M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد|آرٹس کونسل کراچی کی نویں عالمی اُردو کانفرنس

محمد حمید شاہد|آرٹس کونسل کراچی کی نویں عالمی اُردو کانفرنس

یہ سال میرے لیے یوں اہم رہا ہے کہ مجھے اس سال کئی بین الاقومی ادبی کانفرنسوں اور ادبی ثقافتی میلوں میں شرکت کا موقع ملا ۔ ہر اجتماع اپنے مزاج اور افادیت کے اعتبار سے مختلف رہا ۔ سال کا آغاز الحمرا لاہور کے ادبی ثقافتی میلے سے ہوا تھا پھر چل سو چل، اوکسفورڈکالٹریچر فیسٹول اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کا کتاب میلہ اسلام آباد میں۔ادھر ہی لوک ورثہ میں پاکستان کی قومی زبانوں اور علاقائی ثقافتوں کاجشن ہوا تواُدھراردو کا جشن ’’ریختہ ‘‘ کے زیر اہتمام دلی بھارت میں ہوا جس میں میں نے شرکت کی۔ اسی سال اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت لاہور میں پاک چین ادبی کانفرنس ہوئی اوراُدھر سماجی ترقی اور ادب کے موضوع پرایک سیمینار چین کے خوب صورت شہرکن منگ میں ہوا۔ اس سلسلے کی اہم کانفرنس ، جس کا احوال سنانے جا رہا ہوں کراچی آرٹس کونسل والوں کی نویں عالمی اُردو کانفرنس ہے ۔
یہ عالمی اُردو کانفرنس کئی حوالوں سے اپنی الگ شناخت بناچکی ہے۔ اس میں ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ دوسرے ممالک میں اردو کی بستیاں آباد کرنے والوں کے علاوہ بھارت سے ادیبوں کا ایک نمائندہ وفد شرکت کرتا رہا یوں اردو دنیا کی مجموعی فضا سے ہم متعارف ہوتے رہے ہیں۔ ابھی پچھلے سال والی کانفرنس میں شمیم حنفی، ابولکلام قاسمی،ڈاکٹر انیس اشفاق، رنجیت سنگھ چوہان اور کئی دوسرے اہم لکھنے والے اُدھر سے کراچی آئے تھے مگر اس بار ایسا نہ ہوسکا ۔ تاہم اردو کانفرنس کے منتظم محمد احمد شاہ نے افتتاحی اجلاس میں اپنے سیل فون پر شمیم حنفی کا نمبر ملایا اور مائیک کے سامنے رکھ دیا ۔ پھر کیا تھا ، سارا حال ہمہ تن گوش ان کی محبت اور خلوص میں بھیگے بھیگے ہوئے ایک ایک لفظ کو سن رہا تھا ۔ شمیم حنفی کے پاس پاکستان آنے کے لیے ویزا تھا مگراُدھر بھارت میں انتہاپسندوں نے جس طرح کے حالات پیدا کر دیے تھے ، ایسے میں وہاں سے کسی کا کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آنا ممکن تو تھا مگر واپسی پر مشکلات میں گھر جانا یقینی تھا ۔ وہ جدید ادب ، مسائل اور امکانات کو موضوع بناکر گفتگو کرتے رہے۔ افسانہ نگارڈاکٹر آصف فرخی کے کلیدی خطبے کا موضوع تھا ہمارا ادب اور ہماری دنیا ۔ان کی گفتگو میں عالمی سیاسی سماجی تبدیلیوں کا ذکر ہوا اور بات کاسترو کے انتقال اور ٹرمپ کی جیت سے ادب تک آئی۔ ڈاکٹر آصف فرخی ، جو ایک نفیس افسانہ نگار ہیں ، گفتگو بھی سلیقے سے کرتے ہیں اور اس پر زبان کا ذائقہ سوا ہوتا ہے ۔ محمد احمد شاہ نے اپنی گفتگو میں اُردو کانفرنس کو سب زبانوں سے محبت کرنے والوں کا عالمی قافلہ قرار دیا تو بلاشبہ ایسا ہی لگ رہاتھا۔ اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں مشتاق احمد یوسفی اپنی علالت کے باوجود شریک تھے اور محمد احمد شاہ اور ان کی بیگم اس پر پھولوں نہ سمارہے تھے کہ وہ انہیں کانفرنس میں لانے میں کامیاب رہے تھے۔ رضا علی عابدی ، اسد محمد خاں، آئی اے رحمان ، زہرہ نگاہ، حسینہ معین، نورالہدی شاہ ، کشور ناہید مجلس صدارت میں تھے اور ہما میر نظامت کر رہی تھیں۔ فوراً بعد دوسرا اجلاس شروع ہو گیا جس کا موضوع تھا’’فیض اور امن عالم ‘‘ ۔ اصغر ندیم سید نے اس سیشن کی نظامت کی اور خوب کی،زہرہ نگاہ، آئی اے رحمن، کشور ناہید، رضا علی عابدی، فہمیدہ ریاض، عارف نقوی اور ظفر اللہ پوشنی نے اس موقع پر بہت عمدہ مکالمہ کیا ۔ ظفر پوشنی کی گفتگو کئی حوالوں سے اہم رہی کہ ان کا فیض صاحب کے ساتھ جیل کا ساتھ رہا تھا۔ اسی سلسلے کا دوسرا سیشن ’’ذکر یار چلے‘‘ تھا جس میں فیض کی زندگی اور شاعری کو تمثیل اور رقص کا مرقع بنا کر پیش کیا گیا ۔ شیما کرمانی کے ساتھ نوجوان فن کاروں نے جس محنت سے فیض کی زندگی اور شاعری کو پیش کیاوہ اتنا پرلطف رہاکہ پورا ہال آخری قطار تک داد دینے والوں میں شریک نظر آتا تھا۔
دوسرے روز کا پہلا اجلاس ’’حمد و نعت اور ہماری ادبی روایات‘‘ کے موضوع پر تھا ۔ پرو فیسر سحر انصاری کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں ان کے ساتھ رؤف پاریکھ، تنظیم الفردوس اور عنبرین حسیب عنبر، عزیز احسن اور شاداب احسانی موجود تھے ۔ اس اجلاس کی نظامت عزیز الدین خاکی نے کی اور نعت کے اسالیب پر بھرپور گفتگو کی گئی۔ تنظیم الفردوس اور عنبرین کے مقالات نے توجہ کھینچے رکھی تاہم ڈاکٹر جہاں آرا لطفی کے مقالے کی طوالت نے سارا لطف غارت کیا ۔ ’’زبان و ادب کا فروغ اور نصاب تعلیم‘‘ پر گفتگو کرنے والوں میں سید جعفر احمد، پروفیسر ہارون الرشید، انیس زیدی،نجیبہ عارف اور نعمان نقوی شامل تھے جبکہ پیرزادہ قاسم اس اجلاس کے صدر تھے۔اس گفتگو میں فروغ تعلیم کے باب میں ہونے والے حکومتی اقدامات اور نصاب تعلیم کی موجودہ صورت حال کو مایوس کن قرار دیاکہ عصری تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جارہاتھا ۔ کہا گیاسماجی شعور اور مکمل تہذیبی انسان کے لیے علوم کے ارتکاز کی ضرورت ہے جس طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔صوبوں کو تعلیم کے شعبے کی منتقلی کے بعد تو صورت حال اور بھی دگر گوں ہو گئی ہے۔ علم کی تحقیق یونیورسٹیوں کی سطح پر ترجیح ہونا چاہیے تھے جبکہ اس جانب توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ دوسرے روز کا تیسرا اجلاس میں ’’چہ می مستانہ رود!غالب سے اقبال تک ‘‘ کے موضوع پر نعمان الحق نے لیکچر دیا ۔ ان کی گفتگو کا بنیادی نقطہ یہ رہا کہ غالب اور اقبال اپنی شاعری کے باطنی آہنگ اور فنی لطافتوں کے حوالے سے نمایاں ہوتے ہیں ، ان کی قدر کی تعیین ان کی فکریات سے نہیں ہوتی ۔ انہوں نے اس ضمن میں کئی اشعار سنائے اور ان کے فنی حسن کو نشان زد کیا ۔ بے شک یہ لیکچر بہت خوب تھا مگر ان سے مکمل اتفاق ممکن نہ تھا کہ بہر حال غالب اور اقبال دونوں کے ہاں تصور انسان بہت مربوط ہے اور یہی بات، شاعری کی فنی لطافتوں کے ساتھ ساتھ کہ جو نعمان الحق صاحب نے نشان زد کی تھیں،ان کی شاعری کے مجموعی مزاج کو الگ اور نمایاں کرکے انہیں بڑا شاعر بناتی ہے۔
’’نئے سماجی ذرائع اور ابلاغ کی صورت حال ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے رضا علی عابدی اس کی مثبت پہلو گنوا رہے تھے تو وسعت اللہ خان نے دلچسپ پیرائے میں اس کی خرابیاں نشان زد کیں ۔ مظہر عباس کو بھی شکایت رہی کہ اس میں خبر سے زیادہ افواہیں چل رہی ہوتی ہیں تاہم نورالہدی شاہ نے کہا کہ سوشل میڈیانہ ہوتاتو ظلم سہتی سندھ کی عورت کی آواز آپ تک کیسے پہنچتی ۔’’پاکستانی زبانیں اور قومی ہم آہنگی‘‘کے موضوع پر مکالمہ ہوا تو فہمیدہ حسین نے کہا کہ پاکستانی زبانیں قومی زبانیں کیوں نہیں ہیں۔ مظہر جمیل ،ڈاکٹر انوار احمد،شاہ محمد مری ،صغرا صدف، گل حسن کلمتی، نذیر تبسم سب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سب قومی زبانوں کو یکساں اہمیت دی جائے تاہم سرکار جو کچھ اردو کے ساتھ کر رہی ہے اس پربھی تشویش کا اظہار ہوا ۔ کہا گیاکہنے کو اردو سرکاری زبان ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ سرکار کی زبان نہیں ہے۔ سرکار کی اور حکمرانوں کی زبان تو انگریزی ہے اور عدالتی فیصلے اور آئین بھی اس کی حیثیت کو متاثر نہیں کر سکے ۔ ناول نگار مرزا اطہر بیگ سے ڈاکٹر آصف فرخی نے مکالمہ کیا اورکمال یہ کیا کہ زود نویس مگر کم گو ناول نگار کو بولنے پر مائل کیے رکھا۔غلام باغ اور حسن کی صورت حال کے مصنف مرزا اطہر بیگ سے ان کے افسانوں، ڈراموں اور ناولوں پر گفتگو ہوئی ایک مرحلے پر انہوں نے یہ کہہ کر حیران ہی کر دیا کہ وہ پانچ ناول ایک ساتھ لکھ رہے ہیں ۔
کتابوں کی رونمائی والے سیشن کی صدارت حسن منظر نے کی جب کہ صاحب صدارت کے ناول’’ حبس‘‘ کا تجزیہ ڈاکٹر امجد طفیل نے پیش کیا اور اسے اس حوالے سے اہم ناول قرار دیا کہ حسن منظر نے فلسطین کے موضوع کو ایک بار پھر اردو ادب میں زندہ کر دیا تھا۔ جون ایلیا کی طویل نظم’’ راموز‘‘ کے مرتب اور پیش کار خالد احمد انصاری تھے اور بڑی تختی پر نہایت نفاست سے چھپی اس کتاب پر شکیل عادل زادہ نے گفتگو کی ۔ معروف نقادناصر عباس نیر کے افسانوں کے پہلے مجموعے’’خاک کی مہک‘‘ کامطالعہ ڈاکٹرضیاء الحسن نے پیش کیا جب کہ مبین مرزا کے افسانوں کے دوسرے مجموعے’’زمینیں اور زمانے پر مضمون خاکسار کا تھا۔
مشتاق احمد یوسفی کی زندگی اور فن کو داستان گوئی کے اسلوب میں پیش کرنے کے لیے اجلاس کا وقت ہوا تو ہال ایک بار پھر حاضرین سے آخری کونے تک بھر گیا۔ مشتاق احمد یوسفی خود بھی اس اجلاس میں موجود رہے اور میں دیکھ رہا تھا کہ فواد خان ، نذالحسن یا میثم نقوی کے خوب صورتی سے ادا کیے ہوئے کسی جملے پر جب ہال میں قہقہے گونج رہے ہوتے تو یوسفی صاحب کا چہرہ بھی کھل اُٹھتا تھا ۔
تیسرے روز کا پہلا اجلاس ’’روایت اور شعری منظر نامہ‘‘ کے موضوع پر تھا ۔ اس اجلاس کی مجلس صدارت میں کشور ناہید اور افضال احمد سید تھے۔ اردو شاعری میں جدید اسلوب، نئی دنیا اور نئے شعری رویے، جدید نظم کا اسلوب و آہنگ، اردو غزل کے چند نئے رنگ، نثری نظم کا عصری تناظراور جدید نظم کی شعریات جیسے موضوعات پر مقالات پیش کرنے والوں میں نجیب جمال،ناصر عباس نیر، یاسمین حمید، احمد فواد، تنویر انجم اور ڈاکٹر یاسمین سلطانہ شامل تھیں راشد نور نے نظامت کے فرائض سر انجام دیے۔ یہ مکالمہ کئی حوالوں سے اہم رہا ۔ ناصر عباس نیر نے شاعر کی حسیات کو نئے تناظر میں دیکھاان کی گفتگو ہمیشہ کی طرح دلچسپی سے سنی گئی ۔ یاسمین حمید کا بھر پورمقالہ اور نجیب جمال کااپنی گفتگو میں مزے لے لے کرغزل کے نئی حسیت والے اشعار سنائے چلے جانا اس اجلاس کا حاصل رہے۔
’’فکشن کے بدلتے قالب‘‘ کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کی صدارت اسد محمد خاں اور زاہدہ حنا نے کی ۔ ڈاکٹرنجیبہ عارف نے اُردو فکشن اور سیاسی تغیرات، ڈاکٹر ضیا ء الحسن نے اردو افسانہ اور ثقافتی بیانیہ، ڈاکٹر امجد طفیل نے جدید ناول میں ہیئت اور اسلوب کے تجربات، اخلاق احمد نے نیا افسانہ اور سماجی رویے اورڈاکٹر شیبا سید نے ناول میں تاریخی تصورات کے موضوعات پر بھر پور مقالے پیش کیے ۔ ڈاکٹر شیبا سید کو میں نے پہلی بار سنا ، انہوں نے اپنے موضوع کو بہت خوبی سے سمیٹا تھا، جو اچھا لگا ۔ اس خاکسار کے لیے موضوع تھا ’’معاصر افسانے کے رجحانات‘‘ اور میری گزارشات کا خلاصہ یہ تھا کہ معاصر فکشن نے پہلا کام یہی کیا ہے کہ اس نے رجحان کی زنجیر سے اپنے آپ کو آزاد کیا ہے اور یہ ہمت والا کام عین ایسے زمانے میں کیا ہے کہ جب تنقید جدیدیت کی مدحِ مسلسل کے بعد مابعد جدیدیت، مابعدِ مابعد جدیدیت کو سمجھنے سمجھانے میں یوں منہمک ہوگئی تھی کہ تخلیق پاروں کو پرکھنا ،ان کی تعبیر کرنا، اور تعیین قدر کاکار منصبی ،بے کار عمل ٹھہرا تھا ۔ زاہدہ حنا نے ان پہلوؤں کی جانب نشان دہی کی جن سے ہماری تنقید پہلو بچا کر نکلنے کا جرم کرتی رہی ہے۔ اجلاس کی نظامت نوجوان فکشن نگار اقبال خورشید نے کی جس کے لیے وہ خوب تیاری کرکے آئے تھا۔ میرے پہلو میں اردو فکشن کی آبرو اسد محمد خاں بیٹھے ہوئے تھے ، ناسازی طبع کے باوجود وہ اجلاس میں آئے،ایک ایک مقالہ سنا اور ہمت کرکے آخر تک بیٹھے رہے ۔ فکشن سے ان کی اس محبت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
احمد ندیم قاسمی صد سالہ تقریبات کے سلسلے کی کڑی اردو کانفرنس کااگلا اجلاس رہا ۔ ناہید قاسمی نے کلیدی مقالہ پڑھا جبکہ گفتگو کرنے والوں میں عطاالحق قاسمی، اصغر ندیم سید، کشور ناہید، قاسم بگھیو اور نیر حیات قاسمی شامل تھے۔ اس اجلاس کی نظامت عرفان جاوید نے کی، جو خود بھی عمدہ افسانہ نگار ،خاکہ نگار ہیں اور تنقید کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں ۔ اسی اجلاس میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جریدے ’’ادبیات‘‘ کے احمد ندیم قاسمی نمبر کا اجراء بھی کیا گیا۔ اصغر ندیم سید نے اس موقع پر منٹو کی احمد ندیم قاسمی سے محبت کا وہ واقعہ بھی سنایا جس کے مطابق منٹو نے احمد ندیم قاسمی کی معاشی حالت سدھانے کے لیے اپنی لکھی ہوئی’’بنجارہ‘‘ نامی فلم کے گیت لکھوانا چاہے ۔ احمد ندیم قاسمی کوانہوں نے بمبئی بلوایا اور منورنجن پکچرز کے مالک سیٹھ کے سامنے پیش کرنے سے پہلے کہا کہ جو کچھ سیٹھ کہتا جائے اسے ٹوکنا نہیں ورنہ سیٹھ برا مان جائے گااور پیسے نہیں دے گا لیکن جب احمد ندیم قاسمی نے سیٹھ کو گیت سنایا اورسیٹھ نے لفظ’ امید‘ کو ’آشا‘ سے بدل دینے کو کہا تو منٹو بپھر گئے، کہا آپ کو کیا پتا شعر کیا ہوتا ہے۔ عطا الحق قاسمی نے بھی فنون کے دفتر میں ہونے والی مجالس کا دلچسپ احوال سنایا اور کہا کہ احمد ندیم قاسمی توان کے محسنوں میں سے تھے۔
اس روز کا چوتھا اجلاس’’ثقافتی ادارے اور عصری تقاضے ‘‘ تھا جس کی نظامت کا فریضہ مجھے سر انجام دینا تھا مگر وہ لگ بھگ محمد احمد شاہ نے ہی سرانجام دے لیا جو اس مجلس میںآرٹس کونسل کراچی کی نمائندگی کرنے والے تھے ، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس ، الحمرا آرٹس کونسل ، اکادمی ادبیات پاکستان، نیشنل بک فاؤنڈیشن، پنجابی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج،آرٹ اینڈ کلچرلاہور اور انجمن ترقی اردو کراچی کی نمائندگی جمال شاہ، عطاالحق قاسمی، ڈاکٹرمحمد قاسم بگھیو، ڈاکٹر انعام الحق جاوید،صغری صدف اور فاطمہ حسن نے کی۔ شرکاء گفتگو اس پر متفق تھے کہ ثقافتی اداروں کے درمیان گہرے اور علمی روابط کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک کوآرڈینیشن کمیٹی بننی چاہیے۔ اس کمیٹی کی قانونی اور سرکاری حیثیت ہو اور اس کے باقاعدہ اجلاس ہوں ۔ اس ضمن میں ہونے والے پیش رفت اور امکانات کو ہر اجلاس میں بہ طور ایجنڈا زیر غور لایا جائے اور آئندہ کے لیے لائحہ مرتب کیا جائے ۔ مختلف اداروں میں ہونے والے ایک جیسے کاموں کو باہم تقسیم کر لیا جائے تاکہ ادروں کی کارکردگی بہتر ہو سکے ۔ محمداحمد شاہ کا اصرار تھا کہ عطا الحق قاسمی آگے بڑھیں اور اس ضمن میں عملی اقدام اُٹھائیں ۔ عطا الحق قاسمی نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا۔
’’اردو کی نئی بستیاں ‘‘ کے موضوع پر ہونے والے اجلاس میں عارف نقوی، عشرت آفریں، نجمہ عثمان ، یشب تمنا، سعید نقوی ،غزل انصاری اور دوسرے مندوبین نے سیر حاصل گفتگو کی اور اپنے اپنے ممالک میں اردو کے حوالے سے ہو نے والی سرگرمیوں کی بابت بتایا ۔ایک اور بھرپور اجلاس عطاالحق قاسمی سے ملاقات تھا، محمد احمد شاہ نے ان سے بے تکلف مکالمہ کیا ۔ عطاالحق قاسمی کے لگ بھگ ہر جملے پر ہال قہقہوں سے گونجتا رہا۔ انہوں نے لاہوریوں کی زندہ دلی کے کئی واقعات سنائے اور اپنی وہ نظم بھی سنائی جو گزرے ہوئے کل کی کہانی تھی جس میں سب ایک دوسرے کا احترام کرتے اور محبت کے رشتوں میں بندھے ہوئے تھے ۔ عطاالحق قاسمی کی خوبی یہ ہے کہ وہ کوئی تیکھا جملہ ضائع ہونے نہیں دیتے ۔ ایسے ہی تیکھے جملے کا موقع تقریب کے دوران اس وقت نکل آیا جب نشانے پر اُن کی اپنی ذات تھی ۔ وہ احمد شاہ کی طرف منہ کرکے گفتگو کر رہے تھے ، حاضرین میں سے کسی نے جملہ پھینکا :’’قاسمی صاحب ہماری طرف بھی منہ کر لیں ‘‘ عطاالحق قاسمی نے آواز والی سمت رُخ پھیرا اور ہنستے ہوئے کہا :’’میری شکل دیکھ کر آپ کو بھی اذیت میں مبتلا ہونا ہے تو یہ لیں جناب‘‘ ۔ قاسمی صاحب سے جب یہ پوچھا گیا کہ شاعری، کالم نگاری ،ڈرامہ نگاری ، سفر نگاری میں سے وہ کون سی حیثیت ہے جو انہیں پسند ہے تو ان کا جواب تھا وہ بہ طور مزاح نگار اپنی شناخت پر مطمئن ہیں۔
کچھ اور کتابوں کی رونمائی بھی اس روز ہوئی ۔ عذرا عباس کی کتاب’’ اندھیرے کی سر گوشی‘‘ پر محمد حنیف کے انگریزی مضمون کو برجستہ اردو میں ڈھال کر سید کاشف رضا نے پیش کیا ۔ تنویر انجم کی دوکتابوں ’’حاشیوں کے رنگ‘‘ اور ’’فریم سے باہر‘‘ کا اجراء یاسمین حمید کے خوب صورت مضمون سے ہوا، خالد معین کے مضامین کا تعارف سائرہ غلام نبی نے، جب کہ صابر ظفر کی کتاب ’’لہو کے دستخط ‘‘ پر مضمون سعادت سعید نے پڑھا ۔ افضال احمد سید نے کلیات ثروت حسین پر گفتگو کی اور ان کی شاعری پڑھ کر سنائی ۔ یادرہے اس تقریب کی صدارت کا فریضہ پیرزادہ قاسم نے سرانجام دیا تھا۔
یارک شائرادبی فورم کی جانب سے اس بارباکمال شاعرانور شعورکے لیے اعتراف کمال کا ایوارڈ تھا ۔ اس تقریب کی نظامت غزل انصاری نے کی ۔ تیسرے دن کا اختتام مشاعرے سے ہواجس کی صدارت رسا چغتائی اور مہمان خصوصی مئیر کراچی وسیم اختر تھے ۔افتتاحی اجلاس کی طرح مشاعرے میں بھی ہندوستانی شاعروں نے بذریعہ ٹیلی فون شرکت کی ۔ہندوستان کے جن شاعروں نے اپنا کلام سنایا، ان میں خوشبیر سنگھ شاد، منش شکلا اور رنجیت سنگھ چوہان شامل ہیں ۔ ملک بھر سے اور دیگر ممالک سے مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا ء میں سے چند نام سحر انصاری، کشور ناہید، پیرزادہ قاسم، انور شعور، صابر ظفر، امداد حسینی، عطاالحق قاسمی،یاسمین حمید، عباس تابش، شکیل جاذب، فاضل جمیلی، انعام الحق جاوید، سعادت سعید، عقیل عباس جعفری، عنبرین حسیب عنبر، صغری صدف، فاطمہ حسن، عشرت آفریں، لیاقت علی عاصم، احمد فواد، اجمل سراج، باصر کاظمی، یشب تمنا ۔ یہ مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا۔
چوتھے اور آخری روز کا آغاز ’’ نئی دنیا اور آج کے ادبی تقاضے ‘‘ کے موضوع پر ہونے والے اجلاس سے ہوا ۔ یہ اجلاس بھی بہت اہم رہا کہ اس میں نئی دنیا میں ثقافتی شعور، عالمگیریت اور ہمارا قومی شعور، نئے عالمی تناظر میں تہذیبی بقا کے تقاضے، ادبی شناخت اور جدید دنیا، جدید ادب میں عورت کی آواز ، جدید معاشرے کے تقاضے اور ہمارا ادب جیسے امور زیر بحث لائے گئے ۔ اس اجلاس کی نظامت عنبرین حسیب عنبرکی جب گفتگو یا مقالات پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر انوار احمد، سعادت سعید، زاہدہ حنا، ناصر عباس نیر، عذرا عباس، مبین مرزا اور کشور ناہید شامل تھیں ۔ بچوں کے ادب پر ہونے والی نشست میں مسعود احمد برکاتی ،رضا علی عابدی، رومانہ حسین ، مجیب ظفر انور حمیدی اور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے گفتگو کی اوراس نظر انداز ہونے والے اس شعبے کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔
عالمی اردو کانفرنس کا ایک اہم فیچر یاد رفتگاں کا ہوتا ہے ؛ یہ اس بار بھی ہوا۔ اس سیشن میں جن شخصیات کو یاد کیا گیا ان میں فاطمہ ثریا بجیا ، جمیل الدین عالی، اسلم اظہر، آغا سلیم، ڈاکٹر اسلم فرخی، اور اظہر عباس شامل تھے ۔ ان شخصیات پرانور مقصود، سحر انصاری، اختر وقار عظیم، ایس کے ناگ پال، ڈاکٹر آصف فرخی اور صفوان اللہ نے گفتگو کی ۔
چوتھے روز کا چوتھا اجلاس فلم ،ٹیلی وژن، اسٹیج اور عصر حاضر کے موضوع پر تھا ۔ حسینہ معین، نور الہدی شاہ، طلعت حسین،اختر وقار عظیم، راجو جمیل اور شیما کرمانی نے اس موضوع پر بھر پور گفتگو کی مقررین کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان ثقافتی شعبوں نے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا جب کہ آج کا ڈارمہ فنی لحاظ سے بہت خام اور ناقص ہے ، آج کا زمانہ انتشار کا زمانہ ہے اس لیے ان شعبوں میں بھی انتشار نظر آرہا ہے ۔
’’عہد ساز انتظار حسین‘‘ کے نام سے ہونے والی نشست کی صدر نشیں زہرہ نگاہ تھیں جبکہ شرکاء گفتگو میں کشور ناہید، آصف فرخی اور ناصر عباس نیر شامل تھے ۔ اس اجلاس کی ایک اہم بات یہ رہی کہ جہاں انتظار حسین کو یاد کیا گیا وہیں ان پر لگ بھگ پانچ سو صفحات پر مشتمل آصف فرخی کی تحقیقی اور تنقیدی کتاب’’چراغ شب افسانہ‘‘ کا اجرا بھی ہوا ۔ اس کتاب کے حوالے سے ایک مضمون شمیم حنفی صاحب نے ہندوستان سے لکھ کر بھجوایا تھا ، اس کا ایک حصہ بھی اس تقریب میں پڑھا گیا۔ ’’خدا حافظ‘‘ ، نویں عالمی اردو کانفرنس کا آخری اجلاس تھا جس میں اردو زبان و ادب اور فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے قراردادیں منظور کی گئیں اور انور مقصود کی خوب صورت گفتگو سے اس باوقار کا نفرنس کا اختتام ہوا۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ آرٹس کونسل آف کراچی کے زیر اہتمام عالمی اُردو کانفرنس کاا نعقاداس شہر کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے ایک مستقل مظہر کے طور پرلیا جانے لگا ہے اور اس باب میں اس کے منتظمین لائق تحسین ہیں ۔بہ طور خاص محمد احمد شاہ کا ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کو محبت سے اصرار کرکرکے کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کرنا ،انہیں پورا پورا احترام دینا، مختلف موضوعات کے تحت ان کی شرکت کو یقینی بنانا ،ایسے اقدامات ہیں جو مسلسل نویں سال ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرنس کی کامیابی کی ضمانت ہو گئے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ کراچی آرٹس کونسل ملک بھر کے ثقافتی اداروں کو فعال بنانے کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھنے لگی ہے۔

page5

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں اردو ادب کے ستر سال (2)|محمد حمید شاہد

                      شکریہ جنگ کراچی : http://e.jang.com.pk/08-09-2017/karachi/page14.asp …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *