا تھا۔ اچھا، ماقبل شاعر کو، اس کی فکر اور کردار کو اس طرح دیکھنا کہ اچھا بھلا چہرہ کچھ کا کچھ ہو جائے خود راشد کو بھی عزیز رہا ہے، اس نے اقبال سے لگ بھگ ایسا ہی معاملہ کر رکھا ہے۔

 جس طرح راشد نے اقبال کے ہاں سے “مومن بتیاں” برآمد کر لی تھیں اسی طرح آنند جی نے راشد کے جہاں زاد جیسی عورتوں کو نہ” سلجھ” سکنے پر جھن جھنانے کو اور اپنے آپ کی طرف پلٹنے سے “مردانہ پن کے نہ ہونے ” کو برآمد کر لیا ہے۔ آنند جی نے ” ریدکتییو اید ابسردم” کی تھیوری کے اطلاق سے راشد کو جس نہج سے عریاں کرنا چاہا تھا کر دیا اور میں اسے بھی مانتا ہوں کہ شاعر نے اپنے ذہنی تجربہ سے اپنے ذہن میں عیاں ہو نے والے منظر سے چلتے ہوئے اور اپنے مفروضات کو تخیل کے خاکے میں ڈھالتے ہوئے اس عریانی سے الفاظ کے ملبوس کی طرف سفر کیا تو لائق توجہ فن پارے میں ڈھال لیا ہے۔

حاشیہ کے اجلاس میں محمد حمید شاہد کی صدارتی گفتگو سے مقتبس

03.25.13.001

حاشیہ میں ابرار احمد کی نظم سیربین پر مکالمہ 

محمد حمید شاہد ، ڈاکٹر ابرار احمد
محمد حمید شاہد ، ڈاکٹر ابرار احمد

ابرار احمد کی ١۹۹۷ میں منظر عام پر آنے والی نظموں کی کتاب ’’آخری دن سے پہلے‘‘ اگر آپ کے ذہن میں تازہ ہے اور اس کے بعد والی نظمیں بھی نگاہ میں ہیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ میری طرح اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ابرار کی نظم کا محبوب قرینہ یہ ہے کہ پہلے وہ باہر پھیلے منظر کو اپنی نظر میں بھر لیتا ہے، منظر پوری طرح نظر کلاوے میں نہ آئے تو وہ اپنے وجود کو متحرک کر کے پہلے منظر کا پراگا نکالتا اور نئے کی گنجائشیں پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ بکھری ہوئی زندگی کے بکھراؤ کو سمیٹنے کے لیے جس اسلوب کو اس نے اپنے اوپر روا رکھا، اس میں بکھرے ہوئے امیجز اور عام زبان سے شعری جمالیات کی تجسیم اور معنویت کی تشکیل ممکن ہو گئی ہے۔ ماننا ہو گا کہ عام درجے کے شاعر کو یہ قرینہ عزیز رکھنے پربکھیرسکتا ہے مگر لطف یہ ہے ابرار نے اسی قرینے سے بالعموم نیاپن اور تازگی اخذ کی ہے۔ یہی قرینہ زیر نظر نظم کا بھی ہے۔

 ابرار احمد کے ہاں دنوں پر دن کا گرتے چلا جانا ایک واقعہ نہیں حادثہ ہے، ایسا حادثہ جو نیند اور نورستگی کی خوشبو میں سوئی ہوئی گھاس پر دوام چلنے کی للک رکھنے والوں کیلے نمناک آنکھوں سے دیکھنا لازم ہو جاتا ہے۔ آدمی کے اندر ہی اندر کوئی پہیا آپ ہی آپ گھوم جاتا ہے۔ موت بلاتی رہتی ہے مگر وہ شامیں نگاہ میں رہتی ہیں جن میں ہوائیں چل رہی تھیں، تو یوں ہے کہ ابرار کے اندر سے شاعری کا منظر نامہ نہیں اگتا، باہر سے بارش کر طرح اس کے وجود پر گرتا اور اسے بھگو دیتا ہے۔

حاشیہ میں ابرار احمد کی نظم سیربین پر محمد حمید شاہد کی گفتگو سے مقتبس

03.25.13.001

ایک نظم زید کے نام|آفتاب اقبال شمیم کی نظم پر حاشیہ میں مکالمہ

آفتاب اقبال شمیم، محمد حمید شاہد
آفتاب اقبال شمیم، محمد حمید شاہد

نظم کے عین آغاز می شاعر نے اپنی دانش اور اپنی فکر کے نہ صرف منبع کو بتا دیا ہے اپنی فکر اور دانش کے سروکاروں کو بھی واضح کر دیا ہے ایسے میں وہ سارے ابہام جو معنیاتی دھارے کا رخنہ ہو سکتے تھے اس نظم کا مسئلہ نہیں رہتے، خوبی ہو جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ شاعر نے متن کو جہاں جہاں جمالیاتی لپک پیدا کرنے کے لیے اجنبیانے کے عمل سے گزرا ہے وہاں وہاں قاری کے تجسس کو میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نظم کے منظر میں آگے اور بہت دور تک چلے جانے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ زید جو خود شاعر کا ہم ذات ہے اس نظم میں جن لوگوں کا استعارہ بنتا ہے انہی کے راستوں کی دھول سے خود شاعر کے پاؤں اور سانسیں آلودہ ہیں۔ کافکا کے میٹا مافوسس کے گریگر سمسا کی طرح محض ایک کیڑا بن کر جینے پر مجبور لوگ :  “دال روٹی کی گردان میں  عمر کو جو بسرکرتے رہتے ہیں “  شاعر ان کے ساتھ جڑا ہوا ہے، بلکہ اس کا اصرار ہے کہ وہ انہی میں سے ہے :  “رزق اور روزی کی ابجد سے  بنتے ہوئے جن کے ناموں کی رونق سے  یہ گاؤں ، یہ شہر آباد ہیں  میرے بیٹے ہیں وہ میرے اجداد ہیں  میرا جذبہ انھی کے قبیلے سے ہے  میری دانش انھی کے وسیلے سے ہے “  گریگر سمسا کی مثال یہاں ایک حد تک درست بیٹھتی ہے کہ شاعر۔۔۔۔۔ جن کے ہم راہ چلتا ہوں۔۔۔۔ چلتا رہا ہوں۔۔۔۔ کی بات کر رہا ہے اور جن کا وفادار ہے ان کے حال اور احوال سے مطمئن نہیں ہے۔ محض نا مطمئن ہونا شاید اس کرب کو پوری طرح واضح نہیں کر پا رہا ہے جو شاعر اور اس کے ہم ذات زید کا مقدر ہو گیا ہے۔

آفتاب اقبال شمیم کی نظم کے حوالے سے محمد حمید شاہد کی گفتگو سے مقتبس 

03.25.13.001

“ساقی فاروقی کی نظم “خالی بورے میں زخمی بلا  

ساقی فاروقی
ساقی فاروقی

     ، تخلیقی عمل کے دورانیے میں لکھنے والا ڈھنگ سے گمان بھی نہیں باندھ سکتا کہ وہ مظاہر، سانحات یا محسوسات جنہوں نے اس کے باطن میں ابال پیدا کیا اور ہیجان اٹھایا تھا، جب فن پارے میں ڈھلیں گے تو کیا صورت اختیار کریں گے۔ پھر لکھتے سمے وہ تو ویسا ہوتا ہی نہیں ہے، جیسا کہ عام زندگی میں ہمارے مشاہدے میں آتا ہے۔ ایسے میں تجربہ امیج میں ڈھل رہا ہو یا ردھم پوئٹک پیٹرن ڈھال رہا ہو، وہ بہت زیادہ ریشنل ہو کر سوچ رہا ہوتا ہے نہ عالم فاضل اور محقق بن کر۔ تاہم اس سارے عمل میں فن پارہ مکمل اور بامعنی تب ہی ہوتا ہے کہ تخلیق کے اس جادوئی عمل میں کہ جب شاعر کا شعور، تحت الشعور اور لاشعور ایک حیلے کا جال بن رہے ہوتے ہیں ، تو اسی جال کے تانے بانے میں دیکھے بھالے مظاہر، سہے برتے سانحات اور علم و فضل اور تحقیقی اثاثے کے “جن” کو” مکھی” بنا کربُن دیتا ہے۔ یوں کہ ایک غیر متحرک مرکز کے گرد سیال اور لازمانی معرفت کو وجود میں لانے والا گہرا ربط وجود میں آ جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی فن پارے میں یہی ربط نامیاتی وحدت کی صورتیں بناتا ہے اور بہ ظاہر عام سی لسانی تراکیب کی مدد سے متن کے افق پرجمالیات کی دھنک اچھالنے کی سکت رکھتا ہے۔

محمد حمید شاہد کے صدارتی خطبے سے مقتبس|حاشیہ |“ساقی فاروقی کی نظم “خالی بورے میں زخمی بلا  

03.25.13.001

علی محمد فرشی کی نظم “نیند میں چلتی موت

Ali-Mohammad-Farshi
علی محمد فرشی

مجھے خوشی ہے کہ میں علی محمد فرشی کی نظم “نیند میں چلتی موت” پر بات کرنے جا رہا ہوں۔ علی کا ذکر آئے اوراس کی “علینہ” جیسی طویل شاہکار نظم کا ذکر نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ جی، جس کا میں ذکر کر رہا ہوں، یہ وہی نظم ہے جس کی بابت، میں نے کہہ رکھا ہے کہ اس میں”علینہ”کا امیج حیرت انگیز طور پر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کبھی مکاں کی قید میں کبھی لامکاں پر۔ زمانہ اس کی مرمریں برجیوں تلے کاغذی پیرہن سنبھالے دست بستہ کھڑا ہوتا، اوراس کے سفینے کا اس خواب نائے سے گزر بھی ہوتا، جس میں شہر بھر کی کالک گدلا رہی ہوتی ہے۔ میں نے اس نظم کی بابت یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ اس میں ایک امیج مابعد الطبیعیاتی روشن چولا پہنتا اورکسی اور مقام پرحسیات کی گرفت میں آنے والے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ تاہم یہ سب کچھ اس نظم میں اتنی تیزی سے ہوتا رہا اور تخلیق کار نے اتنی مہارت سے اسے کر دکھایا کہ نور، خوشبو اور ماورائیت کے جھپاکوں میں منظر بدلنے کا احساس تک نہ ہوتا تھا۔ میری تفہیم یہ ہے کہ فرشی کے ہاں مناظر سہ ابعادی ہو جاتے ہیں۔ ن۔ م۔ راشد نے شبیہ سازی کو عیاشی قرار دیا تھا اور قصداً حسیاتی تصویروں سے گریز کیا مگر فرشی کے ہاں گریز کا یہی سامان تخلیقی جوہر کی صورت ظاہر ہوتا رہا ہے

محمد حمید شاہد کے ابتدایےسے مقتبس|حاشیہ| علی محمد فرشی کی نظم “نیند میں چلتی موت

03.25.13.001

کسی رُخ کی سمت نہیں اُڑا:رفیق سندیلوی کی نظم پر حاشیہ میں مکالمہ

محمد حمید شاہد، آفتاب اقبال شمیم، رفیق سندیلوی
محمد حمید شاہد، آفتاب اقبال شمیم، رفیق سندیلوی

میں رفیق کی نظم ” کسی رُخ کی سمت نہیں اڑا ” کی طرف آنا چاہتا ہوں ، میں نے اس نظم کو اور اس جیسی ایک دو اور نظموں کو رفیق کی انحرافی نظموں کی ذیل میں رکھا ہے اور اس کی نمائندہ نظم ماننے سے انکار کیا ہے تو اس باب میں کچھ کہنے سے پہلے مجھے اس کا اعتراف کرنا ہے کہ یہ ایسی نظم بھی نہیں ہے جسے بالکل لائق اعتنا نہ جانا جائے۔ یہ بات مان لینے کی ہے کہ تخلیقی سرگرمی کی منتہا زندگی کی بنیادی صداقتوں کو دریافت کرنا ہے مگر اس پر یہ اضافہ بھی لازم ہے کہ زندگی کی وہ صداقتیں جو ہمارے تاریخی، تہذیبی، اجتماعی یا کسی طبقے اور فرد کے تجربے میں تو ہیں مگر ان کا کوئی نہ کوئی گوشہ مخفی رہ گیا ہو(یاد رہے ایک نہ ایک گوشہ ہمیشہ مخفی رہ جاتا ہے )۔ گویا زندگی کے تجربہ کو لائق اعتنا جانتے ہوئے ایک اور رخ کا ظہور، اسے آپ اس امتزاج کے دریافت کرنے یا اس انجذابی صورت میں ڈھالنے سے تعبیر دے سکتے ہیں ، جو حسن میں ڈھل جاتی ہے، ایسا حسن جو تحیر زا ہوتا ہے۔ ایسے میں کسی ایسے فن پارے کا تصور ممکن نہیں رہتا جو نامیاتی وحدت میں نہ ڈھلے۔ نامیاتی وحدت سے مراد میکانکی وحدت نہیں جو ٹیکسٹ کے اوپر سے شناخت ہو جاتی ہے، یا پھر اسے کہانی بنا کر برآمد کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ تو مجموعی کیفیت اور مزاج ہے جو فن پارے میں تین سطحوں پر اپنا رشتہ مستحکم کرتا ہے۔ خیال کی سطح پر، اسے ارتفاع بخشتے ہوئے، اظہار کی سطح پر اسے خلوص اور باطنی سچائی سے جوڑتے ہوئے، اور بیان کی سطح پر، اس میں وارفتگی اور سپردگی کو تحریک دے کر۔ باقی ساری باتیں اگرچہ تیکنیکی ہیں ، تاہم فن پارے کی تشکیل میں وہ بھی اہم ہیں کہ ایک عالم کے خیال کا رفیع ہونا، اس خیال سے اس کی سچی وابستگی کا ہونا اور اس کو وارفتہ ہو کر بیان کر دینا، ضروری نہیں کہ ایک فن پارے کی تشکیل بھی اس کا لازمی نتیجہ ہو، کہ اس باب میں ثانوی ہو جانے والے تیکنیکی لوازم اور کاریگریاں بھی فن کار کے مزاج کا پہلے سے حصہ ہونی چاہئیں۔ میں نے یہاں تیکنیکی لوازم کو جاننے کی بات نہیں کی انہیں فن کار کے مزاج کا حصہ ہو جانے کی بات کی ہے کہ اس طرح تخلیق کار کے اندر سے وہ شعوری التزام منہا ہو جاتا ہے جو اکثر اوقات تخلیقی وفور میں رخنے ڈال دیا کرتا ہے۔  اب ذرا رفیق کی نظم کو میری ان گزارشات کی روشنی میں آنکیے، لیکن پہلے ٹھہر کر اس کا دل کھول کر اعتراف ہونا چاہئیے کہ نظم جن مدھر سروں میں بہتی ہے، لائینیں ایک ایک خاص طوالت سے بڑھتی نہیں لہذا پڑھتے ہوئے سانس کے دھاگے باہم الجھتے نہیں ہیں ، تمثالیں بصری ہو جاتی ہیں اور وہ بھی متحرک لہذا پڑھنے والا ان تصویروں کے ساتھ ساتھ رہتا ہے، علامت کی بجائے ایک اشاراتی نظام بنتا چلا جاتا ہے لہذا بیانیہ گمبھیر نہیں ہوتا شفاف رہتا ہے معنیاتی ترسیل ہوتی رہتی ہے مگر ایک لطف بھی قائم رہتا ہے۔

رفیق سندیلوی کی نظم پر محمد حمید شاہد کی حاشیہ میں گفتگو سے مقتبس 

03.25.13.001

 سمندراااااااا:انوار فطرت کی نظم پر حاشیہ میں مکالمہ 

 یہ بجا طور پر کہا گیا ہے کہ ” سمندراااااااا” محض عنوان کے لیے چنا ہوا ایک لفظ نہیں ہے اور یہ جو سمندر جیسے بصری امیج کو صوتی امیج میں ڈھال لیا

محمد حمید شاہد، انوار فطرت
محمد حمید شاہد، انوار فطرت

گیا ہے تو اس نے اس کی معنویت میں کچھ اور رخوں کو بھی داخل کر دیا ہے۔ اچھا بہ ظاہر یوں لگتا ہے کہ شاعر نے سمندر کے اسم کو نئی تخلیقی امکان کے مقابل کرنے کے لیے الفیائی ایزاد کا سہارا لیا اور بس، مگر آپ جب اسے انوار فطرت کی نظموں کا مجموعہ کھول کر پڑھنا چاہیں گے تو احساس ہوا گا کہ ایزادی الف کی تکرار دور جاتے ہوئے اپنی قامت چھوٹی کرتی جاتی ہے۔ ایسے میں مجھے یہ صدا دور بہت دور جاتے اور معدوم ہوتے لگی اور ساتھ ہی اس صدا کو لگانے والا بے پناہ اذیت کی گود میں گرتا ہوا بھی لگا یوں جیسے اول اول سمندر کو پکارتے ہوئے چھاتی کے اندر گونج اٹھی ہو اور نرخرہ چیرتے ہوئے چیخ بن گئی ہو مگر آخر ایک درد نے اسے دبوچتے ہوئے معدوم کر دیا ہو۔
یہاں ما بعد الطبعیاتی حوالہ بھی ذہن میں تازہ رکھتے ہیں اوراساطیری حوالہ بھی، کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر” کبود رنگ” اور” سمندر” کی رعایت سے ہم ان سائنسی حوالوں کو بھی ذہن میں حاضر کر لیں جو نظم کے ڈیپ اسٹریکچر میں معنیاتی سلسلہ بنا رہے ہیں۔ درست نشان زد ہوا کہ سمندریہاں تصوف والے “کل” کے معنی دے رہا ہے۔ مگر میں اس سے نقطہ نظر سے اختلاف کروں گا کہ یہاں سمندر ایسے کل کا استعارہ ہو گیا ہے جس کی ا تھاہ گہرائیوں میں زندگی کا روشن دھارا فنا ہو رہا ہے۔ کبود رنگ کارواں کا دوریوں کے پیچواں سراب گم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ کل کے ساتھ دوری کا رشتہ قائم ہوا ہے، یہ کارواں دور کبود رنگ ہو چکے مگر پھر بھی اپنی اصل سے کتنا دور جا پائیں گے، سو یہاں “سراب” کا لفظ استعمال ہوئی ہے۔ یہاں اگلی ہی سطر میں جس “گھنیری شب” کے باغ کی بات ہو رہی ہے اسی میں تو یہ کارواں اترا ہوا ہے، اور اس کارواں کے لیے مجموعی طور پر یہ باغ ہے مگر ایک تخلیق کار کے لیے یہ رات کی سیاہی کا سا ہے۔ “باغ ” آپ جانتے ہی ہیں کہ لگایا جاتا ہے، سو انسان نے اپنی تخلیقی جبلت سے منحرف ہو کر جس اشتہا میں اپنی رفتار بڑھائی، اس نے ایک باغ تو بنایا، آسائشوں کا باغ، مگر اپنی اصل میں وہ ایسی رات کا سا ہو گا ہے جس میں ایک تخلیق اس میں پہنچ کر سمندرااااا پکار اٹھتا ہے۔

 انوار فطرت کی نظم پر محمد حمید شاہد کی گفتگو سے مقتبس 

03.25.13.001

حاشیہ میں یامین کی نظم ’قصہ خوانی‘ پر بحث

محمد حمید شاہد، علی محمد فرشی، قمر رضا شہزاد، محمد یامین
محمد حمید شاہد، علی محمد فرشی، قمر رضا شہزاد، محمد یامین

اچھا، یہاں تک بات کر چکا ہوں تو کہتا چلوں کہ اس نظم کا ایک وسطی حصہ بھی ہے۔ اگر نظم کا آغاز اور انجام خیال اور احساس کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں تو یہ وسطی حصہ شاعر کو دانش کی روایت سے جوڑ دیتا ہے۔ ایک فن کار کا دانش کی سطح پر درپیش صورت حال کاتجزیہ یہ ہے کہ قصہ گو ملکوں ملکوں، شہروں شہروں گھوما، اس نے شہروں اور قوموں کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ تاریخ کے نقشے میں جن شہروں کی شہرت گونجتی ہے وہ خموشی کے اسی ازلی رنگ سے ظاہر ہوئے ہیں جن رنگوں سے اس ہجوم شور و شر کو شنا سائی نہیں ہے ۔ آپ کہیں گے میں نے نظم کی لائنوں کو محض نثر بنا دیا ۔ ہاں ، آپ کا کہا بہ جا ، مگر واقعہ یہ ہے کہ میں نے اس حیلے سے نظم کے متن کے اندر دھڑکتے دل جیسے معنی کو قریب سے محسوس کرنے کی طرف آپ کوراغب کرنا چاہا ہے۔ جہاں قصہ گو ہے ، وہ تاریخ کے نقشے میں اپنا وجود اجالنے والے شہروں کا سا نہیں رہا ہے۔ جی ،یہاں حوالہ بننے والے وہی شہر ہیں، جو اس نے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھے۔ اور جن کے قصے قصہ خوانی میں نسل در نسل سنائے جاتے رہے تھے ، یہ شہر بھی کبھی ان جیسا تھا تاہم اس ہجوم شور شر کے بیچ ایک تخلیق کار کی موجودگی کے ایک معنی تو یہ ہو سکتے ہیں کہ ، وہ جو ساری صورت حال کا خاموشی سے جائزہ لے رہا ہے، وہ بعد ازاں اسی نتیجہ پر پہنچا جہاں میں آپ کو نظم کے پہلے اور آخری حصوں پر بات کرتے ہوئے پہنچا آیا ہوں ۔ اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ شور شرابے کو بڑھ کر بالآخراس مقام پر پہنچ جانا ہے جہاں وہ خاموشی سے مات کھا جائے گا۔ یہ حصہ بھی آخر میں سبز آنکھوں میں سے جھلک دینے والے سوال سے جڑ جاتا ہے۔

 یامین کی نظم ’قصہ خوانی‘ پرمحمد حمید شاہد کی صدارتی گفتگو سے مقتبس

03.25.13.001

majid-nizami-was-field-martial-of-journalism-gen-qayyum-1437857676-3913

Gen (R) Abdul Qayyum, M. Hameed Shahid, Prof Fateh Mohammad Malik, Ehsan Akbar, Zafar Bakhtawari

2015: Majid Nizami

Islamabad – The speakers were all praise for founding Chairman of The Nation and Nawa-i-Waqt Group late Majid Nizami who throughout his journalistic career had never compromised on the shining principles of journalism and was ardent and vocal supporter of ‘Two Nations Theory’ which provided the base for creation of Pakistan. To mark his first death anniversary, Majid Nizami Memorial Trust has organised a reference here at Nawa-i-Waqt House on Saturday under the chair of Pakistan Muslim League-Nawaz(PML-N) Senator Lt.Gen(Retd) Abdul Qayyum.Prominent among those who addressed the reference titled, ‘The role of literature in journalism and politics’ Prof.Fateh Mohammad Malik, Dr Ahsan Akbar, Hameed Shahid, Zafar Bakhtawari, Nazakat Hussain, Ms Sher Mansoor, Prof.Jamil Yousaf, Aysha Masood, Farah Deeba, Munera Shamim, Naeem Fatima and Hakeem Mohammad Shaharanpuri.

http://nation.com.pk

03.25.13.001

2015: Evan – e – waqt

news-1437857563-8387
مجید نظامی کی پہلی برسی کے موقع پر جنرل(ر)عبدالقیوم،پروفیسر فتح محمد ملک،ڈاکٹر احسان اکبر، محمد حمید شاہد اور دیگر مخاطب ہیں

مجید نظامی کی پہلی برسی کے موقع پر، “نوائے وقت ہائوس “اسلام آباد میں مجید نظامی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام  مجلس مذاکرہ ۔ تقریب سے سے جنرل (ر) عبدالقیوم خان ،پروفیسرفتح محمد ملک،ڈاکٹر احسان اکبر،حمید شاہد،ظفر بختاوری،نزاکت حسین ،ڈاکٹر فرحت عباس،سحر منصور،پروفیسر جمیل یوسف،عائشہ مسعود،فرح دیبا،منیرہ شمیم نعیم فاطمہ،حکیم محمد سہارنپوری کا خطاب۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk

03.25.13.001

10012554_10152813958691157_5737477955078610235_n

2015:PAL

WRITER OF ‘WEARY GENERATIONS’ LEFT LASTING IMPACT ON OUR LIVES

Abdullah Hussain a towering personality of Pakistan’s literary landscape

Zubair Qureshi

Wednesday, July 15, 2015 – Islamabad—Mohammad Khan known as Abdullah Hussain revived people’s faith in fiction as he neither wrote glorified anecdotes of Islam nor any ‘feel good’ novels of love between cousins or classmates or even thrillingcrime stories full of suspense. His was the story of the weary generations of the subcontinent that happens to be the title of his magnum opus, ‘Udas Naslain’ or ‘Weary Generations’.

Information Minister Pervaiz Rashid remembered Abdullah Hussain in the words given above while addressing a reference in his memory organized at the Pakistan Academy of Letters (PAL), Tuesday. Abdullah Hussain passed away early this month on July 4, 2015.

Eminent feminist poet Kishwar Nahid, senior writer Masood Mufti, critic and intellectual of high standing Prof Fateh Muhammad Malik, PAL chairman Dr Qasim Bughio, another noted fiction writer Hamid Shahid, Mustansar Javed, Ravish Nadeem, Ahmed Javed, Ghazanfar Mehdi and Noor Fatima daughter of late Abdullah Hussain were among a large number of men and women of letters who had come up to attend the reference and share their views about their very dear Abdullah Hussain.

Hamid Shahid called Abdullah Hussain a towering personality who like an iconoclast broke all the previous images and introduced story in its true form.

http://pakobserver.net

03.25.13.001

11694037_10152787433491157_8276710902272760100_n

2015: PAL

11250152_10152789917631157_1734723045280754467_n

http://tribune.com.pk

03.25.13.001

886625-copy-1431627681-404-640x480 

2015: SDPI

Combating extremism: Relevance of Krishan Chander’s works highlighted

Fiction writer and critic Hameed Shahid chaired the panel that comprised Prof Iqbal Afaqi, social scientist and translator Raza Naeem and writer Dr Robina Almas….Sahid spoke about the relevance of Chander’s writings in current times and their power to lead to a more enlightened, civilised and humane society.

http://tribune.com.pk

03.25.13.001

DSC_0757

2015:ILF-3

دہشت میں محبت:کتاب کا اجرا

مسعود مفتی، محمد حمید شاہد، قاسم یعقوب، نجیبہ عارف

03.25.13.001

hameed

2014:Rekhta.org

محمد حمید شاہد سے مکالمہ

ریختہ پر

03.25.13.001

shahid

2014:ILF-2

افسانے کی تنقید: ایک مکالمہ 

انتظار حسین، مسعود اشعر،محمد حمید شاہد، مرزا اطہر بیگ، آصف فرخی،نجیبہ عارف

03.25.13.001

shahid nazm

2014:ILF-2

جدید اردو نظم ،مجید امجد کے بعد 

افضال سید، محمد حمید شاہد، علی محمد فرشی،تنویر انجم، قاسم یعقوب

03.25.13.001

11267762_1058067847554545_5338056585273472002_n

2014:ILF-2

آج کا افسانہ 

محمد حمید شاہد،نیلوفر اقبال،عرفان احمد عرفی، عاصم بٹ، نیلم احمد بشیر

03.25.13.001

tanqeed nazm

2014:ILF-2

 تنقید کی شعریات

محمد حمید شاہد، قاسم یعقوب،ڈاکٹر انواراحمد

03.25.13.001

download (1)

2013:ادبستان

 محمد حمید شاہد سے مکالمہ

03.25.13.001

IMG_01495

2013:VOA

 دُکھ کیسے مرتا ہے

محمد حمید شاہد کا افسانہ خالد حمید کی آواز میں

03.25.13.001

Mubeen Mirza

2009, Oct 12, The Dawn

A treatise on contemporary Urdu short story

Mukalma’s special issue on Hum-asr Urdu Afsana will remain a much sought-after document in the years to come as the two-volume treatise, includes works of popular short-story writers and well-known critics such as Gopi Chand Narang, Jameel Jalibi, Shams-ur-Rahman Farooqi, Intizar Hussain, Ashfaq Ahmed, Nayyar Masood, Waris Alvi, Razia Fasih Ahmed, Wazeer Agha, Fateh Muhammad Malik, Sahazad Manzar, Farman Fatehpuri, Mazhar Jameel, Rasheed Amjad, Nasir Abbas Nayyar, Mansha Yaad, Asad Muhammad Khan, Saleeem Akhter, Haneef Fauq, Ali Hyder Malik, Sahar Ansari, Zahida Hina, Jeelani Bano, Saleem Agah Qazilbash, Shamshad Ahmed, Asif Farrukhi, Hameed Shahid, Mumtaz Shireen, Ali Ahmed Fatimi, Baqar Mehdi, Saba Ikram, Firdous Hyder, Amjad Tufail, Nighat Saleem, A Khayyam and many many more. I might have missed out some prominent names as there are so many of them.  No offence intended.

http://www.dawn.com/

03.25.13.001

DSC_3y

2012, May 11, The Dawn

Tributes paid to Manto

Mohammad Hameed Shahid said Manto raised basic questions regarding literature and human situations in both Pakistan and India.

Though Saadat Hasan Manto was the greatest writer of Pakistan, he not only died in a miserable condition but also his family could not dare to fix an ‘epitaph’ on his grave according to his will due to pressure from religious clerics.

As a result, today no one knows where the grave of Manto is at the Miani Sahab graveyard in Lahore.

This was stated by speakers at a seminar organised by the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Manto’s birth centenary here on Friday.

http://www.dawn.com

03.25.13.001

image0de1

2008, April 25, The Dawn

Call to promote book culture

ISLAMABAD, April 24: Speakers on Thursday urged the government to take steps for the promotion of book culture in the country, which they noted was the key indicator of an intellectually developed civilized society.

Hameed Shahid raised the question whether IT revolution is a source of information or knowledge.

Ali Mohammad Farshi gave another view and said that it was the responsibility of writer to produce quality literature. He was of the view that good literature attracted reader.

http://www.dawn.com

03.25.13.001

imagearts

2013, December 02: The Dawn

KARACHI: 100-year journey of Urdu fiction

Zahida Hina, Asif Farrukhi, Ali Haider Malik, Mohammad Hameed Shahid, Dr Mustufa Husain and Akhlaq Ahmed read out their papers. Writers Intizar Husain, Asad Mohammad Khan, Masood Ashar and Hasan Manzar presided over the segment.

The sixth International Urdu Conference concluded at the Arts Council, Karachi, on Sunday evening resonating with one of the two keynote speakers, Intizar Husain’s, remarks that the moot could be called “love in the time of terrorism”.

Shamim Hanafi said literature and art were produced in isolation but they reached a larger audience.

www.dawn.com

03.25.13.001

image020

03.25.13.001

image021

03.25.13.001

image022

03.25.13.001

image023

03.25.13.001

image024

03.25.13.001

image025

03.25.13.001

image026

03.25.13.001

image027

03.25.13.001

image028

03.25.13.001

image029

03.25.13.001

image030

03.25.13.001

image031

03.25.13.001

image013

03.25.13.001

image014

03.25.13.001

image015

03.25.13.001

image016

03.25.13.001

image017

03.25.13.001

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *