M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / فکشن،زندگی کی تخلیق نو ہے|محمد حمید شاہد سےناز بٹ کا مکالمہ

فکشن،زندگی کی تخلیق نو ہے|محمد حمید شاہد سےناز بٹ کا مکالمہ

 فکشن حیات اور کاروبار حیات کی نقالی نہیں بلکہ زندگی کی تخلیق نو کا عمل ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اصناف کے درمیان کسی قسم کے مقابلے اور موازنے کو درست نہیں سمجھتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نامور افسانہ نگار، ناول نگار، دانشو، محقق اور نقاد محمد حمید شاہد (تمغہ ءامتیاز) سے ناز بٹ کا مکالمہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”مرگ زار“، ”گانٹھ“ اور”سورگ میں سور“ جیسے شاہکار افسانوں کے خالق محمد حمید شاہد نا صرف پاکستان کے ایک اہم ناول نگار، افسانہ نگارہیں بلکہ ایک با شعور نقاد، محقق، حساس تخلیق کار اور کثیر المطالعہ ادیب بھی ہیں۔۔ حکومت ِ پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 23 مارچ 2017 کو صدارتی سول ایوارڈ ”تمغہ امتیاز” سے بھی نوازا۔

محمد حمید شاہد سے ہوئی گفتگو قارئین کی نذر :

ناز بٹ:سب سے پہلے اپنے ادبی اور سوانحی پس منظر سے آگاہ کیجئے؟

محمد حمید شاہد: سوانحی پس منظر میں کوئی خاص بات نہیں ہے ایک دیہاتی پس منظر رکھنے والا شخص ہوں۔ میرے خاندان میں کوئی باقاعدہ ادیب یا مصنف بھی نہیں تھا۔ ابا جان سیاسی سماجی کارکن تھے اور کتابوں کے شوقین۔وہ ٹاٹ لگی جھولنے والی کرسی پر بیٹھ کر مطالعہ کرتے تھے اور میں اس تاک میں رہتاکہ وہ کب کرسی سے اٹھیں گے تو میں اس میں جھولے لوں گا۔ موقع ملتے ہی انہی کی طرح کتاب منھ کے سامنے دھر لیا کرتا تھا اور کرسی جھولتا رہتا۔ بس یہیں سے کتابوں سے دوستی ہوگئی۔ میں نے یہ بات گزشتہ دنوں اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے اپنے ساتھ منعقد ہونے والی ایک نشست میں کہی تو اظہار الحق فرمانے لگے، بے شک حمید شاہد کے بزرگوں میں کوئی مصنف نہ تھا مگر اس کا تعلق ایسے علاقے سے ہے جہاں کی مائیں اپنے بیٹوں کے گھر لوٹنے پر کہا کرتی ہیں ”مینڈھا پتر آیا، چن چڑھیا،پھل کھڑ پئے، اور اس سے بڑھ کر ادب کیا ہوگا“، ہاں اپنے بزرگوں سے میں نے یہ ادب سیکھا۔میں نے اپنے افسانوں کے پہلے مجموعے”بند آنکھوں سے پرے“ کے آغازیے میں لکھا تھا کہ کہانی اور میں ایک ساتھ اپنی ماں کی گود میں آئے تھے، دونوں کے حلقوم میں زندگی کا رس میری ماں نے قطرہ قطرہ اتارا تھا۔ پنڈی گھیب، ضلع اٹک میں واقع ہے اور یہی وہ شہر ہے جس میں، میں کوئی ساٹھ سال پہلے پیدا ہوا، یہیں میٹرک تک پڑھا اورپھرزرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے بہ قول سید ضمیر جعفری بستانیت کا فاضل ہو کر بینکنگ کے شعبہ میں چلا گیا۔ بتیس سال اس شعبہ میں رہا اور خدا کا شکر کہ ایک وقار کے ساتھ وہاں سے ریٹائر ہوا۔ اس سارے عرصے میں ادب ہی میرا عشق رہا ہے۔

ناز بٹ۔کیا ایک فکشن نگار کی حیثیت سے آپ اپنے تخلیقی سفر اور اس پر اپنے معاصرین کے رد عمل سے مطمئن ہیں؟

محمد حمید شاہد: ایک لکھنے والازندگی کے ہرہر مرحلے میں حیرتوں کے مقابل ہوتا رہتاہے۔ اطمینان شاید اس کی زندگی میں کہیں نہیں ہوتا۔ ہمیشہ ایک بے کلی، اضطراب یا تجسس اُسے آگے بڑھاتا ہے اور نتیجے میں ایک حیرت کے مقابل کرکے اُس پرتخلیق کا دریچہ کھول دیا کرتا ہے۔ میں اپنے آپ کو خوش بخت سمجھتا ہوں کہ یہ حیرتیں ایک پھوار کی صورت ہمیشہ مجھ پر برستی رہی ہیں۔ معاصرین کے رد عمل کے باب میں مجھے یادآتا ہے کہ محترم انتظار حسین نے مجھے نئے افسانے کی ابرو کہہ کر میرا حوصلہ بڑھایا تھا۔ ممتاز مفتی کو میری سچائیوں میں رنگ رس اور خلوص ایک ساتھ نظر آیا۔ احمد ندیم قاسمی نے میرے افسانوں کو لمحہ رواں کی معاشرتی،ثقافتی اور تہذیبی زندگی کی تاریخ قرار دیا۔ڈاکٹر اسلم فرخی کے بہ قول میرے افسانے خوب صورت ہمہ جہتی انداز اور فکر کا آئینہ دار تھے۔ پروفیسر فتح محمد ملک کا کہنا تھا کہ میں اپنی کہانیوں میں ظاہر کی آنکھ سے تماشا کرنے کا خوگرہوں اور دل کی آنکھ کھولنے میں کوشاں بھی اور میں نے عصری زندگی کے مصائب پر یوں قلم اٹھایا ہے کہ عصریت اور ابدیت میں ماں بیٹی کا رشتہ قائم ہوگیا ہے۔مجھے ایسی آرا نے ہمیشہ حوصلہ دیا ہے کہ میں آگے بڑھوں اور نت نئے تجربے کرتا جاؤں۔ ہمارے عصر کے ذہین نقاد ناصر عباس نیر، جو اب عمدہ افسانہ نگار بھی ہیں، کا میرے ہاں ہونے والے تجربات کی بابت فیصلہ ہے کہ خود شعوریت سے جہاں میرے افسانوں میں متن در متن یاFrame Narrativeکی صورت پیدا ہوئی ہے‘ وہاں یہ افسانے نئی قسم کی حقیقت نگاری کے مظہر بھی بن گئے ہیں۔ اور ان ہی کے مطابق”برشور“،”لوتھ“،”تکلے کا گھاؤ“،”موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ“ اور ”مرگ زار“میری نو حقیقت پسندی کی عمدہ مثالیں ہیں۔ ہمارے سب سے محترم سینئرنقاد اور فکشن نگار شمس الرحمن فاروقی نے فرمایا ہے کہ میرے تخلیقی سروکار سماجی سے زیادہ سیاسی ہیں، حتیٰ کہ میرے ماحولیاتی افسانوں میں بھی کچھ سیاسی پہلوپیدا ہو جاتے ہیں ان کا یہ کہنا میرے لیے اعزاز ہے کہ ”اسے حمید شاہد کی بہت بڑی کامیابی سمجھنا چاہیے کہ وہ ایسے موضوع کو بھی اپنے بیانیہ میں بے تکلف لے آتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگار گو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے۔“ یہ ہے میرے معاصرین کا رد عمل، میں اپنے آپ کو اس باب میں بہت خوش بخت سمجھتا ہوں۔ بتاتا چلوں کہ میرے افسانوں کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں؛”بند آنکھوں سے پرے“، ”جنم جہنم“، ”مرگ زار“ اور”آدمی“۔ یہ جو آخری والی کتاب ”آدمی“ ہے، سید محمد اشرف نے ایک دلچسپ خط میں اس کے افسانوں میں مسلسل نئے پن، انہی کے لفظوں میں تکرارکی حد تک نئے پن کو نشان زد کیا تھا۔ ہاں، بتاتا چلوں کہ میرے افسانوں کا ایک انتخاب ڈاکٹر توصیف تبسم نے کیا تھا جو سینئر ادیب،بہت خوب صورت شاعراور نہایت اعلی ادبی ذوق کے مالک ہیں۔ انہوں نے جو انتخاب کیا، اُس کا نام تھا ”محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے“۔ایک اور انتخاب ہندوستان کے نوجوان نقاد محمد غالب نشتر نے ”دہشت میں محبت“ کے نام سے کیا جس میں ایسے افسانے رکھے گئے ہیں جو نائن الیون کے تناظر میں انسانی صورت حال کا نوحہ ہو گئے ہیں۔ افسانوں کا تازہ مجموعہ تیار ہے جلد ہی وہ بھی آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔

ناز بٹ: ذاتی تجربات و مشاہدات ایک فن کار کی تخلیقات میں کہاں تک اثر انداز ہوتے ہیں؟

محمد حمید شاہد: دیکھیے تخلیق کا پہلا سوال تو آپ کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ وہ ذات جو کسی بیان میں نہیں آسکتی، آپ کے وجود میں کہیں چھپی ہوئی ہوتی ہے مگرجو آپ کی پوری شخصیت پر حاوی ہوجاتی ہے۔ یہی وہ دریچہ ہے جس سے آپ زندگی کے بار بار دہرائے جانے والے، مسلے ہوئے اور کچلے ہوئے واقعات کے اندر سے، ایک نیا پن، نئی معنویت اور تازگی کو دریافت کرتے ہیں ایسے میں کون کہہ سکتا ہے کہ ایک تخلیق کار کے ذاتی تجربات اور مشاہدات اس کے تخلیقی عمل کے دوران بے سدھ پڑے رہتے ہیں۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ تخلیقی شخصیت کو اس کے اپنے تجربات اور مشاہدات بڑی حد تک مختلف کر دیا کرتے ہیں، جی ایک ہی ماحول میں رہنے مگر مختلف ہو جانے والے اور اپنے اپنے حسی ادراک کے سبب اپنے تجربات اور مشاہدات کے زاویوں کو مختلف کر لینے والے۔ مثلاً دیکھئے منٹو اور اوپندرناتھ اشک دونوں ایک زمانے میں ایک ہی جگہ کام کر رہے تھے۔ اُن دنوں (بہ قول اشک) عریاں نگاری کو ترقی پسندی سمجھا جانے لگا تھا۔ اشک اور منٹو کے درمیاں ایک ایسا افسانہ لکھنے کا مقابلہ ٹھہر گیاجس میں نوکروں کے سامنے مالکوں کی جنسی بے احتیاطی اور اس کے اثرات کو موضوع بنایا گیا ہو۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ اوپندر ناتھ اشک نے اس موضوع پر اپنا افسانہ“اُبال“ لکھا تھا۔ منٹو کا افسانہ تھا ”بلاوز“۔ دونوں افسانے کمال کے ہیں اور دونوں مختلف۔ گویاکوئی بھی موضوع تخلیق کو اتنا مختلف نہیں کرتا جتنا دیکھنے کا وہ زاویہ، جہاں سے ایک تخلیق کار اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کے وسیلے سے مختلف کرلیا کرتا ہے۔

ناز بٹ: الفاظ کی دسترس اور جذباتی ہم آہنگی میں شعور کا کتنا عمل دخل ہوتا ہے؟

محمد حمید شاہد: میلان کنڈیرا نے ایک جگہ یہودیوں میں مقبول ایک ضرب المثل کے یہ الفاظ بتا رکھے ہیں ”آدمی سوچتا ہے اور خدا قہقہہ لگاتا ہے۔“ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب فرانسوارابلے نے ایک دن یہ خدائی قہقہہ سنا تھا تو پہلے بڑے یورپی ناول کی بنیاد پڑگئی تھی۔ میلان کنڈیرا کی اس بات سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آدمی کا شعور جس سطح پر کام کر رہا ہوتا ہے محض وہ سچ نہیں ہوتا لہذا وہ تخلیقی عمل کی بنیاد بھی نہیں بنتا۔ شعوری عمل میں اکثر ہم سچ سے کنی کاٹ کر نکل رہے ہوتے ہیں۔ اپنے نقطہ نظر کے دفاع میں دلیلیں گھڑ رہے ہوتے ہیں لہذا ایسے میں مضامین لکھے جاسکتے ہیں، وعظ دیے جا سکتے ہیں، نصیحت کی جا سکتی ہے مگر ادب کی تخلیق، شعور کی اس کارکردگی کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ سچ سے گریز پر آمادہ شعورتخلیقی عمل میں مداخلت کرتا ہے مگر آپ کے لاشعور اور تحت الشعور کے علاقے اس باب میں جتنے زرخیز ہو ں گے تخلیقی عمل کی کارکردگی اتنی ہی حیران کن ہوگی۔ زبان کا سیکھنا بنیادی شرط ہے، جس موضوع پر لکھا جا رہا ہو اسے اپنا مسئلہ بنالینا بھی اہم ہے مگر اس سارے کو اندر ہی اندر اس کٹھالی میں گلتے پگھلتے دینا کہ احساس اور جذبہ موافق زبان خود تلاش لیں اور سارا مواد یوں قلم سے اُبل پڑے جس طرح زمین کی کوکھ پھاڑتا لاوا پھوٹ نکلتا ہے۔ زبان سیکھنے کے لیے مطالعہ اہم ہے، دوسروں نے کوئی لفظ کیسے برتا، کیسے جملہ بنایا،اسے سمجھنا بھی اہم ہے۔ مگر جس طرح دوسروں نے برتا عین مین ویسا برتنے کے جتن کرنا محض نقل ہے تخلیق نہیں۔ایک میکانکی عمل میں شعور کو جتنا چوکس ہونا چاہیے تخلیقی عمل کے دوران یہ شعوراتنا ہی خوبیدہ اوربے سدھ پڑا ہوتا ہے۔برتی ہوئی اور سیکھی ہوئی زبان کو بھولنا اور تخلیقی عمل کو آزادی کی ایسی فضا مہیا کرنا کہ زبان اپنے نئے امکانات کے ساتھ اپنی کارکردگی دکھاسکے، ایک تخلیق کار کو مختلف اور زیادہ لائق توجہ بنا دیا کرتا ہے۔ مجھے یاد آیا جب محمد عمر میمن سے ماریو برگس یوسا کی کتاب کے حوالے سے میرا مکالمہ چل رہا تھا تو ایک مرحلے پر دورِ عباسی کے مشہور عربی شاعر خَلف الاحمَر(جو پورے بصرے میں سب سے زیادہ سخن شناس اور سخت گیر نقّاد تھا) کا ذکر آیا تھا۔ اس سے ابو نُواس نے شعر کہنے کی اجازت چاہی تو خَلف الاحمَرنے شرط لگائی تھی کہ وہ پہلے ایک ہزار قصائد حفظ کرکے دکھائے۔ ابو نُواس نے بادیۃُ العرب کے اَعراب کے درمیان بودوباش اختیار کی اور ایک ہزار عربی قصیدے یاد کر لیے۔ اس نے واپس آکر قصائد سنا ئے اور شعر گوئی کی اجازت چاہی تو خَلف الاحمَر نے کہا، ضرور شعر کہو مگر پہلے یہ جو تم نے ایک ہزار قصیدے حفظ کیے ہیں، انہیں بھول کر دکھاؤ۔ تو یوں ہے کہ جیسے تخلیقی عمل میں زبان کو اوروں نے برتا پہلے اُسے بھولنا ہوگا اور تخلیق کار کی اپنی حسیات اور جذبات غیر شعوری طور پر جو راہ متعین کرتے ہیں، اس پر انہیں آزادی سے چلنے دینا ہوگا کہ یہیں سے تخلیق کاری کا شفاف عمل شروع ہوتا ہے۔

ناز بٹ: فروغ ادب کے لیے تنقید کہاں تک کارآمد ہو سکتی ہے اور آج کل کے تنقیدی رویوں پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

محمد حمید شاہد:آپ کے سوال کے پہلے حصے سے یوں لگتا ہے کہ تنقید ادب نہیں بلکہ فروغ ادب کا ایک ٹول ہے جب کہ ہمارے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ تنقید ادبی سرگرمی ہے اور اسے محض ایک ٹول کے طور پر برتنا مناسب نہیں ہے۔ ہمارے یہ دوست اس باب میں بہت دور نکل جاتے ہیں اور تنقید کو ادب کی خود مکتفی صنف قرار دینے سے نہیں چوکتے۔ان دونوں انتہاؤں پر سوچنا میرے نزدیک نادرست اور خلاف حقیقت ہے۔ اگر تنقید یعنی نقد کے معنی کھرے اور کھوٹے کو الگ کرکے دِکھانا ہے تو تنقید کا بنیادی فریضہ فن پارے کی تعیین قدر بھی ہو جاتی ہے جس سے ہماری نئی تنقید کنی کاٹ کر نکل جاتی ہے۔ آپ چاہے کسی فن پارے سے اجتماعی لاشعور کو برآمد کریں یا نفسیاتی تجزیہ کریں،استقرائی حیلے برتیں یاتحریر کی ایک ایک جزو کا الگ الگ مطالعہ کرنے کو تجزیاتی وتیرہ اپنائیں، اس کی ساخت پر سوال اٹھائیں یا مارکسی، عمرانی، سائنسی، ہئیتی تنقیدی حربے آزمائیں اور متن کے پوشیدہ معانی تک پہنچ جائیں؛یہ سب احسن مگر اسے سب سے پہلے یہ آنکنا ہوگا کہ متن فن پارہ بنا بھی ہے یا نہیں؟ تنقید اپنا فریضہ ڈھنگ سے ادا کرے گی تو ایسا کرتے ہوئے فروغ ادب کا منصب بھی ادا ہو جائے گا۔ اسی سے عام قاری کا ادبی شعور بڑھے گا، اس کی تربیت ہو گی اور نتیجے میں ادب کے متن سے فن، فنی جمالیات اور معنی، سب سطحوں پر ربط قائم کرنے کے امکانات بڑھیں گے۔ تاہم فروغ ادب تنقید کا بنیادی نہیں بلکہ ضمنی منصب ہے۔ اب رہا آپ کے سوال کا دوسرا حصہ، تو اس باب میں وہی دہرانا چاہوں گا جو پہلے بھی کہیں کہہ آیا ہوں یہی کہ اردو تنقید کی بات حالی اور آزاد کا ذکر سے شروع ہوتی ہے کہ انہوں نے تخلیق پاروں کی فنی سطح کو آنکنے کے کچھ اصول اپنانے کی طرف راغب کیاتھا۔ اس حوالے سے ”مقدمہ شعرو شاعری“ کا رول بہت اہم ہے۔ اس باب میں امداد امام اثر کی”کاشف الحقائق“ کو بھی نگاہ میں رہنا چاہیے۔ شبلی نعمانی کی ”شعرالعجم“ بھی تذکرے سے آگے کی کتاب ہے۔ ان تینوں کے ہاں مغرب سے اکتساب اور اپنے روایت سے جڑت،دونوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس عہد کا تنقیدی عمل،تخلیقی عمل سے جڑا ہوا اور نئے نئے سوالات قائم کرتا نظر آتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے مقاصد سیاسی اور غیر ادبی سہی مگر جہاں کہیں اور جب جب وہ تخلیقی عمل کے تابع رہے ان کی ترقی پسندی ادب کا جوہر بنی۔ مجھے یادہے ایک موقع پر فیض احمد فیض نے فرمایا تھا:”موضوع بغیر خوبیء اظہار کے ناقص اور اظہار خوبی موضوع کے بغیر بے معنی ہے۔“۔ حلقہ ارباب ذوق والوں کا معاملہ تو ادب سے باہر کا تھا ہی نہیں۔ میراجی، راشد جیسے لوگ اگر نئی نظم کے حوالے سے لائق اعتنا ہیں تو ان کو تخلیقی عمل سے جڑ کر تنقیدی فیصلے کرنے والے بھی کہا جا سکتا ہے۔ شب خون،فنون اور اوراق نے اپنے اپنے قارئین کے الگ الگ دائرے بنانے کے جتن ضرور کیے مگر شمس الرحمن فاروقی، احمد ندیم قاسمی اور وزیر آغا، سب بنیادی طور پر تخلیق کار تھے لہذا ان کا مسئلہ تخلیق رہی ہے۔ اس کے بعد کے زمانے میں جدید اور مابعد جدید تنقید میں ہمارے ہاں بہت کام ہوا۔ تاہم میں ایک تخلیق کار کے طور پر سمجھتا ہوں کہ لگ بھگ گزشتہ پچیس تیس سال میں،تخلیق اور تنقید میں وسیع بُعد پیدا ہواہے۔ ہمارا سارا زور نئی تنقید کو سمجھنے، اس کی اصطلاحات کی ترجمہ کاری، ان اصطلاحات کی تشریح اور تھیوریوں کو سمجھنے اور سمجھانے صرف ہو گیاہے۔ خیر کچھ عرصے سے صورت حال بدلی بدلی نظر آنے لگی ہے، اور نئی تنقید کے نمائندوں کے ہاں ایسے مضامین اور کتب تواتر سے نظر آنے لگی ہیں کہ جی خوش ہوتا ہے۔ پھر ہماری نسل کے تخلیقی سطح پر متحرک لوگ بھی تنقیدلکھ رہے ہیں نئے لوگوں میں آصف فرخی، مبین مرزا، ناصر عباس نیر، ضیاالحسن،امجد طفیل سے لے کر قاسم یعقوب تک،ناموں کا ایک سلسلہ ہے جن کا کام متوجہ کرتا ہے۔اب اگر تنقید کو ادب کی سرگرمی بننا ہے اور محض لسانی یا فلسفیانہ سرگرمی نہیں رہنا تو بہر حال تنقید کو اپنی خود ساختہ خود مختاری سے دست کش ہونا ہوگا۔

ناز بٹ: آپ نے کسی جگہ یہ کہا ہے کہ”شاعری شاعر کا مشغلہ ہوتی ہے۔ جب کہ نثر، نثر نگار کا مسئلہ ہوتی ہے‘‘ آپ کی اس سے کیا مراد ہے؟

محمد حمید شاہد:اوہ، نہیں۔ مجھے لگتا ہے یہ دوستوں کی محفل میں اچھالا جانے والا محض ایک چلبلا جملہ تھا جو میرے ایک پیارے نے کوئی تین چار سال پہلے سوشل میڈیا پر پھینک دیا اور یار لوگ اس پر اپنا اپنا حاشیہ چڑھا رہے ہیں۔صاف صاف کہہ دوں کہ میں اصناف کے درمیان کسی قسم کے مقابلے اور موازنے کو درست نہیں سمجھتا ہوں۔ اصل اہمیت تخلیقی تجربے کی ہوتی ہے وہ جتنا خالص ہوگا اتنا ہی فن پارہ اہم اور لائق توجہ ہو جائے گا۔ کچھ لوگوں کے لیے نثر اور شعر کا موازنہ ایساہی ہے جیسا بہ قول فرانسیسی شاعر پال ویلری ”چہل قدمی کے مقابلے میں رقص“؛ مگر میرے لیے تو یہ بہت مضحکہ خیز ہے۔ میں نرمل ورما کو پڑھ رہا تھا، بہت خوب صورت ہندی افسانہ لکھنے والے ہیں نرمل ورما؛ ایک جگہ انہوں نے شاید فاکنرکو مقتبس کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”ہر ادیب شروع میں شاعری کی کوشش کرتا ہے، جب ناکام ہو جاتا ہے تو افسانے لکھنے لگتا ہے اور اس میں بھی ناکام ہوتا ہے تو ناول لکھتا ہے“۔ ظاہر ہے یہ بات مضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے۔ ہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی لکھنے والا اپنے لیے مناسب تخلیقی صنف کاانتخاب کرتے ہوئے ان ہی مراحل سے گزرے جو فاکنر نے بتائے ہیں اور ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ کوئی جس صنف کو پہلی بار آزمائے وہی اس کا زندگی بھر کے تخلیقی اظہار کا قرینہ ہو جائے۔ خیر،میں اس طرح کے موازنے کو سرے سے نادرست اور کارِ فضول سمجھتاآیا ہوں۔ میں خود بہت زیادہ شاعری پڑھتا ہوں اور نئی نظم تو مجھے یوں لگتا ہے کہانی ہو گئی ہے، جی میری محبوب صنف کہانی۔ میر نے کہا تھا: ”اور کچھ مشغلہ نہیں ہے ہمیں / گاہ و بے گہ غزل سرائی ہے“ تو یوں ہے کہ جس شاعر کے ہاں یہ کیفیت رہتی ہو وہاں شاعری محض مشغلہ کہاں رہتی ہے۔

ناز بٹ:کیا بڑاادیب اور بڑا شاعر ہونے کے لیے صاحب ثروت اور صاحب اختیار ہونا ضروری ہے؟

محمد حمید شاہد: نہیں، بالکل نہیں۔ اس کے لیے محض اور صرف اپنے تخلیقی عمل پر بھروسا اور ادبی جرائد کے ذریعے اپنے قارئین کا ایک حلقہ پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس باب میں ملمع کاری نہیں چلتی، کسی بھی چمک کا سہارا وقتی طور پر کسی کو دھوکے میں رکھ سکتا ہے، جب سب سہارے ختم ہو جاتے ہیں تو یہ تخلیق ہی ہوتی ہے جو اپنے تخلیق کار کے دفاع کو موجود ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ مجید امجد، زندگی بھر صاحب ثروت نہ ہو کر بھی اپنی شاعری کے سبب ہمارے لیے بہت محترم ہو جاتے ہیں۔
کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر
روشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ
ژاں پال سارتر نے لکھا تھا کہ ”مجھے اپنی دیوانگی پسند ہے کیوں کہ یہ دیوانگی میری حفاظت کرتی ہے اور مجھے”اعلیٰ سماج“ کا لاڈلا ہونے سے بچا لیتی ہے“۔ یہی دیوانگی دراصل وہ تخلیقی تاہنگ ہے جو ادیب کو ثروت مند بناتی ہے۔ یہ بات بھی سارتر نے کہی تھی کہ ’مجھے بس ایک فکر رہی کہ دولت اور طاقت کے بغیر اپنے آپ کو اپنے کام اور یقین کے وسیلے سے بچائے رکھوں“۔ ایک لکھنے والے کو سارتر کی یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں تازہ رکھنی چاہیے کہ ایک لکھنے والے کے لیے تخلیقی ثروت مندی ہی اصل ثروت مندی ہے۔

ناز بٹ:آپ فکشن کوکس نظر یہ سے دیکھتے ہیں اور اُردو فکشن کاپاکستان میں مستقبل کیا ہے؟

محمد حمید شاہد:میرے لیے فکشن حیات اور کاروبار حیات کی نقالی نہیں بلکہ زندگی کی تخلیق نو کا عمل ہے۔ جی عین مین ویسی زندگی لکھ لیناجیسی ہم پر گزری،وہ بالکل نہیں، بلکہ ایسی جس میں بہت غیر محسوس انداز میں ترمیم کر کے اسے اپنے خوابوں والی زندگی کا سا بنا لیاجاتا ہے۔یہ نہ تو محض ماجرا نگاری ہے نہ ایسی شعبدہ بازی جسے کام میں لا کر ایسا عجب پیدا کرلیا جاتا ہے جس پر یقین ممکن نہیں رہتا۔ فکشن کی زندگی تو زندگی پر اپنے قاری کا ایقان بڑھاتی ہے اور اس کا وسیلہ متن سے دریافت ہونے والی وہ حیرتیں ہوتی ہیں جو اس میں بہت دور تک اور دیر تک چلتے رہنے اور اس کے عطا کیے ہوئے دکھ سکھ کو اپنے وجود وں پر جھیلنے کی للک عطا کرتی ہیں۔جب میں اردو فکشن کی بات کرتا ہوں تو جاننا چاہیے کہ میرے نزدیک افسانہ اور ناول دونوں فکشن ہیں۔ قیام پاکستان لے کر ملک کے دولخت ہونے اور اس اکھاڑ پچھاڑ والے پر آشوب زمانے کے آتے آتے یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے دنیا یکدم سکٹر گئی ہے۔ ساری لکیریں مٹ گئی ہیں‘ ساری شناختیں معدوم ہو گئی ہیں۔ گلوبل ویلج بنتی اس دنیا میں اب اندر کے دُکھوں سے کہیں بڑے دکھ باہر سے آرہے ہیں۔مارکیٹ اکانومی نے کنزومر ازم کی جو ہوا باندھ رکھی ہے عالمی سامراج کا اس سے بھی مفاد وابستہ ہے اور اس نے بھی ہمارے ادب میں ایک مزاحمت کا روّیہ پیدا کر دیا ہے۔ پھر اس دباؤ کے زمانے میں ہماری معاشرت کے اندر کے تضادات، فرقہ ورانہ تعصبات، جہالت اور اندر دبی غلاظتیں باہر پھوٹ بہی ہیں۔ ہم علم‘تہذیب اور تربیت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو غچہ دے کر آگے بڑھ سکتے تھے مگر اس کے ذریعے ریاستی قوت کو سامراج اور سرمائے نے ہتھیا کر سارے راستے مسدود کر دیے ہیں۔ کئی کئی چینلزبہ ظاہر کھلی آزادی کے ساتھ موجود ہیں مگر فی الاصل ایسا نہیں ہے۔ پھر یوں بھی ہے کہ ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول ہر ایک کے ہاتھ میں یوں آگیا ہے جیسے بندر کے ہاتھ استرا۔ سب کچھ کٹ رہا ہے۔ مناظر بدل رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ثقافتی چولیں بھی ڈھیلی پڑنے لگی ہیں۔ کمپیوٹر کے ہر آئی کان کے پیچھے سے انفارمیشن کا جو سیلاب امنڈا پڑتا ہے اس کی کوئی تہذیب نہیں ہے لہٰذا بچی کھچی مثبت روایات بھی اسی ریلے میں غوطے پر غوطہ کھا رہی ہیں۔ ساری انسانیت، بازاری نفسیات اور قبضہ گیروں کی زد پر ہے۔ بجا کہ جارحیت کرنے والے کو دنیا بھر کے سارے وسائل پر دسترس چاہیے اور یہ بھی درست کہ جنگ اور دہشت اسی کا پروڈیکٹ ہے، مگر اس کا احساس بھی تو ہونا چاہیے کہ ہم ادبدا کر اپنے تضادات کا خود شکار ہو رہے ہیں بنیاد پر ستی سے لے کر دہشت گردی تک ہمارا اپنا چہرہ مکروہ ہو کر سامنے آتا رہا ہے اور آرہا ہے۔ یہ امر لائق امتنان ہے کہ دہشت کے اس زمانے میں ہماراافسانہ اور ناول اس دیوزاد کو نشان زد کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے جو ہماری کہانیوں میں کبھی ”آدم بو‘ آدم بو“ پکارتے آیا کرتا تھا اور ان تضادات کو بھی جو ہمارے اندر سے بدبودار گٹر کی طرح اُبل پڑے ہیں۔تو یوں ہے کہ حالات جیسے بھی رہے فکشن نے اپنا فریضہ اداکیا ہے اور اس کا مستقبل یہی ہے کہ اس نے یہ فریضہ تمام تر فنی لوازمات کے ساتھ ادا کرتے رہنا ہے۔

نازبٹ:آپ افسانے اور ناول میں کیسے فرق کریں گے؟

محمد حمید شاہد: کہنے کو تو وہ افسانہ ہو یا ناول کہانی کے روپ ہیں اور بہ قول حسن عسکری ”کہانی کا مطلب ہے واقعات کا ایک سلسلہ‘ اور کچھ نہیں“حسن عسکری کا خیال تھاکہ‘ کسی صنف میں نظریہ بازی نے اتنی پیچیدگیاں پیدا نہیں کیں جتنی اَفسانے کی صنف میں پیدا کر دی ہیں۔مثلاً ایڈگر ایلن پو کے نزدیک افسانہ ایسی کہانی ہے جو ایک گھنٹے میں پڑھی جا سکتی ہو۔ ایچ جی ویلز بھی گھنٹے بھر کے قصے کو اَفسانہ کہتے تاہم وہ صرف اسی قصے کو اَفسانہ مانتے تھے جسے پڑھتے ہوئے قاری کی جذباتی وابستگی برقرار رہے۔ سڈنی اے موسلے نے ”شارٹ اسٹوری رائیٹنگ“ کے گر بتانا چاہے تو یہ دورانیہ کم کرکے پندرہ سے بیس منٹ کر دیا۔ کچھ کے نزدیک اَفسانہ زندگی کی ایک پھانک ہے‘ناولٹ ایک آدمی کی زندگی‘جب کہ ناول اسی فرد کی تہذیبی زندگی ہے۔ میں نہیں کہتا کہ اس طرح کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے مگر آپ نے ایسے بھی کامیاب ناول دیکھ رکھے ہوں گے جو زندگی کے اِنتہائی مختصر دورانیے اور گنتی کے چند کرداروں کوخاطر میں لاتے ہیں مگر انہیں ناول مانا جاتاہے۔ دوسری طرف ایسا بھی ہے کہ کئی اَفسانوں میں تہذیبی زندگی کی پوری ہما ہمی آگئی ہے۔دیکھیے کرشن چندر کے ناول ”شکست“کا دورانیہ کتنا بنتا ہے تین ماہ۔ غلام عباس کے”آنندی“ کودیکھیں، اس میں ایک نئے شہر کے آباد اور ایک نسل کے جوان ہونے کا عرصہ سما گیا ہے۔ اس باب میں مجھے حسن عسکری کی بات بھلی لگی تھی،یہی کہ”اَفسانہ ایک قسم کا نہیں ہوتا‘ یہ بہت ساری تیکنیکس میں اور مَتنوع ہوتاہے۔“ اُردو کے مجموعی تجربے کو سامنے رکھ کر میں سمجھتا ہو ں کہ اَفسانہ ہویا طویل مختصر اَفسانہ‘ ناولٹ ہو یا ناول فی الاصل فکشن ہی کی ذیل میں شمار کیے جانے چاہئیں۔ ہمارے ہاں اَفسانے نے ایک صدی کے عرصے میں کئی صدیوں کی مسافت طے کی ہے اور فکشن کی کوئی بھی فرع ہو اَفسانے کی مستحکم ہو چکی رَوایت سے اس کا بچ نکلنا محال ہوتا ہے۔پھر یوں بھی ہے کہ ایک تخلیق کار ہمیشہ اصناف کے بیچ قائم سرحدوں کو توڑتا رہتا ہے لہٰذا لکھنے والوں کو اپنے تخلیقی تجربے کو اخلاص سے برتنا چاہیے، اور اسے ناقدین پر چھوڑ دینا چاہیے کہ تخلیق پارے کی تکمیل کے بعد وہ اسے کس خانے میں رکھنا چاہیں گے۔

ناز بٹ: ادیب کو لکھنے کی تحریک کہاں سے ملتی ہے؛معاشرے سے یا اندرون سے؟

محمد حمید شاہد: آپ کا سوال دلچسپ ہے، مگر اس باب میں کوئی فارمولا نہیں ہے۔ گبریل گارسیا مارکیز نے کہیں لکھا تھا کہ ان کاایک کردارمرسیدس، ایک کیمیادان کے طور پر ان کے ناول ”تنہائی کے سو سال“ دو بار آیا۔ اسی طرح یہ کردار ”ایک پیش گفتہ موت کی روداد“میں بھی آگیا۔ ایک کردار جو ان کا دیکھا بھالا تھا بہ قول اُن کے بس وہ اس کا اتنا ہی ادبی استعمال کر سکے تھے۔ یہاں اُنہوں نے ایک جملہ لکھا تھا، ایک دلچسپ جملہ، جو کچھ یوں تھا”میں اس کردار کو اتنی اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے ذرا انداز نہیں وہ خود کیسی ہے؟“ تو یوں ہے کہ ہم جو زندگی دیکھ برت رہے ہوتے ہیں بہ ظاہر لکھنے کی تحریک وہیں سے پارہے ہوتے ہیں مگر لکھتے ہوئے اپنے باطن سے وہ تلاش کرنے کے جتن کر تے ہیں جو ہمارے تجربے اور مشاہدے سے اوجھل رہ گیا ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایک ادیب کے ہاں لکھنے کی تحریک کا مرکز بھی غیرمعین رہتا ہے۔

ناز بٹ:کوئی بے حد آسودہ وقت،تخلیقی سطح پر بھی اور زندگی کی سطح پر بھی؟

محمد حمید شاہد: میری زندگی میں ایسے بہت سے لمحات آئے ہیں کہ میں جی بھر کررویا ہوں اور ایسے لمحات بھی کہ خوب قہقہے لگائے ہوں۔ مجھے رونے کے لیے بہت بڑے دکھوں کی حاجت نہیں ہوتی نہ قہقہہ لگانے کے لیے ڈھیر ساری خوشیاں چاہئیں۔ میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر ہنس سکتا ہوں اور ایسی کمی کو محسوس کر کے رو دیتا ہوں جسے بیان میں بھی نہیں لایا جاسکتا یہی دکھ اور یہی خوشیاں تخلیقی لمحات میں ڈھل کر مجھے آسودہ رکھتے ہیں۔ مجھے خدا وند کریم نے بہت نوازا ہے۔ میری بیگم یاسمین ہر وقت اسی میں جتی رہتی ہیں کہ میں ہر طرف سے بے نیاز ہو کر لکھنے پڑھنے میں مصروف رہوں مجھے بچوں کا پیار حاصل ہے، دوست احباب مجھ سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ میں نے لکھا ہے اسے اس عہد کے نمایاں ترین ادیبوں سے لے کر عام قاری تک,سب کی بہت توجہ حاصل رہی ہے، اس سے بڑھ کر آسودگی کی متاع اور کیا ہو گی۔

ناز بٹ: آپ فکشن کی طرف کیسے راغب ہوئے اور کیوں؟

محمد حمید شاہد:فکشن لکھنا میری زندگی کا محبوب ترین وظیفہ ہے۔ میں فکشن کی طرف کسی سماجی ذمہ داری کی ادائی کے لیے نہیں آیا تھا مجھے تو اس جانب تخلیقی تاہنگ اور اس کے تقاضے لے کر آئے ہیں۔ بہ جا کہ بہ حیثیت ادیب میں نے اس سماج سے بہت کچھ لیااور بساط بھر کچھ نہ کچھ سماج کو دیا بھی ہوگا مگر میری تخلیقات محض سماج کا آئنہ نہیں ہیں یہ آدمی کو اور اس کے سماج کو بہت اندر سے کھوجتی اور کریدتی ہیں۔ میرے ہاں کام کرنے والا تخلیقی عمل محض حقیقت کا ظاہری عکس اُچھالنے والا آئنہ بن جانے پر مطمئن ہو جاتا تو میں فکشن کی طرف نہ آتا پہلے جن اصناف کو برتا تھا انہیں میں کہیں ٹک رہتا۔ میں فکشن کی طرف اس لیے آیا ہوں کہ فکشن لکھنا معلوم سے زیادہ نامعلوم سے معانقہ کرنا تھا یہ اس حیرت کے مقابل کر دیتا جو نئے پن کو یک لخت ننگا نہیں کرتی اسے تہ در تہ چھیل کر نئے بھیدوں کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ میرے لیے فکشن لکھنا اپنی روح کو تمام تر لطافتوں کے ساتھ تہذیبی معبد میں موجودرکھنا بھی ہے۔ جی تہذیبی معبد، اس صنف کے بھید اسی تہذیب میں پلی بڑھی زبان ہی پوری طرح سہار سکتی ہے جس کا فکشن لکھا جارہا ہوتا ہے۔زندگی کو ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھنا اور اسے ایک نظریے کی روشنی میں معنی پہنانا مجھے اچھا لگتا رہا ہے، اب بھی اچھا لگتا ہے مگر تخلیق عمل جس طرح کسی بھی نظریے کے بت کو توڑدیتا ہے اوردانش کے دائروں کو وسعت دیتا ہے، اس نے مجھے اس کا گرویدہ بنادیاہے۔میرے لیے فکشن کا تخلیقی عمل، زندگی جیسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اس نے میرے مزاج اور میری شخصیت کو اپنے رُخ پر ڈھال دیا ہے۔ میں اسی کے وسیلے سے اپنی تہذیب اور اپنے سماج سے جڑا ہوں، اپنے لوگوں اور اپنی زمین سے وابستہ ہواہوں۔ یہ فکشن ہی توہے جو میرے ضمیر کو زندہ رکھتا ہے اور میری حسیات کو مرنے نہیں دیتا۔ یہ زندہ حسیں پورے منظر نامے کو جذب کرکے ایک تناظر قائم کر تی ہیں اور اسی سے میری کہانی افسانے میں ڈھلتی ہے۔

محمد حمید شاہد سے یہ مکمل مکالمہ نہیں ہے، کچھ سوالات اور ان کے پر مغز جوابات ابھی باقی ہیں، جن کی اشاعت انشاء اللہ پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

باتوں سے خوشبو|محمد حمید شاہد سے مکالمہ

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے ریڈیو MF 91.6 کے پروگرام”باتوں سے خوشبو” میں …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *