M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / محمدحمیدشاہدسےفکشن کے باب میں مکالمہ|انٹرویو نصرت بخاری

محمدحمیدشاہدسےفکشن کے باب میں مکالمہ|انٹرویو نصرت بخاری

شکریہ:”ذوق “اٹک شمارہ 1

سوال:کیا افسانہ اتنا ہی آسان ہے کہ جو شخص، چاہے وہ شاعر ہو،محقق یا عام آدمی، جس وقت چاہے افسانہ لکھنا شروع کر دے ؟
محمد حمید شاہد:آپ کا سوال دلچسپ ہے اور شاید اس کا مختصر ترین جواب ’’ہاں ‘‘ بھی ہے اور ’’نہیں‘‘ بھی ۔ آپ میرا یہ مختصر جواب سن پر کھلکھلا کر ہنسے ہوں گے ، میں نے آپ کا سوال پڑھا تو میرا پہلا رد عمل بھی یہی تھا مگر جب اس پر سوچنے لگا تو یہی جواب سوجھا، جو عرض کر دیا ہے ۔ صاحب !ہے ناعجب بات ،مگرواقعہ یہ ہے کہ جب آپ اندر سے اتنے تیار ہو چکے ہوتے ہیں؛ پکے ہوئے رس بھرے پھل کی طرح، جس کا مزید اپنی شاخ سے لٹکے رہنا ممکن نہیں رہتا،تو افسانہ بہت سہولت سے کاغذ پر اُتر تا ہے۔ لیکن جب آپ زور زبردستی اسے لکھنا چاہتے ہیں واقعات کی چولیں واقعات پر بٹھاتے ہوئے تو یہی عمل مشقت ہو جاتا ہے۔آپ کا سوال یہی تھا کہ ایک تخلیق کار کے لیے افسانہ لکھنا مشکل ہے یا آسان؟ شاید نہیں ۔ میں پھر آپ کا سوال دیکھتا ہوں تو لگتا ہے آپ سوال پوچھنے سے کہیں زیادہ ، مجھے اس غصے کی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں جوبِس کی پڑیا بنا کرآپ نے سوال کے اندر رکھ چھوڑا ہے ۔غصہ تھوکیے صاحب ، جو افسانہ لکھنے کی جانب خلوص سے بڑھتا ہے وہ عام آدمی کہاں رہتا ہے ۔قرۃ العین حیدر کے بارے میں قمر جمیل نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اُنہوں نے طالب علمی کے زمانے میں جو افسانے لکھے تھے انھیں عزیز احمد نے مبارکباد کا تار بھیج کر سراہا تھا۔ گویا افسانہ لکھتے ہی وہ ایک عام طالب علم نہیں رہی تھیں۔ دیکھئے ،افسانہ لکھنا ایک تخلیقی عمل ہے اور جو شخص فکشن کی فضا میں رہتا ہے ، اس پر تخلیق کے لمحے بہ سہولت مہربان ہو سکتے ہیں۔ اب رہا آپ کا اعتراض یا غصہ کہ یہ عطا شاعروں ، محققوں اور عوام پر کیوں؟ صاحب !ذرا معاملہ اوندھا کر دیکھتے ہیں ، ذرا سوچیے کہ ایک تخلیق کار ہے ،جی ایسا ویسا نہیں بلکہ بہت اچھا اور بھاگوں بھرا تخلیق کار، جب وہ تخلیقی لمحوں سے نکل جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے، وہی نا جسے انگریزی میں کہتے ہیں’’رائیٹرز بلاک‘‘ کے مرض کا شکار۔ تو کیا ایسے لمحوں میں وہ عام آدمی نہیں ہو جاتا؟ ہو جاتا ہے نا؟ رہا معاملہ محققین اور ناقدین کا تو اُنہوں نے بھی متن میں اپنے اپنے شعبوں سے کچھ نہ کچھ لے کر افسانے کا جزو بنانے کا ہنر سیکھ لیا ہے اور جہاں جہاں وہ اس متن میں پہلے سے موجود متن کا سلیقے کاٹانکا لگا لیتے ہیں ؛ محض چونکانے یا مرعوب کرنے کو نہیں، آپ کی بے سدھ پڑی حسوں کو بھی بیدار کرنے کے لیے ، تو جانیے کہ وہ فن بنا لیتے ہیں ؛ نہیں تو وہ بھی منجی پیڑھی ٹھوکنے والا ہنر رہتا ہے۔ ویسے منجی پیڑھی ٹھوکنے ولا عمل اتنا آسان بھی نہیں ہے۔سوچ سوچ کر لکھنا اور دوسرے متون کو ڈھونڈھ ڈھونڈ کر کہانی کا حصہ بنانا کہانی کے بیانیے میں رخنے ڈال سکتا ہے اور یہی عمل اگر ایک بہاؤ میں متن کا حصہ ہو جائے تو کہانی میں معنی کی کئی سطحیں رکھ سکتا ہے۔ سوچ سوچ کر لکھنے کی بات ہوئی تو یہ دھیان راجندر سنگھ بیدی اور سعادت حسن منٹو کے درمیان ہونے والے ایک دلچسپ مکالمے کی طرف چلا گیاہے۔وہی مکالمہ جو’’راجندر سنگھ بیدی سے ایک ملاقات‘‘ کے عنوان سے شمس الحق عثمانی کی مرتبہ کتاب ’’باقیات بیدی‘‘ میں موجود ہے ۔ اس انٹرویو میں بیدی نے بتایا تھا کہ وہ منٹو کی یہ بات کہ تم لکھنے سے پہلے سوچتے ہو ،لکھتے وقت سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد سوچتے ہو ، سمجھ گئے تھے کہ منٹو کے نزدیک افسانے کی یہ کمزوری تھی اس کے بہاؤ میں رخنے پڑیں ۔ ان ہی کے الفاظ میں اس طرح کی کہانیوں میں کہانی کم اور مزدوری زیادہ ہوجاتی ہے۔ افسانہ لکھنا محض تیکنیک یا مزدوری نہیں ہے یہ ایک تخلیقی عمل ہے اور اس میں کرداروں کو ایک آزاد فضا چاہیے ہوتی ہے۔ میلان کنڈیرا کا کہا یاد آتا ہے یہی کہ’’ فکشن لکھتے ہوئے، کہانی کے کرداروں کو مکمل آزادی دی جانی چاہیے، یوں کہ مصنف، اپنے خیالات کے ساتھ وہاں سے بالکل الگ تھلگ رہے، غائب رہے۔‘‘ اچھا وہ جو منشایاد نے کہہ رکھا ہے کہ لکھتے ہوئے میں اپنے کرداروں کی کھال میں بیٹھ جاتا ہوں ، تو یہ بات بظاہر کنڈیرا کی کہی ہوئی بات کا تضاد ہو جاتی ہے اور اسے رد کرتی ہے یعنی مصنف کی اتنی موجودگی کہ وہ اس کی کھال میں بیٹھ جاتا ہے۔ مگرذرا غور سے دیکھا جائے تو اپنے کرداروں کی کھال اوڑھ لینا دراصل اپنے وجود کی نفی ہے ۔ لکھنے والے کے وجود کی نفی۔ جب کنڈیرا یہ کہتے ہیں کہ مصنف کی موجودگی قاری کو پریشان کر سکتی ہے ۔ تو وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قاری مصنف کو نہیں دیکھنا چاہتا نہ اس کے خیالات جاننا چاہتا ہے،بلکہ وہ کہانی کے بہاؤ کا اسیر ہو کر ایک التباس میں آجاتا ہے اور اسے حقیقت سمجھ رہا ہوتا ہے۔ یہ باتیں میلان کنڈیرا نے کرسچن سالم سے گفتگو میں کہی تھیں جو اُن کی کتاب’’ناول کا فن‘‘ کا حصہ ہیں ۔ وہ طیش جو آپ کے سوال سے چھلک پڑا ، اِس پر نہ ہوگا کہ ایک عام آدمی یا محقق افسانہ کیوں لکھنے لگا ہے بلکہ شاید اس پر ہوگا کہ وہ خرابیاں جو فکشن کے تخلیقی عمل سے افسانہ لکھنے والوں کے ہاں در آئی ہیں، اُنہیں نشان زد کیوں نہیں کیا جارہا ، میرا خیال ہے وہ خرابیاں کسی حد تک اوپر نشان زد ہوگئی ہیں۔ آپ کے سوال میں شاعر کا حوالہ آیا تھامگرمیں اِدھر دِھیان نہ دِے پایا ۔ اب اگر ایک شاعر نے ایک روشن صبح اٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ اسے افسانہ لکھنا چاہیے اور وہ لکھنے بیٹھ گیا تو اس پر آپ کے ماتھے پرتیوری کیوں چڑھی؟ میں اس بابت تخمینے لگاتا ہوں تو یہی سوجھتا ہے ہو نہ ہو آپ ایک شاعر اور ایک افسانہ نگار کے ہاں تخلیقی عمل کی کارکردگی کو بالکل الگ کر کے دِیکھ رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو میں سمجھتا ہوں آپ درست درست سوچ رہے ہیں ۔ دیکھئے افسانے میں زمان اور مکان سے جڑ کر رہنا بہت بنیادی تقاضہ ہے ۔ میں کہتا آیا ہوں کہ افسانے کامتن ایک سے زیادہ سطحوں پر بُنا جاتا ہے ۔ خارجی سطح ایک واقعہ کے دوسرے واقعہ سے جڑ کر بنتی ہے جب کہ باطن میں اِحساس اور معنیات کے دھارے بہہ رہے ہوتے ہیں ۔ بیانیے کو مختلف سطحوں پر برتنے کے لیے لازم ہے کہ زبان کی کارکردگی نگاہ میں رہے ۔ لگ بھگ ایک سے معنی دینے والے الفاظ کسی جملے میں استعمال کے قرینے سے اپنامزاج بدل لیا کرتے ہیں ۔ لفظوں کی صوتیات کو نگاہ میں رکھ کر اورایک جیسی اصوات کو دہرانے سے جملے کا آہنگ بدلا جاسکتا ہے۔ اور ایسا شاعری میں بھی ہوتا ہے مگر میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ افسانے میں فکشن کا جملہ ہی استعمال ہونا چاہیے ۔ شاعرانہ وسائل کا کثرت سے استعمال بیانیہ کم زور کر دیا کرتاہے ۔ شاعر آرائشی زبان لکھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ فکشن کی تخلیقی زبان اور آرائشی زبان کا اہتمام دونوں مختلف وظیفے ہیں ۔ آرائشی زبان شاعری کے لیے مفید ہو سکتی ہے ‘ مگر افسانہ نگار کا منصب یہ ہے کہ وہ ایسی زبان کا اسیر نہ ہو ۔افسانے کی زبان کو افسانے کے تخلیقی بہاؤ کے زیر اثر ہی رہنا چاہیے ۔ آپ کے چھوٹے سے سوال میں ، جو زہر بھرا ہوا تھا، اس نے مجھے بہت اُلجھایا ہے تاہم صاف لفظوں میں مجھے کہنا یہ ہے کہ ، ہم افسانہ نگاری کو آسان یا مشکل ہونے کی کسوٹی پر کیوں پرکھیں ، جب کہ فی الاصل یہ کسوٹی تخلیقی عمل کو سمجھنے والی ہے ہی نہیں ۔ دیکھیں ،جب آصف فرخی کو ایک انٹرویو میں غلام عباس نے یہ کہا تھا کہ’’افسانہ ادب کی سہل ترین صنف ہے‘‘ تو ساتھ ہی اُنہیں یہ وضاحتی بیان بھی دینا پڑا تھا کہ’’ جو چیز دیکھنے میں جتنی آسان نظر آتی ہے ، اتنی ہی مشکل بھی ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘ منٹو نے اگر یہ کہہ رکھا ہے کہ ’’ایک تاثر خواہ وہ کسی کا ہو ، اپنے اوپر مسلط کرکے اس انداز سے بیان کر دینا کہ وہ سننے والے پر وہی اثر کرے ، افسانہ ہے‘‘ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ فکشن کی فضا میں نہ رہنے والا آدمی بھی اس طرح کے بیان کو فکشن کا بیانیہ بنانے پر قادر ہوتا ہے۔دیکھیے محمد حسن عسکری نے افسانہ لکھنے کو کتنا آسان عمل کہہ رکھا ہے ’’واقعات کا ایک سلسلہ اور اس سے زیادہ کچھ نہیں‘‘ مگر ذرا عسکری صاحب کے اپنے افسانے اُٹھا کر دیکھئے اور پڑھ کر بتائیے کہ کیا وہ محض واقعات کا ایک سلسلہ ہیں؟ نہیں صاحب! کہانی واقعات کا ایک سلسلہ ہو سکتی ہے مگر افسانہ نہیں ۔کہانی حیاتیاتی انسان سے معاملہ کرکے الگ ہو سکتی ہے مگر افسانہ نفسیاتی انسان سے بھی اُلجھتا ہے اور کہانی پن کے مجرد تصور کو توڑ کر رکھ دیتاہے اور یہیں سے ایک عام سا سہل سا عمل بھیدوں بھرا ہو جاتا ہے۔
سوال:نوجوان افسانہ نگاروں کو یہ شکوہ ہے کہ افسانوں کے انتخاب،سالانہ جائزوں اور مقالات میں صرف پرانے اور موجودہ عہد کے چند گنے چنے افسانہ نگاروں ہی کا بار بار ذکر ملتا ہے۔کیا یہ شکایت درست ہے؟
محمد حمید شاہد:یہ ایسا سوال نہیں ہے جس پر میں اپنا ردعمل دوں کہ یہ اس کھیل کا لازمی حصہ ہے۔ ہم سے پہلے جو لکھنے والے تھے انہیں بھی عین مین ایسی ہی شکایت رہی۔ ہم نے جب لکھنا آغاز کیا تو ہم بھی شکایتوں کے ڈھیر لگاتے رہے اب نئے لوگوں کو شکایت ہے۔ یہ شکایت اگر درست ہے بھی تو ایک تخلیق کار کی حیثیت سے ان کی توجہ مسلسل اپنے تخلیقی کام کی طرف رہنی چاہیے انہیں ادبی پرچوں میں چھپنا چاہیے کہ ادبی پرچے تو ہمیشہ اچھی تخلیقات کی تاہنگ میں رہتے ہیں جو تخلیق جاندار ہوگی خود بخود توجہ حاصل کر لے گی۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ادبی میدان میں وقار سے آگے بڑھنے کا یہی قرینہ ہے۔
سوال:آج کل نوجوانوں کا ایک طبقہ مائیکروفکشن کی ترویج و اشاعت کی کوشش میں مصروف ہے؛رد عمل کے طور پر بعض ادیب از راہ تمسخر کہتے ہیں کہ پھر تو ملا دوپازہ کے لطیفے بھی مائکروفکشن ہیں۔ایک طبقہ یہ بھی کہتا ہے کہ جولوگ جملہ سازی کے فن سے نا آشنا ہیں،یہ ان کا چور راستے سے افسانہ نگار بننے کی کوشش ہے۔آپ کے راہ نمائی درکار ہے؟
محمد حمید شاہد :نصرت بخاری صاحب! آپ نے راہ نمائی کی بھی خوب کہی ، سوال بنانے کا جو قرینہ آپ نے چنا ہے، میں اس سے پہلے اُلجھتا ہوں اور پھر اس سے نکلنے کو عافیت والا راستہ تلاش کرنے لگتا ہوں ۔ ۔ دیکھیے صاحب ، اگر یہ چور راستہ ہے، تو اس خاکسار سے کیا راہ نمائی مطلوب ہے؟ صاحب! ہم پہلے سے یہ گماں کرکے کیوں بیٹھ جائیں کہ مائکرو فکشن لکھنے والے جملہ سازی کے فن سے ناآشنا ہیں۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں بعضے ٹھیک ٹھاک جملہ ساز بھی ہیں اور جملہ باز بھی ۔ کچھ تو ایسے ہیں کہ طبیعت کے رواں ہونے پر طویل بھی لکھ لیتے ہیں مثلاً سو لفظوں کی کہانی والے مبشر علی زیدی کے ہاں ایسے طویل افسانے میں دیکھ چکا ہوں، جو اپنی جگہ کامیاب تخلیقات ہیں۔ احمد اعجاز نے افسانے لکھے ہیں اور ہم سب سے داد پائی ہے۔ اقبال خورشید اور کئی دوسرے دوست بہت متوجہ کرنے والے طویل افسانے لکھ چکے ہیں ۔ اقبال خورشید نے ایک بہت اہم ناول بھی لکھا ہے مگر یہ تینوں صاحبان لگ بھگ ہر روز ایک مائیکرو فکشن لکھتے ہیں کہ تینوں صحافی بھی ہیں اور انہوں نے اپنی منی کہانی کو باقاعدہ ایک کالم کی طرح لائق توجہ بنا لیا ہے۔ ان کالم کہانیوں کو پڑھنے والوں اور پسند کرنے والوں کا ایک حلقہ بن گیا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی خُرد کہانیاں پڑھنے والے فکشن پڑھنے والوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ سچ بھی ہے۔ اگر یہ مان لیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو لکھنا آتا ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مائکرو فکشن لکھنا ان کے لیے چور رستہ نہیں ہے۔ وہ خلوص نیت کے ساتھ اس صنف کو ادبی صنف بنانا چاہتے ہیں جو صحافت کے میدان میں ان کا خوب خوب ساتھ نبھا رہی ہے ۔لیجئے صاحب ،جو میں نے کہا اگراسے آپ تسلیم کرلیتے ہیں تو آپ کو ایک کام کرنا ہوگا ۔یہی کہ اپنے سوال میں سے سارا تیکھا پن اور طنز کا زہرنکال کر ایک طرف رکھ دینا ہوگا۔ دیکھئے اب سوال کتنا سنجیدہ ہو گیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس امر سے آگاہ ہیں کہ مجھے مائکروفکشن کو ماننے میں تامل رہا ہے۔ اب وجہ بھی جان لیجئے۔ یہ میرا تجربہ ہے کہ اس میں تخلیقی عمل کے آزادی سے کام کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ جی وہی آزادی جس کے بارے میں میلان کنڈیرا نے کہا تھا کہ لکھتے ہوئے، کہانی کے کرداروں کو مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔ یاد رہے کہ فکشن کے تخلیقی عمل کے دوران مصنف کی طرف سے کسی قسم کی تحدید تخلیق عمل کے حق میں نہیں جاتی ۔ فکشن پارے کی طوالت تو خود تخلیقی عمل نے طے کرنی ہوتی ہے ۔ اسے ، یہاں وہاں سے کاٹ پیٹ کر کیسے مائیکرو فکشن بنایا جاسکتا ہے ۔ ایک اور بات ؛مائکرو فکشن میں ہم دیکھتے ہیں کہ ساری توجہ بات کہنے پر مرتکز رہتی ہے جب کہ فکشن کا بنیادی مقصد بات بیان کرنا نہیں بلکہ ایک صورت حال کے اندر کرداروں کو رکھ کر کچھ سجھانا ہوتا ہے۔ایک صورت حال کے اندر رکھ کر ان کرداروں کی شناخت قائم کرنا ہوتی ہے تاکہ قاری ماحول سے مانوس ہونے کے ساتھ ساتھ اس صورت حال میں پڑے ہوئے کرداروں سے بھی مانوس ہو جائے۔ ظاہر ہے ایسے کرداروں کو لکھنے کے لیے متن کے اندر جتنی گنجائشیں درکار ہوتی ہیں اُنہیں کام میں لانے کے لیے ، زمان اور مکان سے کچھ معاملہ کرناپڑے گا۔خُرد کہانی لکھنے والوں نے متن میں یہ گنجائشیں فراہم کرنے کے بجائے بطور راوی خود مداخلت کو شعار کیا ہوا ہے۔ وہ مسئلہ اشاروں میں بیان کرکے اسے نثم کا سا بنالیتے ہیں؛ سمجھ گئے ہیں نا، نثم؟ جی نثر میں شاعری ؛ اب یہاں فکشن کا اپنا بیانیہ ہی غائب ہو گیا ہے۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ جملوں کی ساخت کو الگ سا رکھنے، اُنہیں توڑنے اور رموزواوقاف کے استعمال سے بیانیے میں تاثیر بڑھائی جا سکتی ہے مگر یہاں تو فکشن کا بیانیہ مرتب کرنے کے بجائے شاعری کا التباس پیدا کیا جارہا ہے ۔ایسی متعدد نثموں اور نظموں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو خرد کہانی کے اسلوب میں ہیں اور زیادہ تخلیقی بھی ہیں مگر ہم ایسی تحریروں کو فکشن نہیں مانتے ۔ پھر کمزور نظموں یانام نہاد نثموں کو فکشن کیوں مان لیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسا متن جس کے اندر مواد شعری ہو مگرلکھنے کا قرینہ نثر کا ہو ، یا ایسا متن جس کے لکھنے کا قرینہ نظم کا ہو مگر مواد غیر تخلیقی نثر کا ہو دونوں فکشن سے باہر کے علاقے ہیں۔ جو بات فکشن کو شاعری سے الگ کرتی ہے وہ ہے زمان اور مکان سے اس کے تعلق کی نوعیت ۔ شاعری بس زمان اور مکان کی اتنی پابند ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنے مکاں کے اعتبار سے ایک التباس پیدا کرلے جب کہ فکشن کو اپنا منظر پوری طرح کاغذ پر اُتارنا ہوتا ہے، یوں کہ سب کچھ واضح ہوتا چلا جائے۔اس سب کے باوجود ، جو میں اوپر عرض کر آیا ہوں ، بتاتا چلوں کہ کہیں لکھ کر تسلیم کر چکا ہوں کہ مسلسل لکھنے کے عمل میں ایسی تخلیق کا سامنے آجانا ،جسے زمان و مکان نے اپنا معجزہ دکھا کر مکمل فکشن پارہ بنادیا ہو اور وہ اتنا ہی مختصر ہو، جتنا کہ مائکرو فکشن والوں کا مطالبہ ہے، ناممکنات میں سے نہیں ہے ۔ یہ بھی مانتا ہوں کہ مختصر لکھنا بجائے خود ایک خوبی ہے۔ تاہم یہاں یہ اضافہ کرنا ہے کہ اس اختصار کی حدیں تخلیقی عمل کے دوران خود بخود طے ہو تی ہیں اور ہونی بھی چاہئیں۔ فن پارے کے اندر سے سب حشو زوائد خارج ہو جائیں اور باقی وہ متن رہ جائے جس کی ایک سطر منہا کر یں تو فن پارے کی عمارت منہدم ہونے لگے یا اس میں ایک کمی کا احساس جاگ اُٹھے تو جانیے کہ اس فن پارے کا یہی اختصار ہے ۔
سوال:آپ کے مضامین اور انٹرویوز میں مزاح کی چاشنی بھی ہوتی ہے۔آپ اس صلاحیت کو اپنے افسانوں کیوں منتقل نہیں کرتے؟
محمد حمید شاہد: صاحب! میں بہت سنجیدہ بیٹھا کسی ایسے سوال کا منتظر تھاکہ جو تخلیق اور تخلیقی عمل کے باب میں مجھے کسی نئے رُخ سے دیکھنے اور سوچنے کی طرف دھکیل دے مگر آپ نے سوال کیا توپہلے ہک دَک اِسے دیکھتا رہا ، پھر ہنسی نکل گئی ؛ صرف ہنسی نہیں، کھسیانی ہنسی۔ وہ جو کرکٹ کی اصطلاح میں ایک گولی کی طرح داغا گیا بال’’ بانسر‘‘ ہوتا ہے نا ، توآپ کا سوال بھی بانسر کی طرح آیا ہے ۔ پہلے میں خوش ہوا کہ لو بچ گئے ، کسی مشکل میں نہیں پھنسے ، یوں جیسے زن کرکے بال اوپر سے گزرا ہو۔مگرصاحب ،آپ کے سوال کاجواب دینے لگا ہوں توایک عجب طرح کی مشکل میں پھنس گیا ہوں کہ کہوں تو کیا کہوں۔اس سوال میں آپ نے کہا ہے کہ میرے مضامین اور انٹرویوز میں مزاح کی چاشنی ہے اور میں اس مخمصے میں ہوں کہ مزاح تو بذلہ سنجی،فقرہ بازی، لطیفے،ہزل،خاکہ اڑانے، یا تمسخر اور ٹھٹھے کے ساتھ ظہور میں آتا ہے۔ جب کہ میں اس طرح کا خالص مزاح لکھنے پر قادر نہیں ہوں۔ یہ الگ بات کہ ہمیشہ میری یہ کوشش رہی ہے ۔ کوشش نہ کہیں، مزاج کہہ لیں کہ زبان کو بن بن کر اور بنا بناکر نہ لکھوں۔ سنجیدہ بنانے کے لیے ،اسے خشک بنا لینامیرا وتیرا نہیں ہے ۔ مکالمہ مجھے محبوب ہے اور مکالمہ قدرے شگفتہ اور بے تکلفی والے ماحول میں رہ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اوپر سے اوڑھی ہوئی فضا میں مکالمہ دیر تک اور دور تک نہیں چلایا جا سکتا۔ اگر ایسا کیا جائے تو مکالمے اور گفتگو کا وہی حشر ہوگا جوناولDon Quixote کے مصنف Miguel de Cervantes سے ایک ایڈمرل کی ملاقات اور گفتگو کا ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ایڈمرل کی ملاقات ایک موقع پرسر وانتیس سے ہوگئی ، اُنہوں نے ڈان کیہوٹے پڑھ رکھا تھا اور اس کے شگفتہ بیانیے سے خوب خوب متاثر تھے مگر اب یوں ہو رہا کہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ، ایک دوسرے کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے ۔ یقیناًایڈمرل نے اپنے محبوب لکھنے والے سے مکالمے کی کوشش کی ہوگی مگر وہ سنجیدہ تھے سنجیدہ رہے۔ ایڈمرل صاحب حد درجہ مایوس ہوئے اوراس کا صاف صاف اظہار بھی کر دیا ۔ سر وانتیس کا جواب بہت مزے کا ہے؛ کہنے لگے ایڈمرل صاحب میں تو آپ سے مایوس نہیں ہوا۔ آپ بھی بیٹھے ہیں اور میں بھی بیٹھا ہوں مگر میں نے آپ سے توپ چلانے کے لیے نہیں کہا ہے ، جو آپ کا منصب ہے، ظاہر ہے یہ آپ کے کام میں مداخلت ہوگی پھر آپ یہ کیوں آس لگائے بیٹھے ہیں کہ میں یہاں پھلجھڑیاں چھوڑوں گا۔ یہ پھلجھڑیاں والا لفظ مشتاق احمد یوسفی نے سر وانتیس اور ایڈمرل کا واقعہ آصف فرخی کو سناتے ہوئے اس وقت استعمال کیا تھا جب غالباً وہ بھی ان سے مکالمے میں لگ بھگ پھلجھڑیاں چھوٹنے کی توقع باندھے بیٹھے تھے ۔ خیر یہاں یہ واقعہ مجھے دو وجوہات سے یاد آیا ۔ایک یہ کہ لیے دیے رہنے سے مکالمہ آگے نہیں بڑھتا ۔رُک جاتا ہے۔ اور بہت جلد ہم ایک دوسرے کو لَکُم دِینُکُم وَلِیَ دِین کہہ دیتے ہیں ؛ تم توپ چلاؤ گے تو ہم پھلجھڑیاں چھوڑیں گے، نہیں تو چپ چاپ بیٹھے رہو۔ میں مکالمہ کرنے والے کے سامنے چپ کرکے بیٹھا نہیں رہ سکتا اور گفتگو کو، گفتگو ہی رہنے دینا چاہتا ہوں ، جسے آپ نے مزاح کے طور پر شناخت کیا وہ مزاح نہیں گفتگو کا عام سا قرینہ ہے، جو مجھے عزیز ہو گیا ہے ۔ دوسری وجہ اس واقعے کے یاد آنے کی ، آپ کے سوال کا دوسرا حصہ ہے جس میں آپ نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میں مزاح والی صلاحیت (اگر یہ واقعی مزاح ہے تو) اپنے افسانوں میں کیوں منتقل نہیں کرتا؟ نہیں جانتا کہ آپ کے من میں کیا آیا ہوگا جب آپ نے سوال کا یہ ٹکڑا سوچا ہوگا مگر مجھے یوں لگتا ہے جیسے آپ فکشن میں اس عنصر کی موجودگی اور اس موجودگی سے پیدا ہونے والی خوبیوں سے خوب آگاہ ہیں ۔ کرشن چندر نے ایک دلچسپ بات کہی تھی، یہی کہ انسان اس لیے اشرف المخلوقات ہے کہ یہ ہنستا ہے۔ جبکہ یہودیوں کے ہاں ایک کہاوت مشہور ہے کہ آدمی سوچتا ہے اور خدا قہقہہ زن ہوتا ہے۔تو یوں ہے کہ فکشن لکھنے والے کا معاملہ اپنی ہنسنی کی وجہ سے اس انسان سے ہے جو اپنی زندگی کی اُلجھنوں پر سوچتا ہے ۔ سوچتا ہے اور ان الجھنوں سے نکلنے کی راہیں تلاش کرتے ہوئے اور اُلجھ جاتاہے ۔ انسان کی اس بے بسی پر خدا کا قہقہہ لگانا سمجھ میں آتا ہے اور یہیں سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ فکشن انسانی صورت حال کی تظہیر کے علاوہ اور کیا ہے ؟ سو یہ ایک کلی کی طرح چٹک اُٹھنا، مسکرادینا اور قہقہہ بار ہونا بھی انسانی صورت حال سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے آنسوؤں کا اندر پڑنا، چپکے چپکے یاپھوٹ پھوٹ کر رونا۔ ایسے میں فکشن کے بیانیے کا شگفتہ ہونا( اس شگفتہ ہونے میں سلیقہ شرط ہے) کئی مواقع پر متن کی خوبی بن کر آتا ہے۔ یوسفی صاحب تو صاف صاف کہتے تھے کہ ان کی مزاح نگاری کے مآخذ انگریزی کے مصنفین رہے ہیں جن میں کئی فکشن لکھنے والے تھے۔ جین آسٹن کے فرسٹ امپریشن (Frist impression) کے کرداروں کو پڑھتے ہوئے آپ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ مزاح فکشن کے لیے ممنوعہ علاقہ نہیں ہے ۔اردو والوں نے بھی جہاں اس کی ضرورت رہی بخوبی برتا ہے۔ اور ہاں یہ میرے ہاں بھی ہے شاید آپ کا دھیان اس طرف نہیں گیا ۔ ہو سکے تو ’’آٹھوں گانٹھ کمیت‘‘ جیسے افسانے دیکھ لیجئے ، جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کو وہاں مل جائے گا۔
سوال:ایک تخلیق کار پر گرامر اور املا کی پابندی عائد کرنا یا اُسے کسی املا کا پابند بنانا مناسب ہے؟اس سے تخلیقی عمل متاثر نہیں ہو گا؟کیا یہ مناسب نہیں کہ وہ صرف اپنی تخلیق اور موضوع کے بارے میں جواب دہ ہو؟
محمد حمید شاہد:گویا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ مچھلی کوتیرنے سے غرض ہونی چاہیے، چاہے پانی ہو نہ ہو، زبان تو ایک ادیب کے لیے ایسے ہی ہے جیسے مچھلی کے لیے پانی ۔ مانا کہ جسے ناچنا آتا ہو گا وہ آنگن ٹیڑھا ہونے کی شکایت نہیں کرے گا ، مگر جسے ناچنا ہے اسے آنگن کا وہ ٹکڑا تو چاہیے نا، جہاں اس کے قدم اپنی ایڑھیوں پر گھوم اور پنجوں پر تھرک سکیں ۔ صاحب ! وارث علوی نے کہیں لکھا تھا کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایک تخلیق کار کا ذہن بچے کی طرح معصوم ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تخلیق کی جادو نگری میں بچگانہ ذہن سے داخل ہو۔ یہ ژونگ کا قول ہے کہ لکھنے والے کے ذہن کو تعصبات سے پاک ہونا چاہیے یوں کہ وہ حیرت سے چیزوں کو دیکھنے کے قابل ہو سکے ۔اورجب یہ کہا جاتا ہے کہ ایک تخلیق کار کو صرف اپنی تخلیق اور محرک تخلیق سے وابستہ رہنا چاہیے؛ ایک پاکیزہ، معصوم دِل اورسادہ ذہن کے ساتھ ،جیسا کہ ایک بچے کا ہو سکتا ہے تو اس سے یہ کیسے اخذ کر لیا جاتا ہے کہ اس کی زبان بھی بچگانہ ہو تو کام چل جائے گا۔ نہیں صاحب نہیں، اس باب میں کوئی رعایت نہیں ہے ۔ قلم اُٹھانے سے پہلے محبت سے اور محنت سے زبان سیکھنا پڑے گی۔فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ ’’اچھے ادب میں موضوع اور طرز ادا دراصل ایک ہی شے کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔اگر کسی شخص کے پاس زبان نہیں ، وہ لفظوں کے مختلف قبیلوں سے آگاہ نہیں ، وہ نہیں جانتا کہ کہاں کون سا لفظ آئے گا تو معنی اور جمال کے دھارے کیسے پھوٹ بہیں گے؟ اور یہ کہ جملے کی ساخت کیا ہو، لہجہ کیسے بنے گا اور کون سا لہجہ یہاں بننا چاہیے تو لکھنے والا تخلیقی عمل سے ڈھنگ سے کیسے وابستہ ہو پائے گا؟ یہ جسے فیض صاحب نے طرزِ ادا کہا ہے ، وہ فکشن میں بیانیہ ہو جاتا ہے ۔ کہانی یعنیFabula، اور جس طرح اس کہانی کا متن متشکل ہوتا ہے یعنی Suzet، کہہ لیں پلاٹ کے اندر کہانی کے متن کی تشکیل، کیا ان سب کو زبان سے باہر دیکھا جاسکتا ہے۔ نہیں نا! تو پھر یہ کیسے ممکن ہو پائے گا کہ تخلیقی عمل کو ایک ٹھٹکی سہمی یا اُکھڑی ہوئی زبان آزادی سے اپنا کام کرنے دے گی اور خود بخود بیانیہ متشکل ہو جائے گا۔
سوال:بالعموم کہا جاتا ہے کہ ایک شاعر پوری غزل سے ایک دو شعر منتخب کر کے محفل لوٹ لیتا ہے؛جب کہ افسانہ نگار ابھی تک اس ہنر کو نہ پا سکا۔اگر جملے چست اور نپے تلے ہوں تو انھیں شعر کی طرح کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے؛کیا جملہ شعر کے اس مقام تک پہنچ سکتا ہے؟
محمد حمید شاہد:محفل لوٹنے کی بھی آپ نے خوب کہی گویا آپ یگانہ کی زبان میں یوں کہنا چاہتے ہیں:
اک وہ کہ پھرا کرتے ہیں اکڑے اکٹرے
اِک ہم کہ شکنجے میں پڑے ہیں جکڑے
صاحب، معاف کیجئے مجھے یوں لگتا ہے کہ ایسا سوچنے والے ، فکشن کے اپنے بھیدوں سے آگاہ نہیں ہیں جب ہی تو وہ اس صنف کے اندر تاثیرکہاں سے آتی ہے؟ اس کی جمالیات اور معنویت کا جادو کیسے بولتا ہے؟ اس پر نگاہ کئے بغیر اُس ’’واہ واہ‘‘ کے پیچھے ہو لیے ہیں جو لمحاتی ہے اور کہیں تو محض مجلسی ہے ۔ اس سے زیادہ ’’وہ واہ‘‘ ایک لطیفہ ، ایک چٹکلا، ایک دانش پارہ یا ایک کہاوت بھی سمیٹ سکتی ہے تو کیا عوامی سطح کی لمحاتی مقبولت کے لیے افسانے کو اپنے تخلیقی وقار سے اس کم تر سطح پر گرجانے دیا جائے؟ افسانے کے جملے کو شعر کے مقام تک پہنچانا اس کے لیے قطعاً عظمت نہیں ہے کہ زبان کے حوالے سے افسانے کو فکشن کا بیانیہ ہی عظیم بنا سکتا ہے اور بس۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے ہاں شاعری کی اپنی ایک مستحکم روایت ہے بلکہ یہ بھی واقعہ ہے کہ قصے اور داستان کی ہیئت میں بھی اس شعری روایت نے خوب خوب جوہر دکھائے ہیں ۔ اس باب میں اُردو کے ابتدائی منظوم قصوں کو کون بھول سکتا ہے ۔ یہ قصے ہندی ، عربی اور فارسی کے تھے اور ہمارے ہاں بات کہنے کا ایک مزاج بنا رہے تھے۔ طوطی نامہ کی کہانیاں ہوں یا ہشت اشت کے قصے یا پھر ملک محمد جائیس کی پدماوت میں غلام علی کے اضافے۔ اسی طرح حاتم طائی‘ چہاردرویش‘ لیلیٰ مجنوں‘ کلیلہ و دَمنہ سے کسی نہ کسی صورت کہانیاں نکل کربعد میں افسانہ نگاری کی فضا ضرور بنائی تھی اور ان کے زیر اثر جب لکھا جاتا تھا تو’’ محفل لوٹ لینے‘‘ والی آپ کی حسرت بھی پوری ہو جایا کرتی تھی ۔ ملاوجہی کا نثری قصہ سب رَس ہو یا میرتقی میر کی مثنوی شعلہ عشق‘ جسے مرزا رفع سودا نے نثر میں ڈھالا تھا‘ ہمارا سرمایہ ہیں مگر اس حقیقت کو بھی ماننا ہوگا کہ ہمارے اَفسانے کی عمارت مغرب کے فکشن کے اصولوں پر کھڑی ہے۔ اس سلسلے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ فکشن کی زبان شاعری کی زبان نہیں ہوگی فکشن کی اپنی زبان ہوگی۔ تاہم یہ بھی لازم ہے کہ تخلیقی عمل میں اپنی تہذیب اور ثقافت کی روح کو فکشن کا بیانیہ بنانا بنانا ہوگا اور سچ یہ ہے کہ عین آغاز سے اردو افسانے نے یہی چلن شعار کیے رکھا ہے۔ اُردو اَفسانے کو جس طرح کی چست قبا چاہیے تھی وہ داستان کے پاس تھی نہ یہ قصے کوئی صورت سجھا پائے تھے اور نہ ہی ہماری عظیم شعری روایت اس باب میں کوئی مدد کر سکتی تھی کہ اس کا اپنا علاقہ تھا اور اس میں اس نے خوب خوب جوہر دکھائے تھے ۔ہاں ماننا ہوگا کہ اس باب میں ایک عظیم شاعر اپنی نثر کے ذریعے ہماری مدد کو آیاتھا ۔جی، میری مراد اسداللہ خان غالب سے ہے ۔ اور غالب نے یہ کام اپنے خطوط کے ذریعے کیا تھا ۔ اس بے مثل اور بے مثال شاعرنے نے نثرکی زبان چُست کرکے فکشن کی زبان سجھا دِی تھی۔ یہیں ایک واقعہ سن لیجئے ۔ایک بار میرزا رجب علی سرور لکھنوی، لکھنو سے غالب کو ملنے کی خاطر آئے اور باتوں ہی باتوں میں اُن سے پوچھنے لگے کہ مرزا صاحب کہیے، کس کتاب میں اُردو زبان کو بہت عمدگی سے برتا گیا ہے؟ گویا سرورصاحب وہی آپ کے سوال والی بات پوچھ رہے تھے ۔ تب تک غالب نہیں جانتے تھے ، کہ سوال کرنے والے صاحب ہی صاحبِ فسانہ عجائب ہیں لہٰذا جھٹ میر امن دہلوی کی کتاب’’قصہ چہار درویش‘‘کا نام لے لیا کہ اسی کتاب کی نثر اُنہیں پسند تھی۔ سرور صاحب بے چین، کہ انہیں توغالب کی رائے اپنی کتاب ’’فسانہ عجائب‘‘ پر چاہیے تھی اور وہ ادھر آئے ہی نہ تھے۔چنانچہ سیدھا اپنی کتاب کا نام لے کر سوال داغ دیا کہ فسانہ عجائب کی زبان کیسی ہے ؟، غالب کو ’’قصہ چہار درویش‘‘ کے مقابلے میں’’فسانہ عجائب‘‘ کا نام لینا برہم کر گیا ۔تُرت کہہ دِیا : ’’اجی لا حول ولا قوۃ اس میں لطفِ زُبان کہاں‘ایک تک بندی اور بھٹیار خانہ جمع ہے۔ ‘‘اب اگر آپ کی نظر میں میر امن دہلوی کی باغ و بہار یعنی قصہ چہار درویش ہے اور میرزا رجب علی سرور کی فسانہ عجائب بھی، تو آپ کو غالب کا اصرار کے ساتھ اس کی نثر کو اچھا کہنا اور بہت عمدہ نثر ہونے کے باوجود سرور صاحب کا غالب سے اس کی تعرلف نہ سن کر تلملانا اور بے مزہ ہونا سمجھ میں آگیا ہو گا ۔ صاحب اس واقعے میں ہمارے سمجھنے کو کئی باتیں ہیں ۔ ان باتوں میں ایک بات کا تعلق آپ کے سوال سے جڑ جاتا ہے ۔وہ یوں کہ اگرچہ سرور صاحب کے جاتے ہی احباب کے بتانے پر کہ ناراض ہونے والے صاحبِ فسانہ عجائب تھے، غالب خود سرور کو منانے پہنچ گئے اور’’ فسانہ عجائب‘‘ کی نثر کی خوبی اور رنگینی کے علاوہ فصاحب و بلاغت کا ذکر کرکے اُنہیں منا لیا تھا مگریہ بات بھی سجھادی تھی کہ تخلیق اپنے مزاج کے اعتبار سے اپنی زبان کا انتخاب کرتی ہے اور اس باب میں میر امن دہلوی کے ہاں یہ کام سلیقے سے ہوا تھا ۔ اب اگر میں اپنی بات ڈھنگ سے کہہ پایا ہوں تو اسے ایک جملے میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ افسانے کو داد سمیٹنے کا ہوکا نہیں ہونا چاہیے کہ اسے خود اپنے اندر کے بھید بھنور سنبھالنے ہوتے ہیں ۔ فکشن کے بھید بھنور ہی اس کی اپنی روح ہیں جو اسے محض لمحاتی واہ واہ بٹورنے کی بجائے جمالیاتی اور معنیاتی قدروں کی مستقل بنیادیں فراہم کرتے ہیں ۔
سوال:میرا ذاتی خیال ہے کہ شعر پر تنقید کرنے والا شاعر ہونا چاہیے ورنہ وہ اس ماحول اور مزاج کو نہیں سمجھ پائے گا،جس نے شعر تخلیق کرنے کی تحریک پیدا کی؛افسانے کے ناقد کا افسانہ نگار ہونا لازم ہے؟
محمد حمید شاہد: گویا آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر کو کسی ایسے مریض کا علاج نہیں کرنا چاہیے جس کامرض اس نے خود نہ بھگتا ہو۔ یہ کیا بات ہوئی صاحب؟کیا ایسی ہی پابندی آپ ایک تخلیق کار پر بھی لگانا پسند فرمائیں گے ؟ ۔ منٹو کوچوان نہیں تھا ، اس نے ’’نیا قانون ‘‘ میں منگو کو کیسے لکھ دیا۔بیدی کو’’ لاجونتی‘‘ کی لاجو کا تجربہ کیسے ہو سکتا ہے وہ تو ایک مرد تھا ، اور اس کا اغوا بھی نہیں ہوا تھا۔ انتظار حسین نے ’’زرد کتا‘‘ میں لومڑی جیسی ایک چیز کا ذکر کیوں کر دیا جو منہ سے نکلتی تھی اورجسے پاؤں تلے جتنا کچلا جاتا وہ بڑی ہو جاتی تھی کہ ایسا تجربہ تو ممکن ہی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ جو اصول آپ وضع فرما رہے ہیں یہ چلنے بکنے والے نہیں ہیں۔ دیکھیں ،جس طرح ڈاکٹر اور مریض دوالگ وجود ہیں اور اُن کا تجربہ بھی اپنا اپنا ہے ، حالاں کہ دونوں ایک ہی مرض سے معاملہ کر رہے ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح تخلیق کار اور فن پارے کو اپنے تئیں تعبیر دینے والا یا اس کی تعیین قدر کرنے والانقاد دونوں کا وظیفہ الگ ہو جاتا ہے۔ دونوں کی اپنی اپنیqualifications اور اپنے اپنے لوازمات ہیں۔ ایک ناقد قدم قدم چلتا ہے ، مگر ایک تخلیق کار کے لیے یہ لازم نہیں ہے کیوں کہ اس کی تمنا کا دوسرا قدم کہیں بھی پڑ سکتا ہے ۔ اس کی صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپکتے رہتے ہیں۔ ایک ناقد ان قطروں کو گنتا ہے اور عقب میں جاکر علت اور معلول کا رشتہ قائم کرتے ہوئے نئی معنویت قائم کرتا ہے ۔ ایک اور بات ؛جس طرح ایک عروضی کی بابت یہ فیصلہ نہیں دیا جاسکتا کہ وہ لازماً اچھا شاعر بھی ہو گا، اسی طرح ایک اچھے شاعر کی بابت یہ گمان باندھ لینا کہ وہ اپنے اشعار کی جامع تعبیر بھی کر پائے گا ایک غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ مستثنیات کی بات الگ ہے مگر اسے کلیہ نہیں بنایا جاسکتا کہ شعر پر بات کرنے والے کو شاعر بھی ہونا چاہیے ۔ یہی بات میں افسانہ نگاری اور افسانے کی تنقید کے حوالے سے بھی کہوں گا۔ فکشن لکھنے والا ایک زندگی نہیں جیتا وہ ایک جسم میں کئی زندگیاں جی رہا ہوتا ہے ۔ وہ جو منشایاد کہتے تھے کہ لکھتے ہوئے وہ اپنے کرداروں کی کھال میں بیٹھ جایا کرتے تھے ، تو بات اس سے بھی آگے بڑھ جایا کرتی ہے ۔لکھنے والا محض کرداروں کی کھال نہیں اوڑھتا ، اپنے وجود کو معطل کرکے اپنے کردار کے وجودکو اس کی روح سمیت اپنی کھال کے اندر کھینچ لایا کرتا ہے ۔ اسے وہیں بسا لیتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے کہ متن احساس کی سطح پر تعمیر ہونے لگتا ہے۔ احساس کی یہ اتھل پتھل زمان و مکان میں اکھاڑ پچھاڑ پیدا کردیتی ہے، یوں جیسے ایک غوطہ خور شفاف پانی کی ہموار سطح کو پھاڑتا، اس میں اتھل پتھل پیدا کرتا ہے تو پانی کے اندر اس کی چشم پر زمین و آسمان کا نظارہ بھی اشرفیوں کی طرح کھنکتی اچھلتی پانی کی بوندوں میں گڈمڈ ہو جاتا ہے۔دیکھیے آپ ایک پینسل کو بھرے ہوئے گلاس میں ڈبو کر نظارہ کر سکتے ہیں کہ وہ ٹیڑھی ہے حالاں کہ وہ ٹیڑھی نہیں ہوتی یہ پانی ہی ہے جو اس کے وجود میں رخنے کا ایک بھید بھر دیتا ہے ۔ایک تخلیق کارکا تجربہ محض نظارہ کرنے والے یا اس کی سائنسی توجیح کرنے والے کا نہیں ہوتا ،وہ زندگی کو حسی سطح پرجھیل کر ایک متن میں مرتب کرتا ہے ، جی ایک متن میں، جس کی اپنی جمالیات بھی مرتب ہو رہی ہوتی ہے ۔ اس میں پانی کی بوندیں اشرفی کی طرح کھنک کر موجود منظر میں حک و اضافہ کرکے ایک نئے منظر میں ڈھال سکتی ہیں۔ایک سیدھے وجود میں رخنہ دکھا سکتی ہیں ۔ اور ہاں یہ جو پانی کی بوند کے اشرفی بن جانے والا خیال ہے ، یہ مجھے یوں ہی نہیں آگیا شاید میرے دھیان میں فیض کی وہ نظم تھی کہ جو انہوں نے ایرانی طلبا کے نام لکھی تھی’’یہ کون سخی ہیں/جن کے لہو کی/ اشرفیاں چھن چھن چھن چھن/دھرتی کے پیہم پیاسے/کشکول میں ڈھلتی جاتی ہیں/کشکول کو بھرتی جاتی ہیں/۔۔۔‘‘تو،آپ کا مجوزہ اصول لے کر چلیں تو فیض کا تجربہ لائق اعتنا نہیں رہے گا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ لہو کے قطرے چھن چھن کرتی اشرفی کی صورت دیکھی جا سکیں مگر تخلیق کار یہ دیکھتا ہے اور دِکھا سکتا ہے۔اچھا یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ تخلیق کا محرک بہت معمولی اور عام سا واقعہ ، خیال یا احساس ہو سکتا ہے مگر تخلیقی عمل اس کی کیمسٹری بدل دیا کرتاہے۔اس لیے کہ تخلیق نہ تو محض وقوعہ یاموضوع رہتی ہے نہ محض انشاپردازی۔ موضوع، مواد اور زبان یہ سب ایک خالص تخلیقی لمحے میں بہم ہو کر ہی فن پارہ بنتے ہیں اور جس تناسب اور ترکیب میں بہم ہوتے ہیں ، انہیں غیر تخلیقی لمحوں میں پھر سے بہم نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر آپ اس کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک تخلیق کار اپنے فن پارے کی درست درست اور کلی تفہیم سے قاصررہتا ہے اوراکثر تخلیق کے محرک سے ایک تعلق کے سبب اس کی تعبیر بھی محدود ہو جاتی ہے۔ایک ناقد کو بہ ہر حال ایک آزادی ہوتی ہے کہ وہ فن پارے کو فاصلے سے دیکھے ۔ حسن اور بھید ہمیشہ فاصلے کے سبب قائم رہتے ہیں ۔ اور ناقدین، فن پاروں سے کسی جذباتی وابستگی کے بغیر بہتر تفہیم کرلیا کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ماننا ہو گا کہ ایک ناقد ایک فن پارے کی ایک حد تک ہی تحسین کر سکتا ہے ایک عمدہ تخلیق میں ہر تعبیر کے بعد کچھ نہ کچھ پہلو رہ جاتے ہیں جوکسی اورناقدپر ظاہر ہونا ہوتے ہیں یا کسی اور زمانے میں کھلنا ہوتے ہیں ۔ میری اس گفتگو کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک ناقد تخلیق کار نہیں ہوسکتا یا ایک تخلیق کار کو تنقید کرنے سے باز رہنا چاہیے ۔ ایک تخلیق کار جب اپنے تخلیقی عمل کاآغاز ہوتے ہی ایک ہیئت کاا نتخاب کر رہا ہوتا ہے یامتن کی حسی تشکیل کرتے ہوئے ایک جمالیات مرتب کر رہا ہوتا ہے تو ایک ناقد بھی اس کے اندر چوکس اپنا فریضہ سر انجام دے رہا ہوتا ہے ۔ یہ ناقد بڑبولا نہیں ہوتا ، اعلان کرکے فکر، مواد، یا ذخیرہ الفاظ پر نہیں جھپٹتا ، چپکے چپکے اپنا کام کرتا اور متن میں تخلیقی بھید بھر دیتا ہے۔ فن پارے کی تکمیل کے بعد جس ناقد سے ہمیں واسطہ پڑتا ہے وہ اپنے تنقیدی قرینوں کا اعلان کرکے متن کی طرف بڑھتا ہے اور یہیں سے دونوں الگ ہو جاتے ہیں۔
سوال: افسانے یا کہانی میں فلسفہ یا کسی نظریہ کی تبلیغ کس حد تک جائز ہے؟کیااس زمانے میں افسانے کی ذریعے نظریے کی تبلیغ ممکن ہے؟
محمد حمید شاہد:اگر صاف لفظوں میں پوچھیں گے ،تو مجھے کہنا ہو گا :’’ نہیں، بالکل نہیں‘‘۔ مگر یوں صاف صاف نفی میں جواب اس مسئلے کو اور الجھا دے گا۔ دیکھیے ایک مچھلی پر آپ کیسے قدغن لگا سکتے ہیں کہ وہ پانی میں تیرتی رہے مگر گیلی نہ ہو ۔ فکریات میں رچے بسے آدمی کی تخلیقات سے اس کی فکریات کا چھلک پڑنا خلاف واقعہ نہیں ہے ۔ تاہم میرا اس بات پرایمان ہے کہ ادب کی روایت انسان دوستی کی روایت ہے ۔ اس کا مطالعہ کسی بھی فلسفے کی روشنی میں یا کسی نظریے اور فکر کے حوالے سے کیا توجا سکتا ہے مگر تخلیقی عمل میں فکریات کا شعوری التزام فن پارے کو ناقص، اُتھلا اور محدود بنا دِیتا ہے ۔جب میں انسان دوستی کی بات کرتا ہوں تو کسی خاص فکر کے زیر اثر ایسا نہیں کرتا ، کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ متنوع اور متصادم نظریات کا وہ عطر ہے جس کی مہک سب کو خوش آتی ہے ، سب کے ہاں قابل قبول ہو جاتی ہے ۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ جب ہم نظریات کی زمین پر قدم رکھتے ہیں توساتھ ہی اس یقین کی زمین پر بھی قدم رکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم ہی درست ہیں ۔ نظریات ہمیشہ تضاد کی فضا میں پروان چڑھتے ہیں ۔ دوسروں کی فکریات کی نفی کے بغیر آپ کا اپنا دعویٰ مکمل نہیں ہو پاتا ۔ اگر آپ تجزیہ کرنے بیٹھیں توآپ اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ لگ بھگ سب نظریات انسان اور انسانیت کی فلاح اور سلامتی کو یقینی بنانے کے دعوے پر بنیاد کرتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے سب کی منزل ایک ہے مگر ہرایک کا راستہ جدا ہے ۔کہہ لیجئے کہ نظریات اور فکریات سے وابستگی منزل سے وابستگی نہیں بلکہ ان راستوں سے وابستگی ہے جو فکریات نے اپنے تئیں بنائے ہوتے ہیں۔ آپ پنجاب کے ایک پس ماندہ ضلع اٹک میں رہتے ہیں، وہاں بسوں کے اڈے پر آپ نے یہ نظارہ بھی کیا ہوگا کہ جب ایک ہی منزل پر جانے والے مختلف مالکوں کی بسیں چلنے کو تیار ہوتی ہیں تو ان کے کنڈیکٹر ہر اس شخص کو لپک کر اپنی بس کی طرف کھنچ لے جانا چاہتے ہیں جس پر انہیں مسافر ہونے کا شک گزرتا ہے ۔ نظریات اور فکریات کی کھینچاتانی بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ بس سٹاپ والی کھنچا تانی میں ، ہم نے مسافروں کے کپڑے پھٹتے دیکھے ہیں جب کہ نظریاتی اور فکری کھینچاتانی میں خود انسان کے چیتھڑے اُڑ جاتے ہیں ۔ گذشتہ صدی میں انسان اور انسانیت کے چیتھڑے اڑنے کا نظارہ سب نے دیکھا ہے، یہی دہشت گردی ہے ۔ تہذیبی اکھاڑ پچھاڑ کو ہم نے دیکھا،لسانی سطح پر بگاڑ کا مشاہدہ ہم کرتے رہے،سیاسی عدم استحکام سے لے کر جذباتی انتشار تک کیسے کیسے دہشت کے منظر ہیں جو گزری صدی کی کوکھ سے نکل کر رواں صدی کے کندھوں کا بوجھ ہو گئے ہیں ۔ غالباً گلزار کا ایک افسانہ تھا جس میں ایک ویران سے پل پر دو ایسے اشخاص آمنے سامنے آ جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں ۔ مجھے افسانے کا نام یاد نہیں ،بس اتنا یاد رہ گیا ہے کہ یہ ہندو مسلم فسادات کی دہشت بھری فضا کے بارے میں تھا جس میں سے ایک دوسرے کو اللہ اکبر کہہ کر پل سے نیچے اُچھال دیتا ہے، اس خوف سے کہ کہیں مقابل اس پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ دوسرا کلمہ پڑھ کر موت کے منہ میں جا رہا ہوتا ہے اور اسی سے خوف کی وہ فضا بنتی ہے جس میں ہر دوسراشخص دشمن نظر آنے لگتا ہے ۔ فکریات کا یہی شاخسانہ ہے کہ خودکش حملہ آور بھی جنت اور حوروں سے ملن کا گماں باندھے ہوئے ہیں اور اسی فکر کے تحت ہم حملہ آور کا نشانہ بننے والوں کو شہید کہہ کرانہیں جنت کا ایسا مکین قرار دیا جارہا ہوتا ہے جن کا استقبال حوروں نے کرنا ہوتاہے ۔ نظریات اپنی جگہ بہت اعلیٰ ہو سکتے ہیں، ہوتے بھی ہیں مگر ان سے منسلک افراد اور سماج عملی سطح پر ایسے تضادات کا شکار ہو جاتا ہے کہ ان فکریات کی راہ کھوٹی ہو جاتی ہے ۔مسیح علیہ السلام نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص تمہیں ایک تھپڑ مارے تو اس کو تھپڑ مارنے کی بہ جائے اپنا دوسرا گال آگے کردو ۔ تو کیا ایسا ہی ہو رہا ہے ؟ نہیں نا۔ تو یوں ہے کہ فکریات میں اس تشدد کو جائز قرار دینے کے لیے ، اپنی فکر سے وابستہ تاویلات کے ڈھیر لگا لیے جاتے ہیں اور یوں وہ نظریہ خالص سطح پر وہ نہیں رہتا جس کی تبلیغ ادب کے وسیلے سے آپ کرنا چاہتے ہیں۔ ان تاویلات سے جڑنا دراصل فکری پروپیگنڈا ہے جس کی ادب میں گنجائش نہیں ہوتی اور افسانے میں تو بالکل نہیں ۔ ادب تونظریات کے اس ملبے تلے دبے انسان کا بوجھ کم کرنا چاہتا ہے مگر ایسا وہ کسی ردعمل میں نہیں کرتا اپنے قرینے سے کرتا ہے۔ جی ،ادب دھیمے پن کو شعار کرتا ہے ۔ صورت حال کو سہار کر اس کا مشاہدہ کرتا ہے اسے انسانی حسیات سے معاملہ کرنے دیتا ہے اور لکھتے ہوئے اس انسان دوستی کے عطر سے اپنے متن کو معطر کر لیتا ہے جو سب کے ہاں قابل قبول ہے۔گویا آپ کہہ سکتے ہیں کہ انسان دوستی کا تصورمذہبی بھی ہو سکتا ہے اور غیر مذہبی بھی، یہ سماجی اور ثقافتی ہو سکتا ہے اور سیاسی بھی مگر ادب میں انسان دوستی کا تصور ان سب سے مقطر ہو کر بھی ان کے تابع نہیں ہوتا۔
سوال:افسانہ یاکہانی کی عظمت قاری کی محتاج ہے؟کیا افسانہ نگار کو قاری کی ذہنی سطح کے مطابق اسلوب نہیں اپنانا چاہیے؟ آج بھی درجنوں ڈائجسٹ فروخت ہو رہے ہیں اور ان میں لکھی جانے والی کہانیاں مقبول بھی ہیں۔ادبی رسائل کیوں فروخت نہیں ہوتے؟میں نے مختلف خریداروں سے جب اس حوالے سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ ادبی رسائل میں شایع ہونے والی کہانیوں کی زبان بہت مشکل ہوتی ہے۔کیا یہ درست ہے؟
محمد حمید شاہد: سوال یہ ہے کہ ،ایک شخص جس ذہنی سطح پر موجود رہ کرہی تخلیق کار بن پاتا ہے ، اسے ، اس ذہنی سطح سے معزول کرکے قاری کی سطح پر لا پٹخنے سے کیا وہ تخلیق کار رہ پائے گا؟ قاری محترم ہے ، بہت محترم ۔ مگر یہ لکھنے والے کا منصب نہیں ہے کہ وہ اس کے احترام میں کہیں نیچے گر پڑے ، اسے قاری کو اوپر اُٹھانا ہوتا ہے، وہاں جہاں وہ خود ہوتا ہے ۔ عام قاری سماجی اقدار کا اسیر ہوتا ہے اور ان تحریروں کو پسند کرتا ہے جو اس کی محبوب اقدار پر ضرب نہیں لگاتی جبکہ ادیب اسٹیٹس کو ، کو توڑتا ہے اور اس کے لیے ایسا اسلوب وضع کرتا ہے کہ قاری مشتعل ہونے کی بہ جائے حیرت سے صورت حال کو دیکھے اور اس میں سے خود معنی برآمد کرنے کے جتن کرے ۔ یہ اسلوب ایک زود ہضم خوراک کی طرح نہیں ہوتا جو ادھر حلقوم سے اترتی ہے اور جزو بدن ہوئے بغیر آنتوں میں سے دَگڑ دَگڑ باہر کا رَستہ لے لیتی ہے ۔ یاد رکھیے، وہ ساری تحریریں جن کے معنی کی ترسیل فوراً ہو جاتی ہے جلد حافظے سے بھی نکل جاتی ہیں بالکل اخبار کی اُن خبروں کی طرح جو روز پڑھتے ہیں اور اگلے روز بھول جاتے ہیں۔لہٰذا افسانے کی عظمت اس سے متعین نہیں ہو سکتی کہ اس کی ترسیل ہو گئی ہے یا وہ مقبول ہوگیا ہے تاہم اس امکان کو بھی قطعاً رد نہیں کیا جاسکتا کہ مقبول ہونے والی کہانی عظیم بھی ہو۔ کسی ڈائجسٹ کے مقبول ہونے اور ایک ادبی جریدے کے مقبول نہ ہونے کا تعلق مواد سے کہیں زیادہ ، مواد کی پیشکش اور مارکیٹ تک رسائی سے ہے ۔ مثلاً شکیل عادل زادہ کا سب رنگ بہت عمدہ ادبی مواد پر مشتمل ہوا کرتا تھا، لگ بھگ ویسا مواد آپ ایک ادبی جریدے میں چھاپ کر اسے اس مقبولیت سے ہمکنار نہیں کر سکتے تھے جو سب رنگ کا حصہ ہوتا تھا۔ ۱۹۷۰ء کے آغاز میں شکیل عادل زادہ نے یہ ڈائجسٹ نکالا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ ہو گئی ۔ اچھا مزے کی بات سنیں ایک گفتگو میں شکیل عادل زادہ نے کہا تھا کہ انہوں نے جن لکھنے والوں کو چھاپا وہ مسلمہ ادیب تھے ، ایڈیگر ایلن پو اور موپساں وغیرہ اور کئی افسانے تو وہ نقوش اور فنون وغیرہ سے منتخب کرکے سب رنگ کا حصہ بنا لیتے تھے ۔ گویا وہی بات؛مواد یا میٹر نہیں پیشکش یاپریذنٹیشن ۔ اور اس باب میں ایک لکھنے والے کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا سرورق بنانے والے کا ، ہر کہانی سے پہلے ایک اسکیچ ہوتا اور ہر صفحہ بصری طور پر بھی توجہ کھینچتا تھا ۔ پھر یوں بھی تھا کہ وہ عام قاری کی دسترس میں تھا جہاں اخبار بکتا وہیں یہ ساتھ موجود ہوتا ؛ایسا سب کچھ ادبی جریدوں کے بس میں نہ تھا اور نہ ہی ایسی کوئی روایت بن پائی ہے ۔ کہنے کو تو یہ رسالے ادب چھاپتے تھے مگر جس طرح پروف پڑھنے اور متن کو غلطیوں سے پاک کرنے کے لیے محنت ڈائجسٹ والے کرتے تھے ، ویسی ادھر نظر نہ آتی تھے ۔ کچھ ڈائجسٹ ایک خاص طبقے میں مقبول مواد اور اس طبقے کی نفسیات کے مطابق مواد کو ترجیح دے کر اپنے قارئین کا حلقہ بنا لیتے ہیں ،جیسے اردو ڈائجسٹ یا خواتین ڈائجسٹ ۔ ادبی جرائد عام قاری کی بہ جائے چھاپے ہی ادیبوں کے لیے جاتے ہیں اور انہی میں تقسیم ہوتے ہیں ۔ جو لکھتے نہیں اور محض ادب پڑھتے ہیں وہ بہت کم لوگ ہیں جنہیں آپ ادب کے خالص قاری کہہ سکتے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ جرائد ایسے قارئین تک رسائی کرپاتے ہیں اور بس ۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ ایسے میں ادبی رسالوں کی مقبولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ رہ گئی یہ بات کہ افسانے کی زبان آسان ہو ، تو پوچھنا چاہوں گا کتنی آسان ؟ جس طرح سر بلند ہونے کی کوئی حد نہیں ہوتی ، اسی طرح گرتے چلے جانے کی بھی کوئی حد نہیں ہے ۔ ایک بار پھر کہوں گا کہ ادیب کو اپنے قاری پر اس تخلیقی رفعت کا بھید کھولنا ہوتا ہے جو وقت کے ایک مخصوص پارچے میں اس پر مہربان رہی ، اسی سے دست کش ہو کر اور اپنے منصب سے گر کر وہ تخلیق کار بھی نہیں رہے گا ۔ یاد رکھیے ہر عمدہ فن پارہ اپنی زبان ساتھ لے کر آتا ہے یہاں سوال افسانے کی مشکل یا آسان زبان کا نہیں ہے ، اس مواد کو تخلیقی سطح پر سہارنے اور جمالیاتی سطح پر نکھارنے کا ہے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو مشکل زبان بھی آسان ہو جاتی ہے ورنہ سب ایک گورکھ دھندے اور سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں رہتا۔
سوال:آپ اس سے یقیناََواقف ہوں گے کہ جامعات میں بیٹھے محقق حضرات شعر اور افسانہ لکھنے کو فضول خیال کرتے ہیں اور جب کسی طالب علم کو کسی شاعر یا افسانہ نگار کے فن یا شخصیت پر مقالہ لکھنے کی اجازت دیتے ہیں تو ان کا رویہ تضحیک آمیز ہوتا ہے۔
محمد حمید شاہد : ایک حد تک ان کا یہ رویہ سمجھ میں آتا ہے ۔ ایک حلوہ قسم کا موضوع تو یہی ہے ’’شخصیت اورفن‘‘ ۔ ہمارے ہاں جب دو چار کمروں کی یونیورسٹیاں کھمبیوں کی طرح اُگ آئیں اور وہاں ایم اے اردو یا ایم فل اردو کے طلبا اور طالبات بھی دستیاب ہو گئے تو موضوعات کی ڈھنڈیا پڑی ۔شخصیت و فن میں یوں سہولت ہے کہ کچھ ادیب سے پوچھ پاچھ کر لکھ لیا جاتا ہے، باقی حصے میں افسانہ نگاری کی تاریخ ادھر ادھر سے کٹ پیسٹ کر لی جاتی ہے۔ ایک باب میں جس پر کام کیا جارہا ہے اس کے کام کا تعارف سما جاتا ہے ۔ پھریہاں وہاں سے مضامین لے کر فن کا ذکر ہو گیا اس کی بابت کچھ معاصرین نے کہا ہوگا اسے ایک باب میں جمع کر لیا اور اس سب سے تھوڑ ا تھوڑا لے کر استخراج کا باب مکمل کرتے ہی تحقیقی مقالہ بھی مکمل کر لیا جاتا ہے ۔ مانتا ہوں کہ محنت کرنے والوں نے اس میں بھی بہتری کی صورتیں نکالی ہیں مگر بالعموم ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ قسم کاکام سامنے آنے لگا تو ہر جانب سے تنقید ہوئی اور بجا ہوئی ۔ مرے کو مارے شاہ مدار ، اس پر برا یہ ہوا کہ یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھی توتعداد میں طلبا و طالبات بھی بڑھ گئے۔ ادھر اساتذہ کو ترقی کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری چاہیے تھی ، ڈگری کے لیے ایک عدد تحقیقی مقالہ لکھنے کا وقت آتا تو موضوع مسئلہ بن کر سامنے آجاتا ۔ سوچنے والوں کے لیے تو موضوعات بہت ہیں مگر یہاں تحقیق سے کہیں زیادہ اہم ڈگری تھی ، کسی بھی صورت میں ڈگری ، تو ایسے ویسے موضوعات پر اور ایسے ویسے لکھنے والوں کے ایسے ویسے کام پر جس کی کوئی ادبی قدر نہ تھی مقالات لکھے جانے لگے ؛ اب اگر کوئی اس کا ٹھٹھہ اڑائے گا تو کیا حق بہ جانب نہ ہوگا؟پھر میں نے تو کئی ایسے ’’ڈاکٹر ‘‘ حضرات بھی دیکھے ہیں جو ڈھنگ سے اُس موضوع پر بات بھی نہیں کرپاتے جس پر اُنہوں نے پی ایچ ڈی کابھاری بھرکم مقالہ لکھ رکھا ہوتا ہے۔ ایسا مقالہ جسے کتابی صورت میں چھپوانے کا اُن میں حوصلہ نہیں ہوتا مگرڈاکٹر ہونے کے طفیل وہ استاد ہو کر اپنے شاگردوں کو’’ محقق‘‘ بنا رہے ہوتے ہیں، ہے نا عجیب بات! … خیر ، یہ تصویر کا ایک رُخ ہے۔ دوسرا رُخ یہ ہے کہ محقق اساتذہ کا ایک گروہ تازہ ترین ادب کے مطالعے کی طرف راغب نہیں ہوپاتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تحقیق کا یہ شوق خود ایک رجحان بنا دیتا ہے ۔ مثلاً مخطوطہ شناسی ایک فن ہے ۔کسی قدیم مخطوطے کی دریافت اور تہذیب کا اپنا ایک لطف ہے ، جو اس طرف گیاوہ اس رومان کاا سیر ہوا جو قدیم زبان ، موضوعات اور مزاج کا زائدہ ہوتا ہے گویا وہ اس لذت سے محروم ہوا جو ہم عصر ادب کی عطا ہے ۔جن اساتذہ کے ہاں تنقید کا مزاج متعین ہو چکا ہے وہ بھی ایک’’ محفوظ راستے ‘‘ کا انتخاب کرلیتے ہیں ۔ ان تخلیق کاروں کے حوالے سے موضوعات کا انتخاب جو پہلے سے اپنا ایک مقام بنا چکے ہوتے ہیں اور تنقید میں ان کا اتنا تذکرہ ہو چکا ہوتاہے کہ سہولت سے مطلوبہ مواد اخذ کیا جاسکتا ہے، انہی پر ان کی نظر ٹھہرتی ہے ۔یہی سبب ہے کہ ہمارے ہاں جامعاتی تنقید میں ’’مکھی پر مکھی مارنے‘‘ کا چلن عام ہے ۔ یہ صورت حال بھی تکلیف دہ ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ تحقیق کے لیے موضوعات احتیاط سے چننے کی ضرورت ہے ، اور اس باب میں اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے ۔اگرتعلیمی اداروں میں صورت حال مضحکہ خیز ہے تو اس کے ذمہ دار اس ادارے کے اساتذہ بھی ہیں ۔
سوال:ایک ان دیکھاواقعہ کسی افسانہ نگار کے دل و دماغ میں کیسے جگہ بنا لیتا ہے کہ قاری اسے ایسا حقیقی واقعہ سمجھنے لگتا ہے جو اس کے تجربے میں رہا ہو ؟
محمد حمید شاہد: لکھنے والے کا تخیل جتنا ہرا بھرا ہوگا، اتنا ہی وہ اِنسانی نفسیات کے قریب ترین صورت حال کو گرفت میں لے لینے پر قادر ہو گااور پڑھنے والا بہ قول غالب یہ محسوس کرے گا’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘۔ متخیلہ کے عقب میں مطالعہ اور مشاہدہ بھی کام کر رہا ہوتاہے ۔افسانہ لکھتے ہوئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو آپ لکھ رہے ہوں ، ویسا ہی عین مین آپ کے مشاہدے میں آیا ہو ، بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ایسا ہونا ممکن ہونا چاہیے تو اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ ایسا طبعی صورت میں ہوتا نظر آئے یا آ سکتا ہو بلکہ اس کا مطلب ہے کہ احساس اور خیال کی سطح پر اسے ہوتا دیکھ رہے ہوں ۔ قاضی افضال حسین کے ایک مضمون میں، میں نے پڑھا تھا کہ جب عصمت چغتائی کا افسانہ ’’لحاف‘‘ پہلی بار چھپا تو اس کا آخری جملہ یوں تھا:’’ایک اِنچ اُٹھے ہوئے لحاف میں ، میں نے کیا دیکھا ،توکوئی مجھے لاکھ روپے بھی دے تو میں نہیں بتاؤں گی۔‘‘منٹو نے یہ افسانہ پڑھا اور اس جملے پر معترض ہوئے کہ یہ ایک بچی کی زبان سے کہلوایا گیا ہے جو خلاف حقیقت ہے ۔ حسب عادت یہ اعتراض عصمت چغتائی نے رد کر دیا مگر جب یہ افسانہ آخری شکل میں چھپاتو اسے عصمت نے یوں بدل لیا تھا:’’قلابازیاں لگانے میں لحاف کا کونا فٹ بھر اُٹھا۔۔۔اللہ میں غڑاپ سے اپنے بچھونے میں۔ ‘‘ بہ قول قاضی افضال حسین یہ بدلا ہوا اختتام راوی کی عمر کی مناسبت سے بالکل ٹھیک تھا۔ اب آپ دیکھیں کہ عصمت بچی تھی نہ منٹو اُس بچی جیسا جو غڑاپ اپنے بچھونے میں گھس گئی تھی، مگر دونوں کا تخیل اتنا ہرابھرا تھا ، کہ وہ ایک بچی کی نفسیات کے مطابق صورت حال کو آنک سکتے تھے۔ عصمت نے ابتدائی طور پر حقیقت کو سمجھنے میں اگر ٹھوکر کھائی تو منٹو کے معترض ہونے پر، اس پر پھر سے غور کیا اور ایک بچی کی نفسیات کو اپنے جملے میں قائم کر لیا تھا۔یادرہے ایک افسانہ نگار کو زبان کا تخیلی اور حساس ترین سطح پر تخلیقی اظہار کرنا ہوتا ہے اور اسی سے وہ اپنے قاری کی متخیلہ کو تحریک دِے کر ایک حقیقت کا تماشا اس کے سامنے سجا دِیتا ہے۔ میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میں فکشن لکھتا ہوں اور وہ سچ ہو جاتا ہے، تو اس کامطلب بھی یہی ہے کہ جتنا ہرا بھرا تخیل ہو گا اتنا ہی وہ اس حقیقت کے قریب تر ین ہو جائے گا جو ہماری زندگیوں کو ایک نہج پر ڈالتی ہے۔جی ،حقیقت نہیں حقیقت کا تماشا۔ یہاں مجھے غالب کی ایک معروف غزل کا مطلع یاد آگیا ہے: ’’ بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے/ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے‘‘۔ جی ، یہ دنیا، یہ زندگی، وہ جو ہم دیکھتے ہیں اور وہ جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر نہیں دیکھنا چاہتے مگر دیکھتے ہیں، سب ایک تماشاہی تو ہے اور ہم اس تماشے میں ایک پتلی کی طرح ہیں ۔ ایک افسانہ نگار کے لیے حقیقت کا تصور (چاہے وہ دیکھی بھالی ہو یا ان دیکھی ) ، اس حقیقت سے انسانی سطح پر وابستہ ہونے کے بعد ہی قائم ہوتا ہے۔ محض بے جان پتلی ہو کر نہیں، ایک جیتا جاگتا زندہ وجود مگر پتلی۔ ’’اسیر ذہن‘‘ میں محمد سلیم الرحمن نے جون میک مرے کا ایک مضمون شامل کیا تھا’’ حقیقت اور آزادی‘‘، اس میں اس مصنف نے لکھا تھا کہ ہمارے رویوں کو براہ راست معین کرنے والی یا ہماری زندگی کے دھارے کو گرفت میں رکھنے والی حقیقت ہوتی ہے نہ حقیقی چیزیں ، بلکہ زندگی کا دھاراوہ چیزیں متعین کرتی ہیں جنہیں ہم حقیقت یا حقیقی سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ایک فکشن لکھنے والا یہیں سے اس حقیقت کو گرفت میں لیتا ہے جس نے ہماری زندگی کا رُخ متعین کیا ہوتاہے، یہی فکشن کا واقعہ ہے اور اگر اسے تخلیقی سطح پر قائم کر لیا جائے تو یہ واقعہ قاری کی متخیلہ کو بھی اسی رُخ پر تحریک دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سوال:کسی ایک فن پارے کے متعلق ناقدین کی مختلف،یعنی مثبت اور منفی آرا کیوں ہوتی ہیں؟اور کیا یہ بات درست ہے کہ ناقد جب تنقید کر رہا ہوتا ہے تو وہ در اصل اپنے آپ کو بے نقاب کر رہا ہوتا ہے؟
محمد حمید شاہد: جی ہاں ،یہ بات ایک حد تک درست ہے کہ تنقید ناقد کو بھی بے نقاب کرتی ہے ۔صاحب نہج البلاغہ نے فرمایا تھا’’بولو کہ پہچانے جاؤ، کیوں کہ انسان کی شخصیت اس کی زبان کے نیچے چھپی ہوتی ہے۔‘‘ لکھنا بھی ، بولنے کی ایک توسیعی صورت ہے ۔ لکھا ہوا لفظ جہاں وہ نکتہ سمجھاتا ہے جسے سمجھانے کا قصد لکھنے والے نے کیا ہوتا ہے،وہیں لکھنے والے کی اپنی شخصیت کا بھرم بھی کھول دیتا ہے ۔ ایک ناقد کے باب میں تو فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ اُتھلا ہے یا گہرا ،کہاں سے کھڑے ہو کر بات کر رہا ہے ، مرعوب ہے یا متاثر ، کسی کے جملے اُگل رہا ہے یا دِل سے نکلی بات کہتا ہے۔ تاہم میں نے ’ایک حد تک‘ آپ کی بات کو مانا تو اس کا سبب یہ ہے کہ ناقد کا ایک فریضہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ وہاں سے فن پارے کو نہ دیکھے جہاں وہ خود موجود ہوتا ہے، تھوڑی سی تکلیف کرے، اُٹھے اور وہاں پہنچے جہاں تخلیق کار نے موجود رہ کر ایک فن پارہ تخلیق کیا ہوتاہے ۔ مصنف کے زمانے میں پہنچنا ، جس زمین پر وہ موجود ہے اس زمین پر قدم رکھنا ، جس کلچر اور تہذیب کا وہ پروردہ ہے اسے سمجھنا ، یہ سب فن پارے کی بہتر تفہیم میں معاون ہو سکتے ہیں ۔اس دوسرے فریضے کو تب تک سر انجام نہیں دیا جاسکتا جب تک ناقد اپنی’ میں‘ نہیں مارے گا ، اپنے آپ کو بھول کر اور تخلیق کار کے نقطہ نظر کو نہیں سمجھے گا اور اپنے تجربے کی اسیری سے باہر نکلنے کے جتن نہیں کرے گا۔ یاد رہے ہر شخص اپنے اپنے تجربے کا قیدی ہوتا ہے مگر ایک عمدہ ناقد اس قید خانے یا پنجرے کو توڑنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اب میں آپ کے سوال کے پہلے حصے کی طرف آتا ہوں اور پوچھنا چاہوں گا کہ کیا سب انسان ایک سے ہوتے ہیں ؟ سب کی پسند ناپسند ایک سی ہوتی ہے؟، سب نے زندگی کو ایک انداز میں برتا ہوتاہے؟ ۔ جب ہر ایک کا تجربہ اور ذوق الگ الگ ہے تو کسی فن پارے کی بابت ان کی ایک سی رائے کیسے ہو سکتی ہے ؟ دیکھیے فن ماپنے یا آنکنے کا پیمانہ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک محلول کی طرح فن پارہ اس میں ڈال کر اور اس پیمانے پر بنے نشانات پڑھ کر اس کی بابت فیصلہ کر لیں اور یہ فیصلہ ،جو جو پیمانہ دیکھے، سب کا ایک سا ہو۔تاہم آپ کی وہ تشویش بھی اپنی جگہ بجا ہے کہ اس باب میں مثبت اور منفی کا ادل بدل ہمارے ہاں سفاک ہونے کی حد تک ہونے لگا ہے ۔ ادب میں یہ انتہا پسندی یا محض ذوقی رائے نہیں چلتی ایک فن پارے کو جانچنے کے کئی قرینے ہیں کہانی کیا ہے، پلاٹ کیسا ہے؟ پلاٹ ہے بھی یا نہیں ؟کہانی علامت بنی ہے یا محض ایک واقعہ ہو کر رہ گئی ہے؟،جس تیکنیک کو برتا گیا ہے کیا اس میں کہانی اپنا تخلیقی جو ہر دکھا رہی ہے؟، برتی جانے والے زبان کیسی ہے؟ کرداروں اور ماحول سے مناسب رکھتے ہوئے جتنا ترفع زبان اور موضوع کو دیا جا سکتا تھا کیا دے لیا گیا ہے؟موضوع کی انسانی حیات سے جڑت ، اور مجموعی طور پر فکشن کی جمالیات کی تشکیل وغیرہ وغیرہ ،ایک ناقد کے پاس توکہنے کو بہت کچھ ہوتاہے ہر ناقد اپنے مطالعے، مزاج اور فکری فنی رویوں کی روشنی میں فن پارے کا متن دیکھتا ہے اور اپنے تئیں فیصلے کرتا ہے جو محض منفی یا مثبت نہیں ہوتے ، کئی سطحوں پر تعبیری اورفنی سطح پرتعیین قدر کے باب میں ہوتے ہیں ۔ وارث علوی نے کہیں لکھا تھا کہ’’تعبیر ایک خود سر ‘ خود پسندمغرور حسینہ ہے۔‘‘ اور درست لکھا تھا، کیوں کہ ایک عمدہ فن پارہ ایک پرت والا نہیں ہوتا ، جس طرح ایک مغرور حسینہ کی ہر ادا آپ کو گھائل کرتی ہے ، ایک اعلیٰ فن پارہ بھی ایسے ہی اپنے معبر پر پرت در پرت کھلتا ہے ۔محض معنی اور مفہوم کی سطح پر نہیں اپنی مرتبہ جمالیات کے حوالے سے بھی ۔ جمالیات کے اپنے اصول ہیں ۔ پشکن نے جب یہ کہاکہ ’’ننگی حسین نہیں ہوتی، کھٹکتی ہے‘‘ تو حسن کا ایک اصول بھی قائم کر دِیا تھا؛ اُس کا الف ننگا نہ ہونا ۔ ایک آڑ ، ایک اوٹ ، ایک مہین سا پردہ حسین سے حسین تر وجود کو بھی چاہیے ۔ ایک ناقد کو وہ قرینہ تلاشنا ہوتا ہے جو اِس مہین پردے کی طرح فن پارے کی جمالیات قائم کر رہا ہوتا ہے ۔یہ سب فیصلے جس سطح کی سنجیدگی اور جس قسم کا سلجھا ہوا ذہن مانگتے ہیں وہ محض کسی فن پارے کو’’ اعلی‘‘ یا ’’گھٹیا‘‘ قرار دے کر مطمئن ہونے والا نہیں ہو سکتا۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

فکشن،زندگی کی تخلیق نو ہے|محمد حمید شاہد سےناز بٹ کا مکالمہ

 فکشن حیات اور کاروبار حیات کی نقالی نہیں بلکہ زندگی کی تخلیق نو کا عمل …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *