M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|مجید امجد:تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ

محمد حمید شاہد|مجید امجد:تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ

page5
پچھلے ہفتے مجھے کوئی اٹھانویں سال کی عمر کو پہنچے ہوئے کشمیری لال ذاکر کی مرتب کردہ کتاب ’’فیض کی دنیا‘‘ ملی تھی ، مگر میں اُسے کل کھول کر دیکھ پایا ، اس انتخاب کے سارے مضامین وہ تھے ،جو فیض کی سترویں سالگرہ پر صابردت نے ’’فن اور شخصیت ‘‘کے خاص نمبر میں چھاپے تھے، جنہیں جھاڑ پونچھ کر اس کتاب میں پھر سے چھاپ لیا گیا تھا ۔ میں نے اپنے تئیں سوچا، شمس الرحمن فاروقی نے یہ انتخاب کیوں بھیجا تھا ۔ وجہ ،جو مجھے سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ اس میں ایک عد د مقدمہ فاروقی صاحب کا شامل تھا۔ کتاب میں بس یہی نیا تھا ۔ ڈاکٹر نوازش علی کی بہت اہم کتاب’’مجید امجد: تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘ پر کچھ عرض کرنے سے پہلے اسی مقدمے سے مقتبس کرنا چاہتا ہوں ۔ شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں :
’’ اُردو کے ادبی اور غیر ادبی معاشرے میں ایک فیشن کے طور پر فیض کو’’ عظیم ترین شاعر ‘‘ سمجھنے اور بتانے کا جو سلسلہ جاری رہا ہے ، اس کی ہمنوائی میں نے کبھی نہیں کی ۔ میں فیض کو میرا جی، ن م راشد، مجید امجد اور اخترالایمان کے ساتھ رکھتا ہوں ، ہر چند کہ میری نظر میں ان کا درجہ ان میں چاروں کے بعد ہے‘‘
میں نہیں جانتا کہ فاروقی نے آخر فیض کو اتنا معزول کیوں کیا کہ وہ درجے میں اخترالایمان سے بھی مات کھا گئے تاہم میں اتنا جانتا ہوں کہ مجید امجد کا طرز احساس اتنا منفرد اور تخلیقی تجربہ اتنا مختلف تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے معاصرین میں قامت کو اور بھی نمایاں کرنے لگے تھے ۔ جی ،میں ان معاصرین کی بات کر رہا ہوں جو اقبال کے بعد کے نمایاں ترین شعراء ہیں اور جنہیں اپنی زندگیوں میں ہی شہرت اور قبولیت کی سند مل چکی تھی۔ ڈاکٹر نوازش علی کی یہ بات پھینک دینے کے لائق نہیں ہے کہ مجید امجد کے معاصر ین کے اپنے اپنے شعری آفاق رہے اور یہ بھی تسلیم کہ سب کے اپنے اپنے امتیازات ہیں، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ جب، ہم عصروں کے ساتھ رکھ کر شاعروں کی فکری اور فنی توفیقات کی طرف دیکھا جاتا ہے تو قلم خود بہ خودباہمی موازنے کے لیے بنیادیں فراہم کرنے لگتا ہے ، بالکل ایسے ہی جیسے ڈاکٹر نوازش علی نے کتاب کے آخری باب میں کیا ۔ اس باب میں ہمارے محقق ناقد نے اپنے زمانے میں ’’بے نشانی کی نشانی‘‘ ہو جانے والے مجید امجد کو فیض، میرا جی، راشد، ناصر کاظمی، مختارصدیقی، احمد ندیم قاسمی، عزیز حامد مدنی، اخترالایمان ،ضیا جالندھری اور منیر نیازی جیسے شاعروں کے ساتھ رکھ کر نہ صرف دیکھا اور آنکا ہے ، شہرت کی بنیاد پر قائم تنقیدی بصیرتوں پر چرکے بھی لگائے ہیں۔
معاف کیجئے کہ میں مجید امجد کی زندگی اور فن پر ڈاکٹر نوازش علی کی کتاب کے آخری باب کا ذکر پہلے لے بیٹھا اور اس ترتیب سے گفتگو کو آغاز نہیں دے پایا ہوں، جسے ہمارے محقق ناقد نے ملحوظ خاطر رکھا ہے ۔ جس ترتیب میں کتاب کو لکھا گیا ہے اس میں مجید امجد کی زندگی کے کوائف بہت اہم ہو جاتے ہیں ۔’’سوانح اور شخصیت ‘‘ کی ذیل میں مرتب کئے گئے کوائف اس لحاظ سے مصدقہ کہے جا سکتے ہیں کہ اس باب میں پہلے سے موجود مواد کوجوں کا توں نقل نہیں کر دیا گیا ، اسے مختلف زاویوں سے جانچا اور پرکھا گیا ہے، دیگر تحریری حوالوں اور واقعاتی شہادتوں سے اسے تصدیق یا تردید کے مرحلوں سے گزارا گیا اور اب تک معرض تحریر میں نہ آنے والے گوشوں کے باب میں ریاضت کو شعار کرکے پورے شخص کو سامنے لانے کے جتن کیے گئے ہیں ۔ اپنے ان جتنوں میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی رہے ہیں ۔ تاہم مجھے کہنے دیجئے کہ ساڑھے پانچ سو صفحات کی کتاب میں لگ بھگ تین سو صفحات میں جس مجید امجد کو اجالا گیا ہے ، اس سے ہزار درجوں میں بلند قامت اس مجید امجد کی ہے جو اپنی نظم کے اندر سے قامت نکالتا ہے ۔ کتاب کے اس حصے کی تحقیقی افادیت اور اہمیت اپنی جگہ ، اور یہ بھی بجا کہ اس باب میں بہت سی الجھنوں کو سلجھایا گیا ہے ، مگر کتاب کے باقی ماندہ حصے سے ایسا مجید امجد برآمد ہوتا ہے کہ اس کی مشقت بھری پہاڑ سی زندگی اس کی تخلیقی زندگی کے روشن لباس کے کالر پر ایسے تنکے کی سی ہو جاتی ہے جس کی اتنی بھی اہمیت نہیں رہتی جتنی اہمیت شعر غالب کے مقابلے میں اسے پنشن نہ ملنے والے واقعے اور اس پر کی گئی تحقیق کو رہی ہو گی۔
یوں بھی نہیں ہے کہ میں تحقیق کے اس اہم کام کو بالکل اہمیت نہیں دے رہا ، کتاب اپنے نام سے ہی تحقیقی اور تنقیدی مطالعے کا اعلان کر رہی ہے، تو اس کا اہتمام بھی لازم تھا اور ہمارے محقق نے مجید امجد کی اُلجھی ہوئی شخصی زندگی کو جس طرح سنجیدہ مباحث قائم کرکے سلجھایا ، اس باب میں پہلے سے موجود کام کو پرکھا ، سہل انگار محقیقین کو آڑے ہاتھوں لے کر انہیں درست راہ دکھائی اور برسوں کی ریاضت سے جس طرح گم شدہ کڑیوں کو ڈھونڈھ کر مجید امجد کی شخصی زندگی مرتب کر دی ،یہ کام بہت اہم اور بنیادی حوالہ ہو جانے کی سکت رکھتا ہے۔کتاب کے اسی افتتاحی حصے میں ہمارے محقق نے مجید امجد کا دودھیالی اور ننھیالی شجرہ جات بھی مرتب کر دیے ہیں ۔ یہ کام بھی پہلی بار ہوا ہے اور اس کی داد دی جانی چاہیے ۔ میں نے ان شجروں کو بڑی توجہ سے دیکھا اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ شجرہ جات اگرچہ مصدقہ مواد سے مرتب کیے گئے ہیں لیکن دیکھنے والے کو بہت الجھاتے ہیں ۔ میں بھی اول اول الجھا ہوں اور مجھے میں اپنی الجھنوں سے نکلنے کے لیے بعد میں آنے والی تفصیلات کو پڑھنا پڑھا ہے ۔ ایسے میں میرے دل میں رہ رہ کر یہ خیال آتا رہا کہ ہمارے محقق نے آخر شجرہ مرتب کرنے والے اُس قرینے کو کیوں نہیں برتا جو ہمارے ہاں لگ بھگ ایک صدی سے مروج چلا آہا ہے۔ جی میں اسی قرینے کی بات کر رہا ہوں جو سر جیمز میک کرون ڈوٗئی (Sir James McCrone Douie) کی کتاب The Punjab Land Adminstrative Manual میں موجود ہے ، یہ کتاب پہلی بار ۵۱۹۱ میں چھپی تھی، اور مسلسل چھپتی رہی ہے۔ شجرہ مرتب کرنے کا یہ طریقہ ہمارے ریونیو ریکارڈ کی اہم کتاب مسلحقیت یا جمعبندی کا لازمی حصہ ہونے کی وجہ سے دیہی معاشرت میں جانا پہچانا ہے ۔ اور ہاں اس باب کی ایک اور خواہش ،کیا ہی اچھا ہوتا کہ مجید امجد کی زندگی کو مربوط صورت میں ایک کہانی کی طرح لکھا جاتا اوراس باب کے الجھیڑے اور اختلافی مباحث پاورقی حواشی میں ڈال دے جاتے یا اس باب کے آخر میں حوالہ ہو جاتے ، تو بہت سے مقامات پر دہرائی جانے والی باتیں ازخود منہا ہو جاتیں ۔ خیر، یہ میری خواہش ہے۔ میں جو محقق نہیں ہوں ۔ اور مجھے تسلیم کرنا چاہیے کہ میں کہانیاں لکھنے والا ہوں اورشاید اسی وجہ سے ایسا سوچنے لگا ہوں ورنہ یہ کتاب کا سوانحی حصہ نہ تو فکشن ہے نہ محض حیات نامہ ، یہ تواس کا تحقیقی مطالعہ ہے اور اس کے لکھنے کو تحقیق کی دنیا میں اسی طور رواج دیا گیا ہے۔
’’مجید امجد کی شاعری: عمل خیر کا تسلسل ‘‘ اس کتاب کا ایسا باب ہے جس میں مجید امجد کے تخلیقی شعور کے ایسے روشن ترین علاقوں کو نشان زد کیا گیا ہے، جس نے اپنے ماحول کی دھول میں اٹے ہوئے شخص کو کہیں پیچھے چھوڑکر اتنا بلند ہو کر دیا ہے کہ ہمیں پہلے سے موجود بلندیاں ہیچ لگنے لگتی ہیں۔ اسی باب میں خود مصنف کا تنقیدی شعور بھی خوب خوب جولانیاں دکھاتا ہے ۔ سچ پوچھیں تو کہیں کہیں میں ان کے بیان میں بہتا چلا گیا ہوں ۔ صاف ستھری تنقیدی زبان اور شاعر کے بنیادی تخلیقی قضیوں کو اخلاص سے کھوجنے کے اس عمل نے نہ صرف اس کتاب کو اہم بنایا ہے خود اس ناقد کے تنقیدی فہم کی دھاک بھی میرے دل پر بٹھادی ہے ۔ڈاکٹر نوازش علی کا یہ کہنا بجا ہے کہ : ’’اگرچہ غم و آلام اور مسائل و مصائب سے بھری ہوئی دنیا میں شاعرانہ اور خلاقانہ شعور و ادراک ایک عذاب بے پایاں سے کم نہیں لیکن مجید امجد نے اس عذاب بیکرانی کو ایک جامع بصیرت سے دیکھا ہے ۔‘‘
کتاب کے اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مجید امجد اپنی شاعری کے ابتدائی چند برسوں کے بعد ہی اپنے عہد کی موضوعاتی اور اسلوبیاتی وضعوں سے بتدریج الگ ہوتے چلے گئے اور یہ بھی کہ ان کی توجہ اپنے شعری امکانات کو تلاشنے ، تراشنے اور انہیں وسعت دینے کی طرف ہو گئی تھی ۔ اور یہ ایسے زمانے میں ہو رہا تھا کہ جب ترقی پسند تحریک کے ذریعے محبوب ہو جانے والا چلن ہی شاعری کا مقبول چلن تھا یا پھر بعد میں نئی شاعری کے نام سے لکھی جانے والی نظم نمایاں ہو رہی تھی ۔ اس باب میں مجید امجد کے ان تحریکوں سے فنی ، اور موضوعاتی اشتراک یا اختلاف کے علاقے نشان زد کرنے کے بعد مصنف نے اس لطیف فرق کو بھی نشان زد کر دیا گیا ہے ، جو مجید امجد کو مقبول رویوں سے الگ کرکے نمایاں کرتا ہے۔ ڈاکٹر نوازش علی کایہ تجزیہ بہت توجہ کا طالب ہے کہ مجید امجد کے ہاں کوئی بھی نظریہ نظریہ نہیں رہتا بلکہ احساسات کی صورت میں تخلیقی تجربہ بن جاتا ہے۔ بجا مگر یہ بات بھی کم اہم نہیں ہے کہ تبدیلی کی خواہش شاعر کے ہاں شدت سے ظاہر ہوتی ہے جو بہ جائے خود ایک نظریہ ہو جاتی ہے ۔مصنف نے کئی نظموں کے حوالے دے کر مجید امجد کے ہاں تبدیلی کی اس خواہش کو بحث کا حصہ بنایا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ داخلی اور خارجی یا پھرانفرادی اور اجتماعی ہر ہر سطح پر معاشرے کو منقلب دیکھنا چاہتے ہیں ۔یہیں نوازش علی مصر ہیں کہ یہ خواہش ’’ہجوم عاشقاں‘‘ کی ہمرہی میں’’ سوئے مقتل ‘‘جانے والی خواہش سے مختلف اور کلیت میں ہمہ جہت ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ کتاب پڑھتے ہوئے کئی مقامات پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاعری کو عمل خیر سمجھنے والے مجید امجد کی اس سے بہتر تفہیم یا کچھ اور تفہیم ممکن نہیں تھی ۔
مجید امجد کے تصور ہیئت ، آزاد نظم اور غزل پر قائم کئے گئے مباحث بھی بیشتر مقامات پر تیکنیکی ہونے کے باوجود بہت پر لطف ہیں۔پڑھتے پڑھتے کئی بار خیال آیا ، اپنے ناقد سے ضرورپوچھوں گا، بھئی آپ کو تیکنیکی بھید بھنوروں کا اتنا گہرا درک ہے تو شاعری کیوں نہ کی؟ ۔ خیر ، یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ میں نے آغاز میں فاروقی صاحب کو مقتبس کیا تھا جنہوں نے مجید امجد کو اپنے ہم عصروں میں نمایاں مقام دیا ہے۔کیا وہ ایسا شروع سے سوچتے تھے؛ شاید نہیں ۔ سلیم احمد جیسے شاعروں کے ہاں تو مجید امجد چلا ہی نہیں تھا، مگرواقعہ یہ ہے کہ جب چل نکلا تو وہ کئیوں سے قامت نکالنے لگا ۔ میں سمجھتا ہوں ، ڈاکٹر نوازش علی کی یہ کتاب ایک اہم ادبی واقعہ ہے، یہ نہ صرف آنے والے وقتوں میں بطور حوالہ استعمال کی جائے گی ، اس میں قائم تنقیدی مباحث سے مجید امجد کے کام کی تفہیم نو کا چلن اور بھی عام ہوگا، اور کیا خبر ایسے میں مجید امجد مزید نکھر کر اپنی قامت مزید بلند کرلے ۔

 

http://e.jang.com.pk/08-24-2016/karachi/pic.asp?picname=05_01.jpg

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *