M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد |بلراج مین را کی وفات پر ایک تعزیتی نوٹ

محمد حمید شاہد |بلراج مین را کی وفات پر ایک تعزیتی نوٹ

2862372_21088788.jpg.pagespeed.ce.q2k1t3wxyL
http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2017-01-17&edition=ISL&id=2862372_21088788

بلراج مین را:
کلیشے کا طلسم توڑنے والا افسانہ نگار چل بسا

’’کئی بار میرے پاؤں پھسلے اور ہر بار یوں ہوا کہ پسلیوں کا جال کیلوں میں پھنس گیا ۔ آنکھوں کے گہرے گڈھے کیلوں میں الجھ گئے اور میں ٹنگ گیا اور ہر بار میں نے کیلوں میں پھنسا ہوا جال اتارا، نوکیلی کیلوں میں الجھے ہوئے آنکھوں کے گڈھے علیحدہ کیے اور پھر ایک ایک کیل پر پاؤں جماتا چھت کی جانب بڑھا۔ دیواریں کتنی اونچی تھیں اور چھت کون سے آسمان پر تھی ، کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ کوئی ستارہ نہ تھا‘‘
میں نے بلراج مین را کے افسانے’’ مقتل ‘‘سے ایک ٹکڑا یہاں مقتبس کیا ہے ، یہ واضح کرنے کے لیے کہ وہ کیا اسلوب تھا جس کی طرف ترقی پسندوں کے بعد بلراج مین را، ڈاکٹر انور سجاد اور سریندر پرکاش جیسے افسانہ نگاروں نے اُردو افسانے کا رُخ موڑ دیا تھا۔ اسی اسلوب میں رشید امجد نے نام کمایا، پھر کہانی کو افسانے میں مربوط کیا اور ابھی تک تخلیقی عمل سے جڑے ہوئے ہیں۔ ترقی پسند افسانے کے بعد اردو افسانے پر جو دریچہ ان افسانہ نگاروں نے کھولا تھا اس میں پہلے سے طے شدہ مقصد کے لیے کہانی لکھنے والا فارمولا لائق اعتنا نہیں رہا تھا ، یہ الگ بات کہ بعد میں علامت نگاری اور تجرید کاری ( جو کہانی میں حسن بن کر ظاہر ہوتی تھی) فیشن ہو کر خود ایک فارمولا ہو گئی تھی ۔ تاہم علامت اور تجرید کے اس تجربے نے ہماری نثر لکھنے کی صلاحیت کو نکھارا اور متن میں کئی تہیں رکھ لینے کا قرینہ سکھایا ۔ اردو ادب کے ان محسنین میں سریندر پرکاش ۲۰۰۱ ء میں وفات پا گئے تھے ، ڈاکٹر انور سجاد بہت پہلے افسانے سے دور ہوئے اور ان دنوں شدید علیل ہیں اور لاہور میں ہیں جب کہ بلراج مین را ، اگرچہ گزشتہ ۳۰ سال سے کہانی نہ لکھ رہے تھے مگر سال بھر پہلے ان کا ایک مکالمہ سننے کا اتفاق ہوا تویہ جان کر اچھا لگا کہ وہ مسلسل مطالعے کو وتیرہ کیے ہوئے تھے ۔ اس مکالمے کے محرک شمیم حنفی اور زمرد مغل تھے۔
15 جنوری 2017 اتوار کی صبح زمرد مغل سے فون پر بات ہو رہی تھی ، تب تک سب ٹھیک تھا ، دوپہر کو انہوں نے دلی سے خبر دی کہ’’ جدید اردو کہانی کا بہت بڑا نام بلراج مین را ہم میں نہیں رہا‘‘، اتوار کی شام چند لوگوں کے بیچ ان کی میت راکھ ہو گئی،تومجھے لگا اردو کہانی کا ایک باب تمام ہو گیا تھا ۔
بلراج مین را ۱۷ جون ۱۹۳۵ء کو ہوشیار پور پنجاب میں پیدا ہوئے تھے ، دلی میں ہائر سیکنڈری تک تعلیم پائی ، خود بھی کہتے تھے میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں مگر انہوں نے عالمی ادب کے بھرپور مطالعے سے اس کمی کو پورا کیا ۔ افسانوں کی تعداد گنی چنی ہے یہی کوئی پینتیس ہیں کل،محض ایک مجموعہ تھا ’’سرخ و سیاہ‘‘ ۔ شاید یہی سبب رہا ہوگا کہ ۱۹۹۱ء میں اکادمی ادبیات پاکستان نے ڈاکٹرمرزا حامد بیگ سے اردو افسانے کی ضخیم تاریخ اور انتخاب ’’اردو افسانے کی روایت ‘‘کے نام سے مرتب کروا کر چھاپی تھی تو اس میں بلراج مین را کا کوئی افسانہ شامل نہ تھا ۔ خیر “مقتل ” 2007 میں چھپا، اور اس سے پہلے ہی ،اس سب کے باوجود بلراج مین را کے نام کا ایک باب اردو افسانے کی تاریخ کا حصہ ہو گیا تھا۔
آخر بلراج مین را میں وہ کیا ہے جو انہیں اردو افسانے کا ایک دلچسپ باب بنا گیا ہے، اس گتھی کو محمد سلیم الرحمن نے یوں سلجھایا ہے:
’’یہ غور کرنا لازم ہے کہ مین را نے اپنے افسانوں میں ایسی کیا جدت پیدا کی جس کی مثال جدیدیت پسند ادیبوں کے ہاں کم ملتی ہے ۔ ویسے بھی تقلیدی جدیدیت پسندوں کے پلے ہے کیا جس سے اعتنا کیا جائے؟بیسویں صدی کے نصف آخر میں دنیا جس تیزی سے بدلی (اور اب بھی اس کی برق رفتاری پریشان کن ہے)اس کے پیش نظر مین را نے بہت پہلے ادراک کر لیا تھا کہ پرانی طرز کی حقیقت نگاری یا ترقی پسندی نئے ماحول سے نباہ کرنے سے قاصر ہے۔نیا افسانہ کس طرح کا ہونا چاہیے ، اس میں کیا کچھ کہا جاسکتا ہے، یہ سب مین را نے کرکے دکھا دیا ۔ اس کے افسانوں کی تیز رفتاری، اختصار، فلم کی طرح تصویری پیکروں یا منظروں میں تحرک اور بے قراری، بیانیے میں بہ ظاہر بے ربطی، مگر غور سے دیکھنے پر ایک تہ نشین ربط آشنائی، بیانئے میں بیچ بیچ میں آہستہ روی کے پیوند، جن سے اردگرد کی مضطرب اور بھیانک فضا اور اجاگر ہو جائے۔اس پہلو کا خیال رکھنا کہ کوئی افسانہ خواہ کتنی ہی بندشوں میں الجھا ہوا ہو سیاسی معنی اور کیفیت سے خالی نہ رہے۔‘‘
بلراج مین را کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلی کہانی سن ستاون میں لکھی تھی ۔ اس کہانی کا نام ’’بھاگوتی‘‘ تھا جو ساقی کراچی میں شائع ہوئی تھی۔ جب کہ دوسری کہانی’’ہوس کی اولاد‘‘ سویر ا لاہور میں جبکہ تیسری کہانی اشفاق احمد نے لیل و نہار میں چھاپی تھی۔ بلراج مین کی جب چار کہانیاں چھپ گئیں تو وہ پاکستان آئے ۔ کہتے ہیں تب اشفاق احمد نے ایک بہت اچھی تقریب کا اہتمام کیا تھا اور یہ کہ کہانی کا معاوضہ بھی لیل و نہار سے دلوایا تھا۔
مجھے یوں لگتا ہے کہ بلراج مین را، جدید افسانہ نگار ہو کر بھی منٹو سے عشق کرتے تھے ۔ وہ کہتے منٹو کی ایک کہانی ’’ایک خط‘‘پہلی بار انہوں نے۱۹۵۲ ء میں پڑھی تھی، جس نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا اور تب سے وہ منٹو کے دیوانے تھے ۔انہوں نے منٹو کی ہر تحریر جمع کی توتشویش ہوئی کہ ان میں دوا فسانے نہ تھے’’پھوجا حرام دا‘‘ اور ’’شاہ دولے کا چوہا‘‘۔ ان افسانوں کے حصول کے لیے وہ پاکستان آئے۔ دو افسانے لینے آئے تھے اور جب یہاں سے واپس گئے تو ان کے پاس منٹو کی ایسی اٹھارہ کہانیاں تھیں ، جو اگر وہ پاکستان نہ آتے تو ان کے ذخیرے کا حصہ نہ ہو پاتیں۔ تو یوں انہوں نے منٹو کی ساری تحریریںیکجا کرکے پانچ جلدوں میں مہیا کر دیں جو ہندی میں ترجمہ ہو کرچھپیں ۔ بلراج مین را فخر سے بتایا کرتے کہ انہوں نے منٹو کو ہندی کا افسانہ نگار بھی بنا دیا تھا ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جتنا محبت اور توجہ سے منٹو کو ہندی والوں نے پڑھا ہے اردو والوں نے بھی نہ پڑھا ہوگا ۔ وہ منٹو کو کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی سے بڑا افسانہ نگار قرار دیتے ۔ تاہم جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ اردو کا اب تک سب سے بڑا افسانہ نگار کسے سمجھتے ہیں تو ان کا جواب تھا ،’’ میں ذاتی طور پرانتظار حسین کو منٹو سے بڑا افسانہ نگار سمجھتا ہوں‘‘ ، اور اس باب میں ان کا کہنا تھا کہ منٹو کے پاس کہانی بڑی تھا مگر سوچ مربوط نہ تھی ،فکر بڑی نہ تھی ۔ اس موقع پر شمیم حنفی نے بتایا کہ انہوں نے بھی اپنے ایک مضمون میں جب یہ لکھا کہ منٹو وژن والا افسانہ نگار نہ تھا تو لوگ خفا ہوئے تھے ۔ مین را کا جواب تھا ، ہاں لوگ خفا تو ہوتے ہیں لیکن جو سچائی ہے وہ تو یہی ہے کہ انتظار حسین کے پاس ایک مربوط فکر ہے ۔
مین را کا کرشن چندر سے بہت جھگڑا چلتا رہا ۔ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ ترقی پسندی اور غیر ترقی پسندی کا نہ تھا ۔کرشن کے ساتھ پرابلم یہ تھی کہ انہوں نے ۱۹۵۲ کے بعد کوئی اچھی کہانی نہ لکھی تھی ، پہلے ان کے پاس اچھی کہانیاں تھیں جیسے ’’زندگی کے موڑ پر‘‘، ’’مہا لکشمی کا پل‘‘ مگر ۵۲ کے بعد ان پر زوال آگیا تھا اور پھر ان کا کوئی نام نہ لیتا تھا۔ کرشن کے ساتھ مین را کا ۲۲ برس جھگڑا رہا ، بمبئی، دلی ،پٹنہ جہاں گئے کرشن کا تعاقب کیا ۔ کہتے منٹو ،بیدی اور کرشن میں اگر کوئی بچے گا تو وہ منٹو ہی ہوگا۔ ناول کے بارے میں ان کا تجزیہ یہ تھا کہ اردو میں بڑا ناول ابھی تک لکھا ہی نہیں گیا ۔ہاں اردو کی حد تک وہ قراۃ العین کو بڑا ناول نگار کہتے اور عبداللہ حسین کے اداس نسلیں اور باگھ سمیت سب ناولوں کو میجر ناولوں میں شمار نہ کرتے تھے ۔ بلراج مین را کی یہ ساری گفتگو سننے کے لائق ہے ۔
جس کمرے میں یہ گفتگو ہو رہی تھی ، اس کمرے میں کتابیں ہی کتابیں تھیں ، داستوئیفسکی کی پوئر فولک سے لے کر کرامازوف بردارز تک ، انگر یزی کا ایک سے ایک بڑھ کر ناول اور دوسری کتابیں یا پھر تصویریں تھیں کہ انہیں مصوری میں بھی دلچسپی رہی۔ پکاسو، ڈیگاس، وان گاف، آئن رائڈ اور لیو نارڈو ڈونچی کی بنائی ہو ئی شاہکار تصویریں ۔انہی تصویروں میں ایک طرف تصویر چمپا کی بھی تھی ۔ چمپا ان کی بیوی تھیں ان کے بارے میں بلراج مین را نے بتایا کہ جس روز ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ آپ کی بیوی زیادہ سے زیادہ ایک سال جئے گی اور وہ بھی دواؤں کے سہارے، اس سے اگلے روز عجب سانحہ ہوا ۔ چمپا نہاکر نکلی ، بہت اچھے کپڑے پہن رکھے تھے ۔ انہوں نے تعریف کی ۔چمپا نے چائے پینے کی خواہش کا اظہار کیا تو مین را نے کہا ، ابھی بناتا ہوں ، ذرا تازہ پانی لے آؤں ۔ پانی لے کر وہ واپس آئے ایک پاؤں دہلیز کے اندر تھا ایک باہر، چمپا نے آخری ہچکی لی اور مر گئی ۔انہوں نے دکھ سے کہا : ڈاکٹروں نے ایک سال کا کہا تھا ، مگر وہ تو ایک دن نہ نکا ل سکی، اگلے روز ہی۔
بلراج مین را صاحب الرائے ادیب تھے ۔ وہ الگ اسلوب کے افسانہ نگار تو تھے ہی، مدیر بھی باکمال تھے ۔ انہوں نے ’’شعور‘‘اور،’’مین را جنرل‘‘ نامی جرائد کی ادارت کی ۔سرخ و سیاہ کے دیباچے میں مین را نے لکھا تھا:
’’سطحی لکھنے والے اور گہرے فن کار ہر زمانے میں ہوتے ہیں، پہلے بھی تھے ،اب بھی ہیں۔ کلیشے کا بازار پہلے بھی گرم تھا اب بھی ہے ۔ سطحی اور گہرے لکھنے والے کا فرق یہی ہے کہ گہرا فنکار کلیشے کا طلسم توڑتا ہے اور سطحی لکھنے والا دوسروں کے جال میں بھنبھناتا رہتا ہے۔‘‘
بلراج مین را سطحی لکھنے والے نہ تھے، کلیشے کا طلسم توڑنے والے تھے۔ اور جب انہیں احساس ہوا کہ جدید کہانی لکھنے والے بھی بہ قول ان کے’’خودفریبی کے عظیم سرکس ‘‘کا حصہ ہو گئے تھے ، تو انہوں نے اپنا قلم ایک طرف رکھ دیا اور دنیا بھر کے عظیم ادب کے مطالعے کو ہی حرز جاں بنا لیا ۔ اپنی موت تک وہ کتابوں اور مصوری کے شاہکاروں کے بیچ رہے اور انہی کے بیچ مر گئے۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *