M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|نئی ادبی شاہراہ ریشم

محمد حمید شاہد|نئی ادبی شاہراہ ریشم

New Literary Silk Road Seminar Kunming , Yunnan, China

18 ستمبر تا 22 ستمبر 2016
http://e.jang.com.pk

چین کے خوب صورت شہر کن منگ میں ادبی کانفرنس 
پہلے نیپال کے ڈاکٹرجیویندرا دیو گری کی سنائی ہوئی ایک اسطورہ؛ اس کے بعد میں چین کے ثقافتی شہر کن منگ میں ہونے والی ادبی کانفرنس کا قصہ سناؤں گاجس میں مجھے شرکت کا موقع ملا ہے ۔ ڈاکٹر دیو گری نے اس کانفرنس میں ایک موقع پر نیپال بھر میں مشہوراسطورہ سناتے ہوئے بتایا تھا کہ کوئی دوہزار سال پہلے جب کھٹمنڈو وادی محض پانی کا ذخیرہ تھی ، منجوشری چین سے وہاں پہنچا تھا۔ اس کے ہاتھ میں شعلے اُگلتی ہوئی تلوار تھی ۔ منجوشری پانی کی اس وسیع جھیل کے جنوبی حصے کی طرف گیا اور وہاں چوبھار پہاڑ پر اپنی تلوار سے وار کیا۔ یہ وار بہت کاری تھا کہ پہاڑ کا ایک ٹکڑا ہی وہاں سے اڑ گیا تھا ۔ بس پھر کیا تھا،جھیل کا سارا پانی شراٹے بھرتا بہہ نکلا اور کھٹمنڈو کی زمین انسانی رہائش کے قابل ہوگئی ۔ ڈاکٹر دیوگری کے مطابق سلک روڈ کی تاریخ اور اس کا توسیعی ادبی تصور پھرسے دنیا کے اس علاقے کو انسانی تہذیبی سطح پر رہنے کے قابل بنانے کا عمل ہے۔
اس علاقے کو پھر سے انسانی تہذیبی سطح پر رہنے کے قابل بنانے کے لیے چین کے صوبہ ینان کے خوب صورت شہر کن منگ میں 18 تا22 ستمبر 2016ء میں منعقد ہونے والی کانفرنس کاموضوع تھا ’’نئی ادبی شاہراہ ریشم: سماجی ترقی اورتہذیبی و ثقافتی روایات ‘‘۔ کانفرنس اسی ثقافتی شہر کے لئن یُن ہوٹل میں منعقد ہوئی ۔ تقسیم کیے گئے طبع شدہ پروگرام کے مطابق افتتاحی اجلاس میں چین کے صوبہ ینان کے رائٹرز ایسوسی ایشن کی نائب صدر محترمہ یوہانگ چنگ لنگ ، نیپال اکیڈمی کے سیکرٹری جیویندرا دیو گری اوراکادمی ادبیات پاکستان کے صدر نشین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو کو موضوع کے حوالے سے کلیدی گفتگو کرنا تھی مگر ڈاکٹر بگھیو بوجہ علالت چین نہ جاسکے تھے لہذا اُن کے فرائض نبھانے کے لیے میں نے ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، وائس چانسلر تربت یونیورسٹی کا نام تجویز کردیا تو منتظمین نے بہ خوشی پروگرام میں ردو بدل کر لیا ۔ تاہم اس موقع پرلاہور میں منعقد ہونے والی، اکادمی ادبیات پاکستان کی پاک چین ادبی کانفرنس کوبہت یاد کیا گیا۔ چین کے جناب لی جن چی ، جو اس کا نفرنس کے منتظمین میں سے تھے ،اکادمی ادبیات کی لاہور والی کانفرنس میں شرکت کی تھی اور وہاں سے اچھی یادیں لے کر لوٹے تھے۔ان یادوں کاچرچا وہاں رہا اور اُنہوں نے ڈاکٹر بگھیو کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
نائب صدرفیڈریشن برائے ادب و ثقافت صوبہ ینان چین محترمہ ہو انگ اینگ لنگ نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ سلک روڈ محض وہ نہیں ہے جس کے ذریعے علاقائی اقتصادی ترقی کے امکانات وسیع تر ہوتے چلے گئے ہیں بلکہ یہ تو فرد سے فرد کے رابطے اور تہذیبی رشتوں کے قیام کی شاہراہ کانام بھی ہے اور یہی رشتے مستحکم اور دیر پا ہو سکتے ہیں ۔محترمہ کے مطابق ہم ادیب ینان میں جمع ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو جان سکیں، تہذیبی اشتراکات کو نشان زد کر سکیں اور بہت گہرائی میں جاکر ادبی کام کو سمجھنے کے علاوہ ایک دوسرے سے تخلیقی سطح پر اخذ کر سکیں ۔
نیپال سے معروف نقاد اور نیپال اکادمی کے سیکرٹری ڈاکٹرجیویندرا دیو گری نے کہا، چین کے ادیبوں کی طرف سے جس ادبی سلک روڈ کا تصور سامنے لایا گیا ہے ، یہ اس لیے بھی قابل عمل ہے کہ اس کی بنیادیں پہلے سے موجود ہیں ۔ یہی وہ حقیقی شاہراہ ریشم ہے جو مختلف زبانوں میں لکھنے والے ادیبوں کو تہذیبی سطح پر قریب تر لا سکتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے اکادمی ادبیات پاکستان کے صدر نشین کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں ثقافتی تنوع میں انسانی حقوق کی موجودہ صورت حال اور سول سوسائٹی کے تحرک اور ابلاغی اداروں کے کردار کو زیر بحث لانے کے بعد عالمی سطح پر ادیبوں کے باہمی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر صابر نے اپنے الگ مقالے میں پاکستان کے ثقافتی تنوع پر مفصل بات کی ۔ ڈاکٹر صابر نے اس موقع پر بتایا کہ چین کی طرف سے گودار پورٹ کے لیے جو تعاون پاکستان کو حاصل ہے اس سے سب آگاہ ہے ، بلوچستان کے اسی اہم شہر گوادر میں ان کی تربت یونیورسٹی نے اپنا کیمپس کھول دیا ہے اور بہت جلد وہ چاہیں گے کہ چین اور پاکستان کے ادیب وہاں ایک کانفرنس منعقد کریں۔
چائنا رائٹر ز ایسوسی ایشن میں تخلیقی فنون اور رابطہ کاری کے شعبہ کے ڈائریکٹر اور ادبی نقاد جناب پِنگ شوے مِنگ نے کہا ہم چین کے لوگ بھی قسمت پر یقین رکھتے ہیں ، اور یہ ہمارے نصیب میں تھا کہ ہم پھر سے ملیں گے ، تو ہم یہیں اکٹھے ہیں ،پاکستان سے ، نیپال سے اور چین کے مختلف صوبوں کے ادیبوں کا یوں مل بیٹھنا عام واقعہ نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنے نیپال کے ایک گزشتہ سفر کے تجربات ،بہت دلچسپ پیرائے میں سنائے اور پھر چین کے ادب کے حوالے سے بہت اہم تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے چین کی ادبی ایسوسی ایشن کے بارے میں بھی مفصل بتایااور اپنی بات اس جملے پر ختم کی کہ اب تو چین میں ادب تخلیق کرنا مسرت کا حصول اوراپنے خوابوں کے ساتھ جینے کا نام ہو گیا ہے۔
نیپال کے اسکالر پروفیسر پریم کمار کھتری، جو وہاں تری بھوان یونیورسٹی کے شعبہ ثقافت میں پڑھاتے رہے ہیں ، نے سلک روڈ کی تاریخ ، سلک روڈ کے عہد جدید میں عملی صورت ، ملکوں کے درمیان رابطوں سے آگے بڑھ کر ایک ملک کے شہری کے دوسرے ملک کے شہری سے تعلق کی ضرورت اور تہذیبی ، ثقافتی اور ادبی سطح پر اس کی مختلف صورتوں پر بات کی ۔ پروفیسر کھتری نے کہا عالمی سطح پر امن اور تہذیبی بقا کے لیے ضروری ہے کہ تہذیبیں ایک دوسرے کو سمجھیں ، اسی سے تشدد کی نئی لہر کے مقابل بند باندھا جا سکتا ہے۔
چین کے ناول نگار رائٹرز ایسوسی ایشن صوبہ ینان کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ جناب فآن وِن نے کہا ہم ینان کے لکھنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے قدموں تلے کی وسیع زمین کو، اور اس وسعت میں پھیلے ہوئے اور بسے ہوئے لوگوں کیسے شناخت کریں۔ چین کے وسیع لینڈ سکیپ میں رکھ کر دیکھیں تو صوبہ ینان میں چھپن مختلف نسلی گروہ ہیں اور لگ بھگ پچیس متنوع تہذیبیں ہیں اور ان سب کو ایک تیز تبدیلی کے دھارے کا بھی سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا ،سماجی ترقی کے نام پر تہذیبی ترقی اور روایات کو کیسے قربان کر دیا جائے ۔ ابھی اس خوب صورت زمین کے تاریخی اور ثقافتی خزانوں کی پوری طرح سامنے نہیں لایا جاسکا ہے ، ادب ہی اس مشکل سے ہمیں نکال سکتا ہے اور اس خزانے کو انسانیت کی جھولی میں ڈال سکتا ہے ۔
ناول نگار، شاعر اورصوبہ چونگ کینگ کی رائٹرز ایسوسی ایشن چین کے نائب صدر جناب ہاجو شوئے نے کہا ادب دل کا گیت اور جذبوں کی اڑان کا نام ہے لہذا زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ہر فرد اس کی طرف لپکتا ضرور ہے ۔ تسلیم کہ صرف ادب ہی زندگی نہیں ہوتا اور یہ بھی درست کہ یہ زندگی کی کسی شاہراہ کا نام نہیں ہے مگر ہمارے دلوں کے اندر ، ہمارے لہو میں اس کی طلب موجود رہتی ہے ۔ انہوں نے کہا تہذیب اور روایت کو لے کر لکھا جانے والا قدیم ادب ہو یا تبدیلی ہو جانے والے زمانے کا جدید ادب یا پھر مشرق مغرب والاادب، اس کا معاملہ انسانیت سے، انسانی اقدار سے اور انسانی دل سے ہوتا ہے اور جہاں دوسری وسائل رکاوٹ بن رہے ہوں ، تو ادب ہی ایسا وسیلہ ہے جو ترسیلی فریضہ سنبھال لیتا ہے کہ آخر دل کا دل سے معاملہ ہوتا ہے۔
ناول نگار اورچین کے گوانگسی صوبے کی ادبی ایسوسی ایشن کے نائب صدر جناب ژو شین پو کا کہنا تھا کہ’’ ایک ادیب کے لیے بچپن کی یادیں سرمائے جیسی ہوتی ہیں۔ میں نے اپنا بچپن کانٹؤن اور گوانگسی کی سرحد پر واقع ایک گاؤں میں گزارا ۔گاؤں کی زندگی محدود ، سادہ اور آہستہ گام تھی ۔ تب میں نے اپنے باپ سے تین بادشاہتوں کی رومانوی کہانیاں سنیں اور وہ فلمیں دیکھیں جو کبھی کبھار گاؤں میں آکر دکھائی جاتیں اور جن میں سویت یونین، ہانگ کانگ ، تائیوان کو دکھایا جاتا تو محسوس ہوا کہ اس سب کا ہمارے گاؤں سے کوئی تعلق ہے اور نہیں بھی ۔ یہی میرا ادب سے پہلا تعارف تھا، میرا ادب گاؤں کی زندگی، محبت، سائنس ، فکشن، حقیقت اور خواب کے ساتھ جڑا ہوا تھا ۔میرا باپ دنیا چھوڑ گیا ، زمین ویسی نہ رہی جیسی تھی ۔ کسی ادیب کا کہا سناتے ہوئے انہوں نے کہا ،ادب تبدیل ہوتی دنیا میں معدوم ہوتی اور نسیان کا حصہ ہوتی چیزوں ، جذبوں اور روایات کی بازیافت کا نام ہے ۔ ادیب وہی ہے جو آگے بڑھتے ہوئے اپنے آغاز کو فراموش نہ کرے ۔
نیپال کی معروف نقاد اور تری بھوان یونیورسٹی میں انگریزی زبان و ادب کے پروفیسرجناب گویندا راج بھٹیاری ایک زمانے میں کراچی کی ایک یونیورسٹی میں بھی پڑھاتے رہے ہیں ۔ انہیں اپنی بات کہنے کا موقع دیا گیا تو شستہ اور پر مغز گفتگو سے سماں باندھ کر رکھ دیا ۔ سلک روڈ کے حوالے ان کی فراہم کردہ معلومات قیمتی تھیں اور تجاویز قابل عمل ۔ انہوں نے آخر میں کہا نیپال مقفل زمین والا ملک ہے ۔ اس پر بھی ایک متبادل دروازہ کھلنا چاہیے ۔’انڈونیپال‘ نام کا صرف ایک دروازہ اس کی معاشی اور سماجی ترقی کے حوالے سے ہمیشہ ایک اندیشے کی صورت رہا ہے۔ اکلوتے دروازے کی لگ بھگ پچھلے چھ ماہ کی بندش کے بعد متبال راہ کی تلاش کو شدت سے محسوس کیا جانے لگا ہے کہ ہم پر چین کی سمت اور چین کی ہماری سمت راہ کھلنی چاہیے ۔
چینی شاعر اورصوبہ گوئز ہؤ کی ادبی تنظیم کے نائب صدر جناب ہوانگ جیان یونگ نے ادب اور شاعری میں بدلتی ہوئی صورت حال میں تہذیبی شعائر کی تکریم کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا اور کہا کہ بہ طور خاص ایشیا کے ترقی پذیر ممالک میں یہ سوال بہت اہم ہو گیا ہے کہ ’’ہم اپنی تہذیب اور روایات سے کس طرح کا تعلق رکھیں؟ ‘‘ اور ’’ہم ا سے کیا کریں جو ہماری شعری ادبی روایت کی عطا ہے؟‘‘ نئی ادبی شاہراہ ریشم کے حوالے سے منعقدہ اس کانفرنس میں یہ سوال بہت توجہ مانگ رہا ہے۔ دیہات میں بہت تبدیلی آرہی ہے ۔ صنعتی ترقی سب کچھ بدل دینا چاہتی ہے۔ دیہات کی سادہ زندگی پر آگے کا راستہ بند ہے مگر ہمارے کلچر کا کیا ہوگا؟جبکہ کسی قوم کی ثقافتی تقدیر اس قوم کے مقدر سے جڑی ہوئی ہوتی ہے اور ایک مضبوط ملک کی اپنی ثقافت کو بہرحال پائیدار ہو نا چاہیے ۔
چین کے صوبہ سی چوان کی ادبی تنظیم کے نائب صدر اور تنقید نگار لؤ یوانگ نے جدید ادبی دنیا کے کئی حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ادب کو اپنی تہذیب اور روایات میں بہت گہرائی میں اُترا ہوا ہونا چاہیے اور ہوتا بھی ہے۔ ہمیں اپنا تجربہ دنیا کے سامنے رکھنا ہوگا زمین سے جڑا ہواتجربہ ۔چینی زبان کے شاعر اور صوبہ گینشو کی رائٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر گوئے کوائے نے نیپال میں جانے اور وہاں کے انسانی زندگی کے تجربات کو اپنی زندگی سے جوڑ کر دیکھا اور بتایا کہ اپنی آنکھوں سے ایک معاشرت کو دیکھ کر جس طرح سمجھا جا سکتا ہے اسے معلومات اکھٹا کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ دوسروں کو سمجھنے کے لیے مشاہدہ کرنا، چھو کر دیکھنا اور مکالمہ کرنا بہت اہم ہے۔ اسی سے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔page5گوئے کوائے نے اس موقع پر ایک نظم سنائی، جس کا عنوان ’’جھکنا اور سر کو بلند کرنا‘‘ تھا :

’’میں سجھاتا ہوں

ایک باز کو کہ وہ بلندیوں کی سمت اُڑتا چلا جائے

اور ایک باز مجھے سجھاتا ہے

کہ میں نیچے رہوں،زمین پر

ایک بازمجھے سکھاتا ہے

کہ آسمان کویوں دیکھا جا سکتا ہے

اور میں نے باز کو سکھایا

کہ زمین بھی اس طرح دیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔‘‘

گوئے کوائے نے کہا اس مختصر نظم میں باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کے سیکھنے کا درس ہے اور ادب ہمیں یہی سکھاتا ہے۔اس موقع پر صوبہ ینان کی ادبی ثقافتی تنظیم کے نائب صدر اور ناول نگار ہو شنگ ننگ نے ایگریکلچرل سولائزیشن کے انڈسٹریل سولائزیشن میں ڈھلنے اور انسان اور قدرتی مظاہر کے درمیان آہنگ کو موضوع بنایا جب کہ وانگ شن بن (جو کہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ چین کے صوبہ چونگ کینگ کی رائٹرز ایسوسی ایشن کی پریزیڈیم کے ممبر بھی ہیں ) نے’’لفظوں کے آفاق پر گرج چمک ‘‘کا عنوان جما کر قدیم چینی شاعری کو نئی صورت حال میں رکھ کر گفتگو کی ۔ انہوں نے اپنی بات یوں مکمل کیا: ’’ وہ چینی شاعر ہو یا دنیا کے کسی بھی ملک کا کوئی شاعر ، وہ شاعری پر صرف نیلا آسمان نہیں دیکھتا، اپنی روح پر طلوع ہونے اور چمکنے والے سوج کو بھی دیکھتا ہے۔‘‘ چینی ناول نگار اور صوبہ ینان کے وائس پریذیڈنٹ جھانگ جنگ کؤا نے علاقائی ادب کو موضوع بنایا اور بطور خاص اپنے صوبے کے ادب پر بات کی ، جبکہ نوجوان ناول نگار اورجیؤیاگ رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جناب ژیو جیانگ ہونگ نے اپنی ناول نگاری کو اپنی سماجی صورت حال کے اندر رکھ کر مکالمہ قائم کیا ۔ نائب صدر پراونشل رائٹرز ایسوسی ایشن گوانگ ژی اور ناولسٹ جناب پان ہونگری نے بھی علاقائی ادب کو موضوع بناتے ہوئے کہا کہ ادب پہلے مقامی ہوتا ہے مگر آخر کار دوسری تہذیبوں سے مکالمہ کرنے لگتا ہے۔
اختتامی اجلاس میں مجھے موقع ملا کہ میں سماجی ترقی اور ادب و تہذیب کے موضوع پر کچھ کہوں ۔ میں نے اکنامک کاری ڈور کا ذکر کیا اور اس اکھاڑ پچھاڑ کا بھی جو سماجی ، صنعتی اور معاشی ترقی کے لیے لازم ٹھہرتی ہے پھر ادب اور اس کے وظیفے کی بات بھی ہوئی۔ مجھے خوشی ہے کہ میری بات کو نہ صرف توجہ سے سنا گیا، جناب فان ون، جب اُن اہم نقاط کو سمیٹ کر ایک لحاظ سے کانفرنس کی سفارشات کی صورت رکھ رہے تھے تومیری گزارشات کو بار بار دہرایا بھی، بطور خاص میرے اس نقطے پر تو وہ بہت وضاحت سے بولتے رہے کہ بے رحم معاشی اور صنعتی ترقی ہمیشہ تہذیب اور ثقافت کو لتاڑ کر اور فالتو شئے گردان کر آگے بڑھتی ہے یہی سبب ہے کہ جہاں ایسا ہوا وہاں تہذیب اور ثقافت کومحض آرکیالوجی کا حصہ ہونا پڑا کہ وہاں قدیم ثقافت کا زیاں کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کی ہمارے ہاں بہت اہمیت ہے ہماری زبان بھی اس سے پیوستہ ہے ۔ انہوں نے میری اس بات کو بھی دہرایاکہ ہمارے پاس زندہ ثقافت اور تہذیبی شعائر موجود ہیں ، انہیں ممی بنانے کی بجائے انہیں سمجھا جانا چاہیئے ، اور انہیں سے رشتہ قائم رکھ کر شہر کی مادی زندگی میں آگے قدم بڑھانے چاہئیں ۔
اگلے تین روز میں ہم نے رم جھم برستی بارش میں، ’’سٹون فارسٹ‘‘ یعنی شی لئن، ’’کن منگ لیک‘‘ اور کن منگ کی تین قدیم یونیورسٹیاں دیکھیں جن میں قدیم کے ساتھ جدید علوم پڑھائے جارہے تھے ۔یہ چین ہی تھا کہ جس نے انقلاب کے بعد قدیم ثقافتوں کو بہت نقصان پہنچایا تھا اور یہ بھی چین ہی ہے جو اب قدیم ثقافتی مظاہر کو نئی شناخت دے رہا ہے ۔ سٹون فارسٹ ، دیوار چین کے بعد ایک بڑا مگر قدرتی عجوبہ ہے ۔ ایک حیرت کدہ ایک وسیع علاقے میں پتھر یوں اُگے ہوئے ہیں جیسے درخت اگتے ہیں۔ اسے سنگی جنگل کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے چین نے بہت ساری سہولیات وہاں فراہم کر دی ہیں اور کن منگ جھیل بھی ایک عجوبہ ہی ہے، مگر اسے چینیوں نے خود بنایا ہے ۔ آٹھ کلو میٹر کے علاقے پر مشتمل اس بڑی جھیل کے گرد ایک نیا شہر بسایا جا رہا ہے ۔ جب ہم یہ نیا خوب صورت شہر اور اس کی تعمیرات دیکھ رہے تھے تو ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے کہا، جنہوں نے یہ شہر بسالیا ہے ان کے لیے گوادرمیں ایک نئے شہر کو آباد کرنا کون سی مشکل بات ہوگی۔ خیر میں کہہ رہا تھا کہ اپنی تہذیب کو ساتھ لے کر چلنے کی یہ عملی صورتیں تھیں جو ہم دیکھ رہے تھے اور نئی ادبی شاہراہ ریشم اورتہذیب و ثقافت کو موضوع بنانے والا یہ سہ ملکی سیمینار بھی تو اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ۔ اس سیمینار کے موقع پر جس محبت سے چین کے ادیب ہمارے ساتھ ساتھ مکالمے میں رہے ، اہم مقامات دکھاتے رہے، مہمان نوازی کی ، اس سب کا تجربہ ایسا ہے کہ جسے ہم بھول نہیں پائیں گے۔ جناب ہو وَئی اور محترمہ جن لییو نے جس طرح چینوں کی بات ہمیں ترت پہنچائی اور ہماری باتوں کا چینی میں ترجمہ کیا اس کی داد بھی دی جانی چاہیے ۔ اورہاں لطف کی بات یہ ہے کہ چین کے ادیب بھی اس تجربے کو بھولنا نہیں چاہتے ۔ لہذا اس موقع پر جو گفتگو ہوئی ، جو مقالات پڑھے گئے انہیں انگریزی اور چینی زبان میں ایک کتاب کی صورت انہوں نے اپنی ملک بھر کی تنظیموں کے لیے فراہم کر دیا ہے۔ مختلف صوبوں سے آئے ادیب اور اپنی اپنی تنظیموں کے ذمہ داران یہ کتابیں اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں ۔ واقعی ڈاکٹر دیوگری نے خوب کہا تھا، نئی ادبی شاہراہ ریشم ہمارے اس علاقے کو انسانی تہذیبی سطح پر رہنے کے قابل بنانے کا عمل ہی تو ہے۔

1474132999896
17 ستمبر شام کی ، اسلام آباد ائیر پورٹ سے تھائی ائیر لائنز سے روانہ ہونے سے قبل لاونج میں : محمد حمید شاہد، ڈاکٹر عبد الرزاق صابر
1474133000061
اسلام آبادائیر پورٹ کے لانج میں ڈاکٹر عبد الرزاق صابر محمد حمید شاہد کا افسانہ “کوئٹہ میں کچلاک” پڑھ رہے ہیں
1474135782786
سفر تھائی ائیر ویز کے ذریعے ہوا : ڈاکٹر صابر اور حمید شاہد
1474170065916
اگلے روز اتوار کی صبح ساڑھے چھ بجے بنکاک کے ہوائی اڈے پر اتر نے سے پہلے کا منظر
1474170068147
بنکاک سے لگ بھگ 2 گھنٹے بعد پھر سے تھائی ائیر لائنز کے ذریعے کن منگ کے لیے سوار ہوئے تھے ، مگر جہاز تھائی لینڈ کے سیاحتی شہر چھن مئے اتر گیا ۔
1474170068434
کن منگ کا خوب صورت فضائی منظر

……………………………………………………….

SHI PING HUI GUAN HOTEL

WELCOME RECEPTION 18.09.2016.At 18.00

………………………………………………………

1474200353850
کن منگ چین میں شام ساڑھے پانچ بجے پہنچے اور چھ بجے ہمارے لیے شہر کے ایک قدیم ہوٹل میں شام کے کھانے کا شاندار اہتمام تھا
1474200354021
چین کے ادیبوں نے کھانے میں قدیمی روایات کو نبھایا
1474200430844-copy
کھانے کی میز پر خوب مکالمہ ہوا
1474200430844
چین نیپال اور پاکستان کے ادیب چین کے قدیم ہوٹل میں
1474200430926
چین نیپال اور پاکستان کے ادیب چین کے قدیم ہوٹل میں
1474200431170
چین کے ادیبوں کے ہمراہ قدیم ہوٹل میں (Gao Kai, M Hameed Shahid, Jin Liuyue)
1474200433033
محمد حمید شاہد (زبان یار من چینی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
1474200436942
میوزک سے مہمانوں کی تواضع(Zheng Music)

…………………………..

September 19, 2016 : Seminar

……………………..

1474258356549
Dr Abdul Razzaq Sabir, Li Jinqi, Jivendra Deo Giri, Gao Kai

20160919_060842

Hu Wei, Jin Liuyue, Li Jinqi

20160919_072046

china-group china1

china0

cunming-lake kunming-university stone-jungle-china

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *