M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / محمد حمید شاہد|شاعری،شعور اورشہزاداحمد 

محمد حمید شاہد|شاعری،شعور اورشہزاداحمد 

واقعیت اورنئے زمانے کی فکر
کچھ نے کہا ’’واقعیت‘‘ اور ’’نئے زمانے کی فکر‘‘ شہزاد کی شاعری کا وظیفہ رہے ۔ کچھ کا کہنا ہے کہ حقیقت اور فکر جہاں غالب رہیں وہاں شاعری کم کم رہ جاتی ہے ۔میں پہلی بات کسی حد تک مانتا ہوں مگر دوسری بات مان بھی لوں توبھی ان لوگوں کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکوں گا جو شعر کہنے سے پہلے شعور کو طاق پر رکھ دیا کرتے ہیں ۔ نہ ان لوگوں کا ساتھ دیا جا سکتا ہے جو شاعری کو محض شعور کی کارستانی بنا دیتے ہیں اور شعر کی جمالیات کے قرینے ان کا مسئلہ نہیں رہتے ۔ خیر،اس معاملہ کو حتمی طور پرطے کرلینا ممکن ہی نہیں ہے کہ شعرمیں احساس اور فکر یا شعوری دھارے کے بیچ کیا تناسب ہو۔ ان الجھنوں کے بیچ اب رہا شہزاد احمد کا تخلیقی چلن ، تو یوں ہے کہ اس باب میں مان لینا ہو گا ،شہزادکے ہاں یہ جو کم کم رہ جانے والی شاعری ہے یہی عمر بھران کا مسئلہ رہی ہے ۔ خود شہزاد احمد کا اس باب میں کہنا ہے :
’’مجھے اس پر اصرار نہیں
کہ جو کچھ میں لکھوں اسے شاعری کہا جائے‘‘
(تیسرا کنارہ)
نثر میں شاعری ‘ کے نام سے جن تخلیقات کو شہزاد احمد نے ، ’’معلوم سے آگے ‘‘ میں مجتمع کیا ، ان میں مروج شعری قرینوں کوشاید ہی مہمیز دی گئی ہو ۔ اچھا، شہزاد احمد نے انہیں نثم یا نثری نظم بھی نہیں کہا ہے گویا انہیں اس پر بھی اصرار نہ تھا کہ انہیں نظم کی صورت پڑھا جائے ایسے میں اگر نظم کی صورت لکھی گئی ان سطروں کو ایک پیرا گراف میں لکھ لیا جاتا تو شاید ہمارا دھیان بھی اس طرف نہ جاتا کہ شاعر نے اسے نثری شاعری کہہ رکھا ہے۔ ایسے میں اگر شہزاد احمد یہ کہتا ہے کہ جو کچھ وہ لکھتا رہا ، معروف معنوں میں وہ شاعری نہیں ہے تو ہمیں ذرا رُک، اس کی شاعری پڑھنے سے پہلے اس کے ہاں متشکل ہونے والے شاعری کے تصور کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ شہزاد احمد نے تیسرا کنارہ میں ہی یہ وضاحت بھی کر رکھی ہے:
’’۔۔۔۔۔
جس شے کو عام طور پر شاعری کہا جاتا ہے
وہ سامنے کی ایسی باتیں ہیں
جن میں معانی کی صرف ایک تہہ موجود ہوتی ہے
مگر وہ تہہ ایسی ہے
جس سے آپ پچھلے کئی سوبرس سے آشنا ہیں
اور اب اس کے علاوہ آپ کو کچھ مطلوب نہیں
جیسے بچہ روز سونے سے پہلے
بہت اصرار کے ساتھ ایک ہی کہانی سنتا ہے
ٓآپ بھی ایک ہی طرح کی شاعری سن کر خوش ہو جاتے ہیں ‘‘
(تیسرا کنارہ)
گویا شہزاد احمد کا مسئلہ وہ شاعری ہر گز نہیں ہے جس میں :
۱۔ سامنے کی باتیں ہوں
۲۔ کہی ہوئی بات نئے ڈھنگ سے کہی گئی ہو
۳۔ فقط ذوق شعری کی تسکین مطلوب ہو

خواب کے ہم پلہ
یہ نہیں ، تو پھر کیا؟ شہزاد احمد نے اسے بھی ، تیسرا کنارہ میں نشان زد کر رکھا ہے:
۱۔ شاعری تو معلوم سے نامعلوم اور نامعلوم سے معلوم کی طرف ایک انجانا سفر ہے جسے ہم پوری طرح پہچانتے بھی نہیں
۲۔یہ نا آشنا اور نا مانوس واردات کے ساتھ قدم بہ قدم چلنا ہے
۳۔ شاعری محض برتی ہوئی اور مانوس حقیقت کے بیان کی بہ جائے تیسرے کنارے کی تلاش ہے۔
کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ شہزاد احمد نے حلقہ ارباب ذوق ، اسلام آباد کے سالانہ جلسہ میں صدارتی خطبہ دیا تھا ، اس خطبہ میں بھی وہ شاعری کیا ہے ؟ کی الجھن کو سلجھاتے رہے ۔ انہوں اس خطبے میں ایک دل چسپ بات کہی تھی ۔ بات کچھ یوں تھی کہ وہ کلام جسے پڑھ کر قاری اپنی ساری توانائی اچانک ریلز کر دے ، اس میں شاعری نہیں ہوتی ۔ مجھے یاد ہے ، اس باب میں انہوں نے مزاحیہ شاعری کی مثال دی تھی کہ ادھر آپ نے شگفتہ کلام سنا ، ادھر آپ کھلکھلا کر ہنس دیے، لو قصہ تمام ہوا۔ شہزاد احمد نے اسے بھی شاعری ماننے سے انکار کیا تھا جس میں سے معانی اپنے لفظوں جتنے ہی برآمد ہوتے ہوں ۔ ان کا خیال تھا ، معنی کی کلی ترسیل اپنے پیچھے ایک خلا چھوڑ جاتی ہے ۔ اس باب کی مثال جو انہوں نے دی وہ مشاعروں میں سنائی جانے والی شاعری تھی ۔ خوب داد پانے والی اور معنی کی کلی ترسیل کے بعد لفظوں کو اس غبارے سا بنا دینے والی جس میں سے ساری ہوا نکل گئی ہو۔ اس خطبے میں شہزاد کے نزدیک شاعری خواب کے ہم پلہ تھی ، کسی ایک تعبیر پر اکتفا نہ کرنے والی ، تاہم ممکنہ تعبیروں کے لیے قاری کے اندر اکتشاف کا معجزہ رکھنے والی۔ خود انہی کے لفظوں میں :
’’ شاعری اور خواب کے تاروپود ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں ، کچھ سمجھ میں آنے والے اور کچھ سمجھ میں نہ آنے والے۔ ‘‘

محض خوب ، نہ محض واقعیت اور نئی فکر
شہزاد احمد کے نزدیک محض خواب شاعری ہیں نہ برتی ہوئی باسی حقیقت ۔ اس کا ایقان ایک نور سے منور ہے جو بالعموم اس رجحان کے حامل تخلیق کاروں کے ہاں عنقا ہو چلا ہے ، مگر لطف یہ ہے کہ اس کے ہاں ہے ۔
نظر کے نور نے روشن کیا تھا سینے کو
اب اہل درد ترستے ہیں اس قرینے کو
۔
’’۔۔۔۔۔۔
نور کا ایک طوفان ہے
جو بہت تیز ہے
پھر بھی آگے گزرتا نہیں
اپنے پیچھے بھی جاتا نہیں ‘‘
سو، ان کے ہاں خواب کے ہم پلہ سہی مگراس خواب کو بھی اسی نور کے جھپاکے میں دیکھنا ہوگا ۔ رہ گیا معاملہ سائنسی حقیقت والا تو اس باب میں شہزاد کا موقف ہے کہ
’’ سائنس دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک تو وہ جسے ہم عام زندگی سے مطابقت رکھنے کے باعث قبول کرتے ہیں اور دوسری وہ جو ہمارے روزمرہ کے تجربات سے مختلف ہونے کے باعث ہمارے لیے بالکل اجنبی ہو گئی ہے ۔ موجودہ زمانے میں ، جو سپیس کا زمانہ ہے ، کہا جاسکتا ہے کہ اس بات کا امکان پیدا ہواہے کہ ہم مکان یعنی سپیس کے اندر دور تک داخل ہو سکیں۔ اس معاملے میں ادب اور شاعری پیش رو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ‘‘
(شہزاد احمد :خطبہ صدارت : حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد )
اسی بات کو شہزاد احمد نے ’’اترے مری خاک پر ستارہ‘‘ میں شامل ایک حکایت میں یوں بیان کر رکھا ہے:
’’ جب خلا باز ایک دور دراز کہکشاں کے کسی آباد سیارے پر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں نوع انسانی (Homosapien) پہلے سے موجود ہے ۔ چنانچہ انہوں نے ان سے سوال کیا کہ تم اس سیارے پر کس ذریعے سے پہنچے۔
جواب ملا ۔
شاعری کے ذریعے۔‘‘
یوں دیکھیں تو شہزاد احمد کی حقیقت سائنسی حقیقت سے زیادہ گہری اور بڑی ہے۔

فلسفہ سائنس نفسیات اور شاعری
شہزاد احمد کا جب بھی نام آتا ہے ایک ہی سانس میں بالعموم فلسفہ سائنس نفسیات اور شاعری کو بھی گنوا لیا جاتا ہے۔ اچھا، یہ بجا کہ تخلیق کار کو کوایک ساتھ کئی کشتیوں میں سوار نہیں ہونا چاہییے ۔ تخلیقی صلاحیتوں کی کمی کے شکار افراد کو تو اس باب میں بہ طور خاص اجتناب برتنا چاہیے مگر وہ تخلیق کار جن میں تخلیقی توانائی معلوم سے نامعلوم کی سمت یا نامعلوم سے معلوم کی سمت مسلسل رواں رہے وہ ایک ہی صنف یا ایک ہی موضوع کے ہو کر رہ ہی نہیں پاتے ۔ شہزاد احمد کو بھی ایسے ہی بھر پور اور ہمہ جہت صلاحیت رکھنے والے تخلیق کاروں میں گنوایا جاسکتا ہے۔ شہزاد احمد کو تفہیم ذات، شعور نفس اور مطالعہ کائنات کی لگن رہی جس نے ان کے شاعری کو سائنس ، فلسفہ اور نفسیات کے فکری آہنگ کی قربت سے نوازا مگر اس چلن میں جو معنیاتی نظم اور انسلاکات قائم ہوتے ہیں وہ بہر حال ان ڈسپلنز کی بجائے خود شاعری کی روایت سے قریب تر ہیں ۔ اسی روایت اور معنی کی تلاش کے امتزاج سے اس کی شاعری کا مزاج متشکل ہوتا ہے ۔ اور اسی چلن نے اس کے ہاں فن پاروں میں آرائشی کردار کو لگ بھگ منہا کر دیا۔ اس باب میں کہیں کہیں تو لگتا ہے کہ وہ قرینے جو شعری جمالیات کا حصہ رہے ہیں وہ بھی اس آرائش کا حصہ جان کر الگ رکھ دیے گئے ہیں ۔ نظموں کے مطالعہ کے دورآن تو اس کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔
بے شمار احباب ، ہر لمحہ نئے چہروں کے ساتھ
مجھ کو ملتے ہیں
مجھے کہتے ہیں ،پہچانو ہمیں
میں انہیں پہچان لیتا ہوں
مگر اس کھیل میں
بھول جاتا ہوں کہ میں خود کون ہوں
(کس قدر تنہا ہے تو)
نظموں کو یوں ٹکڑا ٹکڑا پڑھیں گے تو سطریں سپاٹ لگیں گی ، ایک ہی معنی اچھالتی ہوئیں مگر نظم مکمل کرنے پر ایک نئی نو ع کی جمالیات آپ پر کھلنے لگتی ہے اس کا تعلق نظم کے خارجی اسٹریکچر سے کہیں زیادہ اس کے ڈیپ اسٹریکچر سے ہوتا ہے جو سطر یا مصرع کی ساخت سے نہیں بانتا اس میں معنیاتی دھارے کے بہاؤ سے متشکل ہوتا ہے ۔

معنیاتی بہاؤ اور شعری جمالیات 
وہ شاعری جس سے تخلیقی رشتہ قائم کرنے سے شہزاد احمد مجتنب رہے ، اس کی ایک خوبی یہ رہی ہے کہ اس میں حسی سطح پر پیکر بنتے ہی چلے جاتے ہیں، یوں جیسے آپ باریک سوراخ والی نلی کو صابن گھلے پانی میں ڈبونے کے بعد،اس میں پھونک مار کر رنگ اچھالنے والے بلبلے فضا میں اڑا لیتے ہیں ۔ یہ رنگ پچکاری چھوڑتے پیکر اپنے قاری کو ایک معنیاتی ربط دیں نہ دیں اس کے اندر ابال پیدا کرتے ہیں ۔ تاہم شہزاد احمد کے ہاں جو تخلیقی وتیرہ بنا ہے اس میں معنیاتی سطح پر کچھ صورتیں بنتی ہیں ۔ میں نے محض معنی نہیں کہا معنیاتی پیکر کہا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ شہزاد احمد کے ہاں لفظ کے پیندے سے پیوستہ معنی اور مفہوم سے کہیں زیادہ وہ معنیاتی سلسلہ اہم ہو تا ہے جو فن پارے کی کل سے برآمد ہو رہا ہوتا ہے۔ اچھا یہ معنیاتی سلسلہ کہیں تو معلوم سے نامعلوم کے ساتھ منسلک ہے اور کہیں نامعلوم سے معلوم کے احاطے میں برسنے لگتا ہے ۔ اسی سے کہیں تو ایبزڈ اور کہیں سریلسٹک فضا اور ایک دھند سی بنتی ہے جو متن میں معنوی دبازت کی بصری تشکیل کرتی ہے۔
’’میں ‘‘ سے ’’ میں ‘‘ تک بہت فاصلہ ہے
اگر جاننے کی تمنا بھی ہو
تو یہ ممکن نہیں ہے
کہ ہم اس مسافت کو کم کر سکیں
’’میں ‘‘ سے ’’میں‘‘ کو بہم کر سکیں ‘‘
موجود اور وجود کی دوئی کے اس شعور کا شاخسانہ ہے کہ شہزاد احمد کو محض سائنسی فکر والا اور منطقی نہیں کہا جا سکتا اوراسی قرینے نے اس کے شعور سے جڑے ہوئے علاقے میں متشکل ہونے والی شعری جمالیات کو مختلف کر دیا ہے ۔

کچھ غزل کے باب میں
اپنی غزل میں شہزاد جدید مضامین کی طرف لپکنے کے باوجود، اس صنف کی اپنی مابعد الطبعیاتی روایت اور آہنگ سے الگ نہیں ہوتے ۔ روایت کا لازمی تقاضہ یہ بھی ہے ، کہ ماضی سے ایک صحت مند تعلق استوار کیا جائے ۔ شہزاد احمد اس باب میں کسی الجھن کا شکار نہیں ہے، ایسا تعلق ان کی غزل میں بہ خوبی استوار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم شہزاد احمد اس روایت کے پیڑ سے پھوٹنے والی کل کی شاخ کو دیکھ رہے ہیں اور ان کا بنیادی قضیہ بھی آج بہ مقابلہ آنے والا کل ہے۔ اپنی بے مائیگی والے آج کے مقابلے میں ہرا بھرا کل۔

اب کہاں وہ نجد کے صحرا میں آواز بلال
مسجدیں ویراں، شکستہ ہو گئے مینار بھی

جس کو عبرت کا نشاں ہم نے بنا رکھا ہے
کل اسی پیڑ سے اک شاخ ہری نکلے گی

کبھی تو لے ہی اڑوں گا قفس کو ساتھ اپنے
ہنوز مجھ کو تمنائے بال و پر ہی سہی

اوس پڑتی نہیں جلتی ہو ئی امیدوں پر
خوں میں گرمی ہو تو احساس جواں رہتا ہے

ماضی، حال اور مستقبل تینوں پر ایک ساتھ نظر رکھنے والے رجائی شہزاد احمد کے اندر جستجو اور طلب کی ایسی شمع روشن ہے جو اس پر منزلوں کو اجالتی چلی جا رہی ہے۔ اس کی نظم میں در آنے والے بے پناہ بے اطمینانی یہاں اسی جستجو سے مات کھا جاتی ہے ۔
کھو جاتی ہیں تاریکی میں جب آنکھیں
رستہ اپنا کھوج لگانے لگتا ہے

ٓآئینے میں بھی نظر آتی ہے تیری صورت
کوئی مقصود نظر تیرے سوا کیسے ہو

اپنے مقصود کو یوں ہر دم سامنے پانا اور تاریکی میں بھی راستہ کھوج نکالناغزل کی صنف کے اپنے روایتی مزاج ہی سے ممکن ہو پایا ہے ۔ وہ بے پناہ بے قراری جو شہزاد کی نظموں کا حصہ ہو گئی غزل میں وہ ایک نئی راہ کھوج نکالنے میں کامیاب رہی تو اس کا سبب اس صنف کا اپنا مزاج ہے جس میں شہزاد احمد نے اکھاڑ پچھاڑ سے احتراز کیا ہے۔ وہ کہیں بھی غزل میں کوئی نیا تجزبہ کرتے نظر نہیں آتے،اور بدلے میں تنگنائے غزل میں انہیں اماں ملتی ہے ۔
گرچہ اک تیرگی ہیں ہم لیکن
کچھ ستاروں کے درمیاں ہیں ہم

گفتگو زرد ستاروں سے ہوئی آخر شب
بجھ گئی رات تو سینہ ہوا روشن میرا

تاہم غزل میں اگر وہ کوئی تبدیلی لے کر آئے ہیں تو اس کا تعلق اس کے مضامین سے بنتا ہے ، سیاسی اور سماجی معنویت سائنسی اور نفسیاتی معنویت میں آمیز ہو کر جس معنیاتی فضا کو ترتیب دے رہی ہے اس نے شہزاد کی روایت کا احترام کرنے والی غزل مختلف ذائقے والی غزل بنا دیا ہے۔ اب کہکشاں اس سے مکالمہ کرتی ہے یوں کہ اس کی اپنی راہ گذر دور تک روشن ہو جاتی ہے۔
کیا کوئی ماہتاب پھر جلوہ فگن ہے بام پر
سارا جہاں چمک اٹھا اک مری راہ گزر کیا

روشنی کا یہ سمندر ہے کہ تاروں کا ہجوم
یہ ستارے ہیں کہ آنکھیں مری تنہائی کی

شہزاد احمد منطق اور عقل کا آدمی سہی مگر اس منطق اور تعقل نے اس کی آدمیت اور تہذیبی شعور نہیں پچھاڑا ۔ اس کے ہاں تخلیقی سطح پر انفارمیشن کا محض اتنا حصہ صرف ہوتا ہے جو علم بن کر انسانی ضمیر سے جڑ جاتا ہے ۔ اسی وتیرے نے اسے ، موضوعات کو محبوب رکھنے کے باوجود غزل کی تہذیب سے دور نہیں ہونے دیا ۔

آگ سے پھول چنوں ، ریت سے گوہر لاؤں
اپنی نظم میں ریت سے گوہر ڈھونڈ نکالنے اور اپنی غزل میں آگ سے پھول چننے والے شہزاد احمد کو انسانی ذہن بہت عزیز ہے وہ اس کی بابت دعا کرتارہا ہے کہ’’ خدا اسے ہمیشہ زندہ اور تابندہ رکھے‘‘ ، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ انسانی ذہن کو ایسی قوت متخیلہ کا حامل سمجھتا ہے جو کسی اصول کی پابند نہیں ۔ اس باب میں اس نے روشنی کی رفتار کی مثال دے رکھی ہے ، وہ روشنی جو اگر سورج بجھ بھی جائے تو آٹھ منٹ تک ہمیں اجالتی رہے گی ۔ معدوم ہونے والے سورج کی روشنی واہمہ ہوگی یا بجھ چکا سورج جو اگلے آٹھ منٹوں میں ہمارے تصور میں پہلے کی طرح روشن رہے گا ، آپ کا فیصلہ کچھ بھی ہو ، شہزاداحمد کی شاعری توانہی واہموں کی دلداہ ہے۔ یہ تواہم کا کارخانہ سہی مگراس کی شعری کائنات میں ایسی حقیقت ہو جاتی ہے ،کہ اس سے زندگی کی رسائیوں اور نارسائیوں کی بہتر تفہیم ممکن ہو جاتی ہے:
’’۔۔۔۔
عجب اک سلسلہ ہے
سلسلہ در سلسلہ ہے
اور ہم چھوٹے سے سیارے میں بیٹھے ہیں
سمجھتے ہیں کہ ان پہنائیوں کا مدعا ہم ہیں
مگر ان وسعتوں کے سحر سے نا آشنا ہم ہیں
(کہاں تک ساتھ دے سکتی ہیں آنکھیں)
۔۔۔۔۔۔
کوئی سورج مری مٹی سے پیدا کیوں نہیں ہوتا
ستارے روز ہی کیوں آسمانوں سے نکلتے ہیں
مجموعی طور ہر دیکھا جائے تو اپنی مٹی سے سورج اور ستارے اگانے کی للک رکھنے والا یہ تخلیق کار اعہد حاضر کا انسان ہے اور مستقبل پر نگاہ رکھے ہوئے ہے یوں کہ اس کی نظروں سے اس کا ماضی بھی اوجھل نہیں ہوتا ۔ وہ تکمیل کل اور نور ازل کو انسان کے نور میں ظاہر ہوتے دیکھتا ہے اور اس نور جھپاکے میں اپنی برہنگی کو دیکھ کر شرماتا ہے ۔ ادھورے پیکروں کی برہنگی، نئے نئے ملبوسات کے باوجود ننگا ہو جانے والا ننگا پن۔ غبار دنیا میں اٹا ہوا آدمی شہزاد احمد کی شاعری کے مرکز میں ہے وہی جو اپنا لباس گرا چکا اور اب اپنا وجود بھی گرا رہا ہے ۔ اسی گرے پڑے آدمی پر تنی ہوئی رات میں اس نے اپنی فکر کے چراغ کی لو سے تیشے چلائے اوریوں اپنے لیے ایک شعری آہنگ ڈھال لیا جو قدرے نامانوس اور ہمارے لیے نیا سہی مگر یہ شعری لحن اب اردو ادب میں ایک الگ باب ہو گیا ہے۔
میری آنکھوں میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھا
اس خرابے میں یہ کیا شمع جلا دی تو نے
۔۔۔۔۔۔
شگاف ڈال دیے رات کی فصیلوں میں
میں گھر سے لے کے چلا تھا چراغ ٹوٹا ہوا
***

مآخذ
۱۔ شہزاد احمد، ٹوٹا ہوا پل ( غزل، نظم)، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، ۱۹۹۳ء
۲۔ شہزاد احمد،جلتی بجھتی آنکھیں ( غزل)، لاہور، الحمد پبلی کیشنز، ۱۹۹۴ء
۳۔ شہزاد احمد، ادھ کھلا دریچہ ( غزل، نظم)، لاہور، الحمد پبلی کیشنز، ۱۹۹۵ء
۴۔ شہزاد احمد، خالی آسمان ( غزل، نظم)، لاہور، الحمد پبلی کیشنز، ۱۹۹۵ء
۵۔ شہزاد احمد،معلوم سے آگے ( غزل، نظم)، لاہور، الحمد پبلی کیشنز، ۱۹۹۸ء
۶۔ شہزاد احمد، اندھیرا دیکھ سکتا ہے ( غزل، نظم)، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۰ء
۷۔ شہزاد احمد، آنے والا کل ( غزل، نظم)، لاہور،ملٹی میڈیا افیئرز ، ۲۰۰۵ء
۸۔ شہزاد احمد، مٹی جیسے لوگ ( غزل، نظم)، لاہور،ملٹی میڈیا افیئرز ، ۲۰۰۹ء
۹۔ شہزاد احمد،خطبہ صدارت ، حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد ۲۰۰۷ء

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|دہشت کے موسم میں کشور ناہید کی شاعری

ممتاز شیخ کی ادارت میں چھپنے والے ادبی جریدہ “لوح” میں اس بار کشور ناہید …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *