M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|ادب اور ہمارا زمانہ

محمد حمید شاہد|ادب اور ہمارا زمانہ

ہم اپنی دنیا کو تیزی سے تبدیل ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ بہ قول اقبال :’’ہر لحظہ نیاطُور ،نئی برق تجلی ‘‘ ۔ یہ تبدیلی سماجی اور سیاسی سطح پر بھی ہے اور تیکنیکی پھیلاؤ اور انفارمیشن کے بہاؤ سطح پر بھی ۔ تبدیلی کی اس یلغار نے انسانی زندگی کی سادہ سطحوں پر خراشیں ڈال کر اسے پیچیدہ بنا ڈالا ہے۔ فطرت اور انسان کے درمیان موجود رابطے کمزور پڑنے لگے ہیں ۔نئے آدمی کی زندگی پر میکانکیت کا غلبہ اور انفارمیشن کے گاربیج کا بوجھ روز بہ روزبڑھتا جا رہا ہے۔نئی نئی ایجادات جہاں نئے نئے بھید وں اورنئی نئی آسائشوں کی صورت ظاہر ہو رہی ہیں وہیں یہ ایجادات سرمایے کی افزائش اور چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جانے کا باعث بھی ہو رہی ہیں ۔
اور ہاں ،موجودہ عہد کو دانش وروں نے دہشت کا زمانہ کہا ہے ۔ یہ ایسا زمانہ ہے کہ جس میں انسانی زندگی بے توقیر ہو گئی ہے۔ قوت اور پیدواری منابع پر قبضے کا چلن عام ہو چلا ہے۔ ملکوں پر یا تو براہ راست حملہ کر دیا جاتا ہے یا پھر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے عالمی سامراج ،مقامی گروہوں کو اپنا ہرکارہ بنا لیتا ہے۔ اکثر ایسے گروہ بھی آلہ کار ہو جاتے ہیں جنہیں خود اندازہ ہی نہیں ہوپاتا کہ وہ کسی کے آلہ کار ہو گئے ہیں۔ یہ بات عجیب لگتی ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ ایسا ہوتا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ وہ جو کسی دانا نے کہاہے کہ یہ وہ عہد ہے جس میں ہماری دانش چوری ہو رہی ہے مگر اس کا ہمیں احساس تک نہیں ہوپارہا تو درست ہی کہا ہے۔ گویا بیانیہ کو ئی بناتا ہے اس میں ہم اپنی دانش بھرتے رہتے ہیں۔ایسے میں ایسے سانحات کو ہونے سے کون روک سکتا ہے جو ہمارے آنکھوں نے دیکھے ہیں۔ عالمی سامراج اور مغویہ دانش سے متشکل ہونے والے دہشت کے اس زمانے نے ہماری حسیات کوبالکل بدل کر رکھ دیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم خوف‘ نفرت‘ غصہ اور مایوسی کو الگ الگ محسوس کرنے اور بیان کر دینے پر قادر تھے اب یوں لگتا ہے ایسا ممکن نہیں رہا ہے ۔ خوف کب نفرت میں ڈھلتا ہے اور نفرت کب غصے کے بعد مایوسی میں ‘ ہم چاہیں بھی کو ڈھنگ سے جان ہی نہیں پاتے ۔ مسلسل ہراس نے آدمی سے اس کے حواس چھین لیے ہیں ۔
جس عہد میں ہم جی رہے ہیں اسے محض حواس باختگی کا زمانہ ہی نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں زندگی کے لطف اور اس کے اندر موجود تخلیقیت کو لذت اور افادیت سے بدل لیا گیا ہے ۔ جی صاف لفظوں میں کہوں تو یوں ہے کہ تخلیقی عمل جو انسانی زندگی کو ایک خاص لطف سے ہمکنار کرتا تھا وہ آج کے عہد کی بظاہر ترجیحات میں کہیں نہیں ہے۔ میڈیا کی مقبولت اور پھیلاؤ نے جس نمائشی اور لذیذ زندگی کومابعد جدیدیت والے جدید تر آدمی کے لیے نمونہ بنا دیا ہے اس نے تہذیبی اور اقداری نظام میں دراڑیں ڈال دی ہیں ۔
میں جس تہذیبی وجود کا قصہ لے کر بیٹھ گیا ہوں اس کو بھلا کر میں زندگی کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتاہوں ۔ مانتا ہوں کہ یہ تہذیبی وجود ‘جو مجھے بہت محبوب ہے‘ بظاہر ہر کہیں اس اکتسابی شعور سے مات کھارہا ہے جسے دھونس دھاندلی اور زور زبردستی سے ہمارے وجود کا حصہ بنانے کے جتن ہوتے رہے ہیں ۔ تاہم میں یہ ماننے سے انکاری ہوں کہ اکتسابی شعور تہذیبی وجود سے مس ہوئے بغیر ہمارے شعور میں منقلب ہو سکتا تھا یا ہوتارہا ہے ۔ جو لوگ وقت کی عطاکے اس بھید سے آگاہ نہیں ہیں ان کے لیے تخلیقی سطح پر زندگی گزارنے کے کوئی معنیٰ نہیں مگر یاد رہے کہ سہولت ہتھیاتی زندگی اور تخلیقی زندگی میں وہی فرق ہے جو ایک بے روح جسم اور زندگی سے ہمکتے وجود میں ہوتا ہے ۔
اس باب میں ادب سے فیض پانے کا تجربہ ہمیشہ ہماری مدد کو آتا رہا ہے ۔ کیسے ؟ اسے جاننے کے لیے مجھے کہہ دیناچاہیے کہ جدید زندگی جو بظاہر ہمیں گرفت میں لے چکی ہے وہ کبھی بھی ہماری کسی داخلی ضرورت کو پورانہ کرسکی۔ ہمارا داخل کائنات کی اس تعبیر کو مانتا ہی نہیں ہے جس کے اندر سے سارے بھید نکال کر باہر پھینک دیے جائیں ۔ ہمارے لیے تو سارا حسن مسافت اور تجسس میں ہے، پرکھ کر کسی نتیجے پر پہنچ جانے میں نہیں ۔ تسلیم کر لینے اور ایک بھید کو اپنی وسعتوں سمیت اپنے وجود کا حصہ بنا لینے میں جو لطف ہے وہ تجربہ گاہ میں لے جا کر کسی عظیم بھید کے بخیے ادھیڑ ڈالنے میں کہاں،جس کے بعد کچھ ہاتھ نہیں آتا اور جھنجھنا نا آدمی کا مقدر ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب میں محض وہی اہم نہیں ہوتا جو ہمارے تجربے میں آتا ہے کہ وہ تو صرف ہستی کا فریب ہوتا ہے ۔ زندگی تووہ بھی ہوتی ہے جو دیوار کے اُدھر رہ جاتی ہے مگر جسے ہم تسلیم و رضا کے قرینے سے اپنے وجود کا بھید بنا لیتے ہیں ۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا :
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ ءِ دامِ خیال ہے
اور یہ جو دَامِ خیال والا عالم تمام ہے غالب کے ہاں یہی تمام عالم نہیں ہے کہ اس دشت اِمکاں کو تو وہ صرف ایک نقش پا سمجھتا ہے اور اپنی تمنا کا دوسرا قدم اُسی بھید بھرے علاقے میں جادھرتا ہے جس کا علم اِکتسابی نہیں بلکہ تہذیبی ہوتا ہے۔
میں مانتا ہوں کہ شروع سے ہمارے ہاں کامل سطح پر تہذیبی شعور کبھی بھی کام نہیں کرتا رہا ہے اور یہ بھی مانتا ہوں کہ ابھی ہم پوری طرح اس جانب متوجہ بھی نہ ہو پائے تھے کہ ہماری تہذیبی زندگی میں اکھاڑ پچھاڑ شروع ہوگئی تھی۔ یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ عین اس زمانے میں کہ ابھی بقول انتظار حسین ادب کا ناتا فطرت سے نہیں ٹوٹا تھا‘ فطرت سے بھی اور ماورائے فطرت سے بھی ‘ تو اس زمانے کا سیاسی نظام بہت گل سڑ چکا تھا ۔ یہ نظام اتنا بوسیدہ اور بے کار ہو گیا تھا کہ اس کی سڑاند میں تہذیبی معاشرے کی سانسوں میں رخنے ٖپڑ رہے تھے۔ یہ بھی ماننا ہو گا کہ ثقافتی انجماد نے مرے کو مارے شاہ مدار جیسا کام کیا۔سارے میں جب وہ ثقافتی مظاہر ٹھٹک کر ٹھہر گئے جو تہذیبی علاقے میں توسیع اور تحرک کا باعث ہوتے تھے تو پورا معاشرہ ایک گہری تبدیلی کی ضرورت محسوس کرنے لگا تھا۔ اسے حقیقت مانتے ہوئے بھی میرا اصرار ہے کہ انگریز کی غلامی نے ہمیں جس نہج پر بدل کر رکھ دیا ہے اس نے ہمارے ہاں بحران کو شدید تر کر دیا ہے ۔ ہماری اس بدلی ہوئی شخصیت کا شاخسانہ ہے کہ ہمارا مابعدنوآبادیاتی ذہن ہند مسلم تہذیب کے روشن مظاہر کے ساتھ جڑنے کی راہ میں جا بجا رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا ہے۔
لطف یہ ہے کہ ان سارے رخنوں کے باوجود ہمارا تہذیبی لا شعور بہت بیدار رہا ہے ۔ ہم اوپر سے یوں بدلتے رہے ہیں جیسے کوئی شوقین مزاج اپنے سیل فون کی سکن بدلتا ہے ۔ تاہم ہمارا باطنی ماڈل بہت حد تک ہمارے تہذیبی وجود کے روشن مظاہر سے جڑا رہا ہے ۔ دیکھئے اس باب میں افسانے کی مثال دی جاسکتی ہے جو قصے کہانی اور داستان کے اسلوب سے خارج میں ناتا جوڑے بغیر وجود میں آگیا تھا اور ہمارے ہاں خوب پھلا پھولا ‘ کبھی بیانیے کے روپ میں تو کبھی علامت کے سہارے اور پھر ان دونوں صورتوں کو بہم کرکے نئے تخلیقی جواز کے ساتھ ۔ تاہم اس نے اندر ہی اندر ان بھید بھنوروں اور ان مابعد الطبعیاتی موضوعات کو بھی سمو لیا ہے جو مغربی کہانی کی دسترس میں سہولت سے جگہ نہیں پاتے رہے۔ غزل تو شروع سے تہذیبی مظہر تھی اس نے داستان کی طرح پسپائی گوارا نہ کی ۔ اپنی ڈھب پر اپنی چھب دکھا کر چلتی رہی۔ حسی سطح پر بدلی ضرور مگر یوں نہیں کہ اس نے میر اورغالب کی غزل سے منہ موڑ کر اسے بوسیدہ کر دیا ہو ۔ سو مان لیں کہ یہ اب تک ہمارا تہذیبی مظہر چلی آتی ہے ۔ داخلی اور معنیاتی سطح سے لے کرہیئت اور زبان کے حوالے سے بھی ۔ نظم کے باب میں ماننا پڑے گا کہ نہ صرف بدلی ، اپنے تبدیل ہونے کا حق بھی ادا کیا ۔ اقبال کے بعد راشد تک آتے آتے تو اس کا بدلنا صاف دیکھا جاسکتا ہے ۔ اندر سے بھی اور باہر سے بھی۔ اس کے بعد بھی اس کا بھیتر تبدیلیوں کی زد میں ہے مگر اس سب کے باوجود یہ بھی اردو زبان کی اُس مابعد الطبعیات سے جڑی ہوئی ہے جس کی طرف حسن عسکری نے اشارہ کیا تھا۔ یہی معاملہ دوسری اصناف کا ہے مگر ذرا دھیان سے مطالعہ کریں تو صاف محسوس ہو گا کہ عصری زندگی کا وہ تجربہ جس میں ہم اپنے تہذیبی لاشعور کے ساتھ جڑ جاتے ہیں وہی فی الاصل تخلیقی تجربے کا شرف پاتا رہا ہے اور جہاں جہاں اس تخلیقی تجربے کی بجائے اکتسابی تجربے کے زور پر کوئی فن پارہ وجود پذیر ہوا، اُس کی چکا چوند چاہے ایک زمانے میں خوب خوب محسوس کی گئی، وقت کی اگلی بارشو ں میں دُھل جانے کے بعداس کا سارا روغن اتر گیا اور وہ ہمیشہ متروک ہوتا رہا ہے۔
یہیں یہ بات یاد دلانے کی ہے کہ تہذیبی تشخص نہ توکبھی مکمل ہوتا ہے نہ ہی مکمل طور پر مطمئن کرتا ہے ۔ یہ ایسی مستقل عبارت نہیں ہے کہ جسے اپنے گھر کے صدر دروازے کی تختی پرسجا کر اپنی شناخت مستحکم کرلی جائے اور نہ ہی یہ گھر کے پچھواڑے کا ایسا کمرہ ہوتا ہے جس میں کاٹھ کباڑ ڈال دیا جائے۔ میرے نزدیک تو تہذیبی تشخص ہمہ وقت مضطرب رہتا ہے اور ہمیشہ اپنی تکمیل کے لیے موافق مواد تلاش کرکے اپنے وجود کا حصہ بناتا رہتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تہذیبی تشخص کی جلد کے وہ خلیے جو مردہ ہو چکے ہوتے ہیں‘ جھڑ کر مسلسل الگ ہوتے رہتے ہیں۔ یہی تہذیبی تشخص ‘تخلیقی تجربے کا لازمہ ہے۔ یہاں مجھے یہ بھی بتانا ہے کہ نئے زمانے میں جن ادبی تھیوریوں کو ہمارے ادبی نظریات کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے وہ بھی اب کسی نہ کسی سطح پر اپنی کارکردگی دکھا کر بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ خود امریکہ کا یہ معاملہ رہا ہے کہ وہاں جب روشن فکری کی تحریک چلی یا بعد ازاں ان کی حسیات میں سائنسی اور صنعتی ترقی نے حک و اضافے کیے تھے تو اس نے ان کے وجود کے کئی خلاؤں کو پاٹا بھی اور کہیں کہیں نئی الجھنیں بھی رکھ دیں ۔ اس مقام پر مناسب ہوگا کہ ایڈورڈ سعید کے معروف مضمون The Clash of Definitions کا حوالہ دے دوں کہ اِس میں اُس نے بتایا تھا کہ امریکہ میں یہ بحث کہ کس شے کو امریکی کہا جائے ڈرامائی تبدیلیوں سے دوچار رہی ہے۔ بقول ایڈورڈ سعید جب وہ جوان ہو رہا تھا تو اس زمانے میں ویسٹرن فلم امریکہ کے اصلی باشندوں کو لعین ابلیس کی شکل میں دکھاتی تھی جنہیں یاتو مار ڈالنا لازم تھا یا پھر غلام بنا لینا ۔ انہیں ریڈ انڈینز کہا جاتا تھا ۔ یہ تھی امریکہ کی اصلی تہذیب ۔ لہذا ماضی ان کے لیے ناسور تھا جس کے لیے ایسی ادبی تھیوریوں کو تلاش کیا جانا ضروری خیال کیا گیا جو چاہے فرانس ‘الجیریا یا کہیں وجود میں آئی ہوں ‘ان میں نیا ثقافتی بیانیہ ڈال سکتی ہوں اور تہذیبی ماضی کومتن سے کاٹ سکتی ہوں۔ انہیں نہ صرف مستقل معنی سے بلکہ اس کے مصنف کے وجود سے الگ کرکے پچھاڑ سکتی ہوں ۔ یاد رہے سماج‘ جس متن کو میڈیا کے پروپیگنڈے کے زیر اثر حقیقی اور ثقافتی سمجھے گا‘ وہ نئی تھیوری میں حقیقت ہو گی اس نئی بنائی گئی حقیقت میں تخریبیت ہے‘ بکھراؤ ہے۔
ادب اس بکھراؤ کو نہیں مانتا۔جی ہاں ادب اس بکھراؤ کا نام کیسے ہوسکتا ہے۔
مارٹن لنگز نے ولیم شیکسپیئر پر اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا:pagea5
’’ ایک بڑا تخلیق کار اپنے طور پر کائنات کی تشکیل کرتا ہے ۔اس کا جو روزمرہ ہوتا ہے یا وہ جس دنیا میں رہتا رہا ہے یا رہتا ہے ، اس میں وہ اپنی آرزوئیں ، اُمنگیں اور خواب شامل کرکے ایک نئی دُنیا تخلیق کرتا ہے جو موجود دنیا سے مماثل ہو کر بھی مختلف ہو جاتی ہے ۔‘‘
نئی دنیا کی تخلیق ، بکھراؤ والی افادی نہیں ، امنگوں ،امیدوں اور خوابوں والی نئی دنیا۔ اور ہاں عزیز طالبات!دہشت ، انفارمیشن کی بہتات اور منڈی کے غلبے کے اس زمانے میں ، جب کہ سب کچھ افادی ہو گیا ہے ، ادب کے افادی ہونے کے اپنے معیار اور پیمانے ہیں ۔ یہیں فیض احمد فیض کی یاد آتی ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون ’’شاعرکی قدریں ‘‘ میں لکھا تھا:
’’اگر آپ تسلیم کرتے ہیں کہ جمالیاتی قدر بھی ایک سماجی قدر ہے تو آپ کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کی افزائش بجائے خود سماجی زندگی کی آسودگی اور بہتری میں اضافہ کرتی ہے یا دوسرے الفاظ میں حسن کی تخلیق صرف جمالیاتی فعل ہی نہیں ، افادی فعل بھی ہے۔‘‘
یہ ان معنوں میں افادی فعل تو ہے مگر اس کی قدر کی تعیین کے پیمانے مختلف ہیں ۔ بہ قول وارث علوی ’’انسانی تاریخ شاہد ہے کہ آرٹ کی قدروں کا دارومدار کبھی اس کی کھپت کے اعدادو شمار پر نہیں رہا‘‘گویا کنزیومر اس کی قدر متعین کرتا ہے نہ بازار میں لگا ترازو۔یہیں وارث علوی کا ایک مضمون یاد آتا ہے ، عجیب سا عنوان تھا ’’اے پیارے لوگو، تم دور کیوں ہو!‘‘ اس مضمون میں اس نے کسی کو مقتبس کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’آدمی ادب کو پانی کی طرح پیتا ہے ، اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ ادب کیسے اس کی زندگی کو شاداب کرتا چلا گیا۔‘‘
خیر، میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ جب میں ادب اوراپنے تخلیقی تجربے کے ساتھ جڑنے کی بات کر تا ہوں تو دراصل یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک حساس فرد کا باطن بہر حال اپنے تہذیبی وجود کی طرف لپکتا ہے اور اپنے خوابوں کی طرف بھی۔جی ، اس تہذیبی وجود کی طرف جو تاریخ‘روایت اور کلاسیکی مظاہر کے ساتھ جڑا ہو اہوتا ہے۔ اور اپنی اُمنگوں اور خوابوں کی طرف ،جو مستقبل کی سمت ایک کھڑکی کھول دیتے ہیں۔ تہذیبی وجود اور اپنے خوابوں کے ساتھ جڑنے سے ،تخلیقی عمل کے دوران، زندگی اُتھلی نہیں رہتی اِس میں گداز اور تحرک پیدا ہوتا ہے۔ اپنے تہذیبی ورثے اور روایت کے اثاثے سے گہرے معنیاتی سلسلے اورتخلیقی بھید بھنورکشید کرکے فرد اپنی فکر کو جمالیاتی داخلیت عطاکرتا ہے اور خوابوں سے جڑ کر تعبیر پانے کے لیے اس کے وجود میں تحریک پیدا ہوتی ہے۔ادب کے ساتھ اس سطح پر جڑنے سے معنیات‘اظہار اور ابلاغ کے توسیعی علاقے دریافت ہوتے ہیں ۔ یہ بالعموم ایسے بھیدوں بھرے علاقے ہوتے ہیں جودوسرے علوم کی گرفت میں نہیں آتے اور بیان کی قوت سے بھی ورا ء ہوتے ہیں ۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ادب اپنے تخلیقی عمل کے طفیل زندگی کو رواجی نشانات سے اوپر اٹھا کر حقیقت کے ایک مرتبہ وجود کو اس کے برتر مرتبہ وجود سے جوڑ دیتاہے ۔
***

 

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

فاروق سرور|شاندار ماڈرن ادیب محمد حمید شاہد چاہتے کیا ہیں؟

ادب سیر فاروق سرور قصہ ایک افسانہ نگار اور ان کی افسانوی دنیا کا میکسم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *