M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

                      شکریہ جنگ کراچی : http://e.jang.com.pk/08-09-2017/karachi/page14.asp
                                      پہلاحصہ پڑھنے کے لیے کلک کریں: پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال

نئی نظم : بھرپور شعری اظہارکاقرینہ

ایک بار میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اردو ادب میں غزل کے بجائے نظم کی روایت زیادہ قدیم ہے تو وارث علوی کی محبوب اصطلاح میں ’’بھائی لوگ‘‘ مجھے فوراً جھٹلانے کو نکل کھڑے ہوئے تھے ۔بارہویں صدی کے آخر میں پیدا ہونے والی اردو جس علاقے میں پہنچی اور جہاں جہاں اس میں ہماری غزل نے آنکھ کھولی وہاں پہلے سے نظم کا وسیلہ اظہار پہلے سے موجود تھا کہ شاعری درس و تدریس کا بہتر ذریعہ سمجھی جاتی تھی اوراس کے لیے نظم کی صنف موزوں ترین تھی۔ مکمل بات،با معنی اور پر از اثر۔لہذا مذاہب کی خوب خوب تبلیغ ہو رہی تھی اور نظم یہ فریضہ بخوبی سر انجام دے رہی تھی۔خیر یہ جملے تو یونہی سرزد ہو گئے مجھے قیام پاکستان کے بعد کی نظم پر ایک ڈیڑھ بات کہنی ہے اور کہنا یہ ہے کہ وہ نظم جس کی روایت ہمارے ہاں بہت قدیم تھی پاکستان بننے کے بعد اس سے ہم نے اپنا رشتہ لگ بھگ منقطع کر لیا تھا۔ جدید نظم نے اس نظم سے کوئی علاقہ نہ رکھا جو نظیر اکبر آبادی کے زمانے میں ایک انگڑائی لے کر بیدار ہوئی تھی اورنہ اس نظم کولائق اعتنا جاناجو ان سے پہلے سحرالبیان والے میر حسن، گلزار نسیم والے پنڈت دیا شنکر نسیم، قول غمیں اور زہر عشق والے مومن اور مزرا شوق دہلوی کی مثنویوں کی صورت موجود تھی ۔ واسوخت، قصیدہ، ہجو، رباعیات، قطعات اور مرثیہ سب پیچھے رہ گئے حتیٰ کہ حالی بھی جو کرنل ہالرائڈ کے ایما پر ایسے مشاعروں کا اہتمام کرتے تھے جن میں طرح مصرع کے بجائے موضوع دیا جاتا تھا۔ اقبال سے نظم نے بہت کچھ اخذ کیا اوراس نے عصری حسیت سے جڑ کر اظہار کا قرینہ پالیا ۔ پاکستان کے ستر برسوں کی نظم کے اولین صورت گر ن م راشد، میرا جی، مجید امجد اور فیض احمد فیض بنتے ہیں۔ حمید نسیم کے مطابق فیض انسانی روابط کے شاعر تھے اورفیض کا یہ کمال بنتا ہے کہ دکھ سہتے ہوئے بھی عالم نشاط کا سا نشہ چھایا رہتا ہے۔ عجب جادو ہے کہ دل پر دستِ صبا سے دستک دیتا ہے۔ فیض اپنی نظم اور غزل ،دونوں کے سبب مقبول ترین شاعر ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ نئی نظم نے ن م راشد کے اسلوب کی پیروی کی۔ نظم کا موجود اسٹریکچر ٹوٹ چکا تھا اور اسے توڑنے میں اور نیا سانچہ بنانے میں راشد اور میرا جی بہت کام کیا ۔ جس معنیاتی دنیا سے راشد اور میرا جی کلام کرنا چاہتے تھے اس کے لئے نئی لغت درکار تھی۔ نئے اسلوب کے لئے راہ ہموار کرنا تھی اور نئی فکر و احساس کے اجالے کے لئے منجمد تاریکی کو کاٹنا تھا۔ اُنہیں جس معاشرتی گھٹن کا احساس شدت سے تھا اور جن اخلاقی قدروں کو وہ جھوٹا سمجھ رہے تھے وہ بڑا حوصلہ مانگتی تھیں اور یہ حوصلہ راشد اور میرا جی میں تھا ۔ جس ماضی کی راشد نفی کر رہے تھے ، اس ماضی کی نظم سے کٹنا ان پر لازم ہو گیا تھا ، صرف نظم سے نہیں ماضی کے سارے شعری وسائل سے ۔ اپنے تہذیبی ماضی سے بھلا مکمل طور پر کوئی کیسے کٹ سکتا ہے؟ راشد بھی جدا نہ ہو سکے اور یہ ان کی ناکامی نہیں ان کی نظم کی کامیابی بنتی چلی گئی ۔ میرا جی کے ہاں راشد کے مقابلے میں فکری لپک کم سہی مگر داخلی سوزو گداز کہیں زیادہ تھا۔ ناقدین نے ان کا سلسلہ میرا جی کی اپنی محرومیوں سے جوڑا ہے اور کسی حد تک یہ بات درست بھی معلوم ہوتی ہے ۔ تاہم مجھے کہنے دیجئے کہ میرا جی راشد کی طرح ماضی سے بگڑے ہوئے نہیں تھے۔ لہذا ماضی کی زندہ روایات سے جڑنے کو عیب نہ گردانا۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ تاریخ اور نسلی یادیں مل کر گزرے ہوئے زمانے کو بھی اپنا تجربہ بنا دیا کرتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہ آدمی کا شعور ماضی، حال اور مستقبل سے مل کر متشکل ہوتا ہے۔مجید امجد کو ذرا دیر مانا گیا تاہم مان ہی لیا گیا اور درست مانا گیا کہ ا نہوں نے انسان کی حسی اور لاشعوری زندگی کو نظم میں سمو کر اسے عجب طرح کی ندرت سے ہمکنار کیا تھا۔ مجید امجد کے ہاں وقت زندہ بدن میں دل کی طرح دھڑکتا ہے۔ جہاں مجید امجد کی نظم ہے وہاں سے ماضی بھی جھلک دے جاتا ہے اور مستقبل کا چہرہ بھی درخشاں رہتا ہے کہنہ وقت کی بوڑھی کبڑی دیواروں کے پاؤں چاٹتی گلیاں ہوں یا گزرے دنوں کے ملبے تلے ٹوٹتے فرش اور اکھڑتی اینٹیں، اشکوں سے معمور شامیں ہوں یا پھر چلمنوں سے پرے کا منظر جو نظر نہیں آتا مگر نظر میں رہتا ہے کہ وہ سب مجید امجد کی نظم کا حصہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد تو نظم نگاروں کا ایک سلسلہ ہے جو اوپر کے شاعروں میں سے کسی ایک سے اپنا سلسلہ جوڑتا ہے ۔ احمد فراز ، احمد ندیم قاسمی ، افتخار عارف، عارف عبد المتین،منیر نیازی ہوں یا وزیر آغا، جیلانی کامران،ساقی فاروقی، ضیا جالندھری، آفتاب اقبال شمیم،ریاض مجید،حسن عابدی، احسان اکبر اور دوسرے نظم نگار سب اپنے اپنے محبوب قرینوں سے جہانِ معنی و جمال کے مقابل ہوتے رہے ہیں ۔لگتا یوں ہے کہ انیس ناگی اور افتخار جالب ماضی کا قصہ ہو گئے ہیں مگر یوں ہے کہ نئی نظم کے تذکرے کا وہ بھی لازمی حصہ ہیں۔ نظم کی اقلیم کے ان بڑے علاقوں سے ذرا فاصلے پر اسی عرصے میں توصیف تبسم، قمر جمیل، عرش صدیقی، اور سرمد صہبائی اپنی اپنی بستیاں بساتے ہیں۔ جلیل عالی سے لے کرعلی اکبر عباس، علی اصغر عباس اور اختر عثمان تک عمدہ غزل کہنے والے ،غزل سے فرصت لے کر ایسی نظمیں تخلیق کر دیتے ہیں توجہ کھینچتی رہتی ہیں۔ پروین شاکر نے نسوانیت کے مشرقی احساس کو نظم کا حصہ بنایا تھا زہرہ نگاہ اُس ظلم کی کہانی نظم کی زبان سے سناتی ہے جو عورت سہہ رہی ہے اور سہے جاتی ہے۔ فہمیدہ ریاض ، کشور ناہید سے حمیدہ شاہین ثروت زہرہ تک شاعرات کا ایک سلسلہ ہے جو اپنے عورت ہونے اور سب کچھ اپنی نظر سے دیکھنے پر اصرار کرتا ہے ۔ یاسمین حمید نے عورت کے اندر موجود انسانی وجود سے مکالمہ کیا۔ عرش صدیقی اور احمد شمیم کا تذکرہ تو رہے جاتا ہے حالاں کہ عرش صدیقی نے افسانہ لکھا تو یوں کہ اپنی چھب الگ سے دکھائی اور نظموں میں دسمبر کی ایسی طرح ڈالی کہ آج کے نظم نگار بھی اس پر طرح لگانا باعثِ فخر گردانتے ہیں۔ احمد شمیم، ثمینہ راجہ، منصورہ احمد اور جاوید انورکم جیئے، لیکن جو لکھا خوب لکھا ۔ستیہ پال آنند کا دعویٰ ہے کہ انہیں بھی پاکستانی نظم نگار سمجھا جائے حیرت ہوتی ہے جب انہیں اس عمر میں بھی پوری تخلیقی توانائی کے ساتھ نظم سے وابستہ دیکھتا ہوں ۔ ثروت حسین، سارا شگفتہ، ذیشان ساحل افضال احمد سید، حارث خلیق سب کا کام ایسا ہے کہ توجہ کھینچتا ہے ۔ علی محمد فرشی، نصیر احمد ناصر،ابرار احمد،وحید احمد، اقتدار جاوید،رفیق سندیلوی اور میرے محبوب انوار فطرت اور فرخ یارسے لے کر پروین طاہر اور سعید احمد،فہیم شناس کاظمی، الیاس بابر اعوان ،قاسم یعقوب، مبین مرزا،عمران اذفر،رفعت اقبال ، ارشد معراج ،رفاقت رازی ،سرمد سروش، خلیق الرحمن کس کس کا نام لوں ، بہت سے نام میں پہلے ہی ایک مضمون میں لے چکا ہوں جنہیں یہاں نہ ملے وہ وہاں دیکھ لیں کہ وہ سب میرے لیے بہت اہم ہیں ۔کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اب نظم بھی کم مقبول صنف نہیں رہی ہے ۔ اس کے تیور بدل گئے ہیں زبان بدل گئی ہے۔ پابند نظم کا چلن کیا بدلا کہ اس نے تخلیقی سطح پر حیران کن جست لگائی ہے جدید نظم اور نئی نظم نے نثری شاعری یعنی نثم کو بھی دل سے قبول کرکے اپنے اوپر نئے امکانات کے دریچے کھول کیے ہیں ۔یہی سبب ہے کہ میں بہ اصرار کہتا آیا ہوں کہ نئی نظم اتنی توانا ہو گئی ہے کہ اُس نے زندگی سے اصل معانی کشید کرنے کا فریضہ، مہمل نظریہ سازوں کی مدد کے بغیر، ادا کرنے لگی ہے۔ نئے منظر نامے میں نئی نظم حیات انسانی کے معلوم اور نا معلوم علاقوں پر نور کی سی سرعت اور لطافت کے ساتھ پہنچتی ہے اور اپنے حصے کے سچ کی وسعت کو اپنے فراخ سینے میں بھید کی طرح سمیٹ لیتی ہے۔

………………………………..
اُردو افسانے کا منظر نامہ
جب پاکستان بنا تب تک افسانے کا منظر نامہ جن ناموں سے بنتا تھا ان میں راشدالخیری، منشی پریم چند، خواجہ حسن نظامی، سجاد حیدر یلدرم، اوپند ر ناتھ اشک، حیات اللہ انصاری ، مجنوں گورکھ پوری، میرزا ادیب، احمد علی، سجاد ظہیر،عزیز احمد، عصمت چغتائی ،راجندر سنگھ بیدی،سعادت حسن منٹو، غلام عباس،حسن عسکری، قرۃ العین حیدر،احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد اور انتظار حسین تک، سب اپنا پنا حصہ ڈال رہے تھے ۔ پھر یوں ہوا کہ اس میں کچھ اور رنگ بھرنے کو انور سجاد ، منشایاد ،خالدہ حسین ، رشید امجد، اسد محمد خاں جیسے لوگ آگئے ۔اسلم سراج الدین، خالد طور، سید راشد اشرف، نیلوفر اقبال، آصف فرخی ، مبین مرزا ، نیلم احمد بشیر، اے خیام ،یعقوب شاہ غرشین ، اخلاق احمد ، آمنہ مفتی ، عرفان جاوید، زین سالک سے لے کر اس خاکسار تک اور اس کے بعد بھی ایک زرخیز نسل میدان میں اتر چکی ہے اور سب کی ایک ہی دھن تھی کہ افسانہ لکھنا ہے اور مختلف ہو کر لکھنا ہے ۔ شاعری کا منظر نامہ اپنے وقت اور اپنے مکاں کے اعتبار سے ایک التباس پیدا کرتا ہے ؛ دور سے دیکھو تو دہکتی ریت پر لہریں لیتا پانی، قریب جاؤ تو فقط سراب؛ جب کہ افسانے کو اپنا منظر یوں اُجالنا ہوتا ہے جیسے آسمانی نور زمین پر اُترتا ہے تو سب کچھ واضح ہوتا چلا جاتا ہے مکاں بھی وقت بھی اور اس سے بندھی ہوئی ساری زندگیاں بھی ؛ جسموں کے اندر مقید زندگیا ں ۔ ہاں کہا جاسکتا ہے کہ زندگی ایک دام ہے ، ایک پھندا ، مگر افسانے کو اس جسم میں قید آدمی کے امکانات کو جو جسم سے باہر بھی بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ، انہیں تلاش کرتا ہوتا ہے ۔ یادرہے کہ افسانہ لکھنا ،واقعہ لکھنا یا چند واقعات کی تجمیع کا نام نہیں ہے یہ تو نادریافت کی دریافت ہے ۔ اُس کا تعاقب ہے جس کی شناخت کسی بیان سے ممکن نہیں ہے ۔ سو،لکھنے والے اس عرصے میں فکشن کا اپنا تخلیقی بیانیہ مرتب کرتے رہے ۔ وقت بڑا ظالم ہے کہ وہ اُردو افسانے کے منظر نامے سے ان ساری افسانہ نماکہانیوں یا انشائی تحریروں کو خود بخود الگ کرتا آیا ہے ، جو، کسی مطالبے پریامحض فیشن میں لکھی گئیں ۔ ہم دور کیوں جائیں افسانے کا موجود منظر نامہ علامتی افسانہ نگاروں کے زمانے سے جڑا ہوا ہے اور اس سے پہلے ترقی پسندوں کا چرچا تھا ۔ وقت کی چھاننی سے بہت کچھ چھن چکا ۔ کھرا کھوٹا الگ ہوا۔اب ہم اس عطا کو بھی صاف صاف دیکھ سکتے ہیں جو ترقی پسندوں کی عطا تھی اور جدیدیت پسندوں کی بھی۔ ترقی پسند افسانے کی پہلی نشانی یہ تھی کہ وہ خارج سے بہت مضبوطی سے جڑا ہوا ہوتا ۔ طبقاتی شعور کے پانیوں سے اس کی مٹی گوندھی جاتی ۔ اس کو انقلاب کا نعرہ عطا کیا جاتا ۔ ایسے میں لکھنے کا جو قرینہ بن سکتا تھا وہ بنا ۔ یہی کہ کرداروں کی زبان اس طبقے سے لی جائے ، جسے افسانہ نگاروں کا یہ گروہ نظریاتی سطح پر عزیز رکھنے کا دعویٰ رکھتا تھا ۔ افسانے کے اختتام میں عمل کی ترغیب ڈال لی جاتی ۔ یہ ایک لحاظ سے افسانے کی تخلیقی قرآت کے امکانات کا اتلاف تھا ۔ زندگی جس طرح موجود تھی اور جتنے رُخوں سے موجود تھی ، وہ اہم نہ رہی ،اس کی مقصدیت اہم ہو گئی۔ آدرش اہم ہو گیا توجذباتی اور نظریاتی حوالے تیکنیک اور تخلیقی عمل کی آزادی کو مجروح کرنے لگے۔ بیانہ اکہرا ہوکر محض بیان ہو گیا تو افسانے میں واقعہ اور واقعیت حاوی ہوئی اور تخلیقی زبان اپنے جوہر دکھانے سے کترانے لگی ۔ تخلیقی زبان سے اس افسانے میں گہرائی پیدا ہو سکتی تھی، جہاں اسے موقع دیا گیا اس میں گہرائی پیدا بھی ہوئی کہ یہ گہرائی انسانی بطون سے مکالمہ کر سکتی تھی مگر ترقی پسندوں پر جن عذابوں کو لکھنا فرض ہواتھا ، ان میں اس بھری کائنات میں اکیلے رہ جانے والا آدمی، طبقاتی ہجوم کے اندر کہیں گم ہو گیا تھا ۔ ترقی پسند افسانے کے رد عمل میں سامنے آنے والے جدید افسانے کی طرف ؛جو فی الاصل بغاوت کا افسانہ تھا۔ اس افسانے میں شعور کی رو ، داخلی خود کلامی،،واحد متکلم کے صیغے کا استعمال، انشائی زبان ، اختصار کے لیے اشاریت جیسے بنیادی عناصر کو صاف صاف آنکا جا سکتا ہے ۔ اس افسانے میں اُس داخلی شخصیت کا بیان ہونے لگا جو اپنے خارج میں کہیں نہیں ہوتی تھی ، انتشار معنی یا معنویت کی معدومیت اسے یوں مرغوب تھی کہ کائنات کے اندر فرد اپنی معنویت کھو بیٹھا تھا ۔ یہ افسانہ کچھ زیادہ ہی سوچنے والا تھا لہذا اس میں سے مقامی اور ثقافتی رنگ غائب ہوگیا ، اجتماعی زندگی قابل ذکر نہ رہی ، فرد اہم ہوگیا اور اس کا وجود ۔ وجود نہ کہیں ، وجودیت کے عذاب کہہ لیں۔ اسلوب کاری کے لیے نثری حیلوں کا استعمال اس کا وصف خاص تھا ۔ بجا کہ یہ دونوں انتہا پسندانہ رویے تھے اور آخرکار تیکنیکی جمود کا شکار ہو گئے، مگر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح سیلاب آتا ہے اور اپنے پیچھے زرخیز مٹی بچھائے چلا جاتا ہے ، ان انتہاپسندانہ رویوں سے ، افسانے نے بہت کچھ اخذ کیا اور پچھلے تجربوں کو یکسر مسترد نہیں کیا ۔ اب افسانہ انحراف کی روش پر نہیں انجذاب اور امتزاج کی روش اپنا چکا تھا ۔ اس کے لیے کہانی اور ماجرائیت ممنوعہ علاقہ رہا علامت۔ تاہم ستر برس کے تجربات سے آج کے تخلیق کار نے سیکھا کہ متن میں یہاں وہاں علامت کے پیوند لگانے کی بجائے ،پورے افسانے کواس میں موجود کہانی سمیت ، اس کی نامیاتی وحدت کے ساتھ علامت بنایا جاسکتا ہے ۔اردو افسانہ حقیقی دنیا(ہر چند کہیں ہے؛ نہیں ہے) کے مقابل تخلیقی تیقین کے ساتھ فکشن کی دنیا کی تعمیرکر رہا ہے ؛بالکل اُسی جیسی مگر اس سے کہیں زیادہ سچی اور حقیقی ۔حقیقی دنیا تعقل کی دنیا ہے اور اسی کی تظہیرکی پابند بھی، جب کہ افسانے کی دنیا ، تعقل سے کہیں زیادہ ایک ذہنی کیفیت سے بنتی ہے اور ایک ذہنی کیفیت سے ہی اس کی تظہیر ممکن ہو رہی ہے ۔ حقیقی دنیا جذبات کی دنیا ہے، جب کہ اردو افسانے کی دنیا جذبیت سے متشکل ہورہی ہے۔ اِسی جذبیت سے کہانی کی متھ بنتی ہے جو راست ابلاغ کی بجائے حسی تصویری بناتی ہے یا پھرحسوں کو مختلف سطحوں پر متحرک کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردوناول :قیام پاکستان کے بعد
تقسیم سے پہلے کے منظر نامے کی جانب دیکھیں تو ’’ شکست‘‘(کرشن چندر) اور ’’گریز‘‘(عزیز احمد) جیسے ناولوں کی طرف دھیان جاتا ہے ۔ وہاں سے کچھ اور پیچھے نذیر احمد کے’’ ابن الوقت‘‘ اور’’فسانہ مبتلا‘‘ یا دوسر ے ناولوں تک یا پھر اس سے بھی پیچھے کے داستانی ادب تک ہمارے پاس ایک بھرپور روایت تھی مگر واقعہ یہ ہوا کہ ہم نے داستان اور قصہ کہانی کی روایت کو پیچھے چھوڑ دیا ، حقیقت سے بعید قصے ہوں یا مقصدیت کے بوجھ سے لدی ہوئی کہانیاں، دونوں ہمیں لطف نہ دے رہے تھے ۔ خیر ،مرزا ہادی حسن رسوا کے ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ کو جس نے دیکھا ٹھٹک کر دیکھا ، پڑھا لطف لیا اور یوں اس صنف کا راستہ روشن ہوتا چلا گیا۔ پریم چند کے’’ گؤدان ‘‘ کو پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس صنف کی راہ متعین ہو چکی تھی۔ بعد ازاں جن ناول نگاروں نے اس راہ کے کانٹے چنے اور تخلیقی عمل کو عظمت کی راہیں سجھائیں ان میں سجاد ظہیر، عصمت چغتائی ، عزیز احمد ،کرشن چندر اور قرۃ العین حیدر کے اسما ء شامل ہیں ۔ سچ پوچھیں تو اکیلی قرۃ العین حیدر نے اس باب میں جو عطا کیا ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا ہے۔ قرۃ العین حیدر کا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا تھا۔ آزادی کے بعد عزیز احمد نے ’’ایسی بلندی ایسی پستی ‘‘جیسا اہم ناول دیا۔ شوکت صدیقی کا ’’خدا کی بستی‘‘اور’’جانگلوس‘‘، نثارعزیز بٹ کے ’’نگری نگری پھر ا مسافر ‘‘ اور ’’کاروان وجود‘‘ سے لے کر ممتاز مفتی کے ’’ علی پور کا ایلی‘‘جمیلہ ہاشمی کے ’’تلاش بہاراں‘‘، الطاف فاطمہ کے’’دستک نہ دو‘‘، امراؤ طارق کے’’معتوب‘‘ خدیجہ مستور کے ’’آنگن ‘‘، انور سجاد کے’’خوشیوں کا باغ‘‘ اور فہیم اعظمی کے جنم کنڈلی تک چلے آئیں ہمیں فکشن کی دنیا بھیدوں بھری لگے گی ۔ عبد اللہ حسین کے ناول’’اداس نسلیں‘‘ کواس کے بے ساختہ مکالموں کی وجہ سے پاکستانی بیانیے کا پہلا ناول قرار دیا گیا۔انتظار حسین کے’’ بستی‘‘ کوبکر انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوا تو سب نے ان کے دوسرے ناولوں ’’چاند گہن ‘‘ اور ’’آگے سمندر ہے‘‘ کی جانب بھی متوجہ ہوئے ۔ مستنصر حسین تارڑ نے ناول میں اپنے تخلیقی جو ہر کی دھاک بٹھائی ۔ ’’بہاؤ‘‘ اور’’ راکھ‘‘ جیسے ناولوں پر مصنف بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔ اکرام اللہ کا’’ گرگ شب‘‘، بانو قدسیہ کا ’’راجہ گدھ‘‘، طارق محمود کا ’’اللہ میگھ دے‘‘ مظفر اقبال کا ’’انخلاع ‘‘ اور انقطاع‘‘ کا ذکر اوپر ہونا چاہیئے تھا۔عاصم بٹ کے ’’دائرہ‘‘۔آمنہ مفتی کے ’’آخری زمانہ‘‘ نجم الدین کے’’ کھوج‘‘ اوراختر رضا سلیمی کے ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ اور’’ جندر ‘‘ تک چلے آئیں تو اس صنف میں لکھنے والوں کی ایک کہکشاں نظر آتی ہے پاپولر ناول لکھنے والوں پر الگ سے بات ہونی چاہیے کہ ان کا ذکر چھڑ گیا تو بات پھیلتی چلی جائے گی۔ سو ہم اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ ان ستر برسوں میں اس صنف میں بھی ہمارا دامن مالا مال ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *