M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں
افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے ہوئی کہ پہلے سب بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹر قاضی عابد کے دفتر چائے پئیں گے اور پھر وہاں طلبا و طالبات سے اردو فکشن پر مکالمہ ہو گا۔ یہ سب ہوا اور خوب ہوا ۔ قاضی عابد، روبینہ ترین، ڈاکٹرمحمد آصف ، حماد رسول ، ڈاکٹر ساجد نعیم ، ڈاکٹر خاور نوازش اس موقع پر موجود تھے ۔ بعد میں طلبہ اور طالبات سے مکالمہ رہا ۔ ڈاکٹر محمد امین سے یونیورسٹی میں ہی ملاقات رہی ۔
صبح صبح ڈاکٹر انوار احمد نے ایک چلبلی پوسٹ فیس بک پر لگائی تھی جو یہاں مقتبس کی جارہی ہے۔ یاد رہے ایک روز پہلے جنرل (ر) اسلم بیگ یونیورسٹی آئے تھے اور انہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جن پر ہر جانب سے تحفظات کا اظہار ہو رہا تھا ۔ ڈاکٹر انوار احمد کی فیس بک پر پوسٹ:

 ایک چلا ہوا کارتوس اسلم بیگ ان کے پاس آیا فکشن کی بھری بندوق حمید شاہد آج گیارہ بجے شعبہ اردو میں (پھول برسائےگی)

محمد حمید شاہد کے ساتھ ایک مکالمہ ملتان ٹی ہائوس میں بھی احباب سے رہا۔ یہاں رضی الدین رضی ،شاکر حسین شاکر ، اظہر سلیم مجوکہ، مسیح الدین جامپوری، عامر شہزاد صدیقی، اسرار چوہدری ، رانا تصویر اور دوسرے احباب سے ملاقاتیں رہیں اور ادب کی عصری صورت حال کو زیر بحث لایا گیا۔
تیسرے مکالمے کا اہتمام قمر رضا شہزاد نے کیا جو شنگریلا چائینیز میں کھانے کی میز پر ہوا ۔

کالم
اظہر سلیم مجوکا کا نوائے وقت ملتان میں شائع ہونے والا کالم
ملتان کا افسانوی ادب

اسلام آباد کے پر فضا ادبی ماحول میں صنف افسانہ میں مقبولیت حاصل کرنے والے ادیب دوست محمد حمید شاہد ملتان آئے تو ان کے دل میں بھی ملتانی اہل قلم سے ملنے کا جذبہ اسی طرح دیدنی تھا جب وہ کچھ برس قبل ملتان آئے تو ان کے افسانوں کے دوسرے مجموعے جنم جہنم کی تقریب پذیرائی کا اہتمام راقم نے ملتان کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا ہوا تھا۔ یہ ملتان کا وہ ادبی دور تھا جب ڈاکٹر عرش صدیقی باہر کفن سے پاوں جیسے افسانوی مجموعے پر آدم جی ادبی ایوارڈ وصول کر چکے تھے۔ ڈاکٹر انوار احمد اور جاوید اختر بھٹی کے ساتھ ساتھ ایم ایم ادیب اورعلی تنہا ‘ علمدار حسین بخاری بھی افسانے کے میدان میں نمایاں حیثیت کے حامل تھے۔ یوں تو اس مرتبہ حمید شاہد ملتان میں اپنی ہمشیرہ اور بہنوئی میجر جنرل عارف ملک جو اس وقت ملتان میں جنرل کمانڈنگ آفیسر کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں سے ملنے ہی آئے تھے لیکن ان کے اندر کے ادیب اور افسانہ نگار نے اہل قلم سے بہر ملاقات کا موقع بھی پیدا کر دیا۔ ملتان ٹی ہاوس میں دوستوں کے ساتھ ملاقات میں ایک مکالمے کی صورت پیدا ہو گئی۔ چائے خانے علمی و ادبی مباحث کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اگرچہ ملتان ٹی ہاوس میں ابھی تک اس طرح کی محافل اور رونقیں برپا نہیں ہو سکیں جن کی توقع بہت سے لوگ رکھتے ہیں تاہم اب ملتان میں اکادمی ادبیات کا دفتر اور ٹی ہاوس کی محافل غنیمت ضرور ہیں کہ کچھ نہ کچھ بہار کے امکانات پیدا ہونے کی صورت نظر آنے لگی ہے۔

حمید شاہد نے ٹی ہاوس میں دوستوں سے ہونے والے مکالمے میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ادیب کو اپنے قلم کو سچائی کیلئے استعمال کرنا چاہئے اور اسے کسی بھی صورت کسی سیاسی نظریے کے ساتھ جانبدار نہیں ہونا چاہئے۔ محمد حمید شاہد نے اس موقع پر خوبصورت بات کی کہ اب ادب میں غیر جنوین ادیبوں کی بالادستی ہے جس کی وجہ سے معیاری ادب تخلیق نہیں ہو رہا جبکہ جینوئن ادیب گوشہ نشینی کی وجہ سے گمنامی اختیار کرتے جا رہے ہیں جو ادب کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس موقع پر رضی الدین رضی‘ شاکر حسین شاکر اور عامر شہزاد نے بھی حمید شاہد کی گفتگو پر چند سوالات اٹھائے جن کے حوالے سے موضوع کو مزید وسعت ملی۔ محمد حمید شاہد افسانے کا آدمی ہے۔ اسلام آباد میں منشا یاد‘ مظہر الاسلام‘ احمد داود اور انور زاہدی جیسے افسانہ نگاروں کی ہمراہی میں اس نے اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ حمید شاہد نے ملتان میں بھی افسانہ اور افسانہ نگاروں کی تلاش کی بات کی ہے اور اس بات میں حقیقت بھی ہے کہ ملتان میں افسانہ نگار اور افسانہ اب خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ صلاح الدین حیدر ناول نگار کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ پرانے افسانہ نگار بھی نئے افسانے لکھنے پر کم کم توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔ محمد حمید شاہد کی اس خواہش کو میری بھی تائید حاصل ہے کہ ڈاکٹر عرش صدیقی کے ملتان میں افسانے کی صنف کی نہ صرف پذیرائی ہونا چاہئے بلکہ یہاں سے کوئی بڑا افسانہ نگار ادب کے میدان میں اسلام آباد اور دوسرے شہروں سے زیادہ قدآور نظر آئے اور یہ اسی صورت ہو سکتا ہے جب ملتان میں ادبی تحریکوں کے احیا کے ساتھ ساتھ سنجیدہ ادبی محافل کو فروغ ملے۔ زیادہ تر دانشور ‘ شاعر اور ادیب گروپ بندی کا شکار ہو کر ادب سے کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو نہ صرف ان ادیبوں بلکہ ادب کیلئے بھی کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے۔ ملتان میں حمید شاہد نے ادبی دوستوں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر انوار احمد کی دعوت پر بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے ساتھ بھی ایک مکالمہ کیا ہے۔ ملتان کی علمی و ادبی روایات کو پروان چڑھانے اور ادبی مرکز بنانے کے لئے مادر علمی کی سنجیدہ کاوشوں کی بھی ضرورت ہے۔

اسلام آباد گریڈوں کا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ادب کا گہوارہ بھی ہے۔ ادبی محافل کے فروغ نے اسے اور بھی نکھار بخشا ہے۔ اصغر عابد‘ انجم خلیق‘ محبوب ظفر اور طارق نعیم کی کاوشیں اسلام آباد کی ادبی رونقوں کو بحال رکھے ہوئے ہیں۔ افتخار عارف ‘ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور عطاءالحق قاسمی اہم ادبی مراکز میں فعال رہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جنوبی پنجاب کے ادباء‘ شعرا اور دانشوروں کو بھی اس قومی دھارے میں شرکت کے وافر مواقع دئے جائیں۔ اسلام آباد میں اکادمی ادبیات کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو کئی محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ نئی کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ آئے روز ادبی محافل بھی برپا کرتے رہتے ہیں۔ اکادمی ادبیات کے پلیٹ فارم سے ہی حمید شاہد نے افسانہ کیسے لکھا جائے جیسی کتاب شائع کر کے افسانے کے فروغ میں اپنا مزید حصہ ڈالا ہے۔ آدمی کے نام سے ان کا اپنا ایک اور افسانوی مجموعہ بھی منظر عام پر آیا ہے جبکہ مزاحمتی ادب کے حوالے سے بھی ان کی ادبی کاوش ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ جب حمید شاہد کو ملتان آنے کا موقع ملے گا تو ان کو ملتان کا ادبی منظر نامہ بدلا ہوا نظر آئے گا اور انہیں افسانے کے میدان میں بھی ضرور کوئی نہ کوئی پیش رفت نظر آئے گی کہ ملتان کی ادبی زمین خاصی زرخیز ہے اور یہاں کے عالمی دماغ اور زرخیز ذہن رکھنے والے ادیبوں کو اس وسیب میں کئی موضوعات ایسے مل بھی جائیں گے جنہیں سعادت حسن منٹو جیسا افسانہ نگار اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہوئے دیر نہیں لگاتا تھا۔ ملتان کے شعرو ادب میں بہت سے ذائقے موجود ہیں بس افسانے کا تڑکا مزید لگ جائے تو ادبی منظر نامے میں اور نکھار پیدا ہو جائے گا۔

٭٭٭٭٭٭

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

فاروق سرور|شاندار ماڈرن ادیب محمد حمید شاہد چاہتے کیا ہیں؟

ادب سیر فاروق سرور قصہ ایک افسانہ نگار اور ان کی افسانوی دنیا کا میکسم …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *