M. Hameed Shahid
Home / تنقید نو / محمد حمید شاہد|جلیل عالی، قلبِ غزل سے قلبیہ تک

محمد حمید شاہد|جلیل عالی، قلبِ غزل سے قلبیہ تک

یہ راجندر سنگھ بیدی کے ان دنوں کا قصہ ہے جب اس پرفالج کا حملہ ہواتھا۔ علاج معالجے کے لیے پرانا مکان بک گیا اور وہ کھار میں اُٹھ آیا ۔ یادداشت بھی ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ باقر مہدی ، کہ جس پر اشک نے ’’شب خون‘‘ میں بیدی کے’ جیبی ناقد ‘ہونے کی پھبتی کس رکھی تھی ،اس کی یادداشت واپس لانے کے کھیکھن کر رہاتھا ۔ وہ پرانی باتوں اور بیدی کے افسانوں کے جملوں کو ایک کاغذ کے پرزے پر لکھ کرلاتا ، بیدی کو وہیل چیئر پر بیٹھا کرادھر ادھر گھماتا اور ساتھ ہی ساتھ ، کسی افسانے کاجملہ ، کوئی پرانی بات اُسی پرزے سے الگ کرکے اس کی سماعت پردھیرے سے بچھا دیا کرتاکہ وہ کہیں پڑھ چکا تھا ‘ پرانی باتیں یاد کرنے سے حواس قائم ہو جاتے ہیں۔
صاحب، قصہ یہ ہے کہ ہم بہ حیثیت مجموع بیدی کی طرح اپنے حواس میں نہیں ہیں، ہمارا بہت کچھ بک چکا۔ وہ ساری اجتماعی وابستگیاں اور تہذیبی ورثہ جو کل تک ہمارے لیے دستار فضیلت تھا ،غیروں کے ایجنڈے کے تند ریلے میں بہے جاتا ہے ۔ ایسے میں اپنے بھی دشمن کا ساکام کیے دیتے ہیں۔ جلیل عالی نے ایسے ہی بخت ماروں کے بارے میں کہہ رکھا ہے :
میرے دشمن کو ضرورت نہیں کچھ کرنے کی
اس سے اچھا تو مرے یار کئے جاتے ہیں
ایسے دل اکھیڑ دینے والے منظر نامے میں ، کہ ساری قوم دُبدھے میں پڑی ہوئی ہے ، ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گن لیے جانے والے چند ادیب اور شاعر ایسے بھی ہیں جو کسی بھی پھبتی کو دھیان میں لائے بغیر ہمیں قومی سطح پر اپنے حواس میں لانے کے جتن کر رہے ہیں۔ عین آغاز ہی میں مجھے اعتراف کرناہوگا کہ جلیل عالی کا شمار اسی قبیلے کے نمایاں ترین شاعروں میں ہوتا ہے:
بہشتِ شوق میں بارود بارشوں کے ہیں دن
سو حرف حرف کو شعلہ مثال کر دیا ہے
یہ جو عالی نے حرفوں کو شعلہ مثال کر لینے والی بات کہی ہے، یہ کہیں اس کے قاری کو گمراہ نہ کر دے، اس لیے یہیں وضاحت ضروری ہو جاتی ہے کہ عالی کا تخلیقی قرینہ وہ نہیں ہے جس میں الفاظ، استعارہ ہونے،علامت بننے یا شعر میں ڈھلنے کے تکلف میں پڑے بغیر شعلوں کی طرح بھڑکنے لگتے تھے۔ اُس نے اپنے تخلیقی چلن کااعلان کچھ یوں کررکھا ہے:
طلسمِ عکس و صدا سے نکلے تو دل نے جانا
یہ حرف کچھ کہہ رہے ہیں عرضِ ہنر سے آگے
آگے چل کر وہ مزید کہتا ہے:
کوئی دھن ہے پسِ اظہار سفر میں جس نے
میری غزلوں کی فضا اور سی رکھی ہوئی ہے
توبات یوں سمجھ میں آتی ہے کہ وہ سارے فکری مسائل جن سے بظاہرعمر بھر عالی پیوست رہا ایک اورمرتبہ وجود پر کہ جہاں عکس عکس نہیں رہتا اور صدا صدا نہیں رہتی سب کچھ اتنا لطیف اور سُبک ہوجاتا ہے کہ عرض ہنر کا علاقہ کہیں پیچھے رہ جایا کرتا ہے، وہی عالی کے تخلیقی وجود کا آغازیہ بھی ہے اور وہی اس کے تخلیقی مزاج کے لیے فضا بھی باندھتا ہے۔ بندھے بندھائے وقت سے باہر رواں یہ لمحہ لمحہ وقت وہی ہے جس کی بابت ایلیٹ نے اپنی ایک نظم میں کہا تھا کہ یہ لمحہ زماں کے اندر بھی ہے اور ماورائے زماں بھی۔ وقت کی کائنات سے آگے سفر کرتا ہوا لمحہ ۔ عالی اس لمحے کی گرفت میں آتا ہے تو طلسمِ عکس وصدا کو جھٹک دیتا ہے۔ اُس کی اسی ادا کی عطاہے کہ اُس کے ہاں فکری التزام کے باوجود تخلیقی قرینے مات نہیں کھاتے ہیں۔
تخلیقی قرینوں کی بات چل نکلی ہے تو کہتا چلوں کہ عالی’ شوق ستارہ‘‘ ،’’خواب دریچہ‘‘ اور ’’عرضِ ہنر سے آگے‘‘ سے بعد کی تخلیقات میں اپنے ڈھنگ سے مرکبات بنالینے کا چلن اختیار کیے ہوئے ہے ۔ وہ مصرع بناتے ہوئے لفظوں کی نشست برخاست اور مصرع کے اندر اُن کی ترتیب سے متشکل ہونے والی صوتیاتی نظام پر بھی پوری توجہ دیاکرتا ہے اور اس قرینے سے اس کے ہاں ایک الگ سی فضا اور آہنگ بن جاتا ہے۔ مرکبات بنانے کی دومثالیں ایک شعر میں یک جا ہو گئی ہیں۔ لیجئے پہلے وہی نشان زد کیے دیتا ہوں :
شوق راہوں میں جھپکنا نہیں دل آنکھوں کو
اس مسافت کے پڑاؤ بھی سفر بنتے ہیں
jalil aaliلطف یہ ہے کہ ’’شوق راہوں‘‘ اور’’ دل آنکھوں‘‘ جیسے توجہ لے لینے والے مرکبات کے ہوتے ہوئے مسافت کے’ پڑاؤ کا سفر بننے‘ والا وقوعہ توجہ سے منہا نہیں ہوتا،خیال کے عین مرکز میں پوری طرح مقیم رہتا ہے۔ ایک اور غزل کا شعر دیکھیے لفظوں کی ترتیب بدل کر ترکیب کو اضافت کے اضافی بوجھ سے آزاد کر الیا گیا ہے۔ مگر یہاں بھی کچھ ایسا اہتمام ہوا ہے کہ کسی عُجب کی بہ جائے تازگی کا احساس جی اٹھتا ہے۔
احساس کی دنیا کے اصول اور ہیں پیارے
دل شہر میں دیکھا ترا سکہ نہ چلا نا
آپ اتفاق کریں گے کہ شعر پڑھتے ہوئے ’’ دل شہر‘‘ کی تازگی جہاں توجہ کھینچتی ہے[ کہ ایسا’’ شہرِدِل‘‘ جیسی سامنے کی مگر بوسیدہ ہو جانے والی ترکیب سے کہاں ممکن تھا] وہیں وہ معنیاتی سلسلہ بھی نظر میں رہتا ہے جو ایک تلمیح سے جڑکرزمانوں کے بھید دل سے وابستہ کر دیتا ہے۔ مصرع ثانی میں لفظ’’ دیکھا‘‘ کے استعمال نے جس طرح ایک خاص لہجہ بنادیا ہے، یہ بجائے خود بہت پُر لطف ہو گیا ہے۔
یہ جو عالی کے بات کہنے کاالگ ڈھنگ ہے، خود عالی کو بھی اس کی آگہی ہے تبھی تو اس نے ’’وہ‘‘ کے صیغے میں اپنے لیے یہ کہہ رکھا ہے:
وہ بات کہتا ہے کچھ ایسے اہتمام کے ساتھ
کہ نقش سب کے دلوں پر جدا جدا بیٹھے
یہاں جس سلیقے سے ایک بات کا نقش ہر ایک دل پر جدا جدا بیٹھا ہے، شعر پڑھتے ہوئے ا س کی باقاعدہ تصویر بنتی چلی جاتی ہے ۔ یہ تصویر شعر پڑھ چکنے کے بعدذہن سے محو ہو کر تلف نہیں ہو تی، پس شعور سج جاتی ہے ۔
میں نے اوپر عالی کے صوتی قرینے کی طرف اشارہ کیا تھا ، یہاں موقع نکل آیا ہے کہ اس باب میں بھی ایک ڈیڑھ مثال دیتا چلوں۔ جو غزل میں نے مثال کے لیے چنی ،وہ معنیاتی سطح پر بھی اس لائق ہے کہ اس پر توجہ دی جائے تاہم فی الحال میں صوتی قرینے کی بات کر رہا ہوں لہذ ا اس مرحلے میں صرف اسی حد میں رہوں گا ۔ اس غزل کے دوسرے شعر کے پہلے مصرع میں’’ ک ‘‘کی تکرار میں ’’ق‘‘ بھی شامل ہو گیا ہے:
کڑیاں کڑی قیود کی بڑھتی چلی گئیں
اسی طرح اسی غزل کے چوتھے شعر کے پہلے مصرع میں’’س‘‘، ’’ص ‘‘اور’’ ث‘‘ نے متصل حروف میں آکر یہی وظیفہ سر انجام دیا ہے:
کس صورتِ ثبات پہ ٹھہری نگاہ دِل
آپ کو ممکن ہے ’’س‘‘ اور’’ص‘‘ کا اتصال کھٹکے مگراس صوت نے بھی مجھے مزہ دیا ہے۔ جس شعر کا یہ مصرع ہے وہ مکمل شعر بھی عجب سرشاری سے گزارتا ہے ، میں اپنی بات کہنے کی دھن میں اس سرشاری سے کیسے دست کش ہو سکتا ہوں۔
کس صورتِ ثبات پہ ٹھہری نگاہِ دل
اک رقصِ رَو میں ٹوٹتے بنتے چلے گئے
یہ جو میں، عالی کے فن کی بظاہر چھوٹی چھوٹی مثالیں دے رہا ہوں، ایسی اس کے ہاں درجنوں ہیں۔ اور مان لینا چاہیے کہ ایسے ہی قرینوں سے عالی کے ہاں شعر کا خارجی آہنگ بنتا ہے ۔ تاہم عالی اسی پر اکتفا نہیں کرتا،وہ اس سے کچھ آگے بڑھ کر، بل کہ بہت آگے نکل کر ایک عجب فکری سرمستی سے تخلیق کے جمالیاتی علاقے میں جست لگا دیتا ہے۔
آتی رہتی ہیں عجب عکس و صدا کی لہریں
میرے حصے کی کہیں شاعری رکھی ہوئی ہے
غزل کا یہی ڈھب عالی کو اپنے ہم عصروں سے مختلف اور ممتاز کرتا ہے ۔ ایسا عالی کی مربوط فکریات اور نظریاتی استقامت کے باعث ممکن ہو پایا ہے ۔ اسی استقامت کا اعجاز ہے کہ اس کے ہاں غزل کا باقاعدہ ایک اسلوب بن گیا ہے۔ ایسا اسلوب ہر بدلتے منظرکے ساتھ نئی فکری حیلے کرنے والوں کا مقدر نہیں ہوسکتا ،نہ ان لوگوں کے حصے میں آسکتا ہے جو زبان کی تہذیبی توفیقات سے آگاہ نہیں ہوتے۔
میں ،عالی کے ہاں ،جس اسلوب کی بات کر رہا ہوں ،اس کی فوری مثال کے لیے اور کہیں کیوں جاؤں کہ وہی اوپر والا ’’رقصِ رو‘‘ والا شعر توجہ کھینچ رہا ہے ۔ ایک فکری اور تخلیقی رقصِ رو میں رہنے کی وجہ سے عالی کے ہاں نئے نئے جمالیاتی پیکر جھلک دینے لگتے ہیں اور پھر ان کا کسی اور پیکر میں ڈھل جانا بھی زندگی بھر کے اسی وظیفے سے ممکن ہوپایا ہے ۔ جی ،میں نے زندگی بھر کا وظیفہ کہا ہے۔ اور میرا ایمان ہے کہ جب تک کوئی دھن کسی کے من میں سما کراس کی زندگی کا رخ متعین نہیں کر دیتی اس کے ہاں کسی اسلوب کسی صورت نہیں بنتی ۔ عالی کے ہاں یہ صورت بنی ہے اور خوب بنی ہے ، یوں کہ اس کا مصرع مصرع لو دینے لگتا ہے۔
اُس کی دھن ہو تو عجب شام و سحر بنتے ہیں
اک نہین دل میں کئی خواب نگر بنتے ہیں
۔۔۔
ہم کہ اک اسم کے سائے میں رواں ہیں ورنہ
اِس گماں زار میں سو رنگ کے ڈر بنتے ہیں
ایک اسم کے سائے میں اپنے خواب نگر کی جانب ہردم رواں رہنے والے نڈر عالی نے سامراج کے حیلوں اور قومی سطح پر اپنی نارسائیوں کے ساتھ ساتھ اس کے تمام امکانات کو بھی دردِ دل رکھنے والے ایک مفکر کی طرح نگاہ میں رکھا ہے اور جو بھی کہنا چاہا بے درنگ کہہ دیا ہے ۔
تمہارے فقر کے تو بڑے چرچے تھے تم بھی
سگِ دنیا ہی ٹھہرے حریصِ جاہ نکلے
۔۔۔
جس شخص کی دھن میں ہوئے ہم دھول ملا تو
دیکھا کہ کسی اور کی رہ دیکھ رہا ہے
۔۔۔
جنہوں نے غم کشوں کلو بغاوت پر ابھارا
وہ صف آرائیوں میں حلیفِ شاہ نکلے
۔۔۔
وہ جو آزاد فضا میں بھی پر افشاں نہ ہوئے
ان پرندوں نے بھلا جال میں کیا کرنا ہے
دور دیسوں کی سپہ آ گئی ہر ناکے پر
امن کے نام پہ کیا کیا نہیں ہونے والا
اپنے پورے تہذیبی شعور کے ساتھ عصری حسیت سے اس شدت کے ساتھ جڑا ہوا شاعر صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس عصر میں زندہ ہواور پورے تخلیقی وجود کے ساتھ زندہ ہو۔ وقت کی ایک ایک جنبش کو اپنے دل پر محسوس کرتاہو، آنے والے لمحوں کی چاپ سنتا ہو اور درست درست آنک سکتا ہو کہ اگلا قدم کہاں دھرناہے۔ جلیل عالی نے رواں وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور اس لمحے سے بھی جڑا ہوا ہے جو اس وقت سے آگے نکل کر اس کی راہ نمائی کر رہا ہے۔ عین اسی دوران وہ قومی منظرنامے پر ہونے والے عاقبت نااندیشوں کے تماشے کو بھی دیکھتا ہے ۔ وہ نفرت سے انہیں دیکھتا ہے جنہیں روحانی سطح پر رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینا تھا مگر وہ حریصِ جاہ ہو کرسگِ دنیابن گئے اور تاسف سے انہیں بھی دیکھتا ہے کہ جو ایک زمانے میں غم کشوں کو بغاوت پر ابھارا کرتے تھے اور جو موسم بدلتے ہی سامراج کے حلیف ہو گئے ہیں ۔ اگرچہ اس کا ایقان ہے کہ قومی سطح پر جمہور کے فیصلے نادرست نہیں ہوتے تاہم وہ یہ دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ وہ پرندے جو آزاد فضا میں بھی پر افشاں نہ ہوسکے وہ سامراجیت کے جال کولے کر کیسے اڑان لے پائیں گے۔ عالی اس پر احتجاج کرتا ہے کہ ہر ناکے پردور دیسوں سے آنے والی سپاہ راستے بند کر رہی ہیں اوراس سب کچھ کو،کہ جو امن کے نام پر ہو رہا ہے، انسانیت کے لیے باعث شرم قرار دیتا ہے۔
مجھے عالی کی نظم’’ قلبیہ‘‘ پر بات کرنا تھی ، مگر اپنے تہذیبی آہنگ سے جڑے اور اس پر ناز کرنے والے شاعر کی غزل پر اس لیے طویل تمہید باندھی ہے کہ ان کا بنیادی حوالہ غزل ہی ہے۔ ایسی غزل جس کے بارے میںآفتاب اقبال شمیم نے کہہ رکھا ہے کہ ’’جلیل عالی شاید آج کی لکھی جانے والی غزل کا واحد شاعر ہے جس کی شاعری ایک سمت ،ایک مرکز یت رکھتی ہے ۔ وہ شعر و شعور کو باہم جوڑ کر اپنی متعین سمت میں چل رہا ہے۔‘‘ تو یوں ہے کہ اپنی گوں کا یہ منفرد غزل گو نظم کی سمت آتے ہوئے اپنے محبوب اور پختہ تخلیقی مزاج کو جھٹکے اور پچھاڑے بغیر اپنی بات کہتا ہے اور لطف یہ ہے کہ فن پارہ بناتے ہوئے اسے لائق توجہ بھی بنا لیتاہے ۔قلبِ غزل سے قلبیہ تک کی کہانی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے میں یہاں عالی کی تین نظموں سے مقتبس کر رہا ہوں۔
’’۔۔۔۔
سر قرطاس
نیا کوئی سوال اور نہ جواب
خالق لوح و قلم!
تیرے کرم کے قرباں!
پھر تری رحمتِ جاں تاب سے ارزانی ہو
سوچ آنگن میں کوئی تازہ ہوا کا جھونکا
حرف دو حرف سفر آگے کا‘‘
(حرف دو حرف)
’’۔۔۔۔۔
خیال خاروں،
خبر خساروں کے جنگلوں میں
وہ خیر خوشیوں کے
جاگتے راستے بناتی ہوئی بصیرت‘‘
( ؐ)
’’۔۔۔۔۔۔
کھڑکی کھولو!
کھڑکی میں کھلتی کلیوں سے
پوروں کو مس کرکے
لہو میں اوج نمو کی موج رچاؤ
تالو پر امکان رتوں کے
شہد سے میٹھے میووں کی تاثیر جگاؤ
گلی میں شور مچاتے،ہنستے گاتے
بچوں کی آواز ساتھ آواز ملاؤ
بیتے کل کی محصوری سے جان چھڑاؤ
دروازے سے دستک دیتے
چنچل پل سے ملنے جاؤ‘‘
(نکلو)
تین مختلف نظموں سے لیے گئے یہ تین ٹکڑے عالی کے تخلیقی مزاج کا ایک خاکہ سا بنا دیتے ہیں ۔ وہ حقیقت کل سے جڑا ہوا ہے اور پورے اخلاص سے اسی حقیقت کی کچھ اور پرتوں تک رسائی چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ محض اور صرف علم حقیقت کے قلب نہیں پاسکتا کہ حد سے حد علم سے حقیقت کی ایک خام لسانی تشکیل ہو سکتی ہے جب کہ زبان کی اس لکنت کو دور کرنے کی صلاحیت خالص تخلیقیت میں ہے، سو وہ تخلیقی قرینے نہایت خلوص سے بروئے کار لاتا ہے ۔ وہ تہذیبی منابع سے عشق کا رشتہ استوار کیے رکھنا چاہتا ہے ، اس کے لیے مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتا ہے تاہم اپنے تالو پر امکان رتوں کے شہد سے میٹھے میووں کی تاثیر بھی جگانا چاہتا ہے ، سو اس نے کل کی سمت بھی کھڑکی کھول رکھی ہے اور مستقبل دروازے کی ہر دستک کو بھی شوق سے سنتا اور چنچل پل سے ملنے لپک کر نکلتا ہے۔
طویل نظم ’’قلبیہ‘‘عالی نے عارضہ قلب میں مبتلا ہوکر ہسپتال پہنچنے اوربائی پاس کے تجربے سے گزرنے کے بعد لکھی ، مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ تجربہ عالی کی فکری استقامت کو اور بھی بڑھاوا دے گیا ہے۔نظم گیارہ پارچوں پر مشتمل ہے، انہیں الگ الگ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور عالی کی فکری کلیت کو سمجھانے کے لیے گیارہ نظموں کا یہ جھرمٹ ایک نظم بن جاتا ہے ۔ پہلے حصے میں عالی اپنے قاری کو اپنے جسم میں موجود خرابی کے مرکز اور اس کی شدید ترین نوعیت کا احساس کے مقابل کرتاہے ۔ بے رحمانہ آپریشن کے تصور کو ابھارنے کے لیے چھاتی کے چیر دیے جانے کے بعد بتایا جاتا ہے کہ آپریشن کے عرصے میں مریض کی نگاہوں میں قصائی کے کٹے بکروں کے لٹکے ہوئے عکس لہراگئے تھے ۔ اگرچہ قصاب کے چھرے اور ڈاکٹر کے نشتر میں فرق ایک لطافت اور نفاست کا بھی ہوتا ہے ، مگر جس پر بیت رہی ہوتی ہے، اس کے ہاں تشویش اور خوف کی سطح اس لطیف احساس کو تلف بھی کر سکتی ہے، سو یہاں ایسا ہی ہوا ہے۔ ایسے میں خود کو ایک اضحیحہ کی صورت دیکھنا ، سمجھ میں آتا ہے ۔ نظم اس مرحلے سے ایک منطق قائم کرتے ہوئے سارے عمل کو جسٹی فائی کردیتی ہے ۔یوں یہ جو جسمی اور عملی سطح پر قلبی واردات ہے اس کا مرحلہ نظم کی ابتدا میں طے ہو جاتا ہے۔ اب دل اور دماغ احساسات اور خیالات کی کمک ایک دوسرے کو بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں ہماری ملاقات اسی تہذیبی اور فکری عالی سے ہوتی ہے ، جو ہمیشہ سے اپنے آپ کو ایک ہالہ رحمت میں پاتا رہا ہے۔ بس اب یوں ہے کہ اس کے ہاں شکرگزاری کا جذبہ اپنی انتہا کو چھور ہا ہے اور وہ چاہتا ہے کوئی حیلہ ہو کہ وہ اسی ہالہ رحمت میں مستقل مقیم رہے ۔ یہ جو صوفیا ایمان کو سمندر کی لہروں کی مانند کہا کرتے ہیں، گھٹتی بڑھتی لہروں کی مانند؛ تو وہ اس کے گھٹنے، اور پیچھے ہٹنے سے بچنا چاہتا ہے ۔ باقی عمر کی مہلت، ترجیح خیر آثارکا بے داغ سایہ، اور اپنے کشکول بھرنے کا مضمون جہاں بے ثبات زندگی کی اس ایزادی قاش کا احساس دلاتی ہے، وہیں اس کو شاعر نے اپنے دو جہانوں کے سنورنے کی شدید ترین خواہش کے ساتھ جوڑا ہے، کچھ یوں کہ نظم میں دعائیہ اور حمدیہ آہنگ نمایاں ہو گیا ہے۔ ایک شکر گزار بندے کی طرح، جو اس کی رحمتوں اور عنایات کو یاد کرتا ہے اور یاد رکھنا چاہتا ہے کہ عنایات کے اس سلسلے نے اس کی گزر چکی زندگی کا احاطہ کیے رکھا ہے۔ آخر میں نظم کو اس خوب صورت علامت سے جوڑ دیا گیا ہے جس میں سینہ لوہے کے صندوق کا سا ہو جاتا ہے اور وہاں مقید دِل اُچھل کر آنکھوں میں دھڑکنے لگتا ہے ۔ شاعر کی ساری حسوں، سوچوں اور فکروں کا شریک یہ دل ، قلبیہ نظم کے سارے پارچوں میں ہربار ایک نیا لطف دے جاتا ہے۔
’’ادا ہو شکر کیسے
اس کے احساناتِ بے حد کا
زباں الفاظ کی بے ما ئیگی سے
گنگ ہے میری
جھکی پلکوں سے بس
ممنونیت کا نم جھلکتا ہے
مرے سینے کے بکسے میں نہیں
آنکھوں میں میرا دل دھڑکتا ہے‘‘
نظم کے دوسرے پارچے میں بھی اگرچہ عالی وہی ہے؛ اپنی پوری زندگی کو ایک فکری سلسلے سے حسی سطح پر جوڑنے والا ، مگر اب وہ اپنے آپ کو آئنے میں دیکھتا ہے تو نئی زندگی پانے کے اس سارے عمل میں خود کو متحیر بھی پاتا ہے ۔ لہو میں رقص کرتی حیرتیں ، چہرے پر ظاہر ہوں نہ ہوں بدن کے بیچ گونجتی ضرور ہیں، اور عالی کی اس نظم میں یہ حیرت گونج رہی ہے۔ عالی نے اپنے دل کی جراحت کے بعد والی زندگی کو کہانی کا ایک نیا موڑ کہا ہے ۔ وہ اس نئے حسی تجربے کی تصویر بنانا چاہتا ہے ، نقطہ نقطہ ، مگر یہ اللہ لوک ، اپنے اس تجربے کی ساری سنسنی، سراسیمگی، اچانک پن، اور حیرت کو ایک طرف دھکیل کر ایک الوہی نغمگی کو یوں سنتا ہے کہ اُسے زمانوں سے دماغ اندر دھری سوچ بدلتی ہوئی لگتی ہے۔ یہ تبدیل ہونا ، میرے نزدیک سوچوں کے رُخ بدلنے سے عبارت نہیں ہے بلکہ اپنے افکار پر ایمان کے راسخ ہونے کا یقین ہے جسے اب شاعر نے اُس تجربے (یعنی زندگی کی بے ثباتی کے شدید احساس اور پھراسی زندگی کے اس قدر رحیم اور مہربان ہو جانے) کے بعد، اپنے ہاں جاری تخلیقی عمل کو عمل خیر کے تسلسل میں دیکھا ہے۔ اب اگر کہیں کچھ فکر واحساس میں رخنے تھے تو وہ بھی دور ہو گئے ہیں ۔ فکر کادِل کی دھڑکنوں کے آہنگ میں آ جانا یا پھر دِل کا فکری سفر کو اپنی دھڑکنیں ودیت کر دینا اس سارے تجربے کی عطا ہے ۔
’’قلبیہ ۳۳‘‘ میں جراحت قلب کے مابعد ، نقاہت کے دِن پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر کی ہدایات کو شاعر مان رہا ہے کہ بدنی نقاہت ان ہدایات کے درست ہونے کی تصدیق کرتی ہے ۔ سو شاعر چت لیٹا ہواہے ،ملنے والوں سے ملتے ہوئے احتیاط کرتا ہے، چھینکنے تک سے اجتناب ہو رہا ہے اور یہ سب ایک کہانی کی صورت نظم کا حصہ ہوا ہے۔ یہاں بتانے کی بہ جائے دانش کی ایک اور سطح قاری کوسجھائی جا رہی ہے ۔ ایسے میں نگہ داروں کی مان کر اُنہیں جُل دے کر نکل جانے کی خواہش نے اس بیانیے میں ایک لطف سا بھر دیا ہے ۔ زندگی کا ایسا لطف اور ایسی لذت جو محض ا ور صرف سرکشی کی عطا ہے ؛جی،کچھ انوکھا کر لینے کی للک میں چھپی ہوئی ۔ عین ایسے کافر، باغی اور غیر محتاط لمحوں میں جب شاعر یہ کہتا ہے:’’مرے سینے کے بکسے میں نہیں/آنکھوں میں میرا دل دھڑکتا ہے‘‘،تو واقعی شاعرکی اس جرات پر پیار آتا ہے ۔ بعض اوقات بہت بڑی فکری بات سے احتراز ہی نظم کو بڑا ، بامعنی اور پر اثر بنا دیتا ہے اور یہاں ایسا ہی ہوا ہے۔
’’قلبیہ ۴۴‘‘ میں جسمانی طور پر شاعر سنبھل چکا ہے اور طبیبوں کی نگرانی سے بھی باہر آگیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بغاوت اور رد عمل کی وہ لہر جو قلبیہ ۳ میں ہمیں دکھائی دی تھی، اسے بھی شاعر نے کہیں سینت رکھ دیا ہے۔ خیر، یہاں شاعر کے اندر ایک گہری تبدیلی پیدا ہو چکی ہے۔ کسی بے مہر جھونکے کے مقابل بھی ردعمل پیدا نہ کرنے کے عزم والی تبدیلی ۔ قلبیہ کہانی کے بدلے ہوئے اس مرکزی کردارکا دل اب بہت گداز ہو گیا ہے؛ شاید زیادہ زرخیزبھی۔ جس طرح کھیت میں ہل چلا کر زمین کو نرم ، نمی سمیٹنے سہارنے والی اور زرخیز بنا لیا جاتا ہے ،دل کی جراحت کے بعد شاعر کے دل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا ہے ۔نظم بتاتی ہے کہ اب اس کے دل کھیت میں کوئی کینہ کدورت والی جھاڑ جھنکار نہیں ہے ۔یہاں شاعر نے ہر ساعت کو سانسوں کی سارنگی سے نکلتی ایسی لے سے جوڑا ہے جو رشتے جوڑنے والے افسوں کو جگا رہی ہے۔سو یہاں شاعر کا اپنے بدخواہوں سے مکالمہ ہوتا ہے اور اس دل کے وسیلے سے ہوتا ہے جو سینے کے بکسے میں نہیں آنکھوں میں دھڑک رہا ہے۔
’’قلبیہ ۵۵‘‘ کا آغاز اپنی حسوں کی سمت روئے سخن موڑنے سے ہوتا ہے۔ حسی تجربہ جس کی کھڑکی حکمت کے آنگن میں کھلتی ہے۔ اس حکمت کو، کہ جو ہمارے شاعر کو مرغوب ہو گئی ہے اور ایک مربوط فکری تہذیبی نظام کی مہکتی فضا کے احاطے میں ہی بامعنی ہوتی ہے۔ شاعر اس سے آگاہ ہے وہ اس فکری نظام کے منحرفین کو’’ بھٹکی منظقوں والے عذابوں میں پھنسے ہوئے ذہن ‘‘جیسے الفاظ استعمال کرکے نشان زد کرتا ہے ۔ نظم کے اسی مقام سے ایک خوب صورت ٹکڑا :
’’سمجھتا ہوں
تعصّب آدمی کی آدمیت کا اثاثہ
پھونک دیتا ہے
سماعت دوسرے کی بات
سن کر بھی نہیں سنتی‘‘
شاعر دوسروں کی آواز سنتا ہے اور ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ سنتا ہے ، مگر سنتے ہی وہ اسے پرکھتا بھی ہے اپنے سابقہ تجربے کی کسوٹی پر کہ شاعر کو اپنی فکریات اور اپنی توفیقات پر بہت اعتقاد ہے ۔
’’یہی توفیق کا جوہر
بہت الجھے مناظر کی حقیقت
ثانیے بھر میں پرکھتا ہے
مرے سینے کے بکسے میں نہیں‘‘
’’قلبیہ ۶۶‘‘ تک آتے آتے شاعر حسی اتھل پتھل سے نکل آیا ہے ۔ اب اسے انہی موضوعات سے معاملہ ہے جن موضوعات کو اپنی غزل میں برت کراس نے (اپنی تہذیبی تاریخی روایت کے تسلسل میں رہتے ہوئے) نام کمایا ہے ۔ اس روایت کا روشن مینار اقبال شاعر کے دل کے قریب رہا، اب اور بھی قریب ہو گیا ہے ۔ تقسیم کے حق میں مقدمہ لڑتی اس نظم میں عالی نے اپنی فکر کو کھول کھول کر بیان کیا ہے ۔ لگتا ہے وہ دل جو آپریشن پربہت نرم ہو گیا تھا، پھر سے مضبوط ہو گیا ہے۔ ایک تہذیبی فکری چھتنار درخت کے مضبوط تنے کو سہارنے والی سخت زمین جیسا۔سو ذوق یقین کی طرف اشارہ کرتی اس نظم میں شاعر کا یقین اس کے دل سے کہیں زیادہ ہمکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
’’قلبیہ ۷۷‘‘ میں اقبال کا شاہین پلٹ کر جھپٹنے کے لیے تیار ہے۔ سو وہ پہلا وار’’ گلوبی ڈان‘‘ پر کرتا ہے ۔’’ گلوبی ڈان‘‘ کی اصطلاح سب کچھ سجھا رہی ہے۔ بارود، سرمائے کی مجبوری، استعمار وغیرہ وغیرہ ، سو سارے لفظ اسی تناظر کو کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں ۔ایسا تناظر جس میں صداقت، عدل اور انصاف جیسے الفاط اپنی معنویت کھو چکے ہیں ، اسے شاعر نے قیامت سے تعبیر کیا ہے ۔ ایسی قیامت جس میں توقیر سے مرنے کی صورت بھی نہیں نکل پاتی ۔اس موذی نظام زر کی سفاکیوں پر خون کے آنسو روتی اس نظم میں شاعر نے آنکھوں میں دھڑکنے والے دل کو بھی ایک مختلف معنویت دے دی ہے۔
قلبیہ کے ساتویں پارچے کا مزاج، اس کے اگلے پارچے میں بھی برقرار رہتا ہے ۔ نظم کے اس حصے میں زر تقدیس و طاقت کے فلک آثار استھانوں پر بے توقیر ہوتی حرمت انسان کو ہی موضوع بنایا گیا ہے ۔ عالی کی اس طویل نظم کے لگ بھگ ہر ٹکڑے میں موضوع حاوی ہوتا رہا ہے ۔ شاعر تو اپنے رفیع الشان تہذیبی حوالوں سے جڑا ہوا ہے ، سو ان حوالوں کی نفی کرنے والے، ہمارے شاعر کے نزدیک ’’بیمار ذہنیت والے‘‘، اور’’بے راہ رو‘‘ ہیں ، ان کی بے راہ روی پر شاعر کو خود اپنا آپ کھٹکنے لگتا ہے ، ظاہر ہے وہ اسی سبب ہو گا کہ شاعر انہیں اپنا ہم نوا نہیں بنا سکا۔ سو اِس بار آنکھوں میں دِل کا دھڑکنا اِسی کھٹکے سے جڑا ہوا ہے۔
’’قلبیہ ۹۹‘‘ کا مقدمہ ایک تہذیبی آدمی کے حق میں ہے۔ یہ تہذیبی آدمی شاعر خود بھی ہے، ایسا تہذیبی آدمی جسے کردار کی عظمت ہانٹ کرتی ہے ۔ سو اس کرداری عظمت کے صدقے وہ ’’ملحدوں‘‘،’’ دہریوں‘‘ اور’’ فکری طور پر بھٹکے ہو لوگوں‘‘ کو بھی محترم سمجھ سکتا ہے۔ ان القابات کے ساتھ محترم سمجھے جانے والے لوگ شاعر کے ہاں کتنے’’ محترم‘‘ ہو پائیں گے، یہ سوال الگ سہی، مگر شاعر کا سب کو سننا اور مکالمہ قائم کرنا اپنی جگہ بہت احسن ہے ۔ پھر تخلیق کا جوہر ایسا ہے کہ شاعر کے لیے فکری سطح پر تکریم نہ پانے والے بھی محترم ہو جاتے ہیں ۔ اپنے آدرش سے جڑے تخلیقی آدمی کا ورلڈ ویو پوری طرح اس نظم کا حصہ ہو گیا ہے۔ تہذیبی شباہت کی مُو مُو رچی ہوئی خوشبوشاعر کو اس مکالمے سے وابستہ رہنے کا اذن دیے رکھتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ اجتماعی باطنی تہذیبی جوہر کو گمرہوں کے ہاں بھی دیکھ لیتا ہے۔ نظم کے اس حصے میں شاعر نے روایت کے تسلسل کی ایسی ادا سے اپنی لہو لہروں کو جوڑا اور شوق سورجوں کو چمکایا ہے کہ دل کا سینے کے بکسے سے نکل کر آنکھوں میں دھڑکنا بھی اسی ادا سے جڑ گیا ہے۔
قلبیہ نظم کے نویں ٹکڑے میں بھی شاعر کو خیال ، حرف، صوت ، رنگ، اقدار اور معیارات کی اس نہج سے معاملہ ہے جس سے شاعر کا اپنا ادرش مخصوص ہے۔ سو جب وہ اس سے منحرف سماجی مظاہر دیکھتا ہے تو کڑھتا ہے ۔ تاہم ایک تخلیقی آدمی کی حیثیت سے اس نے موجود منظر نامے سے امید کشید کرنے کا ہنر سیکھ رکھا ہے ۔ ایک شدھ سر قہر و قوت آزار اور ظلم کو شہ مات دے دیتا ہے ۔ ایدھی جیسے لوگ، اپنے زیورات دان کرتی عورتیں ،اور دردی لوگوں کی بے ریا محبتں ، تواس زمانے میں حوصلہ دینے والی کئی صورتیں ہیں۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی صورت جب اچانک سامنے آتی ہے تو دل کا آنکھوں میں اُچھل کر دھڑکنا بنتا ہے اور اس نظم میں یہاں یہ اسی نہج سے دھڑکا ہے۔
جب میں قلبیہ کے پہلے حصے کے بارے میں بات کر رہا تھا تو یہ بھی کہا تھا کہ ایک سطح پر جا کر وہ حصہ حمدیہ نظم ہوگیاہے ، بہ طور خاص وہا ں جہاں کہا گیا ہے:
’’مجھے مالک نے
اس بے مہر دنیا میں
کبھی تنہا نہیں چھوڑا
ادا ہو شکر کیسے
اس کے احساناتِ بے حد کا
زباں الفاظ کی بے ما ئیگی سے
گنگ ہے میری
جھکی پلکوں سے بس
ممنونیت کا نم جھلکتا ہے
مرے سینے کے بکسے میں نہیں
آنکھوں میں میرا دل دھڑکتا ہے‘‘
قلبیہ کا پہلا حصہ اگر حمدیہ ہے تو آخری نعتیہ ، عشق رسول میں ڈوبا ہوا اور اس فکری اور تہذیبی نظام سے جڑا ہوا بھی، جس سے شاعر جڑ کر زر عرفان پاتا ہے، سو اس نظم میں آپؐ کی رحمتوں کا بیان ہوتا ہے ۔ یہیں شاعر خوش امکان تحریکوں کی بات کرتا ہے، تو میں جو ایمان کا اتنا پختہ نہیں ہوں ،سوچتا ہوں اور اپنے آپ سے کئی سوال کرتا ہوں، خود سے اُلجھتا ہوں اور ’’خوش امکان تحریکوں‘‘ کے آگے بڑا سا سوالیہ نشان لگا دیتا ہوں۔ میری طرح اور بھی اُلجھتے ہوں گے مگر شاعر کے پاس یقین کی دولت ہے اور میں حیران ہوتا ہوں اور رشک کرتا ہوں کہ اس بے مہر زمانے میں بھی اس نایاب دولت سے اس کا دامن بھرا ہوا ہے۔ اس خوب صورت نعتیہ اظہاریے میں جذب و شوق کا دریا کچھ اس صورت کناروں سے چھلکتا ہے کہ شاعر کا دل اس کے سینے کے بکسے میں نہیں، اس کی آنکھوں میں دھڑکنے لگتا ہے ۔
میں نے عین آغاز میں کہا تھا ،ہم بہ حیثیت مجموع بیمار ہو جانے والے بیدی کی طرح اپنے حواس میں نہیں ہیں، ہمارا بہت کچھ بک چکا ہے۔ وہ ساری اجتماعی اور تہذیبی وابستگیاں جو کل تک ہماری دستار کا پَر تھیں ،غیروں کے ایجنڈے کواپنی جنگ بنا کرلینے والوں کی زبان پر چڑھی ہوئی پھبتی ہو گئی ہیں۔ اور اب آخر میں کہنا ہے کہ جلیل عالی اپنی شاعری کے ذریعے ہمیں اجتماعی سطح پر اپنی تہذیبی فکری روایت سے جڑجانے پر اکسا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب بیدی کو اس کی اپنی باتیں اور اس کے اپنے لکھے ہوئے جملے سنائے گئے تھے تو ایک جملے پر وہ پکار اٹھا تھا، ’یہ تو اس کے افسانے کا جملہ ہے ‘۔ جلیل عالی جس تسلسل اور استقامت کے ساتھ ہند اسلامی روایت سے جڑ کر اجتماعی حمیت کوجگانے میں جتا ہوا ہے، اس سے اس کی شاعری کی الگ اور لائق اعتنا شناخت تو بنتی ہی ہے ہمیں بھی اس کے خلوص اور لگن پر رشک آنے لگا ہے۔

***

شکریہ تنقیدات
https://www.facebook.com/groups/548295721925401/permalink/1044192515669050/

Anand

Arshad

Rehman

Rehman

Rehman

Rehman

 

Rehman

Rehman

Rehman

Rehman

Rehman

Rehman

Rehman

Rehman

Rehman

Rehman

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

محمد حمید شاہد|مجید امجد:تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ

پچھلے ہفتے مجھے کوئی اٹھانویں سال کی عمر کو پہنچے ہوئے کشمیری لال ذاکر کی …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *