M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / دیباچے / محمد حمید شاہد|جاوید انور کے افسانے

محمد حمید شاہد|جاوید انور کے افسانے

کتاب :         برگد

۔۔۔۔۔۔۔افسانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسانہ نگار: جاوید انور

جاوید انور کے افسانوں میں زندگی مختلف سطحوں پر کروٹیں لیتی محسوس ہوتی ہے۔یہ چھتنار برگد جیسی اُونچی اور گھنی زندگی بھی ہے ، جس کے گہرے سائے سے خوف اُمنڈتا ہے اور جسے کٹ کٹ کرآخر کار معدوم ہونا ہوتاہے اورلاچاری کی جھونپڑیوں میں سسکتی کرلاتی زندگی بھی کہ جو کھوٹے پیسے کی طرح اپنی قدر کھوچکی ہے ۔ یہ وہ گری پڑی زندگی بھی ہے کہ جس کی ضمانت کلائی پر بندھی گھڑی نہیں ہوا کرتی اور بچی ہوئی سوکھی روٹی ، باس مارتے سالن اور پھٹی ہوئی شلوار جیسی بوسیدہ ہو جانے والی زندگی بھی، جس کے کلاوے سے کوئی نکلنا چاہے تو بھی نہیں نکل پاتا۔ زندگی کا ہر ہر روپ ہر ہر سطح پر جاوید انور کا موضوع ہوا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اس کتاب کے پہلے افسانے ’’برگد‘‘ سے لے کر آخری افسانے’’آخری رات‘‘ تک ہم نارسائی کی مختلف جہتیں دیکھ رہے ہوں یا رائیگانی کی مختلف صورتیں، متن سے دور نہیں جاتے۔دُور جا ہی نہیں سکتے کہ جاوید انور کے قلم کاجادو کہیں تو لفظ لفظ کو بہشی کی مشک سے بہتے پانی کے اُچھلتے قطروں کی طرح تھرک تھرک کر چمکتے موتیوں جیسا بنارہا ہوتا ہے اور کہیں متن کو اس غیرئی ہاتھ کا سا، جو پڑھنے والے کے دھیان کو ویران اجڑی ہوئی حویلی جیسی زندگی سے نکال کر اپنے نرم نرم لمس کے طفیل بامعنی ارتفاع عطا کردیتاہے ۔
جاویدانورکواپنی بات کہانی میں ڈھال لینے اور اس کہانی کو سادہ واقعات کی کھتونی بنا نے کی بہ جائے ، لشٹم پشٹم گزرتی زندگی کی گہری علامت بنانے اور پھراس علامت کو اپنے جادوئی بیانیے سے بھیدوں بھرا افسانہ بنا لینے کا ہنر آتا ہے ۔اگرچہ یہ جاوید انور کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے مگر ان کے افسانوں میں زبان و بیان کا جس خوبی سے استعمال ہوا ہے ، جس چابکدستی سے سطروں کو قدرے سادہ مگر عمومی سطح سے بلند رکھ کر متن میں بُن لیا گیا ہے اور اپنی بات ہر حال میں کہہ ڈالنے کی بہ جائے اُسے واقعات میں گوندھ کر جس طرح قاری کی حسوں پر پھوار کی صورت برسایا گیا ہے ، یہ سب افسانہ نگار کے وسیع مطالعے اور زندگی کے گہرے مشاہدے کی خبر دیتا ہے اور پھر یہ ایسا قرینہ ہے کہ ایک عمر کی ریاضت کے بعد عطا ہوا کرتا ہے۔ ا ن افسانوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ قرینہ جاوید انور کو عطا ہوا ہے۔

محمد حمید شاہد
اسلام آباد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب : سرکتے راستے

۔۔۔۔۔۔۔افسانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسانہ نگار: جاوید انور

جاویدانورکے پہلے مجموعے ’’برگد‘‘کے افسانوں کو پڑھ کر میں نے کہا تھا کہ انہیں اپنی بات کہانی میں ڈھالنے کا ہنر آتا ہے ۔ اور یہ بھی کہ وہ اپنے بیانیے سے کہانی کو افسانے میں منقلب کرکے زندگی کی گہری علامت بنالیتے ہیں۔ اس تازہ مجموعے میں کچھ افسانے ایسے ہیں جن میں اُنہوں نے اپنے اس جوہرکو کچھ اور خوبی سے برت کر مجھے احساس دلایا ہے کہ ان کا تخلیقی سفر ایک مقام پر رکا ہوا نہیں ہے؛ اُنہوں نے آگے کی سمت جست لگائی ہے ۔مثلاً افسانہ’’سرکتے راستے‘‘ میں انہوں نے زبان کو کچھ اس قرینے سے برتا ہے کہ خیال کی لطیف طرفیں کُھل کر واقعہ ہو گئی ہیں؛یعنی واقعہ نہیں ہے مگر واقعہ بناہے ،یوں جیسے شام کے وقت جھیل کے شفاف پانی کی سطح کو کوئی نگاہ میں نہ آنے والا جھینگر چھوتا،چھچھلتا نکل جائے۔ اس بدلے ہوئے منظر میں سکوت ٹوٹتا ہے اور بندھا ہوا پانی دور تک دائروں میں لہریں لے کرکُھلتا چلا جاتاہے۔ افسانہ’’مہابندر‘‘ میں زبان کے بجائے یہی کام جنگلی حیات کے مفصل بیان سے یکلخت نئے منظرنامے میں جست لگا کر اسے انسانی صورتحال سے جوڑلینے کی تیکنیک برت کر لیاگیا ہے۔ یقین جانئے کہ زبان ، تیکنیک اور اسلوب کے یہ محض پینترے نہیں ہیں جوجاوید انور نے اپنے قاری کو مرعوب کرنے کے لیے برتے ہیں بلکہ یہ اُن کا، اپنے تخلیقی عمل کے تحرک سے متن کی ایک سے زائد سطحیں بنالینے کا وہ بھیدوں بھرا قرینہ ہے جو کم کم تخلیق کاروں کا مقدر ہوتا ہے ۔
موضوعات کا تنوع ایک اور خوبی ہے جس نے تازہ مجموعے کو ان کے پہلے مجموعے سے قدرے مختلف کیا ہے۔اس ضمن میں دیکھیے افسانہ ’’دروازہ‘‘ ؛ اس میں چائے خانے کے مختلف سمتوں میں کھلنے والے دودروازے،فقط گزرگاہیں نہیں ہیں، مادی اور تخلیقی سطح پر زندگی کرنے کے دو الگ چلن ہیں ۔’’زندگی اے زندگی‘‘ میں جنس موضوع بنی ہے؛ جی وہ جنس جو ایک بیوہ کے ہاں جنسی زندگی کے انقطاع سے ایک توانا آغاز پاتی ہے ۔ افسانہ ’’فیک‘‘ میں بھی جنس نشان زد ہوئی ہے مگر یہاں وہ جنس ہے جو دوسرے جینڈرمیں ظہور کرکے اسے’ فیک‘ بنا دیتی ہے۔افسانہ’’مہربانی‘‘ میں دیہات کی طبقاتی زندگی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانہ ’’نیرنگی ‘‘ میں بھی یہی دیہی زندگی ہے مگر یہاں کھیتوں کو رہائشی پلاٹوں میں بدلتی سوسائٹیاں اور سیمنٹ سریے تلے دفن ہوتا دیہات منظر اور موضوع ہوا ہے۔ کوئی بھی افسانہ اُٹھا لیں آپ محسوس کریں گے کہ برتا جانے والا موضوع جاوید انور کا اپنا مسئلہ ہوا ہے ۔ ان افسانوں کاکوئی بھی کردار لے لیں؛لگے گا جیسے اپنے وجودی کرب کی تظہیر کررہا ہے اور پڑھنے والے کے وجودی کرب کا بھی، تب ہی تو ہم ان کرداروں کے ساتھ جیتے اور اِن کے ساتھ مرتے ہیں ۔
بہت کم عرصے میں افسانوں کا دوسرا مجموعہ لے آنا اپنی جگہ ایک واقعہ ہے تاہم یہ واقعہ میرے لیے یوں اہم ہے کہ افسانوں کا یہ دوسرا مجموعہ اس بشارت کے ساتھ آیا ہے کہ اگرجاوید انور اسی خلوص اور ثابت قدمی سے تخلیقی عمل سے جڑے رہے تو مستقبل قریب میں ان کا فن کچھ اور بلندیوں کو بھی چھو سکتا ہے۔
محمد حمید شاہد

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|سچے آدمی کا فکشن

افسانے:جھوٹے آدمی کے اعترافات افسانہ نگار:لیاقت علی ’’جھوٹے آدمی کے اعترافات‘‘ لیاقت علی کے افسانوں …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *