M. Hameed Shahid
Home / افسانے

افسانے

افسانہ لکھنا تو دراصل زندگی کی ازسر نو تخلیق ہے|محمد حمید شاہد

مِری گود میں دَم نکلے گا|محمد حمید شاہد

راہ دم تیغ پہ ہو کیوں نہ میرجی پہ رکھیں گے تو گزر جائیں گے وہ کھانسے، یوں نہیں جیسے کوئی مریض کھانستا ہے بلکہ یوں جیسے کوئی گفتگو کرنے والا، اپنے حلقوم تک آ چکی بات کو نئے رخ سے راہ دینے کے لیے ہلکا سا کھنگورا مارتا ہے،’’ہَک …

» مزید پڑھئیے

وبا کے دن اور اپنا مختیارا|محمد حمید شاہد

مجھے برسوں بعد اچانک مختیارا یادآیاتھا ۔ جی،اپنے والا مختیارا، وہ نہیں جو وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن کی سوشل میڈیا پر لیک ہو کر وائرل ہونے والی وائس کال کی وجہ سے آپ سمجھ رہے ہیں ۔ میری یادداشت والے مختیارے کا تعلق میرے بچپن سے ہے …

» مزید پڑھئیے

ایک مسلسل زرگزشت|محمد حمید شاہد

سب کچھ ٹھیک تھا ۔ نجیب محسن وہاں عین برانچ کھلتے ہی پہنچ گیا تھا ۔ اپنی نئی پوسٹنگ پر جب سے وہ وہاڑی آیا تھا تواُس کی بیوی مائرہ کی سانسیں کچھ زیادہ ہی اُکھڑگئی تھیں ۔ مائرہ کے لیے جیسے کچھ بھی ٹھیک نہ ہو رہا تھا ۔ …

» مزید پڑھئیے

کورونا اور قرنطینہ|محمدحمیدشاہد

ابھی ایک پیغام پڑھ ہی رہا تھا کہ ایک اور نوٹیفکیشن سیل کے ڈسپلے کے اوپر والے حصے میں نمودار ہوا۔نیا نوٹیفکشن پہلے پیغام کی طرح کووِڈ۹۱ کے بارے میں کوئی حکومتی اعلان نہ تھا، یہ ساتھ والے سیکٹر سے میرے ایک دوست کا واٹس ایپ تھا جس میں ایک …

» مزید پڑھئیے

وبا،بارش اور بندش|محمدحمیدشاہد

محمد حمید شاہد | وبا،بارش اور بندش گزر چکے دو دنوں میں تو جیسے جاڑا مڑ کر پھر سے آگیا تھا اورآتے ہی یوں ہڈیوں میں رچ بس گیاتھا کہ لگا اب یہ جانے کا نہیں۔ اپریل کا مہینہ آلگا تھا، ہم حکومتی اعلان کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ …

» مزید پڑھئیے

وبا کے دن، بند دروازہ اور سنسان گلی|محمد حمید شاہد

سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لنک پروبا کے دن، بند دروازہ اور سنسان گلی|محمد حمید شاہد فون کی گھنٹی بجی اور آصف فرخی کا نام مانیٹر پر جھلملانے لگا ۔ میں نے جھٹ فون اُٹھا لیا ۔میں، نوول کورونا وائرس نامی وبا کے ہاتھوں دنیا بھر کے انسانوں کی بے بسی کی خبروں …

» مزید پڑھئیے

جنم جہنم-3|محمد حمید شاہد

اور وہ کہ جس کے چہرے پر تھوک کی ایک اور تہہ جم گئی تھی۔ اُس کی سماعتوں سے تھوک کر چلی جانے والی کے قہقہوں کی گونج اَبھی تک ٹکرا رہی تھی وہ اُٹھا۔ بڑ بڑایا۔ ’’جہنم۔ لعنت‘‘ پھر اَپنے وجود پر نظر ڈالی اور لڑکھڑا کر گر گیا۔ …

» مزید پڑھئیے

جنم جہنم-2|محمد حمید شاہد

وہ جو زِیست کی نئی شاہ راہ پر نکل کھڑی ہوئی تھی اُس کا دَامن گذر چکے لمحوں کے کانٹوں سے اُلجھا ہی رہا۔ اُس نے اَپنے تئیں دیکھے جانے کی خواہش کا کانٹا دِل سے نکال پھینکا تھا ‘مگر گزر چکے لمحے اُس کے دِل میں ترازو تھے۔ ’’یہ …

» مزید پڑھئیے

جنم جہنم-1|محمد حمید شاہد

’’یہ جو نظر ہے نا! منظر چاہتی ہے۔ اور یہ جو منظر ہے نا! اَپنے وجود کے اِعتبار کے لیے ناظر چاہتا ہے۔ دِیکھنے اور دِیکھے جانے کی یہ جو اشتہا ہے نا! یہ فاصلوں کو پاٹتی ہے۔ اور فاصلوں کا وجود جب معدوم ہو جاتا ہے نا! تو جہنم …

» مزید پڑھئیے

برف کا گھونسلا|محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر کے اندر قدم رکھا‘ اُدھر وہ مجھے پر برس بڑی۔ بچیاں جو مجھے دیکھ کرکھِل اُٹھی تھیں اور میری جانب لپکنا ہی چاہتی تھیں‘ اِس متوقع حملے میں عدم مداخلت کے خیال سے‘ جہاں تھیں …

» مزید پڑھئیے