M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|شاعری.2016

محمد حمید شاہد|شاعری.2016

page5-1
http://e.jang.com.pk/12-28-2016/karachi/page5.asp

احمد فراز نے کہا تھا:
عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے ،یوں ہے
تو یوں ہے کہ شاعری بھی ایک عشق ہے اور ایک فسوں ہے ۔ فراز نے اسی غزل کا مقطع یوں کہہ رکھا ہے:
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلہ ء کن فیکوں ہے یوں ہے
تو ایسا ہے کہ کن فیکون کایہ سلسلہ اس سال بھی اپنا فسوں دکھاتا رہا ۔ اس سال شاعری کی وہ کتابیں جو میری دسترس میں رہیں، جنہیں میں دیکھ پایا ، جن کا یہاں وہاں چرچا رہا یا مجھے گرفتار کرتی رہیں اس مختصر تحریر میں ان کا ذکر کیے دیتا ہوں ۔ اس سال کی پہلی کتاب جس کا مجھے بہ طور خاص ذکر کرنا ہے وہ ہے بزرگ نظم گو شاعرآفتاب اقبال شمیم کا گیارہ سو صفحات پر محیط کلیات ’’نادریافتہ ‘‘۔ یہ کلیات پورب اکادمی ، اسلام آبا دشائع ہواہے ۔ آفتاب اقبال شمیم کا شمار جدید نظم گو شعرا میں ہوتا ہے، جو فکری طور پر ترقی پسندی کے چلن کو عزیز رکھتے ہیں ۔وہ نظم نگاروں کی اس پیڑھی سے متعلق ہیں جو، ن م راشد، میراجی ،مجید امجد ،ضیا جالندھری کے فورا بعد ادبی منظر نامے پر نمایاں ہوئی ۔ نادریافتہ میں ’’فردا نژاد‘‘،’’زید سے مکالمہ‘‘ ،’’گم سمندر‘‘،’’میں نظم لکھتا ہوں‘‘ اور ممنوعہ مسافتیں‘‘ کے علاوہ ’’سایہ نورد‘‘ کی غزلیں بھی شامل ہیں ۔ یہ غزلیں بھی لائق مطالعہ ہیں ۔ ایک غزل کا مطلع ملاحظہ ہو :
اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں
اور دولت دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم کایہ کلیات نظم نگار سعید احمد نے مرتب کرتے وقت ’’نادریافتہ‘‘ کے آغاز میں ایک بھر پور ابتدائیہ لکھا، جس میں دعویٰ کیا گیاہے کہ ’’ وقت اس عظیم شاعر کا نام آزاد نظم کے صف اول کے دوتین ناموں کے ساتھ درج کر چکا ہے ۔‘‘
کلیات چھپوانے کا چلن ہو چلا ہے، اور یہ اس لحاظ سے خوب ہے کہ لکھنے والی کی کتب ایک جلد میں میسر ہو جاتی ہیں ۔تاہم امجد اسلام امجد کی شاعری کے دو کلیات چھپے ہیں ؛نظم کا الگ ،غزل کا الگ۔ غزل کا کلیات ’’ہم اُس کے ہیں‘‘ اور نظم کا ’’میرے بھی ہیں کچھ خواب‘‘سنگ میل ،لاہور سے منظر عام پر آیا ہے۔ شوکت واسطی کے کلیات چھپوانے کا اہتمام ان کے شاعر بیٹے عاصم واسطی نے کیا ہے یہ بھی ایک سے زاید جلدوں میں ہے ۔ پہلی جلد میں ملٹن کی’’ فردوس گم گشتہ‘‘، کرسٹوفر مارلوے کی ’’ المیہ حکیم فسطاس‘‘، دوسری جلد میں دانتے کی ’’کربیہ طربیہ‘‘،’’برزخیہ‘‘،’’فردوسیہ‘‘اور ہومر کی’’آشوبہ کو شامل کیا گیا ہے۔ تیسری جلدمیں شاعر کا اپنا طبع زاد کلام ہے اور اس میں جو کتب جمع کر دی گئی ہیں ان کے نام ہیں ’’جل ترنگ‘‘،’’شیشہ ساعت‘‘،’’ذوق خامہ‘‘،’’کوئے مغاں‘‘اور’’یاد آتی ہے راہی کو‘‘ اور چوتھے حصے میں بھی شاعر کا اپنا شعری سرمایہ ہے’’خلد خیال‘‘،’’قلم کا قرض‘‘اور’’ زخم زخمہ‘‘ ۔ تاہم شوکت واسطی نے نثر میں بھی بہت کچھ لکھا جس کا الگ سے کلیات چھپنا باقی ہے۔ یہ کلیات صباحت واسطی اور عباس تابش نے مرتب کیا ہے اور اسے لاہور سے الحمد نے چھاپا ہے۔ پروفیسر سجاد شیخ نے اپنی زندگی میں متعدد شاعروں کا اردو کلام انگریزی میں ڈھال دیا تھا ۔ شاعری سے ان کو عشق تھا اور زندگی بھر وہ اس کام میں جتے رہے۔ اسی سلسلے کی ایک کتاب جو اس برس مجھے پڑھنے کو میسر رہی وہ’’ مجید امجد:ایک سو ایک نظمیں مع انگریزی تراجم ‘‘ ہے ۔ اسے الحمد نے لاہورسے چھاپا ہے۔
علی محمد فرشی نئی نظم کے نمایاں ترین شاعروں سے میں شمار ہوتے ہیں ۔ حال ہی میں ان کی نثموں کا مجموعہ ’’محبت سے خالی دنوں میں‘‘ منظر عام پر آیا تو ادبی حلقوں میں اس کا خوب خوب استقبال ہوا۔ اس سے قبل علی محمد فرشی کی طویل نظم ’’ علینہ‘‘ اور نظموں کے مجموعے ’’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے ‘‘، ’’ زندگی خود کشی کا مقدمہ نہیں ‘‘ اور ’’غاشیہ‘‘ اُن کے خالص تخلیقی اسلوب کی شناخت ایک امیجسٹ شاعر کے طور پر مستحکم کرا چکے ہیں ۔ علی محمد فرشی ان شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو میں ماہیے کو رواج دینے کی تاسیسی اور بھر پور کوششیں کیں ، ان کی ماہیوں پر مشتمل اپنی کتاب ’’دکھ لال پرندہ ہے‘‘ بھی ادبی حلقوں میں توجہ سے پڑھی گئی ۔ زیر نظر کتاب جنہیں علی محمد فرشی نے نظمیں کہہ کر اپنے قارئین کو پیش کیا ہے پینسٹھ نثموں اور ایک سو سولہ منثوم دانش پاروں پر مشتمل ہے ۔ میں نے اس کتاب کے آغاز میں شامل اپنے اظہارے میں کہا تھا کہ اگرچہ علی محمد فرشی نے کتاب کا مسودہ نظمیں کہہ کر میرے حوالے کیا تھا مگر انہیں جدید نظم کی اس روایت کے ساتھ رکھ کر نہیں دیکھ پا رہا ہوں جسے علی محمد فرشی کے ہرے بھرے تخلیقی وفور نے ایک ارتفاعی صورت عطا کی ۔ آپ اس کتاب کو پڑھ کر محسوس کریں گے کہ اس میں کچھ نیا اور تازہ ہوا ہے تازہ اور الگ سا ، ایسا کہ جو نئی نظم کا قرینہ نہیں رہا ہے ۔ ’’محبت سے خالی دنوں میں‘‘ کو ادبی کتابوں کے پرجوش ناشر’’ مثال‘‘ نے فیصل آباد سے چھاپا ہے۔
’’منظر میرے دریچو ں سے‘‘ سے خوب صورت شاعر کاخاور احمد کی ایسی کتاب ہے جس کا مطالعہ میرے لیے بہت پرلطف رہا ۔ خاور شعر کہتے ہوئے جس طرح کی جمالیاتی تصویریں بناتے ہیں اور انہوں نے جس طرح رنگوں کو، آوازوں کو ، اور خاموشی کو اپنے شعری تجربے میں برتا ہے اس نے اس شاعر کو حد درجہ لائق مطالعہ بنا دیا ہے ۔ یہ کتاب پہروں آپ کو مصروف رکھنے اور آپ کے لہو کا حصہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ خاور کا ایک خوب صورت شعر:’’ساجن کی یادیں بھی خاور کن لمحوں آ جاتی ہیں۔گوری آٹا گوندھ رہی تھی نمک ملانا بھول گئی‘‘۔
’’ یہ ماہ و سال یہ عمریں ‘‘ نئی نظر کے ایک اور خوب صورت شاعر فرخ یار کی نظموں کا مجموعہ ہے۔ فرخ یار کی نظموں کی اس کتاب میں اَدھ کھلے جسموں کے پردوں سے نکلتی لڑکیاں ہوں یا وہ لوگ جو خون چوستی دفتری مشقت میں پڑے ہوئے ہیں، لہراتی دُموں والے سگان خوں نوش ہوں یا وہ حقیقت جو مکان اور لامکانی کے بیچ کہیں گم ہو گئی ہے، یہ دنیا ہو جس میں اراروں کا ایندھن ہر شے کی رفتار متعین کرتا ہے یاوہ بستی جس کی ہر گلی ،ہر فصیل اور ہر ممٹی سے دہشت، خوف اور حیرت اُمنڈی پڑ رہی ہے ، سب بہت سلیقے اور رچاؤ سے فن پاروں میں ڈھلا ہے ۔ اور فرخ یار کا اس باب میں قرینہ یہ رہا ہے کہ پہلے وہ زمانوں سے اُبلتے اور زمینوں پر یورش کرتے حوادث کو کسی تیز دھار کٹاری کی طرح چیرتے کاٹتے اپنے وجود کے اندر اُترنے دیتا ہے، پھر کہیں جاکر وہ اس کی نظم میں ظہور کرتے ہیں ۔یہ فرخ یار کی نظموں کا تیسرا مجموعہ ہے جو بک کارنر جہلم سے شائع ہوئی ہے۔
نئی نظم کی ایک اوراہم کتاب’’جیا کو میتی کے سپنے‘‘ ۔ یہ جینت پرمار کی نظموں کا مجموعہ ہے جسے’’ سخن کدہ‘‘ نے احمد آباد بھارت سے شائع کیا ہے۔ جینت پرمار کی اس سے قبل بھی متعدد مجموعے ’’مانند‘‘،’’انترال‘‘،’’پنسل اور دوسری نظمیں‘‘اور’’ نظم یعنی‘‘ چھپ چکے ہیں ۔ اس برس چھپنے والے مجموعے میں جینت پرمار کی لگ بھگ ستر نظمیں شامل ہیں ۔ کتاب کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں شامل پینٹنگز اور کتاب کا سرورق خود جینت پرمار نے بنایا ہے اور کمال بنایا ہے۔ جینت پرمار نے کتاب کے آغاز میں اپنا تعارف یوں کرایا ہے: ذات اپنی مفاعلن فعلن، اور اک نام ہے جینت مرا۔
’’نووارد‘‘ الیاس بابر کی نظموں پر مشتمل کتاب ہے۔ تھوڑے عرصے میں ایک خالص تخلیقی آدمی کے طور پر شناخت مستحکم کی ہے یہی سبب ہے کہ ان کے اس مجموعے میں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں تاریخی اور سیاسی شعورتخلیق متن کے اندر رچ بس کر نظموں کا حصہ ہوا ہے۔ انہوں نے ایک سے زیادہ اسالیب کو اپنے اس مجموعے میں بہت کا میابی سے برتا ہے ۔ خواجہ سرا ، نیوورلڈ آرڈر ، کیٹ واک ، داستان اور شط العرب ، داستان گوجیسی نظمیں پڑھنے والوں کو بہت دیر یادرہیں گی ۔ کتاب سانجھ نے لاہور سے شائع کی ہے ۔اطلاع ملی ہے کہ ظفر اقبال کے کلیات ’’اب تک‘‘ کی نئی یعنی پانچویں جلد اس بار کراچی سے شاعر احمد شاعر نے اہتمام سے چھاپی ہے ۔ میں ابھی یہ دیکھ نہیں پایا ہوں تاہم بتایا گیا ہے کہ اس جلد میں الیاس بابر کا ظفر اقبال کی شاعری پر مضمون بھی شامل کیا گیا ہے۔
’’عورت ہوں ناں!‘‘ عارفہ شہزاد کی نظموں کا مجموعہ ہے جس نے شائع ہوتے ہی، پہلے اپنے نام کی وجہ سے چونکایا کہ ایک عورت اپنے عورت ہونے پر اصرار کر رہی تھی، اور پھر اس کے شعری مواد نے ۔ ان نظموں میں محض فیمنسٹ عورت کے محبوب موضوعات ہی نہیں ہیں ، انسانی جذبوں کی کئی سطحوں کو گرفت میں لیا گیا ہے ۔ عارفہ شہزاد تخلیقی طور پر توانا شاعرہ ہیں۔ انہیں نظم کہنے کا قرینہ آتا ہے وہ مصرع میں ایک خاص سطح کا تناؤ رکھتی ہیں اور یہی تناؤ ان کے برتے ہوئے موضوعات میں ایک تیکھا رخ نمایاں کرتا چلا جاتا ہے۔’’ عجب سیڑھی ہے‘‘، ’’وہاں میں نہیں تھی‘‘،’’ انہونی‘‘ ،’’ ٹیوب روز‘‘ ،’’سرراہ‘‘، ’’اذن گویائی‘‘، ’’کہانی کی اڑان‘‘ ،’’ ڈیموکریسی کال ‘‘ اور ان جیسی دوسری نظموں میں انسانی وجود کی حسیات اور عصری شعور کے دھارے کو ایک ساتھ موج در موج لہریں لیتا ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ عارفہ شہزاد کی نظموں کا یہ خوب صورت مجموعہ دستاویز نے لاہور سے شائع کیا ہے۔
نجیبہ عارف بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ اردو کی سربراہ ،محقق ، مترجم اور فکشن نگار کے طور پر معروف رہیں اور اب ’’معانی سے زیادہ‘‘ کتاب نے انہیں بطور شاعرہ متعارف کرایا ہے اور خوب کرایا ہے ۔ نجیبہ عارف کی اس کتاب میں نظمیں اور غزلیں دونوں شامل ہیں تاہم نظموں کا حصہ بہت توجہ کھینچنے والا ہے ۔’’ سیمیا‘‘، ’’ہونی ‘‘،’’ ازل ابد کے درمیاں‘‘، ’’زندگی خالی جگہ ہے‘‘ ،’’ ہستی ‘‘،’’ کار ہوس تمام ‘‘، ’’ہم ابن الفاظ ابو الفاظ‘‘ یا’’ میں کس زندگی کی معاصر ہوئی‘‘ جیسی نظموں میں شاعرہ اپنے وجودی اور مابعدالطبیعاتی سوالات سے الجھتی ہیں اور عصری حسیت سے بھی معاملہ کرتی ہیں تاہم یوں ہے کہ وہ ہر بار انہیں اپنے تخلیقی وجود کا مسئلہ بناکر نظم میں ڈھالنے میں کامیاب رہی ہیں ۔ ان نظموں میں معنی سے زیادہ بہت کچھ ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ نظموں کا متن ہی مستعمل ہونے والے لفظوں یا ان لفظوں سے چپکے ہوئی لغت سے نہیں معنیاتی نمو سے متشکل ہوا ہے۔یہ کتاب شہرزاد نے کراچی سے شائع کی ہے ۔
’’مطلع نو‘‘ محمد اکرم عزم کی غزلوں اور نظموں کا انتخاب ہے جسے عبید بازغ امر نے مرتب کرکے بزم نوائے اہل قلم راولپنڈی سے شائع کیا ہے ۔ محمد اکرم عزم کئی سال پہلے وفات پاگئے تھے تاہم وہ ساٹھ ، ستراور اسی کی دہائیوں میں اپنے کلام کی وجہ سے ادبی حلقوں میں جانے پہچانے جاتے رہے ۔ان کے کلام کا مطالعہ ایک استاد کے کلام کا مطالعہ ہے جو غزل کی روایت کا پاس رکھتے ہوئے اپنی بات کہنے کا ہنر جانتا ہے ۔ ان کی شاعری میں رومانوی لہر بھی ہے اور ترقی پسندوں کو محبوب ہونے والے خیالات بھی ۔ کہہ لیجئے وہ عقل اور عشق دونوں کو امام کرکے شعر کہتے رہے ہیں ۔
انور سن رائے نے اس بار عرب دنیا کے نمایاں ترین شاعر علی احمد سعید ادونیس کی نظموں کے خوب صورت تراجم کی صورت میں سامنے آئے ہیں ۔ یہ کتاب سانجھ نے لاہور سے ’’نیویارک کے لیے ایک قبر اور دوسری نظمیں ‘‘ کے نام سے شائع کی ہے۔ انور سن رائے افسانہ، ناول اورنثمیں لکھتے ہیں ،مصور ہیں اور باقاعدگی سے عالمی ادب کے تراجم کرتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے محمود درویش کی شاعری کو بھی اردو روپ دے رکھا ہے ۔ ادو نیس کی نظموں کے تراجم پر مشتمل کتاب کئی حوالوں سے اہم ہے ایک تو یہ کہ یہ اس شاعر کا اردو میں بھرپور تعارف کا سبب ہوئی ہے ۔ ممکن ہے ادونیس کو کسی اور نے بھی اردو میں ترجمہ کیا ہو مگر میں جب پہلی بار لگ بھگ پچاس پچپن نظموں(کئی نظمیں طویل ہیں اور مختلف حصوں پر مشتمل ہیں ، جو الگ سے مکمل نظموں کی صورت پڑھی جا سکتی ہیں) کو ایک ساتھ پڑھ رہا تھا تومطالعہ کے لطف کے پانیوں سے بھیگ بھی رہا تھا ۔’’ نیو یارک کے لیے ایک قبر‘‘،’’ محبوب کی تقلیب‘‘،’’ ناموں کی شروعات‘‘ ،’’ وقت‘‘،’’ غزالی کے شہروں کی دلکشی‘‘، ’’یہ ہے میرا نام‘‘ اور’’ صحرا ‘‘جیسی نظمیں تو پڑھتے ہوئے قاری کے اندر اتر جاتی ہیں اور لہو میں گردش کرنے لگتے ہیں ۔ انور سن رائے کے تراجم اس قدر رواں اور تخلیقی ہیں کہ یوں لگتا ہے یہ نظمیں اردو میں ہی تخلیق ہوئی ہیں ۔
’’غزل بتائے گی‘‘ نوجوان شاعر علی یاسر کی غزلیات کا تازہ مجموعہ ہے جسے نستعلیق نے لاہور سے شائع کیاگیا ہے ۔ علی یاسر ان نوجوان غزل گو شعرا میں شامل ہیں جنہوں نے بہت کم عرصے میں اپنی غزل کی الگ سے شناخت بنائی ہے تاہم اس شناخت بنانے کے سارے حوالے تخلیقی ہیں ۔ زیر نظر مجموعے میں ان کی ایک سو چھبیس تخلیقات شامل ہیں ۔ علی یاسر اپنی تہذیب اور روایت سے جڑنے میں الجھن محسوس نہیں کرتے بلکہ ان کی غزلوں کا مطالعہ تو یہ بتاتا ہے کہ وہ انہی وسائل سے توانائی حاصل کرتے ہیں ۔ گزرتا ہوا وقت اور گزر چکا وقت دونوں ان کے مصرع مصرع سے چھلک رہے ہوتے ہیں ۔ ’’ماضی ہوا کہ حال مری عمر سے گیا ۔ کل ایک اور سال مری عمر سے گیا‘‘ ۔ اگرچہ یہ غزل کا مجموعہ ہے اورایسے شاعر کا مجموعہ ہے جس کااس پر کامل ایمان ہے ’’ ہے کون شاعر خوش فکر، کون ہے فن کار۔ غزل بتائے گی جو اس میں نام کرکے گیا‘‘تاہم اس کے آغاز میں شاعر نے اپنا عقیدے کی وضاحت یوں کی ہے۔’’وہ جو ذکر خدا نہیں کرتا ۔ اس کا دل بھی بسا نہیں کرتا‘‘۔
خورشیدربانی نئی نسل کے ایسے پختہ کار شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جو کسی ستائش کی تمنا کے بغیر مسلسل کام کرتے رہتے ہیں۔ اس برس ان کی غزلیات کا مجموعہ شائع ہوا ہے ۔ کتاب کا نام ہی شاعر کے عمدہ تخلیق کار ہونے کی گواہی ہو گیا ہے:’’پھول کھلا ہے کھڑکی میں‘‘ خورشید ربانی کی توفیقات کا میں اس لیے قائل ہوا ہوں کہ وہ مصرع کہتے ہوئے غزل کی لطافتوں کو کہیں بھی ٹھیس نہیں لگنے دیتے ۔ کہی گئی بات کو یوں سماعت پر رکھ دینا جیسے آسمان سے برف، دھنکی ہوئی روئی کی طرح، چپکے سے اُترتی ہے، یہ ایسی عطا ہے جو کم کم لکھنے والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے اس قرینے کو پانے کے لیے انہوں نے زبان کے مزاج کو پہلے سمجھا ہے اور پھر برتا ہے ۔ ’’اُتر کے شاخ سے اک ایک زرد پتے نے۔نئی رتوں کے لیے راستہ بنایا تھا‘‘۔’’پھول کھلا ہے کھڑکی میں‘‘ کو ’’مثال ‘‘ نے فیصل آباد سے شائع کیا ہے۔
’’تابانی ‘‘ہمارے افسانہ نگار، نقاداور مکالمہ کے مدیر مبین مرزا کی شاعری کااولیں مجموعہ ہے جس غزلیں اور نظمیں دونوں شامل ہیں۔ یہ مجموعہ اکادمی بازیافت کراچی سے گزشتہ سال کے آخری دنوں میں چھپا مگر امجد طفیل کا کہنا ہے کہ ’’تابانی‘‘ کواس سال کی اہم کتابوں میں شمار کیا جانا چاہیے، کہ یہ اس سال پڑھنے والوں کو فراہم کیا گیا۔ مبین مرزا نے کتاب کے آغاز میں کہا ہے کہ شاعری انسانی اظہار کے قرینوں میں سب سے دیر پا ،لطیف اور موثر قرینہ ہے ۔ اس کی گہرائی اور ہمہ گیری کی کوئی حد نہیں ۔ فرد کے ذاتی احساس سے لے کر حیات و کائنات کے نظریے اور فلسفے تک سب کچھ اس کے محیط میں سمٹ آتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اس بیان کی روشنی میں آنکیں تو لگتا ہے شاعری بھی ان کا مسئلہ بنی ہے اور محض شاعر کہلوانے کے لیے وہ اس کوچے کی جانب نہیں نکل کھڑے ہوئے تاہم ایسا ہے کہ وہ زبان کی تہذیب ہو یا شعر کی روایت دونوں کا بالعموم احترام کرتے ہیں اور جدید ہونے کی جھونک میں کوئی اکھاڑ پچھاڑ نہیں کرتے ۔ آج سے بیس اکیس سال پہلے عرش صدیقی نے لکھا تھاکہ مبین مرزا کی شاعری کا وقار ایک ایسے طویل ریاض کا ثمر ہے جسے انہوں نے لوگوں سے چھپاکر رکھا ۔تو یوں ہے کہ مبین مرزا کی شاعری ’’تابانی‘‘ کی صورت اب پڑھنے والوں کو میسر ہورہی ہے جب کہ وہ اس کوچے میں ایک مدت سے ہیں ۔ ’’تابانی‘‘ میں ایک ایسے شاعر کی شاعری ہے جوبربادی دل کی شکایت نہیں کرتا بلکہ اس سے ایک شدیددردکشید کرتا ہے ۔ اور پھر اس درد کو اپنا وجودی کرب بنالیتا ہے ۔ اسی کرب کا شاخسانہ ہے کہ شعر کی کرامت اس سے سرزد ہوتی رہتی ہے ۔
عرفان صدیقی کا کلیات ’’شہر ملال‘‘ جسے سید محمد اشرف نے مرتب کیا عرشیہ پبلی کیشنز نے نئی دلی سے چھاپ دیا ہے ۔ عرفان صدیقی کا ایک کلیات ’’دریا‘‘ کے نام سے کوئی سولہ برس پہلے ڈاکٹر توصیف تبسم نے مرتب کرکے اسلام آباد سے چھاپ دیا تھا تاہم سید اشرف نے تازہ کلیات میں وہ کلام بھی شامل کردیا ہے جو ’’دریا‘‘ میں شامل ہونے سے رہ گیا تھا ۔ سید محمد اشرف نے ’’شہر ملال‘‘ میں عرفان صدیقی کا مجموعہ کلام ’’ہوائے دشت ماریہ ‘‘بھی شامل کردیا ہے جو’’دریا ‘‘کا حصہ نہ بن سکا تھا۔اس کے علاوہ اس کلیات میں ’’کینوس‘‘،’’شب درمیاں‘‘،’’سات سماوات‘‘،’’ عشق نامہ‘‘ اور’’قصہ مختصر کرتا ہوں‘‘ کی غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔ عرفان صدیقی کی محبوب صنف سخن غزل رہی اور اس میں انہوں نے اپنا اسلوب سب سے جدا رکھا ۔شمس الرحمن فاروقی نے بجا طور پر کہا ہے کہ عرفان صدیقی کے اشعار کی تہہ داری ، لفظیات کا داستانی لیکن داخلی رنگ ،ان کا تجربہ عشق اور تجزیہ حیات کا دبدبہ اور طنطنہ ،یہ ایسی باتیں ہیں جو پڑھنے والے کوپہلے ایک تحیر کے مقابل کرتی ہیں اور پھر گہرے تفکر کی طرف مائل کر دیتی ہیں ۔مجھے یاد ہے پاکستان کے دولخت ہونے کے کوئی تین چار برس بعد لاہور کے ایک حلقے میں کسی نے عرفان صدیقی کی ایک غزل بحث کے لیے رکھی تھی ، طویل بحر کی اس غزل نے بھی پہلے تحیر میں مبتلا کیا پھر دکھ کا ایک خنجر دل میں اترا اور آخر میں کئی سوالات ہمارے سامنے آکھڑے ہوئے تھے ۔’’ تم ہمیں ایک دن دشت میں چھوڑ کر چل دیے تھے، تمہیں کیا خبر ،یا اخی۔ کتنے موسم لگے ہیں ہمارے بدن پر نکلنے میں یہ بال و پر، یا اخی ‘‘ اسی غزل کا ایک شعر ہے’’جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے تو پھر میرے دل کی کمیں گاہ میں کون ہے۔ اک شقی کاٹتا ہے طنابیں مرے خیمہ خواب کی رات بھر ، یا اخی‘‘ ۔عرفان صدیقی ۴۰۰۲ء میں پینسٹھ سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے ۔
’’کتاب نامہ ‘‘بہ قول احسان اکبر’’استاد،دانش ور اور شاعر ‘‘ارشد محمود ناشاد کی مثنوی ہے جس میں کتاب کہانی کو منظوم کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی نے کتاب نامہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’اس مختصر سی نظم میں چمڑے اور ہڈیوں پر لکھے جانے کے زمانے سے لے کر خطاطی کے رنگا رنگ کمالات تک اور کتاب کے دور عروج سے لے کر آج کے وحشت خیز شب و روز تک کا ذکر آگیا ہے۔ جب کتاب سے رشتہ توڑ لینے کے نتیجے میں ،ذہن تنگ اور دل تاریک ہو گئے ہیں ۔ ‘‘ کتاب نامہ کی طویل نظم کو کئی رنگوں میں خوب صورتی سے چھاپا گیا ہے اور آخر میں شاعر نے فرہنگ بھی فراہم کردی ہے جس سے کتاب جاذب نظرہوئی اور اس کی افادیت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔کتاب نامہ کو سرمد اکیڈمی اٹک نے شائع کیا ہے۔
یہ سال اس لحاظ سے بھی اہم رہا کہ اس میں کشور ناہید کی شاعری کا نیا مجموعہ ’’ آباد خرابہ‘‘ آیا ۔ یہ مجموعہ سنگ میل نے لاہور سے شائع کیا ہے ۔ ’’آبادخرابہ ‘‘ کتاب کا نام ہے اور اس کتاب کی بیشتر نظمیں ایک خرابے کی آبادی کی علامت ہو گئی ہیں ۔ کہیں کہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظمیں نہیں ایک چیخ ہیں ، دردبھری چیخ ۔ کشور کی نظموں میں ہرروز پاکستان کی گلیوں میں بے نام مارے جانے والے لوگ ہیں اور ان مرنے والوں کو اذیت دینے کے لیے ناطاقتی کی ہر حد پھلانگنے والے حکومتی کارندے بھی جو مجرم پکڑنے کی بہ جائے میتوں کی قیمت لگا کر ان کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ پشاور میں بارود سے بھون ڈالے گئے پھول جیسے بچے ، گولیوں کی بوچھاڑ میں لمبی لمبی قبروں میں دفن کیے جانے والے شامی، خوف کے مارے اپنی چھاتیوں کو خشک ہوتا دیکھتی مائیں ،اپنی زمینوں کو الوداع کہنے، یا پھر غائب کر دیے جانے والے شہری،شہر زرغوں کا ماتمی موسم اور خوں آشام صبحیں، چلتن کی آزردہ ہوائیں ،یہ سب کچھ ان نظموں میں ہے اور اسی سے کشور ناہید کی شاعری کاآہنگ بنتا ہے اور خود مہم جو کشور ناہید کی شخصیت بھی اسی سے وضع ہو تی اور الگ پہچان بناتی ہے۔
’’جگجیت سنگھ:غزلیں نظمیں ،گیت‘‘ جی یہ کتاب کا نام ہے ، اور اس کتاب میں اس شاعری کا انتخاب فراہم کیا گیا ہے جسے جگجیت نے گا کر عام آدمی تک پہنچایا اور ان کے دلوں پر نقش کر دیا ۔ نصیر احمد ناصر کا کہنا ہے کہ جگجیت سنگھ کی آواز، سر اور منتخب کردہ کلام میں کمال کی ہم آہنگی ہوتی ہے ۔ اور گائیکی کے لیے مطلوب اجزا کا فطری امتزاج پایا جاتا ہے۔ ‘‘ گل شیر کے مرتب کردہ اس انتخاب میں میر تقی میر ،غالب، مومن، جگر مراد آبادی، ذوق، داغ، فراق،امیر مینائی ،آتش، شو کمار بٹالوی، ند افاضلی،قتیل شفائی، ابن انشاء، عبد الحمید عدم، فانی بدایونی، احمد فراز ، سلیم کوثر، شہر یار، گلزار، بشیر بدر ، امجد اسلام امجد اور دوسرے قدیم اور جدید شاعروں کاایسا کلام یکجا کر دیا گیا ہے جس کی نسبت جگجیت سنگھ سے بنتی ہے۔ کتاب بک کارنر سے بہت محبت سے چھاپی ہے ۔
میانوالی سے تعلق رکھنے والے عمران مفتی کا نعتیہ مجموعہ’’ہو نگاہ کرم‘‘ بھی اسی سال شائع ہوا ہے ۔ یہ مجموعہ نستعلیق نے لاہور سے چھاپا ہے۔ نعت توفیق کے بغیر کہی ہی نہیں جا سکتی اور جب کوئی اسے اس کے تمام تقاضوں اور نزاکتوں کا پاس رکھتے ہوئے کہہ لیتا ہے تو یہی اس کے لیے اس گہری تسکین کا سبب ہو جاتی ہے ، جو صرف عبادت کی عطا ہے۔ عمران مفتی صرف نام کے مفتی نہیں صاحب علم آدمی اور سند یافتہ مفتی ہیں۔ عمران کی نعت پڑھتے ہوئے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ یہ ان کے عشق کا معاملہ ہے اور انہوں نے نعت کا ایک ایک شعر اپنے دل کے غار حرا میں بیٹھ کر لکھا ہے ۔’’مرے دل میں جمال مصطفی ؐ ہے ۔ مرا دل صورت غار حرا ہے۔‘‘ اس مجموعے میں عمران مفتی کی ساٹھ سے زاید تخلیقات شامل کی گئی ہیں ۔
ڈاکٹر رابعہ سرفراز جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔’’ شبنم سے مکالمہ‘‘(نثمیں) ،’’ محبت زمانہ ساز نہیں ‘‘(نثمیں)، سدا وہ میرے ساتھ‘‘(انگریزی گیتوں کے تراجم)، ’’سید نا اُحیدؐ‘‘(سیرت النبیؐ)،’’مشرق کی سمت ایک سفر‘‘(ہرمن ہیسے کے ناول کا ترجمہ)،’’سخن زاد‘‘’’عکس در عکس‘‘(غزلیں)،’’کوئی رُت کوئی رستہ ہو‘‘(نظمیں) وغیرہ ان کی متعدد کتابیں ہیں جس سے ان کی تخلیقی ،تحقیقی اور تنقیدی توفیقات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے اقبالیات پر لکھا ، تنقیدی جائزے لکھے، اور’’ نسخہ ہائے وفا کی عروضی تخریج‘‘ کی اور بہت کچھ کیا ، تاہم موخر الذکر کتاب ایسی ہے کہ جسے فیض سے محبت کرنے والوں کو ضرور دیکھنا چاہیے۔انہی ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی دلچسپیوں کا علاقہ بچوں کا ادب ہے ۔ اس سال ڈاکٹر صاحبہ کی بچوں کے لیے نظموں پر مشتمل کتاب’’ فرشتوں کے گیت‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس باتصویر کتاب کو شمع بکس نے فیصل آباد سے شائع کیا ہے ۔ اس میں ان کی لگ بھگ پچاس نظمیں شامل ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا کتاب کے پیش لفظ میں کہنا ہے کہ’’نئی نسل کو اپنی تہذیب سے جوڑے رکھنے ، اردو زبان سکھانے اور زبان پر فخر کرنے کے لیے جس بنیاد کی ضرورت ہے اسے مضبوط کرنا اہل فکرو دانش کا اولین فریضہ ہے۔ ہمیں نئی نسل کی اپنی اقدار سے دوری کا نوحہ پڑھنے یا اردو زبان اور ماحول سے اس کی اجنبیت اور مغائرت کا راگ الاپنے کی بجائے اس کی اس زاویے سے تربیت کرنا ہوگی کہ وہ اپنی زبان اور ماحول کے تمام مثبت عناصر پر فخر کر سکے۔’’فرشتوں کے گیت‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘‘
’’جنگلوں میں شام آئی ‘‘ یونس مجاز کا شعری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں یونس مجاز کی سو سے زاید شعری تخلیقات شامل ہیں ۔اختر رضا سلیمی کے مطابق ’’یونس مجاز کا شمار اسی کی دہائی میں ابھرنے والے شعرا میں ہوتا ہے ۔ اس نسل کے زیادہ تر شعرا کے ہاں تلخی نمایاں ہے۔‘‘ اس تلخی کو اختررضا سلیمی نے یونس مجاز کے ہاں بھی نشان زد کیا ہے۔ ’’ظلمتوں سے تو کچھ نہیں بگڑا۔ روشنی کے عذاب لے ڈوبے۔‘‘ یونس مجاز کے مجموعہ ’’جنگلوں میں شام آئی ‘‘ ’’انحراف‘‘ نے اسلام آباد سے شائع کیا ہے۔
نوجوان شاعر کاشف رحمن کاشف کے اس برس شائع ہونے والے مجموعے کا نام ہے’’سمٹی سمٹی دھوپ‘‘ اس مجموعے میں پچاس سے زاید تخلیقات شامل ہیں ۔ کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے اس باصلاحیت نوجوان نے غزل کہی ،نظم لکھی ، ہائیکو اور قطعہ بھی لکھاتاہم غزل کہنے کی طرف خود کو زیادہ مائل پایا تاہم اس کی نظمیں اور متعدد ہائیکو بھی ایسے ہیں جو توجہ کھینچتے ہیں۔ ’’سمٹی سمٹی دھوپ‘‘ امکانات کی طرف قدم بڑھانے کی شاعری ہے، امید اور مسلسل جدوجہد پر ایقان کی شاعری ہے۔ ’’شاید اک خواب کی انگلی بھی ہوں تھامے ہوئے میں۔اور کوئی دھیان بھی سامان میں رکھا ہوا ہے۔‘‘ یہ کتاب ق پبلی کیشنز نے ڈیرہ اسماعیل خان سے شائع کی ہے۔
نعمان فاروق کی کتاب ’’غزل زندہ رہے گی‘‘ سال کے شروع میں ہی آگئی تھی مگر یہ کتاب ایسی رہی کہ اس کا سال بھر چرچا رہا ۔ یہ کتاب ۰۹۹۱ کے بعد اردو غزل کے منظرنامے میں نمایاں رنگ بھرنے والوں کے کلام کا انتخاب ہے ۔ نعمان فاروق نے اس انتخاب میں شامل غزل گو شعرا اور ان کا نمونہ کلام :ادریس بابر(یہاں چراغ سے آگے چراغ جلتا نہیں۔فقط گھرانے کے پیچھے گھرانہ آتا ہے)، شاہد ذکی(کوزے بنانے والے کو عجلت عجیب تھی۔ پورے نہیں بنائے تھے سارے بنائے تھے)، ضیاء المصطفےٰ ترک (کواڑ کھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا۔بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہوئی تھیں )، اختر رضا سلیمی(وقت کا یہ دائرہ ممکن ہے یوں بنتا نہ ہو۔ ہم جسے ماضی سمجھتے ہیں وہی فردا نہ ہو)، عامر سہیل(محنت سب سے سستی ہے۔ کھیت نہیں دہقان خرید)، ذوالفقار عادل(دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس۔ اور اس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم)، شناور اسحاق(اب تو وہ نسل بھی معدوم ہوئی جاتی ہے۔ جو بتاتی تھی فسادات سے پہلے کیا تھا)،احمد شہریار(سر منظر نہ ستارہ،نہ صحیفہ ،نہ چراغ۔ آہ کس موڑ پہ ہم دیکھنے والے ہوئے ہیں)، عابد سیال (کف خزاں پہ کھلا میں اس اعتبار کے ساتھ۔کہ ہر نمو کا تعلق نہیں بہار کے ساتھ)، احمد رضوان(خدا ہی دے مرے قدموں کو اب ثبات احمد۔میں اپنے آپ کو انکار تک تو لے آیا ) ، شہزاد نیر(کبھی حال ہجر کہا نہیں، وہ ملا تو لفظ ملا نہیں۔ کہیں گفتگو ہی میں کھو گیا، جو معاملہ تھا وصال کا)، انعام ندیم(پکارتے تھے مجھے آسماں مگر میں نے۔قیام کرنے کو یہ خاکداں پسند کیا)، حسن عباسی (اک پل میں جاگ جائے گا سویا ہوا محل۔ پھر سے قدیم گیت سنانے کی دیر ہے)، سرفراز زاہد(محبت عام سا اک واقعہ تھا۔ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے)،کاشف حسین غائر(کہاں جائے گی تنہائی ہماری۔ زمیں آباد ہوتی جا رہی ہے) ، محمد سلیم ساگر(میں نے سوچا تھا کہ یہ موج گزر جائے گی۔ میں سمجھتا تھا کہ ہر موج گزر جاتی ہے)، محسن چنگیزی(کوئی گلہ نہیں دریا تری روانی سے۔ کہ میری پیاس کا رشتہ نہیں ہے پانی سے)،فیصل ہاشمی(میری آواز سن رہا تھاوہ۔اس کے اندر اتر رہا تھا میں)، سعید شارق(جانے کس پھول کو توڑا تھا کہ مجھ میں ہر سو۔ جھاڑیاں اگنے لگیں ردعمل کی صورت) اورتہذیب حافی(اس کی زباں میں اتنا اثر ہے کہ نصف شب۔ وہ روشنی کی بات کرے اور دیا جلے)۔رحمن حفیظ کے بھرپور مقدمے کے ساتھ یہ کتاب انحراف نے اسلام آباد سے چھاپی ہے ۔اور ہاں یہ بتانا بھول ہی گیا کہ اس کتاب کے مرتب خود بھی خوب صورت شاعر ہیں ، ان کی غزل سے ایک شعر’’اک نیاذائقہ جنم لے گا۔ پیاس دیکھو ملا کے پانی میں‘‘
’’مئے خاور‘‘ خاور چودھری کی شاعری کا مجوعہ ہے جو تیسرا رُخ پبلیشرز نے اٹک سے چھاپا ہے۔ خاور چودھری شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اس سے پہلے ان کی شاعری کی کتاب ’’ٹھنڈا سورج‘‘ کوئی دس سال پہلے چھپی تھی۔ خاور کا تنقید اور تحقیق میں بھی قابل توجہ کا م ہے ’’اردو ماہیے کا ارتقائی سفر ‘‘ تحقیق کی کتاب ہے جو اس سال شائع ہوئی۔ ان کی شاعری کے تازہ مجموعے’’مئے خاور‘‘ میں حمد ،نعت، دوہا،گیت،غزل ،نظم سب شامل ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بہت کچھ سب اصناف میں کہنا چاہتے ہیں تاہم اس کتاب کا بیشتر حصہ غزلوں پر مشتمل ہے اور یہی ان کا نمایاں حوالہ بنتا ہے۔خاور کا ایک شعر’’کوئی واقف رموز عشق سے ہو۔ کون آخر یہ بھید کھولے گا‘‘۔
یوں آپ نے دیکھا کہ جہاں ایک مستحکم شعری روایت نے سال بھر اپنے رنگوں کی پھوار برسائی وہیں جدید اور جدید ترلکھنے والے اپنی الگ راہ تراشتے اور رواں وقت کے اجلے صفحے پر اپنے اپنے سنہری قلم سے دستخط کرتے نظر آئی گویا وہی فراز ہی کی زبان میں تخلیقی کن فیکون اورشاعری کے فسوں کا سلسلہ اس برس بھی جاری رہا ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

One comment

  1. سرجی! آپ نے میری کتاب پر جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان سے اس فقیر کی حوصلہ افزائی ہوئی.مولا خوش رکھے.شکریہ کے لیے لفظ نہیں مل رہے.دعائیں ہی دعائیں.
    میں فقیر ہوں دعا ہے
    مرے پاس اور کیا ہے
    خورشیدربانی

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *