M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / مختار علی خان پرتو روہیلہ کی یاد میں

مختار علی خان پرتو روہیلہ کی یاد میں

پروفیسر شوکت واسطی ، محسن احسان ، ایوب محسن اورمختار علی خان پرتو روہیلہ، سب وہاں تھے اور خوب قہقہے اُچھال رہے تھے، جب میں اسلام آباد کے بلیو ایریا کے ایک دفتر میں پہنچاتھا ۔ بتاتا چلوں کہ میں کوئی پچیس سال پرانی یادداشتیں کرید رہا ہوں، ورنہ واقعہ یہ ہے کہ اب شوکت واسطی ہیں نہ محسن احسان ، ایوب محسن تو اِن سب سے پہلے چلے گئے تھے اور اب خبرآگئی ہے کہ پرتو روہیلہ بھی اللہ کو پیارے ہوئے ۔ میں جس دفتر کا ذکر کر رہا ہوں وہ کوئی کاروباری دفتر نہ تھا؛ بزم علم و فن کا دفتر تھا اور ادیبوں کے بیٹھنے کا ٹھکانہ ۔ شوکت واسطی جب تک زندہ رہے یہ دفتر بھی آباد رہا پرتو روہیلہ سے وہیں میری پہلی ملاقات رہی اور کیا خوب رہی کہ ان کی شخصیت کاجو نقش پہلے دن میرے دِل کے کینوس پر بنا آنے والے دنوں میں اوربھی اُجلا ہوتا چلا گیا۔ مجھے یاد ہے تب وہاں کچھ اور شاعر بھی جمع تھے اگر میں بھول نہیں رہا توان علامہ بشیر حسین ناظم سے لے کرطارق نعیم تک سب وہاں تھے اور مشاعرہ بھی ہوا تھا جس میں پرتو روہیلہ نے بھی اپنی ایک غزل سناکر خوب داد سمیٹی تھی۔ تاہم اب جو کچھ مجھے یادآتا ہے اس میں مشاعرے کے بعد کا منظر زیادہ روشن ہے ۔ دفتر میں صرف چند لوگ رہ گئے تھے اور جو مجلس جمی ، اس میں پرتو روہیلہ کے ان تراجم پر بات چل نکلی تھی، جو وہ غالب کے فارسی خطوط کا اُردو میں کر رہے تھے ۔ بتاچکا ہوں کہ یہ دفتر اور بزم شوکت واسطی چلایا کرتے تھے ، اُن کا ایک شعر یاد آتا ہے:
بیٹھا ہوں اک طرف کسی فن کار کی طرح
کردار بن گئے ہیں میری داستاں کے لوگ
شوکت واسطی نے ان داستان بننے والے لوگوں کا ذکر اپنی سوانح حیات ’’کہتا ہو ں سچ‘‘ میں بہت محبت سے کیا ہے ۔وہ بھی کیا خوب صورت نثر لکھا کرتے تھے، بن بن کر نہ بنا بنا کر ، مگر پڑھو تو لگتا جیسے بہت سلیقے سے ایک ایک جملہ ڈھال کر کاغذ پر اتارا گیا ہو ۔ ملٹن کی ’’فردوس گم گشتہ ‘‘، کرسٹو فرمارلو کی’’ المیہ حکیم فسطاس‘‘، دانتے کی’’کربیہ‘‘ اور ہومرکی ’’آشوبیہ‘‘ جیسے تراجم دینے والے شوکت واسطی کے ہاں اس روز غالب کے فارسی خطوط کی زبان پر بات چلی اور دیر تک چلتی رہی؛ ایسی کہ سچ کہوں گا پھر ویسی گفتگو میں نے کہیں اور نہ سنی ۔ مجھے یاد ہے بعد میں غالب کے فارسی خطوط( جو پرتو روہیلہ نے ترجمہ کیے تھے) کی ایک جلد شوکت واسطی کی بزم نے غالباً دوہزار میں چھاپ دی تھی۔
پرتو روہیلہ کے ان تراجم کا ذکر آگے چل کر کریں گے ، کہ اس طرف وہ اپنی زندگی میں قدرے بعد میں راغب ہوئے تھے۔ ان کی پہلی محبت شاعری تھی ۔ کلاسیک کے وہ خوشہ چین اور ہم مزاج تھے ، ان کی غزل اس سے روگردانی نہ کر سکی۔ گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی کے آغاز میں ان کی شاعری کامجموعہ ’’پرتوِ شب‘‘ آیا تو اس نے خوب خوب توجہ کھینچی تھی۔ اب وہ مجموعہ تو میرے سامنے نہیں ہے ،ایک غزل جو بہت مقبول ہوئی، وہ میرے سامنے ہے، اس سے کچھ اشعار مقتبس کرتا ہوں : page5
دُکھ تو مضمر ہی میری جان میں تھے
میرے دشمن مرے مکان میں تھے
ناخدا سے گلہ نہ موسم سے
میرے طوفاں تو بادبان میں تھے
سب شکاری بھی مل کے کیا کرتے
شیر بیٹھے ہوئے مچان میں تھے
یہ قصیدے جو تیری شان میں ہیں
یہ قصیدے ہی اس کی شان میں تھے
میں ہی اپنا رقیب تھا پرتو
میرے جذبے ہی درمیان میں تھے
جمیل جالبی نے ’’پرتو شب ‘‘ کے دیباچے میں پرتو روہیلہ کی غزل پر دوہے کے رنگ کا ذکر کیاتو یوں لگتا ہے بعد میں وہ پوری توجہ سے دوہے لکھنے لگے تھے ۔ اردو ،ہندی ،فارسی ،انگریزی، پشتو کئی زبانیں جانتے تھے ، سو جس طرف چل نکلتے دور تک جاتے ۔ دوہے بھی انہوں نے خوب خوب لکھے اور غزل کے اس مجموعے کے دوبرس بعد یعنی ۶۷۹۱ میں’’ رین اُجیارا‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں منظر عام پر بھی لے آئے تھے ۔ لیجئے ان دوہوں کا لطف اُٹھاتے چلیں :
ساگر سے جب کوئی اپھاگن بوند الگ ہو جائے
سورج تاپے ، بھاپ بنے ، پھر برسے ، تب مل پائے
برہ کی گہری رات اندھیری جس کا اور نہ چھور
بسری رات کے سناٹے میں تیری یاد کا شور
گوری آئے پنگھٹ سے،اٹھلائے اور شرمائے
جل کا گاگر خود چھلکے ہے، جوبن کی چھلکائے
معروف مصورصادقین ، پرتو کے دوستوں میں سے تھا ۔ کتاب چھپنے کے لیے تیار ہو گئی تو اس کتاب میں شامل کرنے کے لیے صادقین نے کئی دوہوں کو تصویر کر دیا ۔ مجھے یاد ہے جن دوہوں کی صادقین نے اپنی لکیروں سے تشریح کی اُن میں یہ دوہا بھی شامل تھا :
چاندی کی ایک تھالی اس پر سونے کے دو ڈھیر
سونے کے دو ڈھیروں اوپر کٹھے میٹھے بیر
میں نے دوسرے دوہوں کی طرح یہ دوہابھی پڑھا تھا مگر جس طرح صادقین نے اسے اپنی قلم کی تیکھی لکیروں سے جمالیاتی تعبیر دی ہے اُس طرف دِھیان تک نہ گیا تھا۔ اور اب جب کبھی صادقین کے بنائے ہوئے جمال پارے کی طرف دھیان جاتا ہے ، پرتو کے اسی مضمون کے کئی دوہے ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں ۔ ان یاد آنے والوں میں سے دو دوہے آپ کی نذر کرتا ہوں۔ پہلا یوں ہے:
دوسیبوں سے جھک جاتی ہے ،پرتو سیب کی ڈالی
روپ کی اتنی مایا گوری ،تو نے کیسے سنبھالی
اوریہ رہادوسرا۔۔۔۔
من کا بالک گھبراوے ہے کیسے ہاتھ بڑھائے
مکھن کے پیڑے پر بیٹھا بھونرا موج اڑائے
اپنے تجربے کے ارتکاز سے جس طرح وہ دیکھی بھالی چیزوں کو نیا بنا لیتے ؛ نیا نہ کہیں ، جمال پارہ کہہ لیں، تو یوں ہے کہ یہ پرتو کی ایسی توفیقات کا علاقہ تھا جس نے پڑھنے والوں کے ہاں بہت توجہ حاصل کی ۔ شاعری کا ذکر چھڑ گیا ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس شاعر کی نظم پر بھی بات ہو جائے ۔ ان کی نظمیں زندگی کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو بہت سلیقے سے بیان کر دیتی ہیں بہت سلیقے سے اور بہت وضاحت کے ساتھ ۔ زندگی جس میں بہت خوب صورتیاں ہیں اور جسے ہر آن فنا کا کھٹکا لگا ہوا ہے ، زندگی جس میں بہت گہماگہمی ہے اور اس شور شرابہ ہے اورجس کے مقدر میں ایک طویل تنہائی لکھ دی گئی ہے ، وہ ان نظموں میں بغیر کسی الجھاوے کے مگرایک قرینے کے ساتھ بیان کر دیتے ہیں ۔ان کی نظمیں ’’آواز‘‘ کے نام سے کتاب کی صورت میں چھپیں تو جدید نظم اگرچہ جست لگا کر کچھ آگے نکل گئی تھی اور نئی نظم والے تیوران کی نظم کے نہ تھے مگر زندگی کی ترجمانی ضرور تھی جس نے اس مجموعے کو بھی لائق توجہ بنایا ۔ اسی کتاب سے ایک نظم ، جس کا عنوان ہے ’’کار زار‘‘:۔
’’نحیف چڑیا ،نزار چڑیا / کسی شکاری کا گھاؤ کھا کر نہ جانے کب سے سڑک کنارے پڑی ہوئی تھی/ پھڑک رہی تھی/ تڑپ رہی تھی/ مری نہیں تھی/ زمیں سے اس کو اٹھا کے میں نے قریب ہی اک درخت کی شاخ پر بٹھایا/ کہیں سے چُلو میں پانی لاکر اُسے پلایا /وہ سانس دینے کا اک طریقہ کبھی جو بچپن میں ،میں نے سیکھا تھا ،آزمایا/ تو چند لمحوں میں اس نحیف و نزار چڑیا نے سر اُٹھایا /ابھی میں اپنی سیہ ہستی کی ننھی نیکی پہ آفریں بھی نہ کہہ سکا تھا/کہ میں نے چڑیا کو جست بھر تے ہوا میں دیکھا /ہوا میں چڑیا جو واپس آئی /تو اس کی ننھی سی چونچ میں اک حسین تتلی دبی ہوئی تھی / نحیف تتلی/ نزار تتلی/ پھڑک رہی تھی / تڑپ رہی تھی/مری نہیں تھی۔‘‘
تو یوں ہے کہ تخلیقی طور پر اتنے ہمہ جہت اور توانا شخص کو جب غالب سے عشق ہوا تو سب کچھ پیچھے رہ گیا اور وہ اس عشق میں بہت دور تک نکل گئے ۔ غالب پر ان کی گیارہ کتابیں آئیں ۔ غالب کے فارسی خطوط کے تراجم بھی اس عشق کا شاخسانہ ہیں ۔ روہیل کھنڈ سے وہ پاکستان بننے کے کوئی تین برس بعد ادھر آکر مردان میں بس گئے تھے مگر ساری عمر نام کے ساتھ روہیلہ لکھا کہ روہیلوں سے عشق کیاتھا ۔اپنی موت سے قبل اس عشق کی ایک گواہی محبت خان کے دیوان کی تدوین کی صورت میں بھی فراہم کی۔ محبت خان روہیلہ ان کے قبیلے میں کوئی دوصدی پہلے پیدا ہوا تھا۔ شاعری سے عشق کی جھلکیاں آپ اوپر دیکھ چکے اور غالب سے ایسا عشق کہ کہیں ان کے مشکل اردو اشعار کی تشریح کر رہے ہیں تو کہیں فارسی شاعری کو اردو کا قالب عطا کر رہے ہیں ۔ تاہم غالب کے فارسی خطوط ، جو اب ایک کلیات کی صورت چھپ چکے ہیں، اس عاشق کے جنوں کی عجب داستان سناتے ہیں ۔ پرتو نے صرف غالب کے خطوط کو ترجمہ ہی نہیں کیا ،ان پر حواشی لکھے،مکتوب الیہم کے سوانح حیات مرتب کئے اور مشکل الفاظ کی فرہنگ بنائی ( اگر چہ یہ فرہنگ کلیات کا حصہ نہ ہو سکی تاہم یہ ’’غالب اور غمگین کے فارسی مکتوبات‘‘ نامی کتاب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے )۔ پرتو روہیلہ کے ان تراجم کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں غالب کی گفتگو کے اندازاور قرینے کو بحال رکھا گیا ہے۔ وہی بے تکلفی اور وہی ایجاز و اختصار اور وہی نٹ کھٹ جملے ،پھر لطف یہ کہ جن مآخذ سے ان خطوط کو لیا گیا ہے ، ان پر مکالمہ بھی قائم کیا اور جہاں جہاں متن کے حوالے سے اشتباہ پیدا ہوا اس کو درست کرتے ہوئے سارے پہلو قاری کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں ۔ غالب کے فارسی خطوط کے انہی تراجم کو دیکھ کر بہت پہلے رشید حسن خاں نے کہا تھا، آپ کلاسیکی ادب کے مزاج دان ہیں جدیدیے نہیں، آپ ہی یہ کام کر سکتے ہیں ، تو یوں ہے کہ پرتوروہیلہ نے یہ کام کیا اورغالب کے فارسی خطوط کو غالب کے اپنے مزاج پر ترجمہ کرکے مرتب کر دیا ۔ شمس الرحمن فاروقی نے بجا طور پر کہا تھاکہ پرتو کا یہ کام ان کے علم کی گہرائی اور وجدان کی سچائی کا ثبوت ہے۔ اور ہاں یہ بتانا تو میں بھول ہی رہا ہوں کہ ان کی عمر کے آخری سالوں کا کارنامہ فروغ فرخ زادکی فارسی شاعری کا اردو ترجمہ ہے ۔ جوکتابی صورت میں چھپ کر آیاتو وہ بستر مرگ پر تھے ۔
پرتوروہیلہ کی زندگی کئی حوالوں سے بھر پور رہی ، سول سرونٹ تھے اعلی مناصب پر رہے ۔ ملکوں ملکوں سفر کیا ۔’’ گرد راہ‘‘ کے نام سے ایک سفر نامہ بھی لکھا۔ شکار کے رسیا تھے، اس کے بھی کئی قصے ہیں ۔وہ محفلوں میں یہ قصے سناتے رہے ہیں ۔ اونچا قد، خوش پوش ، خوش گفتار ، نوے سال سے اوپر عمر ہو چکی تو بھی پوری طرح چاک و چوبند تھے ۔ عمر بھراپنی اُس تہذیب کی پاس داری کرتے رہے جس کے ڈھالے ہوئے تھے ۔زندگی کی نو دہائیاں بہ خیر و خوبی گزر گئیں تو کوئی ڈیڑھ دو سال پہلے پھیپھڑوں کے کینسر کا پتا چلا۔ یہ مرض انہیں پگھلاتا چلا گیا اور آخرکار اسی نے اس خوب صورت آدمی کو ہم سے چھین لیا ۔ پرتو کا ایک دوہا ہے:
ایک اُٹھے اوپر کو لوگو ، دوجا نیچے جائے
جیون ایک رہٹ کا چکر مَت میری چکرائے
ہم بھی جیون رہٹ کے اس چکر میں چکرائے ہوئے ہیں ۔ مگرایسا ہے کہ پرتو روہیلہ کے اس دوہے والے ’دوجے‘ کو دیکھنا چاہیں تو نظرناکام لوٹتی ہے ۔ جی ،وہ جواپنی ادبی تہذیب کا کامل نمونہ ہو ، اور عمر بھر اسی تہذیب کا عاشق ہو کر رہنا بسنا ہی مقدم جانے، اب کہاں ہیں۔یوں لگتا ہے پرتو اس ادبی تہذیب کے آخری نمائندوں میں سے تھے ۔ جب ہم پرتوروہیلہ کاجنازہ پڑھ کر قبرستان سے لوٹ رہے تھے تونہ جانے کیوں لگ رہا تھا کہ ایک تہذیب اپنا جیون بتا کے جاچکی اور وقت رہٹ کا ہر آنے والا چکر خالی ٹینڈوں کے ساتھ اوپر آرہا ہے ۔

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *