M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / عرفان جاوید|اندر کا آدمی

عرفان جاوید|اندر کا آدمی

پاکستان کے محمد حمید شاہد کا قدیم یونان کے انگور کے باغات اور اورحان پامُک کے استنبول سے کوئی تعلق نہیں یاشاید ہے ۔ تعلق کی جڑیں ممکن ہے، کہیں اور زمیں دوز پانیوں میں ہوں۔ ایک حُزن ہے، اُداسی ہے، المیہ کیفیت و احساس ہے جو اس کی تحریر کے تاروپود میں رچے بسے ہیں.۔

…………………………………..  عرفان جاوید

 

بہ شکریہ:اجرا ، کتاب 25

’’آج کا ادیب اندر کا آدمی اورمالپومین کی نسل سے ہے۔‘‘
میں نے استعجاب سے اُسے دیکھا۔ اُس نے مہاسنجیدگی سے اثبات میں سرہلا دیا۔
’’اندر کا آدمی،یعنی آہن پوشوں کا آدمی؟‘‘ میں نے استفہامیہ لہجے میں حیرت گھولتے ہوئے اُسے دیکھا۔
’’ وہ خارج کا نہیں، داخل کا بندہ ہے۔ آدم نے باہر کا خوب کھوج لگالیا ، ہنوز مشتاق ہے۔ البتہ قصّہ گوؤں کے تازہ دستے زیادہ تر دروں بیں ہیں۔‘‘
’’اس معاملے میں صوفی کہاں ٹھیرتے ہیں؟‘‘
’’وہ آدم تو تھے ہی ،روشن مخلوق بھی تھے۔ باہر آدم اندر دَم دَم۔‘‘آتش پوش وجد میں آرہا تھا۔ وہ سرگوشی میں بول رہا تھا۔
’’آج کاادیب اندر کوٹٹولتا ہے، جذبے کا آدمی ہے۔ باہر کی دنیا کو اندر سے دیکھتا ہے۔‘‘
میں نے تذبذب میں پوچھا’’مالپومین کی نسل کیا ہوئی؟‘‘
’’مالپومین یونانی دیوی تھی، زیوس کی بیٹی۔اساطیری روایت میں ادب و فن کی نودیویاں تھیں۔ وہ تخلیق کی تحریک کا باعث بنتی تھیں۔ سُر،گائیکی، چُپ سوانگ، تحریر، موسیقی، رقص، تمثیل،شاعری اور تاریخ وغیرہ کامجسم اظہار اور سرپرست تھیں۔ اِن میں مالپومین المیہ تخلیقی وتمثیلی روایت کی دیوی تھی۔‘‘
آتش پوش نے توقف کیا اور استہزائیہ لب سے گویا ہوا۔
’’تم اتنا بھی نہیں جانتے اے مردِ ناداں ولا علم؟‘‘
میں نے عجز سے سرجھکا لیا۔
’’مالپومین حزن آمیز تقدس لیے تھی۔ ایک متانت خوب تھی، سنجیدگی تھی، حزن تھا، اور اس کا اظہار تھا۔ فن میں اظہار تھا۔ چرندپرند فن کار ہیں۔مور کا ناچ،کوئل کی کُوک، چیونٹیوں کے گھروندے،یہ قدرت کے منجھے فن کار ہیں، اپنے طریق کے پابند۔آدم ناچ، گایکی، تعمیر،تحریر،موسیقی،سرتال و دھمال سب میں فن کا اظہار کرتا ہے۔ اس میں چٹکی بھر حزن ملا دو تو قرینِ دل ٹھیرتا ہے۔ اس رنگ وآہنگ کے رنگین وخوش نظر ریشمی دیوان خانے کے بیچ سرنیہوڑائے،پیربڑھائے عازمِ رقص نازنین، مالپومین۔خِردکش و سُبک رو، نالہ کش وفلک سوز، ابھی دیوی ابھی داسی، ابھی حزیں تبسم جھلکاتی، ابھی سراسراُداسی۔سودیوان خانۂ حیات میں عنبراشہب کی سیاہی سے جو مہک پھوٹتی ہے ،مشامِ جاں کو تسکین بخشتی ہے، دِل گیرورنجور لے لرزش قلب سے تال میل کھاتی حرزِ جاں ٹھیرتی ہے۔ دل ہے یا دیوارِ گریہ کہ لہو شب و روز سر پٹکتا ہے۔‘‘
آتش پوش،سیاہ پوش ہوا۔میں نے جانا کہ بیان تمام ہوا۔ وہ دھیرج سے بولا۔
’’ اس کی مماثل روما کی جھرنوں کی دیومالائی دوشیزائیں اور ہند کی اپسرائیں ہیں۔ مالپومین المیہ داستان سے مخصوص ہے سو ایسے قصّہ کاروں و داستاں طرازوں کی پرنانی ٹھیری۔‘‘

عرفان جاوید

’’آہم‘‘ میں نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’جب خوف و دہشت کی فضا، بے یقینی کا ماحول اور خارج کی بے پناہ دنیا کا رعب ہوتا ہے تو بندہ اپنے اندر چھپ جاتا ہے، کچھوے کی طرح خول میں دُبک لیتا ہے۔تمھارا قصہ گو خارج کی روایت سے وابستہ تو ہے ہی، باطن کے اندھے اندھیروں میں بھی اُترکر ٹٹولتا ہے ۔جو کچھ ہاتھ لگ جائے تو اپنی بساط کے مطابق باز ارِ زندگی میں چادر بچھا کر رنگ بہ رنگا سامان سجا کر تماشائے اہلِ کرم دیکھتا ہے۔‘‘
میں نے نظریں اُٹھا کر جھجکتے ہوئے آتش لباس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا۔
’’اتنا عِلم تو یہ آگ کا پہناوا کیسا؟‘‘
اُس نے غضب ناک ہوکر کہا۔
’’تم لوگ نا بینا ہو کیا؟ یہ آتشی پیراہن نہیں، تمھارے اندر کی آگ ہے جو دوسرے پر نظر آتی ہے۔ ہوس کی آگ،نام وری کے سینے کو جلاتے دہکتے انگارے، شہوت جو تمھاری باندی نہیں۔ تم اُس کی لپیٹ میں جھلستے ہو،کی اگنی، تکبر و رعونت کی لپک،بے طرح کی بے چینی کی شررریزی اورحسد کا الاؤ تمھیں اندر سے جلاتا ہے۔ اس کے بلند ہوتے شعلے تمھاری آنکھوں سے جھلکتے ہیں۔ سو تمھیں مخاطب آتشیں نظر آتا ہے۔ اپنی لَودھیمی کردو۔ شانت ہو جاؤ اور دنیاکواس کی اپنی روشنی میں دیکھو۔‘‘
آتش پوش نے طولِ کلام کو لگا م دی، پہلی مرتبہ مسکرایا اور یہ کہتا ہو اجل بھڑک کر وجودِ رفتہ ہوا۔
’’اے نادان!گوحیات، کارخانۂ حوادث ہے، پرکچھ نظر اُدھربھی۔تمھارا بچہ روتے روتے کھلکھلابھی تو اٹھتاہے، حبس کے بعد تازہ ہوا بھی تو بہتی ہے اوررت جگے کے بعد میٹھی نیند اپنی گود میں بھربھی تولیتی ہے۔ سودُکھ سُکھ کا ساتھ سمجھ لو۔ ایک نرم حدت، لوبان کی سلگتی خوشبو اورمترنم پاٹ کی اور سے دیکھو۔ دھواں دھواں روشنی کوبھی دیکھو۔‘‘
*
لفظ،فرد، افراد، معاشرہ، کرے پہ آباد معاشروں کا کنبہ، سیارۂ زمین ،کہکشاں، کائنات، محدود لامحدود، وقت کی پہیلی ،پہیلیوں کی برات اور نعرۂ ہُو۔۔۔عالمِ بسیط میں سفر کرتا نعرۂ ہُوہا۔جانئے تو باتیں بہت اور سمجھیے تو کچھ بھی نہیں۔ اس عالمِ حیرت میں معلق حضرتِ انساں اور اس کے سوالوں میں سے اُبلتے نکلتے سوال۔ ان میں ایک سوال ، زبان کا، اظہار کا۔ وہ خوبئ اظہار جو جان وَر فہم و قادرِ گفتارکو دیگر جان وروں سے سوا کرتی چند باتوں میں سے ایک ہے۔
سو بات نکلی ہے تو دُور تلک جائے گی، بات سے بات نکلے گی، اُردو کی، ادب کی ، روح کی سیرابی کی اور ہمہ وقت لختِ آدم پہ چھائی بے کلی کی۔
اُردو زبان میں بیرونی لسانیات کی پیوند کاری، اسلوب کی تفتیش، جدید بیان کے تجزیے،ابلاغ کی اہمیت، ادیب کی عام قاری پر فوقیت، ماضی کے ورثے سے تعلق، نقاد کی اہمیت، فنِ تحریر پر ادیب کی گرفت،اظہارِ خیال پر اظہارواقعہ کی فضیلت، پاپولرفکشن کادرست مقام،تراجم کی اہمیت، پاکستانی ادب کی جانب عالمی توجہ اورچٹختے پتھر میں سے کونپل کے سَراُٹھانے تک کے معاملات تلک خیال کی پرواز جائے گی۔ چند ٹکے ہی سہی، دامنِ تار تار میں، اِک قصۂ دل، زبانِ یار میں ۔
زبان کی ساخت اور لفظیات کی صورت گری میں یقیناروایت کے علاوہ بہت حد تک مسلسل تغیرسے گزرتی مقامی ثقافت اور کچھ حد تک عالمی صورتِ حال اثر پذیر ہوتی ہیں۔ اِدھرہندمیں روایت کے تانے بانے کولونیل دور تک وسطی ایشیائی وعربی ثقافت کے مقامی روایت سے جغرافیائی وجوہری قربت کے باعث ہم آہنگ تھے۔ اس میں یورپ سے یلغار کرنے والے غیر مانوس استعمار نے ایک نسبتاً طویل عرصے کے لیے تعطل ڈال دیا۔ استعمار کی رخصت کے بعد وہ تانے بانے واپس اُس قدرتی انداز میں جڑ کر تسلسل قائم نہ رکھ سکے۔ نتیجتاً ایک منتشر معاملہ سامنے آیا۔
مغرب سے ہم نے مختلف علمی و ادبی فلسفے اور تحریکیں تو درآمد کرلیں لیکن وہ حالات نہ درآمد کرسکے جو مغرب میں ان نظریات کے موجب بنے تھے۔گویا یہ نظریات اورتحریکیں یہاں خلا میں معلق ہوگئیں۔ چوں کہ ان کی جڑیں عامۃ الناس میں نہ تھیں ،سو وہ قبولِ عام نہ پاسکیں اور چند دانش وروں کے بیچ مباحث ہی کا سامان مہیا کرپائیں۔اس معاملے سے قطع نظر،تخلیق کی وہ بھاپ جوسینوں میں جمع ہورہی تھی، اُسے اخراج کی راہ درکار تھی۔ چناں چہ تزکیۂ نفس کے لیے جسے جو راہ نظر آئی، وہ اس پر چل دیا۔حصولِ آزادی کے چند دہائیوں بعد ادب میں بے معانی ابہام نے چلن پایا۔ چوں کہ ابھی ریاست کا وجود تازہ تھا، چناں چہ وہ اعتماد جو علمی و تخلیقی روایت کا تسلسل فراہم کرتا ہے، مفقود تھا۔ جو علم و دانش میں بڑھا ہوا نظر آیا یا مباحث میں سرکردہ اورنمایاں ہوا،باقی سادہ دل بندے اس کی اتباع و پے روی میں یک گونہ اعتماد حاصل کرنے لگے۔ جو چند ایک کا چلن تھا، بیش تر کا چلن قرار پایا۔ اس دل گیر صورتِ حال کا مختلف کم زور دلائل سے جواز تراشا گیا۔ اسی کش مکش نے چند گم کردہ اندھی دہائیوں کو جنم دیا۔
ادب کا قابلِ فہم و قابلِ مطالعہ ہونا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ’’قابلِ فہم‘‘ کی تعریف اختلافِ رائے کو جنم دے سکتی ہے۔ پس کسوٹی یہ ہو کہ ہماراادیب طالسطائی، جوائس، کافکا اور کاروور ایسے متفرق مزاج و ساخت کے ادیبوں کے مانند، عوام وخواص کے فہم کو الجھانے کے بجائے، ان میں شعور کے نئے گوشے روشن کرے اور اپنے آپ کو عمومی طور پر قابلِ مطالعہ بنائے۔
کوئی شخص پاکستان سے سوائے اس کے کہ اس کی پیدائش اِس ملک میں ہوئی اور اس کے اعزا اور اقارب یہاں مقیم ہیں، کیوں کرمحبت کرے گا؟ مادی طور پر دنیا میں بے شمار ممالک وطنِ عزیز سے زیادہ سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں انسان کو محظوظ کرنے کے ذرائع بھی بڑھ کرہیں۔جذباتی اورروحانی سطح پر انسان کا اپنے وطن سے ایک مضبوط تعلق استوار ہونا ضروری ہے۔ یہ تعلق اس ملک کی تاریخ،معاشرت، ثقافت اور متنوع معاملات کے مرکزی دھارے سے انسان کو جوڑتا ہے۔ یہ ’’جوڑ‘‘ زبان کے ذریعے ہوتا ہے۔ زبان ابلاغ ہی کا ذریعہ نہیں، پوری تہذیب وروایت کی تمام کڑیوں کو نسل در نسل باہم منسلک رکھنے کا وسیلہ ہوتی ہے۔ جذبے کی وہ بے ساختگی اور بیان کی وہ فطری شکل جو اپنی زبان میں ممکن ہے، کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں۔
جدیداُردو میں انگریزی کی بے جا آمیزش غیر فطری ہے اوربعض اوقات دکھاوے کے لیے ہے۔ فقط وہ الفاظ جن کا متبادل اُردو میں میسر نہیں یا رائج العام ہوکرزبان زدِعام ہوچکے ہیں، قابلِ قبول ہوسکتے ہیں۔ایامِ گزشتہ کے بے شماردانش ور دو زبانوں پر قدرت رکھتے تھے پر اُن کے شُستہ رواں اُردو کے شہ پارے اُٹھا لیجیے، انگریزی کی بے جامداخلت نہ ملے گی۔
درحقیقت انگریزی سُرعت سے طبقۂ اشرافیہ کی علامت بن گئی ہے۔ آج کے انگریزی اور اُردو لکھنے والوں میں ایک واضح خلیج حائل ہوگئی ہے۔ بین الاقوامی صنعتی ادارے (اور بہت حد تک مقامی صنعتی ادارے) اپنی اشیا کی ساکھ اور نام کی خاطرانھیں انگریزی میں بیچنے پرمجبور ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں کہ اقبال ، راشد، فیض، مصطفی زیدی، ابنِ انشا، قدرت اللہ شہاب اور ایک پوری کہکشاں تھی جو دونوں زبانوں میں رواں تھی اور کسی احساسِ کم تری میں مبتلا نہ تھی۔وہ دونوں زبانوں میں حدِفاضل رکھتے تھے۔وہ اردو لکھتے تھے تو کھری خالص اور انگریزی بھی عمدہ۔
ہمارے یہاں سادہ لوح لکھاریوں میں سے بیش تر نے انگریزی زبان سے اُردو میں پیوندکاری کا عجب جشن دکھایاہے۔ روزِ روشن میں آتش بازی یوں بھلی نہیں دِکھتی جیسے رات کے پشمینے میں ۔ یوں اِن سادہ دل پرحد درجے باصلاحیت دوستوں نے بھیڑچال چلتے ہوئے اپنی زبان کی عجب صورت بناڈالی ہے۔
ایسے میں ایک اور معاملہ دَر آیا۔ صحافتی زبان کا ادبی لسانیات میں عمل دخل۔ صحافی خبر دیتا اور اُس پر تبصرہ کرتا ہے۔ ادیب قاری کی تربیت بھی کرتا ہے۔ مہذب دنیا میں اگر ادیب صحافتی زبان برتے گا تو ضرورت کے تحت اور اگر صحافی ادبی رنگ آمیزی کرے گا تو قابلِ ستائش گردانا جائے گا۔ ادیب قاری کی لسانی، ذہنی اور قلبی تربیت کرتا ہے۔ ہندوستان کے ارن دھتی رائے سے لے کر امیتاوگھوش تک ، امریکی ولادیمیر نباکوف سے لے کر برطانوی جولیان بارنزتک، پاکستانی سارا سلہری سے لے کر حسین نقوی تک جب انگریزی میں لکھنے پر آئے تو زبان کو دلہن کی طرح سجایا اورجاپانی باغیچے کی طرح تراشا سجایا،گویا زبان کو آراستہ کیا۔اُردو میں ایسا کیوں کرنہیں ہوسکتا۔
انسان کی معلوم تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی ایک مخصوص وقت میں مکمل جامد معاشرے کا سراغ نہیں ملتا۔ یہاں تک کہ عربی معاشرے میں، جس نے اپنی ثقافت کو مذہبی روایت کے سانچے میں ڈھالنے کی مسلسل کوشش کی ہے، ثقافت اپنے قدرتی بہاؤ پر بہتی رہی ہے اور ادب و زبان اپنی فطرت پر بڑھتے رہے ہیں۔ نتیجتاً آج کی عربی ثقافت اور ادب ایک جدید شکل اختیار کرچکے ہیں۔ بیرونی عوامل کے سامنے مزاحم ہونا صحت مند روایت نہیں۔ البتہ یہ امر ملحوظِ خاطر رکھنا پڑے گا کہ بیرونی اثرات ولسانیات مقامی ادب سے لگا کھاتے ہوں اور ان سے فطری ہم آہنگی رکھتے ہوں۔ اُردو زبان پر عربی اورفارسی کے اثرات عین قرینِ فطرت تھے مگر انگریزی الفاظ و روایات جوہری طور پر مختلف اور ان کی آمیزش غیرفطری ہے۔ انھیں موجودہ لسانیات میں کس طور کھپایا جائے اورپیوند کاری کی جائے یاقطعی طورپر نہ کی جائے،توجہ کے طالب ہیں۔
تخلیق وتالیف خودشناسی میں معاون ہے اور جہاں شناسی کازینہ بھی۔بینجمن فرینکلن نے کیا خوب بیروں بینی وخودبینی کے بارے کہا تھا’’تمام لوگوں کا مشاہدہ کرو،پر اپنا مشاہدہ زیادہ کرو‘‘ بے شک انسان وہی ہے جو وہ گمان کرتا ہے۔ گمان اورخیال کے بعد سوچ میں نظم آتا ہے، الفاظ آتے ہیں اور اسلوب آتا ہے۔ یہ جان لینا اہم ہے کہ تحریروتخلیق مراقبے کی ایک شکل ہے۔ اس میں ارتکاز ہے اور ٹھیراؤہے۔ سکّہ بند ناقد محمد حسن عسکری اپنے 1951کے مطبوعہ مضمون’تخلیق اوراسلوب‘ میں رقم طراز ہیں:
بعض اوقات داخلی تجربے اپنے لیے اسلوب بیان پیدا کرتے ہیں، وہاں بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اسلوب بیان پیدا ہوگیا تو وہ نئے تجربوں کو وجود میں لاتا ہے، کیوں کہ آخر اسلوب داخلی زندگی کی تفتیش کا ذریعہ ہے۔ بظاہر یہ مہمل سی بات معلوم ہوتی ہے کہ چاہے کچھ کہنے کو ہو یا نہ ہو، آدمی بولنا شروع کردے۔الفاظ میں معنی اپنے آپ سے اپنے آپ آتے چلے جائیں گے لیکن اگر ادیب کو اپنے وسائل اظہار سے واقعی گہری دل چسپی ہو تو یہ کچھ ایسی اَن ہونی بات نہیں ہے کہ اُنھیں استعمال کرنے کی خواہش ہی سے وہ تجربات ذہن میں روشن ہوتے چلے جائیں جو اس اسلوب کی مدد سے بیان ہوں گے۔
عسکری صاحب کی بات کی روشنی میں ایک قدآگے بڑھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ادیب کی اپنے وسائلِ اظہار سے دل چسپی سے نہ صرف اُس کے تجربات ذہنِ رسا میں روشن ہوتے چلے جاتے ہیں بلکہ یہ اُس کے مشاہدات کو بھی دُونہ تخلیقی زندگی عطا کرتے ہیں۔ تخلیق کا ر کا مطمأ نظر اپنے تجربات و مشاہدات سے روشنی پاکر تخیّل کوجِلا بخشنا بھی ہونا چاہیے۔ گویا ان سے وہ تخلیق میں حقیقی زندگی عکس کرتا ہے اور خیال کو مہمیز بخشتا ہے۔
معروف امریکی ادیب جارج آرویل اپنے 1946کے مطبوعہ مضمون ’’میں کیوں لکھتا ہوں‘‘ میں تخلیق وتحریر کے محرک عوامل میں دیگر کے علاوہ الفاظ کے صوتی آہنگ، لطافتِ بیان سے کشید کردہ حَظ اور اچھے اسلوب کی ٹھوس مضبوطی کو بھی اہم گردانتا ہے۔
شاہد احمددہلوی اپنے مضمون ’’اردو زبان کا مسئلہ‘‘میں زبان کو مادرپدر آزادکرنے کی بجائے اسے تراش خراش کر حسین بنانے کا موقف اختیار کرتے ہیں۔
ادب کے آدرش میں زبان وبیان سے چھیڑچھاڑ،ادیب کا حق ہونا چاہیے۔ یہ معاملہ یہیں تک محدود رکھنا مناسب ہوگا۔آگے بڑھ کر اس کا حلیہ بدل دینا یا معاملات کو حد سے بڑھا دینا خوش گوار اَمر نہیں۔اصل بات اس ’حد‘ کا تعین ہے جو ماہرینِ لسانیات کریں، علمائے ادب کے حصے میں یہ معاملہ آئے یا تخلیق کار کی “sweet will” پر چھوڑ دیا جائے ،ایک علمی بحث کا متقاضی ہے۔اس پر کوئی متعینہ اورمتفقہ رائے نہیں۔
جدید اردو ادب میں اسلوب کے حوالے سے گفتنی و ناگفتنی تجربات ہوئے ہیں۔پکی ٹھکی رواں نثر کی جگہ اُکھڑی، نامکمل، اُلجھی، ہانپتی نثر کو فکشن نگاروں کے علاوہ نقادوں نے بھی نئے فیشن کے طور اختیار کیا ہے۔ اس تجربے کو ’’مخصوص اسلوب‘‘ اور ’’نئے ذائقے‘‘ کا نام دیا گیا ۔البتہ اس امر کو فراموش کردیا گیا کہ موجودہ عام قاری یا گنے چُنے خاص ذہنی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے قاری اسے کس حد تک ہضم کرپائیں گے۔ ادب کا مقصدتزکیۂ نفس، اظہارِ خیال اور دیگر متنوع مقاصد کے علاوہ ابلاغ بھی ہونا چاہیے۔
اسلوب سے بڑھ کر دیگر عوامل کو سامنے رکھاجائے تو یہ امر توجہ کامتقاضی ہے کہ آیا اِن تجربات نے کہیں تحریر کا حلقۂ اثرگھٹاتو نہیں دیا ۔ بالفرض اس استدلال کو مان لیا جائے کہ ادیب کا کام موجودہ قارئین کی جماعت کو مستحکم کرنا اور نئے قارئین پیدا کرنا نہیں بلکہ ا ظہارِ مدعا ہے۔ ادیب اِن مسائل سے ماورا تخلیقی تجربے میں غرق رہتا ہے تو بازار میں چلے جاتے بڑبڑاتے مجذوب اور سوچ کو ترتیب وارقرینے کے الفاظ کے ساتھ بیان کرکے مخاطب کے خیال کو متاثر کرتے فن کار میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔
اس موقف سے یہ قطعی طور پر اخذ نہیں کیا جانا چاہیے کہ ادب کو سطحی، قابلِ مطالعہ اور چونکا کر وقتی حظ فراہم کرنے والی شے ہونا چاہیے۔ پروفیسر انور جمال کی مدون و تحریر کردہ کتاب ’ادبی اصطلاحات‘ میں اِس بارے دو علمائے ادب کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں مائی کین کے بیان کے مطابق قدرت نے انسان میں جو سرمدی صلاحتیں ودیعت کی ہیں، ان کا اظہار ادب ہے۔ نیو مین نے زبان و الفاظ کے توسط سے انسانی افکار وخیالات اور محسوسات کا اظہار ادب قرار دیا ہے ۔گویہ تشریحات عمومی نوعیت کی ہیں اور ادب کے خط وخال کو واضح نہیں کرتیں مگر ابلاغ کے نقطے پر مرتکز ہوہی جاتی ہیں۔ اب ابلاغ میں کتنی گہرائی اور پرتیں ہیں، یہ فن کارو تخلیق کار پر منحصر ہے ۔وہ کمالِ فن اور مشاقئ اظہار پر کس حد تک قدرت رکھتا ہے۔ حیاتِ انسانی کے بنیادی حقائق اور اس کی سرشت وجبلت کے جوہرقریباً یکساں چلے آتے ہیں۔بنیادی فرق ان کے ادراک اور اظہار میں نمو پذیر ہوتا چلا جاتا ہے ۔
جب معاملہ ادراک سے بڑھتا ہوا ابلاغ تک آتا ہے تو ہم لامحالہ ملکی اورغیرملکی اساسِ فن میں فرق کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ملکی ادب کو کن عناصر کوملحوظ رکھنا مناسب ہے ،محمد حسن عسکری ’’ادبی روایت اور نئے ادیب‘‘میں ادب کی ہمہ جہتی اورگہرائی کے حوالے سے فرماتے ہیں:
قومی ادب کے لیے وسیع ہونا کافی نہیں،گہرائی بھی لازمی ہے۔یہ گہرائی محض انفرادی تفکر سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اپنی ادبی روایت کے مرکزی رجحان کے قریب رہنے سے روایت شعور کی ہر تبدیلی کے لیے جگہ تو نکالتی ہے مگر اس کی ایک بنیادی رو بھی ہوتی ہے جس کا تعلق پوری قوم کی روحانی جستجو سے ہوتا ہے۔ ادب کو اپنی ساری قوت اورساری شدت اسی اجتماعی تلاش میں شامل ہونے سے ملتی ہے۔ ادب کی زندہ روایت ہر کیفیت کو اپنے اندر سمیٹتی ہے، ہردور کی عکاسی کرتی ہے مگر اس مرکزی چیز کو کہیں ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔
ادب اور دانش ورانہ خیالات کی ترسیل واثر پذیری کے حوالے سے عام شخص اور صاحبِ بصیرت دانش ور میں ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ بصیرت اور ادراک کی وہ لَو جو فہیم کا ذہن منور کرتی ہے ۔اگر اس کی تابانی مخاطب کے دِل ودماغ پر جھلملاتی ہے تو یہ قابلِ ستائش امر ہے۔
ادب کی ایک شکل ادیب کا اپنے خیال کے پیکر کو بناسنوار تراش خراش کے پیش کرنا انفرادی امر تو ہوسکتا ہے۔ اس سے بلند سطح پر قاری کے ذہن اور روح کو بالیدگی عطا کرنا اور اُس کے لیے ادراک کے نئے دروازے وا کرنا مستحسن ہے۔بلند نگاہی اور وسعت خیال مخاطب میں روشن خیالی (رائج الوقت اصطلاح سے مختلف) کی کونپل کو جنم دے کر اُس کی آب یاری کرتی ہے۔ وہ فکر کے موجودہ ذخیرے کی گہرائی میں اُترنے سے آگے بڑھ کر اپنے کنویں کی منڈیر پر کھڑے ہوکر دیگر کنوؤں میں بھی جھانکتا ہے اورخودشناسی کے ساتھ ساتھ عالم شناسی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ اس سے روشن نگاہی اوروسعتِ نظری جنم لیتی ہے۔ سو ادیب کے لیے اپنے مخاطب کے شعور اور فہم کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے سے پہلے اپنے آپ کو فراست سے بہرہ ور کرنا ہے۔ اس کے لیے تجربہ، مشاہدہ، مطالعہ، گیان، دھیان اور دیگر ذرائع سے بڑھ کر یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ وہ بہت کم جانتا ہے اور اسے نامعلوم کی جستجو کرنا ہے۔ یہ عاجزی اورآمادگی اس کے دل و دماغ کو نئے برگ و شجر اُگانے کے لیے نرم کریں گی۔
ادب کی اثر پذیری اور دانش ور کے ادراک کی فضیلت کے حوالے سے ڈاکٹر ناصر عباس نیّر اپنے مضمون ’دانش ور اور سماجی تبدیلی ‘ میں عام قاری کی مسائل کی تفہیم کی عقلی صلاحیت سے ایک دانش ور کو مقدم کرتے ہوئے نیا علم اور نئی بصیرت تخلیق کرنے پرقادر قرار دیتے ہیں۔
ادب کے فعال ہونے میں ایک اہم عنصر اس کی ماضی سے جڑت(پیوستگی) ہے جو ایک منتشراوربے ربط معاشرے کی زیریں سطح پر خاص ترتیب اورنظم سے موجود ہوتا ہے۔حاضر کے معاشرے کے تہذیبی وتخلیقی ماخذ کی جستجو کرتے ہوئے انتظار حسین اس کے ڈانڈے ماضی کے گم گشتہ ورثے سے جاملاتے ہیں۔ گویہ پہلو،بنیاد کا تو کام دیتا ہے مگر وسیع تر تناظر میں ادب کا مکمل احاطہ نہیں کرتا۔ وہ معاشرے جن کے حال میں تاریکی اورمستقبل میں بے یقینی ہو، لامحالہ ماضی کی جانب نہ صرف رجوع کرنے پرمجبور ہوجاتے ہیں بلکہ اس میں رنگ آمیزی کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔وہ اپنے مضمون ’’اجتماعی تہذیب اور افسانہ‘‘ میں رقم طراز ہیں:
جب تہذیبی سا لمیت رخصت ہوچکی ہو تو اجتماعی احساس کا ترجمان بننے کے لیے افسانہ نگار کو بہت جتن کرنے پڑتے ہیں۔ اسے باطنی زندگی کی گہرائیوں میں یہ دریافت کرنا پڑتا ہے کہ وہ کون سے احساسات،آدرش، تمنّائیں اور موروثی شکلیں ہیں جو تہذیبی زندگی اورجذباتی چلن میں تفرقہ پڑجانے کے باوجود مشترک ہیں اورسماج کے ایک فرد کا دوسرے فرد سے رشتہ جوڑتی ہیں۔ ان مشترکات میں ایک تو ماضی کا ورثہ ہوتا ہے ۔ حاضر میں بے شک بے ربطی کی صورت پیدا ہوجائے مگر یہ ورثہ تو یادوں کی صورت میں اجتماعی حافظے میں محفوظ رہے ماضی پر اصرار کرنے سے افسانہ نگار کا یہ مطلب نہیں ہوتا یا کم ازکم نہیں ہونا چاہیے کہ گئے ہوئے دنوں کو واپس لایا جائے۔ گئے دن کہاں واپس آتے ہیں جو گم ہوچکا ہے اسے پایا نہیں جاسکتا مگر اسے یاد تو رکھا جاسکتا ہے۔ اگر ہمیں کوئی نیانظام بنانا ہے تو پرانے نظام کو یاد رکھنا چاہیے۔اگرہم نے پرانے نظام کو بھلا دیا تو پھر ہمیں یہ بھی پتا نہیں چلے گا کہ کس قسم کی باتوں کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے سرانگشتِ حنائی کا تصور بھی اچھا ہے کہ یوں دل میں لہو کی بوند بھی نظر آتی ہے اوردماغ میں حسن کا تصور بھی قائم رہتا ہے۔
ماضی کے ورثے سے تعلق کے حق میں شمس الرحمان فاروقی صاحب کا نقطۂ نظرخاصابرمحل ہے۔ وہ پریم کمار سے مکالمہ کرتے ہوئے روایت سے سمبندھ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ کولونیل قوتوں کے آنے سے قبل ہندوستان میں ایک متحرک روایت تھی۔ اب جو وہ شاعری میں میرؔ ،غالبؔ ، نسیم ،ؔ انیسؔ ، دردؔ ،ولی،ؔ سراج اور دیگرنثر میں داستان سے رجوع کرتے ہیں تو درحقیقت اُن کی کچھ ایسے تفہیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ماضی سے انقطاع کے خلا کو بھرکر تسلسل کے دھارے میں لاسکے۔صرف تبھی جدیدتخلیق کاروں، ن ۔م۔ راشد، ؔ میراجیؔ ،اخترالایمان اور دیگر کے اہم کام کی شناخت ممکن ہوسکتی ہے۔
بیسویں صدی کے ادبی مشاہیر میں ایک دانش ور انہ بصیرت کے ہم راہ شخصی متانت اور سنجیدگی تھی۔ ہمارے ہاں ہی دیکھ لیجیے اقبالؔ ، فیضؔ ،راشدؔ ،مجیدؔ ،قراۃ العینؔ ، انتظار حسینؔ ، عبداللہ حسین، غلام عباس،احمد ندیم قاسمی اوردیگرمشاہیر میں ایک متانت بہم تھی۔ چھچھورپن،سطحیت اورملمع سازی کی برائیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔اب اُن کے برابر فکری گہرائی اورشخصی وضع پر جدید دور میں کون اُترتا ہے، ایسے افرادکا آسمانِ فکر پر وجود ہنوز تشنہ خواہش ہے۔البتہ دانش ورانِ رفتہ کی نئی فکر کی تشکیل اورشادابی کے حوالے سے تشویش کچھ بجا اور بیش تر بے جا ہے۔بین الاقوامی سطح پر آج بھی نابغے وجود میں آرہے ہیں جو فکر کی نئی بستیاں آباد کررہے ہیں اورتخیل کے سرسبز وشاداب گلستان بسا رہے ہیں۔
جہانِ اُردو میں ایسے چراغ کم یاب ہوتے جارہے ہیں جن کی لَو سرحد سے نکل کر دیگر قوموں کے دماغوں کو فروزاں کرے۔ ان میں ایسے تخلیق کار تو موجود ہیں جو فن میں مشاق اورعمدگی سے دوسروں کو متاثر کرسکیں، جدید فکر میں اپنا حصہ ڈالنے والے کم ہیں۔ان ادیبوں کے درست مقام کا تعین مستقبل کا ادیب اور ناقدکرے گا۔ یوں جیسے ماضی کے بیش تر اہم اورنمایندہ ادیبوں کی ادبی قدوقامت سے اُن کا زمانہ ناواقف تھا۔
ایسے میں ناقد کی ضرورت اہم تر ہوجاتی ہے۔ سنجیدہ اور غیر جان دار ناقد ایک نقارچی اور راہ نما کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ سامنے آنے والی تخلیقات کی خوبیوں اور خامیوں پر صائب رائے دے کر قارئین کو ان سے روشناس کرواتا ہے اور ادیب کو پہچان دیتا ہے۔ اس کی موجودی سے ادیب کا حوصلہ بھی بندھا رہتا ہے کہ اُس کی آواز صدا بہ صحرانہیں۔ایک نقاد کی بیان کردہ رائے میں ذاتی رنگ کا اُبھر آنا عین قرینِ فطرت ہے۔ البتہ جب بہت سے سکّہ بند ناقد کسی تخلیق پر رائے کے حوالے سے قریباً متفق ہوجائیں تو وہ رائے مستند تسلیم کی جاتی ہے۔ (ناقدین کا فقط اس رائے پر کامل اتفاق ہے کہ اُن کا کسی رائے پرمکمل اتفاق نہ تو ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہوگا ۔ اس لیے احتیاطاً جملے میں قریباً کو برتا گیا ہے)۔ موثر ناقد ادیب کے لیے راہ نُما کی حیثیت رکھتا ہے۔ ناقد کے لیے لازم ہے کہ وہ ماضی کے فن پاروں اور فن کاروں پر تنقید کے علاوہ حاضر کے معاملات پر بھی گہری نظر رکھے اور اسے خلوصِ نیت سے بلامبالغہ بیان کرے تاکہ عصرِحاضر کے ادیب کا تعارف، اس کے فن پاروں کی درست قدر کا تعین اور اس کی راہ نمائی ہوسکے۔ (گو بہت سے ادیب کسی طرح کی راہ نمائی حاصل کرنے کو نمازِ کسوف سمجھتے ہیں)نقاد کے حوالے سے شمس الرحمان فاروقی کے صائب رائے ہے کہ اُسے منکسر ہونا چاہیے۔ اگر وہ فن پارے کے سامنے خود کو محبوب اور محدود محسوس نہ کرے تو اچھا ناقدنہیں۔
اس پیچیدہ صورتِ حال میں روشن ذہن اور بار آور ادیب کیا کرے۔ کیا وہ حالات کے جم جانے کا انتظار کرے، لسانیات کے معاملات کے کسی ایک پہلو بیٹھنے کا منتظر رہے تاکہ اپنی تخلیقات کو قابلِ قبول بنائے یا پھر بھنور آلود دریا میں بہتے رہنے کی سعی کرتا رہے۔ بے شمار دلائل میں سے ایک دلیل جو موجودہ ادیب کے یا کسی بھی ادیب کے حق میں جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ کوئی بھی لیکھک تخلیق کرتے وقت اس بات کا تعین نہیں کرسکتا کہ اُس کے زیر تصنیف فن پارہ کس درجہ ابلاغ کا حامل ہے یا وہ طے شدہ اصولوں کی کس درجہ پاس داری کررہا ہے۔ اگر فن کار کو عقلی طور پر اور دانستہ ان جکڑ بندیوں میں قید کردیا جائے تو اُس کا فطری وفورِ تخلیق متاثر ہوگا۔ البتہ اس مسئلے کا ایک حل ہے۔ تخلیق کار کی ذہنی تربیت میں وہ پختگی ہو جو اس کے تحت الشعورکا حصہ بن جائے اور جب وہ غیر ضروری طور پر بھٹکے تو اندر سے گھنٹی بج اُٹھے۔ ایک دل چسپ واقعہ یہ ہے کہ جب تجریدی آرٹ کا آغاز ہوا تو اس کے موئد مصوروں کوقبل ازیں روایتی آرٹ میں اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑاتاکہ کوئی فن کار تجریدیت کی آڑ میں اپنی کوتاہی اور عدم استعداد چھپانہ لے۔ پہلے متعین کردہ اصولوں پر پورا اُترے، پھر تجربات کی آزادی حاصل کرلے۔ یہاں موقف یہ ہے کہ جیسے ایک مشاق گلوکار چاہے بھی تو بے سری آواز نہیں نکال پاتا یوں ایک آزمودہ تخلیق کار اپنے تخلیقی نظام کے سانچے کو اس طور ڈھال لے کہ منفرد تجربات کے لیے میدانِ عمل میں اُترے تو لایعنیت کے دامِ فریب میں نہ اُلجھے۔
بہرطور یہ تو طے ہے کہ مطالعہ ادیب کی تربیت کرتاہے اورجذبہ وتخیل کو مہمیزبھی عطا کرتاہے۔ مشق کی اُس کے لیے وہی حیثیت ہے جو تربیت اور ریاضت کسی مقابلے میں اُترنے سے پہلے رکھتی ہے۔ نیٹ پریکٹس اور باقاعدہٍ ہوتا ہے۔
آفاقی خیال کا تخلیقی اظہار کس صورت ترجیہی شکل رکھتا ہے۔ اس کے لیے شعر و نثر، فسانہ و ڈراما، ناول و تصویر، شبیہی وتمثیلی،مجسمہ و نغمہ، بے شمار ذرائع آزمودہ اور دست یاب ہیں۔ کیا اس خیال کشا کش کودھوئیں کا مرغولا ہونا ہی کافی ہے یا اس مرغولے کا کوئی شکل اختیار کرنا چاہیے،علمائے ادب کے نزدیک اس کی باقاعدہ شکل ہونامقدم ہے۔
اظہارِ خیال پر اظہارِواقعہ کو فضیلت حاصل ہے ۔ اس شعبے میں واقعاتی تنوع کی اہمیت ثقہ ہے۔ کرداروں کے لسانی، نفسیاتی، ثقافتی، معاشی،جینیاتی،علمی، موروثی، مزاجی،تاریخی اور کئی طرح کے پس منظر، اُن کی حرکات اور باہمی روابط کی بنیاد بنتے ہیں۔ عمومی طور پر افسانہ ایک متعینہ وقت،لوکیل یا واقعے کے گرد بُنا جاتا ہے یا یہ اُس کے تاروپود میں رچے بسے ہوتے ہیں۔ڈراما اور افسانہ آئینے کا ایک ٹکڑا ہے جس سے آپ محدود منظر کی عکاسی ملاحظہ کرتے ہیں، جب کہ ناول اور داستان ایک اساطیری بلوریں گیند کے مانند پورا جہانِ حیرت اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں واقعات کا وقوع پذیر ہونا اور کرداروں کا چلنا پھرنا ضروری ہے ۔ ایک منجمد منظرتصویر میں تو بھلا لگتا ہے، پرفکشن کے لیے ناموزوں ہے۔ پلاٹ واقعات اور کرداروں کے باہمی ربط و ضبط اورعمل و ردعمل کے ضمن میں علمائے ادب کی آرا میں اتفاق و اختلاف پایا جاتا ہے جو ایک صحت مند مکالمے کی بنیاد بنتا ہے۔ البتہ ان دونوں کی موجودی پر کامل اتفاق پایا جاتا ہے۔ کردار لازماً انسانی یا حیوانی نہیں،اشیا کی صورت بھی ظہور کرسکتے ہیں۔کہانی کے کالی داس سے لے کر شیکسپیئر، ابن طفیل(عربی کا پہلا ناول نگار) سے لے کر طالسطائی تک بنیادی خیال چند ایک ہی ہیں،انھیں برتنے کے انداز بے اندازہ ہیں۔ شمس الرحمان فاروقی اسی ضمن میں ’’افسانے میں کہانی پن کا مسئلہ‘‘کے عنوان کے مضمون میں نکتہ طرازہیں۔
زمانۂ قدیم سے لے کر اب تک کے پڑھنے اورسننے والے اس بات پر متفق معلوم ہوتے ہیں کہ پلاٹ کا تنوع اتنا اہم نہیں ہے جتنا واقعات کا تنوع اہم ہے۔ قصوں اورکہانیوں کے پلاٹ عام طور پر فارمولے کی شکل میں بیان کیے جاسکتے ہیں۔ افسانوں اور ناولوں کے مجموعی فارمولوں کی تعداد دس بارہ سے متجاوز شاید نہ ہو۔ ارسطوکو بھی اس حقیقت کا احساس رہا ہوگا، کیوں کہ اس نے پلاٹ اور ’’منظر‘‘میں فرق کیا ہے۔سافکلیز(Sophocles)کے ڈرامے ’’آئی فی جنیا‘‘ (Iphigenia in Tauris) کے پلاٹ کا خلاصہ چند لفظوں میں بیان کرکے وہ کہتا ہے ’’پلاٹ کا عطر صرف اتنا ہے ، باقی سب منظر ہی منظر ہیں۔پلاٹ کے تنوع سے زیادہ واقعات کا تنوع اہم ہے، اس اصول کی کارفرمائی اس مشہور لطیفے میں بھی ملتی ہے جس میں ایک مولوی صاحب کو حضرت یوسف کا قصہ بیان کرنے کو کہا گیا۔ مولوی صاحب کو کھانے کی جلدی تھی اس لیے انھوں نے ’’پدرے بود،پسرے داشت۔ گم کرو، بازیافت۔‘‘ کہہ کر قصہ پاک کردیا اور کھانے پر حملہ آور ہوگئے ۔نئے افسانوں پر یہ الزام لگانا کچھ درست نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اس لیے دل چسپ نہیں ہیں کہ ان سب کے پلاٹ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے پلاٹ اگر ایک ہی طرح کے ہوں بھی تو ان میں واقعات (ارسطو کی زبان میں ’’مناظر‘‘) کی کثرت ہے اوراگر مناظر کی کثرت ہے تو ’’کہانی پن‘‘ بھی ہوگا اور کہانی پن ہوگا تو(جیسا کہ عام خیال ہے ) تو افسانے دلچسپ بھی ہوں گے ۔اگر اس کے باوجود یہ افسانے دل چسپ نہیں معلوم ہوتے تو اس کی وجہ کہانی پن کی کمی نہیں، بلکہ کچھ اور ہوگی۔اس ’’کچھ اور‘‘ کو میں نے اوپر یہ کہہ کر ظاہر کیا ہے کہ وہ افسانے جو ہمیں انسانی سطح پر متوجہ نہیں کرتے، غیر دل چسپ معلوم ہوسکتے ہیں۔
کہانی میں کرداروں کی موجودی ،ہیئت اورکارگری کے حوالے سے آرا کا بازار سجا ہے۔چندناقدین فکشن کی تشریحات کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کہانی میں کردار کا نہ ہونا بھی ایک مختلف ذائقے کی کہانی کو جنم دیتا ہے۔ ایسے میں ’’آنندی‘‘ اور دیگر کئی افسانوں اور ناولوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ ان فن پاروں میں مرکزی کردار موجود نہیں لیکن بے شمار ثانوی کردار متحرک نظر آتے ہیں گویا اِن میں کردار ضرور موجود ہیں۔بعض صورتوں میں یہ کردار اشیااوردیگرصورتوں میں موجود ہیں۔’’آنندی‘‘ کی ہی بات کرلی جائے۔ اس میں بلدیہ کے بھاری بھرکم رکن، پنشن یافتہ معمر رکن، ٹھگنے چھوٹے ہاتھ پیروالے صدر،دیہاتی بڑھیااور اس کا خُردسال لڑکا،شہد سے میٹھے خربوزے کی آواز لگانے والا خوانچہ فروش،کباب،کلیجی،دل گردے سیخوں پر لگا کر بیچنے والا کبابی، گرم تنور والی بھٹیارن، سرخ آنکھوں والا لمبا تڑنگا فقیر،توندل سیاہ فام سازندے جو زربفت و کم خواب کی شیروانیاں پہنے عطر میں بسے پھوئے کانوں میں رکھے منڈلاتے، اٹکھیلیاں کرتی نازنینیں،بنئے، حلوائی، شیرفروش، قصائی،کنجڑے، درزی، بساطی، عطار،حکیم،شرابی، تماشائی، زنانِ بازاری، سینما ہال کے شوقین اور پنواڑی وغیرہ کردار نہیں تو اور کیا ہیں۔غلام عباس ایک دنیا بساتے ہیں اوراُسے آن واحد میں اپنے دستِ کمال سے الٹ دیتے ہیں، مارکیز کے تنہائی کے سوسال ،ٹولکین کے ’لارڈ آف رنگز‘‘ جیمزہلٹن کے ’’شنگریلا‘‘ اورسوفٹ کے ’’اسفارِگولیور‘‘وغیرہ میں نظر آتے ہیں۔اِس ذیل میں افسانے کم ہیں چوں کہ وہ محدودیت کے دائرے میں قید ہوتے ہیں اور ناول معتبدبہِ کہیں بڑھ کر ہیں۔
قابلِ قدرادیب اس امر پر قدرت رکھتا ہے کہ غیر دل چسپ شے کو دل چسپ اوربے رنگ و بے سواد بات کو رنگین و ذائقے دار کردے۔ یہ اُس کے بیان کا اعجاز ہے۔ وہ چند مناظر کو پرُفسوں اور خواب ناک رنگ دے کر نیرمسعود کی طرح امر کردے یا پیشاب خانے کو’’موتری‘‘ کا عنوان دے کر افسانہ کردے اور یادگار کر ڈالے۔ اُردو ادب کی مالا میں ایسے بے شمار بار نُما جامنی، سیاہ چمک دار، سمندری سبز، آسمانی نیلے، یا قوتی سُرخ، خاکی مٹیالے اوررنگ رنگ کے منکے ہیں۔ کوئی بات نئی بات نہیں، اُسے کہنے کے انداز نئے نرالے ہیں۔
پس قابلِ قدر ادب کا مقصد انسانی اقدار کا فن کارانہ احاطہ، عروسِ حیات کو آراستہ کرنا اور تہذیبی روایت سے قریب رہتے ہوئے بات کا نئے انداز میں بیان ہونا چاہیے۔ پاکستانی فکشن کے لیے مناسب ہوگا کہ اُس کی دیگر بیرونی فکشن سے تخصیص ہوسکے ۔ اس میں انفرادیت ہو اور ایک جداگانہ مہک ہو۔ ہر وہ تحریر جو قارئین کی نئی جماعت پیدا کرتی ہے اور لوگوں کو مطالعے کی جانب مائل کرتی ہے، قابلِ قدر ہے۔ بچہ کچی جماعت سے بڑھتا ہوا مقام فضیلت تک پہنچتا ہے۔ اعتماد سے کہا جاسکتا ہے کہ اہم ادیبوں اور سنجیدہ مفکرین نے مطالعے کے مراحل طے کرتے ہوئے ابتدائی زمینوں پر الف لیلیٰ ہزار داستان سے لے کر ابنِ صفی کو پڑھا ہے۔ نسیم حجازی، ابنِ صفی سے شروع ہونے والے قافلے نے کیا کیا پڑاؤ نہ کیے۔ شکیل عادل زادہ،شوکت صدیقی، الیاس سیتاپوری، ضیا ء تسنیم بلگرامی اور کئی دمکتے تارے اس کہکشاں کاضوفشانی حصہ بنے۔ نونہال اسماعیل میرٹھی سے نظم کا ذائقہ محسوس کرتا ہوا میر،ؔ غالبؔ ، ولی ، ؔ مومنؔ اور انشا تک جائے گا۔
ابتدائی ادب کو آسان بنایئے ، بعد ازاں ثقالت کی جانب سفر کیجیے۔ادب کے نو آموزان کو امروز کا کلاسیکی ادب پڑھایا جائے گا تو وہ ان کے لیے ناقابلِ فہم ٹھیرے گا۔ پہلے نرم غذا دیجیے ، بعد میں بھلے خوانِ ہفت رنگ دستر خوان پرسجا دیجیے۔
سونے کی ڈلی سی خالص کھری اور تاب ناک داستاں اور کہانی، فکشن کی اُردو کے لیے لازم نہیں کہ ثقیل الفاظ اور دشوار اصطلاحات کا استعمال کیا جائے تاکہ قاری پر زباں دانی کا سکہ جمے (تنقیدی ،تجزیاتی و نصابی تحریروں کا معاملہ اس سے سوا ہے)۔ انگریزی کے نام وَر اور مستند ادیبوں کو لیجیے، ہیمنگ وے سے لے کر ایلس منرو تک سادہ زبان سے منفرد خیالات کو سنوار کر قارئین کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ ہمارے اپنے منٹو،بیدی، غلام عباس سے لے کر نیر مسعود تک کیا کیا انوکھے خیالات کو سادہ زبان کا جامہ پہناتے رہے ہیں۔
علمائے ادب متفق ہیں کہ اچھا ادب جذبات کے علاوہ عقل کو بھی متاثر کرتا ہے۔ بڑا ادب جذبات کو نزاکت بخشتا،اُنھیں وسعت ادا کرتا اور بالآخر اُنھیں ترتیب دے کر اُن کی تشکیل کرتا ہے۔ بڑا ادب زبان وجغرافیے سے ماورا ہوتا ہے۔وہ انسان کے بنیادی مسائل اور احساسات سے کلام کرتا ہے اور ایک احساس اُجاگر کرتا ہے کہ ’’یہ تو میری بھی سوچ ہے ۔‘‘ لازم نہیں کہ مطالعے سے پہلے قاری ایسی ہی سوچ رکھتا ہو پر ادبی شاہ کار اس کی ذہنی اور جذباتی تربیت اس طور کردیتا ہے کہ اُسے ادیب کے خیالات و الفاظ اپنے اندر کے چاندی میں ڈھلے کھنکتے باطن میں گونجتے، گویا وہیں سے اُبھرتے ، محسوس ہوتے ہیں۔چند بنیادی دائمی موضوعات روزِ اوّل سے چلے آتے ہیں۔ کمال اُن عظیم ادیبوں کا ہے جنھوں نے قاری کی ٹوپی سے کبوتر یوں نکالا کہ ہر کسی نے یہ جانا گویا کبوتر اُس کے ہاں ہی بسرام کرتا تھا۔
اردو ادب کے محسنین کی ایک جماعت قصۂ ماضی ہوکرحافظے سے یوں ندارد ہوئی جیسے حاضر کے مکتب سے فارسی۔ یہ عمدہ، شُستہ،ذائقہ دار اور شگفتہ تراجم کرنے والوں کا شان دار دستہ تھا۔ کیا نابغے تھے جنھوں نے روسی، ہسپانوی،برطانوی، امریکی، فارسی، عربی، ہندی، فرانسیسی اور دیگر زبانوں کے عمدہ تراجم کرکے عام قاری کے لیے جہانِ حیرت کے دَر وا کیے۔ کیا ٹکسال میں ڈھلے نقرئی جملے، تاب ناک موتیوں کی طرح جڑے الفاظ،روح تک سرشار کرتی تراکیب اور اُردو ایسی ملائم سونے میں ڈھلی زبان سے محبت بڑھاتے قدآور لوگ تھے۔ ان کے تراجم کو جھاڑ پونچھ کر دیدہ زیب انداز میں شائع کروا کر عام کیا جائے تو عامۃ الناس اِدھر کیوں کر رجوع نہ کریں گے۔ تازہ ادب کے مستند تراجم گویا فرنی پر چاندی کے ورقوں مانند ہیں۔
برقی ذرائع کی بڑھتی مداخلت سے قلتِ مطالعہ کا رونا رونے والے ذرا اُدھر فارس وہند،یورپ وامریکا میں بھی جھانک لیں جہاں حال ہی میں برقی رسائل وکتب کی فروخت میں بے بہا اضافہ ہوکر ’ایمازون‘ ایسے دیوہیکل اداروں کا وجود اُبھرا ہے جو فقط ترسیلِ کتب سے اپنے کاروبار کا آغاز کرکے دنیا کا اہم ترین تجارتی نام بن گئے اوروہاں آج کتب (برقی وکاغذی) کی اشاعت وخرید پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔
گزشتہ صدی کی چھٹی سے نویں دہائی تک میں ایک قابلِ ستائش رواج رہا ہے۔ بین الاقوامی شاہ کاروں کے تراجم باآسانی دستِ یاب ہوئے۔ ان کی دست یابی کتابی صورت، ادبی رسائل اور ڈائجسٹوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ہندی، فارسی، انگریزی، ہسپانوی، عربی، فرانسیسی اور دیگر زبانوں کے رجحان ساز ادیبوں نے مقامی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ گبریل گارشیا مارکیز، میلان کنڈیراسے لے کر کافکاتک عام قاری کی رسائی ہوگئی۔البتہ یہ معاملہ قرینِ حقیقت ہے کہ اُردو اُن کا تیسرا لباس ٹھیری۔عموماً یہ تخلیقات اولین زبان سے انگریزی میں ترجمہ ہوئیں اور پھر اُردو میں ان کے تراجم ہوئے۔ متن کی صحت تو شاید برقراررہی ہو لیکن زبان سے وابستہ روایات اور رنگ کس حد تک قائم رہے، ایک الگ معاملہ ہے۔اس کے برعکس ،کوتاہ نصیبی سے بیسویں صدی کے اواخر سے، بین الاقوامی سطح پر اُبھرنے والے اہم ادب کا صحیح معنوں میں ترجمہ نہیں ہوا۔ ماضی قریب کے سند یافتہ ادب میں بُکر، پُلِٹزر، فولیو،ڈی ایس سی اور دیگر انعامات سے بڑھ کر نوبل انعام یافتہ شہ پاروں اور ادیبوں کے کم کم تراجم ہوئے۔ ہمارے اپنے انگریزی زبان کے ادیبوں کے تراجم کرنے کو چنداں اہمیت نہ دی گئی۔ نتیجتاً حاضر کے مقامی ادیب کی گرفت جدید ادب اور اس سے متعلقہ رجحانات پر کم زور پڑچکی ہے۔
انھی دہائیوں میں پاکستان کا انگریزی زبان کا ادیب اُبھر کر بین الاقوامی مدار میں داخل ہوا۔ اِس سے بہتر خیال اورزبان پہلے سے نثری ادب کی مضبوط روایت رکھنے والے خِطوں میں موجود تھے۔ کُرے کے اِس ٹکڑے کی صورتِ حال نے لوگوں کو اِس جانب متوجہ کیا۔ اس سلسلے میں ایک تجسّس نے بھی لوگوں کو آن لیا۔ نامعلوم کی جستجو انسانی سرشت کا حصہ رہی ہے۔ چناں چہ وہ ادیب جنھوں نے اپنی زبان بولی اور مقامی ثقافت وروایت کو انگریزی کے روپ میں پیش کیا،زیادہ توجہ حاصل کرنے میں کام یاب رہے۔
حاضر کے اردو ادیب کے سامنے ایک وسیع و عریض کھیت بوائی کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی جانب قارئین کی ایک بڑی جماعت متوجہ ہے۔ معاملہ اپنی ثقافت، روایت اور تاریخ سے قریب رہتے ہوئے ایک جہانِ تازہ پیدا کرنے کاہے۔
ابتدائی طور پر اُردو سے دیگر زبانوں میں ترجمہ کاروں کا مختصر اور باصلاحیت گروہ تیار کرنا کٹھن مرحلہ ہے، اگر تازہ ادب میں انفرادیت، زرخیزی اور طاقت ہوگی توموجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں رسد وطلب کے میکانکی عناصر ازخود سرگرم ہوکرمترجمین کی ایک پوری جماعت تیار کرلیں گے۔
موجودہ نثری ادب کے چند معاملات توجہ طلب ہیں۔ ایک احساس یا جذبہ قلبی سطح پر تو مختصر مدت کے لیے متاثر کرتا ہے پر کہانی نہیں بنتا۔ایک واقعہ خبر تو بن سکتا ہے پر ادبی فن پارہ بننے کے لیے اسے سنگی مجسّمے کی طرح توجہ درکار ہوتی ہے۔ دُکھ یا الم کا بیان قاری کو متاثر کرنے کا آسان رستہ ہے۔راجستھان کی پیشہ ور رُدالی اپنے بین سے راہ گیر کو متاثر تو کرسکتی ہے پراُس میں انیسؔ کی دِل گیر شاعری اورمرثیے کی سی فنّی پرُکاری عنقا رہے گی۔
آج کا ادیب بہ یک وقت خوش نصیب اور کوتاہ نصیب ہے۔اسے ایک ایسا معاشرہ نصیب ہوا جو شکست و تخریب کا شکار ہے۔ اجزائے حیات منتشر ہیں اور جم کربیٹھنے کے مواقع کم میسر ہیں۔تخلیق کے لیے دست یاب عناصرمسلسل حالت تبدل وارتقا میں ہیں۔ المیاتی سانحات یا تو رونما ہوچکے ہیں یا حالتِ نمو میں ہیں۔ حساس طبع ادیب بہ یک وقت حزیں، اندوہ گیر اورہم دردی کے جذبات سے مغلوب ہے۔ معاملات کچھ ایسی نہج پر ہیں کہ اپنے منطقی انجام پر پہنچنے سے پہلے ایک اور سانحے کو اپنے بطن سے جنم دے کرکثیرالجہتی ہوئے چلے جاتے ہیں۔
اس تصویر کا ایک پہلوئے دِگر یہ ہے کہ ماضی کے اعلیٰ ادب نے بحرانوں میں جنم لیا۔ ادیب کو موضوعات تلاش کرنے کی سعی نہیں کرنا پڑتی۔ موضوع درموضوع اُس کی چوکھٹ پر خود ہی ہاتھ باندھے چلے آتے ہیں۔ جتنے متنوع مسائل ہوتے ہیں، اتنے ہی انھیں برتنے کے طریقے اور مختلف پہلو سامنے آتے چلے جاتے ہیں۔ ایک ٹھیرا ہوا معاشرہ جامد ماحول کو جنم دیتا ہے۔ نسبتاً ٹھیرے مغربی یورپ اور برِاعظم شمالی امریکا کی بہ نسبت شورش زدہ جنوبی امریکا، افریقہ و ایشیا سے زیادہ موثر،فعال، متنوع اورزرخیز ادب یا تو سامنے آرہا ہے یا تخلیق پا رہا ہے پر ترجمہ ہوکر سامنے نہیں آرہا۔یہ بیان قیاس پرمبنی نہیں بلکہ باقاعدگی سے سامنے آتا عمدہ ادب اس امر کی دلالت کرتا ہے۔
آج کے ادیب کو موضوعات میں رنگارنگی اور مزید تازگی لانا ہوگی۔ انسانی فطرت کی کج آرائیوں کو نئے حالات میں نمایاں کرنا ہوگا۔یاسیت کے کُہرے میں شگفتگی کی کرنیں جگانا ہوں گی۔جدید ادیب پر گہری نگاہ رکھنے والے معروف ومستند امریکی ادیب اور ماہرِ لسانیات ایلون بروکس وائٹ نے ’’دی پیرس ریویو‘‘ ایسے باوقار جریدے میں بیان کیا۔
’’ایک ادیب کا کام اپنے معاشرے اوراپنی دنیا کا مشاہدہ اس پر غور وخوض اور اس کی تفسیر کرنا ہے۔ اُس کا کام تحریک پیدا کرنا، راہ نمائی کرنا اور للکارنا ہوتا ہے۔ مجھے بھی بہت غصہ چڑھتا ہے مگر میں غصے کے سوا کچھ اور نہ کرنے سے نفرت کرتا ہوں۔ میرے خیال میں میں ایک ادیب کا بنیادی جوہر مکمل طور پر کھو دوں گا ،اگر میں سورج کی خوش کن سنہری کرنیں محسوس کرنا اور انھیں بیان کرنا چھوڑ دوں گا۔ ایک ادیب کا کام لوگوں کے حوصلے گرانا نہیں، اُٹھانا ہونا چاہیے۔ لکھاری صرف زندگی پر غور وخوض اوراس کی تفسیر ہی نہیں کرتے، بلکہ وہ تربیت بھی کرتے ہیں اور زندگی کی تشکیل بھی کرتے ہیں۔‘‘
اکیسویں صدی کے اوائل میں سامنے آنے والا اُردو نثری ادب بالعموم بہ ظاہر زندگی کے چند مخصوص یرقان زدہ وتاریک گوشوں کی زیادہ ترجمانی کرتا ہے۔ اس میں کہیں کہیں عمدہ نثر پارے ہیں تو یک رنگے تھکے ٹوٹے بکھرے جملوں کی بھی بہتات ہے۔ دکھ ، غم، دہشت، یاسیت، اُداسی اور شکستگی کے رنگ نمایاں ہیں۔ آخر جوہڑکی سطح پر کنول بھی تو کھلتے ہیں۔
آج کے خوف و ہشت کے تاریک ماحول اور بے یقینی کے سیاہ بادلوں سے در آتی روشنی کی اکلوتی کرن میں نہائے شاداب شجر پربیٹھی ننھی رنگین چڑیا دل کو موہ لینے اور لبھانے کا زیادہ سامان رکھتی ہے۔ آج کی کہانی کا موضوع خوف زدہ ومایوس انسان کے سِوا اِن عناصر کا مقابلہ کرنے والے بھی ہونے چاہئیں۔ خوش کن پہلوؤں کے علاوہ وہ زندہ جیتے جاگتے کردار جو جنگ میں کرفیو کی رات کو بلیک آؤٹ کے دوران شطرنج کی بازی جماتے ہیں،وہ سپاہی ، شہری، نرس اوربے شمار لوگ جو تیرگی کا مقابلہ کرتے ہیں اور بالآخر تاب ناک سویرے کی جوت جگاتے ہیں کا ذِکر خیر کارِخیرہے ۔ دہشت کا ماحول اور بے یقینی کا علاقہ تاابد نہیں رہتا۔ہر دور،ہر خطے کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ سب عارضی معاملات ہیں۔ کیا طالسطائی ’جنگ ومحبت‘ میں گیت نہیں گاتا اور پی جی ووڈ ہاؤس دو عظیم جنگوں میں نہیں مسکراتا۔ کیا سمرسٹ ماہم نے ان جنگوں کے دوران پال گوگین ایسے عظیم مصور کا کردار ’مون اینڈ دی سکس پینس‘ میں نہیں تراشا تھا؟ اگر بہترین ادب بحرانوں میں جنم لے سکتا ہے جو بنیادی انسانی جبلت اوربیرونی دنیا کے عناصر سے ہم آہنگ ہوتو اِدھر بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
اندرونی زخمی وغم گیں سہی، اس میں کچھ خارج سے روشنی کو منعکس کرکے وجود کو روشن کرنا ہے اورکچھ اپنی ضوفشانی خود پیدا کرنی ہے۔بیروں اندوہ ناک وسیاہ ناک سہی، موسمِ سرما کی شبِ گریہ سہی، دُور کے تنہا مکان کی اکلوتی کھڑکی پر دھرے دِیے کی لَو سے قوت و اُمید کشید کرنا ہے۔
اندروں بینی اور بیروں بینی ایک ہی سکّے کے دورُخ ہیں۔یہ بیک وقت مستعمل ہوکر دوبینی پرمشتمل ایک وسیع وعریض، امکانات سے پرُمنظر نامہ تخلیق کرسکتے ہیں جس میں تخیل اور وجدان کے ساتھ حقیقی زندگی سے اخذ کردہ پلاٹ،کردار اور لسانیات کی سیپیاں ہوں۔ہمارے بارآورادیب خوش نما شہ پاروں کو خالص زبان میں کڑھی اور قابلِ فہم، بامعنی ، قرینِ حقیقت علامات کے متنوع وسیع الجہات ہولی رنگوں میں رنگ کر پشمینہ کے دو شالے اڑھا سکتے ہیں۔
اَندر کے آدمی کو اِندر کا آدمی بھی بننا ہے۔

(2)
پاکستان کے محمد حمید شاہد کا قدیم یونان کے انگور کے باغات اور اورحان پامُک کے استنبول سے کوئی تعلق نہیں یاشاید ہے ۔ تعلق کی جڑیں ممکن ہے، کہیں اور زمیں دوز پانیوں میں ہوں۔ ایک حُزن ہے، اُداسی ہے، المیہ کیفیت و احساس ہے جو اس کی تحریر کے تاروپود میں رچے بسے ہیں۔
قدیم یونانی انگوروں کے باغات میں کٹائی کے موقع پر سرشاری کے عالم میں گیت گاتے تھے۔ اس روایت نے دہائیوں، صدیوں کی گھاٹیوں میدانوں کے سفر میں کئی رنگ چُنے۔ٹریجڈی(المیہ)روایت کا ادب وفن میں صحیح معنوں میں ماخذ یہی رسم ٹھیرتی ہے۔ عجب ستم ظریفی ہے کہ الم کی جڑیں جشن کی رسم میں جگہ پاتی ہیں۔
نوبل انعام یافتہ ترکی ادیب اور حان پامُک اپنی کتاب ’’استنبول‘‘ میں ’’حُزن‘‘ کی ایک باریک چادر کا تذکرہ کرتا ہے جسے شہر بھرنے اوڑھ رکھا ہے۔ حُزن کا لفظ قرآن پاک میں پانچ مرتبہ مذکور ہے۔وہ ترک سلطنت کے دھیرے دھیرے ہونے والے انہدام کو موجودہ استنبول کے اوپر تنے اُداسی اورملال کے سیاہ غلاف کی طرح دیکھتا ہے۔اُسے زندہ جیتے جاگتے رنگین استنبول کے پیچھے ایک آسیب زدہ ختم ہوچکے استنبول کے سائے نظر آتے ہیں۔ یہ اثر زدہ سائے اُسے غم زدہ کردیتے ہیں۔
پس یہ حزن والم ہے اور انگوروں کے چندگچھے ہیں جن سے زندگی کا رس ٹپکتا ہے ۔ اس رس اور حزن میں گندھے ریشوں سے قالین باف کھڈی پرقالین بُنتا ہے۔
محمد حمید شاہد قالین باف۔
محمد حمید شاہد کے افسانے ایک شریف اور حساس آدمی کے افسانے ہیں۔اِن میں دروں بینی، بیروں بینی یک جا ہوکر دو بینی کی صورت وقوع پذیر ہوتی ہے۔ ایک سلاست ہے، روانی ہے، آہِ دل کی دھیمی سلگتی آنچ ہے،ثقافت کی رنگا ،رنگی ہے، خودکلامی اور تاثر ہے۔ یہ کوہ مری کے کوہانی پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کے سنگلاخ ویرانوں تک پھیلے واقعات ہیں۔ حدیثِ دل اظہارِ واقعہ پر حاوی ہوجاتی ہے پر آبِ خرابات کے مانند ایک تلخ و گرم حزیں آمیز و سرور آور تاثیر سینے میں چھوڑ جاتی ہے۔ اِک للک ہے، اِک لپک ہے، اِک نیم دیوانگی ہے، اِک نیم فرزانگی ہے جو قرطاس ابیض پر صورتِ الفاظ نقش گری کرتی ہے۔طویل قہقہے کے بعد آنے والی خاموشی اس کے افسانوں میں گونجتی ہے۔
المیے کے حوالے سے ماہرینِ نفسیات بیان کرتے ہیں کہ اس کا تخلیقی اظہار مخاطب میں تزکیۂ نفس کا باعث بنتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ احساسِ یگانگت کا سبب بنتا ہے۔ المیے کی طویل تاریخ میں سیموئل بیکٹ اور مولر تو تازہ نام ہیں، اس موضوع پر افلاطون، ارسطو، والٹئر، ہیگل، شوپنہار، نطشے، فرائڈ، کامیو سے لے کر بے شمار نابغوں نے خامہ فرسائی کی۔ پاکستانی اردو ادب میں ’’اداس نسلیں‘‘ کی گم شدہ وغم گیں نسلوں سے لے کر’’راکھ‘‘ میں لاہور کے اُڑتے جلتے اوراق کی راکھ اور ’’غلام باغ‘‘ میں حیاتِ انسانی کے عناصر کی کھوج کی زیریں سطح پر ملال کی سیاہ ناکی موجود ہے۔
المیہ مختلف انداز میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہ حالات و واقعات سے جنم لیتا ہے، انسانی بھول چوک اور خطا کا شاخسانہ ہوتا ہے اور انتقام کی کوکھ سے بھی پیداہوتا ہے۔
سیگمنڈ فرائڈ سمجھتا ہے کہ ایک شخص نے کسی دور، شے،حالات، یاد، فرد یا معاملاتِ دیگر سے جووابستگی پیدا کی ہوتی ہے، اُس تعلق کو قطع کرنے سے دُکھ جنم لیتا ہے۔
دِل چسپ بات تو یہ ہے کہ بعض صورتوں ایک فرد کا اپنے ستم گر سے قلبی تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ حالات کی ستم گری کا شکار اپنی بے چارگی سے رومانی تعلق قائم کرلیتا ہے اور خود ترسی میں ایسے مبتلا ہوجاتا ہے کہ ابتلا کا خاتمہ اُسے بے حال کردیتا ہے۔ ستم اور ستم گر مفعول کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کا منظر سے ہٹ جانا تصورِ ذات کو نامکمل و زخمی کردیتا ہے۔
المیے کے بطن سے انکار، طیش، معاملہ داری، افسردگی اور قبولِ حقیقت درجہ بہ درجہ جنم لیتے ہیں۔ ادیب کا کام فقط اس کا اظہار نہیں ، روایت اور ثقافت کے تال میل سے فن پارہ تخلیق کرنا ہوتا ہے۔ یہ اظہارِ حقیقت کے ہم راہ تزکیۂ نفس، تشفئ جذبات اور لطافتِ طبع کا باعث بنتا ہے۔
ادیب کی فکر میں اندوہ کا ورود حساس طبعی کے سوا ذاتی معاملات کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ محمد حمید شاہد کی حساس طبع پر خارج کے معاملات کا اس حد تک اثر کہ وہ اس کی روح کے پاتال میں صدائے غم انگیز کے مانند گونج اُٹھے، کے علاوہ چند ذاتی المیوں کا بھی سوگ رنگ لپا نظر آتا ہے۔اس نے اپنے افسانوں میں متنوع تجربات کیے ہیں وہ نرم نوک کے قلم سے لکھتا ہے سو اس کی تحریر میں ایک کوملتاہے،کٹیلااور تیکھا پن نہیں۔ کہیں اُس نے کہانی کو برتا ہے اور کہیں کہانی نے اُسے برتا ہے۔
ادبی اصطلاح میں Pasticheایک دِل چسپ انداز تحریر ہے جس میں تضمین میں تمسخر و استہزا کے بجائے کسی دوسرے ادیب کی تخلیق کے مماثل فن پارہ پیش کردیا جاتا ہے ۔ محمد حمید شاہد نے اس لطیف فن کو استعمال کرتے ہوئے گو متذکرہ ادیب کے مماثل تخلیق تو پیش نہیں کی، البتہ حوالہ جاتی کام لیا ہے۔ ’’شاخِ اشتہا کی چٹک‘‘ میں وہ گبرئیل گارشیا مارکیز کا حوالہ لاتا ہے اور ستائش کا سُڑسُڑ اتاتڑکا لگا کر لاتا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیبہ جھمپالاہری ذہن میں آتی ہے جس نے ’’دی نیم سیک‘‘ نامی ناول میں نکولائی گوگول کے کردار سے مماثل نام دانستہ طور پر استعمال کیا اور خوب کیا۔حمیدشاہد اس کہانی میں جابہ جا اپنے مرکزی کردار شکیل کا موافقانہ وتضادانہ موازنہ مارکیز کے ناول ’’اپنی سوگوار بیسواؤں کی یاد‘‘ کے بوڑھے سے خوب مزے لے کر کرتا ہے۔
اسی تجربے کو وہ دوبارہ ’’تماش بین‘‘ نامی افسانے میں استعمال کرتا ہے۔ البتہ یہاں دوسرے مصنف کی کہانی یا کردار یوں بار بار کہانی میں دَر نہیں آتے جیسے ’شاخِ اشتہا کی چٹک‘ میں آتے ہیں۔ اس طرز میں مصنف خود (جیسا اُس نے بہت سی کہانیوں میں یہ طریقہ برتا ہے) کہانی میں اُترآتا ہے اور قاری سے مخاطب ہوتا ہے ۔ اس کہانی میں مصنف انکشاف کرتا ہے کہ عورت اُس کے حواس پر سوار رہتی ہے ۔آیا عورت حقیقی زندگی میں مصنف کے اعصاب پر سوار رہتی ہے یا یہ بیان کہانی کی ضرورت ہے، آگے جاکر کھلتا ہے۔
محمد حمید شاہد کمال چابک دستی سے کتابی تصوراتی رومان کے لباس میں سے حقیقی زندگی کا لجلجا مریل بدن نکال لاتا ہے ۔
مصنف نے اسی کہیں حوالہ جاتی اور کہیں متوازی کہانی کے لیے لطیف فن کی تکنیک کو ’’جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی‘‘ میں برتا ہے۔ اس اندازمیں ایک جدت اور اِک پرُکشش سوچی سمجھی لغزش کو فنی حُسن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔یہ کہانی تو ریمنڈ کاروور کی تحریر کردہ افسانے ’کیتھڈرل‘ کے حوالے سے بیان کررہا ہے، بیچ بیچ میں جسیک ڈوکاج کے افسانے ’کیتھڈرل ‘کا حوالہ، امریکا انڈر اٹیک کا تذکرہ اور پورٹ اینجلس کے ادیب میکس کرافورڈ کا بیان یوں کہانی کی سطح پر اُبھرآتے ہیں جیسے سطحِ آب پرننھی مچھلیاں دم بھر کو منہ کھولے اُبھر آتی ہیں۔ کہانی تو غنی قندھاری، گُل جان، محسود قبیلے کے غیرت مند علی خان محسود اور ماضی کے افغانی قندھار کے انجیر،ناشپاتی اور انار کے اُجڑچکے باغات کی ہے پر بیچ بیچ میں نشاط کے شربتی چھینٹے اسے گُل رنگ کردیتے ہیں۔
صنعتِ تضاد کا استعمال کرتے ہوئے اس کہانی کے ’کیتھڈرل‘ سے عدم تعلق کو تعلق کی ایک نقرئی زنجیر سے منسلک کردیا جاتا ہے۔
ثقافتی تنّوع پاکستان کا خاصہ ہے اور اس کے ہمہ جہت روپ ملکی کلچرکو دِل فریب رنگوں اور اشتہا انگیز متنجن کا جی موہ لینے والا کولاج بنا دیتے ہیں۔ پنجاب و سرائیکی علاقوں کی کشادہ قلبی، اناج کے کھیتوں پر ٹھیرے لامتناہی سکون، درختوں کے جھنڈوں میں کُوکتی کوئل اوراُچھلتی کودتی گلہریاں، صبح صادق کے وقت لسی بلوتی محنتی عورتیں، بھوسالے جاتے اونٹوں کے قافلے، گلے میں جل ترنگ گھنٹیاں لٹکائے قطار میں چلتی بھینسیں، حُقّے گُڑگڑاتے تہمدیں سنبھالتے سَرپہ صافے ڈالے بوڑھے اورٹاپو کھیلتے لڑکے بالے خیبرپختون خواوگلگت بلتستان کے لمبے تڑنگے جری مرد، پتھر کوٹتے محنت کش، دیوقامت پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایستادہ مکانوں کے آتش دانوں میں دہکتے انگاروں میں ہَوادھونکتی باحیاعورتیں،دمکتے اُبلتے چشموں کے پانیوں سے پیاس بجھاتے مارخور، گنے کے رس میں لذیذ میوہ جات کی آمیزش سے گُڑتیار کرتے کاری گراورانجیر و شہتوت کو ٹھونگتی رنگ برنگی چڑیاں۔۔۔سندھ کے گیت گاتے ملاح وماہی گیر،صوفیوں کی درگاہوں کے صحنوں میں حال و قال کرتے ملنگ،نرم خو،میٹھے دھیمے مرد وزن، کیلے کے باغات کے وسیع ٹکڑے، اچار، مُربّا کی خوشبو سے مہکتے در و دیوار، آموں کے درختوں کی کھوہ میں چھپے توتے اور محبت میں گندھے خاندان بلوچستان کے ہیبت ناک ویرانوں کی گود میں پلنے والے غیرت مند آدمی اور سیب کی پھلولڑیوں سے چنے پھل چمکاتی باوفا عورتیں، بیش قیمت کانوں سے گراں مایہ زمرد و سنگِ مرمر نکالتے جفاکش،طویل سمندری ساحلوں پر سستاتے کچھوے اور پانیوں میں زندگی کرتے نایاب گھونگھے صدفے، پتھریلے میدانوں پر ناچتے بگولے اوربہار میں اشجار پرچٹختے شگوفے سونے کے پانی کے چھینٹوں سے شرابور ثقافت دیگر اقوام میں نایاب ہے۔
فیض احمدفیضؔ نے پاکستانی ثقافت پر اپنے دقیع مقالے میں کلچر کو عقائد و افکار، رسوم و رواج اور فنونِ لطیفہ میں تقسیم کیا ہے۔
محمد حمید شاہد کے افسانوں نے ایک انفرادیت پائی ہے۔ وہ فیضؔ کی بیان کردہ سہ شاخی تعریف سے دو قدریں (افکار و رسوم) چُن کر بلوچستان کو مرکزِ نگاہ بناتے ہیں، ایک علاقے کے ادیب کا اپنی ثقافت کو تحریر میں جذب کردینا انوکھی بات نہیں، البتہ کسی دوسرے خطے کو تخلیق کے لوکیل کا محور بنانا غیر معمولی ہے۔ ایک غیربلوچ ادیب کا قومی سطح پر بلند ہوکر بلوچ ماحول وحیات کی عکاسی کرنا مستحسن قدم ہے جو قاری کومتجسس بھی کردیتا ہے۔
’’برشور‘‘میں نوشکی، خاران کی اُجڑی وسعت، نصیر آباد کے نہری علاقے ، لورا، ٹِٹی کلی، مہول، پونگا، قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ کی کاریزیں، مستونگ کی بھیڑبکریاں، خضدار کی دِل جکڑنے والی ویرانی اور برشور کے متمول لوگوں کے بندوق، تلوار، خنجرکمان، گھوڑے اور قلعوں کا تذکرہ ضمنی بھی ہے اور مرکزی کہانی کے ساتھ یوں پیوستہ بھی جیسے بعض اوقات مردِ کارزار کی انگلیاں بندوق کے دستے میں پیوست ہوتی ہیں۔
اگلے روز جب ہم خد خان زئی ‘ میاں خان زئی ‘ طور مرغہ ‘ کڑی درگئی اور کِلی سرخان زئی کے علاقوں سے گزرے تو حد نظر تک درختوں کے کٹے تنے نظر آئے‘صاف پتا چل رہا تھا کہ یہاں کبھی سیبوں کے باغ تھے ‘ گھروں پر پڑے تالے مکینوں کی نقل مکانی کا نوحہ سناتے تھے ۔ یوں لگتا تھا، ایک عذاب الہی تھا جو پوری بستی کو روند کر نکل گیا تھا۔ بند خُوِش دل خان خشک پڑا تھا‘ پانیزئی نے بتایا کہ ہمارے بزرگوں میں سے بھی کسی نے اس بند کو پہلے خشک ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ گاڑی تِرائی سے اُوپر نکلی تو پانیزئی نے اِطلاع دی ’’ ہم برشور کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔ ‘‘ اُس نے اوپر پہاڑیوں کی تنی چھاتیوں کی سمت اُنگلی اُٹھائی اور کہا: ’’ آسمان سے ایک بوند بھی ٹپکے۔۔۔ اُن دو چوٹیوں کے بیچ سے پھسلتی نیچے دامن میں آ جاتی ہے۔‘‘
اُس کی انگلی پہاڑی کی ناف تک چلی آئی تھی‘ وہاں تک ‘جہاں زمین ہموار کرکے اُوپرتلے کئی تختے بنا دیے گئے تھے۔ انھی تختوں پر سیدھی قطاروں میں سیاہ لمبوترے نقطے سے نظرآتے تھے جو نیچے دامن تک چلے گئے تھے۔ کاکڑ نے بتایا تھا کہ وہ درختوں کے باقی رہ جانے والے ٹھنٹھ تھے۔ اُس نے یہ بھی بتایا تھا کہ جب باغ آباد تھا تو پوری وادی میں زمین کے ایک چپے پر بھی نگاہ نہ پڑتی تھی مگرہم نے جدھر دیکھا اُدھرجہنم کے شعلوں جیسی مٹی ہی نظرآتی تھی۔
بلوچستان کے دیہی، قصباتی، نیم شہری علاقوں سے ہٹ کر کوئٹہ، اس کے مضافات اور دیگر علاقوں کا حوالہ شامل کرتے ہوئے قالین باف اپنی کھاڈی پر چند اور سرخ وسیاہ تاگے چڑھاتا ہے اور اس سے ’’کوئٹہ میں کچلاک‘‘نامی افسانہ بنتا ہے۔ یہ آپ بیتی، مشاہدہ ،رپورتازاور غالباً تخیل کے ریشوں سے ترتیب پانے والی کہانی ہے جس میں سرکش عناصر اور کرداروں کو یوں کہانی میں پرو دیا جاتا ہے جیسے درویش کدے کے باہر کپڑے کی دھجیاں پروئی جاتی ہیں۔ اسی سے فقیر کدے کی تصویر مکمل ہوتی ہے۔ البتہ اس کہانی میں سنگلاخ و گستاخ کردار و جملے بہ ظاہر دوسرا رُخ بھی واضح کرتے ہیں۔ گو مصنف ایک باکرہ کی مانند اپنا دامن بچالے جاتا ہے۔
(Pastiche)لطیف فن کی لذیذ تکنیک اور ایک مخصوص ثقافت(بلوچستان) کے گرد سُرمئی کہانی بننے کا کُلّیہ استعمال کرکے محمد حمید شاہد اپنی آستین میں چھپا تاش کا ایک اور پتّا سامنے لاپھینکتا ہے۔ یہ ہے ’تکونی کہانی ‘ کا آزمودہ کُلّیہ۔ اس میں تین کردار ہوتے ہیں۔ دو مرد ایک عورت یا دو عورتیں ایک مرد۔ان کے بیچ رومان کا خفی یا جلی تعلق بنتا ہے جو یا تو دل میں محفوظ رہتا ہے، حسد کو جنم دیتا ہے، قبولیت کے کم یاب انجام پہ منتج ہوتا ہے، علیحدگی کے چرکے لگاتا ہے یا ان میں سے ایک کردار کے حذف/معدوم/ قتل/موت وغیرہ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
اسے شیکسپیئر نے ’’مڈسمرنائٹ ڈریم‘‘ الفونس دی سادے نے ’’دو کے لیے ایک ‘‘ اور سیگمنڈ فرائڈ نے آڈیپس کامپلیکس کی تفہیم کے دوران بیان کیا ہے۔ اردو میں ’’رقیب ‘‘ کی اصطلاح بھی انھی مفاہیم میں آتی ہے۔مصنف نے اسے ’’رُکی ہوئی زندگی ‘‘میں لطافت اور دل چسپی کے عناصر مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا ہے ۔ اس میں دو مردوں اورایک عورت کی غیرمرئی تکون ہے۔
دومرد، ایک عورت محبت کی کلاسیکی کہانیوں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ محمد حمیدشاہد نے اس تجربے کو افسانے ’’بند آنکھوں سے پرے‘‘میں بھی خوب برتا ہے۔ البتہ اس میں دَرآنے والا اتفاق فقط حُسنِ اتفاق نہیں۔ اس کا ایک اہم کردار لاعلمی میں دوسرے اہم کردار کے سامنے تیسرے اہم کردار کے متعلق ایک ایسا اعتراف کرتا ہے جو دوسرے کردار سے متعلق ہوتا ہے۔ یہ ڈرامائی عنصر کہانی کی جُڑت کو غیرحقیقی وغیر فطری نہیں کرتابلکہ کہانی کے بہاؤ کے ساتھ چلتا ہے۔
فن کار کے ’’بائی سکوپ‘‘ میں دیگر کئیمناظرہیں۔
ٹھیٹھ دیسی معاشرت، لوک روایات، خالص گھی سے الفاظ اورسرسوں کے تیل سے لدے ماحول سے وابستہ تراکیب کا گوڑھا چوکھا استعمال پنجابی معاشرت کی کھری عکاسی کرتے ہیں۔ یوں محمد حمید شاہد اپنی زمین سے کان لگا کر گہرائی میں سُرکتے بہتے ٹھنڈے ٹھار پانیوں کو تلاش کرتا ہے۔’’سورگ میں سور‘‘ میں کھیتی باڑی،بوائی کٹائی اور نیم کی چھاؤں میں سستاتے جان وَروں جیسی علامات پورے ماحول میں مونگ پھلی کے دانوں کی خشک دبی مہک پھیلا دیتی ہیں۔
اوپر کے جنوب مشرقی حصّے کی ساری زمین ریتیلی تھی ‘ ہم اُسے اُتاڑ کہتے۔ اُتاڑ کی زمین ایسی ریتیلی بھی نہ تھی کہ مٹھی میں بھریں تو ذرّ ے پھسلنے لگیں۔۔۔ریتیلی میرا کَہ لیں۔۔۔مگر اُسے میرا یوں نہیں کہا جا سکتا تھا کہ بارش کا جھبڑا پڑتا تو پانی سیدھا اُس کے اندر اُتر جاتا‘ اوپری تہوں میں ٹھیرتا ہی نہیں تھا۔ کئی دھوپیں جو لگاتار پڑ جاتیں تو وتر کا نشان تک نہ ملتا۔نیچے شمال مغربی حّصے کی زمین رکڑ تھی۔۔۔رکڑ بھی نہیں ‘ شاید پتھریلی کہنا مناسب ہوگا۔۔۔پتھریلی اور کھردری ۔ اس پر بھی پانی نہ ٹھیرتا‘فوراً پھسل کر گاؤں کو دو لخت کر تے نمیلی کَس میں جا پڑتا تھا۔ اس حّصے کے ڈھلوانی علاقوں میں کہیں کہیں ایسے ٹکڑے تھے جن میں وَترٹھیر جاتا تھا اور زمیں بیج بھی قبول کر لیتی تھی۔ایسے قطعات اتنا اناج اور چار ا اُگا ہی لیتے تھے کہ گاؤں والوں کے معدوں میں بھڑکتی آگ کے شعلے بجھتے تو نہ تھے تا ہم مدھم ضرور پڑ جاتے ۔۔۔ اور لہاریاں بھی بھوکی نہ رہتی تھیں۔سارے اُتاڑ میں بکریاں خوب چرتی تھیں۔ یہاں ہر نسل اور ہر مزاج کی بکریوں کی بھوک مٹانے اور اُن کے بَد نوں کو فربہ بنانے کا سامان موجود تھا۔ اپنے کھروں کو درختوں کے تنوں پر جما کر اوپر کی شاخوں سے رزق نوچنے والیوں کے لیے لذت بھرے پتوں والے مختلف النوع درختوں کے جھنڈ تھے‘ تھوڑا سا گردن کو خم دے کر چرے جانے اور آگے ہی آگے بڑھے جانے والیوں کے لیے جھاڑیاں اور بیلیں تھیں۔ بچھی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نرم و شیریں گھاس بھی ہر کہیں تھی کہ جسے بربریاں شوق سے کھاتیں اور اَپنی نسل تیزی سے بڑھاتی تھیں۔
جنس بِنا محبت حیوانی جذبہ ہے، انسان حیوان ہے سو کیا یہ قرینِ فطرت ہے؟ اگر نہیں،تو کیا وہ تمام پہلے سے طے شدہ بیاہ زنا بالجبر کے زمرے میں آئے جن میں شبِ زناف کو وظیفۂ زوجیت ادا کیا گیا؟اگر ہاں، تو بغیر محبت کے جنسی تعلق جدید تہذیبی دائرے سے نکل کر عیش پرستی اورسادیت کے زمرے میں آتا ہے۔ کیا عیش پرستی قابلِ نفریں ہے؟ اگر ہاں، تو کیا لذتِ کام و دہن، لذتِ سماع، لذتِ فقر عیش کے ذیل میں نہیں آئے؟ اگرنہیں، تو کیا ان میں باقاعدہ طے شدہ و تسلیم شدہ تفریق موجود ہے؟
لاتعداد سوالات ہیں اور اَن گنت جوابات۔
بڑی عمر کے مرد کو نوجوان بیوی کے لیے گیلی تھوتھنی والے جان وَر سے افسانے ’’تھوتھن بھنورا‘‘ میں تشبیہ دے کر مصنف نے متعدد سوالات اُٹھادیے ہیں۔ نوبوکوف کی ’’لولیٹا‘‘ ایک مرد مصنف کے قلم کی تخلیق ہے۔ ایک نوعمر لڑکی جو بڑی عمر کے مرد سے لذت و مستی کے تعلق میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ بہت سے مرد مصنّفین نے اپنی کہانیوں میں دوشیزاؤں کو بوڑھے مردوں سے محبت میں مبتلا کرکے غالباً اپنے لیے اُمید کا دروازہ کھلا رکھا ہے ۔ نسوانی جبلت اور جذبات پر شاید کوئی نڈر مصنفہ بہتر خامہ فرسائی کرسکے۔ البتہ مصنف کے ایک خیال سے اتفاق کیے بِنا بنتی نہیں ’’بڑی عمر کے مرد نوخیز بیویوں کا بہت لاڈ اُٹھاتے ہیں‘‘ واللہ اعلم بالصواب۔
محبت کی کوملتا تو محمد حمید شاہد نے بالکل نرم لچکیلے نسوانی ہاتھوں کی نازکی سے سنوارا ہے۔ بیوی سے شوہر کی محبت تو عین مصنف کی اپنی کہانی معلوم پڑتی ہے، جو یہ جابہ جا سطروں میں اُترآتی ہے۔ اولاپنجابی ثانیاً اُردو میں لکھی کہانی ’’آنٹھوں گانٹھ کمیت‘‘ میں بیوی کا تذکرہ لاڈ سے اُمڈہوا ہے۔
محمد حمید شاہد کے تحریری فن میں میلوڈراما کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ اس میں پلاٹ اوردیگر جزئیات اس درجے حواسی، ہیجان آمیز اور جذبات کو انگیختہ کرنے والی ہوتی ہیں کہ کردار نگاری ثانوی حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ اس میں زبان وبیان کو جذبات سے وابستہ کلیشے اورغیر کلیشے سے سجا دیا جاتا ہے۔ مصنف کے مزاج کی رنجیدگی کے پسِ پردہ حقائق میں ایک تو مصنف کے والد کی اس کی گود میں موت، ریاست کے معاملات میں بے ترتیبی وعدم توازن اور میلانِ طبع کے علاوہ تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے تو غالباً وہ المیے کے ذریعے اپنے تخلیقی اظہار میں آسانی پاتا ہے۔ دُکھ،Pathas،Melodramaبالعموم ایسی اصناف ہیں جو جلد قاری کے جذبات کو گرفت میں لے کر ادیب کے لیے آسانی فراہم کردیتی ہے۔
بالخصوص ماضی اور بالعموم حال کے ادب میں افسانہ اس طرح لکھا جاتا رہا ہے کہ اُس کا عنوان یا آغاز کہانی کے بہاؤ اور منطقی انجام کی خبر نہ دے۔ البتہ یہاں ’’دکھ کیسے مرتا ہے‘‘، ’’مرگ زار‘‘، ’’جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی‘‘، ’’سورگ میں سور‘‘، ’’رُکی ہوئی زندگی ‘‘ ، ’’گندی بوٹی کا شوربا‘‘ وغیرہ وغیرہ تخلیقی لحاظ سے عمدہ عنوانات تو ہیں اورفقط افسانے کے مزاج کی خبر دیتے ہیں کہانی اورانجام کی اطلاع فراہم نہیں کرتے ’’دکھ کیسے مرتا ہے‘‘ میں اسپتال،کیڑوں، لاشوں،تعفن، اندھیرا، دکھ وغیرہ قاری کی روح میں اُداسی گھول کر اُسے اُبکائی لینے تک لے آتے ہیں۔ اس میں دو متضاد، متوازی جذبات کا دل گیر پیرائے میں اظہار ہے۔
’’وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی‘‘احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’’سفارش‘‘ کی یاد دِلاتا ہے۔ اس کے اندازِ تحریرمیں سلاست، روانی اور سادگئ اظہار کے ساتھ تاثیر منشا یادؔ کے ہاں موجود اسلوب کی بھی یاددہانی کرواتا ہے۔ یہ ہلکے پھلکے انداز میں لکھا گھریلو افسانہ ہے جو ایک ایسے احسان کی نشان دہی کرتا ہے جو درحقیقت کیا نہ گیا ہوتا ہے۔
’’مرگ زار‘‘ اور’’برف کا گھونسلا‘‘ کو کوہ مری کے مرغ زاروں میں تشکیل دیا گیا ہے۔ ان میں ایک گہری دُھند ہے، مصنف کی مری میں تعیناتی سے دونوں افسانوں کا آغاز ہوتا ہے اور دل کو مَسل دینے والے حُزن پہ منتج ہوتے ہیں۔’’مرگ زار‘‘ میں بیانیے کی منفرد تکنیک استعمال کی گئی ہے جس میں مختلف مواقع پر مصنف قاری سے ہم کلام ہوکر نوٹ،وضاحتیں ، اندازے، اشارے اور علامتیں استعمال کرتا ہے۔ مری کے گہرے دودھیا بادلوں، چیڑکے درختوں، ٹھنڈی ہَواؤں، گیلی سڑکوں، قرمزی، جامنی، کلیجی، پیلے، سرخ رنگ پتّوں میں لیٹی، پہلو بدلتی کہانی ’’برف کا گھونسلا‘‘ ٹھٹھرتے ماحول اور یخ بستگی سے تپتے چہرے اور چڑیا کے مردہ پرَوں میں لپٹی موت پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس میں پرندے کی انسان سے مماثل ترکیب مستعمل ہے۔
اِنسان قیدی ہے۔ اِنسان اپنے حالات کے جبر اور اپنی سرشت کا قیدی ہے۔ اگر سرشت میں بہ یک وقت دو متضاد جذبات پنپ رہے ہوں، کعبہ وکلیسا کی طرح یا شیخ ورند خرابات کے مانند انسان کو دو جانب کھینچتے ہوں، جنس محبت پر غالب آتی ہو اور کبھی محبت بھی! نازکئ جذبات میں ہم خواب و ہم آغوش کے بجائے کوئی اور دِل رُبا خیالات میں آکر ہوس اور رومان کے بین بینِ لاشعور میں دھمال ڈالنے لگے تو یہ عین قرینِ حقیقت ہے اور بہت سے مردوں اور کئی عورتوں کی کہانی ہے۔ یہی محمد حمید شاہد کی کہانی ’’اللہ خیر کرے‘‘ ہے۔
’’منجھلی‘‘ میں مصنف نے ایک ایسے موضوع کو کہانی کا مرکز بنایا ہے جو اس معاشرے میں عام رائج ہے /رہاہے پر اس پر کم کم قلم اُٹھایا گیا ہے۔ اپنی اولاد میں سے کسی ایک بچے کو بھائی، بہن، عزیز، رشتے دار، کی گود دے کر اُن کی سُونی گود ہری کردینا غیر معمولی واقعہ نہیں ۔ کہانی کے ابتدائی نصف میں زیادہ تر مکالمے کے ذریعے بات آگے بڑھائی گئی ہے، انتہائی نصف میں بیان کو مکالمے کے ساتھ شامل کرکے خاندانی روایت کو سموتی دُبلی پتلی سانولی سلونی من مو ہنی کہانی بیان کی گئی ہے۔
’’جنریشن گیپ‘‘نامی افسانے کے آغاز میں گنترگراس کا ایک بیان درج ہے’’جب کوئی ادارہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ دو سو نوکریاں چھانٹ رہا ہے تو اس کے حصص کی قیمت جست لگا کر بڑھ جاتی ہے۔ یہ دیوانگی ہے۔۔۔گنترگراس)‘‘
شکار اور خانہ بدوشی انسانی سرشت کا حصہ رہے ہیں جن پر ابتداً زرعی اور ثانیاً صنعتی ادوار نے روک لگائی۔ روما کی تماش گاہوں میں ایک دوسرے کا خون بہاتے وحشی ومجبور انسان، ہسپانیہ کے کھیل کے میدانوں میں جنگلی درندوں کی سینگوں پہ اٹکے خون میں لت پت آدمی اور امریکا کے وسیع پنڈالوں کے بیچ لڑتے زخمی ہوتے سورما پہلوان اور باکسنگ کے کھلاری، خون بہتے دیکھنے کی انسانی لاشعوری خواہش کی تشفی کرتے ہیں۔ تہذیب کے رنگ روغن کے نیچے سے انسان اپنی درندگی کا تیز دھار لشکارا دِکھا ہی جاتا ہے۔ جدید دور کے کارپوریٹ ادارے اورمختلف دفاتر کام گا ہیں ہی نہیں ،کھیل کے میدان بھی ہیں جہاں اندرونِ خانہ تماشے سجتے ہیں اور بازیاں بدی جاتی ہیں، خوں بہایا جاتا ہے، حظ اُٹھایا جاتا ہے۔
یہ کہانی بھی افراد، اداروں اور ان عمارتوں کی غلام گردشوں میں جنم لیتے ان کے باہمی تعلق اُس کے نشیب و فراز اور ٹوٹنے بکھرنے کا تاثراتی بیان ہے۔
انسان اور جان وَر کے باہم موازنے اور علامات کی مدد سے نتیجہ خیز قصّے تراشنا نئی بات نہیں۔ البتہ محمد حمید شاہد نے دیسی گھی میں چپڑی ذائقہ دار’’پارو‘‘ نامی کہانی کچھ ایسے بُنی ہے کہ بِنا کہے بات کہہ بھی دی جائے۔ اس میں ولایت خان اور کھرلیوں کے پاس بندھی سوہنے بیلوں کی جوڑی ایک ہی طویلے میں بندھے نظر آتے ہیں۔ قصّے کا دیہی قصباتی رنگا بیان مصنف کے ذاتی مشاہدے کی دلالت کرتا ہے۔
’’حقیقت، تخیل، لذت، کراہت، مہک اور بساند کے بیچ ہلکورے کھاتی کہانی’’گندی بوٹی کا شوربا‘‘اپنے عنوان کی طرح دل چسپ و منفرد ہے۔ علامت کے کندھوں پر سوار ظاہر وباطن کی غلاظت کا اظہار کرتا یہ افسانہ مصنف کے استعمال میں آنے والے بیش تر تخلیقی وسائل کا جان دار اظہار کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ اسے محمد حمیدشاہد کے نمایندہ افسانوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ’’خواہش‘‘ کی رشتوں پر غلبہ پانے کی داستان رقم ہے اور خوب رقم ہے۔
سونی کے ذہن پردبیز دھند چھائی ہوئی تھی مگراس نے ایسا پھر بھی سوچ لیا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ مصروف تھے۔ اپنے کندھوں کو دباتے دباتے اس کی انگلیاں پھسل کر جب بغلوں کے اندر اتر گئیں تو اس نے وہاں بڑھے ہوئے بالوں پرجم جانے اورپسینے سے بار بار بھیگ کر کھردری ہوجانے والی میل کی تہوں کاا ندازہ لگایا۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے آنکھوں کومچ مچا کر ناک کواوپرتک کھینچ لیا کہ کھردری میل کی گیلی بساندھ کا تصور اس کی ناک کی ہڈی کے اندر کوے کی طرح ٹھونگیں مار رہا تھا۔ اپنے آپ کو اس طرح ٹٹولتے ہوئے اس نے ادبدا کر دائیں بائیں ہاتھ کی انگلیاں انگوٹھے پر جما ئیں اور ایک ساتھ سونگھ لیں۔ اس کا سارا معدہ حلقوم کی سمت الٹنے کے لیے زور کرنے لگا۔ اس نے اپنا پیٹ دبا لیا اور کلائیوں کے زور سے اسے دبائے رکھا حتی کہ پیٹ کے اندر سے اوپر کو اٹھتی اور اچھلتی ابکائی کا زور ٹوٹ گیا۔
اس کے ہاتھ ایک بار پھر نرمی اور نزاکت سے جسم پر تیرنے لگے ۔ اسے ،خود کوآہستگی سے،اور انگلیوں کو بدن پر تیراتے ہوئے چھو کر محسو س کرنا لطف دے رہا تھا۔ ایسے میں بدن پر چڑھی ہوئی میل کی تہوں کی بابت سوچناخودبہ خود معطل ہوگیا۔ ہاتھوں پر زور بڑھتا چلا گیا۔ وہ خود کووہاں تک مسل کر جگاتی گئی جہاں تک اس کے ہاتھوں کالمس جا سکتا تھا ۔ وہ اردگرد سے پوری طرح بے نیاز ہوگئی تھی ۔ اسی کیفیت میں پڑے پڑے اس کا دھیان نبیل اور اس کے باپ کی جانب ایک ساتھ گیاتھا۔ ایک عجب طرح کی اینچن اور اینٹھن میں گتھی ہوئی کیفیت اس کی نس نس میں کلبلانے لگی اور بے اختیار اس کے ہونٹوں پر پھسلا تھا ۔
’’کاش وہ اپنے باپ کے مرنے تک نہ آتا‘‘
’’پارا دوز‘‘ تین پارچوں پرمشتمل ایک ایسی کہانی ہے جسے مصنف نے مرکزی کردار اختیار کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ لذت اور نقاہت کے درمیان ڈگماتی یہ کہانی کچھ حد تک غیر واضح ہوتے ہوئے بھی اپنے ہر پارچے میں خاص حسیاتی نوعیت کا سامان رکھتی ہے۔
*
محمدحمید شاہد کے تخلیقی معاملات کے تجزیے سے قبل یہ جان لینا اہم ہے کہ ایک ادیب پانچ حسیات میں سے ایک یعنی حسِ بصارت سے دیگر حسیات کو بیدار کرتا ہے۔ وہ کرشن چندر کے ’’کچرا بابا‘‘ کی طرح حسِ شامّہ، غلام عباس کے ’’کن رس‘‘کے مانند حسِ سماعت اور دیگر کی طرح دوسری حسیات کو کس درجے متاثر کرتا ہے۔ ایک عمدہ ناول ، حسیات کا مونتاژ ہوتا ہے۔ بعض اساتذۂ ادب ایک مختصر اورموثر تحریر سے یہ جل ترنگ پیداکرلیتے ہیں۔ محمد حمید شاہد اپنے قلم سے حسِ بصارت، حسِ شامّہ اور حسِ باطنی کوخوب زندہ کرتے ہیں۔
ان کے ہاں مرکزی ادبی دھارے کے علاوہ کئی اقسام اور رنگا رنگ کے جھرنے پھوٹتے اور اطراف میں ادب کی پھلواریوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ وہ بنیادی طور پر دروں بیں، چند درجے روایت کے مقلد، تاثراتی تحریر کے گرویدہ ، حزن آمیز اور درد انگیزاندازِ تخلیق کے دل دادہ اورصاحبِ طرز ادیب ہیں۔
اُداسی اور دل گیری، بعض اوقات ، ان پر اِس طور وارد ہوتی ہے کہ کہانی کہنے کا شدیدجذبہ بہ ذاتِ خود کہانی سے بڑھ بڑھ جاتا ہے۔ موجودہ دورِ ابتلا میں ایسا قلبی تجربہ کسی حساس ادیب کے لیے انوکھا نہیں۔ البتہ اس جذبے کا کہانی کے ساتھ ساتھ چلنا احسن بات ہے۔
1930سے لے کر1980تک اردو افسانے کی طلائی نصف صدی تھی جب دیوپیکر ادیب میدان میں اُترے اور اپنا لوہا منوایا۔ اسی دور میں علامتی کہانی کا بھی چلن عام ہوا۔ خوب شان دار اور بامعنی علامتی کہانی ادب کے رُتھ پر سوارمیدان میں آئی۔ تہ درتہ، پیچ دار، ذائقہ دار، ہرجملے میں گویا مصرع اور ہر کہانی گویا ایک عمدہ پہیلی تھی۔ انتظار حسین، انورسجاد اور دیگر اس عمدہ نسل کے نمایندہ لکھاری ٹھیرے۔ اس صنف کی اوٹ میں چند ایسے احباب بھی پرورش پاگئے جو کہانی کے بنیادی جوہر سے نہ تو آگاہ اور نہ ہی آراستہ تھے۔ سو جب ٹٹی کے پیچھے سے وہ باہر آئے تو حروف ومعانی کی ایسی پٹاری لائے جس میں فقط کاغذ کے سانپ اور اصل کی مینگنیاں تھیں۔
ایسے میں اگر اسد محمد خان، منشا یاد، محمد الیاس، نیلوفر اقبال اور ان جیسے چنیدہ کہانی کار نہ ہوتے تو کہانی کی بساط بکھر چکی ہوتی۔ ان میں سے بیش تر فن کاروں نے روایتی کہانی میں علامت کا برمحل استعمال کرکے دونوں جہانوں میں اپنے آپ کو سرخ رُو کیا۔
محمد حمید شاہد نے اُس دور میں شعور کی آنکھ کھولی جب ادب دوراہے پر تھا۔ سو انھوں نے روایتی اور علامتی کہانی پہلو بہ پہلو کہہ کر افسانے کو ہر دو طرح کے ذائقے دیے۔ گو اُن کا نسبتاً مضبوط پہلو علامت کی الگنی پہ لٹکتی کہانی ہے۔ یہ خالص علامتی نہیں بلکہ رواں، شستہ، پرُمعانی کہانی ہے۔ ان میں علامت یوں بکھری ہے جیسے زردے کی اشتہا انگیز دیگ میں پستہ، بادام،کاجو اور اشرفیاں۔ چند کہانیوں میں وہ شعری اصطلاح میں معنی فی بطن شاعر (قاری کی نظر میں نا تکمیل شدہ اظہار) کی جانب بھی رخ کرتے ہیں پر ان کا شمار استثنیات میں ہوگا۔
بہ حیثیت مجموعی حمید صاحب روایت سے انحراف اور اس کی تقلید کے بین بین سفر کرتے ہیں۔ ان کے ہاں انفرادیت متن سے اُبھر کر عنوانات میں بھی وقوع پذیر ہوتی ہے جیسے سورگ میں سور، شاخِ اشتہا کی چٹک، گندی بوٹی کا شوربا، آٹھوں گانٹھ کمیت وغیرہ ۔

                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمدحسن عسکری کے بیان کے مطابق بعض اوقات داخلی تجربات اپنے لیے اسلوب پیدا کرتے ہیں تو بسا اوقات اسلوب (جو داخلی زندگی کی تفتیش کا ذریعہ ہے) نئے تجربوں کو وجود میں لاتا ہے۔ حمیدصاحب کے ہاں اسلوب نہ صرف داخلی تجربات کا نتیجہ نظر آتا ہے بلکہ مشاہدات کو بھی اس میں مداخل کرکے بیان کو کثیرالجہتی رنگ عطا کرتا ہے۔ عسکری صاحب ہی کی بات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ مصنف کے ہاں وہ بنیادی رو پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے جوقوم کی اجتماعی جستجو کی مرکزی روایت سے وابستہ ہے۔ یہ ادب کو سطحی مقام سے بلند کرکے گہری معنویت سے روشناس کرتا ہے۔

                                                 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لسانی اجزا یہ سلامت اور سادگی کی زباں کے آئینہ دار ہیں۔ ان میں اِدھراُدھر انگریزی اصطلاحات قصہ گو کی زبانی بھی بیچ میں در آتی ہیں اور اس خواہش کو جنم دیتی ہیں ’’اے کاش! ادیب اِن چند مقامات پر استادِ ادب کی کینچلی نہ اُتارتا اور قاری کی لسانی تربیت بھی کرتا‘‘ تو نظر اُن الفاظ و تراکیب کی جانب بھی چلی جاتی ہے جن سے مصنف نے اردو کو مزید زرخیز و بارآور کیا ہے۔ یہ بات ہے پنجاب کی ثقافت کے پس منظر میں تحریر کردہ افسانوں کی ۔ یہاں پنجابی رنگے الفاظ کا استعمال عین قرینِ فطرت اور زمین سے پھوٹتا ہوا ہے۔ بلوچ سرزمین اور پشتون ثقافت سے پھوٹتے چشمے افسانے کی روئیدگی اورسرسبزی میں کچھ یوں اضافہ کرتے ہیں کہ چاروں اور گُل و گُل زار بہار دکھانے لگتے ہیں۔ یہ بہار زندگی کی پیمبر ہے تو زخموں کے ہرے ہونے کی خبر بھی دیتی ہے۔ وحشت زدہ کے چاکِ گریباں اورگلاب کے پرُخار پودوں سے آبلہ بدنوں کی آشفتگی کی داستاں بھی تو ہے۔
اساڑھ میں بھڑولے بھرنے، چت کبرے کی تھرتھراتی صحت مند پشت، سینگوں اور کھروں پر تیل کی مالش ، ونڈے اور کترے کو اچھی طرح صاف کیے بھوسے سے ملا کر گتاوا بنانا، پنڈ کے مکانوں کے ویہڑوں(صحنوں) میں لسی بلوہنا، آسیب زدہ کو دہکائی دھونی کا آسرا کرانا، گوبر کی خشک اُپلیوں اور کیکر کی چواتیوں پر شعلوں کا رقص، سرکنڈے کے سرے پرکاغذ کی بھنبھری، کیکروں بیریوں، جھڑبیریوں اور کنیروں کو کاٹ کر بالن بنانا اور زمیں رنگ مونگ پھلیاں بننے تک افسانے کی ایک وسیع وعریض تیار فصل گاؤں اور قصبے کے بیچ بہتے کھالے سے سیراب ہوتی ہے۔
بلوچ ماحول میں سیب، انار، آڑو، آلوچہ، خوبانی، انگور کے باغات، ہرنائی کے زرخیز خطے، میچ، ڈیگاری، ہرنائی، چماؤلنگ کے سے کوئلے کے ذخیروں تک میوہ جات و معدنیات کا ایک مدھم جنگل ہے جس کے اوپرچھائی دھند میں سے ابھرتے ڈوبتے افسانے ایک طاقت وَر لوکیل کی بازیافت ہے۔
یہ طے شدہ امر ہے کہ محمد حمید شاہد کے بیش تر افسانے واضح طور پر معانی کا پرُتاثیر ابلاغ کرکے افسانوی ادب کے ایک اور اہم معیار پر پورا اُترتے ہیں۔
محمدحسن عسکری کے بیان کے مطابق بعض اوقات داخلی تجربات اپنے لیے اسلوب پیدا کرتے ہیں تو بسا اوقات اسلوب (جو داخلی زندگی کی تفتیش کا ذریعہ ہے) نئے تجربوں کو وجود میں لاتا ہے۔ حمیدصاحب کے ہاں اسلوب نہ صرف داخلی تجربات کا نتیجہ نظر آتا ہے بلکہ مشاہدات کو بھی اس میں مداخل کرکے بیان کو کثیرالجہتی رنگ عطا کرتا ہے۔ عسکری صاحب ہی کی بات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ مصنف کے ہاں وہ بنیادی رو پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے جوقوم کی اجتماعی جستجو کی مرکزی روایت سے وابستہ ہے۔ یہ ادب کو سطحی مقام سے بلند کرکے گہری معنویت سے روشناس کرتا ہے۔
شمس الرحمان فاروقی اظہارِ خیال پر اظہارِ واقعہ کو فوقیت دیتے ہیں کیوں کہ وہ قاری کے لیے خاصی جگہ چھوڑتا ہے۔ حمید صاحب کے ہاں قاری کو ایک وسیع چراگاہ میسر آتی ہے جہاں وہ تخیل کے گھوڑے دوڑا سکتا ہے اور معانی و مفاہیم کی ایک دنیا آباد کرسکتا ہے۔ گویا یہ ایسی رصدگاہ ہے جہاں سے آسمانِ خیال پر روشن ستارے (اوران سے جلاپانے والے سیارے) دید ہائے مشتاق کو پوری تاب سے میسر ہیں۔
محمد حمید شاہد اِندر کے آدمی ہیں،مالپومین کی نسل سے ہیں اور دور آسمان میں دھواں دھواں نگاہوں سے تاروں سے سوا کچھ اور بھی دیکھتے ہیں۔ ممکن ہے باہر وہ وہی کچھ دیکھتے ہوں جس سے اندر، وجودِ انساں میں ایک لامحدود کائنات آباد ہے، جسم تو شاید فریبِ نظر ہے جو نفس کو معینہ مدت کے لیے اڑھا دیا جاتا ہے۔آتش پوش کہتا ہے، خوب کہتا ہے، بدن حقیقت ہے۔ وگرنہ اس کے کردہ پر سزا وجزا کیوں کر۔ وہ کہتا ہے ’’تم انسان مکر کرتے ہو، مہامکارہو۔سچ کو فسانہ، فسانے کو حقیقت، بے معنی کو معرفت اور معرفت کو اشتباہ کہتے ہو۔ بہرحال جو بھی کہتے ہو، فقط کہتے ہی ہو، پر کہتے خوب ہو۔‘‘

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *