M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / محمد حمید شاہد سے مکالمہ|عمر فرحت

محمد حمید شاہد سے مکالمہ|عمر فرحت

کچھ تخلیقی عمل کے بارے میں

افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد محمد حمید شاہد 23مارچ 1957ء کو پنجاب،پاکستان کے ضلع اٹک کے شہر پنڈی گھیب میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے شہر، جب کہ ہارٹی کلچر کی اعلیٰ تعلیم زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز بہ طور بینکار کیا ۔ زرعی ترقیاتی بنک میں ۲۳ سال خدمات انجام دینے کے بعد بہ طور وائس پریزیڈنٹ سبکدوش ہوئے ۔ ادبی اور تصنیفی زندگی کا آغاز یونیورسٹی کے زمانے ہی سے ہوچکا تھا ۔ آپ کی چند اہم تصانیف میں ’’ بند آنکھوں سے پرے‘‘(افسانے)،’’ جنم جہنم‘‘(افسانے)،’’مرگ زار‘‘(افسانے)، ’’آدمی‘‘(افسانے)، ’’سانس لینے میں درد ہوتا ہے‘‘(افسانے)،’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘(ناول)، ادبی تنازعات‘‘(تنقید)،’’ لمحوں کا لمس‘‘(نثمیں )،’’اردو افسانہ: صورت و معنی‘‘(تنقید)، اردو فکشن:نئے مباحث‘‘(تنقید)،راشد میراجی،فیض:نایاب ہیں ہم‘‘(تنقید)،’’سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘(تنقید) اور’’ کہانی اور یوسا سے معاملہ‘‘(تنقید) شامل ہیں ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا گیا اور انہیں سب سے بڑے قومی اعزازات میں سے ایک ’’ تمغہ امتیاز‘‘ کا حق دار ٹھہرایا گیا ۔

محمد حمید شاہد سے یہ میرا دوسرا مکالمہ ہے ۔ قبل ازیں منٹو کے حوالے سے ان سے طویل مکالمہ ہوا تھا جواب ہماری کتاب کا حصہ ۔ اس تازہ مکالمے میں ادب کے تخلیقی عمل اور اس کے سماجی رشتوں پربات کی گئی ہے ۔ (عمر فرحت)

عمر فرحت: ۔ ادب میں اوریجنل ہونے کی کتنی اہمیت ہے۔

محمد حمید شاہد: ۔ ادب کا انحصار ہی تخلیقیت پر ہے ۔ تخلیقیت کیا ہے۔ پہلے اسے آنک لینا چاہیے ۔ تخلیقیت کا لفظ آتے ہی’ خلق‘ اور ’تخلیق‘ کے الفاظ ذہن میں گونجنے لگتے ہیں اور درست طور پر گونجتے ہیں کہ جو نہیں ہے، اسے وجود میں لانے کو خلق کرنا کہتے ہیں اور یہ عمل ہی تخلیقی عمل ہے ۔ کہنے کو بات بہت سادہ ہے مگر یہ بات اتنی سادہ سی بھی نہیں ہے ۔ تخلیقیت کو شاید ہی مختصر لفظوں میں ڈھنگ سے بیان کیا جاسکے ۔ جی، اس کی ایسی تعریف کہ ہر بار اور ہر ایک کا جس پر دِل ٹھکے شاید ممکن ہی نہیں ہے ۔ تخلیقیت بنیادی طور پر انتہائی پیچیدہ عمل ہے ۔ تخلیقیت کی اصطلاح محض ادب میں ہی مروج نہیں ہے ، اسے دوسرے شعبوں میں بھی برتا جاتا ہے اور ہر شعبے کے اندر اسے کا تصور کچھ ردوبدل سے ہی قائم کیا جاسکتا ہے ۔ خود ادب کی مختلف اصناف میں بھی تخلیقیت کا وصف ایک جیسا نہیں رہتا ۔ مثلاً دیکھیے کہنے کو ہم نے کہہ دیا کہ کچھ نیا وجود میں لانے کانام تخلیقی عمل ہے مگر دیکھئے اس عمل میں ، ہم نے ایک صنف کے بنیادی خال وخد برقرار رکھے ہیں ، انہیں نہیں چھیڑا ۔ پھر زبان کا بنیادی ڈھانچہ ہے ، اس کی لفظیات کا بیشتر حصہ ہے وہ سب موجود ہیں تو نیا کیا ہے۔ نیا جسے آپ نے اوریجنل کہا وہ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں اس کی حد ختم ہوتی ہے، اسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے مگر اس کو ہر لحاظ سے درست درست ایک تعریف میں مقید کرلینا ناممکن سی بات لگتی ہے ۔ اب میں آپ کے سوال کی طرف آتا ہوں ۔ آپ نے پوچھا ہے کہ ادب میں اوریجنل ہونے کی کتنی اہمیت ہے۔اور میرا جواب ہے بہت زیادہ ۔ یہ ’’بہت زیادہ‘‘ مقدار میں آپ کے ہاں کچھ ہو گا اور میرے ہاں کچھ ۔ اور اس ’کچھ‘ کے بعد بھی کچھ نہ کچھ بچ جائے گا جسے اوریجنل کہنا ممکن نہیں ہوگا ۔ واقعہ یہ ہے کہ محض اوریجنل ہونے کی للک میں باقی عوامل کو کندھوں سے اچھال کر پیچھے پھینک دینا اور بھول جانا بجائے خود ایسا عمل ہے جو کسی تحریرکوادبی توقیر عطا کرنے سے محروم کر دے گی ۔ ایک واقعہ میں نے ’’شعرالعجم‘‘ میں پڑھا تھا جی چاہتا ہے یہاں بیان کردوں ۔ روایت ہے کہ حسان بن ثابت کے ننھے منے بیٹے کو ایک بھڑ نے کاٹ لیا ۔ وہ روتا روتا باپ کے پاس آیا ۔ باپ نے پوچھا : ’’بیٹے کیا ہوا۔‘‘ روتے ہوئے بچے کا جواب تھا: ’’ مجھے اس نے کاٹ لیا‘‘ ۔ حسان نے پوچھا: ’’اس کا کوئی نام بھی تو ہوگا۔‘‘ بچہ یہ تو جانتا تھا کہ اسے بھڑ نے کاٹا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا نام کیا ہے ۔ حسان نے کہا: ’’اچھا اس کی صورت بتاو ۔‘‘ بچے نے یہاں جو جواب دیا اگرچہ اسے حسان نے شاعری قرار دیا تھا مگر میں اسے تخلیقیت کے طور پر پیش کرنا چاہوں گا ۔ بچے کا جواب تھا: ’’کانہ ملتف ببردی حیرۃ‘‘ (گویا یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ مخطط چادروں میں لپٹا ہوا ہے) ۔ شبلی نعمانی نے بچے کے اس جواب کو شاعری کہا تھا اور اس کا جواز یہ بتایا کہ بچے کے جواب میں ایک تشبیہ استعمال ہوئی تھی ۔ میں نے بچے کے بےان کو ’’کہانی اور یوسا سے معاملہ‘‘ میں فکشن کا جملہ قرار دیا تھا ۔ وہ یوں کہ اس میں بھڑ کے کاٹ لےنے والاحادثہ مقام بدلنے سے اور تھوڑا ساوقت آگے کر دےنے سے رواےت ہوتے وقت اپنی تفہےم اور معنوےت میں کئی گنا اضافہ کر گےا ہے ۔ بہ ظاہر یہ ایک وقوعہ ہے مگر اس کے دوطرح کے بےان نے (راوی کاصاف سےدھا بےان: ’’بھڑنے کاٹ لیا‘‘ ۔ بچے کابےان: ’’مخطط چادروں میں لپٹا ہوا تھا‘‘) اےک جمالےاتی بعد بھی پیدا کر دیا ہے ۔ میرے نزدیک یہی تخلیقیت ہے جو شبلی نعمانی کے نزدیک شاعری ہو گئی ہے اور میرے نزدیک فکشن ۔ ذرا غور سے دیکھا جائے اور اس کا تجزیہ کیا جائے کہ اس میں اوریجنل کیا ہے تو سب کچھ گدرا جائے گا کہ بچے کے بیان میں مضمون وہی ہے جو سادہ بیان میں آیاتھا اور ہر کوئی یوں ہی بیان کر سکتا تھا ۔ یہی سبب ہے کہ میرے نزدیک تخلیقیت محض اور صرف اوریجنیلٹی نہیں ہے ۔ اوریجنل ہونا ضروری ہے ، بہت ضروری ہے مگر تخلیقی عمل کی تکمیل محض اوریجنل ہونے سے نہیں ہوتی ۔ میں کئی ایسے شعرا کو جانتا ہوں جو دوسرے شاعروں کو ڈھنگ سے اس لیے نہیں پڑھتے کہ انہیں اپنی اوریجنیلٹی کے متاثر ہونے کا ڈر لگا رہتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے شاعروں کو میں نے اپنا تخلیقی پوٹینشل تباہ کرتے پایا ہے ۔ ان میں سے بیشتر روایتی سا شعر کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں ۔ وہ نہیں جانتے کہ جو کچھ انہوں نے اپنے شعر میں برتا ہے اس سے کہیں عمدہ پہلے بھی برتا جا چکا ہے ۔ اس لیے کہ وہ کسی اور کو پڑھتے ہی نہیں ہیں ۔ اوریجنل ہونے کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ پوری روایت کو پس پشت ڈال کر یا پھر اس سے جہالت کی سطح پر معاملہ کیا جائے۔ اس میں سب کچھ جان سمجھ کر اس رُخ سے پیش رفت کرنا ہوتی ہے جہاں سے پہلے ممکن نہ ہو پائی تھی اور نئی حسیات نے اس کی راہ سجھا دی ہوتی ہے ۔ جن دنوں ماریو برگس یوسا کی کتاب ’’نوجوان ناول نگار کے نام خطوط‘‘ پر محمد عمر میمن سے میرا مکالمہ چل رہا تھا تو میمن صاحب نے باتوں باتوں میں دورِ عباسی کے مشہور عربی شاعر ابونُواس اور خَلف الاحمَر کا ایک دلچسپ قصہ بیان کیا تھا ،یہاں یاد آگیا ہے تو بیان کر دیتا ہوں ۔ خَلف الاحمَر پورے بصرے میں سب سے زیادہ سخن شناس اور سخت گیر نقّاد کی حیثیت سے مشہور تھا ۔ ابونُواس، اس کی خدمت میں حاضر ہوا اور شعر کہنے کی اجازت چاہی کہ ایک زمانے میں یہی روایت تھی کہ کسی کو استاد مانا جائے اس کی باتوں کو مانا جائے اور اگلا قدم اٹھانے سے پہلے اس سے اجازت لی جائے ۔ ہمارے ہاں بھی استادی شاگردی کا یہ ادارہ ایک عرصے تک چلتا رہا ہے ۔ خیر ، ہوا یہ کہ خَلف الاحمَر نے شرط لگادی کہ پہلے ایک ہزار قصائد حفظ کرکے دکھاؤ ۔ ابو نُواس نے بادیۃُ العرب کے اَعراب کے ہاں نکل گیا ۔ وہیں ان کے درمیان بودوباش اختیار کی اور اپنے کام میں پورے اخلاص کے ساتھ جت گیا ۔ جب ایک ہزار قصیدے ازبر ہوگئے تو خوشی خوشی واپس ہوا ۔ سیدھا خَلف الاحمَرکی خدمت میں حاضر ہوا اور فر فر قصائد سنانے لگا ۔ ابو نُواس خوش تھا کہ خَلف الاحمَر مطمئن ہو گئے تھے ۔ دست بستہ شعر گوئی کی اجازت چاہی ۔ وہ بات جو یہاں خَلف الاحمَر نے کہی وہ گرہ میں باندھنے کے لائق ہے ۔ خَلف الاحمَر نے کہا تھا ’’بہ صد شوق، لیکن اِس سے پہلے یہ جو تم نے ایک ہزار قصیدے حفظ کیے ہیں ، انھیں بھول کر دکھانا ہوگا ۔ ‘‘ تو یوں ہے کہ دوسروں کو پڑھنے سے اوریجنیلٹی متاثر نہیں ہوتی، انہیں پڑھ کر نہ بھولنے سے ، اور ان سے متاثر ہو کر ویسا کہنے کی للک پالنے سے مثاثر ہوتی ہے ۔ گہرے مطالعے اور اس مطالعے کو ہضم کرنے ساتھ ساتھ زندگی کو جس جہت سے ادبی فن پارے میں برتنا مقصود ہوتا ہے اس میں تخلیق کار کو بھی پوری طرح رُجھنا ہوتا ہے محض مشاہدہ کافی نہیں ہے ،بیشتر اوقات یہی مشاہدہ تخیل کا لانچنگ پیڈ ہو جاتا ہے ۔ تخلیقی عمل میں تازگی کا عنصرزبان کے وسیلے سے ہی داخل ہوتا ہے اور دیکھا جائے تو اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی ہے ۔ سو اس رکاوٹ کو الانگے پھلانگے بغیر آپ اس بوسیدگی کو جھاڑ جھٹک نہیں سکیں گے ، جسے جھٹکنا تخلیقیت کا بنیادی تقاضا ہے ۔ یاد رکھیے تخلیقیت ہر کسی کے پاس ہوتی ہے۔ اندر کہیں مکر مار کر پڑی ہوئی ۔ اس پر مخصوص ٹولے کا اجارہ نہیں ، کہ بس اس ٹولے، اس نسل اور اس قوم کے افراد کو ملی اور باقی سب محروم رہے مگر بہت کم لوگ اسے اپنے وجود میں جگا پاتے ہیں اور اس سے بھی کم لوگ اسے کام میں لے آنے کے قرینے ڈھونڈ نکالتے ہیں ۔ دیکھیے زمین کی تہوں میں چھپے ہوئے قیمتی دھاتیں اور دوسرے خزانے ہر کسی کو ہاتھ کہاں آتے ہیں ۔ ہاں کوئی کوئی قسمت کا دھنی ہوتا ہے کہ اچانک اس پر کوئی خزانہ اچانک ظاہر ہوجائے ، ایسے میں بھی اسے ، یہ کھود نکالنا ہوتا ورنہ تو ہر ایک کو باقاعدہ ہمت کرکے اسے پہلے تلاشنا ، آنکنا اور پھرکھود کرنکالنا ہوتا ہے ۔ یادرہے ہرتخلیقی شخص کا نیا پن ، ہر دوسرے تخلیقی شخص کے نئے پن سے مختلف ہوتا ہے اور یہی اس کی اوریجنیلٹی ہے ۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ اوریجنیلٹی کا جوہر انفرادی ہے اجتماعی نہیں ۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی ماحول میں تخلیقی عمل سے منسلک افراد ایک دوسرے سے مختلف بھی اسی اوریجنیلٹی سے ہوتے ہیں ۔ کہہ لیجئے ایک سطح پر یہ شخصی تخلیقی جوہرہے اور اسی سے ایک تخلیق کار کا اسلوب اپنی شباہت بناتا ہے ۔

عمر فرحت: ۔ آپ بہ حیثیت فنکار تیکنیک اور کانٹینٹ میں کسے اہمیت دیتے ہیں ۔

محمد حمید شاہد: ۔ ذاتی طور پر میرے لیے دونوں اہم ہیں تاہم میں سمجھتا ہوں ، کانٹینٹ پہلے محض احساس کی سطح پرہی اپنی جھلک دِکھاتا ہے ۔ ایسی جھلک جسے سیدھے سبھاءوبیان نہیں کیا جاسکتا ۔ تخلیقی عمل کے دوران اس کی تیکنیک اپنی شباہت بناتی ہے تو ہی وہ متن ہو پاتا ہے ۔ ہمارے ہاں ایسا زمانہ رہا ہے کہ جب کہانی ایک ہی تیکنیک میں لکھی جاتی رہی ۔ وہی آغاز ، وسط اور انجام والی تیکنیک ۔ تب تیکنیک پہلے سے موجود تھی ، اسے بدلنے پر مواد اہم ہو کر بھی اس پر قادر نہ تھا کہ مکمل طور پر بیانیے کا حصہ ہو جائے ۔ یوں مواد اہم تھا مگر جو ماجرا کہنے والی تیکنیک میں ڈھل نہیں پاتا تھا وہ فالتوتھا اور پھینک دیا جاتا تھا ۔ کہہ لیجئے اتنا اہم مواد بھی کلی طور پر اہم نہ رہتا تھا ۔ تاہم اس جزوی نارسائی کے باوجود مواد کو فوقیت رہی ۔ افسانے اور ناول کی اصناف کے آنے سے ، مواد کو کچھ اور پسپائی ہوئی ۔ ’ کیا کہا گیا‘ اور’ کیسے کہا گیا‘ دونوں ےکساں اہم ہو گئے ۔ یہ اہم ہونا، کسی نسخے میں استعمال ہونے والے اجزا کی طرح ہم وزن نہیں ہے ۔ یہاں مصوری والا قرینہ ہی کارگر ہے ۔ مصور فن پارے میں استعمال ہونے والے رنگوں کو بیلنس کے لیے کینوس کے کسی ایک حصے پر زیادہ برتے گئے رنگوں کے بعداسی کینوس کے دوسرے حصے پر اسی رنگ کامحض ایک سٹروک لگا لیا کرتا ہے ۔ یوں کہ ایک طرف نظر کو کھینچنے والے سارے رنگ متوازن ہو جاتے ہیں ۔ ہر تخلیق کار اپنے ہاں اس تخلیقی توازن کی اپنی راہ نکالتا ہے ۔ یاد رہے اردو افسانے سے پہلے حکاےت ،لوک کتھا،قصہ کہانی ، مثنوی اور داستان کی رواےت موجود تھی اور جب تک اردو زبان کے اندر چست بیانیے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوئی ہم افسانہ لکھنے کے لائق نہیں ہوپائے تھے تاہم اردو افسانے نے ،مواد اور تیکنیک دونوں سطحوں پر،اپنے مزاج میں ہند اسلامی تہذےب اور قصہ کہانی کی رواےت کو پوری طرح جذب کرلیا تو بات آگے بڑھ سکی تھی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ افسانے کا تعلق جس انسان سے ہے وہ ایسی صورت حال میں پڑا ہوا ہے جو اتنی سادہ نہیں ہے کہ اسے علت ومعلول کے حد درجہ سیدھے فارمولے سے بہ سہولت اور پورے طور پر متن میں سمیٹا جا سکے ۔ یہ تیکنیک ہی ہے جو اس خلا کو پر کرتی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرز احساس کے تحت بیانیے کے اندرالگ سے اور بیانیہ کے بہاءو کے ساتھ جڑے ہوئے معنیاتی سلسلے رکھ دےنے کے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں ۔ یہیں میرا دھیان پریم چند کے اُس خط کی طرف جا رہا ہے جو انہوں نے حکیم محمد یوسف حسن ، ایڈیٹر ’’نےرنگ خیال ‘‘ کو لکھا تھا ۔ اس خط میں پریم چند جیسے بیانیہ کہانی لکھنے والے نے کہا تھا کہ وہ محض واقعہ کے اِظہار کے لیے کہانیاں نہیں لکھتے ۔ انہیں اس میں کسی فلسفیانہ حقیقت ےا جذباتی حقیقت کا اِظہار کرنا ہوتا ہے اور جب تک انہیں اِس قسم کی کوئی بنیاد نہیں ملتی ان کا قلم نہیں اُٹھتا ۔ تب سے اب تک اردو افسانے نے کئی کروٹیں لی ہیں اور ہر کروٹ ایسی تیکنیک کی تلاش کے لیے رہی جو فرد کی بدلتی ہوئی حسیات کو گرفت میں لے سکتی ہو ۔ تیکنیک اور کانٹینٹ کا مقدمہ جو آپ لے کر آئے ہیں ، اس میں کسی ایک کو جھٹک دینا ممکن ہی نہیں ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوئے نہیں ہیں ، دونوں میں کوئی جھگڑا نہیں ہے تاہم ہر قسم کا مواد ہر ایک تیکنیک میں نہیں برتا جا سکتا اور اگر آپ ایسا کرنا چاہئیں گے تو ان میں جھگڑا کھڑا ہو جائے گا ۔ یہیں مجھے وہ جھگڑا یاد آتا ہے جو منشایاد کے اس بیان پر کھڑا ہوا تھا جو انہوں نے میرے افسانوں کے دوسرے مجموعے ’’جنم جہنم‘‘ کی تقریب میں دیا تھا ۔ اور یہ جھگڑا ایسا تھا کہ خالدہ حسین جیسی کسی جھگڑے میں نہ پڑنے والی فکشن نگار نے بھی ایک کھلے خط کے ذریعے اپنارد عمل دیا تھا ۔ خیر جو کچھ منشایاد نے کہا یہاں اسے مقتبس کرنے پر اکتفا کروں گا ۔ انہوں نے کہا تھا،’’صاحب اسلوب اور صاحب ِطرز کہلانے کی خواہش نے اچھے اچھوں کو ضائع کیا ۔ کوئی موضوع یا مواد خواہ کتنا ہی قیمتی ہوتا اگر ان کے پہلے سے بنائے گئے سانچے میں فٹ نہ ہوتا تو وہ اُسے چھوڑ دیتے تھے مگر اپنے اسلوب میں لچک برداشت نہ کرتے کہ انہیں کہانی سے زیادہ اسلوب عزیز ہوتا ۔ ‘‘منشایادسے پوری طرح اِتفاق ممکن نہ سہی مگر جس عمومی صورت کو اِن سطور میں گرفت میں لیا گیا ہے اس سے ایک عہد کی تخلیقی زبوں حالی کی تصویر کشی ہو جاتی ہے جس کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اَثرات ابھی تک محسوس کیے جارہے ہیں ۔ یہ اثرات مثبت کم اور منفی زیادہ تھے ۔ یہاں منشایاد نے جسے اسلوب کہا ہے وہ اس زمانے میں محض تیکنیک سے آگے کی چیز نہ تھا ۔ اسلوب تو ہر تخلیق کار کے اپنے اسلوب حیات سے پھوٹتا ہے جب کہ ایسے اسلوب سے اُس زمانے میں کم کم کام لیا گیا ۔ ایک بھیڑ چال تھی اور سب لگ بھگ ایک ہی تیکنیک کو کام میں لا رہے تھے ۔ خیر کہنا یہ ہے کہ تخلیقی عمل خود تقاضا کرتا ہے کہ کیسی زبان برتی جائے، داخلی ساخت نے کہاں متحرک ہونا ہے اور کہاں دم سادھ کر خارجی ساخت کے پہلو میں پڑے رہنا ہے، زمان و مکان سے معاملہ ہوگا تو کیا اور کیسے ۔ تو یوں ہے کہ تیکنیک اور موا محض دونوں ایک دوسرے سے معاملہ ہی نہیں کرتے، ایک آہنگ میں آنے کے لیے کئی ا طراف سے ،کئی طرح کی اور کئی سطحوں پر مدد بھی لے رہے ہوتے ہیں ۔

عمر فرحت: ۔ فی زمانہ جب معاشرے کو تبدیل کرنے کاکام سیاسی اقتدار کے بغیر ممکن نہیں رہا ، کیا ادب کے ذریعے سماج کو بدلنے اور سماج پر اثر انداز ہونے کے امکانات باقی ہیں ۔

محمد حمید شاہد: ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ادب کو بھی سماج بدلنے کی ذمہ داری اسی طرح اُٹھا لینی چاہیے ،جس طرح سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی جماعتیں اور سیاست دان دعوے دار ہوتے ہیں ۔ میرا خیال ہے ہم سب کا اس باب میں جواب ہوگا نہیں ، بالکل نہیں ۔ ادب اور سماج اپنی جگہ بہت اہم موضوع ہے ۔ مانا کہ ادب سماج کے بغیر کچھ نہیں ۔ اس کے قاری سماج ہی میں ہیں ۔ یہ بہت کچھ سماج سے لیتا بھی ہے ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ادب جب کچھ لیتا ہے تو سماج کو کچھ نہ کچھ لوٹاتا بھی ہوگا ۔ کیا۔ کچھ نے کہاکہ ادب سماج سے جو کچھ لیتا ہے ، اس کا عکس لوٹا دیتا ہے بالکل ایک آئینے کی طرح ۔ ان کے نزدیک یہی حقیقت پسندی ہے ۔ جیسا دیکھا ویسا ہی تحریر میں ظاہر کر دیا ۔ نہ تو حقیقت نگاری کا یہ تصور درست ہے اور نہ ہی ادب کو سماج کا ایسا آئنہ کہنا جو عین مین عکس لوٹا دیتا ہے مناسب ہوگا ۔ یہ کا م صحافت کا ہے جو دیکھا اس کی کہانی خبر میں ڈھال دی ۔ اچھا ،وہ لوگ جو ادب کو سماج کا محض عکس نہیں سمجھتے، اُن میں سے کچھ اس کے کندھوں پر سماج سدھار نے کی ذمہ داری ڈال دیتے ہیں ۔ یوں ادب تخلیقی عمل سے کٹ کر وہ کام کرنے لگتا ہے جس کا ٹھیکہ سماج کے دیگر گروہوں نے اُٹھا رکھا ہے ۔ ادب کا تخلیقی میکانزم ان دونوں گروہوں سے ایک فاصلے پر رہ کر ہی تحریک اور تکمیل پاتا ہے ۔ اوریادرہے کہ ادب محض سماج سرگرمیوں کے عکس نہیں اچھالتا ، زندگی کو از سر نو تخلیق کرتا ہے ۔ یہ موجود پر عدم اطمینان سے تحریک لیتا ہے اور تشکیل نو پر جاکر فن پارے کو وجود میں لاتا ہے ۔ چوں کہ معاشرے کی سطح پر اٹھنے والے اُبال ادب کا مسئلہ نہیں ہوتے اور اسے بہت گہرائی میں بن چکے اس مزاج سے عبارت ہونا ہوتا ہے جو کہیں صدیوں میں جاکر زمین، زبان، روایات اور عقائد سب مل کرمرتب کرتے ہیں اس لیے یہ بنیادی طور پر تہذیبی سرگرمی ہے ۔ اس کا اپنا قرینہ ہے جو اپنے قاری کے اندر غیر محسوس طریقے سے اس کی حسیات سے معاملہ کرتا ہے ۔ کچھ یوں کہ فکری جبرٹوٹنے لگتا ہے، دانش کے دائروں میں وسعت پیدا ہوتی ہے ۔ ادب بہت سے تعصبات کو رد کرکے خالص انسانی بنیادوں پر مظلوم کا ساتھی بنتا ہے اور ظلم اور ظالم دونوں نے نفرت سکھاتاہے ۔ ادب چوں کہ زمینوں اور زمانوں میں سفر کرنے والے تجربے کا وہ جوہر ہوتا ہے جس کا جمالیاتی وار دیر تک اور دور تک رہتا ہے اس لیے اس کی آواز بہت دھیمی، ٹھہری ہوئی، مدہم اور روح میں اترنے والی ہوتی ہے ۔ تاہم جمالیاتی سطح پر ادب بالا دست طبقہ سے کہیں زیادہ عام آدمی سے مکالمہ کرتا ہے اور سچ کو اپنے دامن میں بھر لیا کرتا ہے ۔ یہ سچ اس مکر کا پردہ بھی چاک کر دیا کرتا ہے جو ڈکٹیٹ کرائی گئی تاریخ اور میڈیا کی متشکلہ لسانی ترکیب کے لیے ادبی اوڑھ بنا ہوا ہوتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ تخلیقی عمل کی نعمت صرف اسی فرد کے مقدر اور طینت کا حصہ بنتی ہے جو اپنی تہذیب اور اپنے سماج سے جڑا ہوا ہوتا ہے اپنے لوگوں سے وابستہ ہوتا ہے تاہم اس کا ضمیر چوکنا اور اس کی حسیات پورے منظر نامے کو جذب کر رہی ہوتی ہیں ۔ ادب لکھنے کا قرینہ کسی اتھلے اور سطحی شخص کے ہاتھ نہیں آتا اور اس سے کوئی اتھلا شخص فیض بھی نہیں پاسکتا ۔ اب اگر کوئی ادب کے اپنے سماج اور اپنے قاری سے اس تعلق پر مطمئن ہے تو ٹھیک ، اور جو کوئی اس سے کچھ اور کام لے کر اسے افادی بنانا چاہتا ہے وہ ادب کا مخاطب ہے ہی نہیں ۔

عمر فرحت: ۔ آپ کی کہانیوں کے بیشتر کرداروں سے آپ کی ملاقات رہی ہے یا یا ان میں سے زیادہ تر تخئیل کی پیداوار ہیں ۔

محمد حمید شاہد: ۔ صاحب!یہ بات تو طے ہے کہ کوئی بھی فکشن نگار اپنے کرداروں کو عین مین ویسا نہیں لکھ دیتا جیسا اس نے انہیں دیکھ رکھا ہوتا ہے ۔ نہ ہی سارے کردار صد فی صد تخیل کی عطا ہوتے ہیں ۔ لکھنے والے کا تخیل جہاں سے جست بھرتا ہے وہ اس کے تجربے اور مشاہدے کی زمین ہوتی ہے ۔ میرے ہاں بھی ایسا ہی ہوتا رہاہے ۔ اگر ممتاز مفتی کو میرے افسانوں میں سچائیوں اور سچائیوں میں رنگ رس اور خلوص ایک ساتھ نظر آیا تھا تویہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ سچ کہیں بھی میرے مشاہدے کا حصہ نہ ہوا تھا اور سب میرے تخےل کی کارستانی تھی ۔ اس سچ کو خالص صورت میں دکھانے کے لیے میں نے تخلیقی بھٹی پر چڑھایا ضرور، اور لکھتے ہوئے اس سے میل نتھار کر الگ کرتا رہا کہ لکھنے والے کی حیثیت سے یہی میرا منصب تھا ۔ یہی سبب رہا ہوگا کہ احمد ندیم قاسمی نے میرے افسانوں کے مجموعے’’بند آنکھوں سے پرے‘‘ کو پڑھنے کے بعد اس کتاب کے افسانوں کو لمحہ رواں کی معاشرتی ،ثقافتی اور تہذیبی زندگی کی تاریخ کا درجہ دے دیا تھا ۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے جب میرے افسانوں کے دوسرے مجموعے ’’جنم جہنم‘‘ کا مطالعہ کیا تو انہیں دونوں طرح کے کردار نظر آئے ۔ ان کے نزدیک میں اپنی کہانیوں میں ظاہر کی آنکھ سے تماشا کرنے کا خوگر بھی ہوں اور دل کی آنکھ سے دیکھنے میں کوشاں بھی اور عصری زندگی کے مصائب پر یوں قلم اٹھاتا ہوں کہ عصریت اور ابدیت میں ماں بیٹی کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے ۔ ہمارے عصر کے ذہین نقاد اور افسانہ نگارناصر عباس نیرکو میری کتاب ’’مرگ زار‘‘ کے افسانوں میں ہونے والے تجربات میں نئی قسم کی حقیقت نگاری نظر آئی تو ان کرداروں کے سبب ہی ایسا ہو اہوگا جنہیں تخلیقی سطح پر لکھا گیا تھا ۔ اپنے تراشے ہوئے کرداروں کو لکھ چکنے کے بعد خود مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ سے میرے ساتھ تھے اور یوں بھی جیسے میں ان سے پہلی بار مل رہا ہوں کہ ہر بار ان سے ملتے ہوئے حیرتیں مجھ پر چڑھ دوڑتی ہیں ۔ شمس الرحمن فاروقی نے ان کرداروں کی بابت بہت دلچسپ بات کہہ رکھی ہے ۔ یہی کہ میں اپنے افسانوں میں ایک نہایت ذی ہوش اور حساس قصہ گو معلوم ہوتا ہوں اور میرے بیانیے کا یہ وصف ہے کہ پڑھنے والے قصہ گو سے دور نہیں ہوتے ۔ گویا میں اپنے قصوں کا ایک کردار بھی ہوں ۔ کہہ لیجئے راوی کردار ۔ دوسری بات جس کی طرف فاروقی صاحب نے اشارہ کیا وہ موضوعات کا تنوع ہے جب کہ اس باب کا اُن کا ایک اور جملہ ہے ’’اسے محمد حمید شاہد کی بہت بڑی کامیابی سمجھنا چاہیے کہ وہ ایسے موضوع کو بھی اپنے بیانیہ میں بے تکلف لے آتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگار گو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے ۔ ‘‘ فکشن کی سطح پر یہ معاملہ جہاں بھی ہوا ہے کرداروں کے وسیلے ہی سے ممکن ہوا ہے ۔ جی ان کرداروں کے وسیلے سے جو تخلیق پانے کے بعد اس سوال کو بہت پیچھے چھوڑ چکے ہوتے ہیں کہ وہ کتنے میرے مشاہدے سے نکلے اور کتنے میرے تخیل کی دین ہیں کہ اب بہ قول احمد ندیم قاسمی یہ اپنی گوں کے ہزاروں لاکھوں انسانوں کے نمائندہ ہیں ۔

۔ ۔ ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

سیمان کی ڈائری|مشتاق احمد یوسفی کی رحلت پر اہل ادب کے تاثرات

افتخار عارف: چراغ تلے سے آبِِ گم کا سفر مشتاق یوسفی کے حقیقی جوہر کی …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *