M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / دیباچے / محمد حمید شاہد|منظر جو رہ گیا

محمد حمید شاہد|منظر جو رہ گیا

ناول: منظر جو رہ گیا
ناول نگار: طارق عالم ابڑو
سندھی سے اردو ترجمہ : سدرۃ المنتہی جیلانی

ترکی کے رواں منظرنامے میں خواتین لکھنے والیوں میں سب سے زیادہ شہرت إليف شافاق بٹور رہی ہیں جن  کے دس میں سے ایک ناول  کا نام ہے”محبت کے چالیس اصول” ۔اس ناول میں مولانا روم اور شمس تبریزی کی ملاقات پر سامنے آنے والا ایک اصول یہ بتایا گیا ہے کہ عقل  کچھ بھی داؤ پر نہیں لگاتی جب کہ دل اپنا آپ داؤ پر لگا دیتا ہے۔ طارق عالم ابڑوکے اس ناول کے مرکزی کردار پنھوں نے بھی دل کا کہا مانا اور سب  کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔  کہنے کومحبت کی ہر کہانی میں ایسا ہی ہوتا ہے مگر صاحب محض ایسا کہاں ہوتا ہے؟ طارق عالم کے قلم کا کمال یہ ہے کہ اس نے متن کی تشکیل میں کئی  باریک باتوں، لطیف جذبوں اور نازک لمحوں  کو  گوندھ کر محبت کی پارینہ کہانی کو مختلف کر دیا ہے۔ مختلف بھی اور لائق توجہ بھی۔ محبت کی اس کیمپس کہانی میں یوں تو کئی کردار ہیں مگراس کا یاد رہ جانے والا کردار پنھوں کا ہے۔ محبت کے سفاک شکنجے میں تڑپتےاور کہیں کہیں لذت بھری جنس کی پھسلن پر پھسلتے ہوئے  پنھوں کی کہانی میں  سنجھا دوسرا  مرکزی کردار  ہو گیاہے۔ سنجھا ،پنھوں سے ایک سال بڑی تھی۔ وہ  اس کی بہن بن کر پٹائی کر سکتی تھی مگر اس  نے اس سے محبت کا کھیل کھیلا اور اپنی پنسل ہیل سے ٹک ٹک کرتی ظہیر کے ساتھ اگلی منزلوں پر روانہ ہوگئی ۔  پنھوں کی پہلی محبت کا دعویٰ رکھنے اور نہ تباہ ہونے والی محبت کو ہی آخری سمجھنے والی وفا اس کہانی میں اہم ہو سکتی تھی مگر وہ کہانی میں ضمنی سا کردار ہو کر محبت کی تباہی والے مرحلے  پر  پنھوں کو ڈائری تھما کر (اور بہ قول ناول نگار تابوت میں آخری کیل گاڑھ کر) ایک طرف نکل جاتی ہے۔ یہ کہانی صبا کی بھی ہے، ہر چھوٹی بات پر بڑے قہقہے لگانے والی صبا، جوکہانی کےایک مرحلے پر اوندھے منھ پلنگ پر پڑی تھی تو  پنھوں کو اس کے تھر تھراتے  بدن پر نائٹ گاؤن ڈالنا پڑا تھا۔ وہی صبا  جس کی عریاں چھاتیوں پر پنھوں نے  نیلی لکیر ڈال دی تھی مگر ایک مہربان شوہر کی بیوی بن کر اور دوبچوں کی ماں ہو کر بھی اپنے محبوب اور اپنے درمیان کوئی لکیر نہ ڈال سکی تھی ۔  میں سمجھتا ہوں کہ پنھوں کے بعد دوسرا پاور فل کردار اسی صبا کا ہو گیا ہے ۔  طارق عالم کے اس ناول میں یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ محبت اپنی تلچھٹ میں کیا چھوڑ جایا کرتی ہے ۔ یہ  شدیدترین جذبہ  سیج پر سجے پھولوں کی طرح کیوں  باسی ہو کر مرجھا جاتا ہے ۔ کیا یہ درست ہے کہ کچھ مرد رومان کے لیے ہوتے ہیں اور کچھ مستقل رشتوں میں بندھ کر ان کو نبھانے والے ۔ عورت کو رجھانے والا مرد چاہیے یا رشتوں کو نبھانے والا اور کیا مرد زیادہ محبت نچھاور کرے تو عورت آپے میں نہیں رہتی ۔ دیکھئے  کیسے کیسے سوال ہیں جو یہاں وہاں متن سے نکل کر ہمارے سامنے ایستادہ ہوتے ہیں اور ہم اپنی اپنی فہم کے مطابق اسی ناول کے متن سے ان کے جواب اخذ کرتے جاتے ہیں ۔  انہی  اوصاف کے سبب  اگر میں یہ کہہ دوں کہ  سندھی سے اردو میں منتقل ہونے والا یہ ناول محبت کی کہانیوں میں ایک اہم اضافے ثابت ہوگا تو کچھ بے جا بھی نہیں ہوگا۔

محمد حمید شاہد

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|سچے آدمی کا فکشن

افسانے:جھوٹے آدمی کے اعترافات افسانہ نگار:لیاقت علی ’’جھوٹے آدمی کے اعترافات‘‘ لیاقت علی کے افسانوں …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *