M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / دیباچے / محمد حمید شاہد|راجندر سنگھ بیدی؛تنقیدی مطالعہ اور منتخب افسانے

محمد حمید شاہد|راجندر سنگھ بیدی؛تنقیدی مطالعہ اور منتخب افسانے

راجندر سنگھ بیدی جہاں اپنے افسانوں کے کردار ایک خاص قرینے سے تعمیر کرتے ہیں، وہیں پیچیدہ افسانوی موادکو بہت فن کاری سے بیانیہ کا حصہ بنا کر اسے لائق مطالعہ بنا دیتے ہیں ۔ اِن کے افسانوں کی اہم خوبی خالص مقامیت کی فضا میں رچی بسی کھری کھردری، مسلسل رگڑ کھاتی اور اکھڑ زندگی کا تہذیبی، اساطیری اوراستعاراتی رُخ ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ جہاں اس قرینے نے ان افسانوں میں معنی کا ایک جہان آباد کیا ہے وہیں زُبان کو کسی نہ کسی سطح پر اجنبیا بھی دِیا ہے۔ اجنبیانے کا یہ عمل اوّل اوّل کہانی اور قاری کے درمیاں ایک رَخنے کی صورت آتا ہے اور بالآخرزندگی کا ایک گہرا بھید ہو جاتا ہے۔ ایسا بھید ،جس تک پہنچنے کی للک قاری کے ہاں دوران مطالعہ بڑھ جاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ سرسری متن سے نہیں گزرتا اُسے ٹھہر ٹھہر کرپڑھتا ہے اور دیر تک اس کی فضا سے وابستہ رہنا چاہتا ہے ۔
ایک طرف اگربیدی نے ہندو میتھالوجی سے اپنے افسانوں کے لیے معنویت کشید کی ہے تو دوسری طرف مقامی رسموں اور رواجوں ، مختلف گروہوں کے تعصبات، دیہی دانش کے لسانی ٹکڑوں، گیتوں،گالیوں اورطعنوں مہنوں کے علاوہ بوسیدگی کی لپیٹ میں آئے اَن گڑھ مزاجوں اور بے جا طنطنے ، غرض زندگی کے ایک ایک مظہر کو سلیقے سے اور سوچ سمجھ کر برتا ہے۔ کہیں کہیں بیدی کا قلم شوخ ہوا ہے اور کہیں گہرے طنز کی کاٹ سے اُنہوں نے ہمیں معاملے کی کسی اور جہت کی طرف لے جانا چاہا ہے۔ مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو زبان کے مختلف رُخوں اور سطحوں پر استعمال سے افسانے کاایسا بیانیہ مرتب ہو جاتاہے جو بیدی کے اسلوب کے طور پر الگ سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔
یہیں بیدی کے افسانوں کی ایک اور خوبی؛ اور یہ خوبی ہے، انسانی جذبات کی لطیف ترین جنبشوں کو گرفت میں لینے کے لیے جزیات نگاری کو وسیلہ کرنا۔ یاد رہے یہ جزیات نگاری اس تفصیل نگاری سے بالکل الگ ہے، جو کہانی کے اندر تہوں میں اُترنے سے روکتی ہے۔ بیدی اس قرینے کو بروئے کار لاکر اپنے کرداروں کا زندہ وجود اپنے قاری کے سامنے لے آتے ہیں؛کچھ یوں کہ پڑھنے والا اُن سے خاص، خالص جذبوں سے بھرا ہوا رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ یہ رشتہ ایسا ہے جو بیدی کے کرداروں کو مرنے نہیں دیتا۔ یہی سبب ہے کہ بیدی کا افسانہ آج بھی زندہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب تک اُردو زبان اور اُس کے پڑھنے والے زندہ رہیں گے ،بیدی کا افسانہ زندہ رہے گا۔
محمد حمید شاہد

……………………………………………………………………..

ایک دفعہ ایک صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ راجندر سنگھ بیدی کی زبان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا ’’بہت کم اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں بہت کچھ کہتے ہیں…‘‘ (عصمت چغتائی)

راجندر سنگھ بیدی | تنقیدی مطالعہ اور منتخب افسانے : محمد حمید شاہد
اعلی تحریریں اعلی کاغذ پر | قیمت 900 روپے | فری ہوم ڈیلیوری
ناشر: بک کارنر جہلم پاکستان | وٹس اپ نمبر 03215440882

یہ کتاب گھر بیٹھے حاصل کرنے کے لیے اپنا نام، پتہ اور رابطہ نمبر ان باکس میں میسج کریں اور دو سے تین دن تک کیش آن ڈلیوری کی سہولت سے حاصل کریں، شکریہ!

منتخب افسانے:
📕 لاجونتی 📕 سونفیا 📕 متھن 📕 ببل 📕 لمبی لڑکی 📕 بھولا📕 ہمدوش 📕 من کی من میں 📕 گھر میں،بازار میں 📕 زین العابدین 📕 گرم کوٹ 📕 چھوکری کی لوٹ 📕 گرہن📕 اپنے دکھ مجھے دے دو 📕 کوکھ جلی 📕 صرف ایک سگریٹ 📕 تلادان 📕کلیانی 📕 ایک باپ بکائو ہے 📕 لمس 📕 ٹرمینس 📕 کوارنٹین 📕 جہلم اور تارو

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|سچے آدمی کا فکشن

افسانے:جھوٹے آدمی کے اعترافات افسانہ نگار:لیاقت علی ’’جھوٹے آدمی کے اعترافات‘‘ لیاقت علی کے افسانوں …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *