M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|تخلیق، قاری،نیا قومی بیانیہ اور عوام

محمد حمید شاہد|تخلیق، قاری،نیا قومی بیانیہ اور عوام

اسلام آباد میں چوتھا لٹریچر فیسٹیول

روزنامہ جنگ کراچی 20 اپریل 2016

e.jang.com.pk/04-20-2016/karachi

FB_IMG_1460829397816
مسعود مفتی، محمد حمید شاہد

اس بار آکسفورڈ والوں نے کسی ہوٹل کی بجائے اسلام آباد کی کھلی اور ثقافتی فضا میں ادبی میلہ بپا کیاتھا۔ لوک ورثہ میں منعقد ہونے والا ’’آئی ایل ایف ۔2016 ‘‘واقعی اپنے ہاں کے دیسی میلوں کا سا میلہ ہو گیاتھا ۔ اسلام آباد میں اس میلے کا چوتھاسال تھا، اور اس بار رنگ بھی چوکھا جما تھا ۔ کتاب، علم ، ادب جیسے جادوئی لفظ اور مختلف فنون سے جڑے ہوئے تخلیق کار سماجی ،سیاسی، ملکی اور بین الاقوامی صورت حال پر بھی بات کر رہے تھے؛ کچھ اس طرح کہ کہنے والوں کو بات کہتے ہوئے خوف آتا تھا نہ سننے والوں کو طیش۔ فضا ہی اتنی ساز گار ہو گئی تھی کہ اس میں دِل سماعت ہو گئے تھے ۔پروگرام کے ابتدائی سیشن میں امینہ سید اور آصف فرخی کی گفتگو سے میلے کے مزاج کا تعین ہو گیا تھا ۔اوروں کی گفتگو بھی خوب تھی مگرمجھے ایک سرائیکی لفظ کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے ۔ یہ لفظ مسعود اشعر کے افتتاحی خطبے میں سامنے آیا، اور سارے میں ایک گونج بھر گیا تھا ۔ یہ لفظ تھا’’ مونجھ ‘‘، مسعود اشعر کا کہنا تھا اس کا متبادل لفظ انہوں نے اُردو میں بہت تلاش کیا مگر انہیں ملا نہیں ۔ وہ اس رواداری کا قصہ کہہ رہے تھے جو ماضی میں ہمارے مزاج کا حصہ تھی ؛اب کہیں نہیں تھی۔ایسی رواداری کہ دشمن کی بات بھی حوصلے سے سنی جاتی تھی ۔ لمحہ موجود کے اندیشوں کی زمین پر کھڑے ہوکر مسعود اشعر کو پلٹ کر دیکھنا یوں اچھا لگا تھا جیسے کوئی پردیسی ہو جانے والا پلٹ کر گھر کی بات سوچتا ہے اور اپنے دل میں ایک عجب طرح کی بے کلی، کسک، تاہنگ اور ہڑک محسوس کرتا ہے اورجسے سرائیکی کے ایک لفظ ’’مونجھ‘‘ کے سوا شاید کسی اور لفظ میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتاتھا ۔
مسعود اشعر کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ کسی کو بری الذمہ قرار نہ دے سکتے تھے، ان کے مطابق ہمیں اپنے ہی گھر میں اجنبی بنانے والوں میں اگر ایک طرف مذہبی شدت پسندگروہ ہے تو دوسری طرف وہ روشن خیال اور ترقی پسند دوست بھی اس میں برابر کے شریک ہیں جو اپنی بات کہنے میں شدت پسندوں سے کہیں بڑھ کر متشدد ہو گئے ہیں؛ دلیل سے بات نہ کہنے والے، طعنہ زنی اور مقابل کی توہین کو شعار کرنے والے ۔ یہیں مسعود اشعر نے تصوف کو یاد کیا جو کل تک رواداری اور مروت سکھاتا تھا اور آج کل بھی معتدل قوتیں جسے رواداری کے فروغ کے لیے ایک حیلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں مگر فوراً بعد انہیں اسی تصوف کے وہ ’’جملہ وارثان‘‘ یادآئے ،جنہوں نے اسے کاروبار بنا کر خوب خوب کمایاہے ۔ اُنہیں دُکھ ہو رہا تھا کہ قانون نے جسے ایک قاتل اور مجرم کے طور پر شناخت کیا اور پھانسی کے پھندے تک پہنچادیا تھا تصوف کے نام پر کاروبار کرنے والا یہ گروہ اسے ہیرو بنا رہا تھا اور اپنی رویوں میں اتنا متشدد تھا کہ ساری فضا کو آلودہ کررہاتھا ۔قانون کی عمل داری کے اس واقعے کو قبل ازیں سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے حوصلہ افزا کہا تھاکہ جس میں ایک قاتل انجام کو پہنچا ۔اُن کے خیال میں ایسا ضرب عضب کی بنائی ہوئی فضا میں ہی ممکن ہو رہا تھا۔ ایسے میں انہیں بھی ’’مونجھ‘‘ آئی ، کچھ یاد کیا اور یاد دلایا کہ شدت پسندی کا ملبا صرف ہم پر ہی نہیں گرایا جا سکتا تھاکہ ہم شروع سے ایسے نہ تھے اور یہ کہ اس کا غالب حصہ ہمارے دوست ممالک کو بھی اُٹھانا ہو گا جنہوں نے ہمیں اس جنگ میں جھونک کر اس کا ایندھن بنا دیاتھا ۔
’’ہم ‘‘ایسا لفظ لکھنے میں آیا تو مجھے یا د آیا کہ جب میں دوسرے روز ایک اور مسعود سے عبد اللہ حسین کانفرنس ہال میں ’’چہرے‘‘ کے عنوان سے مکالمہ کر رہا تھا،تو’’ہم‘‘کے وہ معنی منہا ہو گئے تھے جو بحیثیت قوم ، یا بطور عوام اپنے لیے اخذ کرتے آئے ہیں ۔ اس ’’ہم ‘‘ سے پوری قوم اور عوام کو نکال باہر کرنے والے مسعود، اُردو کے سینئر فکشن نگار مسعود مفتی تھے۔مسعود مفتی اُن لکھنے والوں میں بہت نمایاں ہیں جو عصری صورتحال کو اپنی فکشن اور نان فکشن تحریروں کا حصہ تواتر سے بناتے چلے آئے ہیں ۔ جس وقت پاکستان بن رہا تھا تو وہ لڑکپن سے نکل رہے تھے مگر جب پاکستان ٹوٹنے لگا تووہ اتنے بڑے ہو چکے تھے کہ ٹوٹ کر الگ ہونے والے حصے میں جائیں اور حالات سدھاریں ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ یوں جا رہے تھے جیسے زندگی سے موت کے منہ میں جا رہے ہوں ۔وہ مشرقی پاکستان گئے اور اسے بنگلہ دیش بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، بھارتی طیاروں کی بمباری ، اپنے جنگی جہازوں کی خامشی، ہتھیار ڈالنے کا منظر اور موت کا لمس؛ تو کیا تھا جو انہیں نہیں دیکھنا پڑا تھا۔ اس سب کا ذکر ہوا اور حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کا بھی ، جسے کئی سال دبا کر غیر موثر کر دیا گیا تھا ۔ ایسے میں، میں نے سوال کیا تھا:’’ مفتی صاحب ، کیا ہم نے اس سب سے کچھ سبق سیکھا؟ ۔ مسعود مفتی صاحب کو تو جیسے طیش آگیا تھا۔ میرا سوال مکمل ہونے سے پہلے اسے کاٹ دیا ، سختی سے کہا ،’’اس ’’ہم‘‘ سے آپ کی مراد کیا ہے؟ ہمارے پاس اختیار ہی کیا ہے کچھ کر سکنے کا ، عوام کو اور حالات کو ایک خاص ڈگر پر دھکیلنے والے ایک کے بعد ایک آنے والا ڈکٹیٹر ہویا جاگیرداروں اور وڈیروں کا ٹولہ ،دراصل جنہوں نے کچھ کرناتھا یا سیکھنا تھا یہی وہ ’’ہم‘‘ ہے جس نے کچھ نہیں سیکھا ۔‘‘
خیر،ہمارے سیکھنے کو اس میلے میں بہت کچھ تھا۔  زہرہ نگاہ ، مستنصر حسین تارڑ اور انور مسعود کے ساتھ مکالموں میں لوگوں کی دلچسپی ہوتی ہے اور وہ جوک در جوک آتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا ۔تاہم میں اوپر والے اجلاس سے متصل اگلے اجلاس کا ذکر کرنا چاہوں گا جس میں ، میں نے اپنے آپ پر ضبط کرنا سیکھا۔ مجھے’’ نئی کہانی ، نئے لوگ‘‘ والے اجلاس میں مکالمہ قائم کرنا تھا ۔ کہانی کے نئے لوگوں میں جنہیں میرے سوالوں کے مقابل ہونا تھا، وہ اتنے بھی نئے نہ تھے؛ عرفان احمد عرفی ، ظفر سید، علی اکبر ناطق ؛لہذا میرا سوال یہ تھا کہ آخر آپ کو میں نیا کیوں کہوں؟ نیا کہوں یا جدید کہوں ، مگر اب تو جدید بھی مابعد جدید کے پیچھے چھپ گیا ہے؟ سامنے بیٹھی کشور ناہید اور مسعود اشعر کی ہنسی میں دیکھ سکتا تھا ۔ ظفر سید کسی وجہ سے اس مکالمے میں شرکت نہ کر سکے تھے، ان کا بوجھ بھی باقی دو نے اُٹھایا ۔ میرا سوال کچھ اور تھا اور بات کسی اور طرف نکل گئی۔ ایسے میں اپنی بات کہنا چاہتا تھا مگر امینہ سید اور آصف فرخی نے پروگرام مرتب کرتے ہوئے ،مجھے اس پروگرام کے فارمیٹ کی ڈوری سے باندھ دیا تھا؛یوں کہ مجھے بات سننا تھی اور اختلاف رکھتے ہوئے بھی ضبط کرنا تھا؛ سوکیا۔ کہا جا رہا تھا کہ لکھتے ہوئے وہ کہانی کو اس لیے سادہ اور سہل رکھ لیتے ہیں کہ وہ عام قاری کو سمجھ آ جائے، اور کہانی میں ایک پیغام بھی رکھتے ہیں پھر تخلیقیت کا التزام بھی ہوتا ہے ۔ عرفی کا نقطہ نظر مختلف تھا ، کئی لکھنے والوں اور بہ طور خاص لکھنے والیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا؛ انہیں تو ہم سب سے زیادہ قاری کی توجہ حاصل ہے ، ان کی کہانیاں فوراً سمجھ آ جاتی ہیں اور ان میں پیغام بھی ہوتا ہے مگر ادب کا بس یہی منصب نہیں ہوتا ہے؟ اس نشست کے ختم ہونے کا مرحلہ آیا تو کشور ناہید نے سوال کے لیے مائیک مانگا اور معاملہ سلجھا دیا؛ کہا ،’’لکھنے والے کو لکھتے ہوئے اپنے تخلیقی عمل کے ساتھ مخلص رہنا ہوتا ہے، قاری تو بعد میں اس تخلیق کے مقابل ہوتا ہے ‘‘اوریہ ایسی مثبت بات تھی کہ میرے بدن میں کچھ نہ کہہ سکنے کی وجہ سے برپا سارا ہیجان پھوٹ کر ہوا ہو گیا تھا، یوں جیسے کانچ کی گولی پر مکا مارتے ہی سوڈے کی بوتل سے فوارا پھوٹتا ہے اور ہوا ہو جاتا ہے۔
ایک اور اجلاس کی بابت بھی ذکر کرتا چلوں جو تنقید کی ایک اہم کتاب کے حوالے سے منعقد ہوا تھا ۔ تنقید کے تیکھے سوال اُٹھانے والے مظفر علی سید کے غیر مطبوعہ مضامین کو محترم انتظار حسین نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ڈھونڈھ نکالاجوسید صاحب کے مرنے کے بعد لگتا تھا کہ کہیں کھو گئے تھے۔ انتظار حسین نے انہیں جھاڑ پونچھ کر ایک کتاب کی صورت دی ، اور اس کا دیباچہ لکھ کر اسے سنگ میل والوں کو چھپنے کے لیے دے دیاتھا ۔ کشور ناہید نے بتایاکہ جس روز کتاب آئی خود انتظار حسین اس دنیا میں نہ تھے ۔ میں جو اس پروگرام کا میزبان بھی تھایہ سن کر کہہ اٹھا ،انتظار حسین کہنے کو نہیں ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ وہ یہیں کہیں ہیں ۔ یہ میلہ شروع ہوا تو ان کے ذکر سے شروع ہوا ،لوک ورثہ کا ایک کانفرنس ہال ان کے نام سے منسوب کیا گیا ، ہم مظفر علی سید کے بہانے انتظار حسین کو یاد کر رہے ہیں ایک اور پروگرام میں انتظار حسین کی ان کہانیوں کو یاد کیا جانا ہے جو انگریزی میں ترجمہ کرکے بھارت میں چھاپ لی گئی ہیں ۔ تو یوں ہے کہ انتظار حسین مر کر کچھ اور زندہ ہو گئے ہیں۔ اس نشست میں کہ جو ’’تنقید کی آزادی‘‘ والے مظفر علی سید کی کتاب ’’سخن اہل سخن ‘‘ پر مکالمے کے لیے ہو رہی تھی ، اس سوال کو بھی سامنے لے آئی تھی کہ لکھنے والے اپنی تحریروں کے ذریعے کیسے زندہ ہو جاتے ہیں ، پہلے سے بھی زیادہ زندہ۔میں نے ناصر عباس نیر کی طرف دیکھا کہ یہ سوال تو نئی تنقید کا بھی رہا ہے ۔ وہ میرا اشارہ سمجھ گئے۔ ناصربہت ذہین ناقد ہیں اور گفتگو کا ہنر بھی جانتے ہیں ،سو ان کا نقطہ نظر بھی سننے کے لائق تھا۔ اُنہوں کے کئی ایسے مقامات نشان زد کئے جو بعد میں نئی اصطلاحات میں ہی سہی ، مگر نئی تنقیدکو متوجہ کرتے ہیں ۔آصف فرخی نے فکشن پر لکھے گئے مضامین پر مفصل بات کی اور ان مضامین کا ذکر بھی ہوا جو شاعری کے حوالے سے مظفر علی سید نے لکھے تھے۔ جب یہ بات ہو رہی تھی تو میں نے کہا،جن دنوں سلیم احمد کے ہاں مجید امجد چل نہ رہے تھے ، مظفر علی سید ان کی نظم پر بھر پور مکالمہ قائم کرنے کے جتن کر رہے تھے اور جب وزیر آغا کو منٹو کے ہاں کی دنیا محدود لگی تھی ، سید صاحب اسی فراخی کو نشان زد کر رہے تھے۔ سب کی رائے تھی یہ نہایت اہم مضامین ہیں۔ یہ کتاب مظفر علی سید کی زندگی میں نہ چھپ سکی مگر ان کے دوست اور بڑے تخلیق کار انتظار حسین نے مرنے سے  پہلےاس کے چھپنے یوں اہتمام کر دیا، جیسے کوئی اپنا آخری قرض ادا کرتا ہے اور چل دیتا ہے ۔
ادبی میلے میں زہرہ نگاہ ، مستنصر حسین تارڑاور انور مسعود سے مکالمہ خاصے کی چیز ہوتا ہے ۔اس بار بھی سننے کو لوگ جوق در جوق آئے ۔ میلے میں موسیقی اور مشاعرہ بھی لازمی جزو ہیں ۔ اس بار ایک سے زیادہ مشاعرے ہوئے ۔ پوٹھواری کا مشاعرہ اس میلے کا پہلی بار حصہ ہوا جب کہ اُردو مشاعرے میں بھی پڑھنے والوں کی تعداد بڑھی ۔ اور ہاں نظم پر ہونے والے مکالمے کا بہت چرچا سنا ہے ، میں اس میں شریک نہ ہو پایا تھا مگر جو شریک ہوئے ، اس کی تفصیل سنا گئے ہیں کہ اس میں فیض کا ذکر ہو ا اور اس نظم کا بھی جو ترقی پسندوں کو مرغوب تھی۔پھر اس نئی نظم کا بات چلی جو راشد، میرا جی، مجید امجد اور حلقہ ارباب ذوق کے ذکر کے بغیر نامکمل رہ جاتی ہے ۔ حتی کہ نثری نظم پر بات ہوئی جسے میں نثم کہتا ہوں؛ اس مکالمے کے شرکاء تھے فہمیدہ ریاض ، کشور ناہید ، سعید احمد اور روش ندیم ۔ وہ اجلاس توبہت بھر پور رہے جن میں فیض احمد فیض، جمیل الدین عالی، نسرین انجم بھٹی، عصمت چغتائی ،قرۃ العین حیدر اور ثریا بجیا کو یاد کیا گیا ۔میڈیا کی آزادی پر بات ہوئی اور اس کی ذمہ داریوں کی بھی،ویمن پروٹکشن بل زیر بحث آیا اور نظام تعلیم کوبھی موضوع بنایا گیا۔ کہیں ستیہ پال آنند،سیف محمود،عارفہ سیدہ زہرہ،فاطمہ حسن،ظفر سید، بات کر رہے تھے کہیں ریاض کھوکھر،احمد رشید، سیف محمود ، کہیں راشد رحمان اور نسیم زہرہ حارث خلیق، امجد اسلام امجد قیصرہ شیراز، شکیل جاذب ، عمران عامی،ارشد معراج، قاسم یعقوب، منظر نقوی، ثروت محی الدین ، احمد فواد، رحمن فارس،منیر احمد بادینی، اشرف ، مجاہد بریلوی،اور اعجاز الدین کو گفتگو کرتے یا کلام سناتے دیکھا جا سکتا تھا تو کہیں اعتزاز احسن،سلطان روم،سدھیندرا کلکرنی ،حامد خان، قاسم یعقوب اور اختر عثمان کو ۔کہہ لیجئے اپنے اختتامی اجلاس تک سننے دیکھنے اور ساری صورت حال کو نئے ڈھنگ سے سمجھنے کو بہت کچھ تھا ۔


page5 (1)
جنگ کراچی:20 اپریل 2016

Column by Masood Ashar

Jang 10.04.2016

15_03


The conversation began with a question from Mahmood on whether a poet’s identity is based on gender, to which Nigah replied in the negative. She explained that when she first started writing poetry during the early days of Pakistan, it was not considered appropriate for female poets to participate in mushairas, yet she continued to do so. Today, everyone is writing poetry, irrespective of their gender. Mahmood noted Nigah’s use of soft and sweet language in her poetry, even as she narrates brutal acts committed by society, such as in her poem ‘Bhejo Nabi Jee Rehmatain’. Nigah explained that her method of employing easy diction was to widen her audience base to reach the masses, particularly the younger generations who do not have a deeper understanding of the language.

Zambeel Dramatic Readings paid tribute to Ismat Chughtai and Qurratulain Hyder through the recitation of their short stories, Pom Pom Darling and Lady Changez Khan respectively, by Asma Mundrawala, Mahvash Faruqi, and Fawad Khan. The performance of these three artists captivated the interest of their audience.

The session entitled ‘Nayee Purani Urdu Nazm’ was moderated by Saeed Ahmad, with panellists Kishwar Naheed, Fahmida Riaz, and Ravish Nadim. The session was initiated with a brief history of the evolution of the Urdu nazm, given by Nadeem. He further stated that the contemporary nazm is free from the structural limitations present in the ghazal form. Riaz elaborated, informing the audience of the evolution of the nazm and how it assumed a particular form during General Zia’s regime. Naheed shared her personal experience of writing nasri nazm. The reason why she chose this particular form was that the contemporary issues which she wanted to address in her work could not be described as effectively within the ghazal or the traditional nazm, as they could be in nasri nazm. The audience appreciated the poems narrated by Riaz and Naheed, in particular Riaz’s poem ‘Huzoor, Mein Iss Siyaah Chaadar ka Kya Karoongi’.

Contemporary trends in Urdu short story writing were discussed in the session ‘Nayee Kahani Nayay Log’ by Irfan Urfi, Ali Akbar Natiq, and Hameed Shahid. Shahid, moderator of the panel, prompted conversation by raising the question of how to categorise stories being written in our times; should they be called “new”, “modern”, or “postmodern”? Urfi suggested calling them “contemporary” writings, to avoid the philosophical connotations of other terminologies. In response to another question, Natiq stated that he writes his short stories to share personal observations with his reader. Urfi suggested that story writing in Urdu tends to become mired in symbolism and abstraction, which creates difficulties for the readers. Shahid concluded the session by summarising a short story’s three components; it should have artistic expression; it should be comprehensible to its readers; it should have a message. Urfi, however, raised concerns that writers need not be reformers — their purpose is to express and not to reform. While readers or critics may draw certain conclusions from their writings, writers are not obliged to provide a social message. Shahid also noted that contemporary writers do not compete with each other. Usually, there is diversity in their creativity; they have their own following.

The session ‘Urdu Hai Jis ka Naam’, was a conversation between Ali Akbar Natiq and Saif Mahmood, discussing modern Urdu literature in both India and Pakistan. Natiq opened the discussion by stating that without having a sound understanding of the classics, contemporary writers cannot create literature worth reading. To answer a question posed by Mahmood regarding inclusiveness, Natiq explained that any language that does not have the ability to absorb foreign terms and cultural expressions cannot evolve, and hence, cannot survive. While there are good writers in every era, he stated, their numbers are always limited. The problem that Urdu faces today is that local colleges and universities do not teach and promote much Urdu literature. Academics do not familiarise their students with the classics, nor do they introduce them to worthwhile contemporary writing. He further lamented the lack of informed media outlets. According to him, the intellectual degradation of society can be attributed to the media promotion of a particular type of literature at the expense of others, such that of Bano Qudsia or Ashfaq Ahmad. The session ‘Aik Sham Anwar Masood ke Naam’ had a large audience turnout. Masood’s enchanting humour delighted, as he shared witty anecdotes with his audience.

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

                      شکریہ جنگ کراچی : http://e.jang.com.pk/08-09-2017/karachi/page14.asp …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *