M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / دیباچے / محمد حمید شاہد|سچے آدمی کا فکشن

محمد حمید شاہد|سچے آدمی کا فکشن

افسانے:جھوٹے آدمی کے اعترافات
افسانہ نگار:لیاقت علی

’’جھوٹے آدمی کے اعترافات‘‘ لیاقت علی کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ہے ۔ محض ایک اور کتاب نہیں بلکہ ایک ایسے تخلیق کار کا اگلا پڑاؤ جس کے لیے افسانے لکھنا زندگی اور موت کے مسئلے کا سا ہو گیا ہے ۔ عین آغاز میں کہتا چلوں کہ لیاقت علی کی کہانیاں صرف واقعات کاکھاتہ نہیں ہیں۔ یہ ہمارے لکھنے والوں کوعام طور پر مرغوب رہنے والے موضوعات کی گنجلک کھتونی بھی نہیں ہیں ۔ اوریہ بھی کہہ دوں کہ ان متون کی تشکیل اور جمع و تدوین کے لیے لیاقت علی نے اِدھر اُدھر سے وقوعے ڈھونڈے پکڑے ہیں ،نہ وہ زور زبردستی کہانی گھڑتے نظر آتے ہیں ۔
یہ نہیں اور وہ بھی نہیں تو پھر کیا؟
اگر آپ کا سوال یہ ہے تو بتاتا چلوں کہ اس کا جواب ان افسانوں کے اندر موجود ہے۔ اس باب کی ایک مثال افسانہ ’’پرچھائیاں‘‘ کے ایک کردار کے ذیل میں مقتبس ہونے والا یہ مکالمہ ہے :
’’میرے خوابوں اور حقیقتوں کا یوں ایک دوسرے میں مل جانامیرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا جارہا ہے۔‘‘
گویاان کے نزدیک افسانہ لکھنا ،صرف اور محض’’ افسانہ نگار‘‘ کہلوانے اور توجہ پانے کی’’ عیاشی‘‘ نہیں ہے ۔ یہ ان اپنے دیکھے ہوئے خواب ہیں۔ اور یہ وہ سنگین حقیقتیں ہیں جو ان کے تجربے کا حصہ بنتی رہی ہیں ۔بس انہوں نے یہ کیا ہے کہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے تخلیقی عمل کے مہربان لمحوں کوان کو کہانیوں کے تانے بانے میں بن کر افسانے بنا لیا ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے ہمارے اس تخلیق کار نے کہانی کے متن کو انسانی حسیات میں ہونے والی اُتھل پتھل کا ایسا زائچہ بنایا ہے جو ہمارے وجود کو الجھائے رکھنے والی پیچیدہ نفسیات اورکئی سطحوں پر تعلق میں بندھی معاشرت کے بھیدوں کو کھول کر رکھ دیتا ہے۔ جی، میں جن بھید بھرے علاقوں کی بات کر رہا ہوں ، یہ وہ علاقے ہیں جن کی جانب پیش قدمی کی طرف ہماری کہانی نے عام طور پر دھیان نہیں دیا ہے۔ یہاں میں نے کہانی کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ ایسے موضوعات کو لکھتے چلے جانا، جو لیاقت علی کے ہاں ہمیں قدرے ترجیح پاتے نظر آتے ہیں، تیس چالیس سال پہلے بھی لکھنے والوں کو محبوب رہے تھے۔ مگر تب یہ کہانی گم ہونے کی قیمت پر ہوا کرتا تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلاتھا کہ متن انشائیہ بن گیا تھا ۔ لیاقت علی کے افسانوں میں کہانی سے دور ہوئے بغیر زندگی کی اُلجھنوں کے مقابل ہونے کی ایسی صورت سجھائی گئی ہے جو انہیں مختلف اور اہم بنا دیتی ہے ۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ ہمارے اس افسانہ نگار کے تخلیقی وظیفے کا بنیادی مسئلہ یہی بھید اوریہی الجھاوے ہیں۔ بہ ظاہر چھوٹے چھوٹے مگر ہماری زندگیوں کا رُخ متعین کرنے والے ۔
ایک بار ممتاز مفتی نے کہا تھاکہ’’ ہم آج تک اپنی پراسرار’’میں‘‘ کو سمجھ نہیں پائے دوسروں کو کیا سمجھیں گے‘‘۔ یوں لگتا ہے لیاقت علی نے اسی پراسرار ’’میں ‘‘ کو سمجھنے کے لیے اپنی بیشتر کہانیوں کے واحد متکلم کو کچھ یوں مرکزی کردار بنایا ہے کہ ہم پڑھنے والے بھی ان کے افسانوں کا حصہ ہو جاتے ہیں ۔وہ کبھی کبھی منشایاد کی طرح اپنے کرداروں کی کھال میں بھی گھس کر بیٹھ جایاکرتے ہیں ۔ ایسے میں اگرچہ ان کی اپنی ذات ماجرے کے اندر سے منہا ہو جاتی ہے مگروہ بیانیے کی تعمیر میں ایسا قرینہ رکھ لیا کرتے ہیں کہ قاری متن میں متحرک ہر کردارکے دُکھ سکھ کو ہڈبیتی جان کر اس کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے۔اس کتاب میں پہلی نوع کے افسانوں میں’’ گھوڑے‘‘ ، ’’شناخت‘‘، ’’مکوڑے‘‘،’’آہٹ‘‘ ،’’پرچھائیاں‘‘،’’ایک نامکمل خط‘‘،’’ گم شدہ لوگ‘‘، ’’جنت گم گشتہ‘‘،’’ وغیرہ شامل ہیں جبکہ اس کتاب کی ٹائیٹل اسٹوری کے علاوہ’’ فصیل ذات‘‘،’’بلیک ہول‘‘، مہیب سائے‘‘،‘‘ہم زاد‘‘اور ’’ویلینٹائن ڈے‘‘ وغیرہ کو دوسری نوع کے افسانوں میں رکھا جا سکتا ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ افسانہ لکھنے کا کوئی بھی قرینہ چنیں ، انسانی حسیات کے ساتھ بہت اخلاص سے جڑے رہتے ہیں، اوپر اوپر سے نہیں بہت گہرائی میں جاکر۔ ہزیمت کے احساس سے چھٹکارا کیسے پایا جاسکتا ہے؟ وابستگی کا شدید احساس گہرے دُکھ اور شدت پسندی کی طرف کیوں دھکیلتا ہے؟ کیاوراثت میں ملی ہوئی ، مگر انسانیت کی تذلیل کا نشان ہو جانے والی شاخت سے چھٹکارا پا نا ممکن ہے؟ اور کیا اوپر سے اوڑھی ہوئی پہچان ہمارے بھیتر میں مسرت کی لہر داخل کر سکتی ہے؟ یہ زندگی چاہے کتنی ہی اُجلی اور خوشبودار کیوں نہ ہو اس میں کسی نہ کسی مرحلے میں کیڑے پڑ جاتے ہیں ،آخر کیوں؟ موت کی آہٹ سننے والے ، نئی زندگی کی مکروہات سمجھی جانے والی ایجادات سے وابستہ ہوکر زندگی کرنے کی للک کیسے پا سکتے ہیں؟ اوریہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ اخلاص سے کٹی ہوئی زندگی سچ کے مقابل ہو جائے ؟ دیکھیے کیسے کیسے سوالات ہیں جو لیاقت علی کے ہاں فکشن کا حصہ ہو رہے ہیں ۔
اب اگر میں یہ کہوں کہ لیاقت علی نے روایتی کہانیاں نہیں لکھیں،ایسے خواب لکھے ہیں جو حقیقت ہو جاتے ہیں اور ایسی حقیقتیں لکھی ہیں جو محض کسی وقوعے تک محدودر نہیں رہتیں نمو پاکر زندگی جتنی بڑی حقیقت ہو جاتی ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ ان افسانوں کی ایک اور خوبی پیچیدہ تر موضوعات اور مشکل کرداروں کو زبان کی سادگی سے بہ سہولت کہانی کے اندر رواں کرلینا ہے ۔ کہہ لینے دیجئے کہ ’’جھوٹے آدمی کے اعترافات‘‘ ایسے افسانوں کامجموعہ ہے جو سچے تخلیق کار کے خلوص بھرے قلم کی عطا ہو کر بہت اہم ہو گیا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ لیاقت علی کے پہلے مجموعے کی طرح یہ مجموعہ بھی فکشن کی دنیا میں بہت توجہ سے دیکھا جائے گا ۔

                                                                                                       محمد حمید شاہد
اسلام آباد

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|منظر جو رہ گیا

ناول: منظر جو رہ گیا ناول نگار: طارق عالم ابڑو سندھی سے اردو ترجمہ : …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *