M. Hameed Shahid
Home / افسانے / کورونا اور قرنطینہ|محمدحمیدشاہد

کورونا اور قرنطینہ|محمدحمیدشاہد

ابھی ایک پیغام پڑھ ہی رہا تھا کہ ایک اور نوٹیفکیشن سیل کے ڈسپلے کے اوپر والے حصے میں نمودار ہوا۔نیا نوٹیفکشن پہلے پیغام کی طرح کووِڈ۹۱ کے بارے میں کوئی حکومتی اعلان نہ تھا، یہ ساتھ والے سیکٹر سے میرے ایک دوست کا واٹس ایپ تھا جس میں ایک وڈیو کلپ بھی شامل کر دیا گیا تھا۔ میں نے پہلا ایس ایم ایس بیچ میں چھوڑا اور واٹس ایپ کھول لیا۔ وہاں ایک لاش تھی؛ کورونا وائرس سے مرنے والے کی لاش۔ کچھ دیر پہلے تک جس خوف کی سَرسراہٹ میں اپنے اَغل بغل محسوس کر رہا تھا وہ اب میری چھاتی پر چڑھ کر بیٹھ گیا تھا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کئی سیکٹروں میں بٹا ہواشہر ہے۔ پوری منصوبہ بندی سے بسایا گیاخوب صورت شہر۔پچھلے کچھ برسوں میں کشمیر ہائی وے پر جو دو سیکٹر نئے کھلے اور تیزی سے آباد ہوئے ہیں اُن میں ایک تو ہمارا سیکٹر ہے اور دوسرا اِسی سے متصل وہ سیکٹر جہاں سے میرے دوست نے واٹس ایپ میں یہ لاش والاکلپ بھیجا تھا۔ گویا یہ وبا، جو شہر کے دوسری طرف بارہ کہو کے کئی گھروں میں گھس چکی تھی،اب ہمارے پہلو تک آ پہنچی تھی۔ ویڈیو کھلتے ہی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی تھی جو ایک خوب صورت بیڈ پر سفید چادر اوڑھے چت پڑا تھا۔ یہ چادر جس طرح سر سے پاؤں تک تنی ہوئی تھی، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ یہ اُس نے خود اپنے اوپر نہ تانی تھی کسی اور نے اوڑھائی تھی۔ جو اُس نے خود اوڑھ رکھا ہوگا وہ گہرے بھورے رنگ اور سرخ پھولوں والا کمبل تھا جو لاش کے پہلو میں گچھی مچھی پڑا تھا۔ اُس لاش ہو چکے شخص کے علاوہ وہاں موجود دو میں سے ایک شخص نے ابھی پوری طرح اُسے لاش نہ مانا تھا۔ ویڈیو میں سب سے پہلے اُسی دوسرے شخص کی کپکپی میں لتھڑی ہوئی آواز سنائی دِی تھی۔ وہ تیسرے شخص سے کہہ رہا تھا:
”دیکھ لیں ذرا ایک بار پھر۔“
اِس دوسرے شخص کی لرزتی آواز کے ساتھ تصویر کے لرزنے سے میں نے اندازہ لگالیا تھا کہ ہو نہ ہو ویڈیو بھی وہی بنا رہاہوگا۔ تیسرے شخص کا ردعمل بالکل کاروباری تھا۔ یوں، جیسے کسی شخص کا نڈھال پڑا ہونا یا اس کا لاش ہو جانا، دونوں میں کچھ نیا نہ تھا۔ بے خوف شخص پوری طرح چوکس تھا۔وہ مکمل تیاری کے ساتھ وہاں آیا تھا۔ اس کے چہرے پر ماسک اور آنکھوں پر بڑے بڑے شیشوں والی عینک تھی جب کہ اُس نے سر سے پاؤں تک ایسی ڈانگری چڑھا رکھی تھی کہ اُس کا پورا بدن اس میں چھپ گیا تھا۔ ڈانگری ویسی ہی سفید تھی جیسی لاش پر پڑی چادر تاہم دائیں بائیں کی نیلے کپڑے کی جیبوں پر سرخ رنگ کے ”ایدھی“ کے لفظوں سے اس کی سفیدی بھی مدہم پڑگئی تھی۔اس چوکس شخص کے دائیں ہاتھ میں پیلے رنگ کی پلاسٹک کی بوتل تھی۔ اُس میں بھرا ہوا محلول یہاں وہاں مسلسل چھڑکتے ہوئے وہ سپاٹ لہجے میں دوسرے شخص کے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا۔
”نہیں صاحب یہ ڈیڈ ہے۔ میں نے دیکھا ہے اس کے منہ سے بلبلی نکلی ہوئی ہے۔“
”بلبلی؟“
دوسرے شخص نے لرزتی آواز میں بس اتناکہا۔
”ہاں بلبلی، میرا مطلب ہے جھاگ؟“
اس سوال جواب کے دوران دوسرے آدمی کا ہاتھ اس زور سے کانپا تھاکہ تیسرا شخص فریم سے نکل گیا۔ اب فریم میں بیڈ کے پاس ہی پڑا ہوا اسٹریچر نظر آرہا تھا جویقینا ایدھی والا شخص ایک مریض ہسپتال لے جانے کے لیے لایا ہوگا۔ اس پر ڈال کر ایمبولنس میں رکھنے اور ہسپتال میں لے جانے کے لیے۔ باہر گلی میں کھڑی ایمبولینس کی مخصوص آواز بھی ویڈیو میں سنائی دے رہی تھی، جوایک ممکنہ مریض لے جانے کے لیے وہاں دوسرے شخص نے فون کرکے منگوائی ہو گی مگر وہاں کوئی مریض نہ تھا، محض ایک لاش پڑی تھی۔
تیسرے شخص نے آخری بار اپنے اسٹریچر پر دوا چھڑکی اور ویڈیو میں نہ نظر آنے والے شخص سے کہا:
”یہ ڈیتھ کورونا وائرس سے ہوئی ہے“
”ککو وکوروونا وائرس سے“
دوسرے شخص کی کپکپاتی آوازیوں آئی،جیسے ایک ایک لفظ نوک دار تھا اور اس کے حلقوم سے پھنس پھنس کر نکل رہا تھا۔ ایک دفعہ پھر پہلے شخص کی لاش اور پیلی بوتل سمیت تیسرا شخص فریم میں تھا۔
”آپ خود چیک کر لیں، یہ ڈیڈ ہے۔“
”ڈاااکٹر کو دکھالیں؟“
”نہیں،ڈاکٹر نہیں، پولیس“
”پول ی ی ی یس“
اب لاش اور تیسرا شخص فریم میں نہیں تھے۔ تاہم اس دو ہاتھ اسٹریچر کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے تھے جو انجانے میں فوکس ہو گئے تھے۔ اسے اپنے تئیں یقین ہو چکا تھا کہ وہاں اس کے کرنے کا کوئی کام نہیں تھا۔ اسٹریچر خالی تھا اور وہ اسے خالی لے جانے کے لیے وہ پوری طرح تیار تھا۔
”جی، پولیس کو۔۔۔ ون فائیو کو۔۔۔ رپورٹ کریں۔ اجازت لیں۔۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ڈیتھ کا کیس ہے۔“
بس، اتنا سا کلپ تھا، جسے میں نے اپنے لکھنے والی میز پر بیٹھے بیٹھے دیکھا تھا اور بہت دیر سہما وہاں چپ چاپ بیٹھا رہا تھا۔ میری چھاتی پر بوجھ بڑھ گیا تھا۔ ڈسپلے کے خاموش ہونے سے میرا سیل ایک ننھے تابوت جیسا دِکھائی دینے لگاتھا۔ میرے بیٹھے بیٹھے اس منے سے تابوت سے قد آدم لاش نکلی اور میری آنکھوں کے سامنے فضا میں جھولنے لگی تھی۔ ایسی لاش جس کے ہو نٹوں پر جمی ہوئی زردی مائل کف تھی اور جس سے بدبو کے بھبکے اُٹھ رہے تھے؛ اتنے کہ، اِس تعفن کے باعث میری سانسوں میں رَخنے پڑنے لگے اور جی متلانے لگا تھا۔
میں وہاں مزید نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ اُٹھا، اپنی چھاتی کو زور سے دباکر سانسوں کو معمول پر لا نا چاہا اور لاونج میں آکر صوفے پر ڈھے گیا۔ میں نے اپنے بیڈ روم کی طرف دیکھا۔ دروازہ بند تھا، بالکل ویسے ہی جیسے میں بند کرکے اسٹڈی میں گیا تھا؛ گویا ابھی بیگم سو رہی تھی۔ بچے جاگنے پر، سیڑھیوں سے دَھپ دَھپ کرتے سیدھے لاؤنج میں آتے تھے، وہ بھی ابھی تک نہیں جاگے ہوں کہ سیڑھیاں خاموش تھیں۔ صرف سیڑھیاں ہی نہیں پورا گھر خاموش تھا، بس ایک سناٹا تھا جو سارے میں گونج رہا تھا۔
میری بے چینی کسی طور کم ہونے میں نہ آرہی تھی۔ چھاتی کا بوجھ بڑھتا گیا تو میں اُٹھا اور صدر دروازہ کھول کر باہر سے آنے والی یخ ہوا کے لمبے لمبے گھونٹ بھرنے لینے لگا۔ ہلکا سا اَچھّو لگنے کے باوجود یوں سانس لینا مجھے اچھا لگ رہا تھا۔ میں نے وہیں کھڑے کھڑے پورچ میں کھڑی کار کو دیکھا، جو لاک ڈاؤن کے سرکاری اعلان کے بعدوہیں کھڑی تھی۔ میں بَڑ بَڑایا”اِس کی تو بیٹری بیٹھ گئی ہو گی۔“ ہر طرف اتنی خاموشی تھی کہ میں اپنی بَڑبَڑاہٹ سے چونک کر کار، اور اُس سے پرے بند پڑے آہنی گیٹ کے اُوپر سے خاموش سڑک کو وہاں تک دیکھتا چلا گیا جہاں تک وہ نظر آسکتی تھی۔ جب یخ ہوا کا قدرے تیکھا جھونکا آیا،کچھ میری چھاتی سے ٹکرایا کچھ ٹانگوں میں گھسا اورباقی چہرے سے رگڑ کھاتا اندربڑھ گیا تھا تو شاید میں نے تھوڑی سی یخ ہوا ناک میں اُچک لی تھی۔ ناک میں خراش پیدا ہوئی اور بے اختیار زور کی چھینک نکل گئی۔ دوسری چھینک کو میں جبر کرکے ٹالتا رہا مگر وہ نہ ٹلی اور میری آنکھوں سے ضبط کے آنسو پھوٹ بہے تھے۔
میں نے پیچھے ہٹ کر دروازے کے پٹ بھیڑ دیے مگر یخ ہوا نے جو کام کرنا تھا کر دیا تھا۔ میں مسلسل چھینکنے پر مجبور تھا، چھینک روکتا تو آنکھوں کے ساتھ ساتھ ناک سے بھی پانی بہہ نکلتا۔ ٹشو پیپر کا ڈبہ تلاش کرنے تک کھانسی کا دورہ پڑ چکا تھا۔ کھانسی خشک تھی اورحلقوم کو چھیدتی ہوئی باہر نکلتی تھی۔ کورونا کے مریضوں کی جو علامات اب تک مشتہر کی گئی تھیں ان میں ایک خشک کھانسی بھی تھی؛ بس یہ یاد آنا تھا کہ کھانستے کھانستے چھاتی زور سے دَبا لی۔ تو کیا مجھے بھی اس موذی وبا نے آلیا تھا؟ ابھی کل ہی مجھے لاہور سے تبسم کاشمیری نے ایک ویڈیو کلپ بھیجا تھا۔ سن 1918ء میں سپینش فلو نامی وبا سے زندہ بچ نکلنے والے ولیم ساردو جے آر، کے انٹرویو کا کلپ۔ یہ انٹرویو کچھ سال پہلے، کہ جب وہ چورانے سال کا تھا، تب ریکارڈ کیا گیا تھا۔ انٹرویو دیکھتے ہوئے میں نے نوٹ کیا تھا اس کا چہرہ اور ہاتھ جھریوں سے بھر ے ہوئے تھے اور وہ صوفے میں کمر دوہری کیے ایک خوفزدہ بچے کی طرح دھنسا بیٹھا تھا۔ اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ اپنی عینک کے موٹے شیشوں کے پیچھے سے آنکھوں کو پوری طرح کھول کر دِیکھ رہا تھا اوراُس کے ہونٹوں سے لفظ یوں ترتیب وار نکل رہے تھے جیسے سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا۔بوڑھے ولیم نے بتایا تھا کہ سپینش فلو سے دنیا کی ایک تہائی آبادی شدید متاثر ہوئی تھی اورپانچ کروڑ لوگوں نے تڑپ تڑپ کر جان دِے دِی تھی۔ یہ فلو کنساس میں ایک فوجی کو ہوا، اورپھروبابن کر پھیلتا چلتا گیاتھا۔ وبا کا حملہ بہت اچانک اور شدید ہوتا تھا۔ ایک صبح اگر چھ بجے کوئی اپنی ماں کے فلو سے مرنے کی اطلاع دیتا تو شام پڑنے سے پہلے پہلے تک اس کا پورا کنبہ جا چکا ہوتا۔ بوڑھے ولیم کے گھر کے آٹھ افراد میں بس وہی اکیلا بچ پایا تھا۔

میں نے پیچھے ہٹ کر دروازے کے پٹ بھیڑ دیے مگر یخ ہوا نے جو کام کرنا تھا کر دیا تھا۔ میں مسلسل چھینکنے پر مجبور تھا، چھینک روکتا تو آنکھوں کے ساتھ ساتھ ناک سے بھی پانی بہہ نکلتا۔ ٹشو پیپر کا ڈبہ تلاش کرنے تک کھانسی کا دورہ پڑ چکا تھا۔ کھانسی خشک تھی اورحلقوم کو چھیدتی ہوئی باہر نکلتی تھی۔ کورونا کے مریضوں کی جو علامات اب تک مشتہر کی گئی تھیں ان میں ایک خشک کھانسی بھی تھی؛ بس یہ یاد آنا تھا کہ کھانستے کھانستے چھاتی زور سے دَبا لی۔ تو کیا مجھے بھی اس موذی وبا نے آلیا تھا؟ ابھی کل ہی مجھے لاہور سے تبسم کاشمیری نے ایک ویڈیو کلپ بھیجا تھا۔ سن 1918ء میں سپینش فلو نامی وبا سے زندہ بچ نکلنے والے ولیم ساردو جے آر، کے انٹرویو کا کلپ۔ یہ انٹرویو کچھ سال پہلے، کہ جب وہ چورانے سال کا تھا، تب ریکارڈ کیا گیا تھا۔ انٹرویو دیکھتے ہوئے میں نے نوٹ کیا تھا اس کا چہرہ اور ہاتھ جھریوں سے بھر ے ہوئے تھے اور وہ صوفے میں کمر دوہری کیے ایک خوفزدہ بچے کی طرح دھنسا بیٹھا تھا۔ اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ اپنی عینک کے موٹے شیشوں کے پیچھے سے آنکھوں کو پوری طرح کھول کر دِیکھ رہا تھا اوراُس کے ہونٹوں سے لفظ یوں ترتیب وار نکل رہے تھے جیسے سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا۔بوڑھے ولیم نے بتایا تھا کہ سپینش فلو سے دنیا کی ایک تہائی آبادی شدید متاثر ہوئی تھی اورپانچ کروڑ لوگوں نے تڑپ تڑپ کر جان دِے دِی تھی۔ یہ فلو کنساس میں ایک فوجی کو ہوا، اورپھروبابن کر پھیلتا چلتا گیاتھا۔ وبا کا حملہ بہت اچانک اور شدید ہوتا تھا۔ ایک صبح اگر چھ بجے کوئی اپنی ماں کے فلو سے مرنے کی اطلاع دیتا تو شام پڑنے سے پہلے پہلے تک اس کا پورا کنبہ جا چکا ہوتا۔ بوڑھے ولیم کے گھر کے آٹھ افراد میں بس وہی اکیلا بچ پایا تھا۔
                 ولیم کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھ پر کھانسی کا شدید دورہ پڑاتھا۔ اس دورے میں وقفہ آیا تو میں بار بار اپنی نبض ٹٹول رہا تھا کہ کہیں مجھے بخار تو نہیں تھا۔ کورونا کے حوالے سے جو علامات بتائی جا رہی تھیں، شاید اُن میں بخارکی شدت بعد میں بڑھتی تھی،پہلے یہ وائرس ناک منہ اور آنکھوں میں گھستا اور وہاں مکر مار کر پڑھ دہتا پھر سانس کی نالی سے اندر کھسکتا پھیپھڑوں میں پہنچ کرجاتا تھا۔ یوں بیماری کی علامات کے ظاہر ہونے میں پانچ چھے روز لگ جاتے تھے۔اگرچہ گلے کی خراش،ہلکی پھلکی کھانسی، نزلہ اور چھینکیں کورونا کی حتمی علامات نہ تھیں مگر اس امکان کو رد بھی تو نہیں کیا جا سکتا تھا۔  میں نے تھرما میٹر تلاش کیا اور اپنی زبان کے نیچے دبا کراورسانس روک کر بیٹھ گیا۔ یوں زیادہ دیر نہ بیٹھ سکا اور زور کی چھینک آئی تو تھرما میٹر ہونٹوں سے پھسل کرباہر اُچھلا اور فرش پر گر کر ٹوٹ گیا۔ جب میں کانچ کے ٹکڑے فرش سے چننے کے لیے جھکا ہوا تھا تو بیڈ روم کا دروازہ چرچرایا۔ میں چونک کر مڑا اور وہاں بیگم کو دیکھا جو میری طرف بڑھ رہی تھی۔ مجھے بوڑھے ولیم کی باتیں یاد آگئیں تو اُسے ہاتھ کے اشارے سے وہیں روکنا چاہا، مگر چھینک اور کھانسی ایک ساتھ آئیں اور اس سے پہلے کہ میں سنبھلتا، اس نے مجھے دونوں ہاتھوں سے تھام کر صوفے پر بٹھا دیا۔  بیگم نے مجھے تسلی دینا چاہی تھی کہ مجھے کوئی کورونا ورونا نہیں تھا اور یہ بھی کہ رات کے مختصر لباس میں باہر نکلنے سے مجھے ٹھنڈ لگ گئی تھی۔ مجھے قدرے تسلی ہو رہی تھی مگر اندر کہیں خوف بیٹھا ہوا تھا لہٰذا مُصِر ہوا کہ گھر کے سب افراد مجھ سے خود کو الگ رکھیں۔ اسی اثنا میں سیڑھیوں پر بچوں کے قدم پڑنے کی آواز آئی۔ میں تیزی اُٹھا، اپنے کمرے میں گھسا اور دروازہ بند کر لیا۔ بیگم، جو کچھ دیر پہلے میرا حوصلہ بڑھا رہی تھی شاید اس کا حوصلہ ٹوٹ گیا تھا۔ وہ اور بچے باہر لاونج میں تھے اور چپ تھے۔ میں اندر دروازے سے پشت ٹکائے دیر تک کھڑا رہا۔ لاؤنج میں جب تک بچے رہتے تھے وہاں ہنگامہ سا برپا رہتا تھا۔ میں نے اپنی سماعت باہر کی سمت لگا رکھی تھی مگر وہاں اتنی خاموشی تھی جیسے وہاں کوئی سانس بھی نہ لے رہا تھا۔ میں وہاں سے ہٹ کر بستر پر دراز ہو گیا اور آنکھیں موند لی تھیں۔

                بیگم اور بچوں کی پریشانی باہر سے رِس رِس کر اندر آرہی تھی۔ مجھے اپنے آپ سے زیادہ اُن کی فکر کھائے جاتی تھی۔  اس وائرس کی روک تھام کا ایک حیلہ سماجی فاصلہ تجویز ہوا تھا۔ احتیاط لازم تھی اور مجھے تو چھینکیں اور کھانسی بھی آئی تھی اور شاید بخار بھی ہونے والا تھا۔ مناسب یہی تھا کہ میں خود کو سب سے الگ تھلگ کرلوں، جو ہونا ہے وہ مجھ میں ظاہر ہو، میرے پیاروں میں نہیں۔یوں ہی پڑے پڑے جب خوف پر اکتاہٹ نے غلبہ پالیا تو میں نے فیصلہ کیا، گو مگو سے نکلنے کے لیے مجھے اپنا کورونا ٹسٹ کروا لینا چاہیے۔ اس طرح بچے بھی اس اذیت سے نکل سکتے تھے جو میری وجہ سے انہیں اُٹھانا پڑ رہی تھی۔ میں نے وہیں لیٹے لیٹے سیل فون سے ایک ایک کرکے کئی نمبر ملائے مگر ہر کہیں سے ناکامی ہوئی۔ شہر میں کوروناٹسٹ کی محدود سہولت تو تھی، مگر مجھے بتایا گیا تھا کہ ٹورنٹو ائر پورٹ پر پھنسے ہو ئے تیس سو مسافر اسلام آباد ائیر پورٹ سے ہوٹل لے جائے گئے جہاں اُن کے ٹسٹ ہو رہے تھے۔ ہسپتال سے مجھے یہ نصیحت کی گئی کہ میں گھر پر ہی ٹھہروں اور کسی پریشانی کی صورت میں اُن سے رابطے میں رہوں تاکہ اگر مجھے قرنطینہ کی ضرورت پڑے تو ایمبولینس بھجوائی جاسکے۔

                 سرکاری سطح پر ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ کے بارے میں کچھ اچھی خبریں نہ آرہی تھیں۔ قرنطینہ اور وہ بھی چودہ دن کا؛ یہ سننا تھا کہ  مجھے بیدی کا ایک افسانہ یاد آگیا تھا۔ وہی، جس میں بیدی نے لکھا تھا کہ شہر میں طاعون سے اتنی اموات نہ ہوئی تھیں جتنی سرکاری قرنطینہ میں ہوئی تھیں۔خبروں کے مطابق وبا کے اِن دنوں میں ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ رہا تھا۔اگرچہ وہا ں ڈاکٹروں اور نرسوں کی مدد حاصل کی جا سکتی تھی، مگر یہ مددکس کس کو اور کس حد تک مل پائے گی یقین سے کچھ نہ کہا جاسکتا تھا کہ ڈاکٹر اور نرسیں ابھی تک اپنے لیے حفاظتی سامان سے محروم تھے۔ مجھے رہ رہ کر بوڑھے ولیم کی باتیں یاد آرہی تھیں اور بیدی کے افسانے کے ولیم کی بھی۔ یہ کیسا اتفاق تھا کہ بیدی کے افسانے میں بھی ایک ولیم تھا۔ ولیم بھاگو، جو شہر میں وبا سے مرنے والوں کی لاشیں اُٹھاتا اور قرنطینہ میں بھی ڈیوٹی دیتا تھا۔ اُن دنوں، جب کوئی کسی کے پاس نہیں پھٹکتا تھا،وہ ایک ایک مریض کی مدد کر رہا تھا۔ لیکن سانحہ یہ ہوا کہ اِس ولیم کے گھر کا دروازہ بھی وبا نے دِیکھ لیا تھا۔ اس کی بیوی کے گلے اور بغلوں میں گلٹیاں نکل آئی تھیں۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ بیوی کو قرنطینہ لے جائے کہ وہاں شہر میں مرنے والوں سے زیادہ مر رہے تھے اور بہ قول اُس کے وہ دوزخ تھا دوزخ۔

                لاحول والا قوۃ۔میں نے سر جھٹکا اوربیدی کے افسانے کو اپنے ذہن سے نکالنے لگا۔ میں نے اپنے آپ کو مطمئن کیا کہ ابھی تک صورت حال اتنی دِگرگوں نہ ہوئی تھی۔

                جب کمرے کے دروازے پر بیگم نے بہت آہستگی سے دستک دِی تب تک میں سر جھٹک کر قدرے سنبھل چکا تھا۔ میں نے جلدی جلدی ہاتھوں پر دستانے چڑھائے، ناک منہ پر ماسک لیا اور تھوڑا سا دروازہ کھول کر قدرے دور کھڑے کھڑے کہا:”جی۔“ بیگم نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔ میں نے جھانک کر اُسے کو دیکھا، اُس کی آنکھیں آنسوؤں سے کناروں تک بھری ہوئی تھیں اور دوپٹے کا پلو دانتوں تلے دبا ہوا تھا۔ کچھ کہے بغیر، اُس نے تھرمس اندر مجھے تھما دِیا۔ تھر مس میں گرم پانی تھا۔ نہیں محض گرم پانی نہیں کہ اس میں شاید دار چینی،الائچی، سبز چائے کی پتیاں یا کچھ اور ڈال کراُبال لیا گیا تھا کہ اس کا رنگ بدلا ہوا تھا اور ذائقہ بھی۔ میں جرعہ جرعہ خوش ذائقہ گرم پانی حلقوم میں اُتارتارہا۔ بتایا جا رہا تھا کہ اِن دِنوں گرم پانی پینا مفید تھا۔ یہ کتنا مفید تھا میں نہ جانتا تھا مگر وقفے وقفے سے پینے لگا تو میرے اندر کی بے چینی بھی پگھل پگھل کر نیچے جانے لگی تھی۔ اس کے بعد تو گویا سپلائی لائن بحال ہو گئی تھی۔ کچھ نہ کچھ کھانے پینے کے لیے اندر آرہا تھا۔ دروازہ کھلتا تو ہر بار بچوں کی سہمی سہمی آوازیں بھی اندر سرک آتی تھیں۔ یقینا وہ وہاں بیٹھے بیٹھے اُکتا گئے ہوں گے۔سہ پہر پڑنے سے پہلے پہلے میں اپنے اُسی دوست کا ایک اور میسج پڑھ چکا تھا جس نے صبح لاش والی ویڈیو بھیجی تھی۔ اس میں سرکاری سطح پر وضاحت فارورڈ کی گئی تھی کہ مرنے والے کی موت کا سبب کرونا وائرس نہیں ڈرگز تھیں۔کوئی کورونا سے مرتا یا ڈرگز سے بات تو دُکھ والی تھی تاہم اچانک مجھے یوں لگا کہ جیسے میرے ذہن سے کوئی بھاری بوجھ اُتر گیا تھا۔ اب میں ڈھنگ سے ساری صورت حال پر پھر سے غور کر سکتا تھا۔میں نے ترتیب وار ایک ایک واقعے کی بابت سوچا اور ہر واقعے کا تجزیہ کیا تو مجھ پر کھلا کہ کمرے میں گھسنے کے بعد نہ تو میں کھانسا تھا اور نہ ہی مجھے کوئی چھینک آئی تھی۔  بس یہ سوچنا تھا کہ میں اُٹھ کھڑا ہوا اور دروازہ کھول کر بچوں کی سمت لپکا۔ مجھے اپنی سمت یوں بڑھتے پا کر بچے بوکھلائے اور صوفوں میں کچھ اور دُبک گئے۔  میں ابھی اس نئی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ بیگم بجلی کے کوندے کی تیزی سے کچن سے نکلی اور بچوں اور میرے درمیان تن کر کھڑی ہو گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔



About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ایک مسلسل زرگزشت|محمد حمید شاہد

سب کچھ ٹھیک تھا ۔ نجیب محسن وہاں عین برانچ کھلتے ہی پہنچ گیا تھا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *