M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / نوائے وقت ادبی فورم|علامہ اقبال کی نظر انتخاب قائد اعظم کیوں تھے؟

نوائے وقت ادبی فورم|علامہ اقبال کی نظر انتخاب قائد اعظم کیوں تھے؟

قائد اعظم کی سالگرہ کے موقع پر نوائے وقت ادبی فورم کا
کپس اکیڈمی کے تعاون سے مجلس مذاکرہ کا اہتمام

پرو فیسر جلیل عالی،پروفیسر جمیل یوسف، محمد حمید شاہد عائشہ مسعود،پروفیسر عرفان جمیل اور پروفیسر اطہر کا خطاب اور طلبا وطالبات کی کثیر تعداد میں شرکت

……………………

عائشہ مسعود
……………………
قائداعظم کے یوم پیدائش پر نوائے وقت ادبی فورم کے زیر اہتمام ’’مجلس مذاکرہ‘‘ کا اہتمام کیا گیا۔ اس مذاکرہ کے لیے عنوان یہ رکھا گیا کہ ’’علامہ اقبال کی نظر انتخاب قائداعظم کیوں تھے؟ اس مجلس مذاکرہ کا اہتمام ’’کپس اکیڈمی‘‘ کے تعاون سے کیا گیا۔ جبکہ صدارتی پینل میں معروف شاعر پروفیسر جلیل عالی‘ پروفیسرجمیل یوسف اور معروف فکشن رائٹر اور نقاد حمید شاہد شامل تھے۔ تقریب میں طلباء وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے آغاز میں پروفیسر عرفان جمیل نے قرآنی آیات کی تلاوت کی سعادت حاصل کرنے کے بعد معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پروفیسر اعجاز اطہر کو دعوت دی کہ وہ عنوان کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ جنہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ علامہ اقبال یہ سمجھتے تھے کہ قائداعظم میں ایسی قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں جو دوسروں میں نہیں ہیں اور وہ وہی مسلمانوں کو تاریخ کا وہ بھولا ہوا سبق یاد دلاسکتے ہیں۔ جس کے باعث مسلمان زوال کا شکار ہوئے تھے اور پسماندگی میں چلے گئے تھے لہذا مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے علامہ اقبال کو قائداعظم کی شخصیت ہی دکھائی دی تھی اور قائداعظم جیسی باعمل شخصیت کے لیے اقبال کی سوچ اور فکر کا اثاثہ کافی تھا، پروفیسر اعجاز اطہر کی تقریر کے بعد پروفیسر عرفان جمیل نے قائداعظم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اپنی ایک نظم پیش کی پھر میزبان ہونے کی حیثیت سے میں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاست میں اپنی ذات کی نفی کرنا اور کسی دوسرے کوبڑھاوا دینا ناممکن ہو چکا ہے ۔ علامہ اقبال کا قائداعظم کا کیا تعلق تھا اس کے لیے ایک واقعہ ہے کہ نہرو نے اپنے ایک دوست کے ہمراہ علامہ اقبال سے ملاقات کی اور کہا قائداعظم کی تو زبان بھی انگریزی ہے آپ مسلمانوں کے زیادہ قریب ہیں تو قیادت بھی آپ کو ہی کرنا چاہیے جواب میں علامہ اقبال نے کہا قائداعظم میرے لیڈر ہیں اور میں تو ان کا ادنی سپاہی ہوں۔۔ میں نے قائد اعظم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یہ شعر پڑھا۔
ممکن نہیں ہے لیکن شاید کوئی ملے گا
اب تیرے جیسا ہم کو قائد کوئی ملے گا

15676266_10153880281446157_1559229113123563381_o
http://www.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/islamabad/2016-12-28/page-16

پروفیسر جلیل عالی نے کسی اور تقریب میں جانا تھا لہذا انہیں اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے موضوع کے انتخاب پر نوائے وقت ادبی فورم کو مبارکباد دی اور کہا کہ آج نوجوانوں کے ذہنوں میں بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں اور اس قسم کے ’’مذاکرہ‘‘ کے اہتمام سے انہیں بھی راستہ مل سکتا ہے انہوں نے معروف شاعر ظہر کاشمیری کایہ شعر پڑھا:
تیرے خوش پوش فقیروں سے وہ ملتے تو سہی
جو یہ کہتے ہیں وفا پیرہن چاک میں ہے
انہوں نے کہا کہ دراصل اقبال اور قائداعظم دوبندے دو درویش تھے۔ لیکن ان کے بال بکھرے ہوئے نہیں تھے مگر یہ اندر سے درویش تھے۔ کیونکہ قائداعظم کی خوش پوشی کی ایک دنیا گواہ تھی۔ مگر جو عشق‘ محبت اور لگن قائداعظم کو فکری تہذیبی روایت سے تھی۔ مسلمانوں کے ساتھ تھی رسولؐ کے ساتھ تھی اور اسلام کے ساتھ تھی وہ انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ علامہ اقبال نے جس وقت ہوش کی آنکھیں کھولیں اس وقت کا زمانہ 1857ء کی ناکام جنگ آزادی کا زمانہ تھا اور ہر طرف مایوسی پھیلی ہوئی تھی ان دنوں آزاد مسلمان ممالک دیکھنے کو نہیں ملتے تھے۔ ان دنوں شاعری میں بھی مرثیہ مقبول تھا اور اس مقبولیت میں اجتماعی دکھ بھی شامل تھا کیونکہ لوگ کتھارسس چاہتے تھے۔ غزل کی اعلی سطح کے کچھ سوچ والے لوگوں میں موجود تھی لیکن غزل میں بھی دانہ‘ دام ‘ صیاد اور گلچیں جیسے الفاظ دکھائی دیتے تھے گلچیں یعنی پھول توڑنے والا اور اس وقت یہ صورت حال تھی کہ برطانیہ کو ہندوستان سونے کی چڑیا لگتا تھا اور وہ گلچیں تھا۔ لیکن جو بات کرتا تھا وہ پکڑا جاتا تھا۔ دیوانہ قرار دے دیا جاتا تھا۔ دہشت گرد سمجھا جاتا تھا اور جو بات نہیں کرتے تھے ان کو مراعات دی جاتی تھیں یعنی ان کے سامنے دانہ پھینک دیا جاتا تھا جیسے کسی پرندے کو پکڑنا ہو تو دانہ پھینکا جاتا ہے ۔ پروفیسر جلیل عالی نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ادب معاشرے کی عکاسی کرتا ہے ان کے لیے اقبال کا پیدا ہونا بہت بڑا سوال ہے۔ کیونکہ علامہ اقبال تاریکی کی بجائے یہ کہتے تھے۔
سبق پڑھ پھر صداقت کا شرافت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اور اب سوچا جائے کہ چاروں طرف کے حالات کیا ہیں؟ اور علامہ اقبال کہہ کیا رہے ہیں؟ لیکن علامہ اقبال نے معجزہ دکھا دیا اور ایک قوم پیدا کر دی ایک ایسی قوم جس کے اندر خواب جاگ رہے تھے
اپنی ملت کا قیاس اقوام مغرب پر نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولؐ ہاشمیepaper_img_1482871365
پروفیسر جلیل عالی کی گفتگو طلباء وطالبات انہماک سے سن رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ نہیں کہ اقبال کو ڈھلا ڈھلایا مذہب مل گیا تھا بلکہ انہوں نے فکر اسلامی کی تشکیل والے لیکچر لکھے۔ بقول ڈاکٹر منظور احمد ’’جتنا بڑا بریک تھرو فکر اسلامی کو ان لیکچرز نے دیا ایسا کام کوئی 14 سو سال میں نہ کر سکا تھا ‘‘ دراصل اسلام کو ’’ آج‘‘ کے تناظر میں سمجھنے کے لیے یہ ضروری تھا کیونکہ ریاست جیسے ادارے کو صرف نسل صرف زبان اور صرف جغرافیہ کی بنیاد پر منظم نہیں کرنا ہوتا بلکہ ریاست کو آدرش اور مقصد کے تابع ہونا چاہیے وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی ایک فکری تہذبی روایت موجود ہو تو ایک ایسی State بنائی جاسکتی ہے جو نظریاتی ہو جلیل عالی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ عزرائیل کو نظریاتی ریاست نہیں کہا جاسکتا وہ نسلی ریاست ہے۔ روس کو نظریاتی ریاست کہا جاسکتا ہے کیونکہ نظریاتی ریاست یہ سوچ رکھ سکتی ہے کہ ساری دنیا کے لوگ نظریے کے حامل ہو جائیں لیکن لوگ یہودی ہو جائیں یہ ممکن نہیں علامہ اقبال نے پھول‘ چاند آسمان اور دریا جسے اشعاروں کے ذریعے بات کی اور تجسس کے ذریعے فکری تشکیل تک سچے اور عملی طورپر سیاست میں بھی حصہ لیا۔ مسلم لیگ کے صدر رہے اور جب ان کے سامنے سوال آیا کہ مسلمانوں کو مایوسی کی دلدل سے کیسے نکالنا جائے تو انکی نگاہ انتخاب محمد علی جناح تھے۔ پروفیسر جلیل عالی نے یہاں قائداعظم کا ایک واقعہ بیان کیا قائداعظم نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ جب پہلا مسلمان ہندوستان میں داخل ہوا تھا تو پاکستان کی بنیاد پڑ چکی تھی ۔مجدد الف ثانی نے کہا تھا کہ اکبر اعظم نے دین الہی جاریکیا مگر مسلمان اپنی شناخت مدغم نہ کرسکے۔ پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ ایسا اس لیے نہیں ہو سکا تھا کیونکہ مسلمان انسانیت کا ہر اول دستہ ہے سرسید احمد خان کے زمانے میں بھی جب کانگریس نے کہا کہ ہندوستان کی زبان ’’ہندی‘‘ ہونی چاہیے تو اس وقت سرسید احمد خان نے بھی یہ تسلیم کرلیا کہ جب تک ایک قوم دوسری کو مغلوب نہیں کرلیتی برصغیر میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ علامہ اقبال نے اس سارے میٹریل کو آرگنائیز کیااور یہ فلسفہ دیا کہ برصغیر میں دو بڑی قومیں دو بڑی تہذبیں موجود ہیں اس بنیاد پر انہوں نے نوجوانوں کی سیاسی انجمنیں بھی بنائیں کیونکہ علامہ اقبال جانتے تھے کہ پاکستان بنانے کے لیے وہ سارے عوامل بروئے کار لانے چاہیے جو کمیونٹی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ اسی لیے مسلم لیگ میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو بھی جگہ دی گئی ۔ پروفیسر جلیل عالی نے نوجوانوں سے بڑا دلچسپ سوال کیا کہ اگر دنیا بھر کے بدمعاش پاکستان پر حملہ آور ہو جائیں تو ہم اپنے لوگ جمع نہیں کریں گے؟ کیونکہ جب کوئی ملیامیٹ کرنے پر تل جائے تو سارے عناصر اکٹھے کر دئیے جاتے ہیں۔ اس لیے جاگیردار مسلم لیگ میں آگئے۔یہ دراصل Strategy تھی پروفیسر جلیل عالی نے مسلمان اور ہندو کی الگ شناخت کے بارے میں ایک واقعہ بیان کیا۔ کہ جب قائداعظم ایک مرتبہ سے کہا گیا کہ آپ الگ شناخت کی بات کیوں کرتے ہیں؟ قائداعظم نے پانی کا گلاس لیا اور ایک دو گھونٹ پی کر ہندو سے کہا کہ اب تم پی لو۔ ہندو نے جواب دیا میں تو نہیں پیتا۔ قائداعظم نے وہی پانی مسلمان کو دیا تو اس نے پی لیا۔ قائداعظم کہا کرتے تھے میں برصغیر کے مسلمانوں کا وکیل ہوں ۔ ہمارے بعض دوست لفظوں تک جاتے ہیں پورا بیانیہ یا پوری تقریر کا ذکر نہیں کرتے۔ علامہ اقبال دراصل انگریزوں سے ‘ہندوؤں علماء سے ‘ خاکساروں سے ‘ سیکولروں اور آزاد خیالوں سے لڑ رہا تھا وہ سمجھتے تھے کہ انسان صرف آزاد خیال نہیں صرف سیکولر نہیں یا صرف ڈیموکرٹیک نہیں ہوسکتا اقبال نے ’’روحانی جمہوریت‘‘ کا ذکر کیا اسی لیے کہا تھا
بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے5
یعنی اکثریتی رائے سے ہر فیصلہ ہاتھ میں نہیں لیا جاسکتا۔ ’’مہابیانیہ‘‘ کا احتجاج بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ فیصلہ کوئی اقتداری سسٹم ہی کریگا۔ اور یہ اجتماعی انتظام چلانے کے لیے ضروری بھی ہے۔ آج دنیا کا ایک ایسا چمپیئن ملک جو جمہوریت کا نام لیتا مگر مسلمان ملکوں میں ڈکیٹیٹرز کی برتری اور بادشاہوں کی برتری پسند کرتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ جمہوریت بھی نہیں دینا چاہتا دراصل مسلم معاشرہ جمہوریت کے نتائج اور غیر مسلم معاشرہ میں جمہوریت کے نتائج میں فرق ہوتا ہے۔ غیر مسلم معاشرے میں اجتماعی مزاحمت کا فکراور احساس نہیں جبکہ مسلمانوں کی جمہوریت ’’اینٹی سامراج‘‘ ہوتی ہے اس لیے مسلمانوں کے لیے جمہوریت کو پسند نہیں کیا جاتا رہا۔ اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بہت کچھ تباہ کیا گیا۔ ایٹم بم بھی چلائے گئے اور عراق اور افغانستان میں حملے کیے گئے۔ پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ ہندوستان میں گاندھی ایسا شخص تھا کہ جس نے یہ جان لیا تھا کہ قائداعظم اور الگ ملک مطالبہ تسلیم کرنے کا کیا مطلب ہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ سادہ مسئلہ نہیں ہے کیونکہ جو خطہ الگ ہوگا اس کے ساتھ مشرق وسطی کے مسلم ممالک ہونگے اور اس پیش رفت کے بعد کئی ممالک آزاد ہوجائیں گے جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ روس کی ریاستیں آزاد ہوئیں تھی پروفیسر جلیل عالی نے طلبا وطالبات کو بتایا کہ پاکستان کے پیچھے قدرت کی مشیت ہے انہوں نے مسکرا کر کہا کہ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمارے بصیرت کے اعتبار سے اعمال اچھے نہیں ہیں اس کے باوجود شکر ہے کہ پہلے 80 فیصد فیصلے باہر سے ہوتے تھے اب 40 فیصد فیصلے باہر سے ہوتے ہیں۔ پروفیسر جلیل عالی نے اپنے خطاب کے اختتام میں کہا کہ 1937ء کے علامہ اقبال کے خطوط جو قائداعظم کے نام تھے ان کے بارے قائداعظم نے کہا تھا کہ میں ان سے رہنمائی لیتا رہا تھا۔ 1938ء میں علامہ اقبال نے کہہ دیا تھا کہ کیا وقت آ نہیں گیا کہ علیحدہ ملک کا مطالبہ کر دیا جائے ؟ آج جو لوگ کہتے ہیں کہ علامہ اقبال کا پاکستان سے کیا تعلق ہے انہیں قائداعظم کو لکھے گئے خطوط پڑھ لینے چاہیے۔ جب قرارداد پاکستان منظور ہوئی تو مطلوب حسین سید نے کہا تھا کہ
’’آج ہم نے وہ کیا جوعلامہ اقبال چاہتے تھے۔۔۔۔پروفیسر جلیل عالی اپنی حکمت و دانش کے موتی بکھیر کر محفل سے چلے گئے کیونکہ انہیں کہیں جانا تھا۔ان کے بعد معروف فکشن نگار ،نقاد،ناول نگار محمد حمید شاہد کو دعوت دی گئی محمد حمید شاہد نے تاریخ کے اوراق الٹتے ہوئے کہا میں ذرا آپ کو کچھ پیچھے ، یعنی مسلمانوں کی حکمرانی کے دور میں لے چلوں گا اور مسلمانوں اورہندو سمیت دوسری اقوام کی نفسیات کو نشان زد کرنا چاہتا ہوں کہ جس نے بعدازاں دوقومی نظریے کو متشکل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک مسلمان یہاں حکمرانی کرتے رہے ۔اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال کے بعد مسلمانوں کی حکمرانی زوال کا شکار ہوتی چلی گئی اور پھر لگ بھگ سو برس بعد یہ انجام ہوا کہ کہا جانے لگا،حکومت شاہ عالم،از لال قلعہ تاپالم ، یاد رہے پالم دلی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ انگر یز ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت یہاں آچکا تھا اور مسلمان کمزور ہو چکے تھے مگر اس سارے عرصے میں یہ ہوا کہ مسلمانوں غلام نہ تھے ، غلامی کا احساس اگر کہیں تھا تو وہ ہندو ؤں اور دوسری اقوام کے ہاں تھا ، انہیں اقتدار کے قریب تر ہونے کے لیے بہت کچھ چھوڑنا پر رہا تھا اور انہوں نے چھوڑا ۔ ۷۵۸۱ کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی ۔ ہندوستان تاج برطانیہ کے تحت تھا ۔ اب ہندو اور مسلمان سب غلام تھے ۔ ہندو تو پہلے سے غلام تھا ، ایک غلامی سے نکلا اور دوسری میں چلا گیا مگر مسلمان کے ہاں شدید نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی تھی ۔ کہیں صدمے کی کیفیت، کہیں رنج اور کہیں بغاوت ۔’’ شہید بن ‘‘ جیسی تحریکیں جو شمالی ہند سے چلیں اور بالاکوٹ پر ختم ہوئی ، اسی رد عمل کا شاخسانہ تھیں ۔ سندھ میں حروں کاردعمل بھی اسی احساس کا نتیجہ ہے۔
حمید شاہد نے کہاا،اس نفسیاتی ردعمل کا ایک اور مظاہرہ یوں ہوا کہ ہندو جو پہلے ،یعنی مسلمانوں کی حکمرانی کے زمانے میں اپنی زبان چھوڑ کر فارسی زبان سیکھتا تھا کہ وہی دربار سرکار کی زبان تھی، انگریز وں کی آمد کے بعد انگریزی سیکھنے لگا تھا اور ایسا کرتے ہوئے اس کے ہاں کوئی نفسیاتی رکاوٹ نہ تھی ، جب کہ مسلمان انگریزی اور جدید علوم کی طرف متوجہ ہونے میں یہی نفسیاتی دیوار حائل تھی کہ وہ غلامی کے احساس سے دو چار ہوتے تھے ۔ مسلمانوں کا یہ رد عمل، انگریزوں کی جانب سے کی جانے والے تہذیبی اور ثقافتی انقلاب کی کوششوں کے مقابل شدید تر ہوتا چلا گیا ۔ہندو اگر لارڈ میکالے کی تعلیمی اصلاحات کا خیر مقدم کر رہا تھا تو مسلمان کہیں تو ٹھٹھک کر الگ کھڑا تھا اور کہیں مزاحم ہو رہا تھا ۔یہ وہ وجوہات تھیں کہ مسلمان کی معاشی اور معاشرتی طور پر بدحال ہوتا چلا گیا اور ہندو سماجی مرتبے میں توقیر پانے لگاتھا ۔ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو مسلمان یا تو منڈیوں میں مزدور ہوں گے یا سرکاری دفتروں میں چپڑاسی ۔
انہوں نے کہا،اب آئیے مسلمان علماء اور رہنماؤں کے رد عمل کی طرف ۔ تو ایسا ہے کہ یہاں دو طرح سے ردعمل ہو ا ایک وہ تھے جو مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف ردعمل پر ابھارتے ہوئے انہیں انگریزی زبان اور جدید علوم کے سیکھنے سے بھی روک رہے تھے اور دوسری قسم کے رہنماؤں میں سر سید احمد خاں تھے جو ۷۵۸۱ ء کی بغاوت کے اسباب لکھتے ہوئے اگر ایک طرف انگریزوں کو یہ باور کرانے کے جتن کر رہے تھے کہ مسلمان باغی نہیں ہیں ، یہ ایک رد عمل تھا جو انگریز کے فیصلوں میں ان کے شریک نہ کیے جانے کی وجہ سے ہوا ،تو دوسری طرف وہ مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف آنے پر مائل کر رہے تھے ۔ ہندوستان میں انڈین کانگریس ۵۸۸۱ میں جب کہ آل انڈیا مسلم لیگ اکیس سال بعد ۶۰۹۱ میں بنی اور اس سیاسی ڈیوپلمنٹ کے پیچھے ، صرف یہی احساس کام نہیں کر رہا تھا کہ بعد میں مسلمانوں کے تحفظات بلکہ کئی طرح کے خوف بڑھتے چلے گئے ان میں ایک خوف تو یہ تھا کہ انگریز اور ہندو بہت سارے معاملات میں ایک ہو جایا کرتے تھے ۔ بعد میں جب انگریزوں کے برصغیر سے چلے جانے کے آثار نظر آنے لگے تو مسلمانوں کو خوف تھا ، کہ وہ اقلیت میں ہیں لہذا ہندو کے رحم وکرم پر ہوں گے اور ہندو اپنی غلامی کے زمانے کا خوب خوب بدلہ لے گا۔
حمید شاہد نے کہا اقبال کی طرف آتے ہیں ، کہ یہ وہ فضا تھی جس میں اقبال جیسے مفکر، فلسفی ، شاعر اور دانشور کو اپنا کام کرنا تھا ۔ یہ وہی اقبال ہیں جو ایک زمانے میں کہتے تھے ، سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ۔ ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستان ہمارا ۔ مگر جو بعد میں انگلستان اور جرمنی سے ہو کر آیا ، مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے ،کی مصداق زیادہ مسلمان ہو کر سوچ رہا تھا اور وطنی قومیت کو رد کر رہا تھا۔ ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے ۔ جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے ۔ یہی وہ فضا تھی جس میں دو قومی نظریے کی تشکیل ہوئی کہ اس کے بغیر نفسیاتی ، معاشی، معاشرتی ، سیاسی اور سماجی سطح پر نڈھال مسلمانوں کو ایک قوم کی صورت متحد کر نا ممکن نہ تھی ۔ اقبال کے صدارتی خطبہ الہ آباد کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ یہیں سے ایک خوف ایک جذبے میں بدلتا ہے ۔ یاد رہے۰۳۹۱ تک مسلم لیگ نوابوں اور جاگیرداروں کی جماعت تھی، جو اس کے بعد عوامی جماعت بنی۔ اقبال لندن گئے ۲۳۹۱ء کی گول میز کانفرنس کے لیے تو قائد اعظم سے ملے جو وہاں مسلمانوں کی حالت اور ہندوستانی سیاست سے مایوس ہو کر اپنی وکالت کے سلسلے میں مقیم ہو گئے تھے ، انہیں قائل کیا کہ ہندوستان کے مسلمان کو ایک روشن دماغ قائد کی ضرورت تھی ۔ قائداعظم ہندوستان آئے اوع دوقومی نظریے کے پرچارک بنے یوں مسلمان ایک قوم کی صورت بیدا ر ہوئے ۔ جب ۸۳۹۱ میں اقبال کی رحلت ہوئی تو قائداعظم نے کہا تھا وہ اپنے ذاتی دوست،رہنما فیضان اور روحانی قوت کے فیضان سے محروم ہوگئے تھے۔
حمید شاہد کے مطابق ،ہر موومنٹ کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے ۔ وہ تحریک جس کے پیچھے دوقومی نظر یہ کام کر رہا تھا ، اس کی ایکسپائری ڈیٹ ، بہت خوشگوار انجام پر آئی پاکستان بن گیا ۔ اس کے بعد پاکستانی قوم کو اس فضا سے نکل جانا چاہیے تھا جس میں قوم بننے کے لیے وطن کی نفی اور مذہب پر اصرار بنیادی عناصر ہو جاتے ہیں ۔ اب پاکستانی ایک قوم اسی صورت میں بن سکتے ہیں کہ یہاں وطن ایک اہم عنصر کے طور پر کام کرے گا ۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، انہی کی مرضی چلنی ہے کہ جمہوریت کا یہی تقاضا ہے لہذا میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایسی جماعتوں کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ مذہبی بنیادوں پر تعصبات کو ہوا دے رہی ہیں، یا جو پاکستان کی مذہبی شناخت کو ہی ختم کرنا چاہتی ہیں۔ موجودہ صورت حال میں جو شدت پسندی اور عدم رواداری ہے اس کی وجہ ایسی جماعتیں ہیں اور ان کے عسکری ونگز ہیں جو خود اپنی مرضی سے تصور پاکستان کرتے اور زور زبردستی لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ پاکستانی سیاست میں فکری انتشاراور آپا دھاپی کی یہی وجوہات ہیں جن پر قابو پانے کے لیے مسئلے کی بنیادوں کو سمجھنا ہوگا ۔
محمد حمید شاہد نے اپنے خطاب کو تالیوں کی گونج میں ختم کیا اور معروف شاعر نقاد اور تاریخ دان پروفیسر جمیل یوسف کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں پروفیسر جمیل یوسف نے تقریر کے آغاز میں ہمارے عنوان کے انتخاب کو سراہا اور کہا کہ ’’میثاق لکھنو‘‘1916میں ہوا جو قائداعظم نے کروایا تھا اور قائد اعظم کو اس وقت سے ہی لوگوں نے لیڈر بنایا ہوا تھا۔ پروفیسر جمیل یوسف نے کہا ہندوستان کے حالات سے مایوس ہوکر اور مذہبی رہنماؤں کے اختلافات سے تنگ آکر قائداعظم لندن چلے گئے تھے اور انہوں نے یہ اعلان کردیا تھا کہ میرا ہندوستان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انہوں نے لندن جاکر ایک خوبصورت مکان بھی خرید لیا تھا۔پروفیسر جمیل یوسف نے ازراہ مذاق کہا کہ قائداعظم خوبصورت اور عالیشان مکان خریدا کرتے تھے آج وہ اسلام آباد ہوتے تو’’ایوان صدر‘‘خرید لیتے۔۔۔۔طلباء طالبات کی مسکراہٹوں کے درمیان پروفیسر جمیل یوسف گویا ہوئے کہ قائداعظم نے لندن رہ کر وکالت کا فیصلہ کرلیا۔تب 21جون 1937کو علامہ اقبال نے قائداعظم کو خط لکھا کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ حق ہے وہ آپ سے رہنمائی کی توقع رکھیں۔۔۔۔اور پورے ہندوستان میں صرف آپ ہی یہ رہنمائی کرسکتے ہیں۔۔۔یعنی علامہ اقبال قائداعظم کو Convinceکررہے تھے۔مگر یہ حقیقت ہے کہ قائداعظم اس وقت بھی مانے ہوئے لیڈر تھے لیکن چھوڑ کر چلے گئے تھے۔انہی دنوں قائداعظم جب لندن میں تھے تو انہیں کوئی غیر مرئی احساس ہوا جیسے کوئی کمرے سفید کپڑوں میں ملبوس چل رہا ہو۔قائداعظم اٹھ کر بیٹھ گئے۔پروفیسر جمیل یوسف نے بتایا کہ صفدر محمود نے اپنے کالموں میں اس بات کا ذکر کیا کہ وہ حضرت محمدؐ کے حکم پر واپس آئے تھے۔۔پروفیسر جمیل یوسف نے کہا کہ علامہ اقبال اور قائداعظم کا موازنہ بڑا دلچسپ ہے۔پوری زندگی میں قائداعظم کسی کو ملنے گئے تو وہ علامہ اقبال تھے۔وائسرائے کے محل میں میٹنگ کی علیحدہ بات سے مگر خصوصی ملاقات کے لئے جانا علیحدہ بات ہے۔۔۔ڈاکٹر جاوید اقبال نے بھی اپنی سوانح عمری ’’اپنا گریباں چاک‘‘میں بھی قائد اعظم کے علامہ اقبال سے ملاقات کے لئے آمد کا ذکر کیا ہے۔اس وقت ڈاکٹر جاوید اقبال چھ سات برس کے تھے جب علامہ اقبال نے کہا آج ایک بہت بڑا آدمی آرہا ہے۔تم بھی ملاقات کے لئے آنا اور اپنی آٹو گراف بک بھی ساتھ رکھو۔۔۔پروفیسر جمیل یوسف نے بڑے دلچسپ انداز میں بتایا کہ قائداعظم اتنے خوبصورت لباس میں ہوا کرتے تھے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جاتا تھا ،جبکہ علامہ اقبال دھوتی بنیان جیسے سادہ لباس میں رہا کرتے تھے ۔۔۔ فرق تو تھا لیکن مکمل ذہنی ہم آہنگی موجود تھی۔1930میں جب علامہ اقبال نے خطبہ دیا تو قائداعظم لندن میں تھے۔علامہ اقبال نے کہا تھا کہ۔۔۔۔’’کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مسلم ریاست مسلمانوں کا مقدر بن چکی ہے‘‘ علامہ اقبال نے مسلمانوں کی تقدیر کو بعانپ لیا تھا۔علامہ اقبال نے الہ آباد کا خطبہ انگریزی زبان میں لکھا تھا اور وہ اس قدر مشکل انگریزی میں تھا لہ مسلم لیگ مندوبین کو بھی کم ہی سمجھ میں آیا تھا لیکن اگلے دن ہندو اخبارات میں بھی شور مچ چکا تھا اور انگلینڈ میں بھی چرچا ہوگیا تھا۔۔۔اب سوال یہ کہ علامہ اقبال کا انتخاب قائداعظم ہی کیوں تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قائداعظم سے بڑا مسلمان کوئی نہیں تھا۔بظاہر قائداعظم کا مذہبی گھرانہ نہیں تھا لیکن روحانی طور پر اور دلی طور پر ایمان کی دولت اﷲ پاک جسے عطا کرتا ہے اسے ’’فراست مومنانہ‘‘سے نواز دیتا ہے اور قائداعظم کو’’فراست مومنانہ‘‘ست اﷲ تعالیٰ نے نواز دیا تھا۔اس کے بر عکس ابوا لکلام آزاد ایک مذہبی رہنما تھے مگر کانگریس کی گود میں جابیٹھے تھے۔پروفیسر جمیل یوسف نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔ایک اور بات ضروری ہے کہ ہندؤوں نے ہندی زبان رائج کرنے کا نہیں کہا بلکہ صورت حال یہ تھی کہ اس وقت عدالتوں میں ،دفتروں میں اردو زبان پڑھی لکھی جارہی تھی۔اس پر ہندوؤں نے کہا کہ گورمکھی کو رائج کیا جائے جو مسلمان پڑھ نہیں سکتے تھے اس پر سرسید احمد خان نے کہا تھا کہ آج یقین ہوگیا ہے کہ یہ دو قومیں اکھٹی نہیں رہ سکتیں اور جو غالب آجا ئے گا وہ زندہ رہے گا اور ان دو قوموں میں اختلافات کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جائے گی ۔حالانکہ اس سے پہلے سرسید احمد خان ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد کی بات کیا کرتے تھے۔۔
پروفیسر جمیل یوسف کے خطاب کے بعد یہ تقریب اختتام کو پہنچی کپس کے طلباء طالبات نے اس مذاکرہ کو توجہ سے سنا اور اپنے دو عظیم لیڈروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ یہ معلومات ان کی آئندہ آنے والی زندگی میں روشنی کا ذریعہ بھی رہے گی اور ملک میں آنے والی بیوروکریسی سے بہتر توقعات بھی کی جاسکیں گی۔۔۔۔ہم نے تمام مہمانوں ،طلباء طالبات اور پروفیسر عرفان جمیل کا شکریہ ادا کرکے اجازت لی۔۔۔آپ کی رائے کا انتظار رہے گا

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *