M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|شاعری 2017: کوئی گنتی بھی ہے اصنام خیالی کی۔۔۔

محمد حمید شاہد|شاعری 2017: کوئی گنتی بھی ہے اصنام خیالی کی۔۔۔

قرطاس ادب:جنگ کراچی 

2017ء کاسال شاعری کی مقبولیت کا سال رہا مگر میرا اندازہ ہے کہ اس سال نثر کے مقابلے میں شاعری کی کتب کم شائع ہوئی ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ اس سال ہمارے ناشرین شاعری کی کتب چھاپنے کے معاملے میں کچھ زیادہ پر جوش نہیں رہے۔ غزل اور نظم کاچرچا اس سال بھی رہا اور خوب رہا اور اس کے لیے مختلف مقبول وسیلوں سے مدد لی گئی۔ پہلے ان کتابوں کا تذکرہ جو اس سال مجھے پڑھنے کو ملیں ۔ سب سے پہلے بابا فرید شکر گنج کے حکیمانہ کلام کا ایک انتخاب۔ یہ انتخاب’’اشلوک‘‘ کے نام سے ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے کیا ہے۔ کلام کی تہذیب اور ترجمہ کاری کا فریضہ بھی انہوں نے نبھایا ہے اور خوب خوب نبھایا ہے۔ ناشاد قادرالکلام شاعر ہیں اور اپنے آپ کو علمی کاموں میں مصروف رکھتے ہیں ۔ کتاب کے مقدمے میں ڈاکٹرعبدالعزیزساحر نے لکھا ہے کہ ’’ناشاد کے ترجمے کا مطالعہ کرتے وقت معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نہایت قرینے سے بابا فرید کے کلام کے کئی فکری شیڈز محفوظ کرنے کے جتن کیے ہیں ۔خاص کر ان کا ترجمہ متن کے قریب ترین ہونے کی وجہ سے ان کی فکرکی تفہیم اور ترسیل میں معاونت کر رہا ہے اور یہ خوبی کوئی کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ بابا فرید نے کہا تھا :
کاگا چونڈ نہ پنجرا، بسے تاں اُڈر جاءِ
جت پنجرے میرا شوہ وسے ماس نہ تدوں کھاءِ
اور اب اس کا منظوم ترجمہ جو ناشاد نے کیا ہے:
کاگا دیکھ نہ نوچ بدن کو،دور کہیں اڑ جا
بدن میں ساجن کا ڈیرہ ہے، اس کا گوشت نہ کھا
’’نعت میری زندگی ہے‘‘ جریدہ انہماک کے مدیر تحسین گیلانی کے والد محترم سید لیاقت حسین گیلانی کا مجموعہ کلام ہیں ۔ نعتیہ کلام پر مشتمل یہ مجموعہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اسے لکھنے والا خود نعت خواں بھی ہے ۔
’’موج خیال‘‘ خانوادہ غوثیہ مہریہ کے گل سرسبد سید مہر حماد الدین سعدی جیلانی کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔ اس مجموعے میں حمد،نعت اور غزل کو فکر ونظر اور فنی تظہیر کا ذریعہ بنایا گیا ہے ۔ پیر مہر علی شاہ کے خانوادے کے اس چشم و چراغ کی اس کتاب کے حوالے سے عباس تابش کا کہنا ہے کہ شاعر کی زبان دانی لطف کلام کی شیرینی سے مالا مال ہے۔
سلیم کوثر کی شاعری کا مجموعہ ‘‘جنہیں راستے میں خبر ہوئی‘‘ کی اشاعت اور ان کے علیل ہونے کی خبر ایک ساتھ ملی ۔ دعا ہے کہ وہ اپنی تخلیقی توانائیوں کے ساتھ سلامت رہیں ۔ ’’قمر رضا شہزادجدید تر اُردو شاعری کے منظر نامے میں نمایاں ترین غزل گو شمار ہوتے ہیں ۔ان کے غزلوں کے مجموعے ’’پیاس بھرا مشکیزہ‘‘ کی تازہ اشاعت بھی اسی سال منظر عام پر آئی ہے۔ اس کتاب کی ایک غزل سے دو اشعار:
کشادہ رستوں ، کھلے جہانوں سے آرہا ہوں
میں خاک کی سمت آسمانوں سے آ رہا ہوں
ابھی تو آغاز جنگ ہے اور تمہیں خبر کیا
میں فتح کی سمت کن بہانوں سے آ رہا ہوں 
اشفاق حسین کینیڈا میں مقیم ہیں مگر سال بھر میں ایک چکر پاکستان کا ضرور لگاتے ہیں اس بار آئے تو اپنی شاعری کے دو مجموعے تحفے میں دے گئے ۔ ’’گردش میں ہیں سات آسمان‘‘ ان کی غزلیات کا مجموعہ ہے جب کہ ’’ایک ہتھیلی پہ گلاب‘‘ نظموں کا مجموعہ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی وجہ شہرت فیض شناس کی رہی ہے ۔ فیض پر ان کا کام بہت اہم ہے۔ اس برس شائع ہونے والے ان کے غزلوں کے مجموعے سے ایک منتخب شعر:
سکوں ملتا ہے بے آنگن گھروں میں میرے بچوں کو
کھلے دالان کی خواہش تو میری نسل ہی تک ہے
ستیہ پال آنند بھی اونٹاریو کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ آپ جدیداردو نظم کا بہت نمایاں نام ہیں۔ ان کیایک ایسی کتاب اس برس آئی ہے کہ سب کی توجہ ادھر ہو گئی ہے ۔ جی میرا اشارہ ان کی تازہ کتاب’’خامہ بدست غالب‘‘ کی جانب ہے ۔ ستیہ پال آنند نے اس کتاب میں بہ قول ان کے قاری اساس تنقید کی رو سے غالب کے منتخب اشعار کی منظوم شرح و تفسیر کی ہے ۔ آنند صاحب کی یہ شرح یا تفسیر سے بڑھ کر کہیں کہیں مکالمہ ہو جاتی مثلاً غالب نے کہا تھا:
کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستاری ء وہم
کر دیا کافر اِن اصنامِ خیالی نے مجھے
ستیہ پال آنند غالب اس باب میں کچھ یوں مکالمہ قائم کرتے ہیں کہ کہیں کہیں محبت بھری تکرار جیسا محسوس ہونے لگتا ہے:
’’کوئی گنتی بھی ہے اصنامِ خیالی کی،کہ جو

ذہن میں ڈیرہ جمائے ہوئے یوں بیٹھے ہیں

جوق در جوق برو مند ہوں لڑکے بالے؟

ایک سے کم بھی نہیں اور زیادہ بھی نہیں

اس الف کی کوئی تکرار نہیں ، کسر نہیں

ایک ہی خود میں ہے بے حدو نہایت ، کہ اسے

بیش از بیش زوائد کی ضرورت ہی نہیں

نام لینے کو یونہی حرفِ مکرر کی طرح

بانٹتے پھرتے ہیں اصنام خیالی میں اُسے

وہ کہ جو کثرت و کسریٰ میں نہیں بٹ سکتا

کیا نہیں کلمۃ الحق بات چچا غالب کی

’’کثرت آرائی ء وحدت ہے پرستاری ء وہم !‘‘
دیار غیر ہی میں مقیم طاہر ہ مسعودکے اولین شعری مجموعے ’’باد صبا‘‘ کو معروف نظم نگار اقتدار جاوید نے نسائی ادب میں عمدہ اضافہ قرار دیا ہے۔ اس مجموعے سے ایک شعر:
تلاش قاتلوں کی ہے
نقاب سے نقاب تک
’’محبس میں دراڑ‘‘،’’اک اور منظر‘‘،’’اعتبار خواب کے ساتھ‘‘ اور ’’الاؤ کے گرد بیٹھی رات‘‘ جیسی شاعری کے مجموعے دینے والے معروف شاعر ممتاز اطہر کا نیا شعری مجموعہ’’ دیر تک‘‘ کے نام سے اس برس منظر عام پر آیا ہے۔ اس تازہ مجموعے میں غزلیں ،نظمیں اور وائی صنف کے قابل قدر نمونے حصہ بنے ہیں ۔ ممتاز اطہر کے دو اشعار:
ہم تو خاشاک ہیں ،ٹھوکر نہ لگائیں صاحب!
اڑنے لگ جائیں تو دستار سے لگ جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
میں فلک سے کبھی نہیں گرتا
مجھ کو ٹھوکر لگی تھی عجلت میں
’’بجوکا ‘‘ خوشحال ناظر کی نظموں کا مجموعہ ہے جو اس سال شائع ہوا ۔ اس مجموعے میں ان کی پچھتر کے قریب نظمیں شامل ہیں ۔ نوجوان شاعر کے اس مجموعے کو ادبی حلقوں میں لائق توجہ جانا گیا ہے۔ اس مجموعے کا نام ہو جانے والی نظم کے بارے میں معروف نظم نگار انوار فطرت نے لکھا ہے کہ ’’بجوکا خوشحال ناظر کی ایسی نظم ہے کہ میں نے اسے پڑھا اور یہ مجھ سے مکالمہ کرنے لگی‘‘لیجئے نظم یہاں مقتبس کر رہا ہوں کہ یہ آپ سے بھی مکالمہ کرے:
’’صلیب تن پر

قمیص پہنے

یہ سر پہ الٹی

سجا کے ہانڈی

ہری رتوں میں

جو بیچ سبزے کے

آن ٹھہرا ہے

کس کا پہرہ ہے؟

میرے کھیتوں کے

سارے راکھوں کے

جسم کیا

برف ہو گئے ہیں؟

یہ پھڑپھڑاتا

لباس جس سے

بھرم ہے اس کا

اگر پرندوں نے

نوچ ڈالا

اگر ہواؤں کے زور نے

دھجیاں بنا دیں

تو کیا کرے گا؟‘‘
(نظم ’’بجوکا‘‘)
اس سال کے آغاز میں لبنیٰ صفدر کی شاعری کا چھٹا مجموعہ ’’تم محبت کا استعارہ ہو‘‘ منظر عام پر آیا ۔ لبنیٰ صفدر کی غزلیں نسائی اظہار کا نمونہ ہیں :
آپ کو بھول ہی نہیں پاتی
میرا کوئی علاج ہے صاحب
امجد اسلام امجد نے لبنیٰ صفدر کے بارے میں کہا ہے کہ یہ شاعرہ شہر سخن کاصرف تماشا دیکھنے نہیں آئی بلکہ یہاں رہنے اور رکنے کا ارادہ رکھتی ہے۔جاوید انور افسانہ لکھتے ہیں اور شاعری بھی کرتے ہیں ۔ ان کے افسانوں کے مجموعے’’برگد ‘‘کی آمد کی گونج ابھی باقی ہے اور اسی عرصہ میں ان کا شعری مجموعہ ’’کئی منظر ادھورے ہیں‘‘ منظر عام پر آگیا ہے۔ ان کے اس مجموعے میں ان کی غزلیات اور نظمیں شامل ہیں ۔
صابر ظفر کا مجموعہ غزل خطاطی مجھے نہیں ملا مگر اس کا چرچا مجھ تک پہنچ چکا ہے۔ تحسین فراقی ، ہمارے ہاں ستر کی دہائی میں جن لوگوں نے غزل کے نئے امکانات کو چھواہے ان میں ایک قابل ذکر نام صابر ظفر کا ہے جن کا قلم تب سے اب تک بے تکان لکھ رہا ہے۔ اب تک صابر ظفر کی غزلوں، نظموں اور گیتوں کے انتالیس مجموعے چھپ چکے ہیں ۔ کہنے کو یہ موضوعاتی شاعری کا مجموعہ ہے لیکن اس میں خطاطی کے فن کی تہذیب جس تخلیقی حسن کے ساتھ تصویر دی گئی ہے یہ صابر ظفر ہی کے قلم کا اعجاز ہے۔
میں نے اک عمر کتابت سیکھی
تب کہیں لفظ محبت لکھا
یہاں میں شاعری کے دو اہم مجموعوں کا ذکر کرنا چاہوں گا جو اس برس کا تحفہ خاص ہیں ۔ایک مجموعہ عرفان ستار کا ہے اور دوسرا اختر عثمان کا ۔ کچھ عرصہ پہلے عرفان ستار کی غزل پڑھی تھی:
جو عقل سے بدن کو ملی تھی ، وہ تھی ہوس
جو روح کو جنوں سے ملا ہے، یہ عشق ہے
اور اس برس کی شاعری کے باب میں اچھی خبریہ ہے کہ عرفان کا شعری مجموعہ ’’یہ عشق ہے‘‘ شائع ہو کر بہت توجہ صاصل کررہا ہے۔اختر عثمان کے مجموعے کا نام ’’چراغ زار‘‘ ہے اور اختر کے بارے میں خورشید رضوی نے بجا طور پر کہا ہے کہ وہ ہمارے معاصر شعرا کے اس زمرے میں آتے ہیں جنہوں نے عصری احساسات کا بیان کلاسیکی روایت میں کیا ہے۔ انہی کے لفظوں میں’اختر کی تخلیقی آنچ برتے ہوئے الفاظ و اسالیب کو گلا کر پھر سے ڈھالتی ہے یوں پرانے سونے میں نئی اشکال نئی آب و تاب سے لو دینے لگتی ہیں ۔‘‘
’’خمار خواب میں پھول ایسا جھومتا ہوا تو
حصار شب میں کہیں خاک پھانکتا ہوا میں
اِن دونوں کتابوں کو ابھی پڑھنا باقی ہے کبھی موقع ملا تو مفصل بات کروں گا۔
’’آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘ شبیر نازش کا شعری مجموعہ ہے جو اسی سال کے آغاز میں چھپ گیاتھا۔ نازش کے دوشعر:
آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ کہاں جاتے ہیں
عشق ہو جائے تو پھر روگ کہاں جاتے ہیں
دل ہی نادان ہے جو لے کے ہمیں جاتا ہے
ورنہ اس شہر میں ہم لوگ کہاں جاتے ہیں
نوجوان شاعرسعید شارق کا مجموعہ ’’سایہ‘‘ بھی شائع ہو گیا ہے۔ یہ ان کی پہلی کتاب ہے ۔ سعید شارق کا ایک شعر:
جانے کس پھول کو مسلا تھاکہ ہر سو مجھ میں
جھاڑیاں اُگتی رہیں رد عمل کی صورت
نئی کتابوں میں اس سال شاہدہ لطیف کی دو کتابیں ہیں اور دونوں شعری مجموعے۔ وہ کتاب جو میں نے توجہ سے پڑھی ، ناصرہ زبیری کی شاعری کا تیسرا مجموعہ ہے کہ اس پر مجھے ایک تقریب میں بات کرنا تھی اور کی بھی۔یہ مجموعہ ہے ’’تیسرا قدم‘‘ ۔ ایک خوب صورت کتاب ۔ سال کے شروع میں مل آگیا اور کئی شہروں میں اس کی پذیرائی کی تقاریب ہوئیں ۔ ناصرہ کے اسی مجموعے کی ایک غزل کا ایک شعر:
جسے کہیں بھی اجازت نہیں دکھانے کی
ہم اس طرح کا تماشا خرید بیٹھے ہیں
ایک اور غزل کا مطلع کچھ یوں ہے :
خدا کا خوف بیچا جا رہا ہے
یہ کاروبار اچھا جارہا ہے
ناصرہ کے اس مجموعے میں غزلوں کے علاوہ ان کی نظمیں بھی ہیں ۔
نظموں کا ذکر ہوا تو یاد آیا کہ جدید نظم کے بہت اہم نام نصیر احمد ناصر کی نظموں کا تازہ مجموعہ’’سرمئی نیند کی بازگشت‘‘ شائع ہو گیا ہے ۔ یہ مجموعہ ابھی میری دسترس میں نہیں ہے تاہم ان کی ایک تازہ نظم’’ہے کوئی لینے والا‘‘ دسترس میں ہے۔ وہی پڑھیے اور لطف اٹھائیے ۔
’’میرے پاس بہت سی دھوپ ہے
اور بہت سی چھاؤں
بہت سے درخت/اور پھول
اور تازہ ہوا
ڈھیروں بادل
اور بہت سی بارش
بے شمار موسم
بہت سے دریا
اور سمندر
اور جزیرے
طویل ترین راستے
بے نہایت اسفار
لامحدود رقبے
اور بہت سے شہر
کھڑکیاں اور دروازے
ساباط
اور کشادہ گلیاں
غیر مشروط محبت
اننت خاموشی
اور نامختتم تنہائی
اور بہت سی ان کہی نظمیں!!!‘‘
(ہے کوئی لینے والاہے/نصیر احمد ناصر)
شاعری اب سوشل میڈیا کا بھی ایک اہم عنصر ہوتی جارہی ہے۔ اب کتاب چھپنے یا ادبی جرائد کے آنے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا اور لکھنے والوں کی تازہ ترین تخلیقات اس سے پہلے وائرل ہو جاتی ہیں ۔ نظم کا ذکر چل نکلا ہے تو سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی علی محمد فرشی کی نظم ’’مشینہ‘‘ یاد آ گئی ہے۔ اس طویل نظم کے کچھ حصے ہی ابھی شاعر نے لکھے ہیں ، مگر اس نامکمل نظم کے یہ ٹکڑے اپنے قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں ۔ اسی نظم کا ایک ٹکڑا:
’’مشینہ
میں اپنی زباں سے کہوں نہ کہوں
کل زمانہ کہے گا
مشینہ سی سب عورتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں
جن کو سنہری چمک دھات کی
کھینچ لیتی ہے اپنی طرف۔۔۔
میں فقط ایک شاعر
جو لفظوں کو زندہ تو کر سکتا ہے
ان پہ سونے کا پاناچڑھاتا نہیں۔۔۔
مجھ کو معلوم ہے
شاعری کے سمندر سے
جو سیپیاں لے کے آتا ہوں میں
ان کے موتی
ترے ہنس چگتے نہیں ۔۔۔
کب تلک خود فریبی کے مخمل میں
آسودہ رہتا مشینہ!
حقیقت کے دریا کو
آخر مجھے پار کرنا ہی تھا
دل کے پیالے کو
تیری جدائی سے بھرنا ہی تھا۔‘‘
( مشینہ/علی محمد فرشی)
ملاحظہ ہو نئی نظم کے ایک اور نمایاں ترین نام فرخ یار کی ایک نظم ’’بے چینی ‘‘ ، جو ظفر اقبال کے کالم سے ہوتی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی:
’’سب سیدھا رکھنے کی خواہش میں
کچھ الٹا ہو جائے تو ہم گھبرا کر
جیون گدلا کر لیتے ہیں
خوف میں لپٹے سانسوں سے بھر جاتے ہیں
ذرا ذرا زندہ رہتے ہیں
کافی سارا مر جاتے ہیں‘‘
(بے چینی/فرخ یار)
ابرار احمد کی نظمیں اور غزلیں دونوں بھی اسی وسیلے سے تواتر سے پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ اور خبر یہ ہے کہ ان کی نظموں کا تازہ مجموعہ بھی جلد چھپ کر اپنے قارئین کو پڑھنے کے لیے میسر ہوگا۔ فی الحال ان کی غزل کے دوشعر :
وہ خستگی ہے کہ اب تاب آرزو بھی نہیں
اے میری جان ، تو اب میرے جسم و جاں سے نکل
نکل کہ اور کہیں کوئی منتظر ہے ترا
مرے یقیں سے گزر جا مرے گماں سے نکل
سوشل میڈیا بھی شاعری کے فروغ کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہاں اس کی اہمیت نہیں رہتی کہ کون سا فن پارہ کب تخلیق ہوا، بس یہ بات اہم ہوتی ہے کہ اس میڈیا پر اسے توجہ دینے کا رجحان کب بنا ۔حارث خلیق کی مشیر انور کو مخاطب کرتی نظم ’’عشق کی تقویم میں‘‘ ہو یا انوار فطرت کی نظم ’’اداسی ایک لڑکی ہے‘‘ اور سعید احمد کی طویل نظم یا انٹر نیٹ استھان پہ بیٹھی ثروت زہرا اور دوسرے نظم نگاروں کا مقبول کلام؛ بار بار ہمیں متوجہ کرتا رہا ہے ۔ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ غزل کا شعر بہت تیزی سے مقبول ہوتا ہے۔ اس سال جن شعروں کی گونج مسلسل سنائی دیتی رہی، یا کہہ لیں وائرل ہوئے ،جی چاہتا ہے جیسے جیسے وہ مجھے یاد آتے ہیں آپ کی نذر کردوں ۔ مگر سب سے پہلے احمد مشتاق کا وہ شعر جو جلیل عالی نے امریکہ سے واپسی پر ایک انتخاب میں شیئر کیا تھا:
دل نہ میلا کرو سوکھا نہیں جنگل سارا
ابھی اک جھنڈ سے پانی کی صدا آتی ہے
غزل کے کسی شعر کی مقبولیت بدلتی ہوئی سیاسی سماجی صورت حال کے ساتھ ساتھ بھی بدلتی رہی ہے ۔ اسلام آباد کے دھرنے کے زمانے میں افتخار عارف کے اس شعر کی گونج بار بار سنائی دیتی رہی:
کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
اس برس بہت پڑھے جانے والے اشعار:
میں بادشاہ کو اک داستاں سناؤں گا

زوال اس کا سی داستاں کے اندر ہے

(اظہارالحق)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رونق دریا کی تھی اسی سے

جو لہر ابھی اُٹھی نہیں تھی

(ظفر اقبال)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کس کے آنے کی خبر ہے کہ ہوا

خود منڈیروں پہ رکھنے آئی دیے

( سلیم کوثر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ کام تھے اپنی مرضی کے

کچھ کام فقط مجبوری تھے

(حارث خلیق)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلتا رہنے دو میاں یہ سلسلہ دلداری کا

عاشقی دین نہیں ہے جو مکمل ہو جائے

(عباس تابش)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک نئی منزل کی دھن میں دفعتاًسر کا لیا

اس نے اپنا پاؤں میرے پاؤں پر رکھا ہوا

( احمد حسین مجاہد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی تو بول مرے ساتھ روشنی کی زباں

میں طاق ہجر ہوں مجھ میں کوئی چراغ جلا

(حمیدہ شاہین)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیسے خواب کی خواہش میں گھر سے نکلا ہوں

کہ دن میں چلتے ہوئے نیند آرہی ہے مجھے

(افضل گوہر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں

دل بے خبر مری بات سن ، اسے بھول جا اسے بھول جا

(امجد اسلام امجد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی بھی مری طرح تھی اک اپنی کہانی

اُس کو بھی نبھاناپڑاکردار، مجھے بھی

(شکیل جاذب)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عجیب مستی کے عالم میں رقص کرتا رہا

دم دمامہ ء ناقوس!بندہ درویش

(پرویز ساحر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمان وقت سے نکلا تھا ایک تیر کبھی

جدھر میں سینہ سپر تھا، ادھر نہیں آیا

(احمد شہر یار)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس میں آنکھیں بھی کام سے جائیں

اس کو سارے اندھیرا بولتے ہیں

( اذلان شاہ)

اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں

اور دولت دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں

( آفتاب اقبال شمیم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت قریب سے ہو کر گزر گئی دنیا

بہت قریب سے دیکھا ہے یہ تماشا بھی

(اجمل سراج)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی پلکوں سے، جنہیں نوچ کے پھینکا ہے ابھی

کیا کرو گے ، جو یہی خواب مقدر ہو جائیں !!

(توصیف تبسم)

۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے ،مجھے کھا گئے

یہ خیال پختہ جو خام تھے ، مجھے کھا گئے

( خورشید رضوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم تو فلک کے لوگ تھے، ساکنان قریہ مہتاب تھے

تمہارے ہاتھ کیسے آگئے،ہم تو بڑے نایاب تھے

( ریاض مجید)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوراق آرزو پہ بہ عنوان جاں کنی

میں بے نشاں سی چند لکیروں کے ساتھ ہوں

(نصیر ترابی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رفاقت ہی نہیں اب کے تقاضا کچھ سوا بھی ہے

مجھے روتے ہوئے بھائی کے سُر میں سُر ملانا ہے

(سجاد بابر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک کچے مکان کی صورت

میں بھی ہوں بارشوں کے آنے تک

(نجیب احمد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہاں جہاں وہیں پر سبھی رہیں ورنہ

کوئی بھی اپنی جگہ سے ذرا ہلا تو گیا

(خالد اقبال یاسر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عشق کی دسترس میں کچھ بھی نہیں

جان من ! میرے بس میں کچھ بھی نہیں

(غلام حسین ساجد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹکڑے بھر کر اس میں اپنے خوابوں کے

خالی جیب کو بھاری کرتا رہتا ہوں

( فیصل عجمی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے علم ہے مرے خال و خد میں کمی ہے کیا

مجھے آئنے کا طلسم کوئی دکھاؤ مت

(یاسمین حمید)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تجھے کیسے بتائیں کہ تری یادوں میں

کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی

(حلیم قریشی )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسماں ہے نہ زمیں ہے نہ خلا کچھ بھی نہیں

عالم ہست نہ ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں

(عارف امام)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک حرف زیر لب تھامگر دے گیا ہے دکھ

دل کو ذرا سی بات کا اب تک ملال ہے

( شاہدہ حسن)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دمکتی ہے باہر سے دنیا بہت

مگر اس نگینے کے اندر ہوں میں

( اکبر معصوم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تھا، مگر ایسا اکیلامیں کہاں تھا پہلے

میری تنہائی مکمل ترے آنے سے ہوئی

(شاہین عباس)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے سمندر تیرا احسان ہے تو نے ہم کو

جو جگہ خاک پہ دی ہے وہاں بس لیتے ہیں

(افضال نوید)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر ایک شخص ہی دیوار کی طرح ہے یہاں

سو جس سے چاہو میاں مفت مشورہ لے لو

(انجم سلیمی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک لمحہ ء غفلت نے مجھے زیر کیا ہے

دشمن تو مری گھات میں پہلے بھی کہیں تھا

(طارق نعیم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرے کاندھوں پہ دھرا ہے کوئی ہارا ہوا عشق

یہی گٹھڑی ہے جو مدت سے اُٹھائی ہوئی ہے

( قمر رضا شہزاد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بار دگر کی پھر کوئی حاجت نہیں رہی

بس اک بار جلوہ کیا ،آنکھ بھر کیا

( فہیم شناس کاظمی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ممکن ہے کہ مصرعے میں یہی بات اٹھادوں

اک ساتھ گرا ہے تیرا ملبا بھی مکاں بھی

(توقیر عباس)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی روش جدا ہے ادا اور ہے میاں

ہم اور ہیں ہمارا خدا اور ہے میاں

( علی زریون)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے

اک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں

(ذوالفقار عادل)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں دیکھتا ہوں انہیں روز ایک ٹیلے سے

یہ لوگ خوش نظر آتے نہیں قبیلے سے

(عمران عامی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک معرکے کی بو ہے فضا میں بسی ہوئی

ہے کون کس کے ساتھ کسی کو پتہ نہیں

( جلیل عالی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوشی ہوئی ہے آج تم کو دیکھ کر

بہت نکھر سنور گئے ہو خوش رہو

( فاضل جمیلی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منصف وقت مری ہار میں تو بھی ہے شریک

فیصلہ بھی تو سنایا بڑی تاخیر کے ساتھ

(محمد حنیف )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسماں چشم برابر بھی نہ تارا کوئی

اب بتا روزن خوش تاب کا کیا کرنا ہے

(قیوم طاہر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بھیڑ ہے کہ شہر میں چلنا محال ہے

انگلی پکڑنا باپ کی بچہ نہ بھول جائے

( کشور ناہید)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چشم کم ضبط کب سمجھتی ہے

خشک آنسو کا ذائقہ کیا ہے

(عابد سیال)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منعکس کرتا ہے جانے کون میری حیرتیں

آئنے کو توڑ کربھی آئنہ ملنا نہیں

(علی ارمان)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا ضمیر

گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

( سعید دوشی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جتنی زیادہ آگہی بڑھتی گئی مری

اتنا درون ذات سمٹتا چلا گیا

(شوکت فہمی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منظرحجاب اور ہی کچھ منظروں کے ہیں

معلوم ہم کو یہ ہے کہ معلوم کچھ نہیں

(ضیاء الحسن)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور آخر میں افسانہ نگار ، شاعر اور معروف براڈکاسٹر ظفر نیازی کاایک شعر جو ان کی رحلت کی خبر کے ساتھ ہی یادوں میں تازہ ہو گیا:

بس اک تم ہی نہیں منظرمیں،ورنہ کیا نہیں ہے

صراحی،چاند،تارے،تتلیاں،جگنو،پرندے

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

آج

نومبر 2017 18 نومبر  2017 اکتوبر 2017 7 اکتوبر  2017  ینگ ویمن رائیٹرز فورم کی …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *