M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / کیا مائکرو فکشن میں بڑا تخلیقی تجربہ ممکن ہے؟

کیا مائکرو فکشن میں بڑا تخلیقی تجربہ ممکن ہے؟

inhamak
انہماک کے شکریہ کے ساتھ

 محمد حمید شاہد سے انہماک فورم پر ایک مکالمہ

سید تحسین گیلانی 
مدیر : انہماک عالمی جریدہ :ساوتھ  افریقہ
(ایڈمن انہماک فورم )
سوال یہ ہے کیا اصناف کے نام رکھنے قبول کرنے یا رد کرنے کے لیے کوئی فارمولا وضع کیا جا سکتا ہے ؟ کیا فلیش فکشن / مائکرو فکشن کا متبادل نام ڈھونڈنا لازم ہے یا ان الفاظ کو جوں کا توں ہی رائج کیا جائے جیسے ناول ناولٹ انگلش ادب سے مستعار اردو ادب میں رائج ہیں؟

آپ نے درست فرمایا ، اصناف کے ناموں کی قبولیت کا نظام الل ٹپ ہے ، اس ضمن میں کوئی فارمولا وضع نہیں کیا جا سکا ہے۔ افسانے کا لفظ ہمارے پاس پہلے سے تھا، ہم قصوں میں کتھائوں میں ، داستانوں میں موجود افسانہ دیکھ لیا کرتے تھے لہذا شارٹ اسٹوری کی بجائے ہم نے مربوط اورمنضبط کہانی کو افسانہ کہا اور یہی رائج بھی ہوگیا ۔ یہ بھی بجا کہ ناول کے نام کو بدلنے کی ہم نے ضرورت محسوس نہ کی، یہ ہماری داستان سے ہمارے قصوں سے اور کتھا کہانی سے الگ لگی تو ضرورت محسوس کی گئی کہ اسے الگ سے دیکھا جائے تو ناول نام کو ہی قبول کر لیا گیا ، پھر اردو زبان کی ایک خوبی یہ بھی تو ہے کہ جوالفاظ اور اصطلاحیں اسے بھلی لگتی ہیں ، انہیں اپنا لیتی ہے۔ ناول کو اس نے بہ خوشی اپنا لیا ہے ، یوں جیسے اس نے ریل ، ریڈیو، فٹ بال وغیرہ کو اپنا لیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب افسانچہ کا لفظ پہلے سے مروج ہے ، تو کن بنیادوں پر آپ اس کے متبادل مائکرو فکشن، شارٹ شارٹ فکشن، فلیش فکشن جیسی اصطلاحات سے بدلنا چاہتے ہیں ۔ ظاہر ہے یہ بنیادیں تیکنیک اور فن کے حوالے سے افسانچے سے اسے الگ کرکے ہی فراہم ہو سکتی ہیں ۔ میں ایسی بنیاد نہیں پا سکا ہوں ممکن ہے آپ اسے نشان زد فرما سکیں ۔

 سوال : اردو ادب میں افسانچے کی ابتدا کب اور کہاں سے ہوئی؟
منٹو کے سیاہ حاشیے کو مختصر کہانی / افسانچہ کہا جاتا ہے ، کیا اسے مائکرو فکشن کہا جا سکتا ہے ؟

اس سوال کا جواب اوپر عرض کر چکا ہوں۔

سوال :کیا مائکرو فکشن میں بڑا تخلیقی تجربہ ممکن ہے؟
اردو ادب میں مائکروفکشن انہماک فورم نے متعارف کروایا احباب نے 100 کے قریب تجرباتی مثالیں پیش بهی کیں جن میں چند ایک اچهے مائکرو فکشن سامنے آئے ہیں –
مائکرو فکشن کی آؤٹ لائنز کیا ہونی چاہیں جو اسے افسانچے سے الگ کریں یعنی اس کی تکنیک / اسلوب میں ایسا کیا ہو کہ یہ افسانچے سے الگ نظر آئے ؟

 میں اس باب میں آپ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں مگر مجھے خدشہ ہے کہ جس طرح افسانچہ اردو میں مقبول نہ ہوسکا (حالاں کہ اسے سعادت حسن منٹو، جوگندر پال اور منشایاد جیسے باکمال لکھنے والے بھی میسر آئے ) یہ پرانی شراب، انگریزی نام کی نئی بوتل میں بھی نہ چل پائے گی ۔ یہاں نہ چلنا سے مراد اس تجربے کا تخلیقی سطح پر اتنا اہم ہو جانا ہے کہ لائق توجہ ہو جائے ۔ ہمارے ہاں لطائف ، دیہی دانش کی کہاوتوں، چٹکلوں اور حتی کہ بولیوں کو بھی اسی طرح کا خُورد/خُردفسانہ بنا لیا جاتا ہے جو خوب خوب چلتا ہے مگروہ تخلیقی تکریم نہیں پاسکتا جو افسانے کا مقدر ہو جاتی ہے۔دراصل فکشن لکھنا محض کہانی لکھنا ہے نہ چٹکلا لکھ دینا ؛ یہ تو زندگی کی ازسرنو تخلیق سے عبارت ہے ۔ ہم لکھنے والے اپنے قاری کو پہلے اس منظر اس ماحول میں لے جاتے ہیں ، وقت کی اس رفتار سے اسے ہم آہنگ کرتے ہیں جس میں لکھنے والا اس افسانے کی ضمن میں ہوتا ہے ، ٹائم اور اسپیس افسانے کا بنیادی مسئلہ ہیں ، انہی کو سلیقے سے کام میں لاکر گہرائی اور گیرائی کا اہتمام ہوتا ہے ، بیان کا اتھلا پن ختم کیا جاتا ہے اور بیانیے کی تشکیل ممکن ہو پاتی ہے۔ کرداروں کو اپنا قد کاٹھ بنانا ہوتا اور اپنےلیے ایسی گنجائشیں پیدا کرنی ہوتی ہیں کہ محض ان کے بولے ہوئے مکالمے اہم نہ رہیں ان کی ایک ایک حرکت سے معنیانی سلسلہ پھوٹتا رہے ۔ افسانے کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ بتائے، اسے تو دکھانا اور اس سے کہیں زیادہ سجھانا ہوتا ہے۔ ایسی صورت حال کو سجھانا جو بالعموم ہم بیان نہیں کر سکتے ۔میں یہ نہیں کہوں گا کہ افسانچے یا فلیش فکشن (پوپ فکشن) کا تجربہ اردو میں نہیں ہونا چاہیے ، لکھتے رہنے سے ، اور ریاضت سے اس میں اچھے نمونے بھی نکل آئیں گے ،یہ صنف صحافتی ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے (اور کر رہی ہے) مگر میرا یہ گمان ہے(اللہ کرے یہ گمان باطل ہو جائے ) کہ اس میں کوئی بڑا تخلیقی تجربہ ممکن نہیں ہے۔

سوال : اکثر احباب مائکرو کو اس کے لفظی معنی  “سمال “کے تناظر میں دیکهتے / لکهتے ہیں جب کہ میں اسے “مائکرو جِپ” کے معنوں میں لیتا ہوں یعنی جو تهوڑے میں بہت سمیٹ لے ایک ننهی منی سی تحریر جو بڑے مضامین اور موضوعات کو خود میں سمیٹ لے –
انگریزی میں دو سطری مائیکروفکشن/ٹوئیٹر لِٹ موجود ہیں ہم اردو میں اسے رائج نہیں کرنا چاہتے -میرا نکتہء نظر یہ ہے کہ مائکرو فکشن کو اردو میں تبدیلی / اضافت کے ساتھ نئی تکنیک کے ساتھ لکها جائے کہ وہ اپنی الگ شناخت رکهتا ہو؟؟
آپ کیا کہتے ہیں ؟؟

بھائی ، میں اس سوال کے جواب میں کیا کہوں ، مائکرو فکشن کو آپ اردو میں رائج کرنا چاہتے ہیں ، دوسطری خُرد کہانی آپ کو پسند نہیں ، گویا آپ کے ذہن میں اختصار کے لیے ایک پیمانہ ہے ۔ کسی کہانی کے فکشن بننے کا بھی ایک پیمانہ ہوتا ہے ۔ کہنے کو تو ہر لفظ ایک کہانی ہوتا ہے ، لفظ یوں ہی تو رائج نہیں ہو جاتے نا، مثلاً دیکھئے لفظ ہے کربلا، پوری ایک کہانی ہے، لفظ ہے آدمی، کیا یہ کہانی نہیں ہے؟ خرابی یہ ہوتی ہے کہ ہم لفظ کو لڑھکا کر لغات کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں اور یوں ان لفظوں سے منسلک کہانی فقط معنی میں بدل جاتی ہے ۔ یاد رکھیے افسانہ محض معنی تک محدود نہیں رہتا ، یہ معنی سے زیادہ کے امکانات رکھتا ہے ۔ اچھا ،الفاظ سے کہانی کے امکانات کو کوئی جہت دینے کے لیے ہم اسے جملوں میں استعمال کرتے ہیں ۔ مگر محض ایک جملہ یا چند جملے چاہے کتنے ہی بامعنی کیوں نہ ہوں ، ایک حصار بنا تے ہیں ، کچھ بتانے کا حصار ، افسانہ بہت کچھ سجھانے کے لیے معنی کی محدودیت کے اس حصار کو توڑتا ہے ، اس کے لیے وہ مختلف وسیلوں کو کام میں لاتا ہے ، میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ خُرد فسانے  میں ان وسیلوں کو کام میں لایا جاسکتا ہے اور خُرد فسانہ ،ایک دانش پارے یا چٹکلے سے زیادہ کچھ ہو سکتا ہے، فوری اثر کرنے والا مگر ڈسپوزآف ہو جانے والا فاسٹ فکشن۔

سوال :  دور جدید میں اس صنف کی اہمیت کو آپ کیسے دیکهتے ہیں ؟

یہ صنف چوں کہ معنی کی ترت ترسیل کا وصف رکھتی ہے ، لہذا اسے صحافتی حربے کے طور پر کامیابی سے برتا گیا ہے، برتا جارہا ہے اور برتا جاسکے گا ۔اور اس میں کبھی کبھار لائق توجہ فن پارے نکل آئیں، جو تھوڑے وقت کے لیے توجہ کھینچ لیں تو بھی تعجب کی بات نہ ہوگی۔

 

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

معاصر اردو افسانہ:حرف کدہ میں محمد حمید شاہد سے مکالمہ

23 اکتوبر 2017 کی شام حرف کدہ راولپنڈی میں محمد حمید شاہد سے معاصر اردو …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *