M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / فاروق سرور|شاندار ماڈرن ادیب محمد حمید شاہد چاہتے کیا ہیں؟

فاروق سرور|شاندار ماڈرن ادیب محمد حمید شاہد چاہتے کیا ہیں؟

ادب سیر فاروق سرور

قصہ ایک افسانہ نگار اور ان کی افسانوی دنیا کا
میکسم گورکی کی تلاش اور افسانے کی نئی تکنیکی کتاب
محمد حمید شاہد اور انکے جدید رجحانات
کیٹس ،شیلے اور ویلیم ورڈزورتھ کی فطرت پرستی
اردو زبان کے شاندار ماڈرن ادیب محمد حمید شاہد چاہتے کیا ہیں؟

موجودہ وقتوں میں محمد حمید شاہد ،اردو افسانے کا ایک محترم نام ہے۔حال ہی میں انہوں نے اردو افسانے کے لکھنے کے حوالے سے اپنے تجربات لکھے ہیں کہ افسانے کو کیسے لکھا جاے اور اس کی بنت کاری کس طریقے کی ہونی چاہیے اور اکیڈمی ادبیات پاکستان نے انہیں کتاب کی صورت میں چھاپہ ہے،جو میرے مطابق ایک بہت ہی اچھا اور اعلی پائے کا کام اور کاوش ہے ۔اکثر دوست اس کتاب سے ناراض ہو رہے ہیں،ان کا یہ کہنا درست ہے کہ افسانہ کسی سائیکل یا موٹر سائیکل کا میکینکل قسم کا کام تو نہیں،جو وہ نئے لوگوں کو سکھانا چاہتے ہیں ۔یہ اعتراض بالکل جائز ہے،واقعی افسانے کی دنیا کسی استاد اور اس کے چھوٹو کی دکان نہیں ، لیکن ادب، ادب ہوتا ہے اور اس کا اپنا ایک سلیقہ ،چونکہ موصوف کا نام افسانے کی دنیا میں اچھی شہرت کا حامل ہے،تو کون سا گناہ ہوا اور کیا خطا ہوئی کہ اس خاموشی ، دہشت گردی اور خوف کے ماحول میں ادب کی دنیا میں ان کی آواز اٹھی۔میرے اعتراض کرنے والے دوستو،یہ تو ایک اچھا شگون ہے۔دیکھتے ہیں کہ اس فن کا ماہر ، افسانے کے لکھنے کو کس طریقہ سے بہتر سمجھتے ہیں اور ان کا اس بارے میں کیا خیال ہے،اس کا اندازہ تو ان کی اس نئی کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی ہوگا،جب وہ اسے ہمیں تحفے میں بھیجیں گے ۔ میرا خیال ہے کہ کسی کے تجربات سے فائدہ اٹھانا بری بات نہیں ۔ارے بابا ! میکسم گورکی کے خطوط کو دیکھیے، وہ ایسے ہی موتیوں کی تلاش میں رہتے تھے. البتہ اگر کوئی بات ہم لوگوں کو اس کتاب میں اچھی نہیں لگتی اور ہم اس کو افسانے کے بہت بڑے ماہر اور انقلابی ہوتے ہوئے غیر ضروری سمجھتے ہیں ۔اسے نظر انداز کر دینا چاہیے،ضروری نہیں کہ ہم اسکو مانتے چلے جائیں،البتہ ان کے یعنی محمد حمید شاہد کے ایکسپرٹ ہونے میں کوئی شک نہیں،یہ ایک حقیقت ہے کہ افسانے کے میدان میں تنقید کی بہت کمی ہے۔ چلیے یہ ایک بہترین تنقیدی کتاب ہی سہی اور پھر ایسے بہترین قلمکار خاموش بیٹھنے کی بجائے،اگر لکھنا شروع کردیں ،تو کونسی بری بات ہوئی،آخر کیا قیامت آن ٹوٹی۔

شکریہ جنگ کوئٹہ 20 ستمبر 2017 : صفحہ 5 : ادب سیر : فاروق سرور

میرے پیارے بزرگو! قربان ہوجاؤں،صدقے جاؤں، آپ کے اعتراضات پر ،جو آپ نے فیس بک میں کیے ہیں،ابن انشا نے”اردو کی آخری کتاب“ اورمحمد حسین آزاد نے” اردو کی پہلی کتاب “ لکھی تھی ،جب کہ سوال صرف نام کا تھا،یہ دو کتابیں تو اردو کی اس بہت بڑی دنیا میں نہ ہی اردو کی پہلی کتاب ہوئی اور نہ آخری ،سو موجودہ کتاب بھی ایک خدمت ہی ہے،افسانے کے تکنیک کے نام پر دنیا کی واحد کتاب تو نہیں ہوئی نا ، تو میرے پیارو ! لوگوں کو کام کرنے دو، اچھے لوگوں کو کوئی بھی، ناراض نہیں کیا کرتے۔میں تو ، اپنی جانان زبان پشتو میں ، محمد حمید شاہد کو زندہ باد کہتا ہوں۔استاد محترم آگے بڑھتے ہی جایئے۔روڈ کے خراب ہونے کی پرواہ مت کیجئے۔یہ کھردرے روڈ کبھی بھی ہم جیسوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے۔سو نہ بڑھنے دیں، لیکن ہم اپنا کام کرتے جائیں گے۔ اب ہماری پیاس یہاں مزید بڑھ جاتی ہے کہ اس بات کا تو ہم اقرار کرتے ہیں کہ محمد حمید شاہد موجودہ زمانے کے اردو افسانے کے بادشاہوں میں سے ایک ہیں،لیکن ایسا کیوں ہے اور ان کے فن میں وہ کونسی بڑی خوبی ہے کہ ہم ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں؟اور اب تو وہ اردو کی اعلی پائے کی ایک شاندار تکنیکی کتاب بھی لکھ گئے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو محمد حمید شاہد اس وقت اردو زبان کے بہت سارے افسانوں کے خالق ہیں اور ان کے کئی افسانوی مجموعے بھی ہیں،لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئ کہانی میں خوبیاں کیا ہیں اور وہ کیوں اس بات کے حقدار ہیں کہ ہم انہیں modern masters of present short story میں شمار کرتے ہیں ؟
چونکہ کالم کا دامن تنگ ہے اور اسی تنگی کی وجہ سے ہم اس موضوع پر وضاحت کے ساتھ بات نہیں کر سکتے،اسی لیے میں صرف ان کے ایک افسانے پر بات کروں گا جس کا عنوان ہے”کیس ہسٹری سے باہر قتل”
ہمارے اس قابلِ احترام دوست کو ہم جدید دور کے اردو کا Thomas Hardy یا ڈی ایچ لارنس کہینگے یا کہہ سکتے ہیں۔
انگریزی زبان کے یہ دو اہلِ قلم Hardyاور Lawrence اپنی تخلیقات میں موجودہ مشینی دور کے حوالے سےاس بات پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اس مشین نے ہمیں فطرت کی خوبصورتیوں،خوبصورت انسانی اقدار اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کے عمل سے دور کر دیا ہے۔
محمد حمید شاہد کی تخلیقات اور بطور خاص”کیس ہسٹری سے باہر قتل”میں بھی انسان مریض بن رہے ہیں،وہ عدم توجہی کا شکار ہیں،دولت کو کمانے کا دھن ان کے سر پر سوار ہے اور ردعمل کے طور پر وہ دل کے دوروں کی وجہ سے ہم سے دور ہوتے جارہے ہیں۔اگر محمد حمید شاہد کی ذات کے حوالے سے میں اپنا شخصی تجزیہ پیش کروں،تُو وہ خود بھی اپنے کرداروں کی طرح ہیں،جو modern urbanization کو پسند نہیں کرتے۔کیونکہ ہمارے یہ اُستاد محترم ان لوگوں میں سے ہیں ،جو افسانہ لکھنے والوں کی انتہائی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی شہرت ہے،تو یہ صاحب ہر وقت میری ان کہانیوں کی تعریف کرتے ہوئے مجھے ملیں گے،جو میں نے گاؤں یا دیہات کی زندگی کی خوبصورتی کے حوالے سے لکھی ہوئی ہوں گی ۔ان کے اس رویہ سے مجھے پتہ چلتا ہے کہ وہ ادب میں ان تحریروں کو بہت پسند کرتے ہیں،جن میں فطرت کی منظر کشی کی گئی ہو۔در حقیقت محمد حمید شاہد کا یہ رجحان واضح طور پر ہمیں بتاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک رومانوی شخصیت کے مالک ہیں اور کیٹس ،شیلے اور ویلیم ورڈزورتھ کی طرح وہ آزادی اور نیچر کی دوستی کو اہمیت دیتے ہیں۔درحقیقت وہ فطرت ،خلوص اور پیار و محبت کوہی انسان کی دولت تسلیم کرتے ہیں۔ اسی لیے اردو ادب میں ہمیں ،وہ اپنے اس ماڈرن نکتہ نظر کے ساتھ اچھوتے اور الگ تھلگ نظر آئیں گے کہ ہمیں فطرت کی طرف لوٹنا چاہیے اور یہی ہماری منزل ہے۔

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

                      شکریہ جنگ کراچی : http://e.jang.com.pk/08-09-2017/karachi/page14.asp …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *