M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / سراج احمد تنولی|محمدحمیدشاہدکاانٹرویو

سراج احمد تنولی|محمدحمیدشاہدکاانٹرویو

محمد حمید شاہدنے 23مارچ 2017کو صدر پاکستان سے ادب میں صدارتی سول ایوارڈ تمغہ امتیاز حاصل کیا۔وہ عصر حاضر کے معروف فکشن رائیٹراور نقاد ہیں۔ وہ افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں منفرد اور ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ادبی حلقوں میں ان کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے ۔ افسانے کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنا انہیں پسند ہے اور اظہار کا فن بھی جانتے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں معاصر زندگی کی تلخیوں اور سماجی اکھاڑ پچھاڑ کو موضوع بناتے ہوئے اس کی تفہیم بھی فراہم کرتے ہیں۔ان کے افسانوں کا بیانیہ احساس کی قوت سے بھرپور ہوتا ہے جس سے قاری اُن کی تحریر کی گرفت میں رہتا ہے ۔ شمس الرحمن فاروقی کے لفظوں میں ’’ اسے محمد حمید شاہد کی بہت بڑی کامیابی سمجھنا چاہئے کہ وہ ایسے موضوع کو بھی اپنے بیانیہ میں بے تکلف لے آتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگارگو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے۔‘‘جبکہ ان کی افسانہ نگاری کے حوالے سے احمد ندیم قاسمی نے کہہ رکھا ہے کہ’’ محمد حمید شاہد نے سچی اور کھری زندگی کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا ہے ۔ ‘‘ اور یہ کہ ’’ان کے افسانوں کا ایک ایک کردار ایک ایک لاکھ انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔‘‘روزنامہ سرگرم نیوز سے ان کی خصوصی گفتگو ہوئی ہے جو ہم قارئین سرگرم نیوز کی نذر کرتے ہیں۔
السلام علیکم!
وعلیکم السلام جی
س: آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
ج: ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء میری تاریخ پیدائش ہے اور ’کہاں ‘ کا جواب یہ ہے کہ، پنڈی گھیب میں۔ یہ شہر ضلع اٹک میں ہے؛ ایک تحصیل کا ہیڈ کوارٹر اور قدیم شہر ۔ یہیں میرے دادا سن سینتالیس کے آس پاس اپنے گاؤں چکی سے آکر بس گئے تھے ۔ چکی بھی وہاں سے بہت دور نہیں ہے تاہم میرے اندر جو دیہی زندگی سانس لیتی ہے ،یہ وہیں کی ہے۔ جب دادا جان چکی سے پنڈی گھیب آئے تو میرے ابا جان ، جو اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ، اپنا گاؤں بھی ساتھ اٹھا لائے تھے ۔ وہ یوں کہ ، ابا جان جو سیاسی سماجی کارکن تھے ، اپنے گاؤں کے لوگوں کی مدد کو ہر دم تیار رہتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے گھر سے چکی آنے جانے کا سلسلہ لگا رہتا ۔ہمارے ہاں ایک میلہ سا لگا رہتا تھا ۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پنڈی گھیب اور چکی میں ایک ساتھ پیدا ہوا تھا۔ 
س: ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ج: میری پیدائش محلہ ملکاں کی اس حویلی میں ہوئی تھی ، جو ہمارے دادا جان نے خریدی اور اپنے تین بیٹوں کے ساتھ اس میں بس گئے تھے ۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اسی محلہ ملکاں میں ایک گورنمنٹ پرائمری سکول ہوا کرتا تھا ، اس میں جانے لگا ۔ یہ سکول جس عمارت میں تھا وہ شاید کرائے کی عمارت ہوگی کہ بہت جلد وہاں سے منتقل ہو کر محلہ مولا کی نئی عمارت میں چلا گیاتھا، جومیرے گھر سے ذرا فاصلے پر تھا اور بیچ میں کھیت پڑتے تھے۔ پانچویں تک میں اسی سکول میں رہا ۔ کیا خوب زمانہ تھا ۔ گھر ہو یا سکول زندگی سے بھرے ہوئے تھے ، یوں جیسے کوئی چھنا لسی سے بھرا ہوا ہو اور ذرا سا اٹھانے پر چھلک پڑتا ہو۔ مجھ سے ایک بہن اور دو بھائی بڑے تھے ۔ اسکول کے اس زمانے تک مجھ سے چھوٹے بھائی بھی ہماری زندگی کی اس گہماگہمی کا حصہ ہو چکے تھے ۔ پھر بڑے چچا کے بیٹے اور بیٹیاں ۔چھوٹے چچا کی اس وقت تک کوئی اولاد نہ تھی، ان کی اولادیں دوسری شادی میں بہت بعد میں ہوئیں ،مگر واقعہ یہ ہے کہ چچا خود اپنے مزاج کے اعتبار سے چنچل لڑکوں جیسے تھے ، بس پھر کیا تھا کہ رات گئے تک ایک ہنگامہ سا رہتا ۔ ہم نے ساتھ مل کر سارے کھیل کھیلے، خوب شراتیں کیں اور زندگی کا وہ لطف اٹھایا جن کا تصور شہر کی مصروفیتوں کے اندر پلتے بڑھتے بچے تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ گلی ڈنڈا، لکڑ کاٹھا، چھپن چھپائی، پینگیں جھولنا، پتنگ بازی، کنچے ، اخروٹ ، پٹھوگرم اور نہ جانے کیا کیا۔ گاؤں جانا ہوتا تو درختوں پر چڑھنا ، شہداتارنا، پرندوں کے گھونسلوں میں ہاتھ مارنا، کھیتوں میں بھاگتے پھرنا ، تو یہ سب وہ کام تھے جو ہم نے کیے ۔ پانچویں پاس کی تو گورنمنٹ مڈل سکول پہنچ گیا ۔ یہ سکول شہر سے ذراباہر،جہاں کچہری اور تھانے کی عمارتیں تھیں ، ان کے پاس تھا۔ تب اس سے آگے ایک جنگل سا تھا ۔ جنگل نہ کہیں درختوں کا ایک سلسلہ کہہ لیں جس کے فوراً بعد کوندر اور سر کی اتنی گھنی قدرتی فصل تھی کہ اس میں سے گزرتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا ۔ یہ نالہ سیل کا کناراتھا۔ اور ہم اس زمانے میں اتنے بے فکرے تھے کہ نالہ سیل میں نہانے کے لیے وہاں پار نکل جایا کرتے تھے ۔ آٹھویں پاس کرکے میں گورنمنٹ ہائی سکول میں داخل ہوا جو اس وقت کے لاری اڈے کے پاس تھا ۔ میں نے میٹرک یہیں سے کیا اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخلہ لے لیا ۔ باقی کی تعلیم یہیں کی ہے اور بہ قول سید ضمیر جعفری یہیں سے بستانیت میں فاضل ہوا۔ جی ہارٹی کلچر پڑھتا رہا اوریہ پڑھ چکا تو بنک میں ملازمت کرلی۔ 
س: محمد حمید شاہد کی دو جملوں میں تعریف کیسے کریں گے؟
ج: ایسا خوش بخت جسے زندگی نے بہت کچھ عطا کیا اور ایسا عجیب شخص جس نے زندگی کے دُکھ سکھ سے لطف کشید کرنے پر اکتفا نہیں کیا اس کی تخلیقی سطح پر معنویت پانے میں جتا رہا۔ 
س: کن کن اداروں میں ملازمت کی؟
ج: زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ڈگری پانے کے بعد لاہور چلا گیا تھا ، کچھ احباب کی خواہش پر پنجاب یونیورسٹی میں قانون کی کلاسوں میں داخلہ لے لیا ۔ شاید میں نے ایسا اس لیے کیا کہ تب میں لاہور میں رہنا چاہتا تھا ، جب کہ میرے احباب مجھے یونیورسٹی طلبہ سیاست کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے کہ زرعی یونیورسٹی کے زمانے میں ، میں لیڈری کا کار فضول انجام دیتا رہا تھا اور وہاں یونین کے الیکشن لڑ چکا تھا۔ خیر، میں اپنے تئیں طلبہ سیاست سے بددل ہو چکا تھا اور لاہور میں رہنے کے لیے وہاں ملازمت کی تگ و دو شروع کردی تھی، جس میں کامیابی ملی مگرقدرت کو کچھ اور منظور تھا اور مجھے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس گھر آنا پڑا کہ ادھر سے والد صاحب کی شدید بیماری کی اطلاع ملی تھی ۔ بیمار تو وہ طویل عرصے سے تھے ، گھر پہنچا تو محسوس ہوا وہ بستر مرگ پر تھے ،اور پھر نہیں اُٹھے تھے۔ اس کے بعد میری ترجیحات بدل گئیں اور زرعی ترقیاتی بنک میں ملازمت کرلی ۔ خدا کا شکر کہ یہیں سے بتیس سال کی وابستگی کے بعد۲۲ مارچ ۲۰۱۷ء میں بہت عزت و احترام سے سبکدوش ہوا ہوں اور لطف کی بات دیکھئے کہ ۲۲ مارچ کو میں ریٹائر ہوا اور اگلے ہی دن ، یعنی ۲۳ مارچ ایوان صدر کی ایک پروقار تقریب میں میری ادبی خدمات پر مجھے تمغہ امتیاز دیا گیا۔ 
س: آپ کا بہترین مشغلہ کیا ہے؟
ج: کتب کامطالعہ اگر مشغلے کے ضمن میں لیا جاسکتا ہے تو یہی میرا محبوب مشغلہ ہے ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پڑھنا ،پڑھنا اور پڑھتے رہنا میری ہاں سانس لینے جیسا ضروری عمل ہو گیا ہے۔
س: ادب سے اس قدر لگاؤ کی وجہ کیا ہے؟
ج: تنولی صاحب ، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں ، جو بے خبری میں محض نامیاتی سطح پر زندگی بسر کیا کرتے ہیں یا آسائشوں کے حصول میں زندگی کرنے کے جتن کرتے کرتے مر جاتے ہیں۔ مرنا تو سب کو ہے مگر اس سطح کی زندگی کو میں زندگی میں موت سے تعبیر دیتا ہوں ۔ اصل زندگی معرفت اور گیان کی زندگی ہے۔ انسانی وجود ایک سانچہ ہے،جی ایک شکنجہ ۔ اور چوں کہ انسان دوسرے جانداروں کی طرح محض نامیاتی وجود نہیں ہے ، اس لیے اس شکنجے کو قبول نہ کرنے کی فطرت پر زندہ ہے۔ وہ اس قید خانے سے باہر جست لگاتا رہتا ہے ۔ محض ایک بار نہیں ، اس اسیری سے رہائی کی جدوجہد مسلسل ہے اور بے قراری مستقل ۔ جون میک مرے کا یہ کہنا گرہ میں باندھنے کے لائق ہے کہ ’انسان نہ تو محض مادی جسم ہے اور نہ ہی فقط نامیاتی وجود۔ یہ مشینی اخلاق کی غلطی ہے جو اسے مادی جسم سمجھتا ہے اور معاشرتی اخلاق کا دھوکا کہ وہ اسے نامیاتی وجود بنا دیتا ہے۔ ‘جون میک مرے کے ہی لفظوں میں’ ہم مادی اجسام ہیں نہ نامیاتی، ہم تو آدمی ہیں ‘۔ ادب سے لگاؤ کی وجہ بھی یہ ہے کہ میں محض اور صرف مادی یا نامیاتی سطح پر زندگی کو موت کے مترادف سمجھتا ہوں ۔ ادب مجھے آدمی کی سطح پر جینے کا شعور عطا کرتا ہے اس لیے یہ مجھے محبوب ہے۔ 
س: حرف اول سے ناطہ کب اور کیسے جڑا؟
ج: زندگی کے دھارے کو شاید سوال جواب میں ڈھنگ سے نہ تو سمجھا جاسکتا ہے نہ سمجھایا جاسکتا ہے ۔ آپ کا سوال اگرچہ میرے لکھنے کے آغاز کے حوالے سے ہے مگر میں محض سوچتے سوچتے نہیں بلکہ اپنی ساری حسیات کے ساتھ کہیں اور نکل گیا ہوں ۔ میرے پرائمری سکول کا زمانہ تھا، جی اپنے محلہ ملکاں والے سکول کا زمانہ ۔ خوشخطی کا مقابلہ چل رہا تھا ۔ میں آلتی پالتی مارے بیٹھا، گھٹنوں پر تختی رکھے لکھنے میں مصروف تھا کہ استاد محترم میرے پاس آکررک گئے اور دیکھتے رہے ۔ استاد محترم کا یوں رک کر دیکھنا مجھے اچھا لگا اور میں اور بنابنا کر لکھنے لگا ۔ مجھے یاد ہے اُس روز خوشخطی کا مقابلہ میں نے جیتا تھا ۔ یاد رہے جس قلم سے میں لکھ رہا تھا وہ میرے والد صاحب نے سرکنڈے سے بنا کر دی تھی ۔ وہ سرکنڈے کے بالشت بھر ٹکڑے کے ایک سرے پر تیز دھار چھری ترچھی رکھ کر تراشتے اور پھر اسے ترچھا چھیلتے چھیلتے اتنا صاف کر دیتے کہ وہاں چھونے پر انگلی کے پھسلنے کا گمان ہوتا تھا ۔ جب یہ مرحلہ مکمل ہوجاتا ہو وہ نہایت احتیاط سے قط لگاتے ، قلم سے جتنا موٹا لکھنا ہوتا، اس حساب سے ۔ پھر وہ قط کے عین وسط میں، مگر کچھ اوپر چھری کا کونا چبھودیتے۔ جب یہ قط عین وسط یوں چھری کی نوک چبھونے سے ذرا سا چِر جاتا تو مجھے ہمیشہ اُلجھن ہوتی کہ ابا جی اتنی محنت کے بعد آخر ایسا کیوں کرتے ہیں ۔ یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس حیلے سے قلم میں سیاسی پکڑنے کی قوت بڑھ جاتی تھی اور اس میں قدرے لچک بھی پیدا ہو جاتی جو حروف لکھتے ہوئے ان میں ایک حسن پیدا کر دیتی تھی۔ میرے لیے اپنا وجود بھی اس قلم جیسا ہے ، نفاست سے بنایا گیا ایساقلم، جسے سیاسی کی دوات میں ڈبویا جاتا تو اس پر سیاہی نہ رک سکتی تھی، اس لیے یہ قط کے اوپر عین وسط میں چرکا لگا کر ذرا ساچیر لیا گیا ہے۔یہ چیر وہ دُکھ ہیں جنہوں نے مجھے زندگی کی تخلیقی جہت کے مقابل کیا ہے ۔ اگر آپ کی مراد کسی ایسے حرفِ اول سے ہے تو اس کو میں نے ایک گفتگو میں یوں بتا رکھا ہے کہ ایساتجربہ پاکستان کے ٹوٹنے والے دن سے جڑا ہوا ہے۔ ابا جان حواس کھوبیٹے تھے انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ پاکستان ٹوٹ گیا تھا اور میں انہیں دکھ میں یوں تڑپتے دیکھ کر گھر کے ایک کونے میں کاغذ پر کچھ لکیریں کھینچ رہا تھا شاید وہی میرا حرف اول تھا۔ میٹرک میں تھا جب میرا پہلا مضمون چھپا تھا اور یونیورسٹی کا طالب علم جب نے پہلی کتاب لکھی تھی، پیکر جمیل ۔ بس تب سے اب تک جب بھی لکھنے بیٹھتا ہوں یوں لگتا ہے کہ پہلا حرف لکھنے جا رہا ہوں کہ تخلیقی لفظ تو ہر بار ، اپنی نئی معنویت کے ساتھ پہلی بار ہی جنم لیا کرتا ہے ۔ 
س: اگر آپ کو اپنی پہلی تحریر کے بارے میں کچھ یاد ہو تو بتا دیں۔آپ کا لکھا پہلی دفعہ کس پلیٹ فارم سے شائع ہوا؟
ج: جی بتا چکا ہوں کہ وہ ایک مضمون تھا ، نظام تعلیم کے حوالے سے ، میٹرک کا طالب تھا ،تب لکھا تھااور چوں کہ نوائے وقت راولپنڈی باقاعدگی سے ہمارے گھر آیا کرتا تھا ، اسی کو بھیج دیا ، جو اس میں شائع ہو گیا تھا۔ 
س: آپ نے 2017میں تمغہ امتیاز بھی حاصل کیا، کیسا محسوس کرتے ہیں؟
ج: ریاست کی طرف سے ، بڑے قومی اعزازت میں سے ایک کا ملنا مجھے بہت اچھا لگا تھا اور خدا کا شکر ادا کیاتھا ۔ تب یہ اور بھی اچھا لگا تھا کہ جب افتخار عارف، فتح محمد ملک، جلیل عالی، حارث خلیق اور دوسرے ممتاز ادیبوں نے اس خوشی میں میرے اعزاز میں دعوتوں کا اہتمام کیا اور ملک بھر کے اہم لکھنے والوں کی طرف سے مبارکبادوں کا تانتا بندھ گیا ۔ مجھے اندازہ ہی نہ تھا کہ لوگ مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں ۔ اس پر جتنا بھی خدا کا شکر ادا کروں کم ہوگا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ لکھنے والا ایسے اعزازت کے حصول کے لیے نہیں لکھتا ۔ تخلیقی عمل سے جڑنا خود سب سے بڑا اعزاز ہوتاہے اوریہ اعزاز انہی لوگوں کا مقدر ہوا کرتا ہے جو اس عمل سے اخلاص کے ساتھ جڑے رہتے ہیں ۔ میری زندگی بھرکی کمائی یہ اخلاص ہی تو ہے۔ اور یہ ایسی دولت اور اعزاز ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ 
س: اب تک کتنی کتابیں شائع ہوئیں اور کن ناموں سے؟،کتنی زیرِطبع ہیں؟
ج:میری پہلی کتاب ، پیکر جمیل، جو طالب علمی کے زمانے میں لکھی ، کی اشاعت سے دس سال بعد میرے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’بندآنکھوں سے پرے‘‘ ۱۹۹۴ء میں شائع ہواتھا اور اس تاخیر کا سبب یہ ہے کہ ابا جی کی وفات کے بعد میرے اندر لکھنے کی تاہنگ بھی جیسے مر گئی تھی ، حتی کہ میری پوسٹنگ مری میں ہو گئی ، یہ ۱۹۹۰ کا سال تھاکہ میں نے ’’برف کا گھونسلا ‘‘ لکھا تھا ، پھر چل سو چل ، تاخیر کی دوسری وجہ یہ رہی کہ اول تو میں لکھ ہی نہیں رہا تھا اور جو کچھ لکھا تھا وہ ادھر ادھر ہو گیا ، تاہم بعد کا سفر ہموار رہا ۔ میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ’’ جنم جہنم‘‘ ۱۹۹۸ء میں آیا۔ ۲۰۰۴ء میں تیسرا مجموعہ ’’ مرگ زار‘‘ اور’’ آدمی ‘‘ یعنی چوتھا مجموعہ ۲۰۱۳ ء میں شائع ہوا ۔ پانچواں مجموعہ بھی تیار ہے۔ ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ کے نام ناول ۲۰۰۷ء میں چھپا ۔اپریل ۲۰۱۵ء میں افسانوں کا انتخاب ’’دہشت میں محبت‘‘کے عنوان سے شائع ہوا جس میں نئے افسانے بھی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ تنقید کی کتابیں، جیسے ’’ادبی تنازعات‘‘، ’’اردو افسانہ صورت و معنٰی‘‘، ’’کہانی اور یوسا سے معاملہ‘‘،’’اردو فکشن: نئے مباحث‘‘،’’سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘ ،’’راشد ، میرا جی ، فیض :نایاب ہیں ہم‘‘ وغیرہ شامل ہیں، اور دوسری کتب اپنے اپنے وقت پر شائع ہوتی رہیں ۔ 

س: آپ نے اپنے افسانوں میں زیادہ تر کن موضوعات کو زیر بحث لایا ہے؟
ج:یہ تومیرے قارئین اور ناقدین کا کام ہے کہ وہ میرے افسانوں میں برتے گئے موضوعات نشان زد کریں ۔ افسانہ لکھنا دراصل ایک صورت حال کو حسی اور وجودی سطح پر کہانی میں ظاہر کرنا والا عمل ہے ۔ ایک موجود کائنات کے مقابل ، اسی جیسی مگر اس سے زیادہ بامعنی کائنات کی تشکیل ۔ موضوعات پر مضامین لکھنے جاتے ہیں اور جن لوگوں نے بھی محض موضوعات برتنے کے لیے افسانے لکھنے کی کوشش کی ، انہوں نے اس تخلیقی عمل کو اتھلا بنا دیا ۔اس تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ سارے عصری قضیے موضوعات میں بٹ کر اس فضا میں موجود ہوتے ہیں جس سے ایک فکشن لکھنے والے کو معاملہ کرنا ہوتا ہے ، اس لیے وہ خود بخود متن کے تانے بانے کا حصہ ہوتے چلے جاتے ہیں جنہیں تنقیدی عمل میں نشان زد کیا جاسکتا ہے۔ میرے ہاں بھی ایسا ہوا ہے۔ میں ایک گھر میں رہتا ہوں؛ باپ،بھائی، بیٹے اور شوہر کے رشتوں میں بندھا ہوا ہوں، ایک سماج میں رہتا ہوں اور اس معاشرت میں اپنا ایک کردار ادا کرنے پر مجبور ہوں ، ایک ملک کا شہری ہوں جس کے مجھ سے کچھ تقاضے ہیں ، اس دنیا میں رہتا ہوں جس کی اپنی وسعتیں اور اپنے اپنے مفادات ہیں اور ان مفادات کا بیانیہ متشکل کرتی اصطلاحوں کی اپنی اپنی تعبیریں ہیں ۔یہ دہشت کا زمانہ ہے ،بازار کا زمانہ ہے ، دوسروں کو صارف بنائے چلے جانے کا زمانہ ہے ،سائنس اور ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے، مذہب کی پسپائی اور تہذیبی انہدام کا زمانہ ہے اور یہ سب کچھ میرے افسانوں کے تانے بانے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کوئی بھی تخلیق کار لکھتے ہوئے عصری حسیت سے کنی کاٹ کر کیسے نکل سکتا ہے ، یہ سب کچھ میری حسیات کا حصہ ہوا ہے اور انہی حسی راستوں سے میرے افسانوں کا حصہ بھی ہوا ہے ۔ 

ٰExclusive interview M Hameed Shahid

س: آپ ناقد بھی ہیں تنقید کے نظریات میں جدیدیت ، مابعد جدیدیت اور ساختیات ، پس ساختیات جیسی اصطلاحات منظر عام پر آئیں، موجودہ عہد میں ان نظریات کے کیا خدوخال ہیں؟
ج : دیکھئے جن تنقیدی نظریات کی آپ بات کر رہے ہیں یہ تنقید نہیں بلکہ تنقید کے نام پر یا پھر تنقید کے اندر در آنے والے رجحانات ہیں اور یاد رکھیے رجحان چاہے کتنا ہی مفید کیوں نہ ہو اس کا دورانیہ ہمیشہ مختصر ہوتا ہے ، ایک رجحان کو دوسرا بدل دیا کرتا ہے ۔ تاہم ایسے رجحانات گزر چکنے کے بعد کچھ نہ کچھ عطا کر جاتے ہیں ، بالکل ایسے ہی جیسے باڑھ کا زور ٹوٹنے پر سیلاب کا پانی زرخیز مٹی کی تہہ بچھا کر گزر جایا کرتا ہے۔ پہلے یہ سمجھنا اہم ہے کہ آخر یہ تنقید ہے کیا ؟تنقید کا لفظ ہم نے عربی کے لفظ ’’نقد‘‘ سے اَخذ کیا ہے ۔ پرکھ کر کھوٹا کھرا الگ کر دینا ۔ انگریزی میں اصطلاح ’’کرِٹے سسزم ‘‘ یونانیوں سے آئی ، معنی وہی ، عربی والے ۔تاہم ادبی تنقید کا بنیادی وظیفہ تین جہتوں والا ہے ۔ پہلی جہت میں یہ فن سے معاملہ کرتی ہے ، اس کی تیکنیک کو پرکھتی ہے ، اس کے آہنگ کو آنکتی ہے ۔ فن پارے کے تخلیقی امتیازات اور اس کی تیکنیکی نوعیت طے کرنے کے بعد تنقید جس دوسری بات کو اپنا قضیہ بناتی ہے، وہ اس میں برتی گئی زبان اور موضوع کے بیچ توازن کی تلاش ہے۔تنقید کی تیسری جہت ،فن پارے کو مکمل صورت میں آنکنا اوراسے مجموعی صورت حال میں رَکھ کراس کی تعیین قدر کرنا ہے۔رُتبہ شناسی اور درجہ بندی کے اس عمل سے تنقید دراصل فنی معیارات کی برتر سطوح سامنے لا رہی ہوتی ہے اور اس باب میں ہونے والے ارتقا ، ارتفاع اور نمایاں انحرافات کو بھی زیر بحث لاتی ہے۔ یہ وہ سارا عمل ہے جس میں ایک خود کار نظام کے تحت تنقید کے اپنے اصولوں کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا نئی اصطلاحوں کے رسیا لوگوں کے ہاں تنقید یہ بنیادی وظیفہ ادا کر رہی ہے ۔ اگر نہیں تو پھر یہ محض فلسفیانہ مباحث ہو جائیں گے تنقیدنہیں ۔ ایک تخلیق کارکی حیثیت سے میرا تجربہ یہ ہے کہ تخلیقی عمل میں رہ کر ان بھیدوں کی کارگزاری کا تجربہ کرنا اور فن پارے کی تخلیق کے بعد کچھ وقفے سے اس سارے عمل کا تجزیہ کرنا ہمیشہ ایک سے نتیجے پر نہیں پہنچایا کرتا ۔ یہ تنقید ہی ہے جو اِن فاصلوں کو پاٹتی ہے ،تخلیقی صورت حال کو دوسری اخذ کردہ صورت حال پر منطبق کرتی ہے اورمنطق مارے ذہنوں کے لیے کچھ اصول وضع کرتی ہے۔ نئی تنقید کی کچھ اپنی الجھنیں ہیں مثلاً دیکھئے نئی تنقید تخلیقی متن میں معنی کو غیر متعین جان کر اس کی نامیاتی وحدت سے کوئی سروکار نہیں رکھ رہی ۔ ایسے میں تخلیقات کے مرکزے میں موجود بنیادی سوالات کووہ اہمیت کیوں کر دی جا سکتی ہے جو فی الاصل انسانی زندگی سے جڑکر ادبی سوالات بنتے ہیں ۔ تنقید کابنیادی وظیفہ یہی ہے کہ وہ روح عصر کو تخلیقی متون سے دریافت کرے۔ ایسا متن کی توضیح اور تعبیر ہی سے ممکن ہے محض اور صرف قرآت کے نئے تصوارات رائج کرنے سے نہیں ۔اچھا ،تنقید کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ادب صرف بین المتونی مظہر نہیں ہے۔ بجا کہ ایک متن کا رشتہ دوسرے متون سے ہوتا ہے مگر تخلیق کا دوسرے متون سے بنیادی فرق جس سے قائم ہوتا ہے، اسے بھی یاد رکھنا ہوگا کہ وہ الگ تخلیق کاروں کی توفیقات ہیں ۔ ایک ہی زمانے میں اور ایک ہی موضوع پر لکھنے والے اگر اپنے اپنے تخلیق پاروں کو یکسر مختلف سطح عطا کر دیتے ہیں تو تخلیق کار اور اس کے زمانی حوالے بھی ایک نئی معنویت پاتے ہیں ۔ دونوں کونظر انداز کرکے فن پارے کی تعیین قدر ممکن ہے نہ تحسین اور تعبیر کے تقاضے نبھائے جا سکتے ہیں۔ 
س: ادب میں مصاحبہ انٹرویو کی اہمیت و افادیت کیا ہے؟
ج: کئی حوالوں سے اہم یہ مصاحبے اور مکالمے کا عمل ۔ مکالمہ ان دریچوں کو کھولتا ہے جن کی طرف عام حالات میں دھیان نہیں جاتا ہے ۔ جس سماج میں مکالمہ کی روایت مستحکم نہیں ہوتی اس میں تشدد پروان چڑھتا ہے ۔ عام طور پر اپنے نظریات سے وابستہ ہونے کے دعویٰ کی بنیاد پر دوسروں کی اچھی باتوں کو بھی رد کیے چلے جاتے ہیں ۔ مکالمہ ان فاصلوں کو پاٹتا ہے ۔ انٹرویو کا فن بھی دراصل ایسے ہی مکالمے کی ایک صورت ہے بشرطیکہ یہ روا روی میں نہ کیا گیا ہو۔ 
س: آج کل بہت سے ادیب قارئین کے نہ ملنے کا رونا روتے ہیں۔ کیا آپ کے ہاں بھی ایسا ہے؟
ج: یہ رونا کس زمانے میں نہیں ہوا ۔ سمجھ لینا ہوگا کہ تخلیقی ادب کبھی بھی فرنٹ شیلف کا آئٹم نہیں رہا ۔ آپ دنیا بھر میں جہاں جائیں گے یہی دیکھیں گے کہ بک اسٹورز پر تخلیقی ادب کی کتب بیک شیلف پر پڑی ہیں ۔ فرنٹ شیلف پر جنس اور فیشن کے مواد پر مشتمل رسالے کتابیں،فن کاروں ، کھلاڑیوں اور سیاست دانوں کی سوانح عمریاں یا پھر پاپولر لٹریچر پڑا ملے گا، ایسا زود ہضم ادب جسے ادب ماننے میں آپ کو تامل ہوگا ۔ اچھا ادب تو پیچھے پڑا ہوتا ہے ۔ جسے فن کاروں، کھلاڑیوں یا سیاست دانوں کی طرح مشہور ہونا ہے ،اسے ادب کی طرف نہیں آنا چاہیے ۔ کہ اس کے قارئین ہمیشہ محدود ہوتے ہیں ، تاہم یہی وہ باذوق طبقہ ہے جس کی وجہ سے ادب کا وقار قائم ہے ۔ ایک اور پہلو سے دیکھیں تو بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ کتاب پڑھنے والے کم ہو رہے ہیں ۔ یہ ٹیکنالوجی کی بالا دستی کا زمانہ ہے ، اور لگتا ہے جیسے کتاب پچھڑ گئی ہے۔ محض کتاب نہیں بہت کچھ پچھڑ گیا ہے ۔ ہم وہ جنریشن ہیں جس نے بہت تیزی سے بہت کچھ بدلتے دیکھا ہے۔ ہمارے سامنے ٹیلی وژن آیا اور سمارٹ ہوتا گیا،ڈائل گھمانے والا ٹیلی فون غائب ہوگیا، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، آڈیو کیسٹ ، وی سی آر غائب ہوکر سیل فون جیسے ایک چھوٹے سے آلے میں سما گئے، دنیا سمٹ گئی ، کتابیں سوفٹ ہو گئیں ، آوازیں امیجز کے ساتھ محو سفر ہیں ، ایسے میں ادب کا محدود قاری اگر پہلے کی طرح موجود ہے تو یہ کم اہم واقعہ نہیں ہے ۔اور ہاں ، یہ تاثر بھی غلط ہے کہ ادب پہلے کے مقابلے میں کم پڑھا جارہا ہے، بس یوں ہے کہ میڈیا کی دلچسپی کی شے نہیں ہے ۔ ورنہ ذرا کتب فرشوں ، ناشروں اور پریس والوں کے ہاں جاکر دیکھیں وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ چھاپ اور بیچ رہے ہیں اور ان کے کاروبار پہلے سے بڑھ گئے ہیں ۔ رہی اپنی بات تو مجھے اپنے قاری سے کوئی گلہ نہیں ہے ۔ 
س: جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے کیا میڈیا کسی کو بڑا شاعر یا ادیب بنا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟
ج: میرا جواب ہے نہیں، اور کیوں کا جواب یہ ہے کہ خالی کنستر بجتا تو زور سے ہے مگر اس میں سے نکلتا کچھ نہیں ۔ جب پڑھنے والے ، ایسے مشہور ادیبوں کا کام آنکیں گے تو وہ کہاں ٹھہر پائے گا۔ اپنے زمانے میں گم نام رہنے والے ادیب آنے والے زمانوں میں اپنے کام کی وجہ سے توقیر پاتے ہیں اور اپنے زمانے کے مشہور ادیب رد گم نام بھی اس لیے ہو جاتے ہیں کہ ان کے کام میں قائم رہنے کی سکت نہیں ہوتی۔ س: کیا کسی ادیب کا اپنی زندگی میں شہرت حاصل کر لینا بری بات ہے؟
ج:ایک لکھنے والے یہ کہہ رکھا ہے کہ اپنے زمانے میں تیزی سے مشہور ہونے والے ادیب آنے والے زمانوں میں جلد بھلا دیے جاتے ہیں ۔ میں اس کہے کو اصول بنا کر پیش نہیں کر رہا ، بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کام کے بجائے محض میڈیائی شہرت پائیدار نہیں ہو سکتی ہاں اپنے کام کے سبب کوئی جانا پہچانا جانے لگے تو اسے انہونی بھی نہیں کہا جاسکتا۔ کبھی کبھی وقت موافق ہو جاتا ہے اور قبولت کا عمل تیز ہو جایا کرتا ہے۔ 

س: اردو ادب کی ایسی کون سی شخصیات ہیں جن سے آپ کی ذہنی و قلبی قربتیں رہی ہیں؟
ج: بہت سے ادیب ہیں جن سے مجھے ملنے اور ان سے مکالمہ کرنے کے مواقع ملتے رہے۔جب فیصل آباد میں تھا تو ریاض مجید، انور محمود خالد، احسن زیدی سے لے کر تب کے نوجوانوں میں انجم سلیمی اور کاشف نعمانی تک سب سے رابطے میں تھا، اسی دور میں وزیر آغا سے سرگودھا میں اوراحمد ندیم قاسمی، اشفاق احمداور انتظار حسین سے لاہور میں رابطے ہوئے ۔ اسلام آباد آیا تویہاں ممتاز مفتی، منشایاد، مسعود مفتی، رشید امجد ،کشورنا ہید، افتخار عارف، فتح محمد ملک، جلیل عالی،علی محمد فرشی، نصیر احمد ناصر، پروین طاہر، فرخ یار سب سے ملنے ، بات کرنے کے مواقع ملے،کراچی گیا تو مشتاق یوسفی،ڈاکٹر اسلم فرخی،زاہدہ حنا، سے آصف فرخی، مبین مرزا اور اخلاق احمد تک سب سے ملاقاتیں رہیں۔دلی گیا تو شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی سے لے کر خالد جاوید سے ملنا ملانا رہا۔ مختلف ممالک میں گیا تو وہاں کے ادیبوں سے ملنا رہا۔ اب تو انٹر نیٹ کا زمانہ ہے ۔ کہیں بھی کسی سے بات کرنا بہت آسان ہو گیا ہے سو سب سے رابطے رہتے ہیں۔میں وہ خوش بخت ہوں جس کے کام پر ممتاز مفتی،شمس الرحمن فاروقی، منشایاد، محمد عمر میمن ، ستیہ پال آنندسے لے آصف فرخی، ناصر عباس نیر، امجد طفیل، ضیا الحسن ، مبین مرزا، نجیبہ عارف اور ان جیسے دوسرے جید ادیبوں نے لکھا۔ ان سے مکالمے کا مجھے اعزاز ہے ۔ محمد عمر سے ماریو ورگس یوسا کی کتاب اور فکشن کے موضوعات پر میرے مکالمے کی پوری کتاب چھپ چکی ہے ۔ سب ہی عمدہ لکھنے والے میرے دِل کے قریب ہیں۔ 
س : نوجوان ادیبوں و شاعروں کے لئے کوئی پیغام؟
ج : بس ایک پیغام ہے کہ ادب لکھنے سے پہلے زندگی کو انسانی سطح پر جینے کا چلن اختیار کیجئے ، میں اوپر کہی ہوئی بات ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ انسانی سطح پر جینا محض مادی سطح پر یا نامیاتی سطح پر جینا نہیں ہے ، انسانی سطح پر جینے کا شعور اور مسلسل مطالعہ آپ کے فن کو نکھارے گا اور اسے بامعنی بناتا چلا جائے گا۔ 
س: سرگرم نیوز کی ادبی کاوشوں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج: مختلف نظریات اور سیاسی وابستگیوں والے سماج میں افرادمختلف گروہوں میں منقسم ہو کر دورہوتے رہتے ہیں ۔ ادب مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے آدمیوں کو بہم کرتا اور انہیں حسیاتی سطح پر قریب کرتا ہے ۔ سرگرم نیوز کی ادبی فروغ کی کاوشیں اس نقطہ نظر سے قابل قدر سماجی خدمت ہو جاتی ہیں۔ 

Back to Conversion Tool

Urdu Home

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد کا افسانہ اورعصر کی گواہی : ایک نیوز رپورٹ

                  قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *