M. Hameed Shahid
Home / محو تکلم / محمد حمید شاہد سے ایک مکالمہ|ظفر سید

محمد حمید شاہد سے ایک مکالمہ|ظفر سید

534621_10151092485751157_942188397_n
“فکشن کی طرف مجھے میری تخلیقی پیاس نے دھکیلا تھا اور میں یہاں ہوں اور اسی کا ہوں تواس کا سبب یہ ہے کہ اس صنف کا تخلیقی تجربہ ہر بارمجھے اپنی روح تک سے سیراب کر دیتا ہے۔”

 

 آپ نے افسانے کی صنف کو بہت رغبت اور ارتکاز سے اپنایا ہے۔ کیا یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا یا کوئی اندرونی تقاضا تھا جس نے آپ کو اس طرف راغب کیا؟

اپنے آپ کو تخلیقی سطح پر سمجھنے اور آنکنے کی تاہنگ اور طلب تو میرے اندر شروع سے رہی یہی سبب رہا ہوگا کہ میں اِدھر اُدھر بھٹکنے کے بعد افسانے کی صنف کی طرف آیا تو اِسی کا ہورہا۔ آپ کو حیرت ہوگی میں نے شروع میں انشائیے لکھے، اس صنف کو سمجھنے کے لیے وزیر آغا کے ساتھ مکالمہ بھی رہا ، مگرلگ بھگ چار درجن انشائیے لکھنے کے بعد میں اس فیصلے پر پہنچ چکا تھا کہ انشائیہ سرے سے تخلیقی صنف ہی نہیں ہے لہذا یہ میری تخلیقی پیاس کو سیراب بھی نہ کر پائے گی۔ میری پہلی کتاب جو یونیورسٹی کے زمانے میں چھپی اسے آپ ادب کی کیٹیگری میں نہیں رکھیں گے۔ وہ میری تصنیفی زندگی کا آغاز تھا تخلیقی وجود کی طلب نہیں۔ یہ تو بعد میں ہوا تھا کہ میں ادب کی طرف نکل پڑوں اور اپنے تخلیقی وجود کے مقابل ہو جائوں ۔ اچھا ،میں نے نثر میں شاعری کی باقاعدہ ایک کتاب دی ۔ جی، اس صنف کو میں ‘‘نثم’’ کہتا رہا یہ نثمیں بہت پسند کی گئیں ۔ غالب کی غزلوں کی زمینوں میں حمد و نعت کہنے والے علامہ بشیر حسین ناظم اورہومر،ورجل، ملٹن، مارلو کو اردو میں ڈھالنے والے پروفیسر شوکت واسطی جیسے سینئر ادیبوں نے ان کا انگریزی میں ترجمہ کردیا۔ میں‘‘نثم’’ کا پرجوش وکیل بھی رہا مگر میں نے اسے بھی لگ بھگ چھوڑ ہی دیا ہے کہ فکشن کی طرف آکر میں دیگر ادبی اصناف سے تخلیقی سطح پر جڑنے سے بے نیاز ہو گیا ہوں۔ مجھے کہانی کے رمزیہ وصف نے اپنی گرفت میں لیا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ جن مسائل اور تجربات کواپنی کلیت کے ساتھ بیان کرنے میں باقی اصناف ساتھ چھوڑ دیتی ہیں وہاں افسانہ ساتھ نبھاتا ہے، یہاں تک کہ آپ پیچیدہ سے پیچیدہ اور تہ دار مسائل کو بھی ایک مہین تخلیقی پردے میں رکھ کر برت جاتے ہیں۔ فکشن کی طرف مجھے میری تخلیقی پیاس نے دھکیلا تھا اور میں یہاں ہوں اور اسی کا ہوں تواس کا سبب یہ ہے کہ اس صنف کا تخلیقی تجربہ ہر بارمجھے اپنی روح تک سے سیراب کر دیتا ہے۔

 

zaif
ظفر سید ہمارے عہد کے بہت اہم لکھنے والے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ان کا پہلاناول چھپا تو اپنے نئے پن کی وجہ سے ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا۔ حال ہی میں انہوں نے ایک اور خوب صورت ناول لکھ کر پبلشر کے حوالے کر دیا ہے۔ میں اس ناول کا مسودہ پڑھ چکا اور لطف لے چکا ہوں ۔ مجھے یقین ہے ان کا یہ ناول بھی اردو ادب میں اہم اضافہ ہوگا کیوں کہ یہ ناول اپنی ٹریٹمنٹ، زبان اور کہانی کے باب میں بہت خوب صورتیاں لیے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔ ظفر سیدکی جانب سے  ایک سوال نامہ 18 مئی 2013 کو مجھے موصول ہوا تھا،جس کے جواب میں مجھے جو سوجھا لکھ بھیجا تھا ۔ یہ مکالمہ کہاں چھپا؟، کہیں چھپا بھی یا نہیں؟،کیوں نہیں چھپا؟ معلوم نہیں۔لہذا اسے غیر مطبوعہ ہی سمجھتا جائے۔ اب 3 سال بعد میرے میل باکس کے ان باکس سے برآمد ہوا ہےتو اسے اپنے قاری کو فراہم کرنا اچھا لگ رہا ہے ۔ (محمد حمید شاہد)

 آپ کے افسانے کے اندر کہانی کے ساتھ ساتھ معنی کی ایک سے زیادہ زیرِ سطح لہریں چلتی رہتی ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سیدھی اور براہِ راست کہانی کا زمانہ لد چکا ہے؟

جی ہاں ،آپ نے درست شناخت کیا کہ میرے ہاں کہانی کے ساتھ ساتھ افسانے کے اندرمعنی کی ایک سے زیادہ زیرِ سطح لہریں چلتی رہتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ وصف ہے جو آج کے افسانے کی شعریات بناتا ، اسے ماقبل افسانے سے مختلف کرتااوراسے لائق اعتنا بھی بناتا ہے۔ افسانہ لکھتے ہوئے کہانی کے بہائو میں رخنہ ڈالے بغیر اپنی تخلیقی واردات سے جڑے رہنے نے متن کے اندر ڈیپ اسٹریکچر کی تعمیر کو ممکن بنایا ہے ۔ اب رومان ہو یا حقیقت ، احتجاج ہو یا انجذاب اور امتزاج سب ایک تخلیقی اکائی میں ڈھل کر فن پارہ بنتے ہیں۔ یوں کہ اپنی کُل میں ان کا اظہار خارجی سطح پر مربوط اور مرصوص کہانی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اپنی عصریت کے ساتھ وابستہ اور پیوستہ ہوکر زبان کا نیا آہنگ بنا رہی ہوتی ہے اور باطن میں پوری کہانی ایک کل کی صورت کسی اور بڑی حقیقت کی علامت بن جاتی ہے ۔ اور ہاں ، افسانے کا یہ چلن کسی ردِعمل کا نتیجہ نہیں ہے جیسا کہ ترقی پسندوں کے ہاں ظاہر ہو اتھا یا جیسا کہ ہمارے علامت نگاروں نے خارجیت سے اوب کر داخلیت کو اپنالیا تھا۔ یہ چلن تو تخلیقی تجربے کے ساتھ اخلاص سے جڑنے کا ثمر ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب افسانہ میں راست اور مربوط کہانی مردود ہوئے بغیر اتنی گنجائشوں کو راہ دے دیتی ہے کہ متن اپنے باطن میں ایک نئی معنویت سہارلے۔یوں دیکھیں توہمارے عہد میں افسانہ نگار کے ہاں نہ تو افراط ذات ہے نہ ہی زبان میں شعری رموز و علائم کا ناروا استعمال۔ یہاں فکشن کی زبان نثر کے آہنگ پر قائم ہوتی ہے ۔ معنویت کے لیے الگ سے علامت کی چیپی نہیں لگائی جاتی ۔ کہانی کے بہائو کو توڑ کر اس میں مصنوعی دبازت پیدا کی جاتی ہے نہ جملوں کی خاص نوع کی ساخت سے اسلوب ڈھالنے کے حیلے ہوتے ہیں۔ ہمارا ایقان ہے کہ کہانی کی فضا سے اوراس کی کیفیت سے اور اپنے عصر سےایک تخلیقی کار اپنی انفرادی دھج سے جڑے بغیراسلوب نہیں بنا پاتا ۔ اس کے ادبی ووکیشن کے بغیرنہ کوئی جمالیاتی قدر متشکل ہوتی ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود قدروں میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔ نئے عہد میں حقیقت اتنی سادہ نہیں رہی کہ راست بیانیے کی گرفت میں آ جائے سو افسانہ نگار نے بیانیہ کی راست ترسیل کو محترم رکھ کر متن کی معنیاتی گہرائی کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ایک نامیاتی وحدت میں ڈھلنے کے بعدافسانے کے کردار بھی علامت بن جاتے ہیں اور اس کی فضا بھی ۔

602456_10151092485521157_80583450_n
“ہمارا ایقان ہے کہ کہانی کی فضا سے اوراس کی کیفیت سے اور اپنے عصر سےایک تخلیقی کار اپنی انفرادی دھج سے جڑے بغیراسلوب نہیں بنا پاتا ۔ اس کے ادبی ووکیشن کے بغیرنہ کوئی جمالیاتی قدر متشکل ہوتی ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود قدروں میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔”

 منٹو، بیدی اور غلام عباس کے بعد افسانے کی شمع آپ اور آپ کے دوسرے ہم عصروں کے سامنے آئی ہے۔ آپ کا افسانہ ان مشاہیر سے کس حد تک مماثل اور مختلف ہے اور اس دوران افسانے نے کون سی منازل طے کی ہیں؟

آپ کے سوال نے مجھے چونکایاکہ منٹو بیدی اورغلام عباس کے بعد افسانے کی شمع ہمارے سامنے نہیں آئی تھی ۔ جو افسانہ نگار آپ نے گنوائے ان کے بعد تو گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی کے آخر اور لگ بھگ پوری ساتوں دہائی میں نمایاں ہونے والے افسانہ نگاروں کا شور شرابہ بھی پڑتا ہے ، تو کیا آپ وہ سب کچھ بھول ہی گئے؟ ۔ خیر،آپ کے اس سوال کے بعد تو مجھے یوں لگنے لگا ہے کہ ان میں سے اکثر کو بھلا دیا جانا مقدر ہو چکا ہے ۔ یہیں مجھے ۱۹۹۸ میں منشایا دکی کہی ہوئی وہ بات یاد آتی ہے جس نے ایک ہنگامہ بپا کر دیا تھا ۔ میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ‘‘جنم جہنم’’ کی تقریب تھی واہ میں، وہاں انہوں نے افسانے کے خارجی ڈھانچے کو یکسر نظرانداز کر دینے والے رجحان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ ستر کی دہائی میں علامت اور تجرید کا سیلاب آیا اور گزر گیا اور اس میں سے صرف رشید امجد اور خالدہ حسین کی پانچ سات کہانیاں بچ پائیں۔ جب کہ انور سجاد اور احمد ہمیش کے بارے ان کا کہنا تھاکہ ایک کے ہاں صرف امریکی نسل کی گائے بچی اور دوسرے کے ہاں محض مکھی کی بھنبھناہٹ۔ یہیں مجھے ‘‘آئندہ’’ کراچی میں چھپنے والا انور عظیم کا ایک مضمون یاد آتا ہے جس میں‘بچ ’جانے والوں کی فہرست اور بھی سکڑ گئی تھی ۔انور عظیم نے صرف تین نام لیے انور سجاد ،بلراج مین را ااور خالدہ حسین۔میں سمجھتا ہوں کہ جن کا وہ نام لے رہے تھے ، اب یکھیں تواُن میں سےایک خالدہ حسین ہیں جو پہلے کی سی توانائی کے ساتھ لکھے جا رہی ہیں۔ خیر، منشایاد کے بیان پر خالدہ حسین کا شدید ردعمل آیا تھا۔  انہوں نے میرے نام ایک کھلا خط لکھا جس متنبہ کیا گیا تھا کہ مجھے منشایاد کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیئے کہ بہ قول ان کے میرا افسانہ ‘‘جنم جہنم ’’ باطنی صداقت پسندی کی روایت کو رد نہیں کرتا تھا ۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم بہ حیثیت تخلیق کار نہ تومنٹو بیدی اورغلام عباس کو رد کرتے ہیں نہ ہی اس باطنی صداقت کے نام پر ہنگامہ برپا کرنے کے یکسر بعد ادب کے قاری کے حافظے سے تیزی سے محو ہونی والی نسل کو اور نہ ان بنیاد گزاروں کو جو اول اول افسانے کی شباہت بنا رہے تھے ۔ ہمارے ہاں تو یہ سارے دھارے بہم ہو جاتے ہیں اور تخلیقیت اور ووکیشن سارے عمل کی کیمسٹری بدل کر رکھ دیتی ہے۔ اس کے باوجود کہ ظفر اقبال کو میرا افسانہ ‘‘برشور’’کی کردار نگاری دیکھ کر منٹو یا د آیا تھا مگر ہم اتنے ہی مختلف ہیں جتنا کہ افسانہ ‘‘گندی بوٹی کا شوربا’’ اور‘‘ شاخ اشتہا کی چٹک’’ منٹو کے افسانے’’ کالی شلوار’’اورٹھنڈا گوشت’’سے مختلف ہیں ۔ ‘‘مرگ زار’’،‘‘سورگ میں سور’’ اور ‘‘گانٹھ’’ بیدی کے زمانے میں بیٹھ کر نہیں لکھے جا سکتے تھے، لہذا اس نئے زمانے میں مجھے لکھنا پڑے۔ غلام عباس نے جو لکھا خوب لکھا اور سلیقے سے لکھا مگر‘‘دُکھ کیسے مرتا ہے’’، ‘‘لوتھ ’’ اور تھوتھن بھنورا’’ غلام عباس کو محبوب ہو جانے والی حسیت کے ساتھ کیسے تخلیق کئے جا سکتے تھے، یوں ہے کہ ہم بدلے ،ہماری حسوں پر وقت کی یلغار بدلی تو ہماری کہانی بھی بدل گئی ۔ تاہم آپ کا سوال اس لحاظ سے اہم ہو جاتا ہے کہ ہمارے ہم عصر بہر حال ان افسانہ نگاروں سے جڑنے پر آمادہ نہیں ہیں جنہوں نے افسانے کے نام پر انشائی تحریروں کے ڈھیر لگائے ، علامت اور تجرید کے نام پر پہیلیاں بجھوائیں اور فکشن کے قاری کو بھگادیا ۔ ہمارے ہم عصروں کو منٹو بیدی اورغلام عباس کے ساتھ بریکٹ ہونے پر یوں اعتراض نہیں ہے کہ انہیں کہانی کا خارج انہی تخلیق کاروں کی طرح محترم ہے تاہم یہ ان سے یوں مختلف ہیں کہ یہ اپنے تجربے کے نئے پن کی وجہ سے افسانے کے اندر کہانی کے ساتھ ساتھ معنی کی ایک سے زیادہ زیرِ سطح لہروں کو رواں رکھنے پر قادر ہو گئے ہیں۔

 اردو میں فکشن کی دوسری اصناف کے مقابلے پر افسانے کو زیادہ پذیرائی ملی۔ کیا اس کے وجہ ہمارے معاشرے کے اندر ناول پڑھنے کے لیے درکار ارتکاز کا فقدان ہے یا ہمارے ادیب ہی جم کر نہیں لکھ سکے؟

یہ مان لینے میں کیا مضائقہ ہے کہ ہمارے ہاں افسانے کو خوب پذایرائی ملی ، اورجو قبولیت اور مقبولیت اس کا مقدر ہوئی ناول کا مقدر نہ ہوئی مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ ہمارے ہاں بڑی تعداد میں ناول لکھے گئے ہیں۔ابھی پاکستان نہیں بنا تھا کہ عزیز احمد اور قرة العین حیدر جیسے باکمال لکھنے والے اس صنف کی طرف راغب ہوچکے تھے۔ احسن فاروقی اور فضل کریم فضلی نے بھی اس صنف میں لکھا۔شوکت صدیقی, ممتاز مفتی, عبداللہ حسین, اکرام اللہ اور مظفر اقبال سے لے کر فہیم اعظمی,انور سجاد،انیس ناگی اور شمس الرحمن فاروقی تک آ جائیں یا پھر نسیم حجازی , ایم اسلم ,ابن صفی جیسے ناول نگاروں کو لے لیں۔ انتظار حسین کا ذکر بھی ہونا چاہیئے کہ ان کا نام تو ناول کے وسیلے سے برطانیہ کے‘‘مین بُکر انٹرنیشنل’’انعام کے لیے دس بہترین فکشن لکھنے والوں میں سے ایک کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ جمیلہ ہاشمی,خدیجہ مستور, الطاف فاطمہ اوربانو قدسیہ کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔بشریٰ رحمٰن رضیہ بٹ اورعمیرہ احمد نے کیا کم لکھا۔ احمد دائود سے لے کرمرزا اطہر بیگ، حسن منظر ، مشرف عالم ذوقی،خالد جاوید ،عاصم بٹ، آمنہ مفتی تک، سب کاکام ہمارے سامنے ہے۔ بس دیکھنا یہ ہو گا کہ کس کس نے اس بڑی صنف کے تقاضے پورے کئے ۔کون ہے جو نئی راہ سجھا گیااور کون فقط عامیانہ ذوق والے قاری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ادب کے بنیادی تقاضے بھی پورے نہ کر پایا۔اس حوالے سے دیکھیں گے تو چند ناول اس قابل ہوں گے جو لائقِ اعتنا ٹھہریں گے ۔ نسیم حجازی،ایم اسلم ،ابنِ صفی،رضیہ بٹ اور عمیرہ احمد نے جو لکھا،بے شکوہ دھڑا دھڑ بِک گیا مگر ادب کا ناقد اسے پہلے کس نظر سے دیکھتا رہا اور اب کس طرح دیکھتا ہے، اسے بھی دیکھا جانا چاہیئے۔ مستنصر حسین تارڑ کاذکر کرنا چاہتا ہوں ‘‘بہائو’’، ‘‘قربت مرگ میں محبت’’ اور‘‘راکھ’’ کے حوالےّ سے( یہ نام اردو ناول نگاروں میں بہت محترم اور لائق اؑتنا ہو گیا ہے)۔ مگرخوب بکنے والے سفرناموں نے ان کا امیج جس طرح کا بنایا اس کا مظاہرہ ہم حال ہی میں‘‘ اسلام آباد لٹریچر فیسٹول’’ میں ہونے والی ان کے ساتھ ایک نشست میں دیکھ چکے ہیں جس میں بار بار ان سے سوال کیا جاتا رہا کہ ‘‘آپ تو گیلری کے لیے لکھتے ہیں’’۔ حالاں کہ تارڑ نے وضاحت کی(اور ایسا درست بھی ہے) کہ ناول کے باب میں ایسا نہیں ہے۔ خیر تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ قاری کو صرف مصروف رکھنا ہی ادبی متون کے لیے کافی نہیں ہوتا اس کے سامنے دانش،جمال اور کسی حد تک نئے معنیاتی جہان کا کوئی نہ کوئی دریچہ بھی کھلنا چا ہیے۔تو ہمارے ناول کی اس جانب توجہ کم کم رہی ہے، تاہم ایسا بھی نہیں کہ وہ اس طرف آیا ہی نہیں ہے۔بس یوں ہے کہ افسانہ اس باب میں خوب چوکس رہا اور یہی وہ خوبی ہے جس نے افسانے کو محبوب بنایا۔

“تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ قاری کو صرف مصروف رکھنا ہی ادبی متون کے لیے کافی نہیں ہوتا اس کے سامنے دانش،جمال اور کسی حد تک نئے معنیاتی جہان کا کوئی نہ کوئی دریچہ بھی کھلنا چا ہیے۔”

 پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں تک ادیب معاشرے کے ہیرو ہوتے تھے لیکن اب وہ بڑی حد تک پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ کیا اس کے لیے ایک حد تک ادیب بھی ذمے دار ہے جس نے ناقابلِ فہم ’علامتی‘ تحریریں لکھ کر قاری کو بددل کر دیا؟

جی ہاں ،ادیب اب ہیرو نہ رہا تو اس کی ایک حد تک ذمہ داری ادیب پر ڈالی جاسکتی ہے۔ مگر یاد رکھیے محض ایک حد تک ، مثلا ستر کی دہائی میں فکشن لکھنے والوں کی مبہم گوئی نے اپنے قاری کو بددل کر دیا تھا اور گزشتہ دو دہائیوں میں ناقدین کی تخلیقی ادب سے بے اعتنائی اور تھوریوں میں حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی کی وجہ سے تنقید، اپنا قاری کھو بیٹھی۔ کلیشے ہو جانے والی غزل کو اپنے عاشق کھو دینا پڑے۔ سو ادیب ذمہ دار ہے مگر اس پر ذمہ داری ایک حد تک ہی ڈالی جا سکتی ہے کہ جب سے مارکیٹ اکانومی کا چرچا ہوا ہے ، تہذیبی اقدار پر چرکے لگائے گئے ہیں ، یونیورسٹیوں سے سوشل سائنسز کے ڈسپلنز غائب ہونے لگے ہیں، میڈیا پر خبرکی تکرار کرنے اور اس پر تو تکار کرنے والے ہیرو ہو گئے ہیں۔ پہلے استاد ، دانش ور، عالم ، شاعر اور ادیب قومی نشریات کا حصہ ہو کر توجہ حاصل کر رہے تھے اب حکومتوں اور اداروں کی ترجیحات بدلی ہیں تو یہ سب حاشیے پردھکیل دیے گئے ہیں ۔ جب ادیب ہی الگ تھلگ کر دیا ہے تو نئی نسل اسے کیسے ہیرو بنا سکتی ہے ۔ تاہم ابھی تک صورت حال اتنی بگڑی نہیں کہ مایوس ہو کر ادیب الگ تھلگ ہو بیٹھےکہ وہ میڈیا جو ادب کو اپنے منصب سے معزول کرنے والا تھا، اس کی قبولیت کی راہیں ہموار کرنے لگا ہے ۔ ای لائبریریاں مقبول ہو رہی ہیں، آپ کے سیل فون پر کتابیں ڈائون لوڈ ہونے لگی ہیں۔ میں نے حال ہی میں ایک سے زیادہ ادبی کانفرنسوں میں نئے زمانے کی سول سوسائٹی کو ادب کی باتیں بڑے شوق سے سنتے پایا یہ سامعین اور ناظرین بے شک ادب پڑھنے والے نہیں مگر ایک نئی سمعی روایت کی طرح ڈالنے والے تو ہیں ۔ وہی سمعی / سماعی روایت جس کے دلدادہ انتظار حسین ہیں ۔ اگر کتابیں یوں ہی ہمارے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ پر اترتی رہیں اور سول سو سائٹی کی رغبت کا یہی عالم رہا تو بعید نہیں کہ ادب کا یہی ناظر اور سامع اسے پڑھنے بھی لگے اور اپنی الیکٹرانک مشین کی ہارڈ ڈسک پر ادبی کتابوں کی سوفٹ کاپیاں محفوظ کرنے کی رسیا نئی نسل اس کی سنجیدہ قاری بھی ہو جائے۔

(تصاویرکے لیے ظفر سید کا شکریہ)

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

معاصر اردو افسانہ:حرف کدہ میں محمد حمید شاہد سے مکالمہ

23 اکتوبر 2017 کی شام حرف کدہ راولپنڈی میں محمد حمید شاہد سے معاصر اردو …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *