M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|دہشت کے موسم میں کشور ناہید کی شاعری

محمد حمید شاہد|دہشت کے موسم میں کشور ناہید کی شاعری

ممتاز شیخ کی ادارت میں چھپنے والے ادبی جریدہ “لوح” میں اس بار کشور ناہید کی شاعری اور ادبی خدمات کے حوالے سے خصوصی گوشہ مختص کیا گیا ہے۔ اس گوشے میں محمد حمید شاہد اور عابد سیال کے مضامین کے علاوہ کشور ناہید کی شاعری کا انتخاب بھی شامل ہے۔ لوح میں شامل محمد حمید شاہد کا مضمون.

 —————————-

ذرا گمان میں لائیے ایسا زمانہ کہ اوپر سے آگ برس رہی ہے اور نیچے ایک معصوم بچہ جنت کے بہکاوے میں آکر اپنی ہی کمر سے بارودی جیکٹ باندھ کر خود کش حملہ آور بن رہا ہے اور ستم یہ کہ ہماری رہبری اور محافظت کا دم بھرنے والے پست ہمت اور حیلہ جو ’’نابغے‘‘ امریکہ کی خوشنودی کے لیے غلامی کا ہر طوق پہننے کو تیارہیں۔ جی ایسا زمانہ کہ میڈیائی پروپیگنڈے نے ہماری اجتماعی دانش میں سو طرح کے رخنے ڈال دیے ہیں اور بہ قول ایک لکھنے والے کے ،اس زمانے میں دانش وروں کی دانش چوری ہوگئی ہے مگر حیف کہ انہیں اس کی خبرتک نہیں ہوئی۔ جی ایسا ہی زمانہ تھا اوریہی زمانہ ہے کہ جب کشور ناہید قلم تھامے سفید کا غذ پر بکھری دہشت سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی نظم کا عنوان جماتی ہیں ’’9/11۔۔۔ امریکہ ہم تمہارے غلام ہیں‘‘ یہ نظم کیا ہے، شدید نفرت کا اظہار، یوں جیسے’ اَخ تھو‘ کرکے ایک مکروہ چہرے پر تھوک دیا گیا ہو ۔ کشور نے اس نظم میں لکھاہے:
’’نفرتوں کی وردی میں
تم شہ زماں بن کر
دندناتے پھرتے ہو
لوٹتے ہو ملکوں کو
اور حقوق انساں کا
نام لیتے جاتے ہو۔۔۔۔‘‘
                   (9/11 ۔۔۔ امریکہ ہم تمہارے غلام ہیں)
یہ محض شاعری نہیں ہے ، کہ ہمارے ہاں تو شاعری کی دیوی شاعر کی جلتی ہوئی پیشانی پر ہاتھ رکھتی ہے تو ایک لطیف سی نرگسیت روح میں اُترنے لگتی ہے. اس مقام کو تو وہ کب کا الاہنگ پھلانگ کر پیچھے چھوڑ آئی ہیں ۔اورہاں اگر یہ شاعری ہے، تو عجب شاعری ہے کہ ایک گہرا خوف، ایک شدید نفرت، ایک کوندے کی طرح لپکتی سراسیمگی بدن کے اندر اترتی ہے اور روح پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے، یا پھر پڑھنے والے کی احتجاجی مٹھیاں بھنچ جاتی ہیں اور حلقوم کو چیرتی ہوئی چیخ نکل جاتی ہے۔ مجھے صاف لفظوں میں کہنا ہوگا کہ کشور ناہید کی یہ شاعری محض عورت کا کلام ہے نہ صرف مزاحمتی شاعری۔ یہ تو سرا سر احتجاج ہے، محض احتجاج بھی نہیں ،آگے بڑھ کر حملہ آور ہونے کا چلن ہے ۔
جب وہ ایک نظم کا عنوان ’’امریکی بھینسے‘‘ رکھتی ہیں تو یقین جانیے وہ آگے بڑھ کر انسانی حقوق کا نام لے کراپنے خونی سینگوں سے انسانی حقوق کے اتلاف پر جتے ہوئے بھینسے پر حملہ آور بھی ہورہی ہوتی ہیں ۔ اس نظم میں دیکھیے وہ امریکہ کا کتنا مکروہ چہرہ دکھا رہی ہیں:
’’اب جبکہ کوفہ و نجف میں
انسانوں کے گلے میں پھندا ڈال کر
زمین پہ کھینچتے ہوئے تصویریں دیکھتی ہوں
فوجی عورتوں کو
کتوں کو شہ دلاتے ہوئے دیکھتی ہوں
کہ وہ کتے عراقی قیدیوں کی بوٹیاں
کس طرح نوچیں
تو انسانی حقوق کی ساری راہداریوں میں چیخیں بھر جاتی ہیں‘‘
                                                        (امریکی بھینسے)
میرتقی میر نے کہا تھا :
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم  کتنے   کیے  جمع   تو   دیوان  کیا
لگ بھگ کشور کا دعویٰ بھی یہی ہے ۔ اب انہیں ایسی شاعرہ کہلوانے کا ہوکا نہیں ہے کہ جو صرف اپنے وجود کے دکھوں میں الجھی ہوئی ہو، حالاں کہ اس باب میں بھی انہوں نے خوب خوب متوجہ رکھا ہے۔ مگر یوں ہے کہ کشورنے یہیں سے الگ ہو جانا شعوری سطح پر چلن کیا تو ان کی شاعری میں انسانی برادری کے دُکھ گندھتے چلے گئے ہیں، حتٰی کہ دُکھی طبقوں کی سسکیاں اور چیخیں پورے ماحول کو ایک دل چیر ڈالنے والے نوحے سے جھنجھوڑ کر جگانے کا حیلہ کرتی اور اس میں شدید ردعمل کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ لمحہ لمحہ کرکے گزرتے وقت پانیوں کے اندر سے اذیت کی چھاننی سے ریت چھاننے اور اس میں سے سچے انسانی جذبوں کے سونے کو الگ کرتے چلے جانے کا نام کشور کے ہاں شاعری ہو گیا ہے ۔ سچ اپنی دھرتی کا ہو یا دنیا کے کسی اور کونے کا وہ اس سے بے درنگ جڑتی ہیں، اسے اپنے لہو کا حصہ بناتی اور اپنی نظموں میں پرو لیتی ہیں۔ مثلاً دیکھیے کہ جب وہ فلوجہ میں سہمے ہوئے زخمی بچوں کی چیخیں سنتی ہیں تو اپنے لہو میں قلم ڈبو کر یوں نظم ترتیب دیتی ہیں:
’’ مجھے بتاؤ میں اس سچ کا کیا کروں
جو زمین پہ بولا نہیں جا سکتا
آسماں پہ پڑھا نہیں جا سکتا
اخبار میں چھپ نہیں سکتا
اور لوگوں کے سامنے بولو
تو وہ آپ کو وحشی اور ناعاقبت اندیش کہتے ہیں ۔‘‘
                              (فلوجہ کے دروازے پہ کھڑی نظم)
عین ایسے زمانے میں کہ جب دہشت گرد ہی دہشت گردی کے معنی متعین کر رہا ہو، وحشی ہی وحشت کا نشانہ ہونے والوں کو وحشی کہہ رہا ہو ، سچ کا اظہار بے وقونی اور جہالت ہو اور سچ کہنے والے غائب ہو رہے ہوں، بچوں کی قندھاری آنکھیں سرمہ بن رہی ہوں تو ایسے میں ایسی نظمیں لکھنے کا حوصلہ کشور ناہید کے اندر دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے اور اس کے حوصلے پر رشک بھی آتا ہے ۔ ایک اور نظم دیکھیے جس کا نام ہے :’’جم گئے پاؤں‘‘۔ اس نظم کو وہ یوں آغاز دیتی ہیں:
’’اب جبکہ نہ ہم بھاگ سکتے ہیں
اور نہ کھڑے رہ سکتے ہیں‘‘
                           (جم گئے پاؤں)
کسی ایک جگہ جم کر کھڑے نہ رہ سکنے کا سبب اسی نظم کی اگلی سطروں میں وہ یوں بیان کرتی ہیں:
’’ہمیں دن رات وظیفہ پڑھایا جا رہا ہے
تم مسلمان ہو ،تم دہشت گرد ہو
تم امن لوٹنے والے ہوگ
تم کیوں نہیں ڈرتے امریکہ سے
تم کیوں اس کے حواریوں کے کاسہ لیس بن کر
زندہ رہنے کو تیار نہیں ہو۔۔‘‘
                           (جم گئے پاؤں)
کشور ناہید کاسہ لیسوں پر نفرین بھیجتی ہیں اور خود بھی کسی کی کاسہ لیسی پر تیار نہیں ہیں، یہی اس شاعری کا پیغام ہے ۔ عالمی سامراج ہو یا مقامی ۔ ظلم کہیں ہو انہوں نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ وہ اس پر اپنے کالموں سے اور اپنی شاعری سے حملہ آور ہوں گی وہ اس پر حملہ آور ہوتی ہیں ۔ پھر یوں بھی ہے کہ دُکھ جہاں سے اُگے اس کا وار وہ اپنے دِل پر محسوس کرتی ہیں ۔ جب انہیں اپنے باجوڑ میں اتنے جنازے نظر آتے ہیں کہ شہر چھوٹا پڑتا دکھائی دیتا ہے تو وہ نظم ’’باجوڑکا تعزیت نامہ‘‘لکھتی ہیں ۔ جب وہ ایک ماں کی آنکھ میں آنسو دیکھتی ہیں تو ان کی ممتا کا دُکھ انہیں ’’ خود کش حملہ کرنے والے بچے کے نام: ماں کے آنسو‘‘ جیسی نظم لکھو ا دیتا ہے ۔ اگر جامعہ حفصہ کی باپردہ لٹھ بردار عورتیں ان سے نظم ’’شہر زاد کا سوال جامعہ حفصہ سے ‘‘ لکھواتی ہیں تو مجموعی تشدد بھرا منظر نامہ’’مرے اندر باہر ۔۔۔ ہو‘‘ جیسی نظم۔ اس نظم کو وہ یوں آغاز دیتی ہیں ۔
’’میں پاکستان سے باہر ہوں ‘‘
پھر آگے چل کر لکھتی ہیں، کہ وہ بھی دنیا بھر کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ ہم آواز ہوکر جنگ سے نفرت کا اظہار کر رہی ہیں ۔ لیکن اس احتجاج کا نتیجہ ہمارے معاملے میں اوندھایا جا رہا ہے:
’’میرے ہاتھ میں بینر ہے ’’شاعر امن چاہتے ہیں ‘‘
میں نے تو پاکستان میں بھی یہی کہا تھا
مگر مجھے کارگل ملا، افغانستان ملا۔
تورابورا ملا
کشمیر میں کپواڑا ملا
مجھے کہیں بھی تو امن نہیں ملا۔‘‘
                            (مرے اندر باہر ۔۔۔ ہو)
امن، امن اورصرف امن یہ کشور ناہید کی شدید خواہش ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بالعموم وہ عورت کے ساتھ جاکر کھڑی ہو جایا کرتی ہیں مگر جب ظلم تشدد یا تعصب کی تصویر میں عورت جارح نظر آئے تو ہم یہ بھی آنک سکتے ہیں کہ وہ اس پر حملہ کرنے سے بھی نہیں چوکتی ہیں ۔ ایسے میں ان کا رویہ 2004 میں نوبل انعام پانے والی آسٹرین فکشن نگار خاتون الفریڈی جیلنک (Elfriede Jelinek) جیسا ہو جاتا ہے جس نے اپنے ایک کھیل ’’بامبی لینڈ‘‘(Bambiland)‘ میں عراق پر حملہ آور امریکہ کے چیتھڑے اُڑتے ہوئے اس کا وہ مکروہ روپ دکھایاتھا جو دُنیا بھر نے ابوغریب جیل کے واقعات سامنے آنے کے بعد دیکھا تھا۔ فلوجہ میں فوجیوں کی کٹی پھٹی لاشیں بھی جیلنک کی اس تخلیق میں جھلک دے گئی تھیں ۔ یہ سب کچھ کشور ناہید کی نظموں میں بھی ظاہر ہوا ہے ۔ ہم کشور کی وحشت اور بارود کے موسم میں لکھی ہوئی نظمیں پڑھتے ہیں اور بہ طور خاص نائن الیون والی نظم تو امریکی فوجیوں کے ہتھے چڑھ کر جنسی تشدد کا شکار ہونے والی ایک خوب صورت عراقی عورت کا چہرہ بھی جھلک دے جاتا ہے جسے کرب اور اذیت نے بدل کر رکھ دیا تھا۔ کشور اپنی شاعری میں اس عورت کے ساتھ کھڑی ہے اور اس امریکی فوجن کا چہرہ نوچ رہی ہے جو اپنے خونخوار کتے کو ننگے عراقی مرد کوبھنبھوڑنے کے لیے اُکسا رہی ہوتی ہے ۔
یہ تو وہ نظمیں ہیں جو اس نے ’کاغذ کے سوراخ سے دنیا دیکھتے ہوئے لکھی ہیں‘‘ ۔ یہ نظمیں صحافت کی زبان میں ٹیزر ہیں ۔ ایسے شدید لمحوں لکھی ہوئی نظمیں کہ جب انہوں نے شاعری سے کنی کاٹ کر نکل جانا چاہا تھا مگر شاعری نے انہیں گرفتار کیا۔ گرفتار کرنے والی اس شاعری کا رنگ یوں بدل گیا جیسے امریکی فوجیوں کے ہتھے چڑھ کر جنسی تشدد کا شکار ہونے والی ایک خوب صورت عراقی عورت کا چہرے کا رنگ کرب اور اذیت نے بدل گیا تھا ۔ جب ہم ٹوٹ رہے تھے تو میں نے ایک ناول لکھا تھا’’ مٹی آدم کھاتی ہے ‘‘ اس میں انہوں نے اس کے بیانیے میں جھونجل کیفیات کو نشان زد کرتے ہوئے شمس الرحمٰن فاروقی نے لکھا تھا’’ دُکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے ۔‘‘ میں نے کشور کی پیچ و تاب کھاتی یہ نظمیں پڑھیں تو بے اختیار کہنا پڑا ’’ صرف دکھ ہی نہیں اذیت ،غصہ اور شدید نفرت بھی لکھنے کاڈھنگ سکھا دیا کرتے ہیں‘‘
وحشت اور بارود کے اس موسم میں کچھ نظمیں اور غزلیں کشور ناہیدنے اپنے اکلاپے پر بھی لکھی ہیں ۔ اکلاپے میں،کہ جب آوازیں اور طرح سے گونجنے لگتی ہیں، وقت کچھ اور طرح سے مکالمہ کرتا ہے اور بے کلی کا تسلسل لہو میں ایک اور طرح کا آہنگ بناتی ہیں ۔ اسی قبیل کی شاعری میں وہ نظم بھی شامل ہے جو انہوں نے ماں بن کر ’’تیاگ کی لوری‘‘ کی صورت میں لکھی ہے۔ اس نظم میں بتایا گیاہے کہ اب تو رشتوں میں موسموں جتنی بھی استقامت بھی نہیں رہی ہے۔ ’’زندگی کا پل‘‘ نامی نظم میں ان کا احساس پرانے زمانے کے پیتل کی طرح بجنے لگتا ہے جیسے ادھڑے ہوئے لحاف یخ بستگی گھستی اور دانت بجنے لگتے ہیں ۔ ایسے میں سارا منظر نامہ اس اُکھڑے ہوئے ٹیڑھے میڑھے فرش کا سا ہو جاتا ہے جس پر یہاں وہاں بوسیدگی ٹوٹی ہوئی ٹائلوں کی طرح بکھری پڑی ہوتی ہے ۔ کشور ناہید نے اپنی شاعرانہ وحشت کو جس دہشت اور باردو کے موسم میں دیکھا ہے اس نے اسے اور بھی تنہا کر دیا ہے ۔ یہ تنہائی اس کی کئی نظموں میں، اپنے قاری سے مکالمہ کرتی ہے۔ایسی ہی ایک نظم سے چند سطریں مقتبس کرکے اجازت چاہوں گا:
’’جو لوگ زندگی میں اکیلے رہتے ہیں،
ان کی موت کو بہت سے تماشائی مل جاتے ہیں‘‘
اسی نظم کا ایک اور ٹکڑا :
’’جو لوگ زندگی میں اکیلے رہتے ہیں،
وہ گود لے لیتے ہیں
کبھی اداسی کو،کبھی قہقہوں کو‘‘
کشور کی یہ نظم ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ:
’’نمازیں ان کو اور بھی تنہا کر دیتی ہیں
دعائیں آنسوؤں میں ڈھل جاتی ہیں ‘‘
(ہوا اپنا راستہ بناتی ہے)
کشور ناہید کی وحشت اور باردو میں لپٹی ہوئی نظمیں اس اکیلی عورت کی محض شاعری نہیں ، ان کے آنسو اور دعائیں بھی ہیں، جو امن کی چاہ میں ان کی آنکھوں سے پھوڑتے اور لبوں پر مچلتے رہے ہیں ۔
***

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|مشتاق احمد یوسفی نے بہت تکلف سے بے تکلفی کشید کی

(شکریہ روزنامہ جنگ 🙁https://jang.com.pk/news/509339) مشتاق احمد یوسفی نے غالباآب گم میں کہیں لکھاہے: “ہم اتنا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *