M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / دیباچے / محمد حمید شاہد|مقدمہ،منٹو کے متنازع افسانے

محمد حمید شاہد|مقدمہ،منٹو کے متنازع افسانے

کتاب:منٹو کے متنازع افسانے
انتخاب:ترتیب و تدوین: ندیم احمد ندیم
مقدمہ:محمد حمید شاہد
ناشر: بک کارنر جہلم

’’منٹو کے متنازع افسانے‘‘؛ کتاب کا نام پڑھتے ہی مجھے اشفاق احمدصاحب کی زندگی کے آخری برسوں کا واقعہ یاد آگیا ۔ مجھے ان سے مکالمہ کرنا تھا ۔ یہ وہی طویل انٹرویو ہے جو بعد ازاں اس کتاب کا حصہ بنا جو اے حمید مرحوم کے ساتھ مل کر میں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے، پاکستانی ادب کے معمار کے سلسلہ میں ’’اشفاق احمد :شخصیت اور فن‘‘ کے نام سے مرتب کی تھی ۔ اس انٹرویو کے دوران جب اشفاق احمد صاحب نے بتایا کہ ان کا پہلا افسانہ 1942 ء میں ’’ادبی دنیا ‘‘ میں چھپا تھا‘‘تو میں نے جھٹ کہا:
’’اُس وقت سعادت حسن منٹوصاحب کا خوب چرچا تھا اوراُن کے حوالے سے جنس اہم موضوع بنتا ہے ، چونکانے والا، فوراً متوجہ کرنے والا۔‘‘
اُنہوں نے مجھے ٹوک دیا :
’’اُس وقت ہی نہیں اب بھی‘‘۔
پھر وہ چپ ہو گئے ۔ اس وقفے میں مجھے ایک تیکھا سا سوال سوجھ گیا ، لہذاجھٹ پوچھ لیا:
’’ کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ کے ہاں جب بابے آئے تو اُس وقت تک جنس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا تھا ۔اس میں مزید چونکانا مشکل تھا۔ جب کہ آپ کے ہاں لوگوں کو فوراً اپنی جانب متوجہ کرنے کی خواہش تھی۔ آپ نے تصوف کا سہارا لیا کہ لوگ اپنے ایمان سے ، عقائد سے بہت زیادہ وابستہ ہوتے ہیں ، جذباتی ہوتے ہیں ؛یوں تصوف آپ کے ہاں فکشن کی ضرورت کے تحت آیا ۔‘‘
یہ سوال اتنا اچانک تھا کہ ایک لمحہ کے لیے اشفاق احمدصاحب مجھے دیکھتے رہے پھر اپنے گھٹنے پر رکھا ہوا دایاں ہاتھ قدرے اُوپر اُٹھا کر فضا میں دائیں بائیں جھول جانے دیا ؛جیسے وہ اس تاثر کو رد کرنا چاہتے تھے اور ذرا دھیمی آواز میں گویا ہوئے :
’’شاید ایسا ہی ہو ۔۔۔ کچھ لوگ یوں ہی کہتے ہیں۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے ’’لیکن ‘‘ کا اضافہ کیا اور اُن کی آواز بلندہوتی چلی گئی ۔ جو کچھ اُنہوں نے بابوں کے بارے میں کہا اُسے میں یہاں سے حذف کرتاہوں ۔ آپ چاہیں تواکادمی والی کتاب حاصل کرکے مکمل گفتگو پڑھ سکتے ہیں۔ مجھے تو یہاں جنس کے حوالے سے اُن کی بات مقتبس کرنی ہے۔فرمانے لگے:
’’میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جنس سے اِنسان ، خاص طور پر مرد کبھی نہیں تھکتا۔ وہ اِس میں کافی دور تک چلا جاتا ہے اور دیر تک رہتا ہے۔ تصوف میں بھی جنس کی حکایات بڑی رغبت سے بیان کی جاتی ہیں اور بڑے اعلیٰ طریق پر ان کو شائع بھی کیا جاتا ہے۔ مثلاً مولانا روم کی مثنوی میں،شیخ سعدی کی کہانیوں میں، تو یہ بڑی اہم چیز ہے ۔ ہمارا اور ان کا فرق یہ ہے ترقی پسندوں سے اور جنس کے بارے میں لکھنے والوں سے ،کہ جنس بڑی طاقت ور اور بڑی پاکیزہ چیز ہے ۔ یہ میری تخلیق کا باعث ہے ۔ دیکھیں جی، میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں ؛ یہ جنس اِس کے پیچھے کار فرما تھی تو میں تشریف لے آیا ہوں لہذا میں اس کا اِحترام کرتا ہوں۔ لیکن میرے لیے کچھ اصول وضع کر دیے ہیں ایک کوزہ گر نے، جس نے مجھے بنایا ہے اور مجھے بتایا ہے کہ یہ جنس جو طاقت ور اور اعلیٰ درجے کی خوشبودار چیز ہے، یہ سارے جانوروں کے لیے بھی ہم نے روا رکھی ہے۔ بھینس ہے، مرغا ککڑ،کبوتر،کتا یہ اور وہ بلکہ میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ جب کبوترکبوتری کو دیکھ کر غٹ غٹ کرتا ہے تو بندہ کیوں نہیں۔لیکن میرے لیے یہ پابندی لگا دی گئی ہے کہ جب بھینس جو ہے، کھیت میں سے گزرتی ہے تو اکبر کے کھیت میں منہ مارتی ہے،اسماعیل کے کھیت میں منہ مارتی ہے اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں، لیکن جب میں گزروں گا تو پگڈنڈی پر سے سیدھا گزروں گا۔ ہاں میں نے اکبر کے کھیت سے گزرنا ہوگا تو اُس سے پوچھوں گا وہ اجازت دے گا تو گزروں گا۔ اسی طرح جنس کا معاملہ ہے، اس میں چھوٹی چھوٹی پابندیوں ہیں، روک ٹوک ہے، اسے پیش نظر رکھنا پڑتا ہے، میں کم از کم رکھتا ہوں‘‘
میرا سوال منٹو کے حوالے سے تھا ؛ اشفاق احمد اِدھر سے پہلو بچا کر نکل گئے تاہم اُنہیں جنس اور تصوف کے موضوع کو ایک ساتھ برتنے والا اپنا ایک افسانہ یاد آگیا ،’’ہے گھوڑا‘‘۔ اس حوالے سے اُنہوں نے کہا:
’’ وہ[سائیس] کہتاہے ، ’’ہے گھوڑا‘‘ اورگھوڑا اپنے آپ کو پابند کر لیتا ہے ،حکم کا، اشارے کا۔ تو یہ ایک انسان کی شان ہے ، جسے میں عبدیت کی شان کہتا ہوں۔ دیکھیں میرا وجود ایک فٹ بال سی چیز ہے۔ کبھی میں نیچے ہوتا ہوں زمین پر اور کبھی اوپر۔ میری ابدیت کی شان ہے کہ میں کم ترین سطح پر بھی ہوتا ہوں اور بلند ترین سطح پر بھی ۔ ایک جنس کا لیول زمین کی طرف جانے کا ہے اور ایک جب میں پورے کا پورا نچلی سطح سے اُوپر اُٹھتا ہوں فٹ بال کی طرح ، تو میرے لیے جنس کا لیول یہ ہے۔ ‘‘
وہ ذرا رُکے تو میں نے سلیم احمد کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جو طاہر مسعود نے لیا تھا ۔ وہی انٹرویو، جس میں سلیم احمد نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ منٹوکے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اور عصمت چغتائی کے’’لحاف‘‘ کو ایک مسلم معاشرہ میں جائز سمجھتے ہیں ، اور یہ کہ جنس کوان افسانوں میں فن کی سطح پر برتا گیا تھا ۔ اشفاق احمدصاحب نے پہلو بدلا اور اُلٹا مجھ سے پوچھا :
’’فنی طور پر دیکھیں تو پھر حلال اور حرام کیا چیز ہے؟‘‘
پھراس پر خود ہی اِضافہ کیا :
’’لیکن میں نے عرض کیا نا ! میں ایک کوزہ گر کا بنایا ہوا کوزہ ہوں اور میں پوچھتا ہوں کہ بھئی یہ جو مجھے بنا دیا گیا ہے اس میں کیا ڈال دیا ہے۔ تو وہی تو مجھے بتا سکتا ہے کہ کیا ہے۔ اور اس نے بتانے کے لیے ایک راہ نکالی ہے ، میں اس پر عمل کر سکوں یا نہ کروں لیکن میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ سلیم احمد علیہ رحمت مرحوم کے باوصف، کہ مجھے جو بتایا گیا ہے ، وہ میرے لیے برحق ہے۔‘‘
اشفاق احمدصاحب کی گفتگو سے کچھ طویل اقتباسات آپ نے ملاحظہ کیے اور اُن کا جنس کے باب میں طرز عمل بھی، لیکن یوں ہے کہ جس طرح کا کوزہ اشفاق احمد صاحب تھے ، کوزہ گر نے ویسا منٹو صاحب کو نہیں بنایا تھا ۔ اُن کی اپنی تربیت جس ماحول میں ہوئی تھی وہاں انسانی نفس کی تطہیر کی یہ بلند ترین سطح اور آنکھیں میچ کر بس اس سے تخلیقی سطح پر معاملہ کرنا ادب میں ایک خاص طبقہ کی ’پاکیزہ عیاشی ‘والا رویہ ہوجاتا تھا ۔ جنس کے ساتھ یوں احتیاط برتنے والوں کے لیے اُنہوں نے ایک افسانہ لکھ رکھا ہے’’اُوپر نیچے اور درمیان‘‘ بس فرق یہ ہے کہ جہاں اس افسانے میں صحت کے بارے میں وسوسوں سے جنس خطا ہو جاتی ہے ایک خاص طبقہ اس ’’پاکیزہ اور محترم‘‘ جذبے کا نام آتے ہی اور طرح کا’’کوزہ‘‘ ہو جاتا ہے۔
مجھے ’’سعادت حسن منٹو کے متنازعہ افسانے‘‘ پر بات کرنی ہے اور اشفاق احمد صاحب سے مکالمہ یاد آگیا تو اس کا سبب یہ ہے کہ میں نے ، اس کتاب کے مرتب محمد ندیم صاحب کے دیباچے کا وہ متن پڑھ لیا ہے جس میں اُنہوں نے بتایا ہے کہ منٹو صاحب کے معتوب ٹھہرائے گئے جنسیاتی اور سماجی مسائل کے آئینہ دار افسانے ہی اب اردو ادب کے بڑے اور بہترین افسانے ہیں۔ خیر یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب ہے کہ کیا یہ افسانے محض اپنے موضوع کے حوالے سے ’بڑے اور بہترین‘ ہیں یا ان میں منٹو کے فن کا کمال بھی معجزہ دکھا رہا ہے۔ اور کیا یہ تیکنیک اور اسلوب کا جادو نہیں ہے کہ منٹو صاحب ہر افسانے کو چست اور تیکھا بنا کر اسے مختلف کرلیا کرتے تھے۔
منٹوصاحب پر بات ہو اور’’ جنس ‘‘اور’’تقسیم‘‘ جیسے فوری توجہ کھینچ لینے والے موضوعات پر بات نہ ہو، یہ کیوں کر ممکن ہے۔ ہاں، ان موضوعات پر بات ہونی چاہیے ،ضرور ہونی چاہیے مگر وہ جو ہمارے ایک دوست اورافسانہ نگارکا مطالبہ ہے کہ منٹوصاحب کا ایسا مطالعہ سامنے نہیں آنا چاہیے جس میں سے خود منٹوصاحب اور اُن کا فن ہی منہا کر دیا گیا ہو؛ تو یہ بھی اپنی جگہ درست مطالبہ لگتا ہے۔جی،یہاں مجھے بتا دینا چاہیے کہ یہ مطالبہ آصف فرخی صاحب کے مضمون ’’منٹو کو نہ پڑھنے کے نئے طریقے‘‘ میں سامنے آیاہے ۔ اُنہوں نے اسی مضمون میں اور بھی بہت کام کی باتیں سجھائی ہیں۔ انہوں نے طارق علی صاحب پر گرفت کی ہے جو اچھے وقت میں کم اوربُرے وقت میں منٹو صاحب کو اس لیے یاد فرمالیاکرتے ہیں کہ اخبار میں اچھی طرح’’سرخی‘‘ جم جائے۔اِسی مضمون میں آصف فرخی صاحب نے محترمہ فہمیدہ ریاض سے اختلاف کرتے ہوئے یہ بھی کہاہے :
’’یہ بات درست ہے کہ تقسیم کے بعد لاہور آکر منٹو نے ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘،’’کھول دو‘‘اور ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ جیسے افسانے لکھے ، مگر ان کے اہم تر افسانوں کی فہرست بناتے ہوئے یہ کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے کہ ’’دھواں‘‘[اور]’’ہتک‘‘ جیسے کلیدی افسانے دہلی میں اور ’’بُو‘‘ جیسا شاہ کاروہ بمبئی میں اس سے پہلے لکھ چکے تھے ۔‘‘
تقسیم ، بار بار تقسیم۔ یا پھر۔ جنس ،صرف اور صرف جنس ۔ صاحب! منٹو صاحب محض اور صرف یہ نہیں ہیں تاہم اس کتاب کے مرتب کااصرار ہے کہ منٹو کے فن کی بلندیوں کو انہی افسانوں اور انہی موضوعات کے ساتھ فنی سطح پر پرکھا جانا چاہیے ۔ مرتب کے الفاظ میں:
’’ان افسانوں کو مذہب اور تعصبات کی عینک اُتار کر پڑھیے ۔ ادبی اور فنی معیار سے جانچئے ۔ یہ افسانے جنسی آسودگی و تسکین فراہم نہیں کرتے اور نہ ہی ہماری اخلاقی قدروں کے لیے تباہ کن ہیں بلکہ حقیقت کے عکاس ہیں۔‘‘
’’مذہب‘‘ اور’’ تعصبات‘‘ ؛ صاحب ،مجھے پاس پاس رکھے ان دو الفاظ کے یہاں استعمال نے الجھالیا ہے۔ تسلیم کہ منٹو صاحب مذہبی آدمی نہیں تھے اور یہ بھی درست کہ مذہب ان کا مسئلہ نہ تھا مگرمذہب کو جس طرح منفی روایات کی ترویج کے لیے بہ طور ہتھیار استعمال کیا جارہا تھا ،یہ منٹو کا مسئلہ ضرور تھا۔ پھر ایسے افسانے بھی ہماری نظر میں ہیں جنہیں مذہبی احساس اور مذہبی اصطلاحات کے فہم کے بغیر نہ تو ڈھنگ سے سمجھا جاسکتا ہے نہ اس سے مکمل طور پر لطف اُٹھایا جاسکتا ہے۔جب منٹوصاحب افسانہ لکھتے ہوئے ایک طوائف کے دل میں مذہبی جذبے سے وابستہ کالی شلوار اور ماتمی رنگ کی ایک خاص نسبت جگا کر اور فنی تقاضوں کو سامنے رکھ کر افسانہ لکھنا ضروری سمجھتے ہیں تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ اُن کے افسانے کاقاری مذہبی احساس کو یکسر جھٹک کر اسے پڑھے اور حظ بھی اُٹھائے ۔ اب رہا اُلجھانے والادوسرا لفظ، تو یوں ہے کہ منٹو صاحب کا قاری اپنے اپنے تعصبات کے ساتھ ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے ایک حیرت میں مبتلا ہوتا ہے ، سوچنے کے ایک مختلف قرینے کے مقابل ہو کر حیرت میں مبتلا ہونے سے اس کے تعصبات میں ردوبدل ہوتا ہے اور یہی منٹو صاحب کے فن کی وہ توفیقات ہیں جو انہیں مختلف اور ممتاز کرتی ہیں ۔ تعصبات میں کاٹ چھانٹ کا کام جو منٹو صاحب کے افسانے نے آگے چل کر سر انجام دینا ہے،بھلا وہ کام قاری اپنی تئیں افسانہ پڑھنے کی نیت باندھنے سے پہلے کیسے کر سکتا ہے۔ ہاں، اِس سے اِختلاف ممکن نہیں ہے کہ منٹو صاحب کے افسانے ہماری اخلاقی اقدار کے لیے تباہ کن نہیں ہیں تاہم یہ ایسی ریاکاری کو ننگا کر نے اور اس کا ناس مارنے کا فریضہ بھی ادا کر رہے ہیں جو اقدار کے نام پر ہماری معاشرت میں وتیرہ ہو چکی ہے۔
زیرِ نظر کتاب کے مرتب کا یہ مشورہ بھی ہے کہ منٹو صاحب کے فن کو ادبی اور فنی طور پر پرکھا جانا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ صائب مشورہ ہے ۔ یہیں وارث علوی صاحب کی وہ بات بھی یاد آرہی ہے جو اُنہوں نے اپنی کتاب’’منٹو:ایک مطالعہ ‘‘ میں کہہ رکھی ہے یہی کہ’’منٹو کو ہم پوری طرح سمجھ ہی نہیں پائے ہیں ۔‘‘ یہ دونوں باتیں ہمیں منٹو صاحب کو قرینے سے پڑھنے کی جانب متوجہ کر رہی ہیں؛ موضوعات کی سنسی خیزی کو سہہ سہار کر اور اس کیفیت سے کچھ آگے گزر کر۔ مرتب کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اگر ایسا کر لیا جاتا ہے تو منٹوصاحب کے منتخب افسانوں سے متنازعہ کا لیبل بھی اُتر جائے گا۔
……..
محمد ندیم صاحب کی مرتبہ اِس کتاب میں منٹو صاحب کے محض اَفسانوں کا ایک خاص تناظر میں انتخاب ہی فراہم نہیں کیا گیا ، ان افسانوں کے تناظر کو قاری پر واضح کر نے کے لیے،اُن کے چھ اہم مضامین کو بھی کتاب کاحصہ بنایا گیا ہے ۔ یہ سب مضامین منٹو صاحب اور ان کے تخلیقی مقدمے کو سمجھے کے لیے بہت مدد گار ثابت ہوں گے ۔ مثلاً دیکھئے اس حصے کا پہلا مضمون ’’لذتِ سنگ‘‘ ہے۔ یہ مضمون منٹو صاحب نے ۲۷ فروری ۱۹۴۷ء کوبمبئی میں لکھ کر اپنی ترتیب دِی گئی کتاب ’’لذت سنگ‘‘ کا حصہ بنایا تھا۔ یہ کتاب تقسیم کے ہنگاموں کے سبب اس سال تو شائع نہ ہوئی تاہم اگلے برس شائع گئی تھی۔ منٹو صاحب کے اس مجموعے میں ’’بو‘‘،’’دھواں‘‘،’’ اور کالی شلوار‘‘ جیسے معروف افسانے شامل کیے گئے تھے۔ منٹو پر چلنے والے مقدمے اور اس مقدمے کی خبروں سے تشکیل دیے گئے اس مضمون کو کتاب کے آغاز میں رکھا گیاہے۔ اسی تحریر میں احمد ندیم قاسمی صاحب کاوہ خط بھی شامل ہے جس میں اُنہوں نے منٹو صاحب کو ان کا مضمون اور افسانہ چھاپنے کی پاداش میں زیر دفعہ ۲۹۲ تعزیرات ہند اور ۳۸ ڈیفینس آف انڈیا رولز،’’ ادب لطیف‘‘ کی ضبطی کی خبر دی تھی۔ یہیں بتاتا چلوں کہ مضمون جس کا ذکر قاسمی صاحب نے کیا ہے منٹو صاحب کی ایک تقریر ہے جو اُنہوں نے جوگیشوری کالج بمبئی میں کی تھی۔ جب کہ زیر عتاب پرچے میں شامل شہرہ آفاق افسانہ’’بو ‘‘ چھپا تھا۔اس حصے کا دوسرا مضمون ’’سفید جھوٹ ‘‘ ہے ۔ منٹو صاحب نے اسے بھی اپنی کتاب’’ لذتِ سنگ‘‘ کاحصہ بنایا تھا۔ اس تحریر کا آغاز یوں ہوتا ہے:
’’ماہ وار رسالہ ادب لطیف لاہور کے سالنامہ سنہ 1942ء میں میرا ایک افسانہ بعنوان’’کالی شلوار‘‘ شائع ہوا تھا جسے لوگ فحش سمجھتے ہیں ، یہ سفید جھوٹ ہے۔‘‘
اس مضمون میں وہ آگے چل کر لکھتے ہیں :
’’اگر ویشیا کا ذِکر فحش ہے تو اس کا وجود بھی فحش ہے ۔ اگر اس کا ذِکر ممنوع ہے تو اس کا پیشہ بھی ممنوع ہونا چاہیے ۔ ویشیا کو مٹایے اس کا ذِکر خود بخود مٹ جائے گا۔‘‘
اوپر مقتبس ہونے والے محض اِن دو ٹکروں سے بہ سہولت یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ منٹوصاحب نے اس مضمون میں عریانی اور فحاشی کے علاوہ اپنے نظریہ فن کے حوالے سے بنیادی نقاط فراہم کر دیے ہیں ۔
’’پانچواں مقدمہ ‘‘کاعنوان پانے والا مضمون بھی ان مقدموں کے ذِکر سے شروع ہوتا ہے جو’’کالی شلوار‘‘، ’’دھواں‘‘، ’’بو‘‘، ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اور’’ اوپر،نیچے اور درمیان‘‘ پر چلتے رہے۔ منٹو صاحب کے متنازعہ ہونے کا پس منظر جاننے کے لیے یہ تحریر اہم ہے۔ ہم اسے پڑھ کراور بھی بہت کچھ جان جاتے ہیں؛بہ طور خاص یہ بات کہ منٹو صاحب پر اس باب میں پڑنے والی مشکلات کیسی تھیں اور وہ ان میں سے گزرتے ہوئے کس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے رہے۔
’’زحمت مہرِدرخشاں‘‘ ایسا مضمون ہے جس کا منٹو فہمی کے باب میں بہت چرچا رہتا ہے۔ منٹو صاحب نے یہ مضمون 29اگست 1950ء کو مکمل کرکے اپنے افسانوں کے مجموعہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے آغاز میں فراہم کر دیا تھا۔ اس مضمون کا عنوان غالب کے اس شعر سے اخذ کیا گیا ہے :
لرزتا ہے مرا دِل زحمتِ مہر درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
’’زحمت مہرِدرخشاں‘‘کا آغازمنٹو صاحب کے 1948ء میں بمبئی چھوڑنے سے ہوتا ہے ۔ بمبئی جسے وہ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے مگر اُنہیں چھوڑنا پڑا تھا۔ تقسیم کے بعد حالات ہی ایسے ہو گئے تھے کہ منٹو صاحب بمبئی میں چاہتے ہو ئے بھی نہیں رہ سکتے ہیں ۔ وہ وہاں سے اُٹھ کرپہلے کراچی اور پھر لاہور آگئے۔ یوں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اوپر کے مضامین میں اگر جنس ، عریانی ، فحاشی اور اس حوالے سے مقدمات کے مباحث رہے تو یہاں تقسیم کا حوالہ آگیا ہے ۔ یہ وہ دوسرا بڑاحوالہ ہے جو منٹو کے افسانوں کو متنازعہ بناتا رہا ہے۔ ’’ٹھنڈاگوشت‘‘ وہ پہلا افسانہ ہے ،جو منٹو صاحب نے پاکستان میں لکھاتھا ۔ یہ افسانہ پڑھنے کے بعد احمد ندیم قاسمی صاحب نے معذرت بھرے لہجے میں منٹوصاحب سے کہا تھا:
’’منٹو صاحب معاف کیجئے افسانہ بہت اچھا ہے لیکن نقوش کے لیے بہت گرم ہے‘‘
منٹوصاحب نے ایک نیا افسانہ لکھا، ’’کھول دو‘‘، اس افسانے کے ساتھ کیا ہوا، یہ قصہ، اور ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ پر مقدمہ کی روداد آپ اس مضمون میں پڑھیں گے توتنازعات کی پھیلتی سکڑتی لہریں سے آگاہ ہوتے چلے جائیں گے۔ان’ متنازعہ افسانوں‘ کے ذِکر میں ہم جنس اوردہشت دونوں کو بہم ہوتا دیکھ سکتے ہیں ۔
پانچویں مضمون کا عنوان ’’عصمت فروشی‘‘ ہے( اس میں سے ایک جملہ بہ قول منٹو صاحب یاد رکھنے کے لائق ہے’’ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے۔‘‘) جب کہ چھٹا اور آخری مضمون ہے ’’افسانہ نگار اور جنسی مسائل ‘‘ ۔یہ دونوں مضامین جنس ، جنسی مسائل ، عورت بہ طور خاص طوائف اوراس منظر نامے سے نئے ادب کی تشکیل کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ اس آخری مضمون میں منٹوصاحب جس نتیجے پر پہنچتے ہیں وہ بھی مقتبس کر دیتا ہوں :
’’جو سمجھتے ہیں کہ نئے ادب نے جنسی مسائل پیدا کیے ہیں ،غلطی پر ہیں ۔ کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ جنسی مسائل نے اس نئے ادب کو پیدا کیا ہے ۔‘‘
ان چھ مضامین کے مطالعہ سے تنازعات کی زد میں آنے والے افسانوں اورادبی اور سماجی حلقوں میں بپا ہونے والے فساد کی نوعیت کو سمجھا جا سکتا۔ یہ مضامین یوں بھی اہم ہیں کہ ان کے ذریعے اس باب میں افسانہ نگار کے اپنے نقطہ نظر کی تفہیم بھی ممکن ہو جاتی ہے۔
……….
ایک بار پھر میرا دھیان اس کتاب کے مرتب محمد ندیم کے اس کہے کی جانب چلا گیا ہے کہ متنازعہ افسانوں کو فنی سطح پر بھی پرکھا جانا چاہیے۔ یوں لگتا ہے کہ مر تب کا یہ مطالبہ اس کتاب کے قاری سے ہے۔ ایک قاری کی حیثیت سے میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس انتخاب کے سارے افسانے ایک سی ادبی قدروقیمت نہیں رکھتے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں متنازعہ کہناکم از کم میرے لیے مشکل ہوگیا ہے؛ تاہم یہ انتخاب ایسا ہے کہ منٹو کے فن کے خدو خال اُبھر کر سامنے آ جاتے ہیں ۔
میں نے ادبی قدروقیمت کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے ، اپنے ذوق کے مطابق کہا ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ ہم اس معاملے میں ٹھوکر کھا جائیں ۔ مجھے یاد آتا ہے کہ جب منٹو کے ’’ٹھنڈا گو شت‘‘ پر مقدمہ چل رہا تھا تو صفائی کے پانچویں گواہ کرنل فیض احمد فیض نے عدالت میں آکر یہ بیان دیا تھا کہ اگرچہ وہ ٹھنڈا گوشت افسانے کو فحش نہیں کہہ سکتے تاہم یہ کہانی ادب کا کوئی اچھا نمونہ نہیں ہے۔ان کے مطابق ، اس میں بعض غیر شائستہ محاورے استعمال کیے گئے تھے جن سے اجتناب کیا جا سکتا تھا۔میں نے ایک مضمون میں فیض احمد فیض کے اس بیان کو اُن کے ذوق اور مزاج کے ساتھ جوڑ کر دیکھا تو مجھے یوں لگا تھا جیسے فیض کے ہاں عریانی اور فحاشی سے زیادہ سنگین مسئلہ زبان کا شائستہ اور ناشائستہ استعمال تھا ۔ جس طبقے میں فیض پلے بڑھے اور جس طبقے کی منٹو کہانیاں لکھ رہے تھے دونوں کی شائستگی کا اپنا اپنا پیمانہ تھا۔ اس معیار پر اگر کوئی فیض کو بھی پرکھے گا تو پوچھے گا کہ صاحب آپ نے تو بے اندازہ لکھنا تھا مگر’’تو ہے اور اک تغافل پیہم/ میں ہوں اور انتظار بے انداز‘‘کیوں لکھا ۔اب اگر میں یہ کہہ دوں کہ یہاں فیض صاحب کا جرم بڑا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایسی غیر شائستہ زبان جو فیض صاحب کے اپنے طبقہ میں بھی درست اور شائستہ قرار نہ پاسکے ،میرے نزدیک فحاشی اور عریانی کے ذمرہ میں آتی ہے اور لکھنے والوں کو اس سے بچنا چاہیے۔
اچھا، یہاں یہ بتاتا چلوں کہ فیض صاحب جیسے ہر دل عزیزشاعر نے جس افسانے کی زبان پر گرفت کی ، اس کی فنی قدرو منزلت کی تعیین کے باب میں شمس الرحمن فاروقی جیسے جید ناقد نے بھی ٹھوکر کھائی ہے۔ فاروقی صاحب نے اپنی کتاب ’’ہمارے منٹو صاحب ‘‘ میں ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کو تھوڑی سی نرم فحاشی قرار دیتے ہوئے کہہ رکھا ہے کہ منٹو کوچاہیے تھا کہ وہ اس افسانے میں ایشر سنگھ کے نامرد ہو جانے کے کچھ نفسیاتی اشارے کر دیتے ۔ مجھے فاروقی صاحب کا یہ بیان پڑھ کر حیرت ہوئی تھی کہ آخر وہ ایسا کہتے ہوئے کیوں بھول گئے تھے کہ یہ آٹھ دِن پہلے کا واقعہ تھا کہ اُس نے سات میں سے چھ کو مار دیا تھا اور ایک لڑکی کو کندھے پر ڈال کر لاشوں سے دور،نہر کی پٹڑی کے پاس ، تھوہر کی جھاڑی تلے اُسے لٹالیا تھا ۔اب اگرایشر سنگھ کی جنسی تندی پہلے کا سا مظاہرہ نہیں کرپا رہی تھی، تو افسانے میں اس کا جواز موجود تھا۔ قاری متن پڑھتے ہوئے محسوس کر سکتا ہے کہ وہ اپنے تئیں بہت کوشش کر رہا تھا۔ چوڑے چکلے کولہوں اورتھل تھل کرتے گوشت سے بھرپورکچھ زیادہ ہی اُوپر کو اُٹھے ہوئے سینے والی جی دار دھڑلے دار عورت کلونت جنس کے معاملے میں ایشر سنگھ کے مقابلے کی تھی مگر اپنے مقابل کہ ساری کوششیں، جنہیں فاروقی صاحب نے جملہ کسنے کو ہلکا پھلکا کوک شاستر کہہ دیاہے، ناکام جا رہی تھی۔ ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا۔ جی اس روز سے پہلے کہ ایشر سنگھ شہر سے لوٹ مار کرکے آیا اور کلونت کولُوٹا ہوا سارا زیور پہنا کر اس کے ساتھ لیٹا تھا مگر کچھ دیر بعد وہ اچانک اُٹھا،کپڑے پہنے اور باہر نکل گیا تھا۔ دیکھیے منٹوصاحب نے کیسے اپنے قاری کو تیار کیا ہے ۔ اسے بتا دیا گیا ہے کہ آٹھ روز پہلے والے اس واقعہ سے پہلے ایشر سنگھ جیسا قاتل ایسے ذہنی کر ب میں مبتلا نہ تھا ۔ اور یہیں متن میں یہ قرینہ بھی رکھ دیا گیا ہے کہ کلونت شک میں پڑ جائے اور پوچھے:’’کون ہے وہ چور پتاّ؟‘‘ معاملہ چوں کہ جنس کا تھا لہٰذا کلونت جیسی کراری اور جنسی طور پر فعال عورت کا بپھرنا ،بھڑکنا اورکرپان اُٹھا کراچانک ایشر سنگھ کو زخمی کرنا ، اس کے کیس وحشی بلیوں کی طرح نوچ ڈالنا ؛کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو اس جیسے موضوع کو قائم کرنے کے حوالے سے نامناسب ہو ۔ہم یہ بات تو متن پڑھتے ہی جان جاتے ہیں کہ ایشر سنگھ سفاک قاتل تھا، مگر حسن پرست بھی تھا۔ ایسا حسن پرست اور اس معاملے میں نازک خیال کہ لاشیں گرا رہا تھا اور سامنے ایک ’سندر لڑکی‘ آگئی تو اس کا ہاتھ رُک گیا۔ صرف سندر نہیں؛’’ بہت ہی سندر لڑکی‘‘۔ کلونت کور کے مقابلے کی ؛یا پھر اس سے بھی کہیں زیادہ سندر:
’’کلونت جانی، میں تم سے کیا کہوں، کتنی سندر تھی وہ ۔۔۔ میں اُسے بھی مارڈالتا ، پر میں نے کہا، نہیں ایشر سیاں، کلونت کور کے تو روز مزے لیتا ہے، یہ میوہ بھی چکھ دیکھ۔۔۔‘‘
فاروقی صاحب نے اس افسانے کا تجزیہ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ جب ایشر سنگھ گھر میں گھس کر اوروں کو مار رہا تھا،تو کیا لڑکی سو رہی تھی؟انہی کے الفاظ مقتبس کرتا ہوں:
’’لیکن جب ایشر سنگھ اُسے اٹھا کر اَپنے ساتھ لے آیا ، تو وہ کیا کر رہی تھی ؟ کیا تب بھی وہ بالکل چپ تھی ،اتنی چپ اور بے حس و حرکت کہ اس میں اور کسی لاش میں کوئی فرق نہ تھا ؟۔ بھلا کیا فضول گفتگو ہے ، ایسا بھلا ہو سکتا ہے؟ ‘‘
مجھے فاروقی صاحب کے یہ جملے پڑھ کر بھی تعجب ہو اتھا۔ میں نہایت ادب سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا،جی ہاں! ایسا ممکن ہے اوریہ قطعاً فضول گفتگو نہیں ہے۔ دہشت سے لڑکی کے حلقوم میں چیخ کا پھنس جانا اور پھر بے ہوش ہو جانے کا تصور باندھا جا سکتا ہے۔ منٹو صاحب نے اسے لکھا نہیں مگر جس سلیقے سے واقعہ ایشر سنگھ کی زبانی بیان کروایا ہے اس کے اندر سے اس سندر لڑکی کی چپ باہر چھلک پڑتی ہے۔ فاروقی صاحب اس افسانے کا تجزیہ کرتے ہوئے کیسے ٹھوکر پر ٹھوکر کھاتے رہے ہیں، اس کا اندازہ، اُن کی کتاب’’ہمارے منٹو صاحب‘‘ سے لیے گئے اس اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے:
’’تم یہ بھی تو سوچو کہ جب گھر کے سارے لوگ مر چکے تھے اور قبضہ بے شرکت غیرے ایشر سنگھ کا ہے تو وہ لڑکی کو لے کر بھاگا کیوں ؟ سب سے بہتر تو یہ تھا کہ وہ گھر کو اندر سے بند کر لیتا ، سب روشنیاں (اگر وہ جل رہی تھیں) بجھا دیتا اور پھر لڑکی کے ساتھ جو اسے کرنا تھا، اطمینان سے اور بے کھٹکے کرتا۔‘‘
میں اس باب میں کیا کہہ سکتا تھا سوائے اس کے کہ ایک خونی زناکار کے لیے فاروقی صاحب، آپ کے مشورے تو خوب ہیں ،مگر مشکل یہ ہے کہ منٹو نے’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے ایشر سنگھ کا یہ کردار،’’پڑھیے کلمہ‘‘ کے خونی زناکارعبدالکریم عرف عبدل سے بہت مختلف بنایا ہے۔ عبدل اپنے ’’رقیب‘‘کی اکڑی ہوئی مقتول لاش کے سامنے گردھاری کی قاتل رکما کماری سے رات بھر پرجوش ہم بستری کر سکتا تھا، ایشر سنگھ نہیں۔ اور اسی بہ ظاہر معمولی سے فرق نے اس کردار کی نفسیات کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے ۔ یہ محض ایک افسانے کی مثال ہے۔ ایسا اختلاف منٹو کے دوسرے افسانوں کی تفہیم اور ان کی ادبی قدرو قیمت کے باب میں موجود ہے۔ اور اسی اختلاف سے صحت مند مکالمہ قائم کیا جاسکتا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ مکالمہ اس کتاب کے منتخب افسانوں پر ہو اور منٹو کی تخلیقی سطح پرتفہیم نو کا سلسلہ چل نکلے۔

محمد حمید شاہد
اسلام آباد

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|منظر جو رہ گیا

ناول: منظر جو رہ گیا ناول نگار: طارق عالم ابڑو سندھی سے اردو ترجمہ : …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *