M. Hameed Shahid
Home / افسانے / وبا کے دن اور اپنا مختیارا|محمد حمید شاہد

وبا کے دن اور اپنا مختیارا|محمد حمید شاہد

مجھے برسوں بعد اچانک مختیارا یادآیاتھا ۔ جی،اپنے والا مختیارا، وہ نہیں جو وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن کی سوشل میڈیا پر لیک ہو کر وائرل ہونے والی وائس کال کی وجہ سے آپ سمجھ رہے ہیں ۔ میری یادداشت والے مختیارے کا تعلق میرے بچپن سے ہے ۔ اُن دنوں سے، جب گاءوں میں آنا جانا ہوا کرتا تھا ۔ وہ گاءوں جسے ابا چھوڑ کر شہر آگئے تھے ۔ جب ہم وہاں جاتے تو میرا زیادہ تر وقت مختیارے کے ساتھ گزرتا تھا ۔ اُس کے باپ کو سب دیما کہتے تھے ۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ اس کا نام بھی ندیم ہو کہ ایسے ناموں کا ان دنوں گاءوں میں رواج نہ تھا ۔ ہاں دین محمد ہو سکتا ہے جو بگڑ کر دیما ہو گیا ہوگا ۔ میں انہیں دیما چاچا کہتا تھا اور وہ مجھے محبت سے سمجھایا کرتے تھے کہ میں اُن کے بیٹے مختیارے وڑ جانی دِے، کے ساتھ کہیں کوئی ایسا نہ کر بیٹھوں کہ اُنہیں ملک صاحب کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے ۔ وہ میرے ابا جی کو ملک صاحب کہتا اور اُن کے سامنے تب تک ہاتھ باندھے مودب کھڑا رہتا تھا جب تک وہ دیمے کو بیٹھ جانے کا اشارہ نہ کرتے تھے ۔

مختیارے کے ساتھ مل کر میں ایسا ویسا کیا کر سکتا تھا جس سے اباجی ناراض ہوتے، تب ہ میں اس کا اندازہ نہ ہو پاتا تھا ۔ کھیتوں کھیتوں بھاگنا، خربوزے تربوز توڑ کرکھانا اور جو پھیکے نکلیں اُنہیں وہیں پھینکتے جانا، پیڑوں پر چڑھ کر طوطے میناکے بچے اُتار لانا ۔ کہیں شہد کا چھتا دیکھنا تو لمبی چھڑی اُسے نیچے ہی سے یوں چبھولیناکہ شہد دھار بناتا نیچے آئے اور جتنا ہم منھ میں بھر سکتے تھے بھر لیں اورآگے نکل جائیں ۔ بارانی علاقہ تھا اوربارش کا پانی جن تالابوں میں جمع ہوتا تھا، اُنہیں مختیارا ڈھن کہتا تھا ۔ مال مویشی انہی ڈھنوں سے پانی پیتے تھے ۔ کپڑے دھونے ہوتے یا پینے کے لیے پانی سے گھڑے بھرنے ہوتے عورتیں گاءوں کے اوپر والی ڈھن پر آتی تھیں جسے سب نیلی ڈھن کہتے تھے ۔ عین دوپہر جب وہاں عورتیں نہ ہوتیں ہم پہنچ جاتے تھے ۔ کپڑے اتار کر نیلی کے پانی میں اندر تک گھس جاتے تھے اور ایک دوسرے پر پانی اچھالتے اور خوب چیخیں مارتے تھے ۔ تو یوں ہے کہ مختیارے کے ساتھ ایسا وقت گزرا تھا کہ ایک مدت بعد وہ یاد آیا تو اس زمانے کا سارا ہنگامہ آنکھوں کے سامنے متحرک تصویر کی طرح چلنے لگا تھا ۔

اب یہاں یہ وضاحت بھی کردوں کہ مجھے اپنا مختیارا، ندیم چن کی لیک ہونے والی وہ کال سن کریاد نہیں آیا تھاجس میں اس نے انتہائی بے تکلفی سے اورمنھ بھر گالیوں کے ساتھ اپنے مختیارے وڑجانیے دے ،کو سیاست کی ماں بہن ایک کرنے کا کہاتھا کہ بات بڑھ گئی تھی ۔ کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی تھی ۔ چن نے اسے بچوں کو گھر کے اندررکھنے کی تلقین کی اور خود بھی گھر میں ٹک کر بیٹھنے کا کہا تھا کہ اموات زیادہ ہو رہی تھیں جب کہ حکومت بات چھپا رہی تھی ۔

وہ جو کہتے ہیں ،بندر کے ہاتھ استرالگنا، تو ایسا ہو گیا تھا ۔ سوشل میڈیا کا اُسترا اب ہر ایک کے ہاتھ میں تھا ۔ ایک سے ایک بڑھ کر کھچرا اور ٹھٹھے بازیہاں موجود تھا ۔ کسی کے ہاتھ یہ کال چڑھی اُس نے میڈیا پر چڑھا دی ۔ جو ندیم چن کو نہیں جانتا تھا وہ بھی جان گیا کہ اُس گفتگو نے جو چن چڑھایا تھا سب نے اُسے دیکھ لیا تھا ۔ خبروں میں کم اور عوامی میڈیا پر زیادہ افواہیں گردش میں تھیں کہ بہت زیادہ لوگ وبا سے مر رہے تھے ۔ یہ تو باقاعدہ ٹی وی پر بھی نشر ہواتھا کہ اُدھر کراچی کے علاقے بن قاسم میں کرونا وبا سے مرنے والے شہریوں کو دفنانے کے لیے نیا قبرستان بنالیا گیا تھا ۔ 80 ایکڑ پر مشتمل ایک بڑاقبرستان ۔ لہٰذا یہ افواہ نہیں خبر تھی ۔ خوف زدہ کر دینے والی خبر ۔ بتایا گیا تھا کہ اس قبرستان میں وبا سے مرنے والا پہلا شخص دفن بھی ہو چکا تھا ۔ ہر ضلعے میں تابوت الگ سے تیار کرکے رکھ لیے گئے تھے اور بہ قول ندیم چن، بات بڑھ گئی تھی ۔ تاہم جس بات نے اس کی کال کو کھچرے اور مسخرے لوگوں کے ذریعے ہر شخص تک پہنچادیا تھا وہ ننگی گالیاں تھیں جو بہت محبت میں اور بہت بے تکلفی سے مختیارے وڑ جانیے دے، کو دِی گئی تھیں ۔

لگ بھگ پچاس اکاون برسوں کے بعد مجھے اپنامختیارا یاد آیا تھا ۔ جی،تب نہیں جب سوشل میڈیا پر گالیوں سے سَنی ہوئی پوسٹ سُنی تھی یا لوگوں کی اس پر ٹچکریں اور ڈشکریاں سنیں اور کارٹون دیکھے تھے، بلکہ تب جب یہی ندیم چن اِسی عوامی میڈیا کے لیے بنائی گئی ویڈیو میں معزز بن کر بیٹھا بتارہا تھا کہ گندم کی برداشت کا موسم آگیا تھا ۔ اس ویڈیو میں وہ لفظ سنبھال سنبھال کر بات کر رہا تھا ;234; یوں کہ اس میں سے ساری بے تکلفی منہا ہو گئی تھی ۔ تاہم اس ویڈیو والی باتوں میں بھی حد درجہ اخلاص تھا ۔ جب اس نے یہ کہا کہ کمبائن ہارویسٹر سے فصل کی کٹائی گہائی کے بجائے کسانوں کو ایک دوسرے کی مدد سے یہ کام کرنا چاہیے تومجھے کٹائی گہائی کے موسم میں گاءوں میں گزرے دِن یاد آگئے تھے اور اپنا مختیارا بھی ۔

صرف مختیارا نہیں ، چاچا دیما ، چاچی گاہراں اور وہ شام بھی کہ جب میں اور مختیارا کھیتوں کے بیچوں بیچ بارش میں بھیگتے اور پاءوں سے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہوئے گھر پہنچے تھے ۔ مختیارے کے گھر ۔ جہاں چاچا دیما اور چاچی گاہراں اپنے کوٹھے کے دروازے میں کھڑے آسمان کو دیکھتے تھے اور بار بار کہتے تھے ربا سوہنیا کرم کر اسی تاں پہلے ای موئے مُکے آں ۔

دوکچے کوٹھوں پر مشتمل یہ گھر، جس کے ایک کوٹھے میں گائے بکری بندھتی تھی اور دوسرے میں پورا گھرانا آباد تھا،اب جو یاد آیا تو سب ایک ہلے میں نہیں ،کل سے آج تک کئی قسطوں میں یادآیاتھا ۔ اور یوں تھا کہ میں نے اس گھر اور گھرانے کو گندم کی اس جوان فصل کے ساتھ رکھ کر یاد کیاتھا جو بارش میں بھیگ کر جھکتے جھکتے اپنی جڑوں پر ڈھے رہی تھی اوراس اناج کے ساتھ بھی جسے گمہر نے کڑکاکوڑا کرکے بے کارکردینا تھا ۔ مجھے لگا بھوک ایک پچھل پیری کی طرح اُن کا پیچھا کررہی تھی ۔ واقعی وہ پہلے سے مرے ہوئے تھے، اور اُن کا یوں تڑپنا، کلپنا اور رب کے حضور بارش رکنے کی رو رو کر التجائیں کرنا اب سمجھ میں آرہا تھا ۔ میں نے اپنے سینے پر بوجھ محسوس کیا، اُٹھا اور دِھیان بٹانے کے لیے ٹی وی آن کر لیا ۔ وہاں کوئی سیاہ فام گلوکار انگریزی میں بہت درد بھری آواز میں گا رہا تھا:

’’تم کیا جانو سیاہ فام ہونا کیا ہوتا ہے

تم جان ہی نہیں سکتے سیاہ فام ہونا

جب تک تم ایک سیاہ فام گھرانے میں پیدا نہیں ہوجاتے‘‘

میں نے ٹی وی بند کر دیا ۔ بارش کی آواز سارے میں گونجنے لگی تھی ۔

جب میں سو کر اُٹھا تھا تو مجھے اندازہ نہیں ہورہا تھا بارش کب سے ہو رہی تھی ۔ بس اتنا یاد رہ گیا تھا کہ رات جب میں سونے والے کمرے میں جاکربستر پر لیٹ گیا اور کچھ پڑھتے پڑھتے سو گیا تھا، شاید تب تک بارش نہیں ہوئی تھی اور اگر بوندا باندی شروع ہو چکی ہو گی تو بھی میں کتاب پڑھنے میں اتنا مگن تھا کہ میرا دھیان اُس طرف نہ گیا ہوگا ۔

سونے والے کمرے کی اکلوتی کھڑکی عقبی صحن میں کھلتی تھی ۔ پچھلے سال دھوپ بارش سے بچنے کے لیے اُدھر کا جزوی صحن پولی کاربونیٹ شیٹ سے چھت لیا گیا تھا ۔ ابھی میں پوری طرح نیند کی گرفت میں تھا کہ ایک آواز وہیں سے،کھڑکی کی ریخوں کے راستے اندر آئی تھی ۔

میں نے اپنے بستر پر پہلو بدلا ۔ آواز آ رہی تھی، مسلسل جیسے کوئی ایک ہی جملہ دہرائے جاتا تھا،یا جیسے کوئی بڑبڑاتے ہوئے سسکاری بھررہا تھا یا پھر جیسے کوئی کسی دوسرے کے کان میں سرگوشی اُنڈیل رہاتھا ۔ تاہم جملے کا ایک ایک لفظ صاف اور سمجھ میں آنے والا تھا ۔

’’پتر، سارے سکھی گھرایک سے سکھی ہوتے ہیں لیکن دکھیارے گھرانوں کادکھ اپنا اپنا ہوتا ہے ۔ بالکل الگ ۔ ‘‘

میں سویا ہوا تھا ۔ نہیں شاید میں جاگ گیا تھا مگرمیرا ذہن سویا ہوا تھا ۔ ممکن ہے میرے ذہن کے اندر کھد بد ہونے لگی تھی اور بدن سویا ہوا تھا ۔ جیسا بھی تھا کہیں نہ کہیں کچھ ہو رہا تھا ۔ دائیں بائیں دونوں آنکھیں پھڑکنے لگی تھیں ۔ آنکھ کے ڈھیلے جیسے اندھیرے میں بند رہ رہ کر اُکتا گئے تھے کہ اندر ہی چکر کاٹنے لگے تھے ۔ میں نے ایک بار پھر پہلو بدلا توگدے کے اسپرنگ چرچرائے ۔ اس کے ساتھ ہی مسلسل سنائی دینے والی آواز میں رخنہ پڑ گیا اور میں غنودگی کا خول توڑ کراُٹھ بیٹھاتھا ۔

اب میں عقبی صحن کی چھت پر پڑنے والی بارش کی بوچھاڑ کو پوری طرح پہچان سکتا تھا ۔ وہ جو پچھلے صحن کے کھلے حصے پر پڑ رہی تھی اور وہ بھی جو چھتے ہوئے حصے پر تھی ۔ وہاں کوئی کھسر پسر تھی نہ سرگوشی،کوئی کسی سے کچھ نہ کہہ رہا تھا ۔ ایک بارش کی بوچھاڑ تھی جو دوآوازوں کو مسلسل بہم کر رہی تھی ۔ میں نے روشنی کیے بغیر ہاتھ بڑھا کرسیل فون اُٹھایا اور وقت دیکھا ۔ رات کے تین بج رہے تھے ۔ رات بیگم کو مصروف پا کر میں معمول سے پہلے سونے والے کمرے میں آگیا تھا ۔ شاید اسی لیے جلد آنکھ کھل گئی تھی ۔ بیگم ابھی تک بہت گہری نیند میں تھی ۔ اب میں اُٹھ گیا تھا تو وہاں نہیں بیٹھ سکتا تھا ۔ پاءوں میں چپل اُڑسے، سائیڈ ٹیبل سے کتاب اُٹھائی ا ور ٹی وی لاونج میں صوفے پر نیم دراز ہو گیا ۔ صوفے کے بازو اور پشت سے قرینے سے رکھا گیا کشن اُٹھانے، اُسے سر کے نیچے دبانے اور نیم دراز ہونے سے پہلے میں نے نظر بھر کر سارے میں دیکھا تھا، وہ گھر جو رات کو اوندھا بکھرا پڑا تھاصاف ستھرا تھا ۔ ہر شئے اپنے اپنے مقام پر تھی ۔ جب سے وبا کا خطرہ بڑھا تھا بیگم کے کام بھی بڑھ گئے تھے ۔ کام میں مدد کے لیے جو خاتون کئی برسوں سے آرہی تھی لاک ڈاءون میں نہیں آرہی تھی اوروہ جو رات دیر سے سونے کی عادی تھی اب گھر کے کام کاج نمٹانے کے لیے قدرے اور تاخیر سے سونے لگی تھی ۔

ٍ’’بے چاری‘‘

مجھے افسوس ہو رہا تھا کہ میں رات اُس کی کوئی مدد نہیں کرپایا تھا ۔ تاہم یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دے لی کہ وہ بھی تو گھرکے کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتی تھی ۔ اُسے اچھا لگتا تھا کہ میں پڑھتا لکھتا رہوں ۔

میں نے سب سوچیں جھٹک کر کتاب اُٹھالی مگر دھیان بارش کی طرف ہو گیا ۔ اب سامنے والے صحن سے بارش برسنے کی آواز آ رہی تھی ۔ کل پچھلے پہر تک موسم صاف تھا ۔ میں نے باہر پورچ میں کھڑے کھڑے آسمان کی طرف دیکھا تھا، وہاں بادلوں کی ایک دھجی تک نہ تھی ۔ مگر اب یوں بارش برس رہی تھی جیسے وہ پچھلی جمعرات سے برستی چلی آتی تھی ۔

پچھلی جمعرات کو بھی بارش ہوئی تھی ۔ یہ میں نے اندازہ لگایا تھا ۔ پھر کچھ سوچ کر اپنے آپ کو درست کیا ۔ نہیں ،شاید جمعہ یا ہفتہ تھا وہ ۔ میں نے ذہن پر زور دیا اور نئے سرے سے حساب لگایا ۔ پچھلی بارش اور اُس سے پچھلی بارش میں کوئی پانچ دنوں کا وقفہ تھا ۔ ایسا وقفہ کہ خوب سورج چمکا تھا ۔ اس حساب سے بارش ہفتے کو ہوئی تھی مگر میں پھر اُلجھ گیا ۔ پانچویں دِن بارش ہوئی تھی یا پانچ دِنوں کے بعد;238; یوں نئے حساب سے وہ اتوار بھی ہو سکتا تھا ۔ جب سے حکومت نے وبا سے لوگوں کو بچانے کے لیے تالابندی اور سماجی فاصلوں کی پابندی کا اعلان کیا تھا سارے دِن ایک جیسے ہو گئے تھے ۔ اُکتاہٹ سے بھرے ہوئے چھٹی کے دِن ۔ رُکے ہوئے اور سہمے ہوئے دِن ۔ چیختی چنگھاڑتی دوڑتی بھاگتی ریل جیسی زندگی کو ایک نہ نظر آنے والے کورونا نامی وائرس نے زنجیر کھینچ کر بریک لگا دِی تھی ۔ بڑے بڑے سٹور بند تھے، ریل گاڑیاں ، جہاز، سینما ہال، عبادت گاہیں سب بند تھے ۔ کچھ برسوں سے جگہ جگہ عالی شان مال کھل گئے تھے جہاں ہر برانڈ کا مہنگا مال بلکتا تھا جسے خوش حال گھرانوں والے ہنسی خوشی خریدا کرتے کہ بڑے گھرانوں میں اسی کا چلن تھا ۔ اب جو سب کچھ بند تھا تو ایک کے بعد دوسرا دِن کیسے ترتیب سے چلتا رہتا ۔ میں جوں جوں حساب کرتا یہ بِدک سرک کر آگے پیچھے ہو جاتے ۔ میں نے سر جھٹک دِیا اور تخمینے لگانے سے باہر نکل آیا ۔

باہربارش مسلسل برس رہی تھی، اور شاید اس کے برسنے کی شدت میں اضافہ بھی ہو گیا تھا ۔

مجھے یادآیا جب بچپن میں اس طرح بارش برستی تھی تو اماں کہتی تھیں ، جمعرات کی جھڑی ہے اگلی جمعرات تک جائے گی ۔ پھر جیسے وہ گنگنانے لگتیں : جمعرات کی جھڑی، نہ ٹوٹے کِن مِن لڑی ۔

باہر کنی کنی بارش نہ برس رہی تھی چھاجوں پانی پڑ رہا تھا ۔ پانی کا جھبڑا، ہاں جب پانی زور کا پڑتا تواماں یہی کہتی تھیں ۔ ساون کی بارشوں میں یہ جھبڑا پڑتے ہوئے آگے نکل جایا کرتا تھا مگر اب جو برس رہا تھاتو یہ ایساجھبڑا تھا کہ مسلسل پڑ رہا تھا اور یہیں ٹھہرا ہوا تھا ۔

جمعرات کی جھڑی ۔ ۔ ۔ میں نے سوچا اورآج کے دِن کاحساب لگایا ۔ آج بھی تو جمعرات کادِن تھا ۔ تاہم تسلی نہ ہوئی تو سیل فون اُٹھالیا اور اس پر تاریخ اور دِن دیکھا ۔ وہاں اپریل کی سترہ اور دِن جمعہ تھا ۔

جمعہ;238; ۔ ۔ ۔

مجھے کچھ اور یادآگیا تھا ۔ میں نے جھٹ پہلو میں پڑی کتاب اُٹھا لی ۔ ہاں اِسی کتاب میں کہیں جمعے کے دِن کی بات ہوئی تھی ۔ وہ بات کیا تھی;238; ذہن پر زور دیا مگریاد نہیں آرہا تھا ۔ میں نے اُسے اندازاً وہاں سے کھولا جہاں تک اپنی دانست میں رات پڑھتے پڑھتے سو گیاتھا ۔ یہ اس ناول کے آخری صفحات تھے اورشاید وہاں ناول کا ایک کردار اپنے مہمانوں کو درختوں کے سائے میں بچھے موڑھوں پر بٹھا کر نپے تلے قدموں سے چلتا اپنی جھونپڑی تک گیا تھا ۔ اُسے خدشہ تھا کہ اگر وہ تیز چلا تو درختوں سے جھولتے شہد کے چھتوں سے مکھیاں بدک کر اُڑیں گی اور بھن بھن کرتی مہمانوں پر ٹوٹ پڑیں گی ۔

رات پڑھتے ہوئے نہیں ، اب جب کہ میں جمعے والی بات کی کرید میں تھا اور شہد کی وہ مکھیاں یادآگئی تھیں جو چھتے سے ایک دھار میں بہتے شہد کے ساتھ ہمارے منھ تک آجاتیں یا چھڑی چھلی پر پڑتے ہی ہمارا پیچھا کرکے کاٹ لیا کرتی تھیں ۔

یہ مختیارے کی طرف دِھیان کے جانے کا آغاز تھا ۔ پھر وہ ٹکڑوں میں یاد آتا گیا ۔ یہیں میرا دھیان ناول کے اُن جملوں کی طرف گیا تھا جن میں کوئی اپنے آپ سے کہہ رہا تھا کہ’ وہ یہ جانے بغیر اور جان لینے کا کوئی امکان دیکھے بغیر جیتا رہا ہے کہ زندگی کیا ہے;238; اور اس دنیا میں وہ کس لیے زندہ ہے;238;‘جہاں بک مارک تھا وہاں ایسی سطریں نہیں تھیں ۔ بک مارک کہیں پیچھے ہی رکھا رہ گیا تھا اور جہاں تک میں نے پڑھا تھا وہ مقام آگے تھا ۔ میں نے کچھ اور یاد کرنا چاہا تو اس کے آس پاس کی ایک دو اور سطریں ذہن میں روشن ہوئیں ، ایک تو وہی تھی جس میں اُس سوچنے والے شخص پر ذہنی دباءو کا ذکر آیا تھا اور دوسری میں غالباً اس نے خود کشی کا سوچا تھا ۔

کئی سالوں کے بعد، جب میں پڑھ پڑھا کر ایک ٹھیک ٹھاک جاب میں تھا اور سماج میں ایک باعزت مقام پالیا تھا ،مجھے کسی نے مختیارے کی خود کشی کابتایا تھا ۔ مجھے دُکھ ہوا تھا ۔ بس اتنی دیر جتنی دیر ایک بھول چکے شخص کا دُکھ کیا جا سکتا تھا ۔ میں نے کئی صفحات الٹ پلٹ کر دیکھے اب ناول میں خود کشی والی سطریں کہیں نہیں تھیں اس سے پہلے کہ میں کتاب بند کرتا پہلے باب کی پہلی سطر میرے دھیان میں آئی اور وہ میں نے صفحہ نکال کر دیکھ بھی کر لی ۔ ٹالسٹائی کے قلم سے ٹپکی ہوئی سطر، وہاں جہاں سے جمعے کے روز پیش آنے والے واقعات سے ناول کا آغاز ہوتا تھا، وہ سطر وہیں تھی:

’’سارے سکھی گھرایک جیسے ہوتے ہیں لیکن دکھی گھرانوں کادکھ اپنا اپنا ہوتا ہے ۔ بالکل الگ ۔ ‘‘

اچانک جیسے باہر بجلی کڑکی تھی اور اندر سب کچھ روشن ہو گیا تھا ۔

بارش برس رہی تھی ۔ ہم دونوں بھیگے ہوئے وہاں تھے ۔ چاچا دیما اور چاچی گاہراں رو رو کر آسمان کی طرف دیکھتے تھے اور وہ آنسو تھے یا شاید بارش کا جھبڑا جو ان کے گالوں پر پڑتا تھا ۔ تب میرا دِل بھر آیا تھا اور چاچی کی قمیض کاپلو کھینچ کر کہا تھا:

’’چاچی آپ اتنا روتی کیوں ہیں ;238;‘‘

’’اپنے دکھوں کو پتر، اپنے دکھوں کو ۔ ‘‘

چاچی نے یہ بے اختیار کہا تھا اور پھر میری طرف دیکھنے لگی تھی ۔ وہ قدرے زیادہ دیر تک دیکھتی رہی پھرآہستہ سے کہا، جیسے سسکاری بھر رہی ہو، یا جیسے سرگوشی کر رہی ہو :

’’تم نہیں سمجھو گے ہم دُکھیاروں کے دُکھ ۔ سمجھ ہی نہیں سکتے تم ۔ پتر سارے سکھی گھرایک سے ہوتے ہیں لیکن دُکھی گھرانوں کادُکھ اپنا اپنا ہوتا ہے ۔ بالکل الگ ۔ ‘‘

یہ ٹالسٹائی کا جملہ تھا اور مختیارے کی ماں کا بھی جو یقینا نہیں جانتی ہو گی کہ ٹالسٹائی کون تھا ۔

باہر موسلا دھاربارش ہو رہی تھی،عین اُن دنوں میں کہ جب گندم کی فصل تیار کھڑی تھی ۔ میں سوچ رہا تھا رات جب بارش برسنا شروع ہوئی تھی تو جمعرات کا دِن تھا یا جمعے کا دن پڑ گیا تھا ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ایک مسلسل زرگزشت|محمد حمید شاہد

سب کچھ ٹھیک تھا ۔ نجیب محسن وہاں عین برانچ کھلتے ہی پہنچ گیا تھا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *