M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|ادبی شہر اور سماجی ترقی کا خواب

محمد حمید شاہد|ادبی شہر اور سماجی ترقی کا خواب

یہ سن 2004 ء کا واقعہ ہے کہ یونیسکو(UNESCO) نے اپنے پروگرام’’ تخلیقی شہروں کا نیٹ ورک‘‘(Creative Cities Network)کے تحت یہ فیصلہ کیا تھا کہ پہلے ’’ سٹی آف لٹریچر‘‘ کا اعزازاسکاٹ لینڈ کے خوب صورت تہذیبی شہر ایڈن برگ کو دیا جائے اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔ اب تک دنیا کے بیس شہر ، ’’ادبی شہر‘‘ قرار پائے ہیں ۔ ادب کے انہی بیس شہروں میں بار سلونا بھی ہے ،جس میں اسی سال اپریل میں ادبی شہروں کے ادیبوں کا سالانہ اجتماع ہوا۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگلے سال یعنی سن 2018ء میں یونیسکو سے ’’سٹی آف لٹریچر ‘‘کا اعزاز پانے والے شہروں کی میٹنگ ایک ایسے شہر میں ہو گی جسے دس سال پہلے ’’ادبی شہر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ جی، میری مراد’’سٹی آف لٹریچر،آئیوا‘‘ سے ہے ۔ یونائیٹڈ اسٹیٹ کایہ شہر محض اس لیے مشہور نہیں کہ یہ دو دریاؤں کے درمیان خوب صورت علاقے میں واقع ہے۔ اس کا ایک حوالہ ادب ہے اور یہ ایسا حوالہ ہے جس پر شہر کے لوگ فخر محسوس کرتے ہیں ۔
صاحب، ایک ایسے زمانے میں کہ جب ، سرمائے کے ارتکاز اور بڑھوتری کی بگی میں غلاموں کی طرح جتا ہوا سماجی ترقی کاگھوڑا، تہذیبی ، ثقافتی اور ادبی مظاہر کے سارے باغ باغیچے اور پھول بوٹے اپنے قدموں تلے کچل کر آگے بڑھ رہاہو ، ادبی شہر کی خبر پڑھنا مجھے لطف دے گیا ہے ۔ ایسے میں مجھے وہ اسطورہ یادآئی ہے جو گزشتہ برس چین میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران میں نے نیپال کے ادیب دوست ڈاکٹرجیویندرا دیو گری سے سنی تھی ۔ ڈاکٹر دیو گری کے مطابق نیپال بھر میں مشہوراس اسطورہ میں بتایا گیاتھا کہ کوئی دوہزار سال پہلے کھٹمنڈو وادی محض پانی کا ذخیرہ تھی ۔ تب منجوشری چین سے وہاں پہنچا ۔ اس کے ہاتھ میں شعلے اُگلتی ہوئی تلوار تھی ۔ منجوشری پانی کی اس وسیع جھیل کے جنوبی حصے کی طرف گیا اور وہاں چوبھار پہاڑ پر اپنی تلوار سے وار کیا۔ یہ وار بہت کاری تھا کہ پہاڑ کا ایک ٹکڑا ہی وہاں سے اڑ گیا تھا ۔ بس پھر کیا تھا،جھیل کا سارا پانی بہہ نکلا ۔ اب کھٹمنڈو وہیں آباد ہے ۔ ڈاکٹر دیو گری کے لیے منجو شری جھیل کا خاتمہ انسانی زندگی کے لیے اہم تھاکہ وہاں انسان بس گیا تھااور یہ بھی کہ ڈاکٹر صاحب ہماری طرح ترقی سے محروم ملک سے تعلق رکھتے تھے لیکن چین کے ناول نگارفآن وِن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہی بے ہنگم اور بے رحم سماجی ترقی تھی جو انسانی نفسیات کو کچل رہی ہے ۔ فآن وِن کا تعلق صوبہ ینان سے ہے ، مجھے یاد ہے اس نے کہا تھا ’’ہم ینان کے لکھنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے قدموں تلے کی وسیع زمین کو، اور اس وسعت میں پھیلے ہوئے اور بسے ہوئے لوگوں کیسے شناخت کریں۔ چین کے وسیع لینڈ سکیپ میں رکھ کر دیکھیں تو صوبہ ینان میں چھپن مختلف نسلی گروہ ہیں اور لگ بھگ پچیس متنوع تہذیبیں ہیں اور ان سب کو ایک تیز تبدیلی کے دھارے کا بھی سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا ،سماجی ترقی کے نام پر تہذیبی ترقی اور روایات کو کیسے قربان کر دیا جائے ۔ ابھی اس خوب صورت زمین کے تاریخی اور ثقافتی خزانوں کی پوری طرح سامنے نہیں لایا جاسکا ہے ، ادب ہی اس مشکل سے ہمیں نکال سکتا ہے اور اس خزانے کو انسانیت کی جھولی میں ڈال سکتا ہے ۔
بے رحم سماجی ترقی کا دھارا ، کیا کچھ ملیا میٹ کر سکتا ہے ، ہمارے پالیسی ساز اداروں کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہے ۔ہم اس پر خوش ہیں اور بجا طور پر خوش ہیں کہ گوادر پورٹ اور اکنامک کوریڈور کے راستے ہمارے لیے سماجی اور معاشی ترقی کے امکانات کے کئی دروازے کھل رہے ہیں۔ یہ عمل جاری رہنا چاہیے مگر اسی سارے ترقیاتی دھارے کو بے ہنگم نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا رخ انسانی تہذیب کی طرف ہے بنجر علاقوں کی طرف نہیں ۔
’’سٹی آف لٹریچر‘‘ کی خبر نے مجھے وہ زمانہ یاد دلایا کہ جب ہمارے ہاں شہر بھی ادبی دبستان ہونے کی وجہ سے شناخت پاتے تھے ۔ دہلی کا دبستان کسے یاد نہ ہوگا میرتقی میر،سودا، میر درد، ذوق، غالب ، مومن ، وہ شہر معزز ہوا تو انہی کے دم قدم سے ۔ لکھنو کا دبستان اپنی الگ شناخت رکھتا تھا ۔ مصحفی ہوں یا آتش ، انشا ہوں یا ناسخ اس شہر کا وقار تھے ۔ بہت پیچھے کیوں جائیں کل تک، حسن عسکری ، سلیم احمد سے جون ایلیا تک کراچی شہر کی پہچان تھے۔ یہ کبھی روشنیوں کا شہر تھا اور اپنے ہاں منعقد ہونے والے عالمی مشاعروں کی وجہ سے توجہ کا مرکز رہتا تھا ۔ منٹو سے انتظار حسین تک ادیبوں نے ہی لاہور کا چہرہ بنایا ۔ پاک ٹی ہاؤس لاہور کی پہچان بنا کہ اس میں ادیب بیٹھا کرتے تھے ۔ اسلام آباد کے سڑکوں کے نام ادیبوں کے نام پر رکھے جاتے رہے جس سے شہر کا چہرہ کھردرا نہیں رہا۔ مگر اب یوں لگتا ہے ہم سماجی ترقی کے نام پر سب کچھ مسمار کر دینے پر ہم تلے بیٹھے ہیں ۔ ہمیں اس کا احساس کیوں نہیں ہو پارہا کہ میٹرو کی اپنی اہمیت ہے اور لائبریوں کے قیام کی اپنی اہمیت ، منافع کمانے والے اداروں اہم سہی مگر انسان کو انسان بنانے والے ادارے اس سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتے ہیں ۔
کسی بھی شہر کو ’’سٹی آف لٹریچر‘‘ تسلیم کرنے کا جو معیار یونیسکو نے وضع کیا ہے اس کے مطابق اس شہر میں مختلف النوع ادبی سرگرمیوں کے مواقع کا ہونا ضروری ہے۔ اس شہر کے بدن میں ادب کو روح کی طرح موجود ہونا چاہیے یا یوں جیسے شریانوں میں لہو دوڑتا ہے اور یہ ایسے ہی ممکن ہوپائے گا کہ اس شہر میں ادیب اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی سلامتی کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہوں ۔اس شہر میں مقدار، معیار اور تنوع کے اعتبار سے ادبی سرمایہ موجود ہو اور مسلسل تخلیق کیا جارہا ہو ۔ وہاں کے اشاعتی اور نشریاتی ادارے کے لیے ادب اور ادب ترجیحات میں بلند تر درجے پر ہوں۔ تعلیمی اداروں، تعلیمی نصابات اور تعلیمی سرگرمیوں میں ادب ، ادب کی تعلیم اور تخلیقی عمل کو حصہ بنایا جا رہا ہو ۔ یہ پرائمری درجے کی تعلیم ہو یا سیکنڈری اورہائر ایجوکیشن ، ہر ہر مرحلے میں ادب اس کا حصہ ہو ؛یہ آپ کی اپنی زبان کا ادب ہے اور بین لاقوامی زبانوں میں لکھا جانے والا ادب بھی۔ اس شہر میں مقامی اور قومی زبانوں میں لکھے جانے والے ادب کو بین لاقوامی زبانوں میں ، اور بین الاقوامی ادب کو مقامی اور قومی زبانوں میں منتقل کرنے کے ترجمہ گھر ہونے چاہئیں ۔ شہر میں لائبریریاں اور ریڈنگ کلب ہوں، ایسے ادارے ہوں جو ادب اور ادیب کی خدمت پر مامور ہوں ، انہیں مکالمے کے مواقع اور سہولتیں فراہم کرے ، ان کی تخلیقات کو قارئین تک پہنچانے کے لیے وسائل فراہم کریں ، ایسی اجتماع گاہیں ہوں جہاں ادبی اجلاس ہو سکیں ، مشاعرے ہوں ، افسانے سنائے جائیں ، ڈرامے ہوں ، ادبی کانفرنسیں اور ادبی میلے ہوں ۔ایک شہر کو’’سٹی آف لٹریچر‘‘ بنانے کے جتنے قرینے یونیسکو کے سجھائے ہیں کیا ان میں سے چند ایک ہی ہمارے پالیسی ساز اداروں کی توجہ پا سکے ہیں؟page16
ادب کا تخلیقی تجربہ انسانی تجربے سے الگ کوئی شئے نہیں ہے یہ ایک لحاظ سے تہذیبی اور ثقافتی تجربہ ہے اورمیں پورے یقین سے کہتا آیا ہوں کہ جس انسانی گروہ کے پاس ثقافت اور تہذیب نہیں ہوتی وہ نہ صرف تخلیقی سطح پر بانجھ ہوجاتا ہے اپنے رویوں میں دوغلا اور منافق ہوتا ہے وہ اپنی ہی نوع کے دوسرے گروہ کو سمجھے بغیر اسے رد کرنے اور اس پر ظلم ڈھانے سے بھی نہیں چوکتا ۔ محض صنعتی اور تجارتی زندگی پر انحصار کرکے کوئی شہر تخلیقی نہیں ہو سکتا ۔ شہر کے اندر تخلیق روح بیدار کرنے میں ادیب ہی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ جہاں ادبی ، تہذیبی اور ثقافت سرگرمیاں مر جاتی ہیں وہاں شہر بھی محض عمارتیں رہ جاتے ہیں ۔ افتخار عارف نے کہا تھا :
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
تو یوں ہے کہ شہر مکان جیسے نہیں ہوتے ، گھر جیسے ہوتے ہیں ۔ اور ہاں ، یہاں مجھے یہ وضاحت کردینی چاہیے کہ میں سماجی ترقی کا دشمن نہیں ہوں مگر ایسی ترقی کے تصور کو بھی پسند نہیں کرتا جس میں ماضی کی ہر نشانی کو ملبے کا ڈھیر بنانے لازم ہو جاتا ہے ۔ تسلیم سماج کو معاشی طور پر کچھ پانے کے لیے انفرااسٹریکچر تعمیر کرنا ہوتا ہے اوراس کے لیے موجود کی کسی نہ کسی سطح پر تخریب ضروری ہے لیکن خاطر نشان رہے کہ سماجی ترقی جہاں فکر کی نئی راہیں کھولتی ہے وہیں ادب قدیم تہذیبی روایات کے مظہر کے طور پر ہر دم تازہ دم ہوتی ثقافتی روایات سے معاملہ کرکے اسے قابل قبول بنادیا کرتا ہے ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *