M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|بانو قدسیہ کی رحلت پر ایک تعزیتی نوٹ

محمد حمید شاہد|بانو قدسیہ کی رحلت پر ایک تعزیتی نوٹ

05_03
http://e.jang.com.pk/02-07-2017/karachi/page5.asp#;

داستان سرائے کی داستان گو

ایک دفعہ کا ذکر ہے ذکر ہے,لاہور کی ’’داستان سرائے‘‘ میں دو انوکھے داستان گو رہتے تھے۔
دونوں ایک دوسرے کا دم بھر تے اورانوکھی انوکھی کہانیاں کہہ کر چونکاتے اور توجہ کھینچتے رہتے۔
’’گڈریا‘‘ والااشفاق احمد اور’’انتر ہوت اُداسی ‘‘والی بانو قدسیہ
پھر یوں ہوا کہ اشفا ق احمد داستان سرائے سے چلا گیا اور اس کا دَم بھرنے اور اسی کی یادوں میں رہ ماں کی طرح شفیق ہو جانے والے بانو پیچھے رہ گئی۔
خبریہ آئی ہے کہ پیچھے رہ جانے والی بانو قدسیہ بھی اپنے اشفاق احمد کے پاس چلی گئی ہے۔
وہ جولاہور میں ایک داستان سرائے ہے۔
اب اُس میں کوئی داستان گو نہیں ہے۔

کم نہ زیادہ اِس واقعے کو بیس سال بیت چکے ہیں ، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ اسلام آباد ،ہالیڈے اِن میں ٹھہرے ہوئے تھے، وہیں لاؤنج میں شام ہمیں ملنا طے ہواتھا۔ یہ ملاقات لگ بھگ دو گھنٹے رہی ۔ اس عرصے میں جو بات چیت ہوئی اُسے ہمارے دوست اصغر عابد نے ریکارڈ کر لیا تھا۔ یہ مکالمہ جو بعد ازاں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والے’پاکستانی ادب کے معمار‘‘ کے سلسلے کی ایک کتاب ’’اشفاق احمد شخصیت و فن‘‘ کا حصہ بھی بنی ۔ یہ کتاب اے حمید اورمیں نے تدوین کی تھی ۔ مجھے یاد ہے، بانو قدسیہ گفتگو کے آغاز میں ہی اُٹھ کر کمرے میں چلی گئی تھیں ، حالاں کہ میری خواہش تھی کہ وہ وہاں رہیں اور مکالمے کا حصہ ہوں ۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے اشفاق احمد نہیں چاہتے تھے کہ وہ وہاں رہیں ، خود ہی کہہ دیا،
’’ اگر آپ آرام کرنا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے ہم ذرا یہاں بات چیت کریں گے۔‘‘
بانو قدسیہ نے چونک کر ایک لمحے کے لیے اشفاق احمد کو اور ہمیں دیکھا تھا، جیسے اشفاق احمد کا یہ جملہ اُن کے لیے غیر متوقع تھا، پھر یہ کہتے ہوئے وہاں سے اُٹھ گئی تھیں کہ
’’ہاں میں آرام کروں گی‘‘۔
اِسی ملاقات میں، میں نے اشفاق احمد سے کئی تیکھے سوال کیے تھے، ان کے تصوف کے بارے میں ، ان کی فکشن کے بابوں کے بارے میں، افسانہ نگاری ،ڈرامہ نگاری سے گفتگو کا فن سب پر بات ہوئی ۔ وہیں بانو قدسیہ کا ذکر بھی آیا ۔ میں نے پوچھا تھا کہ
“بانو سے آپ کی شادی تب ہوئی تھی نا، جب آپ اسٹوڈنٹ تھے ، یہ کیا قصہ ہے ؟‘‘

اشفاق احمد نے تُرت جواب دیا تھا :
’’ جب ہم اسٹوڈنٹ تھے ،ہماری شادی ہوگئی ، اور کیا ۔‘‘
پھر خود ہی کچھ سوچ کر ذرا ٹھہر ٹھہر کرکہنے لگے:
’’یعنی ، ہر معاملے میں بات کرتے تھے، اکٹھے اٹھتے بیٹھتے تھے ، تو ہم نے ارادہ کر لیا کہ ہم شادی کریں گے ۔اس زمانے میں یہ رواج نہ تھا۔ ہم نے رو پیٹ کر برادری کو منالیا ، خوشامد کرکے سب سے بات کرلی، منا لیا سب کو۔ جو ناراض تھے ،راضی ہو گئے ، جیساکہ گھر والے بچوں کے معاملے میں رحم دل ہوتے ہیں ،رحم آگیا ،مان گئے سب۔ اس میں ایک فائدہ ہوا۔ دونوں ہم خیال تھے ، ایک طرح کے تھے ،تو یہ ایک قدرت کا انتظام تھا۔‘‘
اسی ملاقات میں ، جب ایک موقع پر اشفاق احمد نے کہاکہ ان کے بولنے کا فن اکتسابی نہیں بلکہ اُن کے پرکھوں میں سے کسی کی عادت ہوگی اور جینز میں ٹریول کرتا آگیا ہوگا، تو میں نے کہا تھا،’’یہ تو بانو قدسیہ کا تھیسسز ہے نا،اُن کے ناول ’’راجہ گدھ ‘‘ میں؟ ‘‘ اشفاق احمد کا جواب تھا:
’’جی ہاں ، یہ تو سائنسی طور پر ثابت شدہ چیز ہے‘‘
پھر وہ پہلو بدل کر گفتگو کہیں اور لے گئے ۔ مجھے کچھ ایسا لگ رہا تھا جیسے اشفاق احمد کو احساس تھا کہ بانو قدسیہ ناول لکھنے کے بعد ایک زقند بھر کر ان سے آگے نکل چکی ہیں ۔ اشفاق احمد کا قلق محسوس کیا جاسکتا تھا کہ وہ ناول نہیں لکھ سکے تھے۔ اسی گفتگو میں جب ان کے ریڈیو پروگرام ’’تلقین شاہ‘‘ کا ذکر چل نکلا تھا تو انہوں نے کہا
’’ اس پروگرام میں اتنا مواد تھا کہ اس سے ایک کیا پانچ ناول بن سکتے تھے ۔‘‘
مگر واقعہ یہ ہے کہ ’’گڈریا‘‘ اور’’ ہے گھوڑا‘‘ جیسے افسانے ، ٹی وی ڈرامے اور گفتگو کے پروگرام دینے والے نے ’’راجہ گدھ ‘‘ نہیں لکھا تھا ۔ یہ تو بانو قدسیہ نے لکھا تھا ۔
خیر یہاں مقابلہ مقصود نہیں اور بہ طور خاص اشفاق احمد کی وفات کے بعد، مرتے دم تک جس محبت سے بانو قدسیہ اپنے مرحوم شوہر کا ذکر کرتی رہیں ، تو یوں لگتا ہے یہ مقابلہ کبھی تھا ہی نہیں ۔ اشفاق احمد نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ:
’’بانو شادی سے پہلے بھی افسانے لکھا کرتی تھیں ، مگر وہ چھپنے کے لیے نہ بھیجتی تھیں ، پھاڑ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیتی تھیں ۔ شادی کے بعد میں نے کہا تھا کہ چھپنے کو بھیجیں ،بُرے نہیں ہیں ، پھر ان کا پہلا افسانہ ادب لطیف میں شائع ہوا تھا۔‘‘
یوں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جب تخلیق کار ایک ساتھ رہ رہے ہوں ، ایک ہی چھت کے نیچے ، تو لکھتے ہوئے اپنی الگ الگ شناخت بنانے کے لیے انہیں کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ بانو قدسیہ ان ہی مشکلات سے گزریں ، ان پر الزام لگا کہ وہ خود نہیں ان کے شوہر لکھتے ہیں، مگر جس استقامت سے وہ آگے بڑھتی رہیں یہ الزام خود بہ خود دُھل گیا۔
بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو فیروز پورمیں پیدا ہوئیں ۔ ابھی کم سن تھیں کہ والدبدرالزماں کا انتقال ہو گیا ۔قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آگئیں ۔ریاضی اور اقتصادیات میں گریجوئیشن، اور ایم اے او کالج سے اردو میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ بانو قدسیہ کا وہ پہلا افسانہ جو بہ قول اشفاق احمد ،1952ء میں ادب لطیف میں شائع ہوا تھا،‘‘واماندگی شوق‘‘ تھا۔’’باز گشت‘‘ سے افسانوں کے مجموعے چھپنے شروع ہوئے تو ’’امربیل ‘‘،’’کچھ اور نہیں‘‘،’’ناقابل ذکر‘‘ اورکئی دوسرے وقفے وقفے سے چھپتے چلے گئے جو بعد ازاں ’’توجہ کی طالب‘‘ میں یکجا بھی ہوئے ۔’’ایک دن ‘‘،’’موم کی گلیاں‘‘،’’شہر بے مثال‘‘ جیسے ناول بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں اور کئی مقبول ڈرامے بھی مگرجس کتاب نے ان کے فن کو تسلیم کروایا اور انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا وہ ان کا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ ہے ۔
وہ صرف داستان سرائے کی مقیم ہی نہ تھیں ،قدرت اللہ شہاب ،ممتاز مفتی اوراشفاق احمدکی فکر کے سلسلے سے جڑی ہوئی بھی تھیں بلکہ مرد ابریشم لکھ کر وہ اس سلسلے کی پروموٹر بھی ہو گئی تھیں ۔ مجھے یوں کہنا چاہیے کہ بانو قدسیہ کو اس سلسلے سے الگ کرکے دیکھا ہی نہیں جا سکتا۔ بانو قدسیہ کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد اشفاق احمد ہی ان کے ’’مددگار اور استاد‘‘ ہو گئے تھے بہ قول ان کے:
’’انہوں نے مجھ سے کہا ،اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے کہ مقابلہ پورا ہو۔‘‘
تو یوں ہے کہ ’’مدد گار‘‘ اور ’’استاد‘‘ کے جن خیالات کے ساتھ وہ برابرکا’’ مقابلہ‘‘ کر رہی تھیں وہ لگ بھگ بابوں کے اسی ٹرائیکا کی فکرکا تسلسل تھا ۔ خیر جس ماحول سے بانو قدسیہ اپنے خیالات کشید کر رہی تھیں، لگتا ہے وہ ان کا اپنا اور سچا تجربہ بھی ہوا ہے ۔یہی سبب ہے کہ یہ تجربہ تخلیقی عمل میں ڈھل کر زیادہ لائق توجہ ہوا اور اپنے قاری کوگرفت میں لے لیتا تھا۔ بانو قدسیہ کے افسانوں کے مجموعے ’’ناقابل ذکر‘‘ کے افسانوں میں ایک افسانہ ہے’’روس سے معذرت کے ساتھ‘‘ ، اس افسانے سے ایک اقتباس دیکھیے:
’’ پہلے انسان جس حد تک دوسروں کی محبت کا محتاج تھا اب نہیں رہا۔ اب وہ انسان کی جگہ اشیا اور نظریوں کا زیادہ محتاج ہوگیا ہے ۔ پہلے رکاوٹیں بیرونی ہوا کرتی تھیں ،اب خندقیں، فصیلیں،حصارخود ساختہ ہوتے ہیں ۔‘‘
بانو قدسیہ کے محبوب موضوعات میں محبت اور اس کا تلف ہونا ہے ، مرد اور عورت کا رشتہ بھی ہے اور فرد کا اجتماع سے رشتہ بھی۔ وہ اپنے کرداروں کی نفسیات کو بنتی ہیں ، جدید زندگی سے جوڑ کرانہیں وجودی الجھنوں کے مقابل کرتی ہیں اور پھر تصوف کے شفاف پانیوں سے انسانی سائیکی کو دھوکر اسے ساری الجھنوں سے پاک کر لینا چاہتی ہیں۔ اور جو ان پانیوں سے نہ دھلنا چاہے ،وہ دھتکارا جاتا ہے۔ وہ ایک گدھ کی صورت شناخت ہوتاہے۔حرام کھا کر پاگل ہو جانے والا ۔ انہوں نے اپنے ناول’’راجہ گدھ‘‘ میں اپنے کرداروں قیوم، آفتاب بٹ،سیمی شاہ وغیرہ کے ساتھ بھی یہی کیا ہے ۔ بظاہر یہ محبت کی کہانی ہے ، ایک ذہنی تجربہ بھی ، جو بالآخر حلال حرام کا ایسا فلسفہ ہو جاتی ہے، جو انسانی زندگی کا رُخ متعین کرتا ہے۔ اس ضمن میں ناول کے ابتدائی حصے سے ایک اقتباس ،جہاں پرندوں کی عدالت لگی ہوئی ہے:
’’سوچ لو ،عادلو ،عاقلو،الزام درست ہے لیکن ایک بات قابل غور ہے ۔ کیا یہ مسئلہ سرشت کا تو نہیں کیا کوئی پرندہ کیا کوئی جانور اپنی مرضی سے رزق حرام کھا سکتا ہے؟ غور طلب بات صرف اتنی ہے ،کیا گدھ جاتی کی سرشت میں حرام کھانے کی ترغیب پہلے سے موجود تھی کہ اب پیدا ہوئی ۔ عقل کے استعمال سے اس نے حرام کھایا ۔‘‘
یوں لگتا ہے کہ عقل کا استعمال اور حرام یہی وہ بنیادی نقاط ہیں جو کہانی کو آگے لے کر چلتے ہیں۔ جو لوگ مغرب کی اس ترقی کے قائل ہیں جو انہیں عقل کی عطا لگتی ہے ، وہ بانو کے اس طرح سوچنے کو ضیاء الحق کے دور کا ’’نظریہ ضرورت‘‘ سمجھتے رہے مگر جس خلوص سے بانو اس فکر سے جڑی ہوئی تھیں وہ ان تو کچھ اور ہی سمجھا رہا تھا:
’’مغرب کے پاس حلال حرام کا تصور نہیں ہے اور میری تھیوری یہ ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے وہ انسانی جینز کو متاثر کرتا ہے۔ رزق حرام سے ایک خاص قسم کی میوٹیشن ہوتی ہے ، جو خطرناک ادویات ،شراب اور ریڈئیشن سے زیادہ مہلک ہے ۔ رزق حرام سے جو جینز تغیر پذیر ہوتے ہیں ، وہ لولے لنگڑے اور اندھے ہی نہیں ہوتے بلکہ ناامید بھی ہوتے ہیں نسل انسانی سے۔ یہ جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان جینز کے اندر ایسی ذہین پراگندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں ۔‘‘
اس ناول پر جو اعتراض ہوئے ان میں بھی کم وزن نہیں ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ قدرت اللہ شہاب کے نام منتسب اس ناول کا لگ بھگ ہر سال نیا ایڈیشن آتا رہا ہے تیس اکتیس ایڈیشن کا چھپنا ، اور مسلسل چھپتے چلے جانا ، کم اہم واقعہ نہیں ہے ۔بجا کہ اس نے ایک خاص قسم کے طبقے کے قاری کو متوجہ رکھا ہے ۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ اس ناول کی فکریات سے نہ متفق ہونے والے بھی بانو قدسیہ کے سادہ بیانیے ، بنت کی تیکنیک ، کرداروں کی تشکیل اور جا بہ جا ایسے جملوں کا استعمال کہ جنہیں دہرانے کو جی چاہے، کو دیکھ کر اسے سراہنے پر مجبور نہ ہو جاتے ہوں گے ۔تو یوں ہے کہ بانو قدسیہ نے اپنے آنگن کے سندری کے درخت کی لکڑی سے جو سارنگی بنائی اس کی اپنی الگ آواز ہے ۔ الگ اور منفرد۔ یہی سبب ہے کہ جب بی بی سی نے بانو قدسیہ کے حوالے سے میرے خیالات جاننا چاہے تھے تو میرا فوری ردعمل یہ تھاکہ:
’’بانو نے روایت،کہانی اور فکر کو گوندھ کر جو تحریر لکھی ہے وہ سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اردو ناول کا جب بھی ذکر آئے گا راجہ گدھ کے تذکرے کے بغیر یہ ذکر مکمل نہیں ہوگا ۔ بانو قدسیہ اپنے اسلوب اورمخصوص فکریات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ وہ ایسی مصنفہ ہیں جو قاری کے سوچنے کا رخ بھی متعین کرتی ہیں ۔ ‘‘
۸۸ سال کی بھر پور عمر گزارنے کے بعد بانو قدسیہ کا 4 فروری 2017 ء کو لاہور میں انتقال ہوا تو اشفاق احمد کے بعد داستان سرائے کی دوسری داستان گو ، جو خود بھی اپنے شوہر کی طرح ایک داستان ہو گئی تھیں، وہاں سے رخصت ہوکر اپنے شوہر اشفاق احمد کے پہلو میں آسودہ خاک ہیں۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستان کہتے کہتے

***

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

2 تعليقان

  1. Everything is very open with a really clear explanation of the issues. It was definitely informative. Your site is extremely helpful. Many thanks for sharing!
    http://learninghints.eu

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *