M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|تنقید،تھیوری،اطلاقی جہت اورہمارا ادب 

محمد حمید شاہد|تنقید،تھیوری،اطلاقی جہت اورہمارا ادب 

نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں اُردو تنقیداور تحقیق کے موضوع پر ایک کانفرنس کا اِہتمام کیا گیا تواگرچہ مجھے اِس کے آخری اجلاس کے صدارتی پینل میں بیٹھنا تھا، مگر میں دودِن جاری رہنے والی اس کانفرنس کی ہر نشست میں بیٹھا اور توجہ سے مقالات سنے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ کیادانش گاہوں کے اندر اساتذہ میں بھی تنقید کے باب میں وہ بے چینی اور بے اطمینانی موجود ہے جو ہم تخلیق کاروں میں اس باب میں پائی جاتی ہے ۔ اس کانفرنس میں ملک بھر کی دانش گاہوں سے اردو تنقید اور تحقیق سے وابستہ اساتذہ آئے ہوئے تھے ، مجھے لگاوہ بے اطمینانی تو وہاں موجود تھی مگر ایک بے بسی بھی تھی اور یہ سوال بار بار اٹھا یا جا رہا تھا کہ اس صورت حال سے نکلا کیسے جائے؟ جو مقالات وہاں پڑھے گئے ان میں تنقید اور تخلیق کے درمیان در آنے والے فاصلے کو نشان زد کیا گیا تھا،حتی کہ وہ ناقدین جو کل تک جدید تنقید کے پر جوش مبلغ تھے وہ بھی اگر مگر پر اُتر آئے تھے ۔ گویا ایک پسپائی کو صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ ایک اجلاس میں جب اُردو تنقید کے رجحانات اور عصری عالمی تناظرکے موضوع پر بات ہو رہی تھی اور یہ کہا جارہا تھاکہ مغرب سے آنے والے تنقیدی رجحانات کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ہمارے ہاں انگریز سے نفرت یا ناپسندیدگی آڑے آتی رہی ہے تووہاں یہ بات بھی سامنے آئی کہ تھیوری سے ہمارا معاملہ، تنقید کے ایک وسیلے اور علم کے ایک سرچشمے کا ہونا چاہیے تھا مگر مرعوبیت کا یہ عالم رہاہے کہ، اس تجزیاتی وسیلے کو جسے ہمارے ہاں محض اردو تنقید کی کتاب کا ایک باب ہونا چاہیے تھا ، پوری کتاب یا مکمل تنقید بنا کر پڑھایا جانے لگاہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس نئی تنقید کی بنیاد ہی پہلے سے موجود تنقید ی وسیلوں کے مکمل اتلاف پر رکھی گئی ہے ۔

https://e.jang.com.pk/05-30-2018/karachi/page6.asp

تھیوری والوں نے اُردو تنقید پر’ ٹریڈیشنل تھیوری‘ کی پھبتی کس کر اسے نظروں سے گرانا چاہا ہے اور یہ تاثر دینا چاہا ہے کہ جیسے یہ گھسی پٹی، فرسودہ سی ایک کلید تھی؛ ایسی زنگ آلود کنجی جس سے اب کوئی تالا نہیں کھلے والا ۔ اول تو یہ سمجھنا ہوگا کہ ادبی روایت کو’ روایتی ‘ کے معنیٰ میں لینا ایک ادبی بد دیانتی کے مترادف ہے ۔ یہ ایسا سرمایہ نہیں ہے جس کی یوں تحقیر کی جائے ۔ اسی نے تو ہمیں سکھایا ہے کہ ادب پارہ نہ تو محض علم ہوتا ہے نہ فقط متن ۔ ایک تشبیہہ، ایک استعارہ اور ایک کنایہ لفظ کے لغوی معنٰی بدل کر رکھ سکتا ہے۔ تخلیقی عمل وہ جادو ہے جس میں جملے اور مصر عے ،محض متن نہیں رہتے، نئے جہانوں پر اپنی جہتیں اور طرفیں کھول لیتے ہیں ۔ جی ، ہمیں اِسی تنقید نے بتا رکھا ہے کہ دلالت لفظی اور دلالت غیر لفظی بھی تخلیقی بھید ہیں اور یہ ایک ادب پارے میں ایسے نشان ہو جاتے ہیں جو قاری پر معنی کی پرتیں ہی نہیں کھولتے اسے اس تخلیقی جمال کے مقابل بھی کر دیتے ہیں جہاں محض معنی مات کھا جایاکرتے ہیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ ادبی تنقید کادامن فقط کسی لسانی یاثقافتی تھیوری کے وسیلے سے بھرا جا سکتا ہے۔ادبی تنقید صرف ایک فلسفیانہ سرگرمی بھی نہیں ہے ۔ آپ کے لیے یہ اہم ہو سکتا ہے کہ معنیٰ کیا ہے؟ کسی حد تک میرے لیے بھی یہ اہم ہے مگر میں اسے ادب پارے میں واحد قدر کے طور پر نہیں دیکھتا ۔ ادبی متن کو محض لسانی ساخت یا کرافٹ سمجھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے ۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں ادبی تنقید الگ ہو جاتی ہے۔ اور یہیں سے ادبی تنقید لسانیات کا فلسفیانہ مشغلہ رہتی ہے نہ مختلف علوم کی تجربہ گاہ ۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ ادبی دانش، ایک فلسفیانہ دانش سے بڑی حد تک مختلف ہوتی ہے ۔ فلسفیانہ دانش متنی گورکھ دھندہ ہو سکتی ہے جسے ثقافت سے جوڑ کر معنیٰ اخذ کیے جاسکتے ہیں مگر ادبی دانش بیان میں نہیں آتی بلکہ ایک فن پارے کی جمالیاتی تشکیل میں سجھائی دیتی ہے ۔

https://e.jang.com.pk/06-06-2018/karachi/page6.asp

کانفرنس میں جب ایک صاحب ٹیری ایگلٹن کا حوالہ دے کر یہ بتا رہے تھے کہ معنی کا تصور لفظ کے بغیر ممکن نہیں اوراس نقطے سے جو نکتہ سمجھانا چاہتے تھے ، اسی میں خودالجھ کر رہ گئے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ، لفظ پہلے موجود تھا اور اس نے اپنے وجود سے جڑے ہوئے معنٰی کو تخلیق کیا یا معنی پہلے سے کائنات میں بکھرے ہوئے تھے اور لفظ نے اپنے حصے کے معنیٰ اُچک لیے؛ بات دونوں طرح سے ممکن تھی ۔ پہلے مرغی یا پہلے انڈے والی یہ بحث وہاں ایک بانجھ تنقیدی مشقت ہو جاتی ہے جہاں لفظ کے اندر سے تہذیبی معنی تلف کرکے سارا بوجھ قاری کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے اورتخلیقی جمال کی قدر سے اسے الگ کر کے دیکھا یا آنکا جاتا ہے ۔ ایک فن پارے کو مختلف علوم کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے؛بجا ، مگر کیا ایک فن پارے کی کُل کو توڑ کر من مانے معنی برآمد کیا جانا احسن اقدام ہو گا؟ نہیں صاحب ،یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی پانی کے خواص کو سمجھنا چاہے اور ہائیڈروجن یا آکسیجن کے خواص میں اُلجھ کر اس صاف شفاف بہتے ہوئے مائع کو بھول جائے جو ہمارے خشک حلقوم میں اُترتا ہے تو ہم جی اُٹھتے ہیں۔ بہ جا کہ لیبارٹری میں جاکر تجزیہ کرنے سے اس مائع کی تشکیل میں ہائیڈروجن کے دو اور آکسیجن کے ایک ایٹم کا انکشاف ہو گا مگر یہ الگ الگ اجزاء پانی نہیں ہیں۔ سو ادب میں یہ جو تجزیاتی مطالعات کا چلن ہو چلا ہے، کسی فن پارے کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے دیکھنے کا چلن، یہ کہیں کہیں اِنتہائی گمراہ کن ہو جاتا ہے کہ اس میں تخلیق کہیں الگ پڑی رہ جاتی ہے اور تخلیق کی کل سے کٹے ہوئے مگر مختلف علوم کی آنچ پر مقطر کیے جانے والے معنیٰ بالکل الگ ۔
ایک اور نشست میں اُردو تنقید کے معاصر رجحانات پر بات کرتے ہوئے تھیوری کے ایک شارح کا فرمانا تھا کہ تنقید کے عالمی رجحانات کی جانب ہمارا عمومی مزاج ’دو جذبیت ‘والاہے ۔ یہ ’’دو جذبیت ‘‘والی اصطلاح اُنہی کی عطا ہے ۔غالباً وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہم مغرب سے محبت اور نفرت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ کہہ لیجئے لو اینڈ ہیٹ ۔ مگراس کا کیا کیا جائے کہ میں نے توخود تھیوری والوں کے ہاں حد درجہ مرعوبیت والا چلن دیکھا ہے ۔ ہم نے لگ بھگ تین دہائیاں ، تھیوری کے اصول و ضوابط سمجھانے اورایسے ہی طعنے سننے سنانے میں گنوا دی ہیں ۔ہمارے ناقدین تھیوری کی اصطلاحات کو رٹ رٹ کر جب اپنے ادب پر اطلاق کا حیلہ کرتے ہیں تو چکرا کر رہ جاتے ہیں ۔ یہ چکرانے اور الجھ کر رہ جانے کا سبب اے کاش تھیوری کے شارحین کو بھی سمجھ میں آجاتا ۔

https://e.jang.com.pk/06-13-2018/karachi/page6.asp

ہاں ، تھیوری کے شارحین خود اپنی تشریحات اور اصطلاحات کی نادرست ترجمہ کاری کے سبب جس تواتر سے الجھتے رہے ہیں انہوں نے تھیوری کے بالکل سامنے کے موضوعات کو بھی الجھا کر رکھ دیا ہے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ انگریزی میں جو باتیں سہولت سے سمجھ میں آ جاتی ہیں وہ اُردو میں ترجمانی کرنے والوں نے اپنی الجھی ہوئی اور خشک زبان میں اتنی مشکل بنا لی ہیں کہ ، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ مجھے یہ نئی مغربی تنقید (اگر یہ تنقید کہی جا سکتی ہے تو، ورنہ میری نظر میں تو تھیوری کے سانچے میں متن کو ڈال کر تجزیانے کا عمل سرے سے ادبی تنقید نہیں ہے)محض ایک لسانی ، فلسفیانہ یا ثقافتی کسوٹی سانچہ لگتی ہے ۔ تاہم یہ جو کچھ بھی ہے ، اسے سمجھنے سمجھانے کا مناسب قرینہ یہ ہو سکتا تھا کہ ہمارے شارحین اس کی درست نادرست ترجمانی کرنے اور اسے ایک منصوبہ بندی کے تحت رائج کرنے کے جتن کئے چلے جانے کی بہ جائے ،اس باب کی اہم کتب کا ترجمہ کرکے فراہم کردیتے اور خود اطلاقی جہات پر توجہ دیتے ۔ مجھے یقین ہے اگر ایسا کیا جاتا تو یا تو وہ خود ادبدا کر ایک طرف بیٹھ جاتے یا تھیوری کی ان خامیوں کو نشان زد کرنے کے قابل ہو جاتے جن کے سبب تھیوری کی لگ بھگ ہر شاخ ہمارے ادب (جی محض متن نہیں ادب) کوآنکنے اور تعیین قدر کا فریضہ سر انجام دینے میں ناکام ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارا ادب وہ پارس ہے جسے چھو لینے سے یہ تھیوری تبدیل ہو کر ادبی تنقید بن سکتی تھی اور کہیں بہتر نتائج نکل سکتے تھے ۔
صاحب! یہ مغرب سے بدکنے والا طعنہ یوں بھی درست نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لینے اور اسے اپنا بنا لینے کے معاملے میں بہت وارفتگی کا عالم رہا ہے۔ جی آپ کی ’دو جذبیت ‘ والا نہیں کھلے دل سے تسلیم کرنے والا۔ افسانہ اور نئی نظم اس باب کی سامنے کی مثالیں ہیں۔ تاہم یادرہے کہ یہ دونوں تخلیقی عمل کے دوران عین مین ویسی نہیں رہی ہیں جیسی مغرب سے آتے وقت تھیں کہ یہی تخلیقی عمل سے سچائی کے ساتھ وابستہ ہونے کا تقاضا تھا ۔ اور ہاں جب کالرج نے بہت پہلے یہ کہا تھا کہ شاعری تخیل کی تخلیق ہے اور فن خود اکتشافی کا عمل ہوتا ہے تو بات سمجھ آ جاتی تھی اور قابل قبول تھی ۔ چیمپ فلیوری کا یہ کہا بھی اجنبی نہ لگا تھاکہ جہاں تک ممکن ہو سکے مصنف کا تعاقب اس کی کتاب کے ذریعے کرو کہ تخلیقی عمل کے دوران لکھنے والا وہ نہیں رہتا جو وہ عام زندگی میں ہوتا ہے ۔ فلابیر نے جب یہ سمجھایا تھا کہ جس طرح خدا فطرت میں شامل ہے مگر نظر نہیں آتا اسی طرح تخلیق کار کو اپنے ادبی فن پارے میں ظاہر نہیں ہونا چاہیے تو ہم جان گئے تھے کہ فن کی اساس غیر شخصی ہوتی ہے۔ آسکر وائلڈ نے اعلیٰ تنقید کو تنقید نگار کی روح تک کہہ دیا تھا اور ہم مان گئے تھے،چونکے نہیں تھے۔ جب میتھیو آرنلڈ کہتے کہ بڑی تنقید بہتر ادب کے لیے فضا ساز گار کرتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا کہ ہم اُس میتھیو آرنلڈ کو جانتے تھے جو بڑے ادب کی شناخت کوتنقید کی ذمہ داری سے الگ نہیں کرتا تھا ۔ بادلیئر نے جب یہ کہا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ شیطان ہے یا خدا ۔ یہی کافی ہے کہ وہ حسن ہے ۔ تو ہم حسن کے کارآمد یا ناکارہ ہونے کی بحث کو بھول گئے تھے ۔ یہ سب کچھ ہم مغرب سے لے رہے تھے، اور بغیر الجھے لے رہے تھے مگر اب اُلجھ رہے ہیں تو اس کاکوئی تو سبب ہوگا ۔
ایک سیشن میں بجا طور پر کہا گیا کہ جب سے ساختیات اور پس ساختیات کا شور مچا ہے ہم دال اور مدلول میں اُلجھ کر رہ گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ اس سارے عرصہ میں اِن تنقیدی قرینوں کااطلاق توجہ سے محروم رہا ہے ۔ چلیے ساختیات میں کلچرل کوڈ اورعلامتی کوڈ لگا کر کچھ مفہوم اخذ کیے جاسکتے ہیں ، بین المتنی نسبت سے معنی کی ایک جہت سامنے آ جائے گی مگر کیا ایسے حلیے جہاں برتے گئے ہیں وہاں مروجہ تنقید سے بہتر معنی اخذ کیے جا سکے ہیں؟ نہیں ، ہر گز نہیں۔ اور ہاں ، یہاں کہتا چلوں کہ تہذیب،ثقافت اور متن کی نسبتیں پہلے سے بھی تنقید کا ممنوعہ علاقہ نہیں رہی ہیں ۔ یہ آپ جانتے ہی ہیں کہ پس ساختیات تو سرے سے اطلاق کی ذمہ داری اُٹھانے سے انکاری ہے۔ اس کا کام متن کو اُدھیڑنا ہے؛ یعنی ردِ تشکیل اور اس عمل میں ، تخلیقی کل کی بہ جائے اُس کی چھوٹی چھوٹی اکائیاں اہم ہو جاتی ہیں ۔ایسے میں ایک فن پارہ ایک تخلیقی کل کی حیثیت سے توقیرکیوں کر پا سکتا ہے ؟ جدیدیت کے ایک معنی قدامت کا کلی اتلاف اور روایت شکنی ہے اور مابعد جدیدیت مرے کو مارے شاہ مدار۔ یہ طنز کے کیل کانٹوں سے لیس ہو کر آتی ہے سابقہ متون کی باز گشت دریافت کرتی ہے ، ارفع اور عامیانہ ثقافت الگ کرکے تخلیق کار کو شرماتی ہے۔ مانتا ہوں کہ اِس میں سب برا نہیں ہے، بس یوں ہے کہ اس مابعد جدیدیت والے ڈسپلن کو بھی یہاں کی برائے نام جدیدیت کی طرح پسپائی اِختیار کرکے اپنے حالات سے سمجھوتہ کرنا ہوگااور ہماری روایت کے احترام پر اصرار کرتی شعری اصناف کے لیے گنجائشیں نکالنا ہوں گی۔ نئی تنقید میں یہ بھی اچھا ہوا ہے کہ تانیثی تنقید کا دریچہ کھل گیاہے ۔ عورت کیا سوچتی ہے اور کیسے سوچتی ہے ؟ اس باب میں عمدہ کام ہوسکتا ہے اور کچھ ہوا بھی ہے۔ مانتا ہوں کہ ہمارے ہاں عورت کی وکالت زیادہ تر مردوں ہی نے کی ہے مگر کیا یہ درست نہیں ہے کہ اُدھر بھی تانیثیت کے بنیاد گزاروں میں جان اسٹور آرٹ مل جیسا مرد ہی تھا۔ کہنا یہ ہے کہ اطلاقی تنقید میں تانیثیت کو جب تک مقامی تناظر فراہم نہیں ہوگا تب تک بات بنے گی نہیں۔ اُدھر والی تانیثیت یہاں چلنے والی ہے نہ لزبن اور گے تنقید؛ کہ یہ سب اُدھر کے تنقیدی چونچلے ہیں ، وہی ٹکڑوں میں سوچنے اور ہر ٹکڑے کو الگ ڈسپلن بنانے کے دُھن ۔
ہمارے ہاں مابعد نو آبادیاتی تنقید کا بھی بہت غُل مچا ۔ میں نے اس تنقیدی حیلے کی بابت جو سمجھا وہ کچھ یوں ہے کہ دوسری قوموں کو اپنی نو آبادیات بنانے والا مغرب جن معیارات کو کامل اور ارفع بتاتارہا ہے ، وہ محض ایک دھوکا تھا؛ استعمار کا دھوکا ۔ہمیں اس تنقیدی وسیلے سے مقامی ثقافتوں کے کھوج کی جانب ٹھِل پڑنا تھا اور سامراج سے کنی کاٹ کر بچا لیے جانے والے تہذیبی و ثقافتی ورثے کو نشان زد کرنا تھاجو مغرب کی عطا نہیں ہے ۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ اس باب میں بھی ہم نے شراب سیخ پر ڈالی ہے اور کباب شیشے میں ۔ ہم اس جستجو میں لگ گئے ہیں کہ کہاں کہاں ہم انگریز سے متاثر ہوکر بدل گئے ہیں۔ گویااس باب کی ہماری تنقید کو ہر بار ہمارا اپنا آدھا بھرا ہوا گلاس، آدھا خالی نظر آیا ہے ۔’’ آدھا‘‘ لفظ آیا ہے تو یہیں بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیاہے ۔ ایک بار اسکول میں ہمیں اپنے قومی شخصیات کی تصاویر کاپی میں چسپاں کرکے لانے کو کہا گیا تو مجھے سرسید احمد خان کی جو تصویر ملی ، اس میں ان کی لمبی سفید داڑھی صرف آدھی آ سکی تھی ۔ ہماری تھیوری ماری نئی تنقید نے بھی کچھ ایسا کیا ہے کہ یہ آدھی تصویر بھی دھندلا گئی ہے۔ مابعد نوآبادیات کی ذیل میں جو مباحث قائم کیے گئے ہیں ، ان پر ایمان لائیں توسرسید احمد خان کی پرانی مگر روشن تصویر پر سیاہی پھر جاتی ہے ۔ مثلاً دیکھئے ہمیں یہاں یہ بتایا جارہا ہے :
’’ہر چند ہندوستان میں 1757 سے 1857تک انگریزوں نے جنگیں لڑیں اور مقامی آبادی کے ہزاروں افراد قتل اور قید ہوئے مگر یہاں انگریزوں نے اجتماعی نسل کشی کے بجائے طاقت کے استعمال کی ایک اور صورت دریافت کی ۔۔۔طاقت کو سماجیانے کا عمل۔۔۔ اور ذہنی سرگرمیوں کی اصلاح کے لیے تعلیمی تحریک۔ ‘‘
یہیں پر اس نئی تنقید والوں نے ہمیں سرسید کا وہ بیانیہ بھی یاد دلایاہے ، جو ’’مقالات سرسید‘‘میں اُنہیں دستیاب رہا ہے:
’’جو شخص اپنی قومی ہمدردی سے اور دور اندیش عقل سے غور کرے گا ، وہ جانے گا کہ ہندوستان کی ترقی ، کیا علمی اور کیا اخلاقی، صرف مغربی علوم میں اعلیٰ درجہ کی ترقی حاصل کرنے پہ منحصر ہے ۔ اگر ہم اپنی اصلی ترقی چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک کو بھول جائیں ، تمام مشرقی علوم کو نسیاًمنسیاًکردیں ۔ ہماری زبان یورپ کی اعلیٰ زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہو جائے ،یورپ ہی کے ترقی یافتہ علوم ہمارے دست مال ہوں ، ہمارے دماغ یورپین خیالات سے (بجز مذہب کے)لبریز ہوں ۔ ہم اپنی قدر ، اپنی عزت کی قدرخود آپ کرنی سیکھیں ۔ ہم گورنمنٹ انگریزی کے ہمیشہ خیر خواہ رہیں اور اس کو اپنی محسن اور مربی سمجھیں ‘‘
سرسید احمد خان کی وہ تصویر جو بچپن میں، میں نے دیکھی وہ مکمل نہ تھی کہ اس میں داڑھی آدھی تھی اورمجھے یوں لگتا ہے کہ یہ تصویر بھی نامکمل ہے جوہمیں ’’مابعد نو آبادیات تنقید‘‘ کو اردو کے تناظر میں دِکھانے کے لیے سرسید کو اِدھر اُدھر سے کاٹ پیٹ کر دکھائی جا رہی ہے ۔ پہلی تصویر میں لگ بھگ وہ فرشتہ ہو گئے ہیں اورناصر عباس نیر کی نئی تنقیدی کتاب میں، جتنا سرسید استعمال ہوئے ہیں انگریزوں کے ایسے آلہ کار کے طور پر نظر آتے ہیں جن کی زندگی مقامی لوگوں ،بالخصوص مسلمانوں کی ذہنی سرگرمیوں کی اصلاح والی تعلیمی تحریک کے ذریعے طاقت کو سماجیانے کے عمل میں صرف ہو گئی تھی۔ اچھا ، لطف یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں سرسید کو اپنے زمانے سے کاٹ کر اور جس کٹھن راستے پر وہ چل رہے تھے ، اسے نظروں سے اوجھل رکھ کر دیکھا اور دکھایاجارہا ہے۔
یوں نہیں ہے کہ ہمارے بہ جا طور پر سب سے زیادہ توجہ پانے والے اس ناقد کے ہاں سرسید کی مکمل تصویر یہی بنتی ہوگی مگر یوں ہے کہ اس تنقید کے نادرست اطلاق میں یہاں(کم از کم اس کتاب میں) ایسا نظر آنے لگاہے ۔ہم یہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو اپنے قدموں پر تب اُٹھانا چاہا تھا جب وہ نڈھال ہو کر بالکل گر چکے تھے۔ پھر ایک زمانہ ایسا بھی آیا تھا کہ انگریز مسلمان کے خون کا پیاسا تھا ،تعلیم ہو یا سرکاری ملازمتیں، ان پر سب دروازے بند تھے اور بہ ظاہر انگریز سے ٹکرا جانے کا مطلب تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ مسلمان بھی اپنی حالت بدلنا نہیں چاہتے تھے ۔خیر بات کہیں اور نکل جائے گی ، کہنا یہ ہے کہ مغربی تنقید کی بہت سی باتیں اچھی ہیں ، ضرور اچھی ہیں،تاہم کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ ان اچھی باتوں کو اردو تنقید کا حصہ ہو کر آنا چاہیے۔ ناقدین جب تک تھیوری کی ترجمانی کو ترک کرکے ان قوائد کو اپنی فہم کا حصہ بنا کر یہ بھول نہیں جاتے کہ وہ کوئی خاص تھیوری برتنے جا رہے ہیں اور یہ کہ تخلیق کی کل کو پالینے اور اس کی تعیین قدر کی صورتیں نہیں نکالتے، اطلاقی اور عملی تنقید کے قابل ذکر نمونے وجود میں نہیں آئیں گے۔
***
https://jang.com.pk/news/506492

 

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد |دھیمے لہجے کا غزل گو انور شعور

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انور شعور ہمارے عہد کے سب سے دھیمے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *