M. Hameed Shahid
Home / تازہ ترین / محمد حمید شاہد کی نئی کتاب’’اُردو فکشن : نئے مباحث‘‘ کی تقریب اجرا

محمد حمید شاہد کی نئی کتاب’’اُردو فکشن : نئے مباحث‘‘ کی تقریب اجرا

 

(رپورٹ ؛ سید مظہر مسعود)

اردو فکشن: نئے مباحث
محمد حمید شاہد کی نئی کتاب ’’اردو فکشن:نئے مباحث‘‘ کی تقریب اجرا کے موقع پر (اوپر)جلیل عالی، بیگم عالی، خالد اقبال یاسر،نصیر احمد ناصر،محمد حمید شاہد،محمد قاسم بگھیو، علی محمد فرشی، رشید امجد،رحمن حفیظ،ارشد معراج، قاسم یعقوب،(نیچے)فہیم جوزی ،شہزاد اظہر، الیاس بابر اعوان،سلمی افتخار،سید مظہر مسعود،بیگم بگھیو، بیا،یاسمین حمید، عائشہ مسعود ملک، فرخ ندیم سعید احمد اور راحت سرحدی
راولپنڈی۔ ادبی تنظیم ’’زندہ لوگ ‘ ‘کے تحت سینئر شاعر اور دانشور پروفیسرجلیل عالی صاحب کی میزبانی میں ممتاز افسانہ نگار ناول نگار اور نقاد محمد حمید شاہد کی نئی تنقیدی کتاب ’’اُردوفکشن:نئے مباحث‘‘ کی تقریب اجرا پروفیسرفتح محمد ملک کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے مہمانِ خاص ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان تھے۔ تقریب کی نظامت شہزاد اظہر نے کی ۔ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے علی محمد فرشی نے کہا کہ محمد حمید شاہدسے ان کی ۱۹۹۵ء میں پہلی ملاقات ہوئی۔ حمید شاہد تنقید لکھتے وقت کسی تعلق کو ملحوظ، خاطر نہیں رکھتے بلکہ موضوع کو فوقیت دیتے ہیں۔ ان کے ہاں متن زیادہ اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ ان کی تخلیقی و تنقیدی شخصیت میں کوئی بُعد نہیں ہے ۔ افسانے میں سادہ بیانیے اور تجریدی افسانے کی روایت کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا خاص اسلوب متعارف کروایا ہے۔ نائن الیون کے حوالے سے انہوں نے بہت اچھے افسانے لکھے ہیں۔ یہ کسی فارمولے کے تحت نہیں لکھتے۔ بلکہ حقیقت کو سامنے رکھ کر اس کے بطون سے چیزیں کھینچ کر لاتے ہیں۔ یہ کتاب جواس وقت ہمارے سامنے آئی ہے، اس میں ایک حصہ نظری مباحث کا ہے جب کہ باقی سب ابواب میں عملی تنقید کے گراں قدر نمونے ہیں ۔ اس میں نیّر مسعود کے حوالے سے بہت باکمال مضمون بھی شامل ہے۔ ہر تخلیق کار پر موضوع اور اسلوب کے حوالے سے بالکل جداگانہ لکھاگیا ہے۔ جس موضوع پر عام طور پر تنقید نگار لکھتے ہوئے جھجکتے ہیں، حمید شاہد نے ان موضوعات پر ڈٹ کر لکھا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں اپنے معاصر افسانہ نگاروں پر بھی لکھا ہے یہ آصف فرخی، اخلاق احمد یا جن دوسرے افسانہ نگاروں کے ہم عمرہم عصر ہیں، انہیں بھی اس طرح زیر بحث لاتے ہیں کہ اُن کے جوہر کھل کر سامنے آجاتے ہیں یہ ساری باتیں ثابت کرتی ہیں کہ یہ اپنے تنقیدی ہنر سے کتنے مخلص ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ معاصر فکشن کو سمجھنے کے لئے محمد حمید شاہد کی یہ کتاب سمت نما ہو گی۔

فہیم اقبال جوزی نے کہا کہ مجھے محمد حمید شاہد کی تحریروں میں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز ان کا انداز بیان ہے۔ ان کی ہر ایک تحریر اپنے اندر خود کو جذب کر لیتی ہے۔ یہ اس میں اپناذاتی ٹچ دے کر تحریر میں مزید جان پیدا کر دیتے ہیں۔ ان کا تجربہ نہایت گہرائی و گیرائی کا حامل ہوتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب بہت زیادہ پڑھی جائے گی۔
خالد قبال یاسر نے کہا کہ ان کی ہمت ہے کہ انہوں نے معاصر افسانے پر لکھا ہے۔ اس میں غیرجانبداری اور معروضیت قائم رکھنا نہایت مشکل کام ہے۔ لیکن یہ اپنی ذمہ داری نبھانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ محمد حمید شاہد نئے لوگوں کو دریافت کر رہے ہیں۔ یہ قابلِ ستائش کام ہے۔
سعید احمد نے کہا کہ محمد حمید شاہدکاا سلوب نہایت خوبصورت ہے۔ قابل ستائش ہے۔ افسانے کی طرح تنقید میں بھی ان کے تجربے نہایت اہم ہیں۔ دوسروں کی رائے کو دہرانے کے بجائے یہ اپنی خاص رائے کا کامیابی سے اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے معاصر ین پر جم کر لکھا ہے۔
قاسم یعقوب نے خالد اقبال یاسر اور سعید احمدکی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ محمد حمید شاہدنے بنے بنائے سانچوں سے ہٹ کر بات کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ فکشن کو باقاعدہ بسر کرتے ہیں۔ جس آدمی کا اوڑھنا بچھونا افسانہ ہو ۔ اس کی رائے بھی نہایت سچی ہوتی ہے۔ یہ کتاب ضرور نئے در کھولے گی۔
ڈاکٹر ارشد معراج نے کہا کہ محمد حمید شاہد تنقید پر اپنی پہلی کتاب ’’ادبی تنازعات ‘‘ سے بہت روانی اور دلجمعی سے لکھ رہے ہیں ۔ تخلیق کار کے لئے لکھتے رہنا نہایت مشکل کام ہوتا ہے۔ ان کی یہ کاوش قابل داد ہے۔ معاصرین پر لکھنا مشکل نہیں ہے لیکن ہمارے ہاں نجانے کیوں لوگ ڈرتے ہیں۔ لیکن محمد حمید شاہد ہرگز نہیں ڈرتے اور لکھتے ہیں۔
راحت سرحدی نے کہا کہ محمد حمید شاہد جسے درست سمجھتے ہیں اس پرپوری دلجمعی سے لکھتے ہیں۔ مبالغے سے کام نہیں لیتے اپنا نکتہ نظر واضح کر دیتے ہیں۔
رحمان حفیظ نے کہا کہ ہم انہیں طویل عرصے سے سن رہے ہیں اورپڑھ بھی رہے ہیں ۔ محمد حمید شاہدنہایت معتدل شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کی تنقید اور تخلیق معیار پر قائم ہوتی ہے۔ یہ اچھی متناسب اور متوازن رائے رکھتے ہیں۔ منشایاد کے بعد حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے لیے بھی ان کی خدمات بہت اہم ہیں ۔
ممتا زشیخ نے کہا کہ افسانے اور تنقید کی دنیا میں جو چند نمایاں نام ہیں ۔ محمد حمید شاہدان میں سے ایک ہیں۔ ان کی موجودگی ہمارے لئے غنیمت ہے، جب ان کا افسانہ ’’کوئٹہ میں کچلاک ‘‘ آیا تو مجھے حیرت ہوئی تھی کہ انہوں نے کتنے نازک موضوع کو منتخب کیا اور کتنے سلیقے سے اسے نبھایا تھا ۔
سلمیٰ افتخار نے کہا کہ تنقید کے حوالے ان کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ یہ دوسروں کی رائے کو دہراتے نہیں ہیں بلکہ اپنا تھیسز قائم کرکے لکھتے ہیں۔ ان کی تنقید ی تحریروں میں شفافیت ہوتی ہے اور ہرنکتہ واضح ہوتاجاتا ہے۔
یاسمین حمید نے کہا کہ پڑھنا اورلکھنا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، اس کام سے وہ بہت اخلاص سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ بہت پڑھتے ہیں۔ بہت زیادہ محبت کرنے والے حساس اور خیال کرنے والے ہیں ۔ باپ ، بیٹا اور ب2ھائی یہ ہر رشتے کو احسن طریقے سے نبھانا جانتے ہیں۔
فرخ ندیم نے کہا کہ محمد حمید شاہدمیرے استاد بھی ہیں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ لسانی جمالیات کے آدمی ہیں۔ ان کی جڑت اپنی معاشرت کے ساتھ بہت پختہ ہے۔ ان کی تحریروں میں ان کی رہتل کا تجربہ پھر پور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ یہ بذات خود مکالمے کے آدمی ہیں۔ ان کے ہاں خیال کی ندرت پائی جاتی ہے۔ یہ کردار کی نفسیات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کے اجلاس میں، ہم ان کی گفتگو سننے کے منتظر رہا کرتے ، بہت اچھی گفتگو کرتے ہیں۔
مسز جلیل عالی نے کہا کہ میں شاعری سے بھی زیادہ حمید شاہد کو پڑھتی ہوں۔ ان کی تحریر میں رچاؤ اور روانی بہت ہے۔ ان کو پڑھتے ہوئے بہت مزا آتا ہے۔
جلیل عالی نے کہا کہ بہت اچھی اچھی باتیں ہوئی ہیں۔ ایسا نقاد جو بیک وقت شاعری اور افسانے پر تنقید لکھ رہا ہوبہت کم ہوتا ہے۔ جو سکہ بند نقاد ہوتے ہیں، یہ ان سے جدا ہوجاتے ہیں، محمد حمید شاہدنے نہایت مثبت سفر کیا ہے۔ اتنی سہولت کے ساتھ اتنی باریکی سے چیزوں کو دیکھنا ان کا بہت قابل ستائش کام ہے۔ یہ اپنی تہذیب سے جڑے ہوئے ہیں۔ جس شخص کے بارے میں لکھ رہے ہوتے ہیں اس کے نیوکلیس میں اُتر کر لکھتے ہیں ۔ ان کا اپنے اوپر جو اعتماد ہے وہ مجھے بہت پسند ہے۔
ڈاکٹر رشید امجد نے کہا کہ محمد حمید شاہدبہت عمدہ لکھنے والے ہیں۔ 60 کی دہائی کی نسل بہت بڑا گرو ہ تھا۔ پھر 80 کی دہائی کے بعد لگتا تھا کہ بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے لیکن محمد حمید شاہدنے اس خلا کو پاٹ دیا ہے۔بلکہ انفرادی سطح پرانہوں نے فکشن کے مباحث کو بہت آگے بڑھایا ہے۔ یہ اپنی نسل میں سب سے نمایاں افسانہ نگار ہیں۔ لکھنے والوں کی بہت بڑی ٹیم اب بھی ہے لیکن افسانہ لکھنے، بُننے اور بیان کرنے میں ان کا خاص اسلوب ہے۔ کبھی کبھی یہ تنقید کو بھی افسانہ بنالیتے ہیں ۔ یہ میرے پسندیدہ لکھنے والوں میں سے ہیں۔ بہت اچھے افسانہ نگار ہیں۔ ہمارے بعد آنے والوں میں یہ بہت روشن نام ہے۔
ڈاکٹر محمد قاسم بگھیونے کہا کہ سنا تھا کہ جو افسانہ نگاربہت زیادہ تنقید کرنے لگے وہ افسانہ نگار نہیں رہتا ۔ افسانہ نہیں لکھ پاتالیکن انہوں نے بہت اچھی تنقید کے ساتھ ساتھ بہت اچھے اچھے افسانے بھی لکھے ہیں اور لکھ رہے ہیں۔ اور دونوں کام نہایت عمدگی سے جاری و ساری ہیں۔
صاحبِ صدارت فتح محمد ملک نے کہا کہ میں جلیل عالی صاحب کا احسان مند ہوں کہ مجھے یہاں آنے کی دعوت دی۔اُنہوں نے کہا کہ میرا اور محمد حمید شاہدکا جغرافیائی و روحانی تعلق بھی بہت مضبوط ہے۔ ان کی تنقید درسی نہیں ہے۔ یہ تخلیقی تنقید ہے۔ یہ اپنی تنقید میں بھی اپنے قاری کوساتھ لے کر چلتے ہیں اُنہوں محمد حمید شاہد کو اس خوبصورت کتاب کی اشاعت پر مبارکبا دپیش کی۔کتاب پر مبارکباد پیش کرنے والوں میں عائشہ مسعود ملک، نصیر احمد ناصر، روش ندیم اور سلطان ناصر بھی شامل تھے۔
محمد حمید شاہدنےآخر میں سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے اہم کام یہی ہے کہ تنقید ،جو اپنے آپ میں الجھی ہوئی ہے ، اسے تخلیقی عمل کے مقابل کیا جائے اور ایسا کرتے ہوئے ایک مکالمے کی فضا قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ’’ اردو فکشن :نئے مباحث‘‘ کے ذریعے اسی مکالمے کو قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انہوں نے جلیل عالی اور بیگم جلیل عالی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے جڑواں شہر کے تمام نمایاں لکھنے والوں کو کتاب کے اجراء کی اس تقریب میں یکجا کر دیا تھا ۔

جلیل عالی نے کہا کہ بہت اچھی اچھی باتیں ہوئی ہیں۔ ایسا نقاد جو بیک وقت شاعری اور افسانے پر تنقید لکھ رہا ہوبہت کم ہوتا ہے۔ جو سکہ بند نقاد ہوتے ہیں، یہ ان سے جدا ہوجاتے ہیں، محمد حمید شاہدنے نہایت مثبت سفر کیا ہے۔ اتنی سہولت کے ساتھ اتنی باریکی سے چیزوں کے دیکھنا ان کا بہت قابل ستائش کام ہے۔ یہ اپنی تہذیب سے جڑے ہوئے ہیں۔ جس شخص کے بارے میں لکھ رہے ہوتے ہیں اس کے نیوکلیس میں اُتر کر لکھتے ہیں ۔ ان کا اپنے اوپر جو اعتماد ہے وہ مجھے بہت پسند ہے۔
شہزاد اظہر۔ محمد قاسم بگھیو، محمد حمید شاہد، سلطان ناصر، رحمن حفیظ، راحت سرحدی،
سنا تھا کہ جو افسانہ نگاربہت زیادہ تنقید کرنے لگے وہ افسانہ نگار نہیں رہتا ۔ افسانہ نہیں لکھ پاتالیکن انہوں نے بہت اچھی تنقید کے ساتھ ساتھ بہت اچھے اچھے افسانے بھی لکھے ہیں اور لکھ رہے ہیں۔ اور دونوں کام نہایت عمدگی سے جاری و ساری ہیں۔(محمد قاسم بگھیو)
سید مظہر مسعود، بیگم جلیل عالی، بیگم قاسم بگھیو، سلمی افتخار
تنقید کے حوالے ان کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ یہ دوسروں کی رائے کو دہراتے نہیں ہیں بلکہ اپنا تھیسز قائم کرکے لکھتے ہیں۔ ان کی تنقید ی تحریروں میں شفافیت ہوتی ہے اور ہرنکتہ واضح ہوتاجاتا ہے۔ (سلمیٰ افتخار)

ممتاز شیخ، علی محمد فرشی، رشید امجد
محمد حمید شاہدبہت عمدہ لکھنے والے ہیں۔ 60 کی دہائی کی نسل بہت بڑا گرو ہ تھا۔ پھر 80 کی دہائی کے بعد لگتا تھا کہ بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے لیکن محمد حمید شاہدنے اس خلا کو پاٹ دیا ہے۔بلکہ انفرادی سطح پرانہوں نے فکشن کے مباحث کو بہت آگے بڑھایا ہے۔ یہ اپنی نسل میں سب سے نمایاں افسانہ نگار ہیں۔ لکھنے والوں کی بہت بڑی ٹیم اب بھی ہے لیکن افسانہ لکھنے، بُننے اور بیان کرنے میں ان کا خاص اسلوب ہے۔ کبھی کبھی یہ تنقید کو بھی افسانہ بنالیتے ہیں ۔ یہ میرے پسندیدہ لکھنے والوں میں سے ہیں۔ بہت اچھے افسانہ نگار ہیں۔ ہمارے بعد آنے والوں میں یہ بہت روشن نام ہے۔(ڈاکٹر رشید امجد )

 

رحمن حفیظ، محمد حمید شاہد، ارشد معراج، فتح محمد ملک، قاسم یعقوب
میں جلیل عالی صاحب کا احسان مند ہوں کہ مجھے یہاں آنے کی دعوت دی۔اُنہوں نے کہا کہ میرا اور محمد حمید شاہدکا جغرافیائی و روحانی تعلق بھی بہت مضبوط ہے۔ ان کی تنقید درسی نہیں ہے۔ یہ تخلیقی تنقید ہے۔ یہ اپنی تنقید میں بھی اپنے قاری کوساتھ لے کر چلتے ہیں(فتح محمد ملک)

IMG_20160507_194540

epaper_img_1462916488

About Urdufiction

یہ بھی دیکھیں

Sarwat Ali|Fiction of our age

Sarwat Ali September 24, 2017 A collection of critical writings that evaluate fiction written in the …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *