M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / محمد حمید شاہد|تانیثیت، مشرقی نسائی مزاج اور ہماری شاعرات

محمد حمید شاہد|تانیثیت، مشرقی نسائی مزاج اور ہماری شاعرات

(کچھ ناموں کی تلاش میں ایک مہم)

جس موضوع میں بات کرنا چاہتا ہوں وہ کئی حوالوں سے اہم ہے اور کئی اعتبار سے ہمارے ہاں مغالطہ انگیز ۔ اچھا اس باب میں مغالطے وہاں بھی کم نہیں جہاں سے ہم نے اسے عین مین اخذکرنا چاہا ہے ۔ ایک لطف کی بات یوں ہے کہ خواتین کی آزادی کی بابت جتنا وضاحت کے ساتھ مردوں نے لکھا اور اسے تھیوری بنا کر جس طرح ادب کا مسئلہ بنا دیا ، اس کا کریڈٹ بھی مردوں کو جاتا ہے پھرجو عورتیں علم لے کر نکلیں مگر ان عورتوں کو بھی یقین مرد کے کہے کا آیا تھا ۔ جی، یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا کہ لگ بھگ ایسا ہی Alicia Suskin Ostriker نے کہا تھا ۔ مجھے یاد ہے ریاض صدیقی نے اسی بابت ایک مضمون میں ، جو غالباً1992یا1993میں وزیر آغا کے جریدے ’’اوراق‘‘ کے ایک شمارے میں چھپا تھا، Alicia Suskin Ostriker کو مقتبس کیا تھا ۔ Alicia Suskin Ostriker کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ہمارے دوست محمد عمر میمن والی وسکانسن ، میڈیسن ،امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ۔ یہ خاتون شاعرہ ہے ،نظموں کی دس کتابیں چھپ چکی ہیں مگر تنقید کی کتب بھی دیں ۔ ان میں سے ایک The Emergence of Women’s Poetry in America ہے جو غالباً 1986 میں چھپی تھی ۔ یوں اس شاعرہ کا کہا ہم ایک ہی ہلے میں ایک طرف نہیں پھینک سکتے۔ پھر ایسا بھی تو ہے کہ لگ بھگ یہی بات ہمارے منٹو صاحب نے بھی کہہ رکھی ہے؛ جی سعادت حسن منٹو نے ، وہی جو اپنی تخلیقی واردات میں ہر بار کسی نہ کسی کمزور عورت کے ساتھ جا کھڑے ہوتے ہیں۔ آپ اگر منٹو صاحب کے افسانوں کے مردود کرداروں کی فہرست بنانا چاہیں گے توان میں کام کا مرد شاید ہی نکل پائے منگو کوچوان سا ، سب اس درگاہ کے دھتکارے ہوئے نکلیں گے۔ ان ہی منٹو صاحب کا کہا بھی یہاں مقتبس کرنا چاہتا ہوں۔ دامودر گپت کی قدیم سنسکرت کتاب ’’نٹنی منم ‘‘ کا میرا جی نے اُردو میں ترجمہ کیا تو اس کا دیباچہ کھتے ہوئے منٹوصاحب نے لکھا تھا:
’’۔۔۔ سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ ان تمام باتوں کو قلم بند کرنے والا ایک مرد ہے۔۔۔ یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے اس لیے کہ عورت خواہ وہ بازاری ہو یا گھریلو، خود کو اتنا نہیں جانتی جتنا کہ مرد اس کو جانتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عورت آج تک اپنے متعلق حقیقت نگاری نہیں کر سکی۔ اس کے متعلق اگر کوئی انکشاف کرے گا تو مرد ہی کرے گا۔ ‘‘
اگرچہ’’ نٹنی متم ‘‘کا وہ ترجمہ جو شاعر میرا جی نے کیا تھا،وہی منٹو کے پیش نظر تھا مگر منٹو صاحب تھے تو افسانہ نگار۔سو یہ افسانہ نگار کی باتیں ہیں آپ چاہیں تو انہیں ایک طرف اچھال کر منہ موڑ سکتے ہیں ۔مگر کیا آپ مرزا رسو کی ’’امراؤ جان ادا‘‘ کو بھی ایک طرف رکھ پائیں گے۔ گویا یہ اصول نہیں مانا جا سکتا کہ مرد نے عورت کی حسیت کوسمجھا نہیں ہے ؛ایسے میں، خلوص نیت سے چاہنے لگا ہوں کہ کاش کوئی منٹو صاحب کی اس بات کو ردکر دے کہ عورت اپنے بارے میں حقیقت نگاری نہیں کر سکتی ۔ ایک بار ممتاز مفتی سے بھی میں نے اپنے دل میں پیدا ہونے والی اس خواہش کا ذکر کیا تھا۔ مفتی جی کا کہنا تھا ؛عورت کی فطرت کے قریب کا عمل اس کا دیکھنا نہیں ،اُس کا دِکھنا ہے، اسی میں وہ لطف پاتی ہے۔ وہ نسائی شاعری جس میں یہی دِکھنے کی چاہ اور چاہے جانے کی تمناہے ؛نسائی حسیات سے قریب تر ہے۔ خیر یہ ایک نقطہ نظر ہے ہمارے ہاں ؛سو اسے بھی نگاہ میں رکھیے۔اچھا ایک دلچسپ بات خالدہ حسین نے بھی کہہ رکھی ہے، یہ بات مفتی جی کی بات سے بہت الگ ہو جاتی ہے، نقل کیے دیتا ہوں:
’’دیکھا جائے تو مرد بھی وہی اعلیٰ ادب تخلیق کر رہے ہیں جن میں کچھ نسائی حِس ظہور کرتی ہے ۔جو اپنے ’’اینی ما‘‘ کو قبول کر لیتے ہیں۔‘‘
اوہ ایک بار پھر فکشن نگاروں کے حوالے لے آیا ؛ شاید فکشن لکھتا ہوں ، اسی لیے یہی میرے دماغ میں گھسے ہوئے ہیں ۔ خیرموضوع کا تقاضا ہے کہ مجھے نسائی شاعری پر نظر مرکوز رکھنی ہے، ادھر ادھر نہیں بھٹکنا بہکنا ۔ نہ خود الجھنا ہے نہ اس باب میں آپ کو اُلجھانا ہے ۔
یوں کرتاہوں کہ آپ کو ایک اہم کتاب کی طرف آپ کو لے چلتا ہوں ۔ بہت کام کی ہے یہ کتاب۔جی، یہ ہے زاہدہ حنا کے مضامین کا مجموعہ ’’عورت:زندگی کا زندہ نامہ‘‘۔ کوئی دس سال پہلے، یعنی2004میں آصف فرخی نے اسے اپنے ادارے ’’دنیا زاد‘‘ سے چھاپا تھا ۔اگرچہ اس ایک موضوع میں کئی ضمنی موضوعات کو سمیٹا گیا ہے؛ ماں سے باپ کی حکمرانی تک کے سفر کی کہانی، ذرائع ابلاغ کا منفی کرداراور پاکستانی عورت کی آزمائشوں کا بیان تاہم ادب بھی اس میں خوب خوب زیر بحث آیا ہے۔ ادب کی ذیل ہی میں ایک مضمون کا عنوان ہے؛’’برصغیر کی تین اولین ادیب عورتیں‘‘۔ اس میں جہاں انیسویں صدی کے بنگال اور بہار کی تین خواتین؛ رشندری،رشیدالنساء اوررقیہ سخاوت حسین کا ذکر ہے وہیں 1906ء میں قائم ہونے والا’’بیتیا ہاؤس گرلز اسکول کے سالانہ جلسے کا دلچسپ ذکر بھی موجود ہے۔ اس جلسے میں ہندو اور مسلم اشرافیہ کی خواتین نے ذوق و شوق سے شرکت کی تھی اور رشید النساء کی بیٹی(اور بہار کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ)نثار کبریٰ نے ایک نظم سنائی تھی۔ یہ نظم آپ کی دلچسپی کے موضوع سے متعلق ہو گئی ہے۔ یاد رہے یہ نظم لیڈی بیلی کی صدارت میں سنائی گئی تھی اور اس نے خوب داد پائی تھی۔ نظم مقتبس کرتا ہوں:
کسی کام کے بھی نہ قابل ہیں نسواں
فقط نیم وحشی میں داخل ہیں نسواں
عزیزوں کے ہاتھوں سے گھائل ہیں نسواں
ہر اک قوم سے بڑھ کے جاہل ہیں نسواں
برے ایسے ہیں ان کے مقسوم، دیکھو
انہیں عظمیٰ نعمت سے محروم دیکھو
رشید النساء کا معمول تھا کہ شام کو جب شمع روشن کی جاتی تو وہ اپنی بیٹیوں،بھانجیوں،بھتیجیوں، محلے کی عورتوں ، گھر کی ماماؤں اور دائیوں کوقصص الانبیا کے ساتھ ساتھ دوسری کتابیں سناتیں ۔ تو یہ نثار کبریٰ عظیم آبادی کی تربیت گاہ تھی ۔ وہ اُردو فارسی ہندی اور انگریزی جانتی تھیں۔وہ سات سال کی ہوئیں تو انہوں نے ایک مناجات لکھی ،جس پر اصلاح شاد عظیم آبادی نے دی تھی ۔ عورت کے لیے جہالت کا وہ تصورجو اوروں کے لیے قابل قبول تھاوہ کہاں تک رشید النساء کے لیے قابل قبول ہو سکتا تھا اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہوا یوں کہ نثار کبریٰ نے ایک ایسی مثنوی لکھی جس کا اِدھر اُدھر بہت چرچا ہوا۔ نظم گھر کے مردوں میں پہنچ گئی تو باہر کھلبلی مچ گئی۔ نثار کبریٰ کے بھائی غلام مولیٰ نے نظم پڑھی غصے میں آپے سے باہر ہوئے ، سیدھا ماں کے پاس پہنچے ،نظم انہیں دکھاتے ہوئے کہا:
’’لڑکیوں کو لکھنا پڑھنا کیا اس لیے سکھایا گیا ہے کہ وہ مرزا سودا بن جائیں اور لوگوں کی ہجوویں کریں‘‘
بیٹے نے ماں سے غصے میں کیا کچھ نہ کہا ہوگا ؛پھر نظم کے ٹکڑے کیے اور وہاں پھینک کر چلتا بنا۔ بیٹے کا یہ رویہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہمارا موضوع تو یہ ہے ماں ،یعنی رشید النسا ء کا ردعمل کیا رہا ،کہ یہ یہاں بہت اہم ہو جاتا ہے۔رشید النساء ، جو لڑکیوں پر کسی قسم کی کتاب پڑھنے پر پابندی نہیں لگاتی تھیں، بیٹے کی باتیں چپ چاپ سنتی رہیں، بیٹے نے نظم پھاڑ کر پھینک دی ، وہ پھر بھی چپ رہیں۔ اچھا آگے چلیں اسی پڑھی لکھی نثار کبریٰ کی شادی جب ایک عالم فاضل مگر دم گھونٹ دینے والے گھرانے میں سولہ برس کی عمر میں کر دی جاتی ہے ،تب بھی ماں نہیں بولتی۔ نثار کبریٰ کا کہنا تھا کہ اس کے سسرال کا باوا آم ہی نرالا تھا جو باتیں ان کی سمجھ میں اچھی تھیں ،سسرال میں وہ بری ہو گئی تھیں ۔ خیر ، مجھے نثار کبریٰ کی ہجوسے اقتباس دینا ہے ، وہ ہجو جو مولوی میر حسن کی طرز پر لکھی گئی تھی اورجس نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا ۔لیں نقل کر رہاہوں:
نزاکت سے سارے اٹھائے ہوئے
زمیں پر نظر کو جھکائے ہوئے
عجب حال سے گھر میں داخل ہوئی
طرف کام کے اپنے مائل ہوئی
تو یوں ہے صاحب کہ ہمارے ہاں شروع ہی سے عورت خود عورت کے حوالے سے ایک مخمصے کا شکار رہی ہے ۔ کچھ امور میں وہ مرد کی نظر سے دیکھتی ہے، اور اپنی رضا سے دیکھتی ہے۔ اچھا ،عورت انسان ہے اور مرد بھی انسان ، تو کہہ لیجئے اس باب میں دونوں برابر ہیں کہ ایک ہی نوع سے ہیں۔ مگر صنف اور گروہ کے لحاظ سے ایک اختلاف بھی موجود ہے ۔ یہ اختلاف دونوں گروہوں کی شناخت مختلف کرتا اور باہمی تعلق کے اصول وضع کرتا اور صنفی تعلقات کی حدود متعین کرتا ہے ۔ ظاہر ہے یہ دونوں گروہ ایک معاشرے میں ہوتے ہیں ، ایک سماج کا حصہ ہوتے ہیں ، ایک وسیب میں رہتے ہیں ، کسی علاقے سے وابستہ ہوتے ہیں، مذہبی ہوتے ہیں یا لامذہبی ، کسی رشتے میں بندھے ہوتے ہیں یا انجان اور یہ ساری باتیں اس خاص حوالے سے ہی تعلق، حقوق، فرائض وغیرہ جیسے سوالات سے جڑی ہوئی ہیں ، انہیں ایک طرف پھینک دیں گے اور تانیثیت کوان ضابطوں میں دیکھنے کی کوشش کریں گے جو کسی اور معاشرت میں ڈھالے گئے تو بظاہر شور شرابہ تو بہت نظر آئے گا ،مگر ہم اصل مسئلہ سمجھ نہ پائیں گے۔ پھر اس مسئلے کو دوطرح کی شاعرات نے بہت الجھارکھا ہے ۔ انہیں بھی نشان زد کر دیتا ہوں ۔
۱۔ یہ کہ وہ جو تانیثیت کو اپنی حسیات اور تخلیقی سطح پر برتنے کی بہ جائے اسے ایک تحریکی جوش وخروش سے برتنے میں جت جاتی ہیں ۔ یوں تانیثیت تخلیقی تجربے میں ڈھلنے کی بہ جائے نعرہ ہو جاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ جب اردو ادب کی نمایاں تخلیقات کی فہرست سازی ہوتی ہے تو نعرہ ہو جانے والی تخلیقات کسی شمار قطار میں نہیں ہوتیں ، ان کے لیے سماجی اور سیاسی رویوں یا ردعمل کی ذیلی سرخیاں بنانا پڑتی ہیں ۔ مثلاً جس سہولت سے ہم فکشن کے باب میں قرۃالعین حیدر، خالدہ حسین وغیرہ کا نام کسی ذیلی عنوان کے سہارے کے بغیر لے لیتے ہیں کیا ایسا شاعری کے باب میں ممکن ہے، جی فہرست میں اوپر اور سہولت سے لکھنے کے لیے؛ جتنی سہولت سے میں نے فکشن کے میں دو نام لکھ دیے ہیں۔
۲۔ یہ کہ ان میں سے کچھ نے جنسی اظہار میں بے باکی کو ہی تانیثیت یا جدید طرز اظہار سمجھ لیا ہے۔ اس باب میں ایک واقعہ سناتا چلوں۔ کئی سال پہلے کا واقعہ ہے۔ مجھے دہائی دو دہائی سے خوب صورت چلے آنے والی ایک شاعرہ کا فون آیا کہ وہ کتاب کی رونمائی کی تقریب کروانے جا رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ اس میں میں مضمون پڑھوں ۔ میں نے معذرت کرلی کہ بی بی جو شاعری آپ فرما رہی ہیں وہ میری دل چسپی کا علاقہ نہیں ہے۔ اگرچہ ان کے اصرار پر بھی میں نہ مانا مگر اس فون کے بعد انہوں نے قاصد بھیج کر مجھے مضمون پڑھنے پر آمادہ کرنا چاہا۔ ہمارے دوست اصغر عابد بھلے مانس شاعر ہیں ایسی شاعرات کی دل جوئی کا ہنر جانتے ہیں ۔ خاتون شاعرہ کا مطالبہ لے کرمیرے پاس آئے تو میں نے صاف صاف کہہ دیا؛کچھ شاعرات نے عورت کو ایسی جنسی انگیٹھی بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے جو مزاج کے اتھلے مرد قاری کے آنکھیں سینکنے اور اور بدن پگھلانے کا سامان ہو جاتی ہے ۔ محترمہ کی شاعری کو بھی میں اسی ذیل میں رکھتا تھا سو اپنے دوست کے کہنے پر بھی نہ مانا۔ اصغر عابد نے میرے نہ ماننے کا قصہ تقریب میں کہہ دیا اور میرا جملہ یوں رپورٹ کیا:
’’عورتیں وہ جنسی انگیٹھیاں ہیں جن پر مرد اپنی آنکھیں سینکتے اور بدن پگھلاتے ہیں‘‘
بھولے بادشاہ نے، محبت میں اپنے تئیں مجھے مقتبس کیا تھا مگر دیکھا آپ نے کہ یہاں شراب سیخ پر ڈال دی گئی ہے اور کباب شیشے میں۔ یہ مضمون ایک اخبارکا نامہ نگار اصغر عابد سے لے اڑا ۔ اگلے روز میری مذمت میں اسی اخبار نے صفحہ اول کے نچلے چوتھائی حصے میں نمایاں سرخی جمائی اور خوب نمک مرچ مصالحہ لگاکر رپوٹ شائع کی کہ ایک ادیب اس شہر میں ایسا ہے جو عورت کوجنسی انگیٹھیاں کہہ کر اس کی توہین کرتا ہے۔ ایک پھنے خان کالم نگارہیں؛ خیر سے شاعر بھی ہیں، وہ بھی ان خبروں کے اثر میں آگئے اور مجھے رگید ڈالا۔مجھے اپنی ماں بیٹیاں یاد دلادیں۔ تو یوں ہے کہ جس کتاب نے عورت کو محض جنس بنا ڈالا تھا وہ تو پیچھے رہ گئی اور میں نشانے پر آگیا تھا۔ تاہم اس سارے قصے سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ محض جنس بننا نہ تو ہماری عورت کو قبول ہے نہ ہمارے معاشرے کو ، حتیٰ کہ ترقی پسندی اور روشن خیالی کا دم بھرنے والے بھی اس باب میں جذباتی ہو جایا کرتے ہیں اور مشتعل ہوکر اپنے قلم کو خنجر بنا کر اندھا دھند حملہ آور بھی ہو سکتے ہیں۔
خیر بات کچھ اور کر رہا تھا ،کہیں اور نکل گئی ۔ اب اگر معاشرے کے طرز عمل اور ردعمل کا ذکر چل نکلا ہے تو کہتا چلوں کہ میں اور جس علاقے کا رہنے والاہوں ؛وہاں عورت بہت محترم ہے ۔ تاہم اگر میں نے سندھ اورپنجاب کے بہت اندرون جاکر عورت کی حالت زار کو نہ دیکھا ہوتا اور بلوچستان میں گھوم پھر کر لوگوں کے حالات اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے ہوتے تو اس پچھڑی ہوئی عورت کی کھال کے اندر بیٹھ کر میں اس ذلت و رسوائی کا اندازہ نہ لگا پاتا جو اس عورت کو مسلسل جھیلنا پڑتی ہے۔ میں اپنے اس مشاہدے کی بنا پر عورت کی سماجی صورت حال کو تین درجوں میں تقسیم دیکھتا ہوں۔
۱۔ ہمارے ہاں ایسے خاندانوں کی کمی نہیں ہے جہاں عورت کا وجود بہت محترم اور مقدس ہے۔ انہیں حد درجہ احترام اور معاشی سماجی تحفظ حاصل ہے ، وہ احترام کے رشتوں میں بندھی ہوئی ہے اور خاندان کے اہم فیصلوں میں دخیل ہوتی ہے ۔ اگر چہ گھر سے باہر اور معاشی زندگی میں اس کاکوئی حصہ نہیں ہوتا مگر اس کی اسے خواہش بھی نہیں ہے کہ وہ گھر میں اپنے اختیارات کو اپنے لیے کافی اور اہم سمجھتی ہے۔
۲۔ تعلیم نسواں کے رجحان کے بعد خاص کر شہروں اور قصبات میں ایسے خاندانوں کی تعداد بھی رفتہ رفتہ بڑھتی جا رہی ہے، جہاں عورت اوپر بیان کئے گئے منصب سے دست بردار ہوئے بغیر کسی حد تک خاندان کے معاشی وسائل میں اضافے کے لیے گھر سے باہر نکلی ہے ۔ جہاں جہاں گھر اور باہر کا نظام متوازن ہو گیا ہے وہاں وہ اپنے گھر والوں کے منصب دلبری پر بحال رہتی ہے اور جہاں ایسا ممکن نہیں رہتا وہاں ایک کھینچا تانی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ تناؤ بھی زیادہ تر عورت اور عورت کے بیچ تعلق کے ری ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، چاہے اس کا ایک سبب نئے معاشی تقاضے ہی کیوں نہ ہوں۔ (بہت پہلے ولیم ورانگ کونی کی ایک نظم ترجمہ کی تھی ،جس میں بتایا گیا تھا ؛’’ ایک کچن دو عورتوں کے لیے نہیں ہوتا‘‘)
۳۔ ایسے علاقے جہاں قبائلی زندگی ہے وہاں ملا ہو یا سردار اور وڈیرہ، وہ عورت کو غلام سمجھتا ہے یا پاؤں کی جوتی۔ اسے جائیداد سے محروم کرتا ہے اور تعلیم کے حصول کے دروازے اس پر بند رکھتا ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ ایسے علاقوں میں عمومی انسانی صورت حال بھی کوئی قابل رشک نہیں ہوتی ۔ سارے مظلوم طبقات جانوروں سے بدتر ہوتے ہیں ۔ عورت بیچاری تو ایسے سماجی حالات کے چکر میں سب سے زیادہ پس رہی ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں کی نسائی شاعری میں ان تینوں طبقوں کی عورت کی حسیات کو نشان زد کیا جا سکتا ہے۔ ہاں اب بہتر ہوگا کہ میں شاعرات کے نام لکھ دوں جو اپنے قبیلے کی نمائندگی کا فریضہ انجام دیتی رہی ہیں اور دے رہی ہیں۔ اس باب میں آغاز کی کہانی تو اوپر لکھ چکا۔ اسی کہانی میں زاہدہ خاتون شروانیہ(زح خ) کی ۱۹۱۵ء میں لکھی ہوئی ساٹھ بند کی اس مسدس کو بھی شامل کر لیجئے جو ڈاکٹر فاطمہ حسن نے ہماری سہولت کے لیے اپنی کتاب’’فیمنزم اور ہم‘‘ کے بالکل آغاز میں فراہم کر دی ہے۔
حرف ’’عزت‘‘ سے نہیں کان ہمارے آگاہ
سرنوشت رخ نسواں میں ہے ذلت کی نگاہ
کہتے ہیں ’’اپنے تفوق کا ہے قرآن گواہ‘‘
مصحف رب پہ یہ بہتان ،عیاذااً باللہ
کون یہ کہہ کے بنے کشتنی و قابل دار
ترجمہ کیجئے نہ ’’قوام‘‘ کا ’آقا‘ سرکار
تقسیم کے بعد کے زمانے کو دیکھتا ہوں تو اور شاعرات کے ساتھ ساتھ میرا دھیان ادا جعفری کی طرف جاتا ہے(میرے روز وشب بھی عجیب تھے ، نہ شمار تھا ،نہ حساب تھا/کبھی عمر بھر کی خبر نہ تھی کبھی ایک پل کا حساب نہ تھا)،ان کی شاعری پر فیمنسٹ تحریک یا تھیوری کا اثر نہ سہی مگر ایک نسائی شعور اور اس کی کچھ سطحوں کو یہاں بھی آنکا جا سکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ نرم گرم سمجھوتے کی چادر والی زہرا نگاہ کا ہے۔تاہم دو نام ایسے ہیں کہ زبان پر آتے ہی اس باب میں ان کی جد وجہد بھی سامنے آ جاتی ہے کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض۔ انہوں نے ہمارے ہاں عورت کے بارے میں سنجیدگی سے بہت اہم سوالات اُٹھائے ہیں ۔میں کئی امور میں ان سے اختلاف کر سکتا ہوں مگر ان کی جد وجہد اور خلوص کو قدر کی نگاہ سے دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پروین شاکر نے مشرقی عورت کے لسانی آہنگ کو اپنی شاعری سے ہمارے ذہنوں میں منور کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کاکام کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض سے بہت مختلف اور ہمارے ہاں کے نسائی مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ یہی سبب ہے کہ انہیں خوب خوب شہرت اور احترام ملا(کمال شخص تھا جس نے مجھے تباہ کیا/خلاف اس کے یہ دل ہوسکا ہے اب بھی نہیں۔ یا پھر۔۔۔۔ وہی تنہائی ، وہ دھوپ، وہی بے سمتی/گھر میں رہنا بھی ہوا،راہ گزر میں رہنا)۔ سو یوں ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان یہاں جس سطح کا رشتہ متعین ہوتا ہے اس میں ’مرد‘ کبھی بھی’ مردود‘ نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے پروین کی مختصر زندگی کے آخری دنوں کا زمانہ تھا جب منشایاد کی کتاب ’’دور کی آواز ‘‘ کی تقریب میں انہوں نے مضمون پڑھا تھا ۔ وہ نیلی ساڑھی میں ملبوس تھیں ۔ میں حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کا سیکرٹری تھا اور یہ پروگرام یوں ترتیب دیاگیا تھا کہ شہر میں آئے ہوئے اشفاق احمد، بانو قدسیہ کے علاوہ ممتاز مفتی اور پروین شاکر بھی اس میں شریک ہو سکیں۔ پروین شاکر نے اس میں جو مضمون پڑھا وہ بہت اہم مضمون تھا اس میں وہ پروین بول رہی تھی جو ’’خوشبو ‘‘ کے بعد کے سفر میں اب تک ہو چکی تھی ۔زندگی کو محض نسائی جذبوں سے سمجھنے پر اصرار نہ کرنے والی اور اس کے بھید بھنوروں کوپوری توجہ سے دیکھنے اور سمجھنے والی ۔
اچھا شبنم شکیل کا ذکر بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اگرچہ محض نسائی جذبے کی شاعری نہیں کی تاہم عورت ہو کر سوچا تو وہ آدھی ریت میں گڑی ہوئی تھیں اور آدھی ریت سے باہر۔ ان کی ایک نظم ہے ’’موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے والی‘‘۔ سو عورت اس نظم میں تماشا گاہ کی شے ہو جاتی ہے ،موت کے قریب رہ کر زندگی کا تماشہ دکھانے والی۔فاطمہ حسن کے ہاں تخلیقی سطح پر بھی نسائی شعور کی کارفرمائی نظر آتی ہے (جاتا ہے جو گھروں کو وہ رستہ بدل دیا/آندھی نے میرے شہر کا نقشہ بدل دیا(۔ شاہدہ حسن کے کام کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ مجھے تو انہوں نے کئی بار متوجہ کیا ہے ۔(ایک پل کو میں ششدر و حیران رہ گئی/وہ جا چکا تو جسم میں کیوں جان رہ گئی)، ہاں صاحب یہاں معروف معنوں والی تانیثیت تو ڈھونڈنی پڑے گی مگر نسائیت کا رنگ بہت گہرا ہے ؛ذرا مکمل پڑھیں گے تورائے بدل بھی سکتی ہے (جو لکھنا چاہتی ہوں کاش اب وہ لکھ بھی لوں میں/قلم پھر نا گہاں رکھ چلی جاؤں گی اک دن)۔ سارا شگفتہ کی جانب تو اردو ادب پہلے سے متوجہ ہے (تجھے جب بھی کوئی دُکھ دے/اُس دکھ کا نام بیٹی رکھنا/۔۔۔۔/جن کھیتوں کو ابھی اُگنا ہے/ان کھیتوں میں/میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی)۔ ان کی ایک نظم ہے’’میرا نفس مرد کی اکائی چاہتا ہے‘‘ ، اس میں وہ اپنی آنکھوں کے نفرت سے حاملہ ہونے کا ذکر کرتی ہیں ، جی یہ وہی نظم ہے جس میں وہ کہتی ہیں’’میں پھولوں سے زیادہ ہنس سکتی تھی/اور موت سے زیادہ مر سکتی تھی‘‘۔
یاسمین حمید نے غزل بھی کہی اور نظم بھی ،تراجم کیے اور اس باب میں نام کمایا ان کا کہنا ہے کہ’’ حرف کھرے چنتی ہوں سارے اور سچائی لکھتی ہوں‘‘ سو اس سچائی میں انہوں نے اپنے حصے کا سچ بھی شامل کر دیا ہے ، آدھے دن اور آدھی رات والا یا پھر اپنے وجود کے آدھا ہو جانے کا۔ ’’آدھی گواہی ‘‘ کے نام سے نسیم سید کا پہلا مجموعہ آیا تھا ۔ میرے پاس ان کی نظموں اور غزلوں کا مجموعہ’’سمندر راستہ دے گا‘‘ ہے اس میں اس موضوع کے حوالے سے بہت کچھ ہے(کرتے ہیں غم سے مانجھ کر فطرت کو آب دار/کار جنوں میں ہم سے افادہ کرے کوئی )۔ نوشی گیلانی کے ہاں بھی اس موضوع کو دیکھا جا سکتا ہے (یہ شہر کسی آئینہ کردار بدن پر/الزام لگاتے ہوئے ڈرتا بھی نہیں ہے( ۔اوہ بہت اہم شاعرہ ثمینہ راجہ کا ذکر کیوں چھوڑے جا رہا ہوں ، جب تک زندہ رہیں ، ہماری اس دوست نے بہت جم کر لکھا اور ہمیشہ تخلیقی سچائی سے اپنے آپ کو وابستہ رکھا (یہ بے وفائی نہیں وقت کا ستم ہے کہ تو/بچھڑ گیا تو ترا انتظار ہی نہ رہا(۔ وہ دو نمبر شاعرات کی دشمن نمبر ایک تھیں اور ان کا تعاقب بھی خوب کیا ۔ ثمینہ نے ایک بار مجھے اپنی ساری کتابیں بھیج کر کہا تھا انہیں پڑھو اور اگر یہ شاعری مختلف نظر آئے تو اس پر لکھو۔ میں نے سب کتابیں پڑھ ڈالیں لیکن مضمون آج تک نہیں لکھ سکا تاہم میں ان کی تخلیقی سچائی کا جتنا پہلے قائل تھا پڑھنے کے بعد اور ہوا۔(یہ الگ بات کہ مختلف ہونا کچھ اور ہوتا ہے)۔ ثمینہ کی شاعری جبرواختیار کے موسموں کی کتھا کہتی ہے (میری پیدائش کے بعد/ماں نے مجھے انگلی بھر شہد چٹایا/اور دشمنوں کے کنویں سے پانی بھرنے پر مامور کر دیا/تاکہ اس کی اور اس کے بچوں کی پیاس بجھ سکے/مجھے شہد کی مٹھاس بھول گئی)۔مرنے والیوں کے ذکر میں منصور احمد کو شامل کر لیں ان کے ہاں سیاسی سماجی موضوعات کے ساتھ ساتھ گہرے ذاتی کرب کے احساس کو آنکا جا سکتا ہے اور آپ کے موضوع کو بھی۔ منصورہ کی ایک چھوٹی سی نظم ’’احتیاط‘‘ یاد آتی ہے۔ ’’دیکھو شاخ بہت کچی ہے/دونوں پھول اک ساتھ کھلے تو/ٹوٹ نہ جائے‘‘۔ان کا مجموعہ ’’طلوع‘‘ ہے اس میں انہوں نے احمد ندیم قاسمی، جنہیں وہ بابا کہتی تھیں کے لیے جو نظمیں دیں وہ مرد اور عورت کے ایک اور سماجی رشتے کو محترم بناتی ہیں۔
جسے بھی اس موضوع پر لکھنا ہوتا ہے وہ نسرین انجم بھٹی کا نام ضرور لیتا ہے ۔ ایک بالکل انوکھا اسلوب ہے ان کے پاس ۔ اردو سے کہیں زیادہ پنجابی میں نام کمایا (ایک بچے کو میں نے درخت بننے کے لیے چھوڑ دیا/ایک جھوٹ کو میں نے مکمل ہونے سے بچا لیا/ایک سچ کو بھری عدالتوں نے کووں کے بیچ بانٹ دیا)۔ عذرا عباس نے بھی آپ کے محبوب موضوع کے حوالے سے بہت نام کما رکھا ہے۔ مسلسل لکھ رہی ہیں اور خوب لکھ رہی ہیں ۔ کراچی میں مقیم ہیں ۔ کراچی میں مقیم نثموں کے اسی قبیلے کی ایک اور شاعرہ تنویر انجم ہیں ۔ نثموں کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں اس موضوع کے حوالے سے انہیں ضرور دیکھا جانا چاہیئے (تم میری طرف دیکھتے ہو/دیکھتے رہتے ہو /خاموش/میں اس خاموشی میں لپٹی جاتی ہوں/ہاں اب مجھے ایک سرگوشی چاہیے)۔ پھر عطیہ داؤد کا ذکر بھی کرنا ہوگا اندرون سندھ سے بہت اہم لکھنے والی ہیں ۔ فہمیدہ ریاض نے عطیہ داؤد کا سندھی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا ہوا ہے ۔ پروین فنا سید بھی یاد آتی ہیں (طوفاں کی زد میں شہر سارا/اور خیمہ بے طناب میرا)۔(سوکھ جائے تو اوڑھ بھی لوں گی/میں نے آنچل ابھی بھگویا ہے( ۔
بات طویل ہو گئی ہے ، کئی نام ذہن میں آتے ہیں؛حشمت آرا سے لے کر خورشید آرا تک اور عائشہ مسعود سے لے کر فاخرہ بتول تک۔ تاہم دو تین نئی مگر توانا آوازوں کا ذکر ضرور اور بہ طور خاص کرنا چاہوں گا۔ ایک تو ہیں پروین طاہر ، نظم خوب کہتی ہیں ۔ پنجابی اور اردو ،دونوں میں لکھتی ہیں ۔ نظموں کا مجموعہ ’’تنکے کا باطن‘‘ بھی چھپ چکا ہے ۔(نیند میں چلتے چلتے یک دم /گر جاتے ہیں/اودے پھول شٹالے کے/بیر بہوٹی ساون کی/دور افق پر/ارض و سما کو جوڑنے والی/مدھم لائن /اور اسے چھونے کی دھن میں / ننھے نرم گلابی پاؤں/سانول شام پڑے کا منظر/پھیلا چاند سمندر/سارا بچپن گر جاتا ہے/دھوپ کی ٹھوکر رہ جاتی ہے)۔ دوسری ، ہمارے دوست ضیا الحسن کی بیگم ، حمیدہ شاہین۔ واللہ کیا تخلیقی رس سے بھرا ہوا مصرع کہتی ہیں اور سانس اتنی پکی کہ بات مکمل ہو جاتی ہے اور راہ میں کہیں اکھڑتی نہیں ۔غزل نظم دونوں یکساں سہولت سے کہتی ہیں ۔ مجھے ان کی بہ طور خاص نظمیں بہت پسند ہیں ۔ ان میں کوئی الجھاوا نہیں ہوتا مگر لطف یہ ہے کہ ایسا تخلیقی رچاؤ ہوتا ہے کہ بات سیدھی دل میں ترازو ہو تی ہے(میں زندہ ہوں/توانائی/مری رگ رگ میں بہتی ہے/میں جب چاہوں/فضا میں تیرتی جاؤں) ۔ ایک اور شاعرہ ہیں ثروت زہرا؛ اپنے موضوعات کی الگ سے ٹریٹمنٹ اور اس سے مطابقت رکھتا ڈرامائی بلند آہنگ ہے ان کے پاس۔ تو یوں ہے کہ یہ بولتی ہوئی شاعری ہے(ہست کے دستر خوان پر/رخت کے پیالوں میں ضبط چن دیا گیا ہے/کھا لیجئے !/خواب کی ریوڑیاں/چباتے ہوئے زبان کا گوشت /چھل گیا ہے / ذائقہ لیجئے !/وجود کی کھال میں/لمس کا بھس بھر دیا گیا ہے/سجا لیجئے !/درد کے پھٹے دودھ کی روشنی/ آسمان سے صحن تک /بچھادی گئی ہے۔/پتلیوں میں چھپالیجئے !/ خوف مرتبان توڑ کر/خیال میں زہر گھولتا ہے/منظروں کو بچا لیجئے !(.۔
میری باتیں بے ربط رہیں ، بہت سارے نام موضوع کے اس تعاقب اُدھر ادھر ہو گئے؛ان سے معذرت۔ تاہم شاید میں نے بنیادی بات کہہ دی (اور وہ بھی اپنے ہاں کی معتبرلکھنے والیوں کی مثالیں سامنے رکھ کر) کہ محض اور صرف تانیثی شعور آنکتے آنکتے ہم مشرقی نسائی شعور والی شاعری کو اگرلائق اعتنا نہ جانیں گے تو ہماری شاعرات کے ساتھ بہت زیادتی ہو جائے گی اور ان کی اچھی اور بڑی شاعری کا انتخاب ممکن نہ ہو پائے گا۔
***

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمدحمیدشاہد|یوسف حسن:وہ گردگرداُٹھاتھااورمعتبربھی تھا

پروفیسر یوسف حسن کی ایک ترقی پسند ادیب کی حیثیت سے نظریاتی وابستگی، ایسی قابل …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *