M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|مشتاق احمد یوسفی نے بہت تکلف سے بے تکلفی کشید کی

محمد حمید شاہد|مشتاق احمد یوسفی نے بہت تکلف سے بے تکلفی کشید کی

(شکریہ روزنامہ جنگ 🙁https://jang.com.pk/news/509339)


مشتاق احمد یوسفی نے غالباآب گم میں کہیں لکھاہے:

“ہم اتنا جانتے ہیں کہ خود کو indispensable یعنی بے مثل و بے بدل سمجھ لینے والوں کے مرنے سے جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ درحقیقت صرف دو گز زمین میں ہوتا ہے ،جو اُن ہی کے جسد خاکی سے اُسی وقت پُر ہو جاتا ہے۔”

اگرچہ یوسفی صاحب نے زندگی بھر اپنے آپ کو بےبدل نہیں سمجھا مگر واقعہ یہ ہے کہ اُردو کی شگفتہ نثر کے باب میں اُن کا شوخ و شنگ مگر مہذب قلم ایسے گراں قدر اضافے کر چکاہے ،کہ ان کی قامت دوگز زمین کے شگاف کو بھرنے والے جسم سے کہیں بلند اورارفع ہو گئی ہے ۔ مجھے یاد ہے ، ایک مرتبہ میں نے یوسفی صاحب سے شکوہ کیا تھا کہ اس طرح کے جملوں سے نالائقوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور وہ علم و ہنر والوں کا ٹھٹھا اڑاتے ہوئے اس طرح کے “اقوال زریں” کو بہ طور سند مقتبس کیا کرتے ہیں تاکہ ثابت کر سکیں کہ دُنیا کا کاروبار کچھ کیے بنا بھی چلایا جا سکتا ہے یہی کہ “ایسا نہ ہوتا تو عقل اور فن کے بڑے بڑے تیس مار خانوں سےقبرستان نہ بھرے پڑے ملتے ۔” مشتاق یوسفی مسکرائے ، کہا:

” ہاں، مگر میں نے ذرا مختلف بات کی ہے ،اُن کی جو کچھ نہیں ہوتے مگر خود کو زندگی میں بہت کچھ سمجھتے ہیں۔ ”

واقعہ یہ ہے کہ مشتاق احمد یوسفی نےمحض مختلف بات نہیں کی ، لکھنے کا ایسا مختلف اسلوب بھی دیا ہے کہ وہ سب سے الگ اورنمایاں ہوتے چلے گئے ۔ چراغ تلے1961 میں چھپی اور خاکم بدہن 1969 میں ،جب کہ زرگزشت 1976 میں اور ان تین کتابوں کے ذریعے انہوں نے شگفتہ نثرنگاری کا جو اعلی معیار مقرر کیا ، اس کا نمونہ دور دور تک کہیں اور نظر نہیں آتا تھا ۔آبِ گم، جو1990 میں چھپی ناول کی طرح مقبول ہوئی ۔ یہ ایسی کتابیں تھیں کہ جن کے وسیلے سے یوسفی صاحب اردو ادب کا ایک مستقل باب ہو چکے تھے ۔اب ان کی قامت اتنی بلند تھی کہ انہیں خود ایک عہد کہا جانے لگا۔ ایک جملہ یاد آتا ہے،جو فرمان فتح پوری سے تواتر سے منسوب کیا جاتا رہا ہے مگر ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا کہنا ہے کہ یہ ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کا ہے ۔  ایک تخلیقی اور عین مین سچ کی تصویر ہو جانے والا جملہ:

“ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں “

ہاں ، ایک اور کتاب بھی آئی تھی یوسفی صاحب کی، شامِ شعرِ یاراں۔ یہ کتاب2014 میں منظر عام پر آئی جوان کی متفرق تحریروں کو جہاں تہاں سے جمع کرکے مرتب کر لی گئی تھی ۔

مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923 کو راجھستان میں پیدا ہوئے۔ راجپوتانے سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔آگرہ یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد علی گڑھ چلے گئے جہاں کی یونیورسٹی سے ایم اے فلسفہ اور ایل ایل بی کی ڈگریاں لیں ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اور ان کا خاندان کراچی پہنچا اور اسی شہر کو سکونت کے لیے پسند کیا ۔ یوسفی صاحب عملی زندگی میں بینکاری کے شعبہ سے منسلک رہے ۔ ایک ملاقات میں جب میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی بینکار ہوں تو مسکرا کر کہنے لگے پھر تو ہم پیٹی بند بھائی ہوئے ۔اسی ملاقات نے انہوں نے اپنا وہ معروف جملہ بھی سنایا تھا جو ان کی کتاب زرگزشت میں ہے ۔ یہی کہ “بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں – سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے –”

مشتاق احمد یوسفی بوڑھے ضرور ہوتے چلے گئے مگر وہ ایسے بوڑھے نہ بنے ، جو بڑھاپے کو رنگین کرکے رسوا ہو جاتے ہیں، بلکہ اور تخلیقی اور محترم ہوتے گئے، پھر بینک کی نوکری میں بہت اوپر تک گئے وہاں جہاں دونوں آنکھیں کھلی رکھنا ہوتی ہیں ۔ تو یوں ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی ان دونوں آنکھوں کو کھلا رکھا جو باہر کا نظارہ کرتی ہیں اس آنکھ سے بھی کام لیا جو بھیتر کا نظارہ کرتی رہی ۔ 1950 میں بینک کی نوکری شروع کی اور 1977 میں پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین بننے کے بعد ریٹائر ہوئے ۔ جب کہ لکھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ وہ اُردو کے شگفتہ ادب کا ایک روشن اور مستقل باب ہو چکے ہیں ۔ احسن فاروقی نے کیا خوب کہا تھا :

” وہ مزاح کو محض حماقت نہیں سمجھتے اور نہ محض حماقت ہی سمجھ کو پیش کرتے ہیں بلکہ اُسے زندگی کی اہم حقیقت شمار کرتے ہیں۔“

شفیق الرحمن، کرنل محمد خان،محمد خالد اختر، رشید احمد صدیقی،ابن انشا، سید ضمیر جعفری، مستنصر حسین تارڑ،عطاء الحق قاسمی،دلاور فگار،انور مسعود ؛ایک سے ایک بڑھ کرشگفتہ نثر و شعر لکھنے والے اس قبیلے میں مشتاق یوسفی سب سے الگ اور سب سے منفرد رہے ہیں ۔ سب اپنی اپنی جگہ محترم مگر یوسفی صاحب کو کچھ الگ مقام ملا تو اس کی وجہ ان کی خوب صورت نثر ہے ، الگ سی دھج رکھنے والی نثر ۔ ایک بڑے فن کار کی طرح انہوں نے اپنا اسلوب ڈھالا ، ایسا اسلوب کہ اس پر یوسفی صاحب کی اپنی مہر لگ گئی۔ کوئی اور اس اسلوب کو اختیار کرنے کے جتن کرتا ہے تو صاف دِکھنے لگتا کہ نقل ہو رہی ہے مگر ہو نہیں سکی ۔ مزاح میں طنز کی آمیزش مگر یوں کہ کہیں بھی لکھنے والی جھنجھلاہٹ متن کا حصہ نہیں ہوتی ، جملوں کی ساخت سے لہجہ بناتے اور رواں پانیوں سا بناکر یوں دوسرے جملے سے جوڑ دیتے کہ جملہ سنتے اور پڑھتے ہوئے اچھا لگتا اور گدگدی کرتا بات آگے بڑھا دیتا ہے ۔ اس اسلوب میں جہاں ہنسانے کی بہ جائے قاری کی توجہ مقصود ہوتی، گہری سے گہری بات کہہ لی جاتی۔ یوں یوسفی کی شگفتہ نگاری محض ایسی مزاح نگاری نہیں ہے جس سے صرف ہنسے ہنسانے کا کام لیا جاتا ہے۔ یوسفی صاحب کا یہ اسلوب ان کے وسیع مطالعے، زندگی کے گہرے مشاہدے ، اپنے رچاو والے دھیمے مزاج اور زبان کے فنکارانہ استعمال سے متشکل ہوتا ہے ۔ وہ اپنی بات کہنے اور اسے الگ جہت دینے کے لیے انگریزی لفظیات ، لفظوں کو اوندھانے، اشعار کے استعمال ، یا ان کی پیروڈی کر لینے کو بھی وسیلہ کرتے رہے ہیں، ایسا کرتے ہوئے وہ اپنی ذات کو بھی ہدف بنانے سے نہیں چونکے ، تاریخ سے کوئی واقعہ اٹھاتے ،کہیں کہیں فرضی کردار بناتے اور کہیں اپنے دوستوں کی زندگی ان کی تحریر کا ہدف بن جاتی ۔ مثلا دیکھئے اپنے مضمون “پہلا پتھر” میں وہ اپنے دبلے پتلے ہونے پر یوں چوٹ کرتے ہیں:

” اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں ۔ عرصےسے مثالی صحت رکھتا ہوں ۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتما م حجت کے لئے میری مثال دیتے ہیں۔”

اسی طرح مرزا کا ایک فرضی کردار ہے جسے یوسفی صاحب نے تراشا اور اسے یادگار بنا دیا ۔ اسی کردار کے حوالے سے” شام شعر یاراں” سے ایک جملہ:

“بہ قول مرزا ، دنیا میں جتنی بھی لذیذ چیزیں ہیں، ان میں سے آدھی تو مولوی صاحبان نے حرام کر دی ہیں اور بقیہ آدھی ڈاکٹر صاحبان نے۔”

یہیں ایک اور پرلطف جملہ مقتبس کرنے کا موقع نکل آیا ہے جس کا ماخذ ہماری تاریخ نویسی کے طریقہ کارہے۔”چراغ تلے” میں وہ لکھتے ہیں:

” بھولے بھالے بچوں کو جب یہ بتایا جاتا ہے کہ روم کی داغ بیل 753 قبل مسیح میں پڑی تو وہ ننھے منے ہاتھ اٹھا کر سوال کرتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کو یہ پتا کیسے چل جاتا تھا کہ حضرت عیسی کے پیدا ہونے میں ابھی 753 سال باقی ہیں۔”

یوسفی صاحب وطن عزیز کی سماجی، سیاسی اور معاشی صورت حال سے مطمئن نہ تھے ، تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ اس کے مستقبل سے مایوس ہوں ۔ انہوں نے اس باب میں مایوسی کی باتیں کرنے والے غوغائی سیاست دانوں کے حوالے سے کچھ سال پہلے جو لکھا تھا، اس میں وہ اپنے مزاج سے ہٹ کر قدرے تلخ بھی ہو گئے تھے ۔

تو یوں ہے کہ ایسا شخص اور بھر پور زندہ شخص ، جس نے اردو کے شگفتہ ادب کو الگ اسلوب دیا ہو ، ایسا اسلوب جس میں دانش ، بصیرت ، لطافت اور برجستگی ایسی ہو کہ اس کے اندر سے زندگی رنگ پچکاری ہو کر پھوٹ نکلتی ہو، جس نے بہت تکلف سے بےتکلفی کشید کی ہو او تجنیس اور تضاد کی صنعتوں کو استعمال میں لاکرجملے بناتے ہوئے اتنی ریاضت کی ہو کہ وہ بےساختہ لگیں ۔ جس نے محبتیں بانٹیں ہوں اور بہت سی محبتیں سمیٹی ہوں، اتنی کہ وہ زندگی میں ہی لیجنڈ ہو جائے ، اس کے بغیر وقت میں ایک کھانچا پڑ ہی جاتا ہے جسے کوئی اور پر نہیں کر پاتا۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمدحمیدشاہد|یوسف حسن:وہ گردگرداُٹھاتھااورمعتبربھی تھا

پروفیسر یوسف حسن کی ایک ترقی پسند ادیب کی حیثیت سے نظریاتی وابستگی، ایسی قابل …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *