M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / سیمان کی ڈائری|مشتاق احمد یوسفی کی رحلت پر اہل ادب کے تاثرات

سیمان کی ڈائری|مشتاق احمد یوسفی کی رحلت پر اہل ادب کے تاثرات

افتخار عارف:

چراغ تلے سے آبِِ گم کا سفر مشتاق یوسفی کے حقیقی جوہر کی آئینہ داری کرتا ہے۔ وہ بلاشبہ اردو کے لیے باعثِ امتیاز تھے۔

محمد حمید شاہد:

اب مشتاق احمد یوسفی ایک بھر پور زندگی گزارنے کے بعد اور اردو ادب کا مستقل باب ہو کر رخصت ہوئے ہیں تو ان پر رشک آتا ہے۔

ناصرعباس نیر:

یوسفی کا قاری ان کے جملوں کے سحر میں ایسے گم ہوتا ہے کہ اسے نثر کی روانی سے متعلق شکایت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر ضیاالحسن:

یوسفی صاحب اپنے جس اسلوبِ مزاح کے باعث لازوال ہیں‘وہ آبِ گم تک ہی نظر آتا ہے۔یوسفی صاحب ہمارے دل کے مکیں ہیں اوریہاں ہمیشہ متمکن رہیں گے ۔

عقیل عباس جعفری:

نہ کوئی اس کے برابر، نہ کوئی اس کی مثال
کیا   زبانِ یوسفی   ہے     کیا    بیانِ یوسفی

………………………..
http://hameedshahid.com/index.php/2018/21/06/mushtaq-yusfi/
………………………..

روزنامہ جسارت کراچی کے 24 جولائی 2018 کے سنڈے میگزین میں مشتاق احمد یوسفی کی رحلت پر اہل ادب کے تاثرات کے عنوان سے شائع ہونے والی”سیمان کی ڈائری”۔ محمد حمید شاہد کی گفتگو سے ایک اقتباس:

محمد منشایاد، مشتاق احمد یوسفی، محمد حمید شاہد

محمد حمید شاہد

مجھے یاد ہے بیس بائیس سال پہلے مجھے مشتاق احمد یوسفی کے ساتھ اسلام آباد سے کراچی سفر کرنے کا موقع ملا تھا اور پہلی بار اس شخص کو کہ جس کی تحریر کا میں عاشق رہا تھا، ان سے مکالمہ کرتے ہوئے بہت اور طرح محسوس کر رہا تھا۔ ان کی شخصیت کا ایک رعب سا پڑ گیا تھا مجھ پر۔ میں نے وہ گفتگو ’’مشتاقاحمد  یوسفی سے ایک ـہوائی مکالمہ‘‘ کے عنوان سے لکھی اور محمود واجد مرحوم نے اسے اپنے جریدے “آئندہ” میں چھاپ دیا تھا۔ اس کے بعد مواقع نکلتے رہے،ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ان کی ہر کتاب کو ایک سے زائد بار پڑھا۔ ان کی گفتگوئوں کو سنا اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ اپنے اسلوب کے بہت بڑے نثر نگارتھے۔ شگفتہ نگاری ان کی ترجیحات میں تھی۔ وہ مزاح لکھتے ہوئے بہت تکلف سے بے تکلفی کشید کر لیا کرتے تھے۔ ماننا ہوگا کہ انہوں نے زبان کو جس قرینے سے لکھا ہے وہ ہمارے عہد کی کلاسیک ہو گئی ہے۔ ایک نئی کلاسیک اور ان کا یہ کارنامہ ان کی شگفتہ نگاری سے بڑھ کر ہے۔ “چراغ تلے”، “خاکم بدہن” اور “زرگزشت” میں انہوں نے شگفتہ نثرنگاری کاجو اعلی معیار مقرر کیا ہے اس کی نظیر بھی دور دور تک نہیں ملتی۔ “آبِ گم”،تو ناول کی طرح پڑھی گئی اور یوسفی صاحب کی قامت کو بہت بلند کر گئی۔

پہلی ملاقات، جس کا میں نے اوپر حوالہ دیا اتفاقی تھی۔میں اپنے بنک کی طرف سے اسٹیٹ بنک میں ہونے والی ایک میٹنگ کے لیے کراچی جا رہا تھا اور وہ کسی کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس ہو رہے تھے۔ اتفاقاً ہمیں نشستیں پاس پاس ملیں اور یوسفی صاحب کو جب یہ پتا چلا کہ میں بھی بینکار ہوں تو بہت خوش ہوئے تھے۔ پھر بینک کے حوالے سے وہ اپنی یادیں شیئر کرتے رہے۔ ان سے آخری ملاقات کراچی میں اردو کانفرنس میں ہوئی مگر یہ ملنا بھی کیا ملنا تھا تاہم اتنی نقاہت کے باوجود جس حوصلے اور صبر سے وہ پروگرام میں شریک رہے، ان کی ہمت کی داد دیے بغیر نہ رہ سکا تھا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ حوصلہ اور صبر ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف رہاہے اور لکھتے ہوئے، جملہ سازی میں بھی وہ اسی حوصلے اور صبر سے کام لیتے رہے، لکھتے اور بار بار ہر جملے کے اوپر کام کرتے رہے یوں جیسے ہمارے بزرگ سرکنڈے سے قلم بنانے کے بعد اس کے قط کو چاقو سے چھیلتے اور ہموار کرتے رہتے تھے۔ اب مشتاق احمد یوسفی ایک بھر پور زندگی گزارنے کے بعد اور اردو ادب کا مستقل باب ہو کر رخصت ہوئے ہیں تو ان پر رشک آتا ہے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|مشتاق احمد یوسفی نے بہت تکلف سے بے تکلفی کشید کی

(شکریہ روزنامہ جنگ 🙁https://jang.com.pk/news/509339) مشتاق احمد یوسفی نے غالباآب گم میں کہیں لکھاہے: “ہم اتنا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *