M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو

تنقید نو

محمدحمیدشاہد|محمدعمرمیمن کی یاد میں

مجھے یاد ہے ، وہ ادبی جریدے ’’آج‘‘ کراچی کا دوسرا شمارہ تھا، جو چیک ادیب میلان کنڈیرا کی تحریروں کے انتخاب پر مشتمل تھا۔ اس میں ناول ’’خندہ اور فراموشی کی کتاب‘‘( The book of laughter and forgetting )کے ایک حصے کا ترجمہ ڈاکٹرآصف فرخی کا تھا، جبکہ محمد …

» مزید پڑھئیے

محمدحمیدشاہد|یوسف حسن:وہ گردگرداُٹھاتھااورمعتبربھی تھا

پروفیسر یوسف حسن کی ایک ترقی پسند ادیب کی حیثیت سے نظریاتی وابستگی، ایسی قابل رشک مثال ہے کہ شاید ایسے نظریاتی استقلال والادوسرا آدمی ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گا ۔ میں پچیس چھبیس سال سے راولپنڈی اسلام آباد کے ادبی منظر نامے کا عینی گواہ ہوں ، اس …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد|مشتاق احمد یوسفی نے بہت تکلف سے بے تکلفی کشید کی

(شکریہ روزنامہ جنگ 🙁https://jang.com.pk/news/509339) مشتاق احمد یوسفی نے غالباآب گم میں کہیں لکھاہے: “ہم اتنا جانتے ہیں کہ خود کو indispensable یعنی بے مثل و بے بدل سمجھ لینے والوں کے مرنے سے جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ درحقیقت صرف دو گز زمین میں ہوتا ہے ،جو اُن ہی …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد|دہشت کے موسم میں کشور ناہید کی شاعری

ممتاز شیخ کی ادارت میں چھپنے والے ادبی جریدہ “لوح” میں اس بار کشور ناہید کی شاعری اور ادبی خدمات کے حوالے سے خصوصی گوشہ مختص کیا گیا ہے۔ اس گوشے میں محمد حمید شاہد اور عابد سیال کے مضامین کے علاوہ کشور ناہید کی شاعری کا انتخاب بھی شامل …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد|تنقید،تھیوری،اطلاقی جہت اورہمارا ادب 

نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں اُردو تنقیداور تحقیق کے موضوع پر ایک کانفرنس کا اِہتمام کیا گیا تواگرچہ مجھے اِس کے آخری اجلاس کے صدارتی پینل میں بیٹھنا تھا، مگر میں دودِن جاری رہنے والی اس کانفرنس کی ہر نشست میں بیٹھا اور توجہ سے مقالات سنے۔ میں جاننا …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد |دھیمے لہجے کا غزل گو انور شعور

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انور شعور ہمارے عہد کے سب سے دھیمے لہجے کے غزل گو ہیں اور اسی سبب الگ ہیں ۔ الگ اور ممتاز۔ جی یہ میں بہت ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں ۔ سلیم احمد نے کہا تھا : ’’جدید غزل ایک بے …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد|ادب اور ہمارا زمانہ

ہم اپنی دنیا کو تیزی سے تبدیل ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ بہ قول اقبال :’’ہر لحظہ نیاطُور ،نئی برق تجلی ‘‘ ۔ یہ تبدیلی سماجی اور سیاسی سطح پر بھی ہے اور تیکنیکی پھیلاؤ اور انفارمیشن کے بہاؤ سطح پر بھی ۔ تبدیلی کی اس یلغار نے انسانی زندگی …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد|’’ قلبیہ‘‘ایک طویل نظم

مجھے جلیل عالی کی نظم’’ قلبیہ‘‘ پر بات کرنی ہے مگریہ بتاتا چلوں کہ اپنے تہذیبی آہنگ سے جڑے اور اس پر ناز کرنے والے شاعر کا بنیادی حوالہ غزل ہے۔ ایسی غزل جس کے بارے میںآفتاب اقبال شمیم نے کہہ رکھا ہے کہ ’’جلیل عالی شاید آج کی لکھی …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد|جلیل عالی، قلبِ غزل سے قلبیہ تک

یہ راجندر سنگھ بیدی کے ان دنوں کا قصہ ہے جب اس پرفالج کا حملہ ہواتھا۔ علاج معالجے کے لیے پرانا مکان بک گیا اور وہ کھار میں اُٹھ آیا ۔ یادداشت بھی ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ باقر مہدی ، کہ جس پر اشک نے ’’شب خون‘‘ میں بیدی کے’ …

» مزید پڑھئیے

محمد حمید شاہد| احمدفراز کے عشق

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں احمد فراز کی یاد میں تقریب ہوئی تو ڈاکٹرعبدالعزیز ساحر نے ملک کے ایک معروف نعت خواں کو اسٹیج پر بلایا اور فراز کی لکھی ہوئی نعت پڑھوا کر سماں باندھ دیا ۔ اسی سے تقریب کا مزاج بھی متعین ہو گیا تھا …

» مزید پڑھئیے