M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|کتاب نامہ سے ای کتاب تک

محمد حمید شاہد|کتاب نامہ سے ای کتاب تک

e.jang.com.pk

05_01
روزنامہ جنگ کراچی ، 21 ستمبر 2016

جب میں ارشدمحمود ناشاد کی دل میں ترازو ہو جانے والی مثنوی “کتاب نامہ” کے آخر میں پہنچا جہاں وہ فرماتے ہیں:

پرانے قوانین بدلنے گئے

دستاتیر و آئیں بدلنے لگے

تو اس بدلنے کی خبر کے ساتھ ان کی پوری نظم کا مزاج بھی بدلنے لگا تھا:

کتب خانے ویران ہونے لگے

مدارس بیابان ہونے لگے

۔۔۔۔

یہ غصہ ، یہ نفرت ، یہ وحشت یہ جنگ

نہ عزت سلامت ، نہ ناموس و ننگ

۔۔۔

مجھے طاق نسیاں پہ سب نے دھرا

یہ ذلت، یہ نکبت ہے اس کی سزا

تو یوں ہے کہ  جب میں یہاں پہنچا تو مجھے  منشایاد، یاد آئے ۔ ان کی عادت تھی کہ لکھنے سے پہلے پورا اہتمام کیا کرتے، تب کہیں کاغذ پر ایک لفظ لکھتے تھے؛ صاف ستھرے کپڑے پہننے اور بالوں میں کنگھی کرنے سے لے کرامتحانی گتے پرچٹکی سے صاف ستھرے کاغذوں کا دستہ جمانے اور سکے والی کئی پنسلوں کو نہایت نفاست سے تراش کر ایک ترتیب سے رکھ لینے تک، سبھی کچھ اس تیاری میں شامل تھا ۔ ان کے لکھنے کا اہتمام یوں تھا جیسے وہ عبادت کرنے جا رہے ہوں ۔منشایاد ان لوگوں میں سے تھے جو کمپیوٹر پر لکھنے کی طرف بہت آغاز میں ہی متوجہ ہو گئے تھے ۔ تاہم پہلی باروہ کاغذ پر ہی لکھا کرتے چاہے وہ بہت خام صورت میں ہی کیوں نہ ہوتا، پھر اسے کمپیوٹر پر منتقل کر لیتے اور وہاں اس کی صورت نکھارتے رہتے ۔لگ بھگ  یہ وہی زمانہ ہے کہ جب مجھ سے بھی کا غذ قلم چھوٹ چکا تھا اور جوں ہی کوئی خیال سوجھتا میں کمپیوٹر کی طرف لپکتا اور ‘کی بورڈ’ پر انگلیاں جما کر خیال کے بہائو کے ساتھ ساتھ انہیں حرکت دیے چلا جاتا تھا۔

ایسے میں اگر کوئی یہ کہتا کہ وہ وقت آنے والا ہے جب کاغذ پر لکھنے کا رواج ختم ہو جائے گا تو یہ انہونی بات نہیں لگتی رہی۔  دفاتر میں “پیپر لیس” ای فائلنگ کے سوفٹ ویئرز کے چرچے ہونے لگے۔ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، کریڈٹ کا رڈ اور اس سے بھی آگے ‘ای ٹرازیکشنز’ تک آتے آتے ہم یہ بھی سننے لگے تھے کہ بہت سے اخبارات اور جرائد انٹر نیٹ پر منتقل ہونے کے بعد کاغذ پر چھپنا بند ہونے لگے  ہیں ۔ اب تو ایسی خبریں معمول کا حصہ ہو گئی ہیں ۔ ایسے میں کتاب کیسے پیچھے رہ سکتی تھی سو یہ بھی اب اس ٹیکنالوجی کے طفیل ‘ای بک’ ہو گئی ہے۔

ناشاد کی مثنوی جو آخر میں کتاب کا نوحہ ہو گئی ہے اس ای کتاب کو لائق اعتنا نہیں جان رہی۔ کیوں ؟ اس پر ہم ذرا آگے چل کر بات کرتے ہیں ۔یہاں یہ یاد دلانا ہے کہ جب ہم ای بک کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے امکانات کا ایک نیا سلسلہ کھل جاتا ہے ۔ ای کتاب تو بیس سے زیادہ فارمیٹ میں دستیاب ہے ۔ ان میں پی ڈی ایف، الیکٹرانک پبلی کیشن، کنڈل بکس وغیرہ بہت معروف ہیں۔ پی ڈی ایف یعنی پورٹ ایبل ڈاکومنٹ فارمنٹ سے ہم روزمرہ کی دستاویزات کا تبادلہ بھی کرتے رہتے ہیں اور پوری کی پوری کتابیں، اسکین کرکے، یا مسودے کی سوفٹ کاپی کو کنورٹ کرکے بالکل اس فارمیٹ میں لے آتے ہیں کہ وہ اسی کتاب جیسی لگتی ہے جس کے ہم عادی ہوتے ہیں ۔ اپنے پسندیدہ ڈایزائن کے مطابق کتاب بنانا اور اسے خوب صورت (چاہیں تو رنگین تصاویر، نقشہ جات وغیرہ کے ساتھ) شائع کرنے کی سہولت ایسی ہے کہ اس کتاب سے دلچسپی رکھنے والے جہاں بھی ہوں فورا کتاب حاصل کر کے اپنے ہاں محفوظ کر سکتے ہیں ۔

ای پبلی کیشن میں انہیں اس مقصد کے لیے بنائی گئی مختلف ڈیواسز جیسے سونی ریڈرز، نوک، آئی فون ، آئی پیڈ، اینڈرائڈ فون وغیرہ پر بہ سہولت پڑھا جاسکتا ہے جبکہ کنڈل والوں نے اپنی ڈیوائس کے لیے الگ فارمیٹ بنایا ہوا ہے ، اس میں مطالعے پر آپ بک مارک رکھ سکتے ہیں، لغت کا استعمال کر سکتے ہیں ، اور اس طرح کی دوسری سہولیات سے اپنے مطالعے کو اور زیادہ بامعنی بنا سکتے ہیں ۔ اچھا ،یہ جو بستر پر لیٹ کر چھاتی پر رکھ کر کتاب کے صفحے الٹنے کا لطف ہے ، وہ بھی ان ڈیواسسز میں کسی حد تک فراہم کر دیا گیا ہے۔

وہ کتابیں جو نیٹ پر یونی کوڈ میں فراہم کی گئی ہیں ، سہولت سے تلاش کی جاسکتی ہیں ، نہ صرف کتابیں تلاش ہو سکتی ہیں مواد بھی چھانٹا جا سکتا ہے۔

یہ سب سہولیات محدود چھپنے والی کاغذی کتاب میں نہیں تھیں۔  مگر وہ کتاب جسے ناشاد نے لائق اعتنا جانا ہے وہ تو یہ نہیں ہے ۔ جی وہ کتاب ، جو ہمیں خبردار کرتی ہے اور آمادہ کار کرتی ہے ۔

نگاہ خبردار! ہشیار ہو

دل زندہ !آمادہ ء کار ہو

یہ دل ناشاد کو شاد کام کیوں نہیں کرتی ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ صاحب :

1۔ ای بک زیادہ سہولت سے میسرآسکتی ۔

2۔ اس کوکئی گنا زیادہ لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے

4۔ کتاب کی ترسیل میں وقت اور سرمائے کی بچت ہوتی ہے

5۔ کتاب کوہارڈ ڈسکٹ میں ڈال کر یا انٹرنیٹ کے ذریعے لمبے عرصے کے لیے محفوظ بنا یا جا سکتا ہے

6۔ ای بک کہیں زیادہ سہولت سے پڑھی جا سکتی ہے ۔

7۔اس کے ذریعے پرانی کتابوں کے پیلے پڑ جانے والے کاغذ کی ناگوار بو اوراثرات سے بچا جاسکتا ہے

8۔ سرچ ایبل ہونے کی وجہ سے حوالہ جات فوری طور پر تلاش کیے جاسکتے ہیں اور زیادہ تیزی سے مواد سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ

میں نے بھی اس پر سوچا ، ای کتاب کی اتنی” فیوض و برکات” کے باوجود اگر ناشاد نے  یہ سمجھانا چاہا کہ روایتی کتاب کی اہمیت برقرار ہے  اور برقرار رہے گی ۔ تو  مجھے لگتا ہے ہمارا شاعر دوست بھی نادرست نہیں ہے کہ یہاں سوال کتاب فہمی کا ہے

سکھاتی ہوں میں زندگی کے اصول

مرے دم سے ہے رحمتوں کا نزول

مجھے لگتا ہے کہ ابھی تک سب سے موثر ذریعہ یہی روایتی کتاب ہی ہے جو ناشاد کو اس طویل نظم میں لبھاتی رہی ہے ۔ جی یہ میں اس کے باوجود کہہ رہا ہوں کہ میں نے گذشتہ چند سالوں میں بہت زیادہ ای بکس پڑھی ہیں ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ پیپر بک کے مطالعے کے دوران میں متن پر زیادہ توجہ مرکوز کر پاتا ہوں ۔ اچھا ہو سکتا ہے ایسا اس لیے ہوں کہ ہمارے مطالعے کی تربیت میں روایتی کتاب دخیل رہی ہے اور جب نئی نسل جس کا کلی انحصار ای کتاب پر ہوگا ، وہ اس مشکل کو محسوس نہ کرے ۔ خیر اس باب میں ایک ریسرچ پیپر کی طرف دھیان جاتا ہے ،  دوسال پہلے نیٹ پر یہ ریسرچ پیپر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق ناروے کی استاوانگر یونیورسٹی کی این مانگان نے کنڈل پرای کتاب کو کاغذ پر طبع روایتی کتاب پر ایک جیسا مواد پچاس قارئین کو مہیا کیاتھا ۔ اس نے اٹلی میں ایک کانفرنس میں اپنی ریسرچ کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جومواد پڑھنے والوں کو دیا گیا وہ الزبتھ  جارج کا لکھا ہوا 28 صفحات پر مشتمل ایک افسانہ تھا ۔ آدھے قارئین کو کاغذ پرطبع شدہ افسانہ پڑھنا تھا اور باقی نصف کو کنڈل پر ای کتاب ۔

این مانگان (جو اپنے کام کی وجہ سے ریسرچ کے شعبے میں وہاں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں)نے مطالعے کی اس نئی سہولت کا بہت گہرائی میں مطالعہ کیا اور بعد ازاں دونوں طرح کے قارئین کو ایک امتحان سے گزارا گیا ۔ ایسا کرتے ہوئے نوٹ کیا گیا تھا کہ وہ قارئین جنہوں نے کاغذ پر مطبوعہ افسانہ پڑھا تھا یا وہ جنہوں نے کنڈل پر پڑھا ان کی کہانی پر بظاہر گرفت ایک سی تھی مگر جب 14 واقعات کی درست درست ترتیب بیان کرنے کی باری آئی تو کنڈل پر پڑھنے والے ایسا کرنے سے قاصر تھے جبکہ کاغذ پرمطبوعہ افسانہ پڑھنے والے اسے بہتر طور پر اور مقابلتا درست ترتیب میں بیان کر سکتے تھے ۔

کتاب کے کاغذ کو چھو کر پڑھنا اور کاغذ کو انگلی سے کناروں سے دباکر اس کے ایک حصے کو روشن کر لینا یا اس طرح کے کئی اور حربے مطالعے کے دوران بظاہر کوئی معنی نہیں رکھتے مگر یہ ایک سطح ہر انسانی فہم سے معاملہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ بہت سی ایسی کتابیں جو کہیں دستیاب نہیں تھیں، مارکیٹ میں اور لائبریریوں میں بھی، وہ میں نے نیٹ پر پڑھیں اور اگر وہ وہاں میسر نہ ہوتیں تو میں انہیں نہ پڑھ سکتا تھا کہ وہ میری دسترس میں شاید کبھی نہ آتیں ۔ ممکن ہے میں انہیں کوشش کرتا تو حاصل کرلیتا مگر اس کوشش کے لیے بھی ایک غیر معمولی ارادے اور عملی اقدام کی ضرورت ہوتی۔ خیر اب وہ کتابیں میری انگلی کے ایک اشارے پر حاضر ہو سکتی تھیں ۔ مگر اس کے باوجود میں اس کتاب کا بھی حامی ہوں جو دل ناشاد میں بسی ہوئی ہے ۔۔ سرعت ترسیل کے باب میں ٹیکنالوجی کی اہمیت کو مانتے ہوئے ، تاہم موثر مطالعے کے لیے کتاب زندہ باد ۔

اور آخر میں اعتراف کرنا ہے “کتاب نامہ” کو پڑھتے ہوئے میں نے زمانوں اور زمینوں کی سیر کی ہے ، کس سہولت سے ناشاد مصرعہ بناتے ہیں اور کتنی سہولت سے اپنی بات کہہ جاتے ہیں اس نے مجھے خوش گوار حیرت میں ڈالا اور جب تک میں نظم پڑھتا رہا ناشاد  کو داد اور دعا دیتا رہا ۔ کتنے لوگ ہے جو موضوع کو یوں پانی کر لینے کا ہنر جانتے ہیں ،بہت کم، بلکہ بہت ہی کم اورایسے گنے چنے لوگوں میں ارشد محمود ناشاد کا شمار ہوتا  ہے  ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

ملتان : مکالمہ،ملاقاتیں اور کالم

مکالمہ اور ملاقاتیں افسانہ نگار محمد حمید شاہد کی ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات یوں طے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *