M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|2016.ادب(نثر) : قلم سرخرو ہے کہ اُس نے لکھا۔۔۔

محمد حمید شاہد|2016.ادب(نثر) : قلم سرخرو ہے کہ اُس نے لکھا۔۔۔

pagea5
http://e.jang.com.pk/01-04-2017/karachi/page5.asp

نثر لکھنے والا قلم یوں سرخرو ہے کہ اس نے اس برس بھی لکھنے اور خوب تر لکھنے کی روایت کو برقرار رکھا ۔ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی نثر کی قابل توجہ کتابیں شاعری کے مقابلے میں قدرے زیادہ نظر آئیں اور پھر نثر میں بھی دیگر اصناف کے مقابلے میں فکشن کا پلڑا بھاری رہا ۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ اس سال کا سب سے عمدہ ناول کون سا رہا ، تو میں ایک لمحے کے توقف کے بغیر کہہ دوں گا،’’آخری سواریاں‘‘۔ سید محمد اشرف ہمارے عہد کے ممتاز ترین اور تخلیقی طور پر بے حد توانا فکشن لکھنے والے ہیں ۔ افسانہ ہو یا ناول جو لکھا اس کا حق ادا کیا ۔ مجھے یاد ہے کئی سال پہلے میں نے اردو افسانہ صورت ومعنی میں لکھا تھا’’سید محمد اشرف کو اُن اَفسانہ نگاروں میں شامل کیا جانا چاہیے جو اَفسانے کی تعمیر کے لیے خالص تخلیقی اور جمالیاتی اَساس پر یقین رکھتے ہیں ۔ سید محمداشرف کے اَفسانوں میں جملے محض کہانی بیان کرکے اَلگ نہیں ہو جاتے بلکہ فکر ونظر کی توسیع کے لیے جھیل میں پڑنے والے کنکر کی طرح معنویت کے کئی دائرے بناتے ہیں۔ ’’ڈار سے بچھڑے‘‘، ’’لگڑ بھگا ہنسا‘‘ اور ’’تلاشِ رنگِ رائیگاں‘‘ سے لے کر ان کے ناول ’’نمبردارکا نیلا‘‘ میں اِسی تجربے کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ اِن کے اَفسانوں اور ناول کو پڑھ کر یوں لگتا ہے گویا فکشن نگار کے ہاتھ وہ پرزم آ گیا ہے جس کے اَندر سے معنی اور جمالِ معنی کے دَھنک رَنگ پھوٹ بہے ہوں۔ سیدمحمداشرف میں ایک اور خوبی جو بہت اہم ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو روک روک کر ‘ جزئیات میں اتر کر اور زبان سے وابستہ ہو کر لکھتے ہیں ۔ انہیں ساری بات ایک ہی ہلے میں کہہ ڈالنے کی اِشتہانہیں ہوتی۔ اگرکہانی طویل تر ہو جائے تو بھی اُن کے ہاں اُکتاہٹ نہیں آتی۔ یہی سب ہے کہ ہر بار اُن کے ہاں معنوی دَبازت اور جمالیاتی چھوٹ بڑھ جاتی ہے ۔ سید اشرف کا تازہ ناول ’’آخری سوایاں ‘‘ آیا تو ادبی حلقوں میں ’’نمبر دار کا نیلا‘‘ کا سا استقبال ہوا۔یہ ناول ایک پوری تہذیب کے بہت تیزی سے معدوم ہوتے چلے جانے کا نوحہ ہوگیا ہے ۔اس تہذیب کی خستگی اورمعدومیت کا دکھ یوں سوا ہو گیا ہے کہ ہم بھی اسی چرکے سہہ رہے ہیں ۔سید محمد اشرف نے اپنے ناول کو دو حصوں میں منقسم کرکے پہلے حصے میں فرد تہذیبی وجود کے انہدام اور دوسرے حصے میں اس انہدام کو اجتماعی وجود سے جوڑ کر دکھایا گیا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ یہ محض اس معصوم جمو کی کہانی نہیں رہتی، جو چیکو کے درخت پر چڑھی اور اپنا گریبان لیر لیر کر بیٹھی تھی ، اس تمدن کا نوحہ بھی ہو جاتا ہے جس میں ذہن اور روح بہت سی نفیس باتوں کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا ۔
ؒ ٰ ٹھہریے صاحب، عمدہ ترین ناولوں کا ذکر ہو رہا ہے تو اس باب میں، میں حسن منظر کے’’ حبس‘‘ کو بھی میں یقیناًرکھنا چاہوں گا، جس کا اجراء عالمی اردو کانفرنس کراچی میں ہوا تھا۔ حسن منظر کے افسانے اور ناول کا سفر ایک ساتھ جاری ہے ۔ سنا ہے ان کے افسانوں کا تازہ مجموعہ’’جھجک‘‘ کے نام سے آنے والا ہے جبکہ انہوں نے اپنے افسانوں کے قاری کو ’’رہائی‘‘ ،’’ندیدی‘‘سے’’خاک کا رتبہ‘‘ تک متوجہ کیے رکھا ہے۔ تازہ ناول ، ساڑھے تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے، جسے شہرزاد نے کراچی سے شائع کیا ہے ،اور ابھی میں پڑھ رہا ہوں ، تاہم کہانی کی گرفت ایسی ہے کہ فلسطین میں یہاں وہاں لیے پھرتی ہے۔جی، وہاں جہاں بتایا جارہا ہے کہ عین کھیتوں اور مکانوں کے بیچ میں سے ایسی سڑک کو گزار جا رہا ہے جس پر فلسطینیوں کے لیے دوقدم چلنا بھی دوبھرہو جائے گا۔ اور وہاں بھی جہاں عربوں کے کھیتوں کو دوگنی تگنی قیمت پر اس کا چوتھائی پانی مل رہا ہے جتنا اسرائیلی کو ملتا ہے، بچ جانے والے سے آبادیاں خالی کرائی جا رہی ہیں اور نئی یہودی بستیاں بسائی جارہی ہیں ۔ تو یہ ہے وہ فضا جس میں ناول آگے چل رہا ہے ۔ دہشت کے خلاف جنگ‘ کا نام کیا ’بالا‘ ہوا کہ فلسطین کا موضوع بھی بھولا بسرا ہوگیا تھا ۔ خیر اس سال دو اہم خبریں یہ ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ فلسطین کی زمین پر نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف قرارداد منظور کرلی ہے اور حسن منظر نے فلسطین کے موضوع کو پھر سے اردو ادب میں تازہ کردیا ہے۔ قبل ازیں حسن منظر العاصفہ،دھنی بخش کے بیٹے ، وبا،انسان اے انسان جیسے اہم ناول دے چکے ہیں ۔
’’میرواہ کی راتیں‘‘ رفاقت حیات کا ناول ہے ، جسے سانجھ نے لاہور سے شائع کیا ہے۔ رفاقت حیات بہت باصلاحیت لکھنے والے ہیں ، خوب جم کر لکھتے ہیں اور بیانیہ کو شفاف بناکر لکھتے ہیں یہ ایسی توفیقات ہیں جو کم کم لوگوں کا مقدر ہوتی ہیں ۔ میرواہ کی راتیں میں بھی رفاقت حیات کے اس جوہر کا خوب خوب مظاہرہ ہوا ہے ۔ اس ناول کے بارے میں خالد جاوید کی رائے دہرانے کو جی چاہ رہا ہے کہ لگ بھگ میری بھی یہی رائے ہے ۔ ’’رفاقت حیات کو زبان اور بیان کا جیسا سلیقہ ہے زبان و بیان پر ویسا سلیقہ اردو کے بہت بڑے لکھنے والے بھی نہیں رکھتے، جب کہ وہ سلیقہ نئے لکھنے والوں میں تقریباً عنقا ہے ۔ ‘‘ ایک اور ناول اور یہ بھی بہت اہم ناول ہے ۔اسے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر شاہد صدیقی نے لکھا اور اس کا نام ہے’’آدھے ادھورے خواب‘‘۔ اس ناول کا نیا ایڈیشن نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد سے شائع ہوا ہے ۔ یہ ناول طالب علموں کو ان کے خوابوں سے جوڑنے اور انہیں تخلیقی انسان بنانے کا ایک خوب صورت کوشش ہے ۔
عرشیہ پبلی کیشنز نے قاضی عبدالستار کا ناول’’ غالب‘‘ بھی اسی برس چھاپا ہے ۔ قاضی عبدالستار نے داراشکوہ اور صلاح الدین ایوبی کو اپنی فکشن کا موضوع بنانے کے بعد غالب کوبھی کامیابی سے موضوع بنایا ہے۔ قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ جب انہیں اردو فکشن کا غالب ایوارڈ ملا تو ان سے تقاضہ ہوا کہ وہ غالب پر ناول لکھیں ۔قاضی صاحب نے تب ہی یہ ناول لکھنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر بہ قول ان کے غالب پر ناول لکھنا اس لیے مشکل تھا کہ میرزا غالب نام کی فلم بن چکی تھی اور فلم کی کہانی منٹو جیسے صاحب قلم نے لکھی تھی ۔ قاضی صاحب اس پر معترض ہیں کہ فلم میں ایک ڈومنی کومیرزا غالب کے کندھوں پر سوار کردیا گیا ہے ۔جبکہ غالب تہذیب کے فرزند جلیل تھے اور یہ سراسر ان پر بہتان تھا ۔ بس اسی خیال پر انہوں نے قلم اٹھایا اور غالب پر ایک خوب صورت ناول لکھ دیا ۔ قاضی عبدالستارنے اس ناول میں حقیقت اور فکشن کو یوں امیخت کیا ہے کہ پڑھتے ہوئے قاری پر سطر سطر کی گرفت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔
’’نیلما ‘‘ آدی واسی سماج کے حوالے سے لکھا گیا ناول ہے جسے ڈاکٹر شفق سوپوری نے لکھا اور ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے چھاپا ہے۔ پانچ ابواب پر مشتمل یہ ناول معاشرے کے ایک گرے پڑے کردار نیلما کے گرد گھومتا ہے اور اس کے وسیلے سے آدی واسی سماج کی زندگیوں کے کرب سامنے لاتا ہے۔ ناول کا بیانیہ بہت جاندار ہے ۔ ناول کا موضوع اگرچہ نیلما کی زندگی بنی ہے تاہم یہی زندگی مردوں کے معاشرے میں عورت کی ذلت اور رسوائی کی تصویر بھی دکھا دیتی ہے ۔ایسا صرف مرکزی کردار کے باب میں نہیں ہوا،کانتا دیوی ، سمن اور نرملا جیسے عورتوں کے ضمنی کردار بھی اپنے اپنے حصے کی ذلتیں اٹھارہے ہوتے ہیں ۔ شفق سوپوری شاعر بھی ہیں ۔ تاہم اس ناول میں انہوں نے خالص فکشن کا بیانیہ برتا ہے جو بجائے خود بہت اہم بات ہے۔ اور ہاں ابھی میں عاطف علیم کے اس سال شائع ہونے والے ناول’’مشک پوری کی ملکہ‘‘ پڑھ بھی نہیں پایا تھا کہ اس مصنف نے ایک اور ناول ’’گرد باد‘‘ مکمل کر لینے کی اطلاع دی ہے۔ قبل ازیں محمد عاطف علیم کے افسانوں کا مجموعہ ’’شمشان گھاٹ‘‘ سے ادبی حلقوں کو متوجہ کر چکے ہیں۔
عرفان احمد عرفی کی کتاب ’’پاؤں‘‘ گزشتہ سال دسمبر کے آخری دنوں میں چھپی مگر پڑھنے کے لیے اسی سال میسر ہوئی لہذا ہمارے فکشن نگار دوست عرفان جاوید کا کہنا ہے کہ اسے بھی اسی برس کی کتابوں میں شمار کیا جانا چاہیے ۔ عرفان احمد عرفی، ڈاکٹر انور سجاد کی طرح افسانہ لکھتے ہیں، ڈرامہ لکھتے ہیں ، خود ڈراموں میں کام کیا اور بہت اچھے رقاص ہیں ۔ تاہم اپنے مزاج اور اسلوب میں بالکل الگ ہو جاتے ہیں ۔ ’’پاؤں‘‘ عرفی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے ۔اس کتاب کے افسانوں کے نام ہیں’’پیر، نوٹنکی، لاپتہ، بن بڈھا، گریفٹی ،جگہ ، لال بنگلہ، الماری، بھاپ، کہانی آخر میں ہے اور سُر منڈل ۔عرفی نئے افسانہ نگار نہیں ہیں ۔ کئی برسوں سے ادبی جرائد میں چھپ کر شناخت بنا چکے ہیں۔ یہ الگ بات کہ دیگر شعبوں میں مصروفیات نے اپنے افسانے مجتمع کرنے کی مہلت نہ دی ۔ تاخیر سے سہی ، اب یہ چھپے ہیں تو ادبی حلقوں میں انہیں بہت توجہ سے دیکھا جا رہا ہے ۔ ان کے ہاں زبان کا ایک خاص ذائقہ ملتا ہے اور وہ جنس اور تشدد کے ایسے موضوعات کو بھی بہ سہولت لکھ لیتے ہیں جن پر لکھنے کا چلن اردو میں بہت کم رہا ہے۔ عمدہ ، تازہ اور موثر بیانیے کے ان افسانوں کو ضرور توجہ سے پڑھا جانا چاہیے۔ عرفان احمد عرفی کی اس کتاب میں ان کے محض گیارہ افسانے شامل ہیں یقیناًبہت سے افسانے انہوں نے اگلی کتاب کے لیے محفوظ رکھ چھوڑے ہوں گے ۔ خدا کرے وہ بھی جلد چھپ جائیں ۔
’’متن سیاق اور تناظر‘‘ ناصر عباس نیر کے مضامین کا مجموعہ ہے جو سنگ میل سے چھپا تاہم مجھے اپنے عہد کے فعال ترین اور نمایاں ناقد کے افسانوں کے پہلے مجموعے ’’خاک کی مہک‘‘ کا یہاں ذکر کرنا ہے ۔ میرے لیے یہ مجموعہ یوں اہم رہا کہ میں پڑھنے بیٹھا تو اس نے مجھے یوں گرفتارکیا اورپڑھتا چلا گیا۔ آصف فرخی کو بھی اس مجموعے کا نیا پن بھایا ہے جبکہ عرفان جاوید کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں ناقد اور فکشن نگار دونوں کی آواز بہم ہو گئی ہے ۔ اس مجموعے کی پہلی کہانی ہی کتاب کا مزاج متعین کر دیتی ہے ۔ ’’کہانی کا کوہ ندا ‘‘میں افسانے کے بھید بھنوروں کے بیان کو ہی کہانی بنا لیا گیا ہے ۔ ’’کفارہ‘‘،’’ ولدیت کا خانہ‘‘ ، ’’خاک کی مہک‘‘،’’ہاں ،یہ بھی روشنی ہے۔‘‘،’’جھوٹ کا فیسٹول‘‘،’’مرنے کے بعد مسلمان ہو ا جا سکتا ہے؟‘‘،’’کہاں ہوں؟‘‘اور حکایات جدید و مابعد جدید‘‘ اس مجموعے کے دیگر افسانے ہیں ۔ میں فکشن کی دنیا میں ایک تخلیقی جست کے ساتھ داخل ہونے پر ناصر عباس نیر کا گرم جوشی سے استقبال کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے یہ کتاب بھی ناصر کی توقیر میں مزید اضافہ کرے گی ۔ اور ہاں آصف فرخی نے بتایا ہے کہ انہیں ذکیہ مشہدی کی کتاب ’’پارسا بی بی کا بگھار‘‘ بھی اچھی لگی جو’’ آج‘‘ کراچی سے چھپی ہے ، میں ابھی اسے پڑھ نہیں پایا تاہم ارادہ ہے کہ ضرور پڑھوں گا۔ اور ہاں مبین مرزا کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ “زمینیں اور زمانے” بھی پڑھ چکا ہوں اور اس پر الگ سے مفصل نوٹ لکھ چکا ہوں۔ ضرورآپ کی نذر کروں گا۔
کچھ عرصہ پہلے پروفیسر فتح محمد ملک نے منٹو کے افسانے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کو نئی تعبیر دی تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا ۔ اس برس ان کی ایک اور کتاب نے بھی پڑھنے والوں کو چونکایا ہے ۔ اس کتاب کا نام’’ انجمن ترقی پسند مصنفین، پاکستان میں ‘‘ جس کی ذیل میں ایک اور عنوان یوں جمایا گیا ہے:’’اسلامی روشن خیالی یا اشتراکی ملائیت‘‘ اور اسی ذیلی عنوان سے فتح محمد ملک ایک بار پھر موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ کتاب کے آغاز میں سجاد ظہیر اور پنڈت جواہر لال نہرو کی قربتوں کا ذکر ہوا ہے اور ان کے کیمونسٹ پارٹی سے خفیہ روابط کا بھی ۔ قیام پاکستان کے موقع پر سامنے آنے والے سجادظہیر کے ردعمل کو زیر بحث لانے کے بعد فتح محمد ملک نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سجاد ظہیر کس کے ایما پر اپنے قریب ترین ہمسایہ ملک کی تخریب کا مشن پورا کرنے میں کوشاں تھے ۔ ملک صاحب کا کہنا ہے کہ افسوس سجاد ظہیر نے عوام کی اجتماعی رائے سے وجود میں آنے والی مملکت پاکستان کو روس اور بھارت کی کیمونسٹ پارٹیوں کے ایما پر تباہی کے راستے پر ڈالنے کی سازش کا ارتکاب صرف اس لیے کیا کہ یہ مملکت پاکستان عوامی اور جمہوری ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی بھی تھی۔ اگلے باب میں سجاد ظہیر کی اقبال سے دوری کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ ’’پابندی اظہار کی بدترین مثال ‘‘ اور ’’احمد ندیم قاسمی : تحریک خلافت سے تحریک پاکستان اور قیام پاکستان تک‘‘ پہلے حصے کے اگلے ابواب ہیں جبکہ کتاب کے دوسرے حصے میں قیام پاکستان کے بعد کی ترقی پسند تحریک کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ کچھ ضمیمہ جات بھی کتاب کا حصہ ہیں جیسے مولانا سالک کے نام ڈاکٹر تاثیر کا خط، تحریک آزادی کشمیر کی حمایت میں انجمن کی اپیل جس پر فیض احمد فیض کے دستخط تھے اور باقی ترقی پسندوں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ یہ کتاب سنگ میل نے لاہور سے شائع کی ہے۔ اسی ادارے سے فتح محمد ملک کی ایک اور کتاب’’انتظار حسین کا خواب نامہ‘‘ بھی شائع ہو گئی ہے ۔
میں یوں خوش بخت ہوں کہ مجھے انتظار حسین جیسے باکمال فکشن نگار کو قریب سے دیکھنے ، اُن سے باتیں کرنے ، اُن سے اختلاف کرنے ، ان کے فکشن کا اعتراف کرنے ، اُن کا ہاتھ تھام کر دور تک چلنے ، اُن کے پہلو میں کھڑے ہوکر اوپر نیلے آسمان میں اُڑتے پرندوں کو تجسس سے دیکھنے ، اور اپنے بارے میں اُن کی زبان سے محبت کے جملے سننے کا موقع ملامگر اس باب میں آصف فرخی زیادہ خوش بخت ہیں کہ وہ ان کے بہت قریب رہے ۔ مجھے یاد ہے جب میں انتظار حسین کی رحلت پر ان کے جنازے میں شرکت کے لیے لاہور پہنچا تھا تو وہ مجھ سے پہلے وہاں تھے اور مجھے گلے لگا کر یوں پھوٹ پھوٹ روئے تھے کہ ان کے سینے کی دھمک سے میرا کلیجہ پھٹنے کو تھا ۔ آصف فرخی نے اس محبت اور تعلق کا حق یوں ادا کیا ہے کہ انتظار حسین پر ایک ضخیم کتاب ’’چراغ شب افسانہ:انتظار حسین کا جہان فن‘‘ لے آئے ہیں ۔لگ بھگ پانچ سو صفحات کی اس کتاب پر آصف فرخی تین سال سے کام کر رہے تھے اور اسے انتظار حسین کی زندگی میں ہی آجانا تھا کہ خود انتظار حسین نے اس کا مکمل مسودہ دیکھ لیا تھاتاہم یہ کتاب اس برس شائع ہوئی ہے ۔ آصف فرخی نے انتظار حسین کازندگی نامہ لکھا اور ان کی تخلیقی زندگی کو بھی تفصیل سے موضوع بحث بنایا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب الگ سے مفصل تجزیہ مانگتی ہے موقع ملا تو اس پر ضرور لکھوں گا تاہم یہاں اس بات کی داد دینا چاہوں گا کہ آصف فرخی نے مختلف ابواب قائم کرکے اور حوالہ جات کے ساتھ ایک محقق کے قرینے سے اسے لکھا اور مرتب کیا ہے، افسانہ نگاری کا ذکر ہو یا ناول نگاری کا، تنقید ہو یا تذکرہ نگاری ، یاد نگاری ہو یا سفرنگاری، خاکے صحافت ،تقاریب میں گفتگو اور ان کی مرتب کردہ کتابیں ،غرض انتظار حسین کی زندگی، ان کے فن اور ان کی دلچسپیوں کا ہر پہلو اس کتاب میں زیر بحث آیا ہے۔ کتاب سنگ میل لاہور نے چھاپی ہے۔
جب اس سال کے آغاز میں جشن ریختہ دلی میں شرکت کرکے واپس وطن لوٹ رہے تھے تو اسد محمد خاں نے اپنی کتاب ’’یادیں ‘‘ عطا کی تھی ۔ کتاب اگرچہ گزشتہ سال، براؤن بکس سے چھپی ہو گی مگرہمیں اس سال پڑھنے کو میسر ہورہی تھی ، سو اس کا ذکر بھی لازم ہو گیا ہے۔ اسد محمد خاں اردو فکشن کا نمایاں ترین نام ہیں۔ ان کا فکشن کی الگ زبان، گہرے عصری اور تاریخی شعور کی وجہ سے بالکل الگ دھج بناتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اگرچہ یادیں ہیں تاہم یہ بھی ان کے فکشن کا ہی ایک اور مظہر ہو گئی ہیں۔ یہ قرینہ اسد محمد خاں کے پاس ہے کہ وہ یادوں کو افسانہ بنا لیتے ہیں اور افسانے لکھیں تو ان کی اپنا وجود بھی اس کے بیچ روشن ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسد محمد خاں بھوپال میں پیدا ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد یہاں اُٹھ آئے تھے ۔ ٹیلی وژن کے متعدد ڈرامے لکھے نظمیں لکھیں ، فکشن لکھا اور زندگی کرنے کے لیے مسلسل جدو جہد کی یہی سب کچھ اور بہت کچھ اسد محمد خاں کے ہاں یوں تحریر میں ڈھلا ہے کہ نثر مصری کی ڈلی ہوگئی ہے ۔ بچپن ، لڑکپن ، شہر لوگ ، گلیاں ، وقت ،تاریخ ، علامت، تمثیل آپ پڑھتے جاتے ہیں اور نثر ایک رنگین قالین کی طرح کھلتی چلی جاتی ہے۔
اسد محمد خاں کی طرح ڈاکٹر رشید امجد بھی ایسے سینئر افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے اسلوب اور اپنے بے پناہ تخلیقی وفور کے وسیلے سے گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں جو شناخت بنائی نہ صرف اسے برقرار رکھے ہوئے ہیں ، مسلسل تخلیقی عمل سے جڑے ہوئے ہیں اور لائق توجہ تخلیقات سامنے لا رہے ہیں ۔ ڈاکٹر رشید امجد کی تازہ کتاب ’’دُکھ ایک چڑیا ہے‘‘ ہمارے اس دعوے کی دلیل ہے ۔ اس کتاب میں رشید امجد کے پچاس سے زائد افسانے شامل ہیں ۔ ایک زمانے میں علامت نگاری کے اسلوب کو فکشن میں مقبول بنانے والوں میں ڈاکٹر انور سجاد اور رشید امجد کا نام بہت نمایاں ہے ۔ ڈاکٹر انور سجاد کے حوالے سے تکلیف دہ خبر یہ ہے کہ وہ شدید علیل ہیں۔ ہم ان کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں ۔ رشید امجد پر کرم یہ ہوا ہے کہ وہ توانائی کے ساتھ مسلسل ادبی منظر نامے کا حصہ رہے ہیں ۔اس کتاب کی خوبی یہ ہے ’’ست رنگے پرندے کے تعاقب میں‘‘ اور بگل والا‘‘ جیسے خوب صورت افسانوں کی تخلیق کے بعد کہانی پن کا جو عنصر نمایاں ہوا تھا ، ان افسانوں میں بھی نمایاں رہا ہے تاہم کہانی پن کے ساتھ جڑ کر انہوں نے اپنے افسانے کو کہیں بھی اپنی بلند تخلیقی سطح سے گرنے نہیں دیا۔ بہ ظاہر سادہ ،رواں زبان اپنے مابعد الطبیعاتی آہنگ اور خواب ناک کیفیات سے جڑ کر الگ دھج دکھاتی ہے ۔ رشید امجد کا یہ مجموعہ نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اسلام آباد سے شائع کیا ہے۔
مستنصر حسین تارڑ کا قلم ہمیشہ رواں رہتا ہے اور ان کی کوئی نہ کوئی تحریر ہمیں متوجہ کرتی رہتی ہے۔ ان کے اوپر تلے دو کالم یاور حیات پر آئے ، ایک یاور کی موت سے پہلے اور دوسرا بعد میں ، دونوں بہت تیکھے تھے اور دونوں کا خوب خوب ذکر رہا ۔ اس برس اُن کی سندھ کی سفر گزشت نے بھی توجہ کھینچی ہے جو کتابی صورت میں ’’سفر سندھ کے: اور سندھ بہتا رہا‘‘ کے نام سے سنگ میل لاہور سے شائع ہوئی ہے۔
’’برف کی عورت‘‘ شاہین کاظمی کی تصنیف ہے جس میں ان کے ۹۱ افسانے شامل ہیں ۔ان افسانوں میں حیرت انگریز تازگی ہے گہرے حزن ، کہیں کہیں تلخی اور گرے پڑے کرداوروں سے جڑت نے ان افسانوں کو لائق توجہ بنادیا ہے ایک بوسے کا گناہ ، برزخ، سیندھ ، نرتکی، خواب گر کی موت ، کنسٹریشن کیمپ، تریاق ، پومپیائی جیسی کہانیوں میں مصنفہ کا ہنر خوب کھلا ہے ۔ان افسانوں میں محض ماجرا ہی اہم نہیں رہتا ،جس قرینے سے واقعات کو تاثیر کے پانیوں سے گندھے بیانیے میں ڈھالا گیا ہے وہ بھی لائق توجہ ہو گیا ہے۔ کتاب ایمل پبلی کیشنز نے اسلام آباد سے چھاپی ہے ۔
اے خیام اردو افسانے کا بہت اہم اور نمایاں نام ہیں ۔ سہج سہج لکھتے ہیں لیکن خوب لکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’کپل وستو کا شہزادہ‘‘ کوئی چوبیس پچیس سال پہلے آیا تھا ، دوسرا مجموعہ’’خالی ہاتھ‘‘ آئے دس سال ہو گئے ہیں اب جاکے کہیں ان کا تیسرا مجموعہ’’ جنت جہنم اور دوسرے افسانے‘‘آیا ہے ۔ تاہم اس عرصے میں وہ چپکے سے اپنا پہلا ناول ’’سراب منزل‘‘ لاکر سب کو چونکا چکے ہیں ۔ ان کے افسانوں کے تازہ مجموعے میں آشیانہ، جنت جہنم، بے ضرر، تاویل، دوسری منزل، غم حسین کے سوا، سگ زمانہ، سارہ کی گواہی، دستخط سے پہلے ،چلہ کش، بابو، نقش گر، بدبو،بڑی حویلی، باردگر، ذرا سی بات،کرائم سرکل، سینہ بہ سینہ ،کل سترہ افسانے شامل ہیں۔ اے خیام کے افسانوں کا یہ مجموعہ میڈیا گرافکس نے کراچی سے شائع کیا ہے۔
’’سانپوں سے نہ کاٹنے کا وچن‘‘ جاوید اختر بھٹی کے تازہ افسانوں کا مجموعہ ہے جسے قندیل نے ملتان سے شائع کیا ہے ۔ اس مجموعے میں جاوید اختر بھٹی کے انیس مختصر اور مختصر افسانے ہیں ۔ جاوید اختر بھٹی کے اس سے قبل افسانوں کے تین مجموعے’’چاند کے زخم‘‘،’’مگر تم زندہ رہنا‘‘، ’’ربی ذات‘‘ شائع ہو چکے ہیں ۔ ان کے افسانوں کا یہ مجموعہ پندرہ سال کے غیر معمولی وقفے کے بعد شائع ہوا ہے تاہم جاوید اختر بھٹی کا یہ مجموعہ ’’غلام حسین دیندار‘‘، ’’مسکن‘‘،’’سونے کی دیگ‘‘،’’فضل دین کا موبائل‘‘ اور’’ لاوارث‘‘ جیسے افسانوں کی صورت اس بات کا اعلامیہ بھی ہے کہ وہ تخلیقی وفور میں ہیں ۔
نئے افسانہ نگاروں کی ایک اہم کتاب کا یہاں ذکر ضرور ہونا چاہیے کہ یہی نوجوان آگے چل کر فکشن میں قابل قدر اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ کتاب کا نام ’’دھارے‘‘ ہے جس کے مرتبین محمد عثمان عالم اور جواد حسنین بشر( ٰابن مسافر)ہیں۔ ان دونوں کے اپنے افسانے بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔دیگر افسانہ نگاروں میں طیب عزیز ناسک، شاہنواز اور فاطمہ عثمان ہیں۔ تیس افسانوں پر مشتمل یہ کتاب سجود بک ورلڈ نے اسلام آباد سے شائع کی ہے۔ اور ہاں یہیں ایک اورنئے افسانہ نگار کا ذکر بھی کیے دیتا جو انگریزی سے اردو میں تراجم اور تنقید کی طرف بھی متوجہ ہے مگر جس کا افسانہ خوب توجہ پارہا ہے ۔ جی میری مراد محمد عباس سے ہے جن کے ایک ساتھ سات افسانے’’آج‘‘ کراچی کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔
فرید ہ حفیظ کی تازہ کتاب، افسانوں کا مجموعہ ہے جسے’’طاق میں رکھا سپنا‘‘ کے خوب صورت نام سے مثال نے فیصل آباد سے شائع کیا ہے۔ فریدہ کے اس مجموعے میں ’’طاق میں رکھا سپنا‘‘،’’ ندامت کا کرب‘‘،’’یہ شارع عام نہیں ہے‘‘،’’ انا کی آگ‘‘،’’ گھر بدر‘‘،’’ درخت کتھا‘‘،’’ تہذیب‘‘، ’’گم شدہ ہاتھ‘‘، ’’ آنسو‘‘،’’ ایک دن‘‘،’’ وعدہ‘‘،’’ استقبال‘‘ اور ’’انارکلی‘‘جیسے افسانوں کے علاوہ اسلام آباد کی تہذیبی اور تخلیقی زندگی کی رپورتاژ ’’شہر نوآدم نو‘‘ بھی شامل ہے ۔ فریدہ حفیظ نے بہ قول خالدہ حسین ایک صحافی کی آنکھ سے دنیا کو دیکھا اور ایک افسانہ نگار کے ذہن سے اپنے مشاہدے کو کہانیوں کا روپ دیا ہے۔
’’کار ساز‘‘ غافر شہزاد کے افسانوں کا تازہ مجموعہ ہے اور اس مجموعے کے فلیپ کے لیے میں نے لکھا تھاکہ ’’غافر شہزاد کو اپنی کہانیوں کے اس تازہ پراگے میں وجود سے باہر میں وجودسے باہر بکھرے پڑے وجود نے گرفتار رکھاہے؛ وجود نہ کہیں،حاضر لمحوں کی چکی میں مسلسل پستا ہوا موجود کہہ لیں، تاہم لطف کی بات یہ ہے کہ وہ اِس موجود کی پاتال میں اترتا ہے ،اس کے بطون کو کھنگالتا،چھانتا پھٹکتاہے اور اسی موجود کا اپناثقافتی ،تخلیقی اور تہذیبی وجود اُجال دیتاہے۔ غافر کے ہاں ایسے موضوعات کو کہانی کی نہج پر ڈھال لیا گیا ہے جن میں واقعات ، جذبے ، عقیدے یا عقیدتیں پوری طرح دخیل ہیں مگرہم دیکھ سکتے ہیں کہ افسانہ نگار نے بہت مہارت سے ایسے اوصاف کوبرقرار رکھا جو فکشن میں تخیل کی ندرت کی عطا ہوا کرتے ہیں۔ اس قرینے کو برت کر غافر شہزاد نے مرقد سیدہجویر، عالمگیری مسجد، مینار پاکستان اور دوسرے حقیقی عماراتی کرداروں کو اپنی فکشن کا کردار بنالیا ہے۔ صرف عمارتیں ہی نہیں ، دیکھا بھالا ماحول،ٹی وی پر چلتی خبریں ،بنتی بگڑتی شخصیتیں ،لکھنے والوں کی اُلجھنیں اور اُلجھیڑے ،محبتیں اور معمولات حتیٰ کہ فرائض منصبی تک، سب کچھ کہانی میں ڈھال کر یہ ثابت کرنے کے جتن کیے ہیں کہ زندگی کا ہر مظہر اور وقت کی ہر کروٹ کو فکشن میں ڈھالا جاسکتا ہے ۔‘‘غافر شہزادکے افسانوں کا یہ مجموعہ سنگ میل نے لاہور سے چھاپا ہے۔
’’روحزن‘‘ رحمن عباس کا تازہ ناول ہے ، جو اس برس عرشیہ نے چھاپا ۔ رحمن عباس کے قبل ازیں تین ناول’’نخلستان کی تلاش‘‘،’’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘‘،’’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘‘ اور تنقید کی کتاب’’اکیسویں صدی میں اردو ناول‘‘ چھپ چکی ہیں ۔ناول کا اجرا اسی برس ریختہ کی اسی برس کے آغاز میں دلی میں ہونے والی تقریب میں ہوا تھا تو میں بھی وہاں موجود تھا ۔ کتاب کا نام موضوع بحث بنا اور مصنف کا اس بارے میں بیان یہ تھا کہ’’ روحزن‘‘ کا لفظ کو روح اور حزن کا مرکب نہ سمجھا جائے ۔ پھر یہ لفظ کیا ہے اس کے لیے آپ کو ناول پڑھنا پڑے گا۔
’’گئے دنوں کا قصہ ‘‘ نوجوان افسانہ نگار، نقاد اورپنجاب یونیورسٹی لاہور میں فلسفے کے استادمحمد جواد کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ہے۔ قبل ازیں اردو افسانوں کا مجموعہ’’بوڑھی کہانی‘‘ اور پنجابی کہانیوں کا مجموعہ’’بے رنگی تے رنگ‘‘ شائع ہو کر ادبی حلقوں کو متوجہ کر چکے ہیں ۔ محمد جواد کا یہ مجموعہ نگارشات لاہور نے چھاپا ہے اور اس میں ان کی اُنتیس کہانیاں شامل کی گئی ہیں ۔ محمدجواد کو کہانی کے کردارتراشنے اور انہیں ایک خاص زمانے میں ایک خاص منظر نامے کے اندر اپنی پوری شناخت اور پوری قامت کے اُسار کر رواں کر دینے کا ہنر آتا ہے ۔ زندگی کا روزمرہ اس کی کہانی میں آکر ایک حیرت کے عنصر کو کہیں سے ہتھیاتا، نئی معنویت میں ڈھل جاتا ہے۔کئی سوالوں کوتحریک دیتی حیرت کو ہتھیا نے والی یہ کہانیاں محض گئے دنوں کا قصہ نہیں ہیں یہ تو ہم پر گزر رہے وقت کازائچہ ہیں اور ہمارے اپنے کواکب کی بروج اور بیوت کا قصہ ہیں ۔کتاب کا انتساب راجندر سنگھ بیدی کے نام ہے۔
مثال فیصل آباد نے میری تنقید کی تازہ کتاب ’’اردو فکشن :نئے مباحث ‘‘ چھاپ دی ہے۔ یہ کتاب دس ابواب اور پچپن مضامین پر مشتمل ہے۔ اردو فکشن کی تنقید پر تین اور کتابیں بھی اسی برس شائع ہوئی ہیں جن میں سے پہلی ’’اردو افسانہ :فن ہنر اور متنی تجزیے‘‘ ڈاکٹر اقبال آفاقی کی کتاب ہے۔ یہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے جسے فکشن ہاؤس نے لاہور سے چھاپا ہے ۔ اس کتاب کا آخری مضمون تازہ ایڈیشن کا اضافہ ہے اور یہ وہی مضمون ہے جو ڈاکٹر اقبال آفاقی نے راقم کے نقطہ نظر کو جھٹلانے کے لیے لکھا تھا ۔ اردو افسانے کی تنقید پر ایک بہت اہم کتاب محمد غالب نشتر کی ہے جسے براؤن بکس نے چھاپا ہے ۔ اس کتاب کی تقریظ انیس رفیع نے لکھی ہے جب کہ اس میں’’نیا اردو افسانہ:علامت سے حقیقت تک‘‘،’’پاکستان میں اردو افسانہ(ساٹھ کی دہائی میں)‘‘،’’نئے افسانے میں موضوعاتی تنوع‘‘،’’سید محمد محسن کے نفسیاتی افسانے‘‘،’’شموئل احمد کا جہان فکشن‘‘،’’علامتی اسلوب میں لپٹی مظہر الزماں خاں کی کہانیاں‘‘،’’مظہر الاسلام :ایک حیران کن کہانی کار‘‘ اور ’’دہشت اور محبت ‘‘کے افسانوں پران کے مضامین شامل ہیں۔فکشن کی تنقید کی تیسری کتاب شہناز رحمن کی’’اردو فکشن:تفہیم،تعبیر اور تنقید‘‘ ہے۔ جسے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے شائع کیا ہے۔ کتاب کا پہلا حصہ فکشن کے فن پر جب کہ دوسرا اور تیسرا حصہ بالترتیب افسانے اور ناول کی عملی تنقید اور فن پاروں کے تجزیہ و تفہیم کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ فکشن کی تنقید کی کتابوں کا ذکرچل نکلا ہے تو ’’مثال‘‘ سے چھپنے والی محمد کامران شہزاد کی کتاب’’فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب‘‘ کا ذکر بھی کرتا چلوں ۔ یہ بنیادی طور پر کامران کا ایم فل کا مقالہ ہے جو انہوں ڈاکٹر غلام عباس گوندل کی نگرانی میں مکمل کیا ۔ نسیم عباس احمر کے مطابق یہ کتاب اکیسویں صدی کے افسانے ، ناول اور شاعری کی تنقید میں لکھنے والے کی تخلیقی شخصیت اورتنقیدی بصیرت کے ساتھ عصری شعور کی دریافت کاعمدہ مطالعہ بھی ہے۔
ڈاکٹر اقبال آفاقی کی دوسری اہم کتاب جو اس سال منظر عام پر آئی وہ ’’مابعدجدیدیت :اصطلاحات ، معانی، تعبیرات اور تشریحات ‘‘ ہے جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ایم فل ، پی ایچ ڈی کے طلبہ اور محققین کی رہنماکتاب کے نوٹ کے ساتھ چھاپا ہے ۔ اس کتاب میں اقبال آفاقی نے جہاں نئی تنقیدی اصطلاحات کی اردو میں تشریح اور وضاحت کی ہے وہیں رولاں بارتھ، ژاں بادریلا، ژاک دریدا ، رچرڈ رورٹی، مشل فوکو ،جولیا کرسٹیوا، لاکان اور ژاں لیو تار جیسے مابعد جدید یت کے معماروں پر تعارفی نوٹ لکھے ہیں ۔
محمد اظہار الحق ستر کی دہائی میں اپنے الگ مزاج کی غزل کہنے والے عمدہ تخلیق کار کے طور پر بہت نمایاں ہیں ۔ ان کی غزل ہماری اپنی تہذیب سے مکالمے کی ایک صورت ہے تاہم غزل اور نظم کے علاوہ وہ نثر ی سرمائے میں بھی مسلسل اضافہ کر رہے ہیں ۔ ان کی نثری تحریروں پر مشتمل کتاب ’’تلخ نوائی‘‘ المیزان نے لاہور سے شائع ہوئی ہے ۔ یہ کتاب اگرچہ ان کے ایسے کالموں پر مشتمل ہے جو اخبارات میں شائع ہوتے رہے ، تاہم ان کی ادبی اور علمی حیثیت اتنی مستحکم ہے کہ یہ اخبار کی طرح پرانے نہیں ہوئے ۔انہیں پڑھتے ہوئے جہاں ہم لمحہ رواں سے معانقہ کرتے ہیں وہیں ہم محمد اظہار الحق کے گہرے تاریخی اور تہذیبی شعور سے بھی مکالمہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ان شذرات کے عنوانات ہی ایسے قائم کیے گئے ہیں کہ قاری انہیں پڑھنے کی طرف لپکتا ہے، جیسے پاندان کی فکر، پلنگ کے نیچے کوئی سو رہا ہے، فحاشی کی تعریف، افتخار عارف کہاں ہے؟، سقوط ڈھاکہ، ڈھاکہ ہم شرمندہ ہیں، سرخ پتوں والے درختوں کا شہر اور اسلوب ایسا ہے کہ ایک بار پڑھنا شروع کر دیں تو تحریر گرفت میں لے لیتی ہے اور آخر تک لے چلتی ہے ۔
ناصر بشیر کے عمرہ کی روداد ’’پہلی پیشی ‘‘ کتاب ورثہ نے لاہور سے چھاپی ہے ۔ ناصر بشر شاعر اور صحافی ہیں ۔ نثر کی اس کتاب میں ناصر بشیر نے مختلف عنوانات اور ذیلی عنوانات قائم کرکے قاری کی دلچسپی کو گرفت میں لینے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ انتہائی خلوص اور عقیدت سے لکھی گئی تحریر کے سبب یہ کتاب، اس برس، اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں بہت اہم اور نمایاں ہو جاتی ہے ۔
ُ پروفیسر نصیر احمد خاں کی اہم کتاب’’تاریخ زبان اردو‘‘ کتابی دنیا دہلی سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں اردو زبان کا سیاسی، تہذیبی، لسانی اور ادبی تناظر میں مطالعہ پیش کیا گیا ہے ۔ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے جبکہ آخر میں ضمیمہ جات میں اہم معلومات شامل کرکے کتاب کی افادیت میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔
پنجاب کے پس ماندہ شہر جہلم میں ایک بڑا اشاعتی ادارہ ’’ بک کارنر‘‘کے نام سے موجود ہے اس ادارے نے نایاب کتابوں کو تلاش کرکے چھاپنی شروع کر رکھی ہیں ۔اس سلسلے کی تازہ کتاب لگ بھگ سات سو صفحات کی’’داستان تاریخ اردو‘‘ ہے جسے حامد حسن قادری نے لکھااور پہلی بار ۱۴۹۱ ء میں شائع ہوئی تھی ۔ اس کتاب میں اردو زبان کے آغاز سے پہلے کی لسانی صورت حال ، سنسکرت اور پراکرت،برج بھاشا سے لے کر اردو کے چلن تک کو زیر بحث لایا گیا ہے پہلا باب ہی اردو زبان کی داستان کہہ رہا ہے لفظ اردو کہاں سے آیا ، ریختہ اور زبان ہندی کیوں اور کب کہا گیا اردو پر اولیا اللہ کا فیضان ، اس زبان میں پہلی تصنیف سے اس کی مقبولیت تک کو اس باب میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ ’’دوسرا باب اردو نثر کا دور اول ‘‘ عنوان لیے ہوئے ہے ۔جس میں دکن میں اردو،بہمنی،عادل شاہی، قطب شاہی سلطنت سے مغلیہ عہد تک کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ ’’نثر کا دوسرا دور‘‘میں فضل علی فضلی، مرزا رفیع سودا، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر، میر عطا حسین تحسین،جان جوشواکیٹلر، ڈاکٹر گل کرائسٹ، ایف فیلن، ولیم میکفرسن اور عیسائی مشنریوں پر بات ہوئی ہے۔باب بہ عنوان’’ نثر کا تیسرا دور‘‘ کی ذیل میں میر امن ، حیدر بخش حیدری، میر شیر علی افسوس ، میرزا علی لطف، میر بہادر علی حسینی، مظہر علی خاں ولا، مرزا کاظم علی جواں ، مولوی امانت اللہ شیدا، للو لال جی، حکیم شریف خاں دہلوی، انشااللہ خاں دہلوی، مولوی اسمعیل دہلوی ، رجب علی سرور، محمد بخش مہجور وغیرہ کی خدمات مفصل بیان ہوئی ہیں۔ ’’نثر کا چوتھا دور‘‘ سدا سکھ لال، فقیر محمد گویا، نعیم چند کھتری، مولوی قطب الدین دہلوی، مرزا غالب، سے شاہ علی تک کئی مصنفین کو زیر بحث لاتا ہے ۔ سرسید احمد خاں اور ان کے معاصرین کو اردو نثر کے پانچویں دور میں ، جب کہ محمد حسین آزاد، مولوی نذیر احمد، الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی سے سید ناصر نذیر فراق تک اہم لکھنے والے اس کتاب کے آخری حصے میں زیر بحث آئے ہیں ۔
اسی ادارے کی اس برس آنے والی ایک اور کتاب کا ذکر کرتا چلوں ، یہ کتاب ہے مولانا عبدالماجد دریابادی کی ’’تاریخ تصوف‘‘۔ یہ کتاب پہلی بار ۴۲۹۱ء میں شائع ہوئی تھی ۔ بک کارنر کا تازہ ایڈیشن بہت اہتمام سے چھاپا گیا ہے ۔یادرہے اس کتاب میں شیخ ابونصر سراج، شیخ علی بن عثمان ہجویری، امام ابوالقاسم قشیری، شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی، شیخ شہاب الدین سہروردی، خواجہ نظام الدین اولیا محبوب الہی ، شیخ فرید الدین عطار، مولانا نور الدین عبدالرحمن جامی اور شیخ احمد بن ابراہیم الواسطی کی تعلیمات سے متعارف کروایا گیا ہے یوں ہم اس ایک کتاب کے وسیلے سے کتاب اللمع، کشف المحجوب ،رسالہ قشیریہ، فتوح الغیب، عوارف المعارف، فوائد الفواد، منطق الطیر،لواح اور فقرمحمدی سے تعارف بھی حاصل ہو جاتا ہے۔
’’مارکسیت اور ادبی تنقید‘‘ ٹیری ایگلٹن کی کتاب کا ترجمہ ہے جسے انگریزی سے اردو میں ڈاکٹر رغبت شمیم ملک نے ترجمہ کیا ہے ۔ ٹیری ایگلٹن مارکسی ناقدین میں بلند مقام تو رکھتے ہی ہیں مگر کئی مقامات پر وہ ان سے اختلاف کرتے ہیں اور اس کے پہلو بہ پہلووہ جدید قضایات پر بھی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔ یوں وہ کسی تنگنائے کے اسیر نہیں ہوئے ہیں۔ یوں یہ ایسا طرز عمل ہو جاتا ہے جس میں وہ نئی تنقید کے خال و خدبنا رہے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر رغبت شمیم ملک ٹیری ایگلٹن کی اس کتاب کو سلیس اور رواں اردو میں ڈھال دیا ہے ۔ کتاب کے آغاز میں احمد سہیل کا ایک اہم تعارفی مضمون ’’ٹیری ایگلٹن :نئی تنقید کا صورت گر‘‘ بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے کتاب کی افادیت بڑھ گئی ہے ۔ ٹیری ایگلٹن کی کتاب کا یہ اردو ترجمہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے ڈاکٹر امجد طفیل کے تعارفی نوٹ کے ساتھ اسی برس شائع کیا ہے۔
افسانہ نگار ساجد رشید نے اپنی زندگی میں چومکھی لڑائی لڑی ،تاہم ہمیں دکھ ہے کہ ابھی اس نے بہت کام کرنا تھا مگر موت اسے اچک کر لے گئی۔ساجد رشید کی بڑی شناخت ان کا جریدہ ’’نیا ورق‘‘ تھا جو ان کی زندگی میں باقاعدگی دے چھپتا رہا اور اب ان کے فرزند اس روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ’’نیا ورق ‘‘ میں بہ قول مرتب معروف ادیب اہتمام سے چھپتے رہے جن میں گوپی چند نارنگ، جمیل جالبی، نیر مسعود، اقبال مجید، مظہر امام ، شہر یار، سلام بن رزاق، محمد علوی، اور عرفان صدیقی وغیرہ شامل تھے۔ عرشیہ نے اسیم کاوانی کا مرتب کیا ہوا سہ ماہی ’نیاورق‘کے اداریوں پر مشتمل مجموعہ’’دستخط‘‘ بھی اسی برس چھاپا ہے ۔ اس مجموعے میں ساجد رشید کے تیکھے قلم سے لکھے ہوئے پینتیس اداریے شامل کیے گئے ہیں۔
اور اب ’’سخن اور اہل سخن ‘‘ کا تذکرہ۔ یہ کتاب مظفر علی سید کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جو انتظار حسین نے مرتب کیا ۔ شاید یہ ان کی آخری کتاب ہوگی جو انہوں نے اپنی زندگی میں مرتب کی ہوگی تاہم جب آکسفورڈ فیسٹول اسلام آباد میں اس کتاب کا اجراء ہورہا تھا تو انتظار حسین ہم میں نہیں تھے یہ الگ بات کہ ان کا دھیان ایک لمحے کے لیے بھی ہم سے جد ا نہیں ہوا ۔ اس کتاب میں مرتب نے مظفر علی سید کے بہت اہم مضامین ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے فراہم کردیا ہے ۔اردو ادب کی صورت حال، عصر حاضر میں ادب کا کردار ، ترجمے کی جدلیات، حرف وصوت کا رشتہ اور اسی طرح منٹو، بیدی، غلام عباس ، انتظارحسین جیسے اہم افسانہ نگاروں کے فن کا تجزیہ۔ شاعروں میں میر ،راشد، مجید امجد، حفیظ ہوشیار پوری، ناصرکاظمی، اخترالایمان، سلیم احمد، مختار صدیقی پر مضامین کے علاوہ ان کے وہ مضامین بھی کتاب کا حصہ ہیں جن میں وہ ادب اور تاریخی شعور پر بات کرتے ہیں۔دوسو چھیاسی صفحات پر مشتمل تنقید کی یہ اہم کتاب سنگ میل نے لاہور سے شائع کی ہے۔
چلتے چلتے دو تین مزید کتابیں :’’میرا مطالعہ‘‘ معروف اہل علم کی مطالعاتی زندگی کا حوالہ ہے جسے ایمل کے شاہد اعوان نے اسلام آباد سے شائع کیا ۔ ’’دائرے میں قدم‘‘ خالد علیم کا سادہ بیانیے کا طویل افسانہ، جسے دستاویز نے لاہور سے شائع کیا ۔ ’’ سید ماجد شاہ کے افسانوں کے مجموعے کا نام ’’ق‘‘ ہے ۔اسے مثال نے چھاپا ہے ۔ ان افسانوں پر لڈمیلا ویسلوا کی یہ رائے مجھے دلچسپ لگی کہ’’ یہ مجموعہ جہاں بے زار افسانوی مضامین پر ایک کھلی تنقید ہے وہاں جدید افسانے کی معقولیت میں اہم اضافے کا باعث بھی ہے‘‘ ۔فائق احمد کے افسانے’’گاڑی جا چکی‘‘ جس میں ان کے انیس افسانے شامل ہیں ،’’ محبت سے آگے‘‘ اور’’ خدا کے بندے ‘‘لطیف ثبات کے بالترتیب ناول اور افسانے ہیں جو’’ طٰہ‘‘ ، لاہو ر سے ،جب کہ نوجوان افسانہ نگار اورباصلاحیت صحافی احمد اعجاز کی بہت اہم موضوع پر لکھی ہوئی کتاب’’عدم رواداری، تعلیم اور سماج‘‘ جسے مثال نے فیصل آباد سے شائع کیا ہے۔ یوں تو کئی اور کتابیں بھی ہیں جن کا ذکرہونا چاہیے مگر اس مختصر تحریر میں اتنا ہی ممکن رہا ۔موقع ملا تو اہم کتابوں پر الگ سے لکھتا رہوں گا ۔ اور ہاں ادبی جریدوں کا ذکر بھی یہاں ہونا چاہیے کہ تازہ ادب تک رسائی ان سے ہی ممکن ہو پاتی ہے۔’’ دنیا زاد‘‘ کراچی، ’’اجراء‘‘ کراچی،’’ مکالمہ‘‘ کراچی ،’’آج‘‘ کراچی،’’ فنون‘‘ لاہور، ’’الحمرا‘‘ لاہور،’’ ادب لطیف‘‘ لاہور،’’ تخلیق ‘‘لاہور،’’ ادبیات‘‘ اسلام آباد،’’ لوح‘‘ راولپنڈی سب نے اپنے تئیں ادبی فضا میں رنگ بھرے ، اور خوب بھرے ہیں۔
(Revised)

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *