M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمدغالب نشتر|انٹرویو|کہانی کا سچ عام زندگی کے سچ سے کہیں بڑاہوتا ہے۔محمد حمید شاہد

محمدغالب نشتر|انٹرویو|کہانی کا سچ عام زندگی کے سچ سے کہیں بڑاہوتا ہے۔محمد حمید شاہد

(بہ شکریہ سہ ماہی صدف مارچ 2016)

9185_1146219148724730_754906413001894333_n
سہ ماہی صدف: مارچ 2016

محمد حمید شاہد کا شمار پاک وہند کے نمائندہ فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔پنڈی گھیب کے محلہ ملکاں میں واقع مسجد شیعیان سے متصل حویلی میں ۲۳ ؍مارچ ۱۹۵۷ء کو وہاں کے معروف سماجی اور سیاسی کارکن غلام محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔پنڈی گھیب ضلع اٹک(پنجاب) کا تحصیلی مرکز ہے۔محمد حمید شاہد کے دادا حافظ غلام نبی اپنے آبائی گاؤں چکی سے گھر بار چھوڑ کر ۱۹۴۷ء میں پنڈی گھیب منتقل ہوگئے تھے۔محمد حمید شاہد محلہ مُولا کے ایک سکول کے اول درجے میں داخل کرائے گئے۔ انہوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول محلہ مولا سے ۱۹۶۹ ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا اور بعد ازاں گورنمنٹ مڈل سکول ،پنڈی گھیب میں داخل ہو گئے۔ محمد حمید شاہد نے ۱۹۷۲ء میں گورنمنٹ مڈل سکول پنڈی گھیب سے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا اور اسی سال گورنمنٹ ہائی سکول پنڈی گھیب میں نویں جماعت میں داخلہ لیا اور سائنس کے مضامین کا انتخاب کیا۔ انہوں نے ۱۹۷۴ء میں سرگودھا بورڈ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد میں ایف۔ایس۔سی میں داخل ہو گئے۔۱۹۸۳ء میں انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے بی۔ایس ۔سی (آنرز) ایگری کلچر، ہارٹیکلچر کی ڈگری حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کا رخ کیا اور ایف۔ ای۔ ایل میں داخلہ لیا لیکن کلاسز شروع ہونے سے پہلے ان کے والد کی طبیعت سخت خراب ہو گئی اور وہ اپنا تعلیمی سلسلہ ختم کر کے گھر واپس آگئے۔ ۱۹۸۳ء میں ان کے والد انتقال کر گئے۔ اس سانحے کے بعد ان کے لیے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا ناممکن ہو گیا لہٰذا انہوں نے ملازمت کی تلاش شروع کر دی۔ ان کی یہ تلاش اسی سال ہی ختم ہو گئی اور انہیں ۱۵؍ ستمبر ۱۹۸۳ء کو زرعی ترقیاتی بنک کے ریجنل آفس ،راولپنڈی میں ایکسٹرا اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی ملازمت مل گئی۔اسی بنک میں آج کل وہ وائس پریذیڈنٹ ہیں اور اپنے شعبہ ریکوری پالیسی کے ہیڈ کے طور پر ہیڈ آفس اسلام آباد میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
محمد حمید شاہد نے ادبی زندگی کی ابتداکالج کے دنوں سے کردی تھی ۔چند ادبی دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے ادبی مباحثے کا آغاز کیا۔اسی زمانے میں وہ یونیورسٹی کے ادبی مجلہ ’’کشتِ نو‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ اسی زمانے میں اپنی تصنیفی زندگی کا آغاز ’’پیکر جمیل‘‘ سے کیا ۔ سیرت النبیﷺ کے مو ضوع پر لکھی گئی یہ کتاب ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی۔اس کے علاوہ ابتدائی ایام میں نثمیں لکھیں، جو بعد میں ’’لمحوں کا لمس‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں ۱۹۹۵ء میں شائع ہوئیں۔اسی سال بشیر حسین ناظم نے ان نثموں کا انگریزی ترجمہ کیا جو’’The Touch of Moments‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ۱۹۹۵ء میں ہی شگفتہ نثر کی کتاب ’’ الف سے اٹکھیلیاں‘‘ شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ انشائیے بھی لکھے ، جو اُن دنوں چٹان، لاہور میں مسلسل چھپتے رہے اور آخر کار افسانہ نگاری کی طرف متوجہ ہو گئے۔ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’بندآنکھوں سے پرے‘‘ ۱۹۹۴ء میں شائع ہوا۔محمد حمید شاہد کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ۱۹۹۸ء میں ’’ جنم جہنم‘‘ کے نام سے سامنے آیا۔ ۱۹۹۸ء میں ہی اے حمید کے اشتراک سے ان کی کتاب ’’ اشفاق احمد: شخصیت اور فن ‘‘ شائع ہوئی۔ ۱۹۹۹ء میں اصغر عابد نے ’’ پارو‘‘ کے نام سے ان کے منتخب افسانوں کا سرائیکی ترجمہ شائع کیا۔۲۰۰۰ء میں منتخب بین الاقوامی شاعری کے تراجم کے حوالے سے ان کی ایک کتاب ’’سمندر اور سمندر‘‘ شائع ہوئی،جسے ارشد چہال نے مرتب کیا۔ ڈاکٹررؤف امیر نے محمد حمید شاہد کے تنقیدی مضامین کا ایک انتخاب ’’ ادبی تنازعات‘‘ کے نام سے کیا جو ۲۰۰۰ ء میں شائع ہوا ۔ ۲۰۰۴ء میں ان کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ’’ مرگ زار‘‘ سامنے آیا۔ ۲۰۰۶ء میں فکشن کی تنقید ’’ اردو افسانہ: صورت و معنی‘‘ شائع ہوئی جسے یٰسین آفاقی نے مرتب کیا۔ ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ کے نام سے ان کا واحد ناول ۲۰۰۷ء میں منصہ شہود پر آیا۔ ڈاکٹر توصیف تبسم نے ’’ محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے‘‘ کے نام ایک انتخاب کیا جو ۲۰۰۸ء میں شائع ہوا۔ ۲۰۱۱ء میں فکشن کی تنقید کے سلسلے میں کتاب ’’کہانی اور یوسا سے معاملہ‘‘ شائع ہوئی۔ ۲۰۱۳ء میں ان کے افسانوں کا چوتھا مجموعہ ’’آدمی‘‘ سامنے آیا۔ ’’ سعادت حسن منٹو: جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ‘‘ کے عنوان سے تنقید پر مبنی کتاب بھی۲۰۱۳ء میں شائع ہوئی جب کہ ’’راشد، میراجی، فیض: نایاب ہیں ہم ‘‘ ۲۰۱۴ میں شائع ہوئی۔اپریل ۲۰۱۵ء میں بک کارنر،جہلم نے محمد حمید شاہد کے افسانوں کا انتخاب ’’دہشت میں محبت‘‘کے عنوان سے شائع کیا جس کی خاطر خواہ پذیرائی ہوئی۔ان دنوں بھی ان کا قلم رواں ہے اور تخلیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ محمد حمید شاہد ان افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جن کے کام کو ادبی حلقوں میں ہر سطح پر توجہ سے دیکھا گیا۔ ممتاز مفتی، احمد ندیم قاسمی ، شمس الرحمن فاروقی ، منشایادسے لے کرنئی نسل کے افسانہ نگاروں اور ناقدین جن میں سید محمد اشرف، آصف فرخی، مبین مرزا، ناصر عباس نیر جیسے اہم ہم عصر شامل ہیں سب نے محمد حمید شاہد کے افسانے پر لکھا اور ان کے ہاں ہونے والے فکشن کے تجربات کو توجہ سے دیکھا۔ قارئین محترم محمد حمید شاہد سے ہماری جو گفتگو ہوئی ،آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔

***

1463116_1146219085391403_5160403152643962437_n
صدف:شمارہ 1، دور دوم ،جلد 2

محمد غالب نشتر:آپ کے آبائی وطن ’’چکی‘‘سے آپ کا گہرا رشتہ رہا ہے۔چہ جائے کہ آپ کی پیدائش وہاں نہیں ہوئی بلکہ پنڈی کھیب میں ہوئی۔آپ کے آباو اجداد نے چکی سے پنڈی گھیب میں بود و باش اختیار کی تو اُسے بھی مہاجرت سے تعبیر کر سکتے ہیں۔نقل مکانی کی مہاجرت نے آپ کو کس حد تک متأثر کیا؟افسانوں کی روشنی میں خاندانی پس منظر کی وضاحت فرمائیں۔

محمد حمید شاہد: آپ نے درست فرمایا کہ اپنے گاؤں چکی سے میری وابستگی بہت گہری ہے۔ ہم وہاں وقفے وقفے سے جا پاتے تھے مگر مجھے یوں لگتا ہے وہ گاؤں جو میرے ابا جی اور امی جی وہاں سے رخصت ہوتے ہوئے اپنے اندر بسا لائے تھے ، اسے میرے اندر بھی بسا دیا تھا ۔ جب تک ابا زندہ رہے گھر کا ماحول بھی گاؤں جیسا رہا ، حویلی میں ایک طرف کھلی جگہ پر بھینسوں کے باندھنے کی جگہ بنا لی گئی تھی ۔ اب کئی کئی بھنسیں گھر میں ہوں تو انہیں سبز چارہ بھی چاہیے ہوگا ۔ چارہ آتا تھا اور اسے کترنے کے لیے وہاں مشین لگا لی گئی ، کھرلیاں کنہالیاں غرض شہر کی حویلی ایک عرصہ تک گاؤں کا ڈیرہ بنا رہا ۔ ابھی پو نہ پھٹی ہوتی کہ بھینسوں کو دوہا جاتا ، انہیں پانی پلایا جاتا ، انہیں نہلایا جاتا ، گتاوا بنایا جاتا ، بس جانیے گاؤں والے سارے شوق یہاں پورے ہو رہے تھے۔ لسی بلونے کا منظر مجھے سب سے اچھا لگتا ، جب چھاچھ اچھل اچھل کر چاٹی کے کناروں سے لپکتی تو میں اپنا بٹھل لے کر پہنچ جاتا کہ مکھن اتارنے سے پہلے مجھے اسے پینا اچھا لگتا تھا ۔ گھر کے صحن میں بہت پرانی دھریک تھی اس کے ساتھ پینگ بندھی رہتی ، میں نے اس پر بہن اور اس کی سہیلیوں کو جھولا جھولتے دیکھا اور خود بھی جھولا۔ پھر یوں تھا کہ ابا جی سیاسی سماجی کارکن تھے ، گاؤں سے لوگ آتے رہتے ، ایک دو نہیں گروہ کے گروہ ، کسی کو تحصیل کے دفتر میں کام ہوتا تو کسی کا تھانے میں ، کوئی مریض لے ہسپتال آیا ہوتا تو کسی کو پٹواری سے ملنا ہوتا ، کوئی سودا سلف لینے آتا تو کسی کو کورٹ کچہری کا پھیرا لگانا ہوتا ۔ ابا جی ہر دم ان کے ساتھ چلنے اور ان کی مدد کرنے پر آمادہ رہتے ۔ ان کے چھوٹے چھوٹے کام کررہے ہوتے ، گاؤں والوں کو شہری دفتروں، بنک اور ڈاکخانے میں جاتے ہوئے اور دفتری بابوؤں سے بات کرتے ہوئے جھجھک سی ہوتی ، یہ جھجھک ابا نے ان کے ساتھ جا جاکر دور کر دی تھی ، مگر وہ پھر بھی اباجی کا ساتھ چاہتے تھے اور ابا ساتھ دیتے رہے، آخری سانس تک ساتھ دیتے رہے ۔ہم گاؤں جاتے تو قطعاً اجنبیت نہ ہوتی ۔ کسی کے ہاں شادی ہوتی ،کوئی فوت ہوتا، کسی کاعزیز باہر جاتا یا حج عمرہ کرکے لوٹتا، عرس میلہ ہوتا یا فصل کی کٹائی گہائی، ہم ابا کے ساتھ گاؤں میں ہوتے۔ یہی سبب ہے کہ گاؤں میرے اندر بھی بسا ہوا ہے ۔ میرے افسانوں کے بہت سارے دیہی کردار یہی میرے اپنے لوگ ہیں ۔ چاہے وہ ’’پارو‘‘ افسانے کے کردار ہوں یا ’’جیت،مگر کس کی‘‘،’’بند آنکھوں سے پرے‘‘،’’اللہ خیر کرے‘‘،’’وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی‘‘،’’سجدہ سہو‘‘،’’معزول نسل ‘‘،’’جنریشن گیپ ‘‘،’’ہارجیت‘‘، اور’’تکلے کا گھاؤ‘‘ سے لے کر’’سورگ میں سوؤر‘‘ تک کے کردار ، سب میں ایک جھلک میرے گاؤں کے اپنے لوگوں کی ہے ۔ آپ انہیں پڑھتے ہوئے محسوس کر سکتے ہیں کہ دیہات کا یہ منظر نامہ اردو افسانے کا پہلے سے حصہ بننے والے دیہات اور دیہی زندگی سے قدرے مختلف ہے ، اٹک کایہ دور افتادہ گاؤں میرے افسانوں کو بھی مختلف کرتا گیا ہے۔ہاں یہ الگ بات کہ تخلیقی عمل کے دوران، جو کردار میں نے لکھے وہ محض تجربے میں آنے والے کرداروں تک محدود نہیں رہتے ، بہ قول احمد ندیم قاسمی’’ ان افسانوں میں پہنچ کر ایک ایک کردار، ایک ایک لاکھ کرداروں کی نمائندگی کا فریضہ سر انجام دینے لگتا ہے۔ ‘‘

محمد غالب نشتر:آپ کا شمار پاک و ہند کے نمائندہ فکشن رائٹر اور فکشن ناقد کی حیثیت سے ہوتا ہے۔دونوں حوالوں سے آپ کو اعتبار حاصل ہے۔پوری گفتگو میں ہم دونوں حوالوں سے علاحدہ طور پر بات چیت کریں گے۔پہلے آپ یہ بتائیں کہ کہانی بُننے کا پہلا ذائقہ آپ نے کہاں چکھا؟

محمد حمید شاہد:میں نے اپنے افسانوں کے پہلے مجموعے’’بند آنکھوں سے پرے‘‘ کا پیش لفظ ’’کہانی سچ کہتی ہے‘‘ کی ذیل میں یہ لکھ دیاتھا کہ جب اپنے ماتھے پر پہلی بار ماں کے بوسے کے ثبت ہونے کے ردعمل میں میں نے اپنا دوران خون بڑھتا ہوا محسوس کیا تھا اور میرے بدن سے پھوٹتی مسرت کی پھوار کو دیکھ کر ماں کی گود میں ساتھ لیٹے اپنے ردعمل پر کہانی کے قہقہے کو سنا تھا ، تو یقین جانیے وہ محض فکشن کا جملہ نہیں تھا۔ خیر میرے لیے فکشن کا جملہ زندگی کے عمومی بیانیے سے کہیں زیادہ زندگی سے گہرائی میں جاکر جڑ جاتا ہے ، لہٰذا آپ اسے فکشن کا جملہ کہنے پر مصر ہوں گے تو بھی مجھے اعتراض نہیں ہوگا، ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے ایک قہقہہ سنا تھا ۔ یہاں مجھے یہودیوں کے ہاں مشہور ہو جانے والی ایک کہاوت یاد آتی ہے کہ ’’ آدمی سوچتا ہے اور خداقہقہہ لگاتا ‘‘ اس کہاوت سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ آدمی سوچتا ہے مگر سچائی اس سے گریزاں رہتی ہے، ہر بار کنی کاٹ کر گزر جاتی ہے۔ کنڈیرا نے ایک جگہ لکھا ، ’تازہ کھدی ہوئی قبر میں ٹھیک میت کے اوپر کسی کا ہیٹ گر جاتا ہے تو کفن دفن اپنی ساری معنویت کھو دیتا ہے اور قہقہہ وجود میں آ جاتا ہے۔ اب میں سوچتا ہوں تو زندگی تازہ کھدی ہوئی قبر میں میت جیسی لگتی ہے ،جی ایسی میت جس پر خدائی قہقہہ بھی ہم سننے پر مجبور ہیں ۔ اِسے ہم پہلے سے مُرّتِبَہ اپنی سوچ کے دھاروں سے نہیں کہانی کے بیانیے سے سمجھ سکتے ہیں ۔بجا طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ کہانی کی تجوری میں اس کی اپنی دانش ہوتی ہے۔ تو اس دانش کے ساتھ مجھے لگتا ہے میں تب ہی جڑ گیا تھا جب میرے حلقوم میں ماں اپنی گود میں لٹا کر دودھ کی دھاریں عطا کرتی تھی۔ حکیمانہ باتیں اور وہ بھی کہانی کے سے ڈھنگ میں اماں ابا سے،دادا دادی سے، نانی سے اور خالاؤں سے سنتے ہوئے میں بڑا ہو رہا تھا اور مجھے لگتا تھا کہ یہی اکھان، کہاوتیں، قصے، ہڈبیتیاں ، جگ بیتیاں مجھے ایک اور ہی دنیا میں لے جاتی ہیں۔میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ، کب مگر واقعہ یہ ہے کہ ایسا ہو گیا تھا اور و ہ خدائی قہقہہ چپکے سے میرے لیے زندگی کی اس تفسیر سے چپک گیا تھا جو ہماری عقل اور ہماری فکر کرتی ۔ سو یہ قہقہہ سنتے ہی کہانی کی ماں جیسی آغوش میں چلے جانے میں ہی مجھے سکون ملتارہا ہے۔ مانتا ہوں کہ حقیقی دنیا تعقل کی دنیا ہے اور بالعموم اسی سے اس کی صورت گری ہوتی ہے، علل و معلوم سے جڑی ہوئی ، مگر کہانی مجھے یوں پناہ دیا کرتی کہ یہ عقل کو محو تماشا چھوڑ کر ایک ایسی ذہنی اور حسی کیفیت میں لے جانے پر قادر تھی ،جس کا کسی اور بیانیے میں اظہار ممکن ہی نہیں ہے ۔

7500_1146219242058054_8055995627877400842_n
صدف :فہرست مندرجات :صفحہ 4

کہانی کی طرف لپکنے کی بات ہو چکی تو میں آپ کے سوال کی طرف آتا ہوں، آپ نے پوچھا ہے کہ میں نے کہانی بُننے کا پہلا ذائقہ کہاں چکھا؟‘‘ جس کہانی کو میں نے ماں کی دودھ کی دھار حلق میں اترتے ہی چکھ لیا تھا ، اس کے بننے کے چکھنے کومیں اپنے پہلے تخلیقی اظہار کے احساس کے ساتھ جوڑ کر دیکھ سکتا ہوں ۔ کئی سال پہلے، جب حلقۂ اربابِ ذوق، راولپنڈی نے میرے ساتھ ایک نشست کاا ہتمام کیا تھا جس میں مجھے ’’میرا تخلیقی عمل‘‘ کے حوالے سے گفتگو کرنی تھی ، تب میں نے اس تقریب کے لیے لکھتے ہوئے ، پہروں سوچنے کے بعد ایک ایسے لمحے کو ڈھونڈھ نکالا تھا جب تخلیق کی دیوی مجھ پر مہربان ہوئی تھی ۔ ملک کا دولخت ہونا اور ابّا کا اس رات آسمان کی طرف دیکھنا اور اوپر ایک روشن ستارے کے ٹوٹ کر گرنے کی طرف متوجہ کرنا ،پھر خوف سے میرا، گھر کے ایک کونے میں دبک کر کاغذ پر کچھ لکھنے کی کوشش کرنا، میں اب بھی غور کرتا ہوں تو اس سے پہلے اپنے اندر کے اس ہیجان کو دریافت نہیں کرپاتا ہوں جس میں ، میں نے خود کو اکیلا کر لیا ہو اورکاغذ کی وسعت میں اس ہیجان کو انڈیلنے کی سعی کی ہو جو میرے اندر یوں اٹھنے لگا تھا کہ میری پسلیاں توڑ کر باہر آ جاتا ۔ میں یہاں پہنچ کر آپ کا سوال پھر سے پڑھتا ہوں اور آپ کے سوال میں’’ کب‘‘ کو تھا ہی نہیں جس کی تفصیلات میں لے کر بیٹھ گیا ہوں، بلکہ آپ نے تو پوچھا ہے ’’کہاں؟‘‘۔ اور اس باب میں میرا جواب ہے ، تب میں پنڈی گھیب میں تھا ، اسکول کا ایک طالب عالم ، اسی حویلی میں جس کے کھلے صحن میں ہر رات تاروں بھرا آسمان لش لش کرتے تاروں کو انڈیل دیا کرتا تھا،مجھے لگتا ہے اسی رات اسی صحن میں ابا کے دماغ کی رگ پھٹنے اور میرے لکھنے کی طرف متوجہ ہونے ، بلکہ مجھے کہنا چاہیے کہانی کی طرف لپکنے کا واقعہ ہوا تھا۔ ابا کا ایک پہلو مارا گیا تھا وہ گیارہ سال اس بیماری کو جھیلتے رہے اور ایک روز، اسی حویلی کے طویل برامدے میں ہمیں اپنے اوپر جھکا چھوڑ کر مر گئے تھے ۔ اُن خدائی قہقہوں کی بابت سوچیے جن کی گونج اس سارے عرصے میں اس حویلی کے دروازوں اور دیواروں سے ٹکراتی رہی ، یوں جیسے زور سے ایک دیوار پر ٹینس کا گیند ماریں اور وہ ایک دیوار سے ٹکراتا سامنے کی دیوار سے ہوتا پھر پہلے والی دیوار کی طرف لپکے ، یا جیسے کوئی پہاڑی سلسلے کی وسعت سے گھبرا کر کسی کو پکارے اور اس کی آوازباز گشت نہ رکنے والا سلسلہ ہو جائے ، بالکل ایسے ہی۔ جس عمر میں ، میں اب ہوں ، اس عمر میں پہنچنے سے پہلے ہی اباجی کا مر جانا ایسا سانحہ ہے کہ جسے میں مرتے دم تک بھلا نہیں پاؤں گا۔ ان برسوں کے دکھوں نے مجھے اندر سے برتی ہوئی باریک ململ سا ملائم اورخستہ کر دیا ہے۔ تو بھائی اسی حویلی میں کہانی کا ذائقہ چکھا تھا موت جیسا کڑوا کسیلا ، مگر میں نے اسے بوکھلا کر تھوکا نہیں تھا اپنے بدن میں اتار لیا تھا ۔ عجب زہر تھا جس نے مجھے مارنے کی بہ جائے ، ایک اور مرتبہ وجود پر جینے اور زندگی کو کئی اور سطحوں سے جھیلنے کا رسیا بنا دیا تھا ۔

محمد غالب نشتر:کہانی لکھنا زندگی کو ازسرِ نو جھیلنا ہے۔یہ غالباً آپ کا ہی جملہ ہے۔اگر ایسا ہے تو یہ بتائیں کہ آپ کہانی لکھتے وقت کن مراحل سے گزرتے ہیں؟

محمد حمید شاہد: جی، یہ میں نے ہی لکھا تھا؛ بے دھیانی میں نہیں لکھا تھا، افسانے کے باب میں ، میں اس پر یقین بھی رکھتا ہوں ۔ اس جملے میں کہانی کا لفظ افسانے کے مترادف کے طور پر آیا ہے ، اس سے یہ گمان نہ باندھیے گا کہ میں خدانخواستہ کہانی اور افسانے میں کو فرق نہیں کرتا۔ پہلے وضاحت کردوں کہ میرے نزدیک افسانے سے باہر پڑی ہوئی کہانی زندگی کی از سر نو تخلیق اور تعبیرتو کجا، ڈھنگ سے اس کی حقیقت بھی گرفت میں نہیں لے سکتی۔ اور ہاں حقیقت نگاری کا یہ مطلب بہت خام ہے کہ جو سامنے جس طرح نظر آئے عین میں اسے لکھ لیا جائے ۔ اچھا، مختلف واقعات کا ایک سلسلے میں جڑ کر کہانی ہوجانا کبھی میرے لیے اہم نہیں رہا کہ میں تو قطرہ قطرہ فنا کی کھائی میں گرتی ہوئی زندگی کو کہانی کے جس چھنے میں سمیٹ اور سنبھال لینے کی بات کر رہا ہوں، اس میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ تجربے میں آنے والی زندگی کو نئی معنویت کی تاب اور چھنک عطا کردے ۔ خیر آپ کے سوال کی طرف آتا ہوں اور مختلف افسانوں کو یاد کرکر کے آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں تو الجھتا چلا جاتا ہوں ۔ آپ نے یہی پوچھنا چاہا ہے نا کہ میں کہانی لکھتے وقت کن مراحل سے گزرتا ہوں ؟ لگ بھگ ہر افسانے کے باب میں مجھے یوں لگتا ہے کہ تخلیقی مراحل میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔ہر بار ایک سا معاملہ نہیں رہا۔ کسی ایک تکنیک کو میں نے عزیز نہیں رکھا لہٰذا ہر نیا افسانہ لکھتے ہوئے تکنیکی جمود ٹوٹتا رہا ۔ منشایاد نے میرے افسانوں پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے ہاں روایت سے انحراف کے افسانے بھی ہیں اور وحدت تاثر کو قائم رکھتے ہوئے کہانی کے اندر کہانی بیان کرنے کا قرینہ بھی، منشایاد کی بات یوں اہم ہو جاتی ہے کہ مجھے کسی خاص ڈکشن نے اسیر نہیں کیا اور اسلوب بنانے کی مصنوعی ریاضت میں کسی خاص موضوع پر ہی افسانے نہیں لکھتا رہا ہوں ،اس وتیرے نے مجھے حوصلہ بخشا کہ میں نئے نئے موضوعات کی بابت سوچوں اور کہانی کو اپنا اسلوب خود تراشنے اور تلاشنے دوں ، مجھے یوں لگتا ہے اسی سے میرے ہاں ایک الگ اسلوب بنتا چلا گیا ۔موضوع اور کہانی نے تخلیقی بہاؤ سے خلوص کے ساتھ جڑنے کی عطا یہ ہے کہ پڑھنے والوں کی محبتیں اور توجہ مجھے حاصل ہو گئی ہے۔

محمد غالب نشتر:آپ کے افسانوں کے چار مجموعے اشاعت سے ہم کنار ہوکر مقبول خاص وعام ہو چکے ہیں۔ان مجموعوں کی خاطر خواہ پذیرائی بھی ہوئی ہے۔آپ نے تیس سالہ افسانوی زندگی میں کن کن موضوعات کا احاطہ کیا ہے؟

محمد حمید شاہد:زندگی خود اتنا بڑا موضوع ہے کہ جس پر لکھنے والے لکھتے چلے آ رہے ہیں مگر تشنگی باقی ہے اور اس تشنگی کی بقا میں ہمارے تخلیقی مزاج کی بقا ہے ، جس روز زندگی پر لکھنے کو کچھ نہ بچا ،جانیے وہی دن ہماری تخلیقی صلاحیتیوں ، بلکہ مجھے کہنا چاہیے کہ ہماری زندگی کا آخری دن ہوگا ، کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ زندگی اسی تخلیقی جوہر اور اس باب کی بے پناہ تشنگی سے جڑی ہوئی ہے ۔ مجھے آپ کے سوال کے جواب میں کہنا یہ ہے کہ میرا موضوع فقط ایک ہے انسانی زندگی ، سو اسی کو لکھتا رہا ہوں مگر جتنا لکھتا ہوں تشنگی اور بڑھتی جاتی ہے ۔ ایک اور بات کہ میں ایک خاص وقت اور خاص مقام پر ہوں لہٰذا زندگی کی اور میرا تجزبہ اور میرا تخیل بھی کسی نہ کسی حد تک ان کے اسیر ہوتے ہیں ، میں اپنے تئیں اس اسیری کی فصیل کو ادھر ادھر سے ڈھاتا رہتا ہوں یوں اس ایک موضوع ارتعاش پیدا ہوتا رہتا ہے ۔ میرے افسانوں کے موضوعات وہی ہیں جو میرے عہد کے انسان کے مسائل ہے ۔ یہ عہد ماضی سے جڑا ہوا ہے اور اسے ایک مستقبل کی وسعت میں اترنا بھی ہے ۔ سو میرے ہاں بھی افسانہ لکھتے ہوئے وقت ایک بینٹھی کی طرح دونوں کناروں سے روشن رہتا ہے اور اسی سے ایک انسانی صورت حال کے کئی رنگ میری کہانی کا موضوع ہو جاتے ہیں ۔شاید یہی سبب ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے مجھے ایک ایسا حسا س اور ہوش مند قصہ گو قرار دیا ہے جو موضوع کی پیچید گی اور قصے کی دلچسپی کو بہم کر لیتا ہے ۔ فاروقی صاحب کا یہ بھی خیال ہے کہ میں اپنے موضوعات میں سیاسی عنصر لے آیا کرتا ہوں مگر احمد ندیم قاسمی نے کہہ رکھا ہے کہ میری کہانیوں میں عہد موجود کی معاشرتی، ثقافتی اور تہذیبی زندگی کو گہرائی میں جا کر برتا گیا ہے ۔ خیر میرے افسانوں پر میرے ہم عصروں نے اور مجھ سے سینئر لکھنے والوں نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس کی مدد سے ہی موضوعات کی ایک طویل فہرست بنائی جا سکتی ہے ، مگر میں نے کہا نا ، میرے ہاں ایک ہی موضوع ہے اور وہ ہے انسان ۔ یہ انسان چاہے کائنات کے مرکز میں ہو یا اسے دھکیل کر حاشیے پر پہنچا دیا گیا ہر حال میں میری توجہ کو کھینچتا رہا ہے۔ اس انسان کے بدلتے مقام سے خود بخود موضوعاتی تنوع میری تخلیقی جھولی میں گرتا رہا جس کے لیے میں ہمیشہ شکر کا کلمہ پڑھتا رہا ہوں۔

محمد غالب نشتر:چار افسانوی مجموعوں کے علاوہ دو افسانوی انتخاب کا ذکر بھی از حد ضروری ہے جس نے قارئین کے دلوں میں اپنی دھاک بٹھائی ہے۔پہلی کتاب ’’محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے‘‘ہے جسے ڈاکٹر تو صیف تبسم نے ترتیب دیا ہے اور یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا یہ چاروں مجموعوں کے نمائندہ افسانوں کا مجموعہ ہے اور دوسری کتاب ’’دہشت میں محبت‘‘ ہے جس کا ذکر اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس انتخاب میں دہشت،خوف اور پاکستان کی سیاسی صورت حال سے متأثر ہو کر لکھے گئے وہ افسانے شامل ہیں جب سے پورا سیاسی منظر نامہ سامنے آتا ہے۔دونوں کتابوں پر مفصل طور پر روشی ڈالیں تاکہ اُن کی معنویت اور بھی واضح ہو سکے۔

محمد حمید شاہد:پہلے تو مجھے ڈاکٹر توصیف تبسم اور غالب صاحب آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ آپ دونوں کی توجہ اور محبت مجھے حاصل رہی ۔ آپ نے درست فرمایا کہ پچاس افسانوں والے انتخاب میں میرے اہم افسانے یکجاہو گئے تھے۔ حال ہی میں آپ نے دہشت کی ایک مخصوص فضا کی تظہیر کرتے افسانوں کو شناخت کیا اور انہیں ایک مجموعے میں نہ صرف مرتب کر دیا اور کا مبسوط مقدمہ بھی لکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس تازہ انتخاب کا جواز اس مقدمے میں درست درست بیان کر دیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر توصیف تبسم نے پچاس افسانوں کا انتخاب تب کیا تھا کہ جب میری عمر پچاس برس ہو چلی تھی تاہم یہ انتخاب بہت مقبول ہوا کیوں کہ میرے افسانوں میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ سب افسانے ایک ہی جلد میں میسر ہو گئے تھے ۔ پھر انہی افسانوں سے اسی کی دہائی میں شناخت پانے والی افسانہ نگار نسل پر سنجیدگی سے بحث چل نکلی۔ میرے افسانوں کے مزاج کا تقابل میرے ہم عصروں سے ہونے لگا اور سینئر افسانہ نگار وں سے بھی کہ جن سے ہمارے عہد کا افسانہ مختلف ہو گیا تھا ۔ غالب صاحب آپ نے ایک خاص موضوع کو سامنے رکھ کر افسانے ایک جلد میں مرتب کیے تو اس فضا نے تخلیقی چلن کو جس طرح بدل کر رکھ دیا تھا اسے آنکنے کا موقع بھی ملا ۔ یہ کتاب آکسفورڈ والوں کے لٹریچر فیسٹول میں لانچ ہوئی اور خوب خوب زیر بحث آئی ، اسی کتاب کے افسانے پر اسلام آبادادبی فورم میں بھرپور مکالمہ ہوااور اسی کاافسانہ ’’خونی لام ہوا قتلام بچوں کا‘‘ علامہ اقبال یونیورسٹی میں بحث کا موضوع بنا تو اس لیے کہ ہم سب اس صورت حال سے گزر رہے ہیں جس سے دہشت کو الگ نہیں کیا جا سکتا بہ قول مسعود مفتی ہم اس فضا میں رہنے اور اسی فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں ۔ اب اگر معاملہ یہ ہے تو لکھنے والاساری صورت حال سے الگ کیسے ہو سکتا تھا ، ان کہانیوں کو آپ نے یک جا کرکے اس تخلیقی بھید کو جاننے کی راہ بھی دکھا دی ہے کہ ایک تخلیق کار ایسے میں کہ جب وقت کی صراحی سے حوادث قطرہ قطرہ نہیں بلکہ بھٹرک بھڑک گر رہے ہوں تو اپنے فکشن کی جمالیات کیسے قائم کرتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ تخلیقی جمالیات کا انحصار محض اور صرف فاصلاتی بعد پر نہیں ہوتا ۔ انتظار حسین نے لکھ رکھا ہے کہ جب تک واقعہ پرانا نہیں ہوتا وہ اسے نہیں لکھتے کہ وقت اس میں کچھ بھید داخل کر دیا کرتا ہے ، مگرنیشنل بک کونسل کے فیسٹول کے دوران ایک مباحثے کے میں ان کا یہ ماننا بھی تھا کہ فکشن کو لکھنے کا محض یہی قرینہ نہیں ہے ۔ تسلیم کہ گزر چکا وقت خود بخود بھید ہوتا چلا جاتا ہے تاہم تخلیق کار کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ رواں وقت کے اندر سے تخلیقی جمالیات کو ابھارتا چلا جائے اور لکھی جانے والی کہانی کے ہنگامی عناصر سے محض ہنگامے اور مقام سے مقامیت کو خارج کرتے ہوئے اس میں ایسے وصف پیدا کرلے کہ وہ اگلے زمانوں اور چاروں کھونٹ میں جست لگانے کے قابل ہو پائے ۔

محمد غالب نشتر:’’دہشت میں محبت‘‘اس نام کا اختراع آپ نے کیسے کیا؟

محمد حمید شاہد:جب آپ نے افسانوں کے انتخاب کا مسودہ مجھے بھیجا تھا تو اس انتخاب کا نام ’’دشت دہشت‘‘ تجویز ہوا تھا مگر امر شاہد، جو اس کتاب کے پبلشر ہیں ،کہا نام میں بہت دہشت ہے اس میں کچھ محبت بھی ڈالیں ، بس ایک جملے میں میرے ذہن میں انتخاب کانیا نام آگیا ’’دہشت میں محبت ‘‘ ۔ لٹریچر فیسٹول میں جب اسی بابت مجھ سے سوال کیا گیا تو میں نے کہا تھا کہ یوں تو محبت کی اپنی بھی ایک دہشت ہوتی ہے جس میں آدمی کی سدھ بدھ جاتی رہتی ہے مگر دہشت کی فضا میں معدوم ہوتی محبتوں کو جس طرح ان افسانوں کا موضوع بنایا گیا ہے، اس سے بہتر اس مجموعے کا کوئی اور نام نہیں ہو سکتا تھا ۔ یہ نام سب نے پسند کیا اسی تقریب میں مسعود مفتی نے کہا تھا کہ کتاب کے ہر افسانے میں لگ بھگ یہ دہشت اور محبت کے دونوں حوالے کسی نہ کسی سطح پر موضوع بنے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے بڑی حد تک درست فرمایا تھا۔

محمد غالب نشتر:آپ کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ آپ نے سیاسی منظر نامے واضح کرنے کے لیے یا کسی سانحے سے متأثر ہوکر سب سے پہلے افسانے لکھے خواہ وہ نائن الیون کا سانحہ ہو یا پشاور کا دل دہلا دینے والا کریہہ منظراور اس طرح کے کئی سانحات،جن پر آپ کو تقدم حاصل ہے۔آپ کا ذہن اس جانب کیسے چلا جاتا ہے؟ایک طرح سے دیکھا جائے تو آپ کو کسی واقعہ کو کہانی بنانے کا ڈھب خوب آتا ہے۔

محمد حمید شاہد:غالب صاحب کیا افسانہ لکھنے والے جو کچھ لکھتے ہیں ، اپنے افسانوں میں، کیا وہ سب خیالی، ظنی، قیاسی یا وہمی ہوتاہے۔ میرا خیال ہے آپ بھی اسے نہیں مانیں گے ۔ واقعہ یہ ہے کہ میں اسے ایک لکھنے والے کے ہاں تخلیقیت کو بیدا ر ہوتے دیکھتا ہی نہیں ہوں جب تک کہ وہ طباع نہ ہو، ذکی اور غیر معمولی نہ ہو، جینئس نہ ہو ۔ ایسے لوگ روحِ عصر ہوتے ہیں ، تو کیا اپنے ہاں تخلیقی عمل کے بیدار ہونے والے لمحوں میں ان کی غیر معمولی پن لمبی تان کر سو سکتا ہے ۔ میں کہا کرتا ہوں کہ اختراعی اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال شخص ، جب افسانہ لکھنے بیٹھتا ہے تو اس کے اپنے زمانے کا پورا سچ اس کے تخلیق ہونے والے متن کی بنت کا حصہ ہو جاتا ہے ، اس کا اپنا زمانہ کہانی کا حصہ ہو جاتا ہے ،جبھی تو میں اکثر کہہ دیا کرتا ہوں کہ کہانی کا سچ عام زندگی کے سچ سے کہیں زیادہ سچا ہوتا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ خبر کا سچ تو اگلے روز ہی باسی ہو کر بھبک چھوڑنے لگتا ہے اور منصوبہ بندی سے لکھی ہوئی تاریخ بھی وقت گزرنے کے ساتھ اپنے جھوٹ اور اپنے تضادات اچھال کر سطح پر کر بے وقعت ہو جاتی ہے مگر فکشن کا سچ اگلے زمانوں میں خوشبو جیسے گداز قدم رکھ کر اس زمانے کا اپنا سچ بن جانے کی سکت بھی رکھتا ہے۔ فرانسیسی ادیب مارسل پروست نے معاشرے کی بقا کے لیے زبان اور قوتِ متخیلہ کو ضروری گردانا تھا، فکشن ان دو کے ادغام کے علاوہ جمال اور دانش، عصر رواں کی مہک کے اس میں سما جانے کا نام ہے۔میں ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو اپنے عصر کو ہی اپنی کہانی پر حرام کر لیا کرتے ہیں ،تاہم میں اپنے عصر کی اخباری رپورٹنگ کو فکشن ماننے سے بھی انکار کرتا ہوں ۔ اپنے عصر کے رواں دھارے کو گرفت میں لینا کم صلاحیت والوں کے بس کی بات نہیں ہے ، اسی میں لکھنے والے کی تخلیقی توفیقات کا پتا چلتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تخلیق کارکے ہاں جتنی ہری بھری قوتِ متخیّلہ ہو گی اس کا شعور بھی اتنا ہی طاقت ور اور تیز ہو گا اور اتنی ہی سرعت سے عصر میں اندر تک اُتر جانے والاہوگا۔ایسے میں وہ نیٹشے والی will to illusion سے کام لیتا ہے ، ایک التباس پیدا کرلیتا ہے ۔ یہ ایسا ہی التباس ہے جو جندر سنگھ بیدی کی ’لاجونتی‘ میں نظر آتا ہے اور احمد ندیم قاسمی کے ’پرمیشر سنگھ‘ میں بھی ، منٹو کا ’’نیا قانون‘‘،عصمت چغتائی کی ’جڑیں‘اوپندر ناتھ اشک کی ’ٹیبل لینڈ‘ گلزارکی ’خوف‘زاہدہ حنا کی ’’کم کم بہت آرام سے ہے‘‘ منشا یاد کی ’کہانی کی رات‘ اور میرے ان افسانوں میں بھی،جو آپ نے منتخب کیے ’’برف کا گھونسلا ‘‘ سے لے کر’’سورگ میں سور‘‘ تک اور ’’گانٹھ‘‘ سے لے کر ’’جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی‘‘ جیسے افسانوں تک۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تخلیقی چلن اور بھی نفیس اور گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ علامت اور تجرید کے نام پر ایک زمانے میں دھول اڑانے والوں کا وقت اب گزر چکا اگرچہ اس سے ہم نے بہت کچھ سیکھا مگر اب وہ عین میں نہیں چل سکتا ، ٹھیٹھ سماجی حقیقت نگاری بھی اب ماضی کاقصہ ہو چکی ۔ آج افسانہ لوٹ آنے والی کہانی نہیں ہے ۔یہ تو نئے بھیدوں اور بھنو روں کے ساتھ آئی ہے اپنے حصے کی حسی تاریخ رقم کرنے ۔ میں نے کہا تھا نا کہ آنے والا وقت، بہتا ہوا پانی اور تخلیق ہونے والی ہر نیا افسانہ نئے عہد سے پیوست تجربہ لے کر آتے ہیں۔ میں تخلیقی لمحات میں کہانی لکھنے کا مکر نہیں کرتا۔ رواں لمحوں سے جڑی ہو ئی تخلیقیت کو اپنا کام کرنے دیتاہوں ۔ اسی تخلیقی تجربے کی عطاہے کہ میرے افسانے میں روح عصر بولنے لگتی ہے ۔

محمد غالب نشتر:آپ نے کہانی لکھنے کے ساتھ قارئین کے ایک حلقے کو اپنی تنقید سے بھی روشناس کرایا ہے۔ایسے کہانی کار کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جنہوں نے دونوں اصناف میں یکساں طور پر توجہ کی ہو۔محمد حسن عسکری،رشید امجد،مرزا حامد بیگ،احمد جاوید،طاہرہ اقبال اور ایسے چند اور کہانی کار ہیں جنہوں نے فکشن تنقید کی جانب توجہ دی۔ایسے میں آپ کا نام نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ کچھ اس بارے میں کہیں ؟

محمد حمید شاہد:اس بارے میں ،میں کیا کہوں ، سوائے اس کے کہ تخلیق کار تخلیقی عمل سے جڑے ہونے کے باعث، تنقیدی عمل میں اس جانب بھی متوجہ کرلیا کرتا ہے جو بالعموم ناقدین کے ہاں کچھ زیادہ اہم نہیں ہوتے ۔ فکشن کی تنقید کا زیادہ سرمایہ ہمارے ہاں موضوعات اوراس باب کے مباحث پر مشتمل ہونے کا سبب بھی یہی ہے کہ تخلیقی عمل کے بھید سمجھنے اور اپنے قاری کو سمجھانے کی اہمیت کو اس شدت سے محسوس نہیں کیا گیا جس شدت سے اس کا واسطہ ایک تخلیق کار کو اس سے پڑتا ہے۔ میں تنقید کی طرف اس لیے نہیں آیا ہوں کہ خود کو ناقد کہلواؤں ، تخلیقی عمل کو سمجھنے اور مختلف حالات کے اندر، یا پھر مختلف مزاج رکھنے والے تخلیق کاروں کے ہاں یہ کیسے بیدا ر ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے، اسے سمجھنے کے لیے تنقید کی طرف آیا تھا۔ یہ ایسا بھید بھرا علاقہ ہے کہ جوں جوں آگے جاتا ہوں کھلتے قالین کی طرح میرے سامنے کھلتا چلا جاتا ہے۔

محمد غالب نشتر:تنقید کے لیے جس بے باکی کی ضرورت ہوتی ہے وہ آپ کے اندر بہ درجۂ اتم موجود ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس بے باکی نے نقصان بھی پہنچایا ہے۔کئی ہم عصروں سے دشمنیاں مول لی ہیں لیکن آپ نے تنقید کے ضوابط سے سمجھوتہ نہیں کیا۔آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟

محمد حمید شاہد: آپ نے فرمایا، تنقید کے لیے بے باکی کی ضرورت ہوتی ہے، بجا مگر تنقید اس ترازو کا نام بھی ہے جو پورا پورا تولتا ہے، ایسی کسوٹی جو کھوٹے کو کھرے سے الگ کرتی ہے۔ ایسے میں مصلحت نہیں چلتی کہ صاحب یہ میرے قریب ہے تو اس کا کھوٹا بھی کھرا اور وہ میرے دشمنوں میں بیٹھتا ہے تو اس کا اصلی سونا بھی جھوٹا۔ جس طرح جھوٹی دعائیں مانگنے والے کے منہ پر مار دی جاتی ہیں اسی طرح جانب داری اور مصلحت سے لکھا ہوا تنقیدی لفظ بھی لکھنے والے کی سمت لوٹ کر آتا ہے اور اس کا بوتھا بگاڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ مجھے دوستوں کی دشمنیاں مول لینا پڑی ہیں اور دشمنوں نے حیرت سے مجھے دیکھا کہ ہائیں ہم نے ہر ہر مرحلے میں اس پر وار کیا مگر یہ حرف اعتراف کہتا ہے ، تو مجھے حیرت ہوئی نہ دُکھ،کہ ایسے ردعمل کا سامنے آنا انسانی سرشت کا تقاضا ہے۔ میں نے دونوں صورتوں میں اپنی بات خلوص سے کہنے کا سلسلہ نہیں روکا اور نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سوں کو اپنے کیے پر نادم ہوتے دیکھا ۔

محمد غالب نشتر:فکشن تنقید کے حوالے سے آپ کی پانچ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ادبی تنازعات،اشفاق احمد:شخصیت اور فن،اردو افسانہ: صورت و معنی،کہانی اور یوسا سے معاملہ ،منٹو:جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا اردو افسانہ۔ہندوستان سے بھی ایک کتاب شائع ہوئی ہے’’اردو افسانہ:کہانی،زبان اور تخلیقی آہنگ‘‘۔تمام کتابوں سے پرے زیادہ دلچسپی اس بات میں ہے کہ منٹو و والی کتاب کا کیا قصہ ہے؟

محمد حمید شاہد:شمس الرحمن فاروقی میرے لیے بہت محترم ہیں، یہ ان کی تنقید کی عطا ہے کہ ہم اب افسانے کی مبادیات پر بھی بات کرنے لگے ہیں ورنہ اس طرف ناقدین کا دھیان کم کم جاتا تھا۔ حال ہی میں شمس الرحمن فاروقی کی اردو افسانے کی تنقید پر غلام عباس کی کتاب آئی ، جب وہ فلیپ لکھنے کے لیے میرے پاس آئی تھی تو میں نے لکھا تھا کہ فاروقی کی تنقید مکالمے کے لیے پوراآدمی مانگتی ہے، تخلیقی عمل کو سمجھنے اور اپنی شخصیت کو خالص ادبی مزاج کے رنگ میں رنگ لینے والا پورا آدمی۔ اور ایسا بھی ہے کہ فاروقی کی تنقید جس آدمی کو مکالمے کے لیے چُن لیتی ہے اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی ، اسے اپنے خیالات جھٹک کرسر بسر مان لینے پر مجبور کرتی ہے یا پھر کھل کر اختلاف کرنے پر اکساتی ہے۔ منٹو پر فاروقی صاحب کا وہ مضمون میرے سامنے آیا جو ایک خط کی صورت میں مدیر اثبات کو لکھا گیا تھا اور جو بعد میں کتابی صورت میں ’’ہمارے لیے منٹو صاحب ‘‘ کے نام سے آصف فرخی نے اپنے ادارے سے کراچی سے چھاپ دیا تھا تو مجھے بہت سے مقامات پر فاروقی سے اختلاف ہوا ، میں اسے بھی فاروقی کی تحریر کی خوبی سمجھتا ہوں کہ وہ اکثر ہمارے دوست محمد عمر میمن کی وضع کردہ اصطلاح میں’’غلبہ آور‘‘ ہو جاتی ہے تاہم یہ ’’غلبہ آور‘‘ ان معنوں میں نہیں ہے جن معنوں میں عمر میمن نے اسے وارث علوی کی تنقید پر چسپاں کیا تھا بلکہ اپنی مرغوب دلیل کے انتخاب ، اس دلیل کو برتنے کے لیے علمی مواد کی فراہمی اور خیال کی حتمیت اپنے قاری کے حواس پر حاوی کرنے کے لیے چوٹ دار جملوں کا انتخاب ،مگر اس سب کو یوں بیان میں لے آنا کہ بے جوا ز نہ لگے دل اسے ماننے پر اور عقل اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے ۔ خیر جب منٹو کے افسانوں کی تعبیر کو میں نے فاروقی کے ہاں دیکھا تو مجھے جہاں کئی مقامات پر ان سے اتفاق ہوا ، شدید اختلاف بھی ہوا ، ایسے میں ، میں نے جو لکھا وہ ایک خط کی صورت میں فاروقی،اشعر نجمی اور آصف فرخی کو لکھ بھیجا ۔ آصف فرخی کی تحریک پر انہی کے ادارے سے کتاب چھپ گئی۔ بس اتنا سا قصہ ہے ۔ تاہم اتنا میں سمجھتا ہوں کہ فاروقی صاحب کی کتاب اور میری کتاب دونوں کو سامنے رکھ کر منٹو پر ایک نیا مکالمہ قائم ہو سکتا ہے۔ پہلی بارمنٹو کے افسانوں’’دھواں‘‘، ’’کھول دو‘‘،’’سرکنڈوں سے پیچھے‘‘،’’قیمے کے بجائے بوٹیاں‘‘،’’ننگی آوازیں‘‘،’’پڑھیے کلمہ‘‘،’’بو‘‘،’’ٹھنڈا گوشت‘‘،’’ہتک‘‘،’’خوشیا‘‘،’’سڑک کے کنارے‘‘ ،’’فرشتہ‘‘،’’پھندنے‘‘ اور باردہ شمالی کو بالکل مختلف اور تخلیقی پہلوؤں سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ۔ آصف فرخی نے فاروقی صاحب کے اس بیان کا حوالہ دیاتھا جس کے مطابق منٹو کو نقاد کی ضرورت نہیں ، اور مجھ سے اتفاق کرتے ہو لکھا ہے کہ ’’نئے زمانے کی حقیقت نگاری کے تقاضے، اس دور کی معروضات کا جائزہ لینے اور ان سے اٹھنے والے مباحث سے نبرد آزما ہونے کے بعد حمید شاہد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ منٹو کو اب بھی سنجیدہ نقاد کی ضرورت ہے‘‘ ہاں واقعی میں سمجھتا ہوں کہ منٹو کو اب نئے سرے سے پڑھنے اور اسے تخلیقی بنیادوں پر سمجھنے کی ضرورت ہے ،اسی عمل سے خالص تخلیقی منٹو ، اس منٹو سے الگ ہو کر سامنے آ جائے گا جسے غیر ادبی ، ہیجانی اور اختلافی مباحث نے کچھ کا کچھ بنا دیا ہے۔

محمد غالب نشتر:بہت بہت شکریہ !کہ آپ نے تمام سوالات کے لیے وقت نکال کر معقول اورتسلی بخش جوابات دیے۔

محمد حمید شاہد: آپ کا بھی بہت بہت شکریہ

***

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

“رات گئے”|PTV

Raat Gaye: Ep 42 October24,2017 PTV HOME  Host: Ammar Masood Guests: M Hameed Shahid  Lubna …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *